Baigsaab's Blog

آپ کا فرض!-

Posted in Islam, Personal, Social revolution by baigsaab on June 19, 2015

بھوک انسان سے کیا کیا کرواتی ہے۔ بھوکا آدمی چوری بھی کر سکتا ہے اگر اس کو کھانے کو کچھ نہ ملے۔ لوگ اپنے بچوں کی بھوک سے پریشان ہو کر خودکشی کر لیتے ہیں کہ موت اس تکلیف سے آسان لگ رہی ہوتی ہے۔

مگر بھوک کو انسان اختیار بھی کر لیتا ہے۔ کبھی کوئی اپنا مر جائے تو کھانے کی طرف دیکھنے کا بھی دل نہیں چاہتا۔ کبھی بہت غصہ آئے تو انسان کھانا پینا چھوڑ دیتا ہے۔

انسان اپنے کسی بڑے مقصد کے حصول کے لیے بھی بھوکا رہ لیتا ہے۔ کتنے ہی ایسے لوگ ہیں جو نہ آخرت کو مانتے ہیں نہ خدا کو مگر اپنے کاموں کے لیئے کئی کئی وقت کی بھوک پیاس برداشت کر لیتے ہیں۔

تو کیا ہم مسلمان ان ملحدوں سے گئے گزرے ہو گئے ہیں؟ ذرا افطار کے وقت ٹریفک کا حال دیکھیں۔ لگتا ہے مسلمانوں نے روزہ رکھ کر احسان کر دیا ہے کسی پر۔ ہر کوئی بے صبری کے بام عروج پر ہے۔ ہر کوئی اس فکر میں ہے کہ روزہ گھر والوں کے ساتھ کھول لے۔ اس جلدی میں کبھی کسی کی گاڑی کسی کو لگ جائے تو برملا گالیاں تک دینے سے دریغ نہیں کرتے۔ شکر ہے کافی عرصے سے ہاتھا پائی دیکھنے میں نہیں آرہی۔

یہ سب کچھ یہ جانتے ہوئے ہے کہ اللہ کو ہماری بھوک اور پیاس کی کوئی ضرورت نہیں۔ کسی کے پیاسے رہ لینے سے اس بے نیاز ہستی کو کیا فائدہ یا کیا نقصان؟ پھر بھی اس نے اس عبادت کا ثواب خاص اپنے لیے مخصوص کر لیا ہے کہ وہ ہی اس کا بدلہ دے گا۔ روزے کا فائدہ صرف اور صرف انسان کے اپنے لیئے ہے۔ اور وہ یہ کہ وہ انسان جس میں اللہ نے اپنی طرف سے ایک انتہائی اعلیٰ شے یعنی ‘روح’ پھونک دی ہے وہ انسان اپنی چھوٹی چھوٹی نفسانی خواہشات کو قربان کر کے اس اعلیٰ حیثیت کو حاصل کر لے اور اس ‘احسنِ تقویم’ تک پہنچ جائے جس پر اس کو پیدا کیا گیا تھا۔

روزہ رکھیں ضرور، کیونکہ وہ فرض ہے۔ مگر یہ یاد رکھ لیں کہ آپ کا روزہ آپ پر ہی فرض ہے، دوسروں پر نہیں۔

Advertisements
Tagged with: , , ,

پھل

Posted in Islam, Personal by baigsaab on June 19, 2015

درخت اپنے پھل سے پہچانا جاتا ہے۔ کبھی ایسا نہیں ہوتا کہ بیر کے درخت سے فالسے نکل آئیں، یا آم کے درخت میں سیب آجائیں۔
تو ایسا کیسے ہو سکتا ہے کہ مسلمانوں اور غیر مسلموں کے دن اور رات ایک ہو جائیں؟ ایسا کیسے ہو سکتا ہے کہ ہمارے اندر تو آخرت کا یقین ہو اور ان کے اندر نہ ہو اور پھر بھی انتظار دونوں کو نئی فلم کا ہو، آخرت کا نہ ہو! ہم کہاں ایسی زندگی گزارنے لگے کہ ہفتے کے پانچ دن حلال جانوروں کی طرح کام کیا اور باقی دو دن حرام جانوروں کی طرح تفریح۔ یعنی انسان بننا ممکن ہی نہیں؟ اگر ان کی زندگی کا محور تفریح ہے تو ان کے پاس یہ ‘یقین’ ہے کہ اس عالم کے بعد کچھ نہیں۔ ہمارے پاس کیا یقین ہے؟ نئی سے نئی فلم دیکھنے کی دوڑ میں ہم کہاں شامل ہو سکتے ہیں؟ ایک میچ سے دوسرا میچ، ایک سیریز سے دوسری سیریز؟
ہمارے پاس بزعم خود وہ ‘کتاب زندہ’ ہے جو اس دنیا کی کایا پلٹ سکتی ہے۔ تو ہماری اپنی کایا کیوں نہیں پلٹ رہی؟
جب بھی کوئی مصیبت آتی ہے تو ہم سب کے سب ایک ہڑبونگ کا شکار ہو جاتے ہیں۔ تو تو میں میں کا ایک لا متناہی سلسلہ ہوتا ہے جو مصیبت سے بڑھ کر مصیبت ہوتا ہے۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ ہم وہ لوگ جن کو ان کے ماں باپ یا بہن بھائیوں نے اپنے خون پسینے کی کمائی سے پڑھا لکھا کر اس قابل بنایا کہ وہ اس دنیا کو اس سے بہتر جگہ بنائیں، ہم نے بھی اپنی زندگی کو ویک ڈے اور ویک اینڈ میں بانٹ لیا ہے۔ کوئی ایک مفید بات، کوئی تعمیری کام، کوئی مثبت سوچ ہمارے پاس کیوں اپنا گھر نہیں بناتی؟ خدارا میں تفریح کے خلاف نہیں،میں خود تفریح کرتا ہوں تو اس کی مخالفت کیسے کروں؟ مجھے بس کوفت اس بات سے ہوتی ہے کہ جب اٹھارہ بیس سال تعلیم پائے لوگوں کے سامنے بھی زندگی محض ایک ویک اینڈ سے دوسرے کا سفر رہ جاتی ہے تو اس معاشرے میں واقعی سدھار بہت مشکل ہو جاتا ہے۔
امید کی بات مگر یہ ہے کہ دل کی زمین میں بیج کسی بھی وقت بویا جا سکتا ہے۔ ہر دل میں اپنا ہی ایک موسم ہوتا ہے۔ اور ہر دل اپنے خاص طریقے سے ہی بیجوں کی افزائش کرتا ہے۔ دلوں میں قرآن کا ہل چلائیں، دعاؤں کی بارش کریں، ایمان کا بیج ان شاء اللہ ضرور اگتا ہے۔ اور اس کا پھل ایسے دن رات نہیں ہوتے جیسے آج کل ہمارے ہیں۔

Tagged with: , , ,

قبولیت!-

Posted in Islam, Personal by baigsaab on June 19, 2015

زمانہ جاہلیت میں بھی عرب میں کچھ چیزوں کی حرمت مسلّم تھی جیسے حرمت والے مہینے، مہمان اور وعدہ و عہد ۔ بیت اللہ ان حرمت والی چیزوں میں سے غالباً واحد عمارت تھی۔ الرحیق المختوم کے مطابق رسول اللہؐ کی عمر مبارک کا پینتیسواں (35) سال تھا کہ قریش نے بیت اللہ کی تعمیر نو کا ارادہ کیا۔ اس ارادے کے پیچھے جو بھی مقاصد ان کے ہوں اس کے لیئے جو فیصلہ انہوں نے کیا وہ یہ تھا کہ اللہ کے اس گھر کی تعمیر میں اپنی حرام کمائیوں میں سے ایک پیسہ بھی شامل نہیں کریں گے۔ چنانچہ طوائفوں کا مال، سود اور کسی سے ناحق چھینا ہوا مال اس میں شامل نہیں کیا گیا۔ بالآخر خانہ کعبہ کی تعمیر جب شروع ہوئی تو پتہ چلا کہ مال کم پڑ گیا ہے اورچوتھی طرف کی دیوار بن نہیں سکے گی تو ان ‘مشرکوں’ نے اس چوتھی جگہ کی لمبائی کم کر کے آخر میں ایک چھوٹی دیوار اٹھا دی۔ اس دیوار کو ہم حطیم کے نام سے جانتے ہیں۔
سوچنے کی بات یہ ہے کہ وہ جاہل عرب بدو جن کے سامنے زندگی کا کوئی اعلیٰ مقصد، کوئی منزل، کوئی آخرت کا شوق کچھ بھی نہیں تھا، وہ تو اللہ کے لیئے کیئے گئے کام میں حرام کی آمیزش نہ کریں چاہے بقیہ عرب میں ہنسی اڑ جائے کہ ان سے کعبہ کی تعمیر بھی نہ ہو سکی۔ اور ہم جن کے لیئے ‘تھیوری’ میں اصل زندگی آخرت کی ہے، وہ نمازیں بھی پڑھیں مگر ساتھ ہی سود بھی کھائیں کھلائیں، اسی مال سے زکوٰۃ بھی دیں اور صدقات بھی۔ قرآن کھول کر نہ دیکھیں اور حدیث کو نہ سنیں کہ دیکھ یا سن لیا تو عمل واجب ہو جائے گا۔
ہم میں سے ہر شخص کسی نہ کسی بری عادت میں ملوث ہے۔ کسی کو جھوٹ بولنے کی عادت ہے، کسی کو وعدہ خلافی کی، کسی کو امانت کے مطلب ہی نہیں پتہ تو کوئی سود خوری میں ملوث ہے، کوئی بے پردگی کو اپنا تکیہ بنائے بیٹھا ہے تو کوئی غیبت اور چغلیاں ہی کرتا بیٹھا رہتا ہے۔
خوشخبری یہ ہے کہ ہماری مدد کے لیے اللہ نے رمضان کو ایک دفعہ پھر بھیج دیا ہے۔  شیاطین جن قید کر دئیے جائیں گے۔ ہر طرف قرآن اور حدیث کی آوازیں آرہی ہونگی۔ دیکھا جائے تو یہ مقابلہ برابر کا نہیں ہے۔ اللہ نے ہمارے نفس کو تنہا کردیا ہے کہ اس کی مدد کے لیئے اب کوئی نہیں آئے گا۔ اب یہ ہم پر منحصر ہے کہ ہم اس دفعہ بھی اپنے نفس کے لیئے عذر تلاش کرتے ہیں یا اس دفعہ ہم اپنے آپ کو اس غلاظت سے نکالنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں جس کا نام گناہ کبیرہ ہے۔
اللہ کو نہ ہمارا بھوکا رہنا کوئی فائدہ دے سکتا ہے۔ نہ مال خرچ کرنا اس کی سلطنت میں کوئی اضافہ کر سکتا ہے جو بھی نیکی کرے گا اپنے بھلے کے لیئے کرے گا، جو بھی برائی کرے گا اپنا نقصان کرے گا۔
اور قریش کے اس عمل سے ایک چیز جو مجھے دیکھنے کو ملی وہ یہ کہ جب حجر اسود کو نصب کرنے کا وقت آیا تو اللہ نے اپنے نبیؐ کے ہی دست مبارک سے اس کام کو انجام دلوایا۔ کیا پتہ ہمیں بھی اپنے اعمال کی ایسی ہی قبولیت نصیب ہو جائے !!! آمین!

Tagged with: , , , ,

لوگ کیوں زندگی میں آتے ہیں!۔

Posted in Personal by baigsaab on October 16, 2014

ہر شخص اس دنیا میں اکیلا آیا ہے اور اکیلا ہی جائے گا۔ کوئی کتنا ہی پیارا ہو جائے اس کے جانے کے باوجود، اس کی کہانی ختم ہونے کے باوجود ہماری کہانی چلتی رہتی ہے۔ ایک دن وہ بھی ختم ہو جائے گی، ہونا ہی ہے، اس دنیا میں آئے کیوں ہیں، واپس جانے کے لیے! تو اگر اکیلا پن ہی حقیقت ہے تو لوگ آتے کیوں ہیں ہماری کہانی میں؟ میرا ماننا ہے کہ اتفاق نام کی کوئی چیز ہوتی ہی نہیں ۔ یہ اتفاق نہں ہے کہ ہم کس گھر میں پیدا ہوئے، کن دو لوگوں کی اولاد ہوئے، کن کے بھائی یا بہن ہوئے، کن کے شریک حیات ہوئے، کن کے دوست ہوئے، کہاں کام کرتے ہیں، کیا کام کرتے ہیں، بلکہ کوئی شخص بالوں کا کیا رنگ لے کر آیا ہے، یہ بھی اتفاق نہیں ہے۔


JoshuaDavisPhotography / Foter / CC BY-SA

تو اگر سب کچھ ہی پہلے سے طے شدہ ہے تو ہمارے کرنے کا کام ہے کیا؟ کیوں ہمیں شعور دیا گیا ہے؟ کیوں اگر کوئی اپنا، کوئی پیارا بچھڑ جائے تو ہمیں دکھ ہوتا ہے؟ کیوں کسی پرانے دوست کی کسی پرانی بات سوچ کر آپ ہی آپ ہونٹوں پر مسکراہٹ بکھر جاتی ہے؟ کیوں لوگ یاد آتے ہیں؟ کیوں ایسا ہوتا ہے کہ ویسے تو مہینوں بیت جاتے ہیں ملے ہوئے مگر جب پتہ چلتا ہے کہ اب تو کبھی اس شخص سے ملاقات نہ ہو پائے گی تو دل سنبھالے نہیں سنبھلتا؟

ایسا لگتا ہے کہ ہماری زندگیوں کو کچھ اس طرح بنایا گیا ہے کہ یہ ‘اتفاقات’ ہمارے سامنے آتے ہیں اور پھر ہمارے سامنے دو آپشنز ہوتے ہیں۔ ایک اچھا اور ایک برا۔ دونوں میں سے کوئی بھی منتخب کرنے سے ہم ‘گیم’ کے اگلے لیول میں آجاتے ہیں۔ وہاں پھر ایک ‘اتفاق’ ہمارا منتظر ہوتا ہے۔ جو ہمارے پچھلے انتخاب کی بنیاد پر زیادہ اچھا یا زیادہ برا ہوتا ہے۔ جیسے ایک لڑکا کالج میں ایڈمشن لیتا ہے تو اس کی کلاس میں ہر طرح کے لڑکے ہوتے ہیں۔ کچھ پڑھنے والے ہوتے ہیں اور کچھ نکھٹو ہوتے ہیں۔ ان میں سے جن کی طرف بھی یہ دوستی کا ہاتھ بڑھائے گا اس ‘انتخاب’ کی بنیاد پر اس کی اگلی زندگی کا، اگلے ‘اتفاقات’ کا دارومدار ہے۔ اچھے نمبروں سے پاس ہونے کا اتفاق، یا بری لت پڑ جانے کا اتفاق!۔۔۔

لیکن کبھی کبھار ہمارے پاس یہ آپشن نہیں ہوتا۔ کیا ہم میں سے کوئی چاہے گا کہ اپنے کسی پیارے کو اپنے سامنے آخری سانسیں لیتے ہوئے دیکھے؟ اپنے سامنے قبر میں اترتا دیکھے؟ لیکن قدرت کا نظام چلنا ہے۔ ہر کسی کی کہانی کا ایک وقت معین ہے۔ یہ دنیا امتحان کی جگہ ہے نا؟ تو جب کسی کا پرچہ ختم ہو جاتا ہے تو اس کو کمرہ امتحان میں نہیں بیٹھنے دیتے کہ دوسروں کا پرچہ متاثر ہوگا۔ ایسے وقت میں لگتا ہے کہ ہمارے پاس کوئی چوائس نہیں۔ جیسے ہمارا کوئی بس نہیں کسی چیز پر۔ لیکن ایسا نہیں ہے۔ ہمارا اختیار اس وقت ہمارے ردعمل پر ہوتا ہے۔ ہم چاہیں تو رو نے پیٹنے کو اپنا دستور بنا لیں۔ اپنی مظلومیت کا، محرومی کا رونا روئیں۔ جانے والے کو یاد کر کر کے اپنا پرچہ خراب کر لیں۔ یا اس کی یاد کو اپنے لیے ایک طاقت بنا لیں۔ اپنے رب سے، یعنی اس ہستی سے جو اس شخص کو ہماری زندگی میں لائی، باتیں کریں، سمجھنے کی کوشش کریں کہ اب کیا کرنا چاہیے۔

اور پھر کچھ لوگ تو ہماری زندگی میں آتے ہی اس وقت ہیں جب ان کا پرچہ ختم ہوچکا ہوتا ہے۔ نشان حیدر پانے والے لوگوں کو کتنے لوگ جانتے تھے؟ ان کی بہادری اور جرات کی داستان تو ان کے جانے کے بعد لوگوں تک پہنچی۔ شاہزیب خان کون تھا جس کی موت نے غالباً پہلی دفعہ ایک مفرور قاتل کو اس کے اثر رسوخ کے باوجود قانون ماننے پر مجبور کر دیا؟ لیسٹر شائر میں لگی آگ میں ایک شخص کا پورا خاندان چلا گیا، کون تھے وہ لوگ؟ کون تھا بوعزیزی جس کی خود کو آگ لگا لینے سے پہلے تیونس اور پھر مصر اور لیبیا میں تحریکیں پھوٹ بہیں؟ محمد الدراء نامی بارہ سال کا وہ بچہ جو گولیوں سے بچنے کی کوشش میں اپنے باپ کی پناہ میں چھپنا چاہتا تھا مگر پھر بھی موت نے اسے آلیا، اس ایک تصویر نے کتنے ہی لوگوں کو انقلابی بننے پر مجبور کر دیا!۔۔۔ مروۃ الشربینی نامی وہ گمنام مسلمہ جس کو بھری عدالت میں ایک سفاک شخص نے قتل کر دیا اور آج جسے دنیا ‘شہیدۃ الحجاب’ کے نام سے جانتی ہے۔ یا اسماء البلتاجی نامی وہ گمنام مصری لڑکی جس کو اس کی فوج نے ہی شہید کر دیا اور اس کے باپ کی عربی میں لکھی نظم ایک غیر عرب اردوغان کو نہ صرف رلا گئی بلکہ ہمیں ‘رابعہ’ کا نشان بھی دے گئی!۔۔۔

کبھی کبھی اسی طرح کسی انجانے شخص کے جانے کی خبر دل کو تڑپا جاتی ہے۔ کسی کی ‘بے وقت’ موت (کیا ایسی کوئی چیز ہوتی ہے؟)، کسی کی طویل تکلیف دہ بیماری، کسی کا ایکسیڈنٹ میں چل بسنا۔ میرا کلاس میٹ اعجاز جو ایک مہینے تک کومہ میں رہ کر ویسے ہی اپنے رب کے پاس چلا گیا مگر آج آٹھ سال بعد بھی یاد ہے۔ یا وہ دو لوگ جو ابھی حال ہی میں انتقال کر گئے اور جن سے کبھی زندگی میں ملاقات بھی نہ ہوئی، مگر جن کا وقت ‘وقت’ سے پہلے ہی پورا ہو گیا۔ انجان لوگوں کی موت پر تکلیف ہونا، یہ سب کیا ہے؟ کیوں ہمیں ایسی تکلیف ہوتی ہے؟

معاملہ یہ ہے کہ اللہ نے موت اور زندگی کو تخلیق کیا ہی اس لیے ہے کہ وہ دیکھے کہ کون بہترین طریقے پر عمل کرتا ہے (الملک) ۔ یہ بات لگتی عجیب ہے مگر ٹوٹا ہوا دل اللہ کی نعمتوں میں سے ہے۔ قدرت کی بہت سی نشانیاں ایسی ہیں جن کی سمجھ ہی اس وقت آتی ہے جب دل ٹوٹتا ہے۔ ٹوٹا ہوا دل بڑا قیمتی ہوتا ہے۔ چاہے وہ کسی بھی وجہ سے ٹوٹا ہو، لیکن دل کی وہ کیفیت ایسی ہوتی ہے جیسے ہل چلائی ہوئی زمین۔ جس میں اب کسان کو صرف بیج ڈالنا ہے اور پانی دینا ہے۔ ایسے وقت میں اللہ کی کتاب ان سب سوالوں کے جواب دے دیتی ہے جو ہمارے دل میں اس وقت ہوتے ہیں۔ اللہ کے نبیؐ کی، ان کے صحابہؓ کی سیرت میں کتنے ہی ایسے واقعات مل جائیں گے۔ کہیں عزیز ترین زوجہ اپنے رب کے پاس لوٹ گئیں تو کہیں ایک کے بعد ایک بیٹیاں اور بیٹے چلے گئے۔ کسی کے سات بیٹے شہید ہو گئے تو کسی کا شوہر، ماموں اور بھائی ایک ہی جنگ میں شہید ہو گئے۔ ایسے واقعات ہمارے دل پر ایک اچھا اثر چھوڑتے ہیں۔ وہ ایک اچھا بیج ہے جس سے انشاءاللہ فصل بھی اچھی ہو گی۔اور اگر ہم ایسے وقت میں جواب کسی غلط چیز مثلاً غلط فلسفوں، غلط تصورات یا ا س سے بھی بڑھ کر منشیات وغیرہ میں ڈھونڈیں گے تو ممکن ہے ہمیں سوالوں سے فرار مل جائے مگر جواب بہرحال نہیں ملے گا۔ اور غلط بیج الگ پڑ جائے گا۔

اور کبھی کبھار ایسے ہی راہ چلتے کچھ لوگ آپ کو زندگی کی کچھ ایسی حقیقتیں بتلا جاتے ہیں کہ کئی کتابیں گھول کے پینے میں بھی نہ مل سکیں۔ کوئی سبزی والا، کوئی جمعدار، کوئی مچھلی والا، کوئی موچی، کوئی چوکیدار، کوئی بھی شخص جو بظاہر ایک عام سا آدمی لگتا ہو مگر اس خاص وقت میں آپ کے دل کی کیفیات کے عین مطابق وہ ایسی بات کر دے کہ آپ اس کی شکل دیکھتے رہ جائیں اور وہ اپنا ٹھیا آگے بڑھا جائے۔ یہ سب ہماری زندگی کی کہانی کو آگے بڑھانے آتے ہیں۔ ان کی باتوں سے ہمیں اپنے فیصلے کرنے میں مدد ملتی ہے۔ وہ فیصلے جن سے ہم ایک نئے ‘اتفاق’ سے ملتے ہیں۔ ‘اتفاق’ جو کوئی چیز ہی نہیں !!!۔۔۔

کیا خوب قیامت کا ہے گویا کوئی دن اور؟

Posted in Islam, protest, Social revolution by baigsaab on July 13, 2014

میری بیٹی کو ہم سے جدا ہوئے ڈیڑھ سال ہو گئے ہیں۔ کوئی دن ان ڈیڑھ سالوں میں ایسا نہیں ہے جب ہم نے اس کا ذکر  نہ کیا ہو۔ وہ کیسے کھاتی تھی، کیسے مسکراتی تھی۔ فلاں کپڑوں میں کیسی لگتی تھی۔ آج بھی مجھے وہ لمحہ یاد ہے جب میں نے اس کو اپنے ہاتھوں سے قبر میں اتارا تھا۔ اور حالانکہ اس کی سانس بند ہوئے کئی گھنٹے گزر چکے تھے ، لیکن اس ایک آخری لمحے میں، ایک امید تھی کہ شاید وہ پھر سے جی اٹھے!  اس پورے عرصے میں ، سوائے ایک آدھ مضمون کے، میں نے  اس کا ذکر عام محافل میں اور فیس بک پر بہت کم کیا ہے۔ ابھی بھی نہ کرتا  لیکن کیا کروں کہ گزشتہ کئی روز سے میری نظروں کے سامنے متواتر، بار بار، ایک کے بعد ایک ، جویریہ جیسی کئی  ننھی ننھی جانیں اپنی جان سے گزر رہی ہیں۔  میں جب ان بچوں کی بے نور آنکھوں کو دیکھتا ہوں تو قسم ہے میرے رب کی،صبر اور ضبط کے بندھن ٹوٹ جاتے ہیں۔

اسرائیل  نے غزہ میں جو بربریت کی تاز ہ تاریخ رقم کی ہے،  اس میں اس کی ہٹ دھرمی کے ساتھ ساتھ ہم مسلمانوں کی بحیثیت امت صریح غلطی ہے۔رسول اللہؐ کی صحابہ کرام ؓ سے گفتگو پر مبنی ایک حدیث کا مفہوم ہے کہ  جب ہمارے دلوں میں دنیا کی محبت اور موت سے نفرت پیدا ہو جائے گی تو دنیا کی قومیں ہم پر ایسے ٹوٹ پڑیں گی اور ایک دوسرے کو ایسے دعوت دیں گی جیسے دستر خوان پہ چنا ہوا کھانا۔ آج سے پہلے اس حدیث کا مفہوم شاید اتنا سمجھ نہ آ پاتا ہو لیکن اس دور میں اور خصوصاً نو گیارہ کے بعد کی دنیا میں یہ بالکل صادق آتی ہے۔ سچ ہے وہ بات جو کہی ہمارے پیارے نبی ؐ نے، یہ دنیا کی محبت ہے اور موت سے نفرت۔

خدا کی قسم کوئی باپ اپنے بچے کو دفنانا نہیں چاہتا۔ خدا کی قسم کوئی ماں اپنے بچے سے جدا نہیں ہونا چاہتی۔  لیکن کیا کریں کہ اللہ کی حکمت کے آگے چاہے یا نا چاہے ، سب کو سر جھکانا ہی پڑتا ہے۔ مگر ان  بچوں کے، اور بڑوں کے،  خون کے ایک ایک قطرے کا حساب  ان شاء اللہ لے لیا جائے گا۔  ان 57 ا سلامی مملکتوں سے بھی جن کے حکمرانوں کو اللہ نے اقتدار کیا دیا  یہ اپنے تئیں خود خدا بن گئے۔ مگر حال یہ کہ عالمی طاقتوں کے  آگے بھیگی بلی ہی نہیں بلکہ کچھ تو ان کے شکاری کتوں کا کام کر رہے ہیں۔  ان حالات میں کیا کریں؟  اسرائیل کو روکنے والا لگتا ہے کوئی نہیں! یاد رکھیں، ظالم کو ظالم سمجھ کر اس کا ساتھ دینے والا ایمان سے نکل جاتا ہے، اور یہ بھی اسی ہستی ؐکا فرمان ہے جس سے محبت کے ہم دعوے تو پہاڑ جیسے کرتے ہیں لیکن عمل ایک پتھر سے زیادہ نہیں۔

مایوسی پھیلانا یقیناً غلط ہے۔ میں بھی مایوس نہیں ہوں لیکن پریشان ضرور ہوں۔غزہ میں اپنے ارد گرد مرتے لوگ دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے۔ بھوکے بچوں کو ایک روٹی کے لیے ہوٹلوں اور ریستورانوں پر دھکے کھاتے دیکھ کر افسوس ہوتا ہے۔ لوگوں کو اپنی محفلوں میں انڈین آئڈل ،ٹونٹی ٹونٹی کرکٹ ، گاڑی، بنگلہ، پیسہ، اس کے علاوہ کسی اور چیز پر بات نہ کرتے دیکھ کر افسوس ہوتا ہے۔ کبھی کبھار تو ایسا لگتا ہے کہ سب چلتے پھرتے مقبرے ہیں ۔

خدارا پلٹیں اپنے رب کی طرف، ہمارا رب ہم سے شاید خوش نہیں ہے۔ پلٹیں اس سے پہلے کہ ہمیں بھی ایک ایسا عذاب آ پکڑے کہ سنبھلنے کی نوبت ہی نہ آئے۔ استغفار ہی واحد راستہ ہے۔ استغفار ہی سے اللہ مانتا ہے۔ خدارا ظلم کے خلاف باہر نکلیں، خدارا ان معصوم لوگوں کے لیے دعا کریں۔ خدارا ان تمام  مصنوعات  کے بارے میں خود تحقیق کریں اور ان سے رفتہ رفتہ پیچھے چھڑا لیں جو ان بچوں کو مارنے کے لیے اسرائیل کو پیسہ فراہم کرتی ہیں۔ خدارا دعا کریں ۔ خدارا نکلیں۔  اپنے لیے نہیں تو اپنے بچوں کے لیے۔  اپنے نہیں تو ان بچوں کے لیے ہی نکل آئیں جن کی سرد لاشوں کو جب ان کے والدین مٹی کے سپرد کر رہے ہونگے تو شاید ان کے دل میں بھی وہی پاگل سی امید جاگی ہوگی کہ شاید یہ پھر سے جی اٹھیں!

ان سارے جزیروں کو کوئی کاش ملا دے

Posted in Islam, protest, Social revolution by baigsaab on July 15, 2013

کیا وقت ہے یہ بھی! ایسا لگتا ہے پوری دنیا میں اگر کہیں خون بہہ رہا ہے تو وہ مسلمان کا ہے۔ لگتا ہے زمین نے مسلمان خون کے علاوہ کچھ قبول کرنے سے انکار کر دیا ہو۔ وہ برما ہو یا فلسطین۔ شام ہو یا سوڈان۔ افغانستان، پاکستان، بنگلہ دیش ، بھارت، کاشغر، ہر جگہ مرنے والا کلمہ توحید کا ماننے والا۔ کہیں ریاستی جبر ہے تو کہیں بیرونی۔ پھر بھی تمام مسلمان حکومتیں ایک دوسرے کے حالات سے یا تو لا تعلق نظر آتی ہیں جیسے بنگلہ دیش افغانستان کے بارے میں یا پاکستان برما کے بارے میں ۔ یا وہ براہ راست اس ظلم کی مدد کر رہی ہیں، جیسے شام میں ایران اور حزب اللہ ۔ مصر کے حالات پر سعودی اور پاکستانی ہر دو قیادتیں خاموش۔

اس تقسیم کو اور علاقائی پیمانے پر لے آئیں اور محض پاکستان کا ذکر کریں تو یہاں بھی حالات دگرگوں ہیں۔ وزیرستان میں ڈرون حملے، کوئٹہ میں ہزارہ قبائل کی صورتحال، کراچی میں روز گرتی بظاہر بے نام لاشیں، پنجاب کی بند ہوتی صنعتیں، سندھ میں ونی کی گئی لڑکیاں ، بلتستان میں مرتے سیاح۔ پورے ملک میں ہوتے دھماکے۔ یہ بچوں کو کھانا کھلانے سے قاصر ،خودکشیاں کرتے اور ان کا علاج نہ کرا پانے کی خلش کے ساتھ زندہ رہنے والے ماں باپ ۔ قدم قدم پر چھوٹےچھوٹے کاموں کے لیے اہلکاروں کی مٹھی گرم کرنے کی مجبوری۔ ان میں سے ہر مسئلے کا ایک چیمپئن ہے۔ جس نے رشوت ستانی کا مسئلہ دیکھ لیا اس کے لیے قیدی چھڑانے والے کی جدوجہد لا حاصل، اور جو شہروں کے دھماکوں پر سراپا احتجاج ہے وہ ڈرون حملوں پر احتجاج کرنے والوں پر سراپا تنقید۔ جس نے سیاسی جدوجہد کا راستہ دیکھ لیا اس کے لیے دوسرے تمام طریقے بدعت اور جس نے اسلحہ اٹھا لیا اس کے لیے باقی سب طفل مکتب!

اس تفریق کا اور کسی پر اتنا منفی اثر نہیں ہوا جتنا مذہبی طبقہ پر۔ اس کی وجہ کیا ہے یہ ہم آگے دیکھتے ہیں ۔ فی الحال تو یہ دیکھ لیں کہ اوپر گنوائے گئے اور دیگر تمام مسائل کے ساتھ جب الیکشن ہوئے تو لوگوں نے اسلامی جماعتوں کو نہ صرف یہ کہ ان مسائل کے حل کے لیے اپنے اعتماد کے قابل نہیں سمجھا بلکہ ایک صوبے کے علاوہ ان کو اس دفعہ کہیں منہ بھی دکھانے کے قابل نہیں چھوڑا۔ پورے ملک کی ایک ہزار کے قریب صوبائی اور قومی اسمبلیوں کی نشستوں سے اسلامی جماعتوں کے ہاتھ کتنی آئیں؟ پندرہ فیصد؟دس فیصد؟ جی نہیں تین فیصد سے بھی کم یعنی بمشکل تیس سیٹیں۔

بات یہ ہے کہ اسلامی ،خاص طور پر اسلامی غیر سیاسی قوتوں کو واقعی اس بات کا ادراک ہوتا نظر نہیں آتا (یا وہ اظہار نہیں کرتے) کہ لوگوں میں ان کی جڑیں کتنی کمزور ہو چکی ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ مذہبی قائدین نے کسی خاص حکمت عملی کے تحت اپنے آپ کو ان حالات میں الگ تھلگ رکھا ہوا ہے۔ علماء زیادہ بہتر جانتے ہوں گے کہ اس کی وجہ کیا ہے اور اس کے لیے لازماً ان کے پاس دلائل ہوں گے ۔ اس سب کا نتیجہ یہ ہے کہ علماء اب معاشرے کی رہنمائی کے منصب سے دست کش ہو گئے ہیں۔ اس کے باوجود ایسا نہیں ہے کہ ہمارے دینی طبقے سکون میں ہیں۔ یہ آئے دن کی فرقہ وارانہ ہلاکتیں کیا علماء کی نہیں ہیں؟ کیا مولانا اسماعیل عالم نہیں تھے؟ کیا مفتی دین پوری صاحب کوئی غیر اہم شخصیت تھے۔ کیا مولانا اسلم شیخوپوری صاحب کوئی گزارے لائق مولوی تھے؟ پھر کیا گزشتہ رمضان کراچی کے سب سے بڑے دارالعلوم کا محاصرہ نہیں کر لیا گیا تھا؟ کیا گزشتہ رمضان میں ہی معتکفین کو مسجد میں گھس کر نہیں مارا گیا؟ کیا آئے دن مدارس کو زیادہ سے زیادہ حکومتی کنٹرول میں لیے جانے کی باتیں نہیں ہور ہیں؟ اس سب کے بعد جب کراچی کے صف اول کے علماء میں سے ایک عالم ، جن کے اپنے مدرسے کے اساتذہ اور طلبہ حالیہ مہینوں میں شہید کیے جا چکے ہیں، ملک کے نو منتخب وزیر اعظم کو ایک کھلا خط لکھتے ہیں تو یقین جانیے ایک لمحے کو تو دل میں ایک موہوم سی امید یہ آئی تھی کہ شاید یہ بھی مصر کے عزّ بن عبد السلام کی روایت قائم کریں گے۔ شاید یہ بھی بادشاہ وقت کو اس کے مفرد نام سے پکاریں گے اور اس کو کسی معاشرتی برائی کی طرف متوجہ کریں گے۔ شاید انہوں نے سود کے خلاف ایکشن لینے کو کہا ہوگا، شاید ڈرون حملوں کے خلاف بات ہو گی، شاید امریکہ کی جنگ سے نکلنے کا حکم دیا ہو گا، شاید احادیث کی روشنی میں اور قرآن کی آیات کی رو سے کسی کافر کے شانہ بشانہ کھڑے ہو کر کسی مسلمان کے خلاف جنگ کرنے کے خلاف وعیدیں سنائی ہونگی۔ شاید مہنگائی کے خلاف بات کی ہوگی، شاید شیعہ سنی فرقہ واریت ختم کرنے کی بات ہوگی، شاید ناموس رسالت ؐ کی حفاظت کے بارے میں کوئی ہدایات ہونگی، شاید رشوت کے خاتمے اور سفارش کی روک تھام کی بابت تنبیہہ ہو گی اور شاید اور کچھ نہیں تو حاکم وقت سے اللے تللے ختم کرنے کی بات ہوگی۔ مگر حیف صد حیف کہ خط جب پڑھا تو اس کا لب لباب تھا کہ ‘جناب اعلیٰ قبلہ وزیر اعظم صاحب دام اقبالہ سے گزارش ہے کہ جمعے کی ہفتہ وار تعطیل بحال فرما دیں”!! یقین کریں اگر کسی ملک کا سب سے بڑا مسئلہ صرف یہ ہے کہ ہفتہ وار تعطیل کس دن کرنی ہے تو ہماری رائے میں وہ ملک روئے ارضی پر جنت سے کم نہیں۔

بہ صد ادب کہ حضرت کی امامت میں بارہا نمازیں ہم بھی ادا کر چکے ہیں کہ ان کا تدیّن باعث تحسین ہے، میری نا چیز رائے میں ایسے بے سروپا اقدامات کی وجہ صرف اور صرف ایک ہے۔ ایک مرکزی قیادت کی غیر موجودگی۔ اگر ہمارے ان بزرگوں کی کوئی مرکزی قیادت ہوتی تو ان کے اقدامات اتنے افراتفری کا شکار نہ ہوتے۔ قیادت لیکن ایسے ہی پیدا نہیں ہو جاتی اس کے لیے کئی اہل لوگوں کو قربانی دینی پڑتی ہے۔ ہمارے بڑوں میں سے کچھ کا حال تو یہ ہے کہ اپنے مرتبے اور رتبے کا بھی خیال نہیں کرتے اور مخالفین کو ایسے ایسے ناموں سے پکارتے ہیں کہ کوئی دشمن بھی کیا پکارے گا۔ مشرک، بدعتی، جنت کے طوطے، بینکر، مردودی، پراسراری، نجدی، وہابی، دیوگندی، یہ سارے نام کلمہ توحید کے ماننے والوں کے ایک گروہ کے منہ سے دوسرے گروہ کے لیے نکل رہے ہیں۔ ایمان کے بعد برا نام لینا بھی برا ہے، سورۃ الحجرات کیا کہہ رہی ہے کیا ہم بتائیں آپ کو؟ اور انہی گروہوں کے ذرا اپنے بزرگوں کے لیے تراشے ہوئے القابات ملاحظہ کیجیے۔ کسی کو رومی ثانی کہا جا رہا ہے، کسی کو شیخ العرب والعجم، کسی کو مجدد ملت، کسی کو شیخ الاسلام، کسی کو بلبل مدینہ کہا جاتا ہے تو کسی کو عارف باللہ۔ کسی کے نام میں دامت برکاتھم کا لاحقہ لگا ہے اور کسی کے ساتھ حفظہ اللہ اور کسی کے ساتھ نور اللہ مرقدہ اور کہیں پر قدس اللہ سرہ۔ یہ افراط و تفریط ایسے ہی نہیں ہے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ یہ بزرگان دین ان ناموں کے اہل نہیں، ان میں سے چند یقیناً ہونگے بھی۔ لیکن ان سابقوں اور لاحقوں پر مرنے مارنے کو دوڑنے سے پہلے اس ہستیؐ کے نام کی اگر حفاظت کر لی جاتی جس کے طفیل ان بزرگوں کی عزت ہے تو یہ ان کے لیے یقیناً زیادہ باعث افتخار ہوتا۔

توہین ناموس رسالت کے واقعات اگر بڑھ رہے ہیں تو کسی وجہ سے بڑھ رہے ہیں۔ مسلمانوں کا نام ہر جگہ دہشت گردی میں لیا جا رہا تو کسی وجہ سے لیا جا رہا ہے۔ اس کی ایک ہی وجہ ہے، اور وہ ہے ایک مرکزی، متفقہ قیادت کی عدم موجودگی جو مسلمانوں کو بحیثیت مجموعی ایک لائحہ عمل طے کر کے دے۔ OIC یا عرب لیگ نہیں بلکہ ایسی قیادت جو واقعی مسلمانوں کو ایک جسد واحد کی طرح چلائے۔ جس کی ایک خارجہ پالیسی ہو، ایک مالیاتی پالیسی ہو، ایک صنعتی پالیسی ہو۔ چاہے تعلیمی اور داخلی پالیسیاں کچھ مختلف بھی ہوں تو اس بکھری ہوئی بے مہار امت میں پھر سے جان پڑ جائے گی۔ مسلمانوں کی عالمی سطح پر پھر ایک آواز ہوگی۔ اگر تمام مسلمان ممالک اس بات پر اصولی طور پر متفق ہو جائیں تو پھر اس ادارے کو آپ خلافت کا نام دے لیں یا ریاستہائے متحدہ اسلامیہ کا، بات ایک ہی ہے۔ مسلمان ممالک میں مقتدر طبقات کے مفادات اس معاملے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔ اور پھر وہ اپنے ملک کے دینی طبقات میں سے چند لوگوں کو خرید کر اپنا الو سیدھا کرلیتے ہیں۔ محض چند اختلافات کی بناء پر النور پارٹی نے الاخوان کا ساتھ چھوڑ دیا۔ مرسی کو نکال کر جو نگران حکومت بنی ہے ا س میں النور کا بھی کچھ حصہ ہے مگر انتظار کیجیے کہ کب اس کو دودھ میں سے مکھی کی طرح نکال پھینکا جاتا ہے۔ ایسے ہی ہماری دینی جماعتیں ایک دوسرے کی سعی کو ناکام بناتی ہیں، کہیں دانستہ کہیں انجانے میں۔ ایک دوسرے کے پیچھے نماز تو پڑھ لیتے ہیں لیکن ہاتھ میں ہاتھ نہیں دیتے۔ اخلاقی ہمدردی تو کرتے ہیں لیکن عملی ساتھ نہیں۔ لال مسجد کا سانحہ ہوا لیکن پورے ملک کی مذہبی جماعتوں نے سوائے ایک رسمی احتجاج کے اور کچھ نہیں کیا۔ وجہ اس کی یہ تھی کہ ان کو مولانا عبدالرشید کے طریقے سے اختلاف تھا۔ سب نے مانا کہ لال مسجد کے معاملے کو حد سے بڑھانے میں پرویز مشرف کا کتنا گھناؤنا کردار تھا۔ کیسے اس نے ایک پھنسی کو پھوڑا بننے دیا اور پھر اس کو ریاستی طاقت سے ایسا کچلا کہ آج تک اس کے اثرات محسوس کیے جاتے ہیں۔ یہ سب مان کر بھی، اور یہ سب جان کر بھی، محض ‘تشریح’ کے فرق کی بنیاد پر ہمارے دینی طبقے نے اخلاقی ہمدردی کو ہی کافی سمجھا اور اس معاملے کو اس مقام تک جانے دیا کہ جہاں محض بے بسی سے تماشہ ہی دیکھا جا سکتا تھا۔ پرویز مشرف نے ایک ایک کر کے یہی کھیل باقیوں کے ساتھ بھی کھیلا ہے۔ کہتے ہیں جرمنی میں نازیوں نے بھی ایسا ہی کیا تھا۔ اس زمانے کے ایک پادری کا یہ مشہور ٹکڑا تو آپ نے سن ہی رکھا ہوگا ؏

First they came for the communists,
and I didn’t speak out because I wasn’t a communist.

Then they came for the socialists,
and I didn’t speak out because I wasn’t a socialist.

Then they came for the trade unionists,
and I didn’t speak out because I wasn’t a trade unionist.

Then they came for me,
and there was no one left to speak for me.

محض دین کی تشریح کے فرق کا مطلب ہے کہ ہر جماعت نے سنت نبوی ؐ کا مطالعہ کر کے حضورؐ کی حیات طیبہ میں سے جو چیز سب سے زیادہ اہم سمجھی اس کو اپنی جدوجہد کا مرکز بنا لیا۔ کسی نے تبلیغ کو اہم سمجھا، کسی نے جہاد کو، کسی نے سیاست کو اپنا میدان عمل بنایا تو کسی نے خیراتی کاموں کو، کوئی مسجد کی تعمیر کر رہا ہے تو کوئی مدرسہ تعمیر کیے چلا جا رہا ہے، کوئی ذکر و اذکار کے ذریعے سنت پر عمل کر رہا ہے تو کوئی تحریکی کا م کر کے ایک منظم جماعت تشکیل دینے کا خواہش مند ہے۔ حضور نبی کریمﷺ کی حیات طیبہ میں ہمیں ان میں سے اکثر کام کسی نہ کسی وقت میں کسی نہ کسی درجہ میں ملتے ہیں۔ سیرت طیبہ ؐ میں ہم جہاد بھی دیکھتے ہیں اور تبلیغ بھی، جماعت سازی بھی دیکھتے ہیں اور ریاست کے امور پر مکمل گرفت بھی دیکھتے ہیں۔ معجزہ یہ ہے کہ جو کام اللہ کے رسول ؐ نے تن تنہا انجام دیا، آج کئی کئی تنظیمیں مل کر بھی نہیں کر پارہیں۔ اس پر مستزاد یہ کہ ایک دوسرے کے کام سے متفق نہ ہونے کی وجہ سے پہلے بحث پھر اختلاف اور پھر سیدھا سیدھا ضد کا معاملہ ہو جاتا ہے ۔ پھر چونکہ معاشرہ میں دینی جماعتوں سے تعاون کرنے والوں کا ایک وسیع مگر بالآخر محدود طبقہ ہے تو ان کا تعاون انہی جماعتوں میں آپس میں تقسیم ہو جاتاہے ۔ کئی مسجدوں میں ایک سے ڈیڑھ کروڑ روپے کے مینار کی تعمیر ہو جاتی ہے جبکہ وہی پیسے کسی اور جگہ کسی دوسرے ، زیادہ ضروری مقصد میں استعمال ہو سکتے تھے۔ لے دے کے بات وہی ایک مرکزی قیادت کی ہے جو ان سارے اثاثوں کی امین ہو اور نہایت دیانت داری اور خداخوفی کے ساتھ اس مال کو استعمال کرے۔ ایک آواز ہو۔ جو اس سے ہٹ کر چلے وہ صاف نظر آجائے کہ یہ دین کا نمائندہ نہیں۔ پہلے ایک شہر میں ایسا اتحاد بن جائے پھر اس کو ملک تک پھیلا دیں۔ یہ مشکل ضرور ہے، ناممکن نہیں ۔

اگر ایسا اتحاد نہیں ہو پا رہا تو قصور عوام کا بھی ہے لیکن اصل قصور میرے نزدیک ان عقیدتمندوں کا ہے جو علماء کے اردگرد گھیرا ڈال کر رکھتے ہیں۔ آج کے دور میں کسی بڑے عالم سے بات کرنا، اس سے کچھ ذاتی طور پر پوچھ پانا اس قدر مشکل کام ہے کہ جب تک آپ کے پاس کوئی بڑی سفارش نہ ہو آپ علماء سے مل نہیں سکتے۔ اس کی وجہ وہ درمیان کے عقیدتمند ہیں جن کے نزدیک ان کے ‘حضرت’ سے کوئی سوال پوچھنا اگر گناہ کبیرہ نہیں تو مکروہ ضرور ہے۔ ایک عقیدتمند ‘حضرت’ کی ویب سائٹ سنبھال رہے ہوتے ہیں تو دوسرے صاحب کے نزدیک کسی کا ان کے شیخ کو براہ راست فون کر لینا مداخلت فی الدین کے زمرے میں آنا چاہیے۔ اس سے زیادہ آسان تو ٹی وی اور ریڈیو پر آنے والے ان نوسربازوں کو کال کرنا ہوتا ہے جن کے لیے رمضان، ربیع الاول، محرم اور ذی الحجہ مقدس کم اور کمائی کے مہینے زیادہ ہیں۔ عوام ایسے ہی نہیں علماء سے کٹ رہے۔ ایک جمعہ کے اجتماع میں راقم نے امام صاحب کو کہتے سنا کہ ‘عوام کو علماء کی ضرورت ہے، علماء کو عوام کی نہیں’ یہ مقولہ شاید پچیس سال پہلے صحیح تھا مگر آج نہیں۔ Rand Corporation کی سفارشات میں صاف لکھا ہے کہ ایسے علماء جو روایت پسندوں کی صف میں آتے ہیں ان کی جگہ ایسے لوگوں کو میڈیا پر لایا جائے جن کی شہرت ترقی پسندوں کی ہے، جن کو مسجدیں نہیں ملتیں۔ جو شراب کی حرمت کے بارے میں شکوک پیدا کریں، جو بدعات کی ترویج میں ممد ہوں ، جو فحاشی کو نئے معانی پہنائیں۔ اور پچھلے آٹھ دس سالوں میں ان سفارشات پر عمل کے نتیجے میں آپ دیکھ لیں کہ اس وقت سب سے زیادہ دیکھا جانے والا پروگرام ایک ایسے پوشیدہ رافضی کا ہے جو عام محفل میں صحابہ کرامؓ کی شان میں گستاخی کرتا پکڑا گیا اور ابھی بھی تقویٰ کا لبادہ اوڑھے رمضان میں نئے نئے کرتب دکھا رہا ہے۔ یہ ذمہ داری عوام کی بھی ہے کیونکہ ان کو اپنے عمل کا حساب خود دینا ہے۔

لیکن علماء کو بھی تو اپنے نمائندے چننے میں احتیاط کرنی چاہیے۔ گزشتہ شوال میں چاند کی رویت پر جو فساد ہمارے ملک کی سب سے بڑی سیاسی مذہبی شخصیت نے بپا کیا وہ آنے والے دنوں کی ایک جھلک تھا۔ یہ خبر بہت نمایاں نہیں ہوئی ورنہ شوال اکتیس دن کا ہوتا نہیں ہے۔ اس ‘اہل حق کے مینار’ نے ایک صوبے میں اقتدار حاصل کرنے کے لیے وہ وہ پینترے بدلے ہیں کہ اچھے اچھے ماہر کرتب بازوں کو پسینہ آجائے۔ اب تو لگتا ہے کہ آنجناب کا مقصد محض اقتدار کا حصول ہے چاہے اس کے لیے وہ امریکی سفیر کے پاس خود چل کر جائیں۔ دین محمدی ؐکے ماننے والوں کو اگر اقتدار مانگنے کے لیے در در کی بھیک مانگنی پڑے تو ایسے اقتدار سے دوری ہی بھلی۔ علماء کا کام دین کی حفاظت کرنا ہے ، اگر اقتدار حاصل کر کے حفاظت ہوتی ہے تو ٹھیک نہیں تو چار حرف بھیجیے ایسے اقتدار پر جس میں عزت سادات بھی ضائع ہونے کا اندیشہ ہو۔ چار حرف بھیجیے ایسے نمائندوں پر جن کے رہتے نہ مدرسے بچیں نہ اساتذہ۔ نہ طالبعلم بچیں نہ طالبات- جنہوں نے سب سے پہلے نعرہ لگایا کہ ‘طالبان اسلام آباد سے سو کلومیٹر پر رہ گئے ہیں’ اور وہاں سے کوڑوں کی ایک جعلی ویڈیو نکل آئی اور پھر سوات میں لاکھوں لوگ اپنے ہی ملک میں بے گھر ہو گئے۔ سب سے پہلے تو ان نام نہاد نمائندوں سے علمائے دین کو اپنے آپ کو بچانا ہوگا ۔

اس سلسلے میں وہ لوگ جو واقعی کسی عالم کے قریبی حلقے سے تعلق رکھتے ہیں وہ اپنے عالم سے بات کریں۔ ان سے سوال کریں ، کچھ مواقع پر ادب ہلاکت کا باعث ہو جاتا ہے۔ آپ صحابہ کرامؓ سے زیادہ اپنے حضرت کی تعظیم نہیں کر سکتے ۔دین کے معاملے میں صحابہ کرامؓ کبھی نہیں شرماتے تھے، سوال کرتے تھے۔ تو اپنے حضرت سے پوچھیں کہ دوسرے علماء میں برائی کیا ہے۔ اس کو دوسرے عالم سے رابطہ بڑھانے میں مدد کریں۔ ایک دوسرے کے لیے جو ان کے دلوں میں کچھ غلط فہمیاں ہیں وہ ختم کرائیں۔ دوسرے مسالک سے رابطہ بڑھانے میں مدد کریں۔ شدت پسندی اور تمسخر سے نہ دوسرا مسلک ختم ہوگا نہ اس کے ماننے والے۔ یہ سولہویں صدی کا اسپین نہیں ہے جہاں تمام ‘دوسروں’ کو جہازوں میں بٹھا کر افریقہ کے ساحلوں کی طرف روانہ کر دیا جائے۔ تو ہمیں ایک ساتھ ہی رہنا ہے، تو اس ساتھ کو کیوں نہ خوشگوار بنا لیا جائے؟ اگر آج (رمضان۱۴۳۴ ہجری) کی رویت ہلال جیسا ماحول پورے سال رہے تو یہ ملک اور یہ دین بہت جلد امن کا نشان بن جائے گا ان شاء اللہ۔ آج کوئی چھوٹا نہیں ہوا ، بلکہ سب اور بڑے ہو گئے۔ سب صحیح ہوئے اور کوئی غلط بھی نہیں ہوا۔ تو یہ اکثر دوسرے مواقع پر بھی ہو سکتا ہے۔

علماء کے لیے اپنی جگہ مضبوط ہونا ضروری ہے کیونکہ ستون تو مضبوط ہی ہوتا ہے اسے اپنی جگہ سے ہلنا نہیں چاہیے۔ ان کے لیے الگ الگ نظر آنے میں کوئی ایسی برائی نہیں کیو نکہ مہیب سمندر میں جزیرے اور بھی خوبصورت لگتے ہیں۔ بس ہم چاہتے ہیں کہ یہ دینی طبقے کسی ایک قیادت پر متفق ہو جائیں اور پھر للہیت کے ساتھ اس پر صبر کریں۔ ایک چھت جب مل جائے گی تو اس کے سائے میں یہ ستون بھی آئیں گے۔ بس اس کے لیے مجھے، آپ کو، ہر اس شخص کو جو کسی بڑی مذہبی شخصیت کے حلقے تک رسائی رکھتا ہے اس کو ایک پل کا کام کرنا ہے جو کسی طرح ا ن تمام جزیروں کو آپس میں ملا دے۔ اگر ہم نے صرف یہی کوشش کر لی اور اس میں اخلاص کا دامن نہیں چھوڑا تو اللہ سے امید ہے کہ وہ ہم کو روز قیامت رسوا نہیں کرے گا۔ بصورت دیگر، فرقہ بندی کو بھڑکانے میں کہیں ہم بھی حصہ دار نہ بن جائیں!


Photo credit: gnuckx / Foter / CC BY

یہ وہ سحر تو نہیں

Posted in Islam, protest, Rants by baigsaab on July 10, 2013

جولائی کے مہینے میں امریکہ ہی نہیں دنیا کے  تیئیس  دیگر ممالک  بھی اپنا  یوم آزادی   مناتے ہیں۔  ارجنٹائن، بیلارس، وینیزویلا اور پیرو  اور خود امریکہ سمیت  ان  میں سے اکثر ممالک نے یہ آزادی بیرونی طاقتوں  کے شکنجے سے حاصل کی تھی۔  امریکہ کے یوم آزادی کی رات تحریر اسکوائر میں لوگوں کو اچھلتے کودتے دیکھ کر  ایسا لگ رہا تھا کہ مصر نے کسی ایسے ہی  ظالمانہ   استعماری  نظام سے نجات حاصل کرلی ہے۔ یہ اس لیے بھی عجیب تھا کیونکہ مصر  نے اگر حسنی مبارک کو تیس سال برداشت کیا تھا اور اس سے پہلے انور السادات اور جمال عبد الناصر اور شاہ فاروق وغیرہ   کو  بھی  برسوں جھیلا تھا تو   اس بار جانے والی حکومت تو نہ فوجی آمریت تھی اور نہ   استبدادی بادشاہت۔ یہ لوگ  تو ایک ایسی حکومت کے خاتمے کی خوشی منا رہے تھے جس  کو ان کے ملک کی  ‘اکثریت’ نے  مرحلہ وار انتخابی عمل کے بعد منتخب کیا تھا۔ محمد مرسی کو  حسنی مبارک سے تشبیہہ دینے والوں نے یہ بھی نہ دیکھا کہ  مرسی نے تو نہ مخالفین سے جیلیں بھرنے کی پالیسی اپنائی،  نہ اپنے مخالفین کے ہجوم پر فائرنگ کروائی ،  نہ  خود پر تنقید کرنے والوں  کو اغواء کروایا،   نہ اپنی ذات کو حرف آخر  اور عقل کل سمجھا(حالانکہ مصر کے نئے منظور شدہ آئین کے بارے میں  پھیلایا گیا  عام تاثر یہی ہے) اور نہ اپنے سے مخالف نظریات کے پرچارکوں کے لیے عرصہ حیات تنگ کیا۔  مرسی پربظاہر الزام ہے تو صرف یہ کہ  وہ دوسرا ‘مبارک’ بننے جا رہا تھا جبکہ درحقیقت ایسا نہیں ہے۔

حقیقت اگر ہے تو  یہ کہ قاہرہ میں خوشیاں مناتے لوگ درحقیقت ایک اسلام پسند حکومت کے خاتمے کی خوشی منا رہے ہیں۔  حقیقت  اگر ہے تو یہ  کہ جب شراب خانوں پر پابندی اور فحاشی پر قدغن لگی تو مصر کے ان  ‘لبرل’ لوگوں  نے  اسی حسنی مبارک کے تیس سالہ دور استبداد کو مرسی کے ایک سالہ دور    استقبال پر ترجیح دی۔  حقیقت اگر ہے تو یہ ہے کہ  مصر، الجزائر، ترکی ، فلسطین اور دنیا بھر میں جہاں بھی اسلام پسند  ‘جمہوری’ حکومتوں کا خاتمہ ہوا ہے   اس کو  مغربی جمہوری ملکوں کی  حمایت  حاصل رہی ہے۔  اور حقیقت اگر ہے تو یہ کہ  بارہ سال  میں پہلی دفعہ کسی حکومت نے اسلام  کو  ریاست کو امور میں مدخل کرنے کے لیے محض چند ہی اقدام کیے تھے   اور اس  کو بھی اسی طرح طاقت کے ساتھ ہٹا دیا گیا جس طرح بارہ سال پہلے طالبان کو ہٹا دیا گیا تھا۔  حقیقت یہ ہے کہ اوبامہ نے اپنی خاص منافقت سے کام لیتے ہوئے جو الفاظ  اپنی تقریر میں رکھے ہیں ان میں ‘تشویش’ اور ‘جمہوری عمل’ کے الفاظ تو ہیں  مگر یہ کہیں نہیں کہا کہ  مصری فوج کا یہ عمل   غلط ہے۔ حقیقت اگر ہے تو یہ کہ اس موقع  پر’ لبرلوں اور سیکولروں ‘ کی منافقت کا پردہ چاک ہو گیا ہے۔  الکُفرُ  مِلّۃٌ  واحدۃٌ   کی ابدی حقیقت سے ہم کو تو  نبی رحمت ؐ  نے  پہلے ہی آگاہ کر دیا تھا، یہ تو ہمارے ہی لوگ تھے جو  دوڑ دوڑ کر ان میں گھسے جاتے تھے۔

لیکن یہ حقیقت بھی اپنی جگہ ہے کہ  الاخوان المسلمون کی حکومت  کے خاتمے میں فیصلہ کن کردار فوج نے نہیں، بلکہ  اسلامی قوتوں نے ادا کیا۔ مصر کیا  پوری دنیا کی تاریخ میں پہلی بار کسی  بڑے ملک میں ایک  اسلامی جمہوری جماعت اس قدر  اکثریت کے ساتھ منتخب بھی  ہوئی اور حکومت قائم بھی کر سکی   مگر  جب وہ گئی تو اس کا ساتھ دینے سے ان کے  اسلامی  اتحادیوں نے نہ صرف انکار کر دیا بلکہ  بالفعل ان کے مخالف کیمپ  میں  جا کھڑے ہوئے۔  جامعۃ الازہر  کے علماء نے ایک  بار  پھر سیکولر  عناصر کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے میں مدد دی  اور اس شخص کے خلاف چلے گئے جس نے کئی دہائیوں میں پہلی بار اقتدار کے ایوانوں میں اللہ کا کلمہ بلند کیا۔ایک بظاہر سیکولر مگر   پیدائشی عیسائی  بلکہ یہودی عدلی المنصور کی حلف برداری میں  غیر مذہبی جنرل الفتاح سیسی کا ہی نہیں ، مذہبی  النور  پارٹی  اور  انتہائی قابل احترام  جامعۃ الازہر   کا بھی بھرپور کردار ہے۔

مصریوں کے بارے میں ایک تاریخی قول  چلا آتا ہے، رِجال ٌ   تَجمعھم الطّبول و ھم مع من غلب ۔ (مصر کے  مرد  ایسے ہیں جن کو ڈھول کی تھاپ اکھٹا کرتی ہے اور وہ اس کے ساتھ ہیں جو غالب آجائے) ۔ یہ کوئی مصر کے ساتھ مخصوص نہیں ہے۔  ہماری عوام بھی مجمع بازی میں کافی خود کفیل ہے۔  بس بازی گر کے پاس ‘مسالہ’ اچھا ہونا چاہیے، لوگ اپنے اصل مسائل بھول کر  نہایت  خلوص کے ساتھ  ان  ڈھولچیوں کے پیچھے چل پڑتے ہیں۔   پاکستان میں عام لوگوں نے مصر کے حالات پر کوئی خاص ردعمل کا مظاہرہ نہیں کیا۔ شاید اس لیے کہ اس کو الیکٹرونک میڈیا پر خاطر خواہ وقت نہیں دیا گیا۔  پرویز رشید صاحب جو حکومت پاکستان کے ترجمان ہیں، انہوں نے  کہا کہ پاکستان کی طرف سے  سرکار ی ردعمل تین سے چار دن میں آئے گا، باوجود اس کے کہ ۱۴ سال پہلے وہ اور ان کے قائد بعینہ اسی عمل سے خود گزر چکے ہیں۔ خلیجی ریاستوں کی طرف سے   تقریباً وہی ردعمل ظاہر کیا گیا ہے جو انہوں نے  اکتوبر  2001  میں افغانستان اور  مارچ 2003 میں  عراق پر امریکی  جارحیت میں  دیا تھا، یعنی  امریکی لائن کی حمایت۔

پاکستان کے   تناظر میں  اگر ہم  مذہبی اور غیر مذہبی   قوتوں کی صورتحال کا جائزہ لیں تو یہ بات سامنے آتی ہے  کہ  لبرل اور سیکولر عناصر  میں اسلامی قوتوں سے زیادہ  ایکا ہے۔  سیکولروں  کی مجبوری یہ ہے کہ  وہ ایک جمہوری حکومت کے خاتمے پر خوشی کا اظہار بھی  نہیں کر  سکتے لہٰذا انہوں نے  اس فوجی بغاوت کی  ذمہ داری الٹا الاخوان پر ڈال دی  ہے کہ اس نے   مصر کی تاریخ میں پہلی بار ایک  جمہوری طور پر منتخب حکومت کی حیثیت سے  اپنی عوام کو  مایوس کیا اور فوج کو  مداخلت کا جواز فراہم کیا۔  ایاز امیر صاحب نے اپنے کالم میں  لکھا کہ مسلم دنیا کی مشکل ہی یہ  ہے کہ یہ  اپنی علاقائی  حدود کی بنیا د پر سوچتے نہیں۔  انہوں نے مرسی  کا تقریباً مذاق اڑاتے ہوئے کہا کہ اپنا گھر سنبھل نہیں رہا تھا اور  وہ  شام کے حالات میں مداخلت کر رہے تھے۔ دوسری جانب  ہمارے مذہبی حلقے   مصر کی تازہ ترین صورتحال میں محض پوائنٹ اسکورنگ کرتے رہ گئے ہیں، الّا ماشا ءاللہ۔  جنہوں نے  اپنی جدوجہد کے لیے انتخابی میدان منتخب کیا تھا وہ  مصر میں  ‘جمہوری’ حکومت کے خاتمے پر مظاہرہ کر رہے  ہیں۔ اور جنہوں نے انتخابی میدان منتخب کرنے کو غلطی قرار دیا وہ  اس فوج کشی کو جمہوری عمل کی ناکامی کا معنی پہنا رہے ہیں۔  واضح رہے کہ جس وقت الاخوان کی حکومت آئی تھی تو  اس وقت  بغلیں بجانے اور  بغلیں جھانکنے کی ترتیب اس کے برعکس تھی۔ سہ ماہی ایقاظ  نے اپنے تازہ مضمون میں  طرفین کے اچھے خاصے لتے لیے ہیں کہ  پہلی بات تو یہ کہ کسی کی ناکامی، ہماری کامیابی کی  ضمانت نہیں۔ اور دوسری بات یہ کہ یہ وقت ایک دوسرے سے لڑنے کا نہیں  ہے۔ بلکہ  اس وقت پہلے سے زیادہ ایک نظر آنے کی ضرورت ہے۔

مصر میں فوجی بغاوت کے بعد مغربی  لکھاریوں کے آنے والے   مضامین اس حقیقت کی غمازی ہی نہیں کر رہے بلکہ ببانگ دہل اس بات  کا اعلان کر رہے  ہیں کہ ان کے نزدیک مسئلہ اسلام ہے، سیاسی یا فوجی اسلام نہیں۔  ڈیوڈ بروکس کے نزدیک   

‘اہم چیز یہ ہے کہ  ایسے لوگوں کو اقتدار سے باہر کر دیا جائے چاہے اس کے لیے  فوجی  بغاوت ہی کا استعمال کیوں نہ کرنا پڑے۔(اصل)   ہدف یہ ہے کہ سیاسی اسلام کو  کمزور کر دیا جائے  چاہے اس کے لیے کچھ بھی کرنا پڑے۔ ‘

مصر میں   لبرلوں کے لیے روشنی کے مینار کی حیثیت رکھنے والے البرادعی  نے  کہا ہے کہ انہیں

اپنے  مغربی دوستوں کو اس بات پر راضی کرنے کے لیے کافی محنت کرنی پڑی  کہ مصر میں جو کچھ فوج نے کیا وہ انتہائی ضروری تھا۔

حاصل وصول ایک  ہی بات ہے،  الجزائر   اور مصر میں  حکومت سیاسی طریقے سے حاصل کی جائے یا اٖ فغانستان  میں   طالبان کے انقلاب کے ذریعے،  اگر حکومت  نے   ذرا بھی  کوشش کی   کہ اسلام کو  ایک جز و کے طور پر ہی سہی لوگوں کی سیاسی زندگی میں داخل کر دیا جائے  تو وہیں اس کے اوپر  ایک ایسی کاری ضرب لگائی جائے گی کہ  ان کی تحریک دس سال پیچھے جا کھڑی ہو گی-  اگر لوگوں کی اکثریت اسلام چاہ رہی ہے اور حکومت نہیں چاہ رہی تو چاہے   مظالم کے پہاڑ ہی  کیوں نہ توڑ دیے جائیں، جیسے شام میں ہو رہا ہے، لبرلوں کے کانوں پر جوں نہیں رینگے گی۔   ترکی میں جو کچھ ابھی ہو رہا ہے   وہ   اگر  آج سے پانچ سال پہلے ہوتا تو  شاید ترکی میں اردگان حکومت کا بھی  خاتمہ ہو چکا ہوتا۔  ان لوگوں کے خیال سے مذہب کی جگہ سیاست نہیں ہے، حکومت نہیں ہے،  معیشت نہیں ہے،  بلکہ معاشرت بھی نہیں ہے، بس مذہب  ایک انفرادی شے ہے ! اب یہ ان کو کون سمجھائے کہ  ؏ جدا ہو دین سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی۔ فرد سے ہی سیاست ہے، فرد سے ہی  حکومت، اسی سے معیشت اور اسی سے معاشرت۔ تو سیدھے سبھاؤ فرد کو ہی کیوں نہیں نکال دیتے  باہر؟

کیا اب بھی کسی کی سمجھ میں نہیں آیا کہ اسلام پسندوں پر عرصہ حیات تنگ کردینے کی آخر وجہ کیا ہے؟ اس چیز کو دیکھنے کے لیے کوئی عقابی نگاہیں نہیں چاہییں کہ مصری فوج نے مرسی سے اقتدار چھیننے سے پہلے ہی  غزہ کی سرنگیں بند کرنے کا کام شروع کر دیا تھا۔  اقتدار میں آنے کے بعد اخوان کے ہمدرد  چار چینل بند کر دیئے گئے۔  الاخوان المسلمون کے دھرنے پر فائرنگ کی گئی جس کے نتیجے میں  تیس سے اوپر لوگ شہید اور سو تک زخمی ہو گئے۔  اس پر نہ کوئی جمہوری روایت  پامال ہوئی نہ انسانی حقوق، کیونکہ  جمہوری روایات کے امین  تو صرف سیکولر ہیں، اور انسانی حقوق کے علمبردار صرف لبرل۔ مصر میں تو خیر براہ راست امریکی ( یعنی صیہونی) مفادات پر  زک پڑ رہی تھی  اس لیے وہاں  تو  انگریزی ترکیب کے مطابق یہ  ‘کب؟’ کا معاملہ تھا ‘اگر’ کا نہیں-  لیکن باقی دنیا میں کیا ہو رہا ہے؟   یورپ میں عورتوں کو  زبردستی بے پردہ کیا جا رہا ہے۔  حجاب پہنی ہوئی عورت کو بھری عدالت میں قتل کر دیا جاتا ہے۔  داڑھی والوں کو ائرپورٹ پر  لائن سے نکال کر تلاشی لی جاتی ہے۔  پکڑا جانے والا اگر فیصل شہزاد ہو ( صحیح یا غلط کی  بات نہیں) تو  وہ تمام مسلمانوں کا  نمائندہ ، اسلام دہشت گردوں کا مذہب اور تمام مسلمانوں کے لیے  شرمندہ نظر آنا لازمی۔  لاکھوں کے قتل کا  متحرک  ہٹلر، ہزاروں کے خون کا ذمہ دار سلوبودان میلاسووچ،  درجنوں کو اپنے  دو ہاتھوں سے مارنے والا اینڈرز بریوک  مگر عیسائیوں  کا  نمائندہ نہیں، یہ ان کا ذاتی فعل ہے جس کی  کسی عیسائی کو صفائی پیش کرنے کی بھی ضرورت نہیں۔ پھر ہمارے اپنے معاشروں میں اسلام پسند جس تضحیک کا نشانہ بنتے ہیں وہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔  جس نے داڑھی رکھ لی وہ منہ چھپا کر پھر رہا ہے اور جو  رات کو  ڈانس پارٹی سے ہو کے آیا ہے اس  کی فیس بک پروفائل پر likes ہی likes ۔  جہاں باپ  نے کسی دینی اجتماع میں جانا شروع کیا بچوں کے منہ لٹکنے شروع ہو گئے۔  انصار عباسی اور اوریا مقبول جان جیسے  کالم نویس   لبرل طبقہ کی ہنسی کا براہ راست نشانہ بنتے ہیں۔

  یہ کیا ہے؟  یہ  دراصل وہ فطری ترتیب  ہے جس پر اللہ نے انسانوں کو پیدا کیا ہے۔  دنیا میں ازل سے ابد تک  درحقیقت صرف دو ہی گروہ ہیں۔  ایک کا نام حزب اللہ، دوسرا حزب الشیاطین۔  فی الوقت  دنیا   چاہے یا  نہ چاہے اپنے آپ کو ان دو  گروہوں  میں تیزی سے تقسیم کر رہی ہے۔   جس کو ہم grey area  کہتے ہیں وہ  اب بہت کم رہ گیا ہے اور اس طرح کے اقدامات کر کے  یہ لادین طبقہ چاہ رہا ہے کہ  یہ تقسیم  بالکل واضح ہو جائے۔  اپنی دانست میں وہ  اپنی دنیا پکی کر رہے ہیں مگر در حقیقت اس سے بڑا خسارے کا سودا  کوئی انسان نہیں کر سکتا۔  و انتم لا تشعرون ! لیکن تم تو  سمجھ ہی نہیں رکھتے! کسی سیکولر سے مگر اور توقع کیا کی جا سکتی ہے، اس کا ایمان دنیا میں ہے وہ اپنے ایمان  کے مطابق کام کر رہا ہے۔  مسئلہ تو ہمارا ہے، ان لوگوں کا جن کا دعوی ٰ تو یہ ہے کہ  ایمان ہمارا اللہ پر ہے، مگر عمل   اس دعوے کی نفی کرتا جا رہا ہے۔ عشق رسولؐ کے مدعی بھی ہیں ، نعت خواں، حافظ بھی ہیں مگر صبح اٹھتے ہی  سب سے پہلے اپنے چہرے سے سنت نبویؐ  کو کھرچ کر  کچھ تو کچرے میں ڈال دیتے ہیں اور کچھ سیدھا گٹر میں بہا دیتے ہیں۔  خواتین صحابیات  مبشرات   ؓ  کی مثالیں  دیتی ہیں مگر انہی کے اصرار پر مرد حرام کماتے ہیں۔  سود پر ہماری معیشت کی بنیاد ہی نہیں ہے، یہ اس  کی جان ہے، ہمارے  نئے نویلے   وزیر خزانہ صاحب نے  تو اس بجٹ میں  انٹرسٹ کا لفظ ہی استعمال نہیں کیا، سیدھا شرح سود کی بات کی۔  تو ہم تو خود اپنے عمل سے ثابت کر رہے ہیں  کہ اسلام فی زمانہ کوئی قابل عمل  چیز نہیں، نہ  انفرادی زندگی میں ، نہ اجتماعی زندگی میں۔ تو   اگر ڈیوڈ بروکس یہ کہہ دیتا ہے کہ  ‘نا اہلی  دراصل بنیاد پرست اسلام  کے   دانشورانہ  DNA  میں  رچی بسی ہوئی ہے’ تو  اس نے  کیا غلط کہہ  دیا ؟

مصر کے حالیہ  واقعات نے  اگر کم از کم بھی یہ کر دیا کہ ہمارے  لوگوں کی  آنکھوں سے   غفلت  کی پٹی کھول دی تو یہ بہت بڑی بات ہو گی۔یہ بات کہ شدت پسندی دراصل اسلام پسند نہیں بلکہ سیکولر اور لبرل طبقہ کرتا ہے، اگر سمجھ آ گئی تو یہ ایک نہایت بڑی بات ہوگی۔ہمارا اشارہ ان لوگوں کی طرف نہیں ہے جو  صرف دینی مزاج کے لوگ نہیں یا جو نماز نہیں پڑھتے یا روزہ نہیں رکھتے۔ ہمارا اشارہ ان لوگوں کی طرف ہے جن کو ان سب کے ساتھ ساتھ   یہ  بھی برا لگتا ہے کہ  ہمارے کھلاڑی ‘ان شاء اللہ ‘ کیوں کہتے ہیں۔  ہمارے لوگ اب اللہ حافظ کیوں کہتے ہیں۔  رمضان کو Ramadan کیوں بولا جا رہا ہے۔   ان میں سے اکثر وہ لوگ ہیں جو اپنے ‘حق’ کو پانے کے لیے جھوٹ کا سہارا لینے میں ذرا عار محسوس نہیں کرتے۔  یہی تو ڈیوڈ بروکس نے کہا ہے، ‘چاہے کسی طریقہ سے بھی بس  سیاسی اسلام کو  ہرا دو’۔ چاہیں تو ایک  جھوٹی ویڈیو چلا کر سوات کے امن  معاہدے کو پارہ پارہ کر دیں۔ چاہیں تو لال مسجد کے خلاف واویلا مچا کر وہاں آپریشن کرا دیں اور پھر ٹسوے بہائیں کہ یہ کیا کر دیا؟  چاہیں تو  صوفی محمد کے خلاف اسمبلی کے فرش پر چلا چلا کر ہاتھ ہلا ہلا کر   تقریریں کریں ۔  چاہیں تو فحاشی کے  بے محابا پھیلاؤ سے صاف مکر جائیں اور اسلام پسندوں پر ثقافتی دیوالیہ پن کی تہمت چسپاں کر دیں۔ یا  جیسے مصر میں ہوا کہ ایک  منتخب  جمہوری حکومت کو  اٹھا کر باہر پھینک دیں اور  اپنے  پیارے البرادعی کو   انتہائی  ‘جمہوری’ طریقے سے نگران حکومت کا حصہ بنوا دیں۔  یقین کریں ، ایسا لگتا ہے کہ یہ دن کو دن  اور رات کو رات بولتے ہیں تو  اس کے پیچھے ان کا مفاد ہوتا ہے۔

اس  سارے  منظر نامہ سے اگر ہم نے اتنا ہی سمجھ لیا تو یہ بھی کوئی معمولی فائدہ نہ ہو گا کہ  ان کی آزادی ہماری آزادی نہیں۔  ان کی شام  ہماری  شام نہیں ، اور ان کی سحر ،ہماری سحر نہیں ۔

 فاعتبرو۱ یا اولی الابصار۔

بُھنگانہ، ابابیل اور ڈرون

Posted in Islam, Social revolution by baigsaab on June 28, 2013

اندلس کے طوائف الملوک میں وہ پہلی حکومت جس نے باقاعدہ عیسائی اقوام سے دوسرے مسلمانوں کے خلاف مدد مانگی وہ کوئی اور نہیں قرطبہ  کی حکومت تھی۔  خلافت اندلس کا دارالخلافہ قرطبہ، جہاں سینکڑوں سالوں سے کسی نے کسی  غیر مسلم کو  تلوار سونت کر چلتے نہیں دیکھا تھا، وہاں  اب عیسائی فوجی نام نہاد مسلمان حکمرانوں کے جنگی عزائم کو آگے بڑھانے کے لیے  کرائے کے فوجیوں کے طور پر لڑ رہے تھے! اندلس میں  اموی خلافت  کمزور  ہوئی تو  فوج کے مختلف سرداروں نے اپنے اپنے علاقوں میں اپنی حکومت کا اعلان کردیا۔  یہ علاقے  ’طائفہ’ کہلاتے تھے اور ان کے بادشاہ  ، ‘ملک الطائفہ’، اکثر و بیشتر صرف اپنے علاقے بڑھانے کے چکر میں  رہتے تھے۔   اتحاد امت اور اتحاد بین المسلمین جیسے الفاظ ظاہر ہے توسیع پسندی  اور ہوس ملک گیری کے ماروں کے سامنے نہایت بودے معلوم ہوتے ہیں۔  تو  ان بادشاہوں کی تلواریں بھی آپس میں ہی چلتی تھیں۔ اور اس میں ان کو مدد ملتی تھی کاسٹائل اور دوسری عیسائی ریاستوں سے۔  یہ مدد فوجیوں کی صورت بھی ہوتی تھی، اور کبھی کبھار براہ  راست مسلمان بادشاہ کی طرف سے  عیسائی فوجیں ہی حملہ آور ہو جاتی تھیں۔ ‘تقسیم کرو اور حکومت کرو’ کی یہ اندلسی مثال تھی۔  ان خدمات کے عوض آئیبیریا کے عیسائیوں کو مال، دولت، جائداد  یا جو وہ مانگیں، دیا جاتا تھا۔  نتیجہ یہ کہ عیسائی طاقت بڑھتے بڑھتے اتنی ہو گئی کہ ان نا عاقبت اندیش حکمرانوں کو سانس لینی دوبھر ہو گئی۔   یہ آج سے ٹھیک ایک ہزار سال پہلے کی بات ہے۔

آج کا حال دیکھیں۔ پاکستان کے شمالی علاقوں ، جنہیں نہ جانے کیوں پہلے بھی  ’علاقہ غیر’  ہی کہا جاتا  تھا، میں ایک جنگ ہو رہی ہے۔  ’ہماری جنگ’ !۔ کہنے کو پاکستان کی سرزمین کے دشمن اس علاقے میں چھپے بیٹھے ہیں۔  وہ دشمن جو عام  آبادی میں ایسے گھل مل گئے ہیں کہ وہاں ان کی شادیاں بھی ہوئی ہوئی ہیں اور اولاد بھی۔   ایک ایسا علاقہ جس میں پاکستان کے دوسرے علاقوں سے کوئی نہیں جا سکتا اور وہاں سے پاکستان کے دوسرے علاقوں میں کوئی نہیں جا سکتا۔  بیچ میں اتنی چوکیاں اور اتنے پہرے ہیں کہ سفر کا انجام اکثر و بیشتر ناکامی ہی ہوتا ہے۔ چنانچہ وہاں سے کسی خبر کا آجانا بجائے خود ایک عجوبہ  ہے کجا یہ کہ اس خبر کی تصدیق بھی ہو جائے۔ ایسے میں وہاں پر  فضائی حملے جاری ہیں۔ مقصد ان حملوں کا یہ ہے کہ ‘دہشت گردوں’ کو مار دیا جائے۔  یہ حملے کون کر  رہا ہے، کیوں کر رہا ہے اور کیا یہ اپنے مقصد میں کامیاب ہو رہے ہیں ۔ یہ سوال کر لینا جتنا آسان ہے اس کا جواب تلاش کرنا اتنا ہی مشکل۔

2004 میں ڈامہ ڈولہ میں ایک  میزائل  حملے میں  ’ ملا نیک محمد ‘ کا انتقال ہو گیا۔  اس وقت کسی کی کچھ سمجھ میں ہی نہیں آیا کہ یہ میزائل آیا کہاں سے۔  مگر ہمارے صدر پرویز صاحب نے  کمال پھرتی سے اس کی ذمہ داری  اپنے ادارے کی طرف سے قبول کرتے ہوئے  کہا کہ یہ ہم نے  کیا ہے۔ اس سے قطع نظر کہ ہم نے ایک ایسے شخص کو کیوں مار دیا جو  بعد میں ملنے والی اطلاعات کے مطابق ریاست سے باقاعدہ مذاکرات پر آمادہ تھا،  یہ تفصیلات کہ حملہ ہوا کیسے اس کہانی میں ہی کافی جھول تھے۔  بعد  ازاں  جب جب اس طرح کے حملے ہوتے رہے تو  اسی طرح وہ اور ان کے کارندے یہ ذمہ داریاں قبول کرتے رہے۔  رفتہ رفتہ بات کھلنا شروع ہوئی کہ یہ حملے  دراصل امریکی  ڈرون جاسوس طیارےکرتے ہیں۔  یہ  ڈرون  اول اول تو تھوڑے عرصے کے لیے نظر آتے تھے۔ مگر اب یہ    پورا دن  وزیرستان کے آسمان پر موجود رہتے ہیں۔  ان طیاروں سے  ایک مہینے میں اوسطاً  چھ سے سات حملے ہوتے ہیں۔ ان حملوں میں مرنے والے شہریوں  کے اعداد و شمار میں اتنا فرق ہے کہ   سرکاری شمار  دس سے کم اور  غیر سرکاری  کم و بیش ایک ہزار ہے۔ وجہ اس فرق کی کیا ہے یہ جاننے کے لیے دیکھیئے Living  Under Drones (livingunderdrones.com)  نامی دستاویز سے کچھ معلومات۔

یہ دستاویز  Stanford اور NY University  کے  اشتراک سے بنائی گئی ہے۔  قریباً نو ماہ کی ریسرچ اور درجنوں متاثرین سے  گفتگو  کی بنیاد پر بنائی گئی یہ رپورٹ  دراصل ڈرون  کے استعمال کے انسانی نفسیات پر پڑنے والے اثرات کو اجاگر کرنے کی ایک کوشش ہے۔  اسی  ضمن میں  امریکی اور پاکستانی دونوں طرح کے حکومتی دعوؤں کی بھی قلعی کھول دی گئی ہے۔

وزیرستان میں ڈرون کوابابیل بھی کہتے ہیں مگر زیادہ تر  ’بُھنگانہ’ کہا جاتا ہے، ایک ایسی چیز جو مکھی جیسے بھنبھناتی رہتی ہے۔ وزیرستان میں اس وقت یہ بھنبھناہٹ لوگوں کی زندگیوں کا حصہ بن گئی ہے۔  وہ سوتے ہیں تو سر پر ڈرون کی آواز  آتی ہے، بازار میں ہوتے ہیں تو   ’بُھنگانہ’ صاف نظر آتا ہے۔ ایک وقت میں چھ چھ ڈرون فضا میں نظر آرہے ہوتے ہیں۔ یہ بذات خود ایک ذہنی پریشانی کا باعث ہے   لیکن اصل مسئلہ یہ ہے کہ یہ ڈرون کبھی بھی آگ اگل سکتے ہیں۔ اس کا کوئی مقام، وقت، وجہ یا خاص ہدف نہیں ہے۔

17 مارچ 2011، صبح  تقریباً دس بجے کے قریب  دتہ خیل کے علاقے میں ایک قبائلی جرگہ، جو کہ قبائلی زندگی کا سب سے اہم ادارہ ہے، جاری تھا۔ قریباً چالیس سے کچھ اوپر لوگ  وہاں دو گروہوں میں صلح کرانے بیٹھے تھے، جرگہ کا مقامی انتطامیہ کو دس دن پہلے سے پتہ تھا چناچہ قبائلی بڑے، ملک، خاصہ دار یعنی حکومتی ادارے کے نمائندے بھی موجود تھے جو اس مجمع کے  پرامن ہونے کے لیے ایک  سرکاری سند تھی ۔  کرومائٹ کی کان کا یہ معاملہ کچھ  گرما گرمی کی طرف تھا کہ  اچانک ایک تیز سرسراہٹ سی سنائی دی  اور اس کے بعد ایک زور دار دھماکہ ہوا۔  عینی شاہدین کے مطابق فضا میں موجود ڈرون نے ایک میزائل فائر کیا تھا۔ اس حملے میں کوئی  42 لوگ مارے گئے اور 14 زخمی۔  مرنے والے اکثر لوگوں کے بارے میں یہ مصدقہ  اطلاع ہے کہ ان کا کوئی تعلق کسی  دہشت گرد تنظیم سے نہیں تھا۔ یعنی وہ عام شہری تھے۔ ایک قبائلی  سردار   داؤد خان کا بیٹا ، نور خان،  سانحے کے وقت  پانچ گھنٹے کی مسافت پر تھا۔ وہ واپس آیا تو اپنے  باپ کا  کفن میں لپٹا، جلا ہوا جسم   پایا۔ داؤد خان اس علاقے کا   ایک بڑا سردار تھا۔ اپنے علاقے والوں کے ساتھ ساتھ  گھر والوں کا  بھی سہارا تھا۔  کچھ یہی احوال  حاجی ملک بابت کا تھا جن کا اس ڈرون حملے میں انتقال ہوا۔ ان کا بیٹا خلیل خان  بتاتا ہے کہ مرنے والے کئی  قبائلی بڑوں میں سے پندرہ  تو صرف اسی کے  وزیری قبیلے سے تھے۔

اسی طرح 15 جون 2011 کو  امریکی ڈرون طیارے نے ایک گاڑی  ، جو کہ میرانشاہ اور سرکوٹ کے بیچ میں سفر کر رہی تھی، پر تقریباً چھ میزائل داغے اور پانچ لوگوں کو مار دیا۔  The bureau of investigative journalism کے مطابق پانچوں کے پانچوں لوگوں کو بعد میں  نام سے شناخت کیا گیا اور وہ پانچوں بھی  عام شہری تھے۔  کون لوگ تھے وہ؟ ایک  فارمیسی والا  عتیق الرحمان اور ایک اس کا طالبعلم ملازم ارشاد، ایک آٹو پارٹس کا بیوپاری عمر، ایک واپڈا کا ڈرائیور اکرم اور  اس کا  طالبعلم کزن شیرزادہ۔ یہ ہیں وہ ‘دہشت گرد ‘جن  کو مارنے کے لیے  چھ  Hellfire میزائل داغے گئے اور جب  عمر خان نے گاڑی سے باہر چھلانگ لگا دی تو آخری میزائل  نے اس کو بھی   قتل کر ڈالا۔

یہ صرف دو واقعات ہیں اور ان میں مرنے والے شہریوں کی تعداد پچاس تک پہنچ  جاتی ہے۔  ایک مہینے میں چھ حملے، ایک سال میں درجنوں  حملے اور  ہر حملے میں کئی ہلاکتیں۔کچھ عرصہ پہلے کی اطلاعات کے مطابق مرنے والے صرف بچوں ہی کی تعداد  178  ہے۔ اس کے باوجود جب  امریکی وزارت دفاع یہ کہتی ہے کہ مرنے والے شہریوں کی تعداد دس سے بھی کم ہے تو  پہلا سوال لازماً یہی ذہن میں آتا ہے کہ یہ کوئی اور گنتی گن رہے ہیں کیا؟ جواب اس کا ہے جی ہاں۔  امریکی وزارت دفاع کے مطابق کسی بھی حملے میں مارا جانے والا  ہر وہ مرد جو کہ جنگ لڑ سکتا ہے وہ جنجگو کی فہرست میں آئے گا ، الا یہ کہ اس کی موت کے بعد اس بات کا ٹھوس ثبوت مل جائے کہ  وہ ایک شہری تھا۔  امریکی حکومت کی طرف سے آج تک کوئی ایسی  کوشش نہیں کی گئی جو  ان حملوں میں مرنے والوں کے بارے میں  یہ  پتہ  لگانے کے بارے میں ہو کہ آیا وہ واقعی دہشت گرد تھے بھی کہ نہیں۔ اور ایسا کرنا سیاسی طور پر اوبامہ  کی صدارت کے لیے خودکشی کے مترادف ہو گا۔

باراک اوبامہ نے اس بات کو کبھی چھپانے کی کوشش نہیں کی کہ وہ ڈرون کو  زمینی  یا فضائی فوج پر زیادہ ترجیح  دیتا ہے۔  اس کی وجہ ایک تو یہ ہے کہ ڈرون اگر گر بھی گیا، اور گرتے ہی رہتے ہیں، توبھی  کسی فوجی کا قید میں چلا جانا یا مر جانا  اس سے کہیں  زیادہ عوامی ردعمل  کا موجب ہو گا۔ دوسری  بات یہ کہ گوانتانامو  جیل کا معاملہ بھی باراک اوبامہ کے لیے سانپ کے منہ میں چھچھوندر جیسا ہو گیا ہے۔ اس لیے مزید قیدی بنانے سے بہتر ہے کہ ان کو ٹھکانے لگا دیا جائے۔  لیکن  یہ سب تو ظاہر ہے  کہ  پوشیدہ وجوہات ہیں۔ اصل وجہ جو  اوبامہ، اس کی انتظامیہ  بالخصوص اس ڈرون جنگ کا  کرتا دھرتا  جان برینن  وغیرہ بتاتے ہیں وہ یہ ہے کہ  ’ہمارے ڈرون طیارے دہشت گرد اور عام شہری میں فرق کرنا جانتے ہیں’ یا ‘ہم ہر ممکن کوشش کرتے ہیں کہ ڈرون حملوں میں   عام شہریوں کا نقصان نہ ہو’ یا وہ جملہ  جو سب سے زیادہ  کہا جاتا ہے کہ ‘ہمارے  میزائل Pinpoint Precision پر کام کرتے ہیں’۔

اس    نشانہ بازی کی سوئی کی نوک  کے برابر  درستگی کے بارے میں   IISI  نامی کمپنی نے  ہرجانے کے دعویٰ میں  عدالت  کو   بتایا کہ    ” Netezza  کمپنی نے ہمارا سوفٹوئیر  Geospatialغیر قانونی طریقے سے اور عجلت میں   reverse engineer کر کے سی آئی اے کو بیچا اور انہوں نے یہ جاننے کے باوجود کہ یہ  سوفٹوئیر کئی میٹر تک غلط  جگہ بتا تا ہے، اسے خرید لیا”۔  چھوٹی سی گاڑی پر چھ  Hellfire میزائل مارنے کی ضرورت ایسے ہی نہیں پڑتی۔ اس کے  علاوہ ٹریکنگ چِپس بھی استعمال کی جاتی ہیں جو  زمین پر موجود   امریکہ کے خریدے ہوئے لوگ  مشکوک لوگوں کے  ٹھکانوں پر ڈال دیتے ہیں اور وہ چِپ  ڈرون   کی رہنمائی کرتی ہے۔  اپریل 2009 میں 19 سالہ  حبیب الرحمان  کو   مبینہ  طور  پر TTPنے  گولی  مار دی۔  قتل ہونے سے پہلے اپنے ویڈیو پیغام میں حبیب نے کہا کہ اسے  یہ پتہ نہیں تھا کہ یہ CIAکا کام ہے، اسے تو چپس پھینکنے کے 122 ڈالر دئیے گئے تھے اور کہا گیا تھا کہ اگر تم کسی عرب گھر میں یہ چپ ڈالنے میں  کامیاب ہو گئے تو  بارہ ہزار  ڈالر  ملیں گے۔  اس نے کہا کہ میں نے اندھا دھند وہ چپس ادھر ادھر پھینکنا شروع کر دیں ، میں جانتا تھا کہ لوگ میری وجہ سے مر رہے ہیں مگر مجھے پیسے چاہیے تھے”۔ تو یہ ہے  Pinpoint precision کی روداد!

شروع شروع میں یہ ڈرون حملے  کسی ایک شخص معین پر ہوتے تھے۔  مثلاً  بش انتظامیہ کے دور میں نیک محمد   پر جو حملہ ہوا تھا وہ   Personality strike تھا۔  باراک اوبامہ نے اقتدار میں آنے سے پہلے ہی یہ بات واضح کر دی تھی کہ     وہ  اور اس کی ٹیم ڈرون حملوں کو مزید آگے بڑھائیں گے۔ یہ پروگرام  ایسے آگے  بڑھا کہ اب سی آئی اے کے یہ ڈرون اڑانے والے اگر  کہیں بھی محسوس کریں کہ کوئی مشکوک سرگرمی ہو رہی ہے تو   اکثر و بیشتر  ان کو  حملہ کرنے کے لیے صدر سے اجازت لینے کی ضرورت نہیں ہے۔  جرگہ پر حملہ اسی کا شاخسانہ ہے،  اکرم خان کی گاڑی اسی لیے تباہ کی گئی، جنازوں ،شادیوں  اور دوسرے اجتماعات  پر  بھی حملے اسی Signature Strike کے زمرے میں آتے ہیں۔ یعنی  اگر کوئی صورتحال کسی پہلے سے متعین   Signature پر پورا اتر رہی ہے تو  ڈرون اڑانے والا حملہ کرنے کا مجاز ہے۔  وہ کیا قواعد ہیں جن کی بنیادپر یہ فیصلہ ہوتا ہے ، یہ ایک راز ہے۔   اب تو یہ بات مذاقاً کہی جاتی ہے کہ جہاں  CIA کو تین لوگ اچھل کود کرتے نظر آتے ہیں وہ ایک  Hellfire داغ دیتے ہیں۔

ڈرون طیارے بغیر پائلٹ کے نہیں اڑتے، بس ان کے پائلٹ  طیارہ میں نہیں بیٹھتے۔  وہ  ہزاروں میل دور نیواڈا میں بیٹھے ہوتے ہیں۔ کل کے ایف سولہ اڑانے والے آج Predator اور Reaper اڑا رہے ہیں۔ ایک بڑے سے کنٹینر میں ایک ٹیم بیٹھی ہوتی ہے جس میں سے دو پائلٹ ہوتے ہیں۔  ان کے سامنے بالکل جہاز ہی کے انداز میں مختلف آلات لگے ہوتے ہیں۔ دو سکرینوں پر  جہاز کا بیرونی اور نیچے کا منظر دکھائی دیتا ہے۔  بالکل ایک ویڈیو گیم کا سا سماں ہوتا ہے۔  F-16 کی کمر توڑ پرواز  سے یہ  پرواز اگر ویسے ہی  ’گھر جیسا آرام ‘نہیں تھا تو ڈرون اڑانے والوں کے لیے اس قتل کی سنگینی کو کم سے کم رکھنے کے لیے   اس قتل کو Bug splat یعنی مکھی مارنا کہا جاتا ہے۔  یعنی  مرنے والا جو بھی ہو  کم از کم انسان کہلانے کے لائق نہیں۔  اوبامہ کی اس جنگ میں  حملوں  کی زیادتی کی وجہ سے پائلٹس کی اتنی کمی ہو گئی ہے کہ اب  امریکی فضائیہ اپنے کیڈٹس سے بھی یہ کام لے گی۔ اس پر  طرہ یہ کہ اب  ان کی حوصلہ افزائی کے لیے  ان کو بہادری کے تمغے  بھی دئیے جا نے کا  پروگرام رو بہ عمل ہے۔

اس سارے معاملے میں  پاکستان اور اس کے عوام کا کیا کردار ہے؟  ہم نے مضمون کے آغاز میں ملوک الطوائف  کا  ذکر کیا تھا۔   پاکستان  کی حکومت کا کردار  اس معاملے میں ایسا ہی منافقانہ ہے۔   آنکھ اوجھل پہاڑ اوجھل کے مصداق اس علاقے سے ویسے بھی خبریں نہیں آتیں، اوپر سے ہمارے سابق وزیر اعظم صاحب وکی لیکس کے مطابق یہ کہتے ہوئے پائے گئے کہ ‘آپ اپنا کام جاری رکھیں گے، ہم پارلیمان میں آواز اٹھائیں گے اور پھر خاموش ہو جائیں گے”۔اپنے ملک کی عوام کو اس طرح درندوں کے حوالے کرتے کم ہی دیکھا گیا ہے۔ وزیرستان کی عوام کے آگے CIA کا کنواں اور پیچھے TTP کی کھائی ہے۔  وہ اپنے مخصوص محل وقوع  کی وجہ سے اس وقت  زمین کی پشت پر بد ترین مصیبت  میں ہیں۔ اور اس صورتحال میں انہیں دھکیلنے والے کوئی اور نہیں ان کے اپنے ہموطن ہیں۔

ہمارے  نام نہاد دانشور اکثر و بیشتر یہ کہتے ہوئے پائے گئے ہیں کہ ہم امریکہ کا ڈرون مار کے خود کہاں جائیں گے؟ اس کے جواب میں یہی کہا جاسکتا ہے کہ ان کا اپنا بچہ مرتا کسی ایسے حملے میں تو  پھر پوچھتے  ان  سے۔  ہر وقت ڈرون کی بھنبھناہٹ، اس کی ہمہ وقت موجودگی، اس کا کسی بھی مجمع پر حملہ کر ڈالنا ، اس حملہ کے نتیجے میں مدد کو آنے والوں کو بھی نشانہ بنانا،اپنے پیاروں ، اپنے  بچوں کی مسخ شدہ جلی ہوئی لاشیں ، اور کبھی صرف ان کے جسم کے ٹکڑے  ہی دفنا پانا۔   یہ سب وہ باتیں ہیں جو  انور بیگ اور خورشید ندیم جیسے  یہ ڈرائنگ روم کے دانشوروں کے لئے محسوس کرنا ان کے بس سے باہر ہے۔

کیا ہم ڈرون طیارے گرا سکتے ہیں؟    تو اس کے جواب میں پہلی بات تو  یہ  کہ پوری دنیا جانتی ہے کہ یہ ڈرون طیارے پاکستان کی اپنی  سرزمین سے اڑتے ہیں تو  ہماری فضائی حدود کی خلاف ورزی تو کوئی ہے ہی نہیں، رضا مندی  ہی رضامندی ہے۔  بلکہ ہمارے مقتدر حلقے تو ڈرون ٹیکنالوجی  مانگتے بھی رہے ہیں کہ جی ہمیں بھی تو دکھائیں۔     ڈرون مارگرانا کوئی مشکل کام نہیں ، لیکن مسئلہ یہ  ہے ہی نہیں کہ ہم مار سکتے ہیں کہ نہیں، مسئلہ یہ ہے کہ ہم مارنا چاہتے ہیں کہ نہیں۔   ہمارے نئے نویلے وزیر اعظم صاحب نے فرمایا ہے  کہ ‘ڈرون پر تحفظات ہیں’۔ ان کے اس سے بھی نئے نویلے  مشیر  خارجہ  نے فرمایا کہ  ’تمام صلاحیتیں بروئے کار لائی جا سکتی ہیں’۔  نجانے یہ باتیں کہہ کر وہ کس کی تسلی کرنا چاہتے ہیں ورنہ  صاف نظر آرہا ہے کہ  یہ  بھی  ’اِب کے مار’ والے لوگ ہیں۔  AfPak ریجن کے لیے امریکہ کے نئے  نمائندہ   جیمز ڈابنز سے جب ہمارے ملک کے وزیر اعظم نے کہا کہ ڈرون حملے بند کر دیجیے تو اس نے ایک  یک لفظی جواب  جو دیاوہ  تھا “نہیں” اور ہماراردعمل  تھا ،’جی اچھا’۔ معذرت کے ساتھ ، یہی ڈرون اگر کوئی بیکری والا اڑا رہا ہوتا  اور اس نے  یہ ‘نہیں ‘ بولا ہوتا  تو  اس کے ساتھ یہ کیا سلوک کرتے وہ ہم اچھی طرح جانتے ہیں۔

دتہ خیل میں مرنے والے داؤد خان کے بیٹے نور خان  نے پاکستانی وکیل شہزاد اکبر سے را بطہ کیا جو کہ  درجنوں دوسرے خاندانوں کے  لیے پاکستانی عدالتوں میں ان ڈروں حملوں میں مرنے اور زخمی ہونے والوں کے لیے عدل  مانگ رہے تھے۔   چند ماہ قبل پشاور ہائیکورٹ نے کیس کے فیصلے میں ڈرون حملوں کو غیر قانونی قرار دے دیا ۔  پاکستان کی پارلیمنٹ پہلے ہی ان حملوں کو نا جائز قرار دے چکی ہے۔  عمران خان نے پہلا مطالبہ  جو اس حکومت سے کیا ہے وہ یہی ہے کہ ڈرون حملوں کو رکوا دو ہم تمہارا ساتھ دیں گے۔ پاکستان کی حکومت کے پاس اب   ہر طرح کا اختیار ہے کہ وہ ان حملوں کو  ایک دم رکوا دے  لیکن ان کا پھر بھی ایسا نہ کر نا  سیدھا سیدھا اشارہ کرتا ہے  کہ یا تو ملی بھگت  ہے یا کردار کی کمی، یا  کردار کی کمی کی وجہ سے ملی بھگت!

جب اندلس  کے نا عاقبت اندیش حکمرانوں کے لیے سانس لینا دوبھر ہو گیا  اور  الفانسو ان کی  جڑوں میں بیٹھ گیا تو پھر انہوں نے مدد کے لیے   سمندر پار سے  یوسف بن تاشفین کو بلایا جس نے ایک ہی حملے میں الفانسو کا ایسا صفایا کیا کہ اگلے چار سو سال اندلس میں پھر اسلامی پرچم لہرانے لگا۔  ہم جانتے ہیں کہ پاکستان کے حکمرانوں کے ہاتھ سے معاملات نکل چکے ہیں۔ یہ اب  اپنی مرضی سے  ایک روٹی  بھی نہیں خرید سکتے۔  تو ایسے وقت میں  کسی یوسف بن تاشفین کو نہ سہی، اپنی عوام کو ہی آواز دے لیں۔  ہمیں اصل معاملات سے آگاہ کریں۔  اس بات سے آگاہ کریں کہ مشرف نے جب ہمیں اس نا پاک اور نا مراد جنگ میں دھکیلا تھا تو کیا شرائط طے کی تھیں؟ اس جنگ میں پاکستان اور اس کے وسائل کی شمولیت کے parameters کیا تھے؟  پھر   وہ کیا وجہ ہے کہ  ہمارے شہروں میں اسلامی نام والی تنظیموں کے دھماکے کی ایک ایک لمحے کی خبر دکھائی جاتی ہے لیکن امریکہ کے ان ڈرون حملوں کی کوئی ایک ویڈیو بھی نہیں آتی ۔ کیوں ہم اپنے شہروں میں مرنے والے  شہریوں کی تعداد، علاقے ، حتیٰ کہ مسالک تک سے آگاہ ہیں لیکن  دتہ خیل، سرکوٹ ، میرانشاہ اور ڈامہ ڈولہ کے ان Hellfire میزائل میں مرنے والے ‘دہشت گردوں’ کی اصلیت سے نا واقف ہیں۔  اگر آپ  عوام کو اعتماد میں نہیں لیں گے تو  یہ معاملہ زیادہ دن چلنے والا نہیں ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ  وہ وقت دور نہیں جب یہ Predator اور Reaper کراچی، ملتان، رحیم یار خان،  کوئٹہ ، لاہور، ایبٹ آباد  اور اسلام آباد  کی  فضاؤں میں بھی ایسے ہی نظر آئیں گے۔  لیکن ایسے وقت میں نجانے کیوں مجھے یقین ہے  کہ ہمارے یہ پٹھان بھائی ہمیں ایسے نہیں چھوڑیں گے جیسے ہم نے انہیں چھوڑ رکھا ہے۔  اللہ ہمارے ان بھائیوں اور بہنوں کی حفاظت کرے۔ آمین!

اور وہ رخصت ہو گئی

Posted in Personal by baigsaab on April 27, 2013

جویریہ چلی گئی! ساڑھے چار سال تک جس فون کال سے میں ڈرتا رہا، جب وہ آئی تو میں اس سے اسی طرح بے خبر تھا جیسے انسان  اپنی موت سے بے خبر ہوتا ہے۔ جویریہ میری بیٹی تھی۔ ساڑھے چار سال کی میری ننھی سی پیاری سی گڑیا۔ جسے جن ہاتھوں سے اٹھا کر میں گھر میں لایا تھا، انہی ہاتھوں سے اس کو قبر میں اتارنا پڑا۔ لیکن یہ مضمون اس لیے نہیں لکھ رہا کہ مجھے نعوذ باللہ  اپنی تقدیر پر کوئی گلہ ہے، یا ہمدردیاں سمیٹنا مقصود ہے۔ الحمدللہ  اللہ نے  لوگوں کے دل ہمارے لیے اتنے نرم کردئیے ہیں کہ ہم سے تو یہی محبت نہیں سنبھالی جا رہی۔  یہ مضمون صرف ان ساڑھے چار سالوں کی ایک چھوٹی سی کہانی ہے، جن میں میں نے اور جویریہ کی ماں نے کئی زندگیاں گذار لیں۔ جو بوجھ کئی  مہینے سے میرے دل پر ہے اس کو کاغذ  پر منتقل کرلینے سے شاید میرے دل کو کچھ قرار آ جائے اور شاید میں ان لوگوں کا شکریہ ادا کر سکوں جن سے تشکر کا اظہار کرنا مجھ پر قرض ہے۔

 جویریہ کو پیدائشی طور پر سانس کی تکلیف تھی ۔ پیدائش کے وقت پھیپھڑوں میں پانی بھر جانے کی وجہ سے اس کو پیدائش کے فوراً بعد ہی انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں رکھنا پڑا۔ وہیں  ہم پر یہ عقدہ کھلا کہ گائناکالوجسٹ کی غفلت کی وجہ سے یہ کیس  اتنا خراب ہوا  ورنہ اس کو بہتر طریقے سے ہینڈل کیا جا سکتا تھا۔ بہرحال، اس دوران ہمارا تعارف ڈاکٹر فریدہ سے ہوا ،جو ہر لحاظ سے بچوں کی ایک بہت اچھی ڈاکٹر ہیں۔  جویریہ کے نقوش پیدائش کے وقت عام پاکستانی بچوں سے مختلف تھے، کچھ چینی سے نقوش تھے۔ دبی ہوئی ناک،  انتہائی گورا رنگ، تھوڑی باہر کو نکلی ہوئی آنکھیں ۔  ڈاکٹر فریدہ  نے ہمیں یقین دلایا کہ جویریہ ایک ‘نارمل’ بچی ہے اور یہ کہ یہ تھوڑا سا عرصہ اس کو مشکل میں گذارنا پڑے گا۔ ایک پورا ہفتہ ہم   اولاد کی نعمت مل جانے کے باوجود ایسے گذارتے رہے جیسے کسی  کا  حج کا ٹکٹ اور ویزہ سب لگا ہو اور جہاز چلنے بند ہو جائیں۔ جو والدین اس طرح کی کیفیت سے گزر چکے ہیں وہ سمجھ سکتے ہیں کہ میں کیا کہہ رہا ہوں۔

ہسپتال سے فارغ ہونے کے بعد جب اس کو گھر لے کر آئے تو مستقل طور پر اس کی سانس لینے کی آواز سے ہم پریشان ہوتے تھے۔ اس کیفیت کو ‘اسٹرائیڈر’ کہتے ہیں اور یہ عمر کے ساتھ ساتھ بہتر ہو جاتی ہے۔  کہیں جاتے آتے تو لوگ مڑ مڑ کر دیکھتے تھے کہ  یہ لوگ اس ‘بیمار’ بچی کے ساتھ کہاں آگئے۔  اس کیفیت میں ہم مختلف ڈاکٹروں کے چکر لگاتے رہے، کوئی ڈاکٹر جو ہمارے سوالوں کا جواب دے دے۔ کافی ڈاکٹروں کے چکر لگانے کے بعد، جن میں کراچی کے نامور سرجن اور بچوں کے مشہور ڈاکٹر بھی شامل ہیں، ہماری ملاقات ریحان بھائی سے ہوئی۔  انہوں نے جویریہ کا اچھی طرح معائنہ کرنے کے بعد ہمیں بتایا کہ  یہ کسی صورت ڈاؤنز کا کیس نہیں  ہے۔ (ڈاؤنز کے بارے میں آگے بات  آ رہی ہے)۔  مزید تشفی کے لیے انہوں نے ہمیں اس کا کروموسوم کا ٹیسٹ کرانے کہا  جو کہ بعد میں  نارمل آیا۔ ڈاکٹر فریدہ اور ڈاکٹر ریحان، وہ دو لوگ ہیں جنہوں نے ہماری ہر اس طرح سے مدد کی جس طرح کوئی ڈاکٹر کر سکتا ہے، ریحان بھائی نے تو اس سے بھی زیادہ۔  دونوں ہماری باتوں کو توجہ سے سنتے تھے۔ خاصا وقت دیتے تھے۔ اگر ہم کوئی سوال کرتے تھے تو  اس کا جواب اچھی طرح دیتے تھے ، ٹالتے نہیں تھے۔ جویریہ کی پوری زندگی میں ہم ان دو افراد کے ساتھ کافی وابستہ رہے اور ان دونوں  کے اس ہمدردانہ رویہ کی وجہ سے ہمارا دل ڈاکٹروں  کی طرف سے کافی صاف رہا۔ دو سال کی عمر تک جویریہ کئی دفعہ ہسپتال میں رہی، ایک دفعہ آئی سی یو بھی ہو کر آئی۔  تاہم اس دوران ہم لوگ کافی حد تک اس کے ساتھ زندگی گذارنے کے عادی ہو گئے تھے۔  ہمارے گھر میں کئی  طرح کی مشینیں آگئیں۔ ایک سکشن مشین بھی لی گئی جس کا استعمال یہ تھا کہ بچی کے حلق میں ایک نالی ڈال کر بلغم کو کھینچ کر باہر نکالنا ہوتا تھا۔  یہ ایک صبر آزما کام تھا اور مجھ سا ڈھیٹ بھی یہ کام کرنے سے  گھبراتا تھا، لیکن میری اہلیہ نے اس موقع پر بھی مجھ سے بڑھ کر ہمت دکھائی اور کئی دن تک وہ یہ کام دن میں متعدد دفعہ کرتی رہیں۔

زندگی پھر کبھی ویسی نہ رہی۔ ہمارے معمولات کافی تبدیل ہو چکے تھے۔ آنا جانا ، ملنا ملانا کافی حد تک کم ہو گیا تھا۔ کسی تقریب میں جانے سے قبل پہلے ہمیں دیکھنا پڑتا تھا کہ تقریب کتنی دیر کی ہے، کس کی ہے، کیا وہاں سردی ہوگی، کیا ہوا ہو گی، کیا ہم تقریب درمیان میں چھوڑ کر آسکیں گے۔  غرض ہماری ، خاص طور پر میری اہلیہ کی، تفریح اور آرام مکمل طور پر جویریہ کی صحت اور طبعیت کے تابع ہو گئے۔  ہم کہیں جاتے تھے تو باہر کے گرد و غبار اور شور دھوئیں کی وجہ سے   اے سی چلاتے تھے، لیکن چونکہ جویریہ کو خنکی سے بھی مسئلہ ہوتا تھا ، چنانچہ میری بیگم کو اسے گود میں لے کر پیچھے بیٹھنا پڑتا تھا۔   ناواقف سمجھتے کہ شاید ہماری ناراضگی اتنی بڑھ گئی ہے کہ ہم ساتھ نہیں بیٹھتے ، اور واقف سمجھتے کہ میں اپنی قدامت پسندی کی وجہ سے ایسا کرتا ہوں۔  ہم نے چاول کھانا تقریباً بند کردئیے اور کھاتے بھی تھے تو اس سے چھپ کر کیونکہ چاول اس کے لیے ناموزوں تھے  اور یہ  چاولوں کی عاشق۔

پھر جویریہ کی زندگی کا سنہرا دور آیا، اور یہ وہ دور ہے جس کی یادیں میرے دل میں  نقش  ہیں۔ اس میں وہ ہنستی ہے، ہنساتی ہے، پیار کرتی ہے، ناز اٹھواتی ہے، نخرے دکھاتی ہے۔ یہ وہ دور ہے جب میں نے اس کے لیے کراچی کے مہنگے سے مہنگے کپڑے لا کر دیے۔  جب ہم لوگ باہر کھانا کھانے جاتے تھے اور جویریہ گاڑی کی پچھلی سیٹ پر دونوں اگلی سیٹوں کے بیچ میں  کھڑی ہوجاتی اور پورے راستے سونے کا نام  نہ لیتی۔  جب اس کی شرارتوں سے تنگ آکر میں  کہہ دیتا کہ میں اب کھانا کھانے باہر نہیں جاؤں گا۔  اور کچھ دن بعد ہم  پھر نکل کھڑے ہوتے۔  اس وقت میں بھی ہم کو اس کی نگہداشت کرنی تو پڑتی تھی لیکن نسبتاً کم۔ اس کی سانس کی آواز اب بھی آتی تھی لیکن صرف کسی نئے بندہ کو کہ ہم تو عادی ہو گئے تھے۔  غرض اس  نے کافی حد تک اپنی پیدائشی کمزوری پر قابو پا لیا تھا۔  اسی دوران ہم نے اس کی اسکولنگ، بلکہ صحیح معنوں میں ، ہوم اسکولنگ شروع کرا دی جہاں اس  کا خیال اور بھی زیادہ رکھا جانے لگا۔  ساتھ ساتھ اس کو  نیبولائز کرنا پڑتا تھا لیکن کبھی کبھار۔

جب وہ تین سال کی ہوئی تو اس کی ماں ، جو گزشتہ ایک سال سے مجھے مستقل  کہے جا رہی تھی، نے مجھے مجبور کیا کہ میں اس کا چیک اپ کرواؤں کہ وہ بولتی کیوں نہیں۔  میں ٹالتا رہا کہ بچے کبھی کبھار پانچ سال تک بھی نہیں بولتے لیکن اس کا اصرار بڑھتا گیا۔ ہمیں اس کا سماعت کا ٹیسٹ کرانے کا کہا گیا۔  اور جب رزلٹ آیا تو میرے پیروں کے نیچے کی زمین  نکل گئی۔ رپورٹ میں درج تھا کہ اس کی سماعت ایک کان سے ہوتی ہی نہیں اور دوسرے کان سے کم ہے۔  ایک اور جگہ یہی ٹیسٹ کرایا تو وہ پہلے سے بھی عجیب آیا کہ اس میں دونوں کانوں میں محض بیس فیصد سماعت ثابت ہوئی تھی۔  ہمارے لیے یہ حیرت کی بات یوں تھی کہ ہم نے کبھی اس طرح کا معاملہ محسوس نہیں کیا تھا۔ وہ میرے ساتھ ساری نظموں پر  ایکشن کرتی تھی  اور اس سے پہلے کبھی مجھے یہ شک نہیں ہوا تھا کہ ایسا ہو سکتا ہے۔  ہم نے، بلکہ اگر صحیح کہا جائے تو میں نے، اس وقت ایک فیصلہ یہ کیا کہ فی الحال اس کو سماعت کا آلہ نہیں لگائیں گے،  کیونکہ اس ٹیسٹ کا ایک مسئلہ یہ تھا کہ اس میں نزلہ کی کیفیت بالکل نہیں ہونی چاہیے اور جویریہ کا تو  مسئلہ ہی دائمی نزلہ کا تھا۔ تو میں نے اپنے مشاہدے کو  بنیاد بنا کر اس کو آلہ نہیں لگایا۔ ہم نے جویریہ کی زبان کی بندش کو کھولنے کے  لیے اس کی اسپیچ تھراپی کرانی شروع کی۔ یہ وہ مقام ہے جہاں میں نے اپنی زندگی کے چند با ہمت ترین لوگوں کو دیکھا۔

انسانی جسم کے ہر  خلیہ یعنی سیل میں 46 کروموسوم ہوتے ہیں۔  یہ  کروموسوم جوڑوں کی شکل میں ہوتے ہیں  اور ان کروموسوم  میں انسان کے جسم کے متعلق انتہائی اہم اور بنیادی معلومات ہوتی ہیں۔  ان 23 جوڑوں میں سے اکیسواں کروموسوم جوڑا  اگر ذرا سا بھی بگڑ جائے یعنی   اس میں کروموسوم دو سے زیادہ ہو جائیں  تو اس سے جو کیفیت پیدا ہوتی ہے اس کو ‘ڈاؤنز  سنڈروم’ (Down’s Syndrome) کہتے ہیں۔  ڈاؤنز بچے بہت پیارے ہوتے ہیں   اور ان میں کافی بچے بڑے ہونے کے ساتھ ساتھ اپنے آپ کو کافی سنبھال لیتے ہیں لیکن ان کے لیے ایک آزادانہ زندگی گذارنا ایک چیلنج ہوتا ہے۔

ہم  جویریہ کو  پہلے شہید ملت روڈپر واقع  ایک میموریل سینٹرلے جاتے تھے ، پھر اس کو گلشن میں واقع ایک خصوصی تعلیم کے اسکول میں لےجانے لگے۔   دونوں جگہ کافی لوگ اپنے بچوں کو  اسپیچ تھراپی کے لیے لے کر آتے تھے۔ اور ان میں سے  کچھ  بچے ڈاؤنز ہوتے تھے۔  ایک پیاری سی بچی   وہاں آتی تھی جو کہ ڈاؤنز تھی۔ بہت صاف ستھری، بالکل گڑیا جیسی، اس کی ماں اس کو آہستہ آہستہ سہلاتی رہتی۔ کئی دفعہ وہ ماں سے ناراض ہو جاتی لیکن ماں اس کو کچھ کہتی نہیں تھی۔  صرف ایک نہیں، کئی لوگ تھے، ہمت اور سطوت کے  پہاڑ۔ جو ایسی زندگیاں گذار رہے ہیں جن کا  اکثر لوگ تصور بھی نہیں کر سکتے۔ آپ کو اگر لگتا ہے کہ آپ کے بیٹے کا رنگ کم ہے تو جا کر کسی ایسے  گھر میں تھوڑی دیر بیٹھ آئیے۔ اگر آپ سمجھتے ہیں کہ بے اولاد ہونے کی وجہ سے آپ کے ساتھ کوئی ظلم ہو رہا ہے تو پہلے اولاد کے دکھ کو سمجھنے کی کوشش کر کے دیکھ لیں۔  اگر آپ کا کوئی رشتہ دار  یا دوست ٹائم پر نہیں آرہا اور اس کے گھر میں کوئی بچہ ہے جو عام بچوں سے مختلف ہے  تو ان کو شک کا فائدہ ضرور دے دیں کہ  کئی دفعہ محض باتھ  روم لے جانا  اور کپڑے تبدیل کرانا ہی بہت بڑا چیلنج ہو جاتا ہے۔  ایسے والدین کو دیکھ کر ، ان سے بات کر کے، ان کی ہمت دیکھ کر، اپنی چھوٹی سی تکلیف کوئی تکلیف ہی نہیں لگتی تھی۔  ان لوگوں کے سامنے ہم اپنے آپ کو ناشکرے بونے تصور کرتے تھے۔ ان سب کے علاوہ  ایک اور بھی  ہستی تھی جس کو دیکھ کر ہماری ہمت اور بڑھتی تھی اور وہ تھی خود ہماری بیٹی۔

 مجھے یاد نہیں پڑتا کہ اپنی پوری زندگی میں جویریہ نے کبھی کھل کر سانس لی ہو۔  کوئی دن ایسا مجھے تو یاد نہیں ، جب میں نے اس  کی سانس کی آواز نہ سنی ہو۔  اس کو کھانسی اکثر رہتی تھی۔ لیکن اس کے باوجود اس کو ہنسنا آتا تھا۔ خوش رہنا آتا تھا۔ خوش کرنا آتا تھا۔ ہر ملنے والے سے ہنس کر ملنا اور ملنے والے کو مسکرانے پر مجبور کر دینا یہ اس کے لیے کوئی مسئلہ ہی نہیں  لگتا تھا۔  وہ مجھے یا اپنی ماں کو اداس نہیں دیکھ سکتی تھی۔ وہ  ہمیں فارغ بھی نہیں دیکھ سکتی تھی۔ اس کو پڑھنے کا بہت شوق تھا اور  ہمارے گھر کے در و دیوار اس کی نوٹ بک بن چکے تھے ۔ کہیں ڈرائنگ کی مشق تو کہیں گنتی کی۔  چھوٹے بھائی کے ساتھ اس  کا رویہ ویسا ہی تھا جیسا سب بڑی بہنوں کا ہوتا ہے، دشمنی بھری دوستی!

جویریہ کی وجہ سے ہم نے کچھ انتہائی سطحی لوگوں کو بھی دیکھا۔ وہ لوگ جو ڈاکٹری کے معزز پیشے کو معزز نہیں سمجھتے، صرف پیشہ سمجھتے ہیں۔ وہ بھی جو ان چیزوں کے کاروبار میں ہوتے ہیں۔ ان لوگوں کے لیے سامنے والے کے  جذبات کی یا تو کوئی اہمیت نہیں ہوتی، یا ان کے پاس اپنی بات کو اچھے طریقے سے کرنے کا وقت   یا صلاحیت یا دونوں نہیں ہوتے۔ اکثر ڈاکٹر  ذرا سے مختلف بچوں کو مختلف کیٹیگریز میں رکھ کر آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔  وہ بچے کی پرابلم یا بیماری کی تہہ تک پہنچنے کی کوشش کرنے میں اپنا وقت ضائع کرنا نہیں چاہتے  بلکہ مریض کو اپنے ذہن میں موجود  مختلف ڈبوں میں سے ایک میں ڈال دیتے ہیں۔ ان کے پیسے کھرے ہو جاتے ہیں تو وہ آگے بڑھ جاتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ ان کی توجہ موجودہ کیس پر نہیں بلکہ آنے والے کیس پر ہے۔   ایسے لوگ میرے نزدیک اپنے پیشے کے ساتھ انصاف نہیں کرتے۔ ڈاکٹروں کو فیس لینے سے کسی نے نہیں روکا لیکن فیس کو زندگی کا مقصد بنا لینا ایک تکلیف دہ امر ہے۔ اور رہی بات صحت سے متعلق  دوسرے کاروبار، تو وہ بہرحال کاروبار ہی ہیں۔  آلہ سماعت  بیچنے والے کراچی کے ایک بڑے ادارے کے مالک صاحب نے مجھے  کہا کہ حضرت آپ جلد سے جلد آلہ سماعت لگوا لیں ورنہ آج تو آپ کی بیٹی بہری ہے کل کو خدانخواستہ گونگی نہ ہو جائے۔  ا س جملے کی کاٹ کا اندازہ بھلا اس شخص کو کیسے ہوا ہوگا؟ گھر آ کر بھی بہت دیر اس جملے کی گونج میرے دل و دماغ میں رہی۔   ابھی بھی میں یہی سوچتا ہوں کہ کوئی شخص اس قدر آسانی سے اتنا سفاک جملہ کیسے بول سکتا ہے۔ لیکن حقیقت یہی ہے کہ صحت اس ملک میں آسانی سے حاصل نہیں ہوتی، کیونکہ ایسے لوگوں سے یہ  شعبہ اٹا پڑا ہے۔ پھر بھی کچھ لوگ ہیں جو اس شعبے کی عزت کو برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ جیسے ہمارے دونوں  محسن ڈاکٹرز یا میرے کزن  ڈاکٹر  شیخ جنہوں نے جویریہ کے آخری ایام میں ہماری  ہر ممکن مدد اور رہنمائی کی ۔

جویریہ  کی زندگی کے آخری کچھ مہینوں میں مجھے رہ رہ کر اس کی حفاظت کا خیال آتا تھا۔   لگتا تھا کوئی اس کو مجھ سے چھین لے گا۔ ہر سگنل پر، ہر  پارک میں جہاں ہم جاتے تھے، وہاں میں بالکل مزہ نہیں کرسکتا تھا۔ ایک عجیب سی کیفیت تھی جسے میں اپنی  اہلیہ تک سے بیان نہیں کر سکتا تھا۔ جانے کیوں مجھے لگتا تھا کہ یہ اب زیادہ عرصے نہیں رہے گی۔  میری اہلیہ اس بات پر پریشان ہوتی تھی کہ اس کی شادی کیسے ہوگی اور مجھے ایک لمحہ کے لیے بھی اس کی فکر نہیں ہوتی تھی۔ مجھے فکر تھی تو یہ کہ یہ بڑی ہوجائے۔  بظاہر یہ ایک نہ سمجھ میں آنے والی بات تھی کہ ایک ایسی بچی جو اتنے مشکل دور کو نسبتا ً با آسانی گذار آئی ہو  اس کو آگے ایسا کیا خطرہ ہو سکتا ہے  … لیکن ایک چیز مجھے کھٹک رہی تھی۔ کچھ عرصے سے اس کی طبیعت اچانک بہت بگڑجاتی۔ گلا بالکل بند ہو جاتا اور اگر فوراً اسٹیرائیڈ کا انجیکشن یا  گولی نہ ملتی تو حالت بہت نازک ہو جاتی۔  بس یہی وہ بات تھی جو مجھے  بے چین کئے رکھتی تھی۔ میں جویریہ کی پیدائش کے دن سے اس کی  وفات کے دن  تک  اپنی بیوی کی ہر کال ایسے اٹھا تا تھا کہ اس کے ساتھ یا اللہ خیر کی دعا ہوتی تھی۔

اس اتوار کو میں دفتر میں تھا۔ اور میرے موبائل پر  جویریہ کے ماموں کا فون آرہا تھا۔  میں نے سوچا نماز پڑھ کر کال کر لوں گا ، اس لیے کال نہیں اٹھائی ۔ لیکن جب دوبارہ کال آئی تو میں نے کال اٹھائی  ۔ دوسری طرف سے  ایک کہرام پڑا تھا اور اس میں  اس کے ماموں کی چیختی ہوئی گھبرائی ہوئی آواز کہ “فراز بھائی جلدی آئیں جویریہ کی طبیعت بہت خراب ہے”۔  میں فی الفور اپنی گاڑی کی جانب دوڑا ۔ گاڑی میں بیٹھتے ہی میں مجھ پر سکون کی ایسی کیفیت طاری ہوئی کہ مجھے یقین ہو گیا کہ کچھ ہونے والا ہے۔ میں نے اپنے رب سے دعا کی کہ” اے اللہ یہ آپ ہی کی امانت ہے، آپ ہی اس کا خیال کریں ، میں تو کچھ بھی نہیں کر سکتا”۔ ایسی گفتگو میں  پہلے کئی بار کر چکا تھا … لیکن مجھے کبھی بھی ایسی خاموشی محسوس نہیں ہوتی تھی ، جیسی اس دن ہوئی۔

موبائل پر مستقل رابطہ میں رہتے ہوئے پتہ چلا کہ  جویریہ کو وہ لوگ پہلے ایک ہسپتال لے گئے لیکن ان کے پاس نہ قابل ڈاکٹر تھے نہ آلات۔ تو پھر وہ دوسرے ہسپتال لے کر پہنچے اور  وہاں میں پہنچا۔  اس وقت تک وہ بے ہوش ہو چکی تھی۔  پتہ نہیں اس کو میرے چیخنے کی آوازیں آئی ہونگی کہ نہیں۔  بہرحال اس ہسپتال سے بھی یہی جواب ملا کہ اس کو کسی ‘بڑے’ ہسپتال لے کر جائیں۔  وہاں سے ایمبولینس میں اپنی بیٹی کو ڈال کر میں اور اس کی نانی  شہر کے دوسرے کونے پہنچے تو ڈاکٹروں نے کچھ ہی کوشش کے بعد یہ کہہ دیا کہ اب کچھ ہو نہیں سکتا۔  اس سارے وقت میں میں اپنے آپ کو کس طرح سنبھالے ہوئے تھا ، میں نہیں جانتا۔  بالآخر ڈاکٹروں نے ‘انا للہ و انا الیہ راجعون’ کہہ کر میری بیٹی کی رخصتی کا اعلان کر دیا۔

رات چونکہ کافی ہوگئی تھی ، اس لیے  ہم نے اس کی تدفین دوسرے دن کرنے کا ارادہ کیا۔ رات کو سونا اگرچہ ایک مصیبت  تھا لیکن ضروری بھی تھا۔ صبح جب ہم اٹھے تو میں اور میری بیوی دونوں نے ایک دوسرے سے یہ کہا کہ یوں لگ رہا ہے کہ جیسے کوئی پراجیکٹ ختم ہو گیا۔ ایسا لگ رہا تھا کہ کوئی  بہت بڑی ذمہ داری تھی جس سے ہم لوگ عہدہ برآ ہو گئے ہیں۔ جب اس کو تدفین کے لیے لے جا رہے تھے اور میں نے اس کی پیشانی پر بوسہ لیا تو  لگا کہ اس کا سرد وجود گویا وقت میں قید ہو کر رہ گیا ہے۔ اس کی تدفین کے وقت بھی میں کافی مطمئن تھا۔  کیوں  ؟ کیسے ؟ یہ میں نہیں جانتا ۔  اور جب میں دعا کروا رہا تھا تو میری آنکھوں کے سامنے وہ سارے بچے گھوم رہے تھے جن کو امریکی و اسرائیلی درندوں کی گولیاں اور میزائل روزانہ موت کے گھاٹ اتار رہے تھے۔

یہ محض میرے رب کا کرم ہے کہ میں اور میری بیوی دونوں اپنے حواسوں میں ہیں۔ اولاد کی موت پر میں نے لوگوں کو نیم پاگل بلکہ مکمل پاگل ہوتے دیکھا ہے۔  الحمد للہ ! اللہ کا فضل ہے کہ اس نے ہمیں ایمان کی دولت عطا فرمائی ۔ سو ہم جانتے ہیں کہ تقدیر لکھ دی گئی ہے، اس سے ہٹ کرایک  پتہ بھی نہیں گرے گا۔ اب اس بات کا رونا کیسا کہ یہ کس کی غلطی تھی،  کیا میری  اہلیہ  کی جس نے اپنی پوری زندگی اپنی بیٹی کے لیے وقف کردی اور جو اس وقت وہاں موجود تھی۔ کیا اس کے ماموں کی جس بیچارے کے سامنے شاید یہ پہلا ایسا کیس ہوا تھا۔ یا اس نظام کی جس میں شہر میں ہسپتال تو کئی ہیں لیکن قابل عملہ اور آلات ناپید۔

ہمیں سمجھ آیا کہ اولاد ہونا بذات خود کوئی فخر کی بات نہیں بلکہ یہ تو ایک مسلسل ذمہ داری ہے۔ اگر اولاد کی تربیت صحیح نہ کی اور وہ اولاد خدانخواستہ  نافرمانی کے راستے پر چل پڑی تو وہ الٹا وبال بن جائے گی۔  تو اس حساب سے دیکھا جائے تو ہم کافی خوش نصیب رہے۔  ان مع العسر یسراً  بے شک مشکل کے ساتھ آسانی ہے۔  دیکھیں ناں کتنی آسانی ہو گئی ، کہ اب نہ رشتہ تلاش کرناپڑے گا ، نہ پڑھانے کی فکر، نہ کھلانے پلانے کی فکر، نہ ڈاکٹروں کے چکر ، نہ لوگوں کو جواب دینے کی فکر کہ اس کو ہوا کیا ہے، نہ کسی کو یہ باور کروانے کی مشق کہ یہ سب سنتی ہے بس بولتی نہیں۔ بس یوں سمجھ لیں کہ ہم نے اپنے بیٹی کو اچھی طرح پڑھایا لکھایا، بہت اچھا سا لڑکا اس کے لیے دیکھا اور اس کو رخصت کر دیا، شادی کے بعد وہ ایسی جگہ چلی گئی جہاں نہ فون ہے نہ انٹرنیٹ، اور اس کو واپس آنے میں کافی وقت لگے گا۔ اس با ت کا یقین ہے کہ اب وہ اس  ہستی کے پاس ہے جو مجھ سے اور اس کی ماں سے  اسے کہیں زیادہ پیار کرتا ہے، بلکہ پیار تو کرتا ہی ہمارا رب ہے، ماں باپ تو محض ایک ذریعہ ہوتے ہیں۔ اللہ نے اپنے نبی ؐ کی زبان مبارک سے جو ہمیں بشارتیں دی ہیں وہ  سنتے ہیں اور دل کو بہلاتے ہیں کہ بس چند دن اور۔

بے شک ان مع العسر یسراً  کہ ، محض تین ہفتے بعد ہی، اللہ نے ہمیں  ایک اور اولاد دے دی۔  ایک اور بیٹا دیا۔ یہ بھی اس کا کرم ہے۔ ہم شاید جویریہ کی یاد کو بھلا جاتے اگر بیٹی ہی مل جاتی۔ یہ سب اس کا فضل، اس کا کرم، اس کی رحمت، اس کی مرضی، اس کی  مقرر کردہ تقدیر ہے۔ ہمارے پاس اگر کوئی  اختیار ہے تو محض یہ کہ ان گزرتے ہوئے حالات میں ہمارا ردعمل اور نیت کیا ہوتے ہیں۔ ہونا وہی ہے جو لکھا ہوا ہے، لیکن کیا ہم اس پر راضی بھی ہیں؟  مجھے نہیں پتہ کہ اس میں اللہ کی کیا مصلحت تھی کہ اولاد کو اگر واپس ہی لینا تھا تو  عطا کیوں کی تھی یا اتنا بڑا کیوں کیا،   بس یہ وہ مقام ہے جہاں تسلیم و رضا ایک نتیجہ پیدا کرتی ہے اور  ماتم اور نا شکری کے کلمات ایک دوسرا نتیجہ۔ایسا نہیں کہ ہم دونوں آنسو نہیں بہاتے۔ آنسو تو  نبی اکرم ؐ نے بھی اپنے صاحبزادے کی وفات پر بہائے تھے، حضرت یعقوب ؑ کی آنکھیں حضرت یوسف ؑ کے غم میں سفید ہو گئی تھیں۔ اس کو بھول جانا ہمارے بس میں نہیں کہ یہی لگتا ہے کہ یہ سب ایک خواب ہے۔ ایسا ہم نہیں کرسکتے کہ یہ یکسر بھول جائیں کہ ہماری کبھی کوئی بیٹی تھی حالانکہ  شاید اس سے ہمارا غم بہت حد تک کم ہو جائے۔ لیکن یہاں معاملہ یہ ہے  کہ غم کو بھلانا مقصود نہیں ہے بلکہ اس غم کے ذریعے  اپنے رب تک پہنچنے کا راستہ آسان بنانا ہے۔ یہی ہے مومن کی زندگی کا  حال۔ مصیبت پر صبر  اور آسانی پر شکر۔ ہر دو صورتوں میں مقصد اور مقصود صرف ایک،  اور وہ یہ کہ ہمارا رب ہم سے خوش ہو جائے۔  لہٰذا  حضرت یعقوب ؑ کے الفاظ میں ہی  انما اشکوا بثی و حزنی الی اللہ    کہتے ہیں اور اللہ سے  یہی دعا کرتے ہیں کہ وہ ہم کو اپنے فرمانبردار بندوں میں شامل کرلے اور انہی میں ہمیں رکھے۔ آمین۔

میں ابھی تک یہ فیصلہ نہیں کرپایا ہوں کہ میں نے یہ مضمون لکھا کیوں ہے۔ بس مجھے  بہت سوچنے کے بعد یہی سمجھ آیا کہ مجھے اپنے احساسات کو کاغذ پر منتقل کر لینا چاہیے۔ اگر آپ یہاں تک پڑھ رہے ہیں تو بس ایک چھوٹی سی بات چلتے چلتے اور عرض کر دوں کہ   اپنی اولاد پر پیسہ خرچ کرنے سے زیادہ کوشش اس بات کی کریں کہ اس کو بھرپور وقت اور توجہ دیں ۔ اپنی اولاد کو اپنے لیے صدقہ جاریہ بنانے کی کوشش کریں اور اپنے والدین کے لیے خود  صدقہ جاریہ بننے کی۔   اپنے پیاروں کے ساتھ وقت گذارنے میں خوشی محسوس کریں۔  میں نے جویریہ کو آخری دفعہ اس کی نانی کے گھر چھوڑا تھا اور وہ کمپیوٹر پر بیٹھی تھی، میں چپکے سے نکل گیا کہ اگر اس نے نکلتے ہوئے دیکھ لیا تو قیامت ڈھا دے گی۔ آپ ہی بتائیے  کہ  اگر  مجھے پتہ ہوتا کہ یہ میری اس سے آخری ملاقات ہے تو میں کبھی ایسے جاتا؟  وہ پورا دن اس کے ساتھ نہ گذار دیتا؟ اللہ نے ہم سے ہماری تقدیریں اوجھل رکھی ہیں ، ہم نہیں جانتے آگے کیا ہونے والا ہے، لیکن یہ تو کوشش کرسکتے ہیں نا کہ اپنے ہر الوداع کو خوشگوار بنا لیں، کیا پتہ پھر کتنے ہزار سال بعد کس جگہ کیسے ملاقات ہو؟

فحاشی کی ‘تعریف’ میں

Posted in Islam, Rants by baigsaab on September 4, 2012

دنیا کا کوئی ملک ایسا نہیں جہاں کسی نہ کسی وقت کوئی پالیسی بحث نہ چل رہی ہو ۔لیکن پاکستان ان ملکوں میں سے ہے جہاں پالیسی بحث حل یا عمل کے لیے نہیں ٹائم پاس اور تفریح کے لیے ہوتی ہے۔ اس وقت بھی ایک بحث چھڑی ہے۔ یہ نہیں کہ ‘خط’ لکھنا ہے کہ نہیں۔ یہ بھی نہیں کہ پانی سے گاڑی چلانے کے لیے کتنے وزیر چاہییں۔ اور یہ تو بالکل نہیں کہ جمہوریت کے ذریعے عوام سے بہترین انتقام لینے کے بعد اگلے 5 سال کیا کرنا ہے۔ وہ بحث جس کا ہم تذکرہ کر رہے ہیں وہ یہ ہے کہ ‘فحاشی’ کیا ہے؟ جی ہاں۔ فحاشی۔ جسے ہم عریانیت یا جنسیت یا بے ہودگی بھی کہہ سکتے ہیں۔ یہ بحث عدالت عظمیٰ کے حکم پر پیمرا … جو کہ ملک میں الیکٹرانک میڈیا کو کنٹرول کرنے کا ادارہ ہے… اور کچھ مذہبی اور سماجی دانشوروں کے درمیان جاری ہے۔ بحث کیوں ہوئی کیا ہوئی اور کچھ لوگوں کو میڈیا میں فحاشی کیوں نظر نہیں آتی یہ جاننے کے لیے ہم بچوّ بھائی کے پاس گئے۔ بچّو بھائی کون ہیں ۔ بس سمجھ لیں ‘گرو ‘ ہیں ۔ کیا چیز ہے جو انہوں نے نہیں دیکھی۔ اور ان معاملات میں ان کی ‘نظر’ بہت وسیع ہے۔ جب ہم بچوّ بھائی کے پاس پہنچے تو وہ کسی لبرل دانشور (جو کہ ہر لبرل ہوتا ہے) سے بات کر رہے تھے جن کو فحاشی نظر نہیں آرہی تھی ۔ بچوّ بھائی چاہتے تھے وہی انجیکشن قاضی صاحب کو بھی لگا دیں تاکہ یہ بحث ختم ہو۔ بچو بھائی کہہ رہے تھے۔

” جی تو میرے بھائی آپ مجھے وہ میڈیا دکھا دیں گےجس میں آپ کو کو ئی برائی نظر نہیں آتی؟ اچھا تو چلیں میرے گھر چلتے ہیں۔ بس یہ 5 منٹ کے راستے پر ہے گھر میرا۔۔ ارے رے سامنے دیکھئے بھائی کیا کر رہے ہیں؟ اوہ اچھا آپ وہ بورڈ دیکھنے لگ گئے تھے جس میں کوئی لباس خاتون میں سے جھانک رہا تھا۔ جی جی آپ کی نیت پر شک نہیں کر رہا توبہ کریں ۔ جی ویسے تو وہ بورڈ بھی آپ نے بہت غور سے دیکھا تھا جس میں موبائل نے لڑکی کے ساتھ تصویر کھنچوائی ہے ۔ ظاہر ہے ساری خوبیوں کو بغور دیکھنا پڑتا ہے، جی جی موبائل کی خوبیاں اور کیا۔ دیکھیے منہ تو بند کر لیں لوگ کہیں گے کبھی لڑکی نہیں دیکھی ۔ اچھا دیکھیں گھر آگیا۔

جی تو حضرت آپ نے وضو کر لیا؟ ارے وضو تو کریں اتنے پاک میڈیا کو بغیر وضو دیکھیں گے کیا؟ چلیں خیر لیکن یہ ‘آداب’ کے خلاف ہے۔سب سے پہلے خبروں کا چینل دیکھتے ہیں۔ یہ کیا؟ یہ لڑکی اتنا تیار ہو کے کیوں بیٹھی ہے کیا یہاں سے سیدھا اپنی شادی میں جا رہی ہے؟ اچھا معذرت ہم تو خبریں دیکھ رہے تھے لڑکی کے تیار ہونے میں تو کوئی فحاشی نہیں۔ خیر تو یہ تو کچھ ضروری خبر لگ رہی ہے۔ اچھا وزیر اعظم کو خط لکھنا پڑے گا؟ لیکن یہ ساتھ میں گانا کیوں ہے؟ اوہ اچھا خبر کا اثر زیادہ ہوتا ہے۔ اور یہ لڑکی کے چہرے اور آستینوں کا رنگ ایک کیوں ہے؟ او ہ اچھا آستینیں ہیں ہی نہیں ۔ ہاں لیکن یہ تو فحاشی نہیں انڈین گانا تھا نا وہاں تو ہر گھر میں ایک کرینہ کپور ہوتی ہے۔ آئیں دعا کریں ان کافروں کواللہ ہدایت دے دے۔ اچھا تو اشتہار آگئے۔ یہ فون کے ساتھ بندہ بھی وائبریشن پر ہے کیا؟ فون ڈانس کر کے کیوں بیچ رہے ہیں ؟ اور یہ لڑکی کی پیٹھ کیوں برہنہ ہے سردی لگ جائے گی بھئی۔ اچھا کم کپڑوں میں سگنل اچھے آتے ہوں گے۔ یہ کھانسی کا شربت ہے۔ اشتہار دیکھ کرپتہ لگ رہا ہے کھانسی ہوئی کیوں تھی۔ تھوڑا فاصلہ رکھنا چاہیے تھا۔ اور یہ چپل بغیر گانا گائے نہیں بیچ سکتے؟ آپ نے آج تک کسی کو صرف چپل کی وجہ سے اتنا خوش ہوتے دیکھا ہے؟ ویسے یہ تینوں لڑکیاں اگر یہ سمجھ رہی ہیں کہ چپل کپڑوں کی کمی کو پورا کر دے گی تو یہ ان کی غلط فہمی ہے۔ یہ بھی ٖفحاشی نہیں؟ چلیں پھر کوئی ڈرامہ دیکھ لیتے ہیں۔ یہ اچھا ڈرامہ لگ رہا ہے۔ میاں بیوی بات کر رہے ہیں۔ ٍ یہ تو رومینٹک ہو گئے۔ اچھا کمرے میں تو کوئی نہیں ہے ظاہر ہے کیمرہ مین تو کیمرہ کے پیچھے ہے اور میاں بیوی ہی تو ہیں ایک دوسرے کے نہیں تو کیا ہوا کسی نہ کسی کے تو ہیں۔ یہ دو کون ہیں؟ اچھا پریمی ہیں۔ ایک دوسرے سے پیار کرتے ہیں۔ ہاتھ میں ہاتھ ہی تو لیا ہے کوئی آگے تو نہیں بڑھے نا۔ ارے یہ تو آگے بڑھ گیا۔ فحاشی لیکن یہ بھی نہیں معاشرہ میں یہی کچھ تو ہورہا ہوگا۔ چلیں دوسرا ڈرامہ دیکھتے ہیں۔ یہ ڈرامہ بھی مشہور ہے اس میں معاشرے کی سب سے ضروری چیز کے بارے میں آواز اٹھائی گئی ہے۔ جی جی طوائف کے بارے میں۔ ارے یہ ڈائیلاگ سن کے آپ کے کان لال ہو گئے؟ اچھا گرمی زیادہ ہے۔ ڈائیلاگ تو کرارا تھا ویسے۔ اور یہ اس آدمی نے پانی میں کیا ملایا بھلا؟ اچھا شراب ہے۔ ہم سمجھے کوئی حرام شے ہے۔ یہ بھی فحاشی نہیں؟ چلیں اسپورٹس دیکھ لیتے ہیں ۔ آئی پی ایل چل رہا ہے نا آج کل ۔ واہ کیا زبردست بیٹنگ کر رہا ہے مزا آگیا۔ اور یہ چوکاااااا۔ ارے یہ لڑکیوں کو تو ہم سے زیادہ خوشی ہو گئی پورے اسٹیڈیم میں سب سے زیادہ یہی ڈانس کر رہی ہیں۔ کرکٹ کا اتنا شوق ہے بھئی واہ جی خوش کر دیا لڑکیو جہاں رہو سکھی رہو۔ جی بھائی تو آپ کو ابھی بھی کوئی فحاشی نہیں ملی؟ واقعی میں؟ شرفوبھئی ان کے خون کا سیمپل لے لو اور لیبارٹری میں دے دو۔ پانی والی گاڑی میں اسی میٹیریل کا ٹائر ڈا لیں گے کبھی پنکچر نہیں ہوگا دیکھنا۔ ابے بھاگا کہاں جا رہا ہے۔ دیکھ تو سہی صاحب کو درشن کر لے ان کے۔ ایسا ایمان ہے ان کا اسٹیل سے بھی مضبوط۔ اور ایک تو ہے ذرا سی بات پر تیرے ایمان کو خطرہ ہوجاتا ہے۔ یہ بھی بیٹا پاکستان کی اپنی ایجاد ہے پوری دنیا میں ایسا میٹیریل کہیں نہیں ملے گا۔ تجھے بھی غیرت کا ہیضہ رہتا ہے نا سیکھ کچھ ان سے سیکھ!”

یوسفی صاحب کہتے ہیں کہ جب کیلے کے چھلکے پر پاؤں پڑ جائے تو سنبھلنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے، اس پھسلنے کو انجوائے کرنا چاہیے۔ بس یہ قطعہ وہ چھلکا سمجھ لیں۔ ایک بڑے امریکی اخبار کے ایڈیٹر نے ایک دفعہ کہا تھا کہ دنیا کا ہر مضمون نگار صرف اور صرف ایک وجہ سے لکھتا ہے۔ غصہ!

آج سے 30 سال پہلے اگر متوسط طبقے کا ایک پاکستانی گھرانہ کوئی پروگرام ٹی وی پر دیکھ رہا ہوتا تھا تو اس کو کم از کم دو باتوں کی فکر بالکل نہیں ہوتی تھی ۔ ایک چینل تبدیل کرنے کی (کہ ملک میں تھا ہی ایک چینل، کچھ شوقین دور درشن دیکھتے تھے لیکن کافی پاپڑ بیلنے کے بعد)، اور دوسری فکر کوئی ایسا منظر ٹی وی پر آجانے کی کہ جس کو دیکھنے کے لیے ماں باپ بچوں کو پانی لینے بھیج دیں۔ اس زمانے میں عموماً گھروں میں وی سی آر مانگ کر یا کرایہ پر لایا جاتا تھا۔ انڈین فلم چلتی تھی اور سب گھر والے اور دوسرے رشتہ دار بھی آتے تھے اور سب کے بیچ میں یہ وی سی آر چلتا تھا۔ ان فلموں میں جو گانے وانے اور دیگر خرافات ہوتے تھے وہ تو بڑھا دیئے جاتے تھے ۔ ‘بد تمیزیاں’ زیادہ ہونے کی صورت میں ‘ وی سی آر مینیجر ‘ کی پٹائی بھی ہوسکتی تھی۔ یہ کوئی انتہا پسند گھرانے نہیں تھے۔ یہ وہ زمانہ تھا کہ شرفاء کے گھروں میں شوہر کا اپنی بیوی کا ہاتھ لوگوں کے سامنے پکڑ لینا ایک شدید معیوب بات سمجھی جاتی تھی اور گھر کا کوئی بڑا بوڑھا فوراً ہی اس حرکت پر سرزنش کر دیا کرتا تھا۔ اس معصوم زمانے میں بھی کچھ لوگ تھے جو وی سی آر جیسی ‘بے ضرر’ چیز کو حرام مانتے تھے۔ یہ وہ مولوی ٹائپ لوگ تھے جو بیسویں صدی میں داخل ہوئے ہی نہیں بلکہ دروازے پر ہی کھڑے ہو گئے۔ ان لوگوں کو محافل میں بلانے کے لیے کافی اہتمام کرنا پڑتا تھا۔ جیسے کہ دعوت کا جلدی انعقاد کرنا اور ان کا جلد از جلد نکلنا یقینی بنانا تاکہ ‘اصل’ دعوت شروع کی جا سکے۔ وغیرہ وغیرہ۔ دوسری انتہا پر وہ ماڈرن طبقہ تھا جو مغرب کی طرف دیکھتا تھا۔ اس کے ہاں حدود و قیود کا تعین مغرب کی اقدار کی روشنی میں ہی کیا جاتا تھا۔

آج تیس سال بعد، وہ مولوی ٹائپ لوگ اکثر و بیشتر ابھی تک اپنی ‘ہٹ دھرمی’ پر قائم ہیں۔ ٹی وی کے بارے میں بالعموم وہ اپنا نظریہ تبدیل کر چکے ہیں لیکن حیاء اور شرم، بے ہودگی اور فحاشی کا معیار ابھی بھی ان کے ہاں شریعت اور علماء ہی بتاتے ہیں۔ دوسری طرف وہ مغرب زدہ طبقہ ہے جس کا قبلہ ابھی بھی مغرب ہی ہے۔ اس عرصے میں جیسے مغرب میں اخلاقیات تبدیل ہوئی ہیں ویسے ہی ان کے ہاں بھی ہوئی ہیں ۔ مغرب میں پچھلے 25 سال میں ہم جنسیت ایک قابل نفرین سے قابل تقلید شے میں تبدیل ہوئی تو ان کے ہاں درجنوں آل قوم لوط پیدا ہو گئے۔

تبدیلی اگر آئی ہے تو ان گھرانوں میں جہاں مذہبی پہرہ نسبتاً نرم تھا۔ آج تقریباً ہر گھر میں 100 سے زائد چینل ہیں۔ ہر طرح کا مواد انگوٹھے کی ایک جنبش سے دیکھا جا سکتا ہے۔ تیس سال پہلے جن مناظرپر وی سی آر مینیجر کی پٹائی ہو جاتی تھی آج تیس سال بعد وہ نہ صرف قابل قبول بلکہ قابل تحسین بھی ہیں۔ تیس سال پہلے کی انڈین ہیروئین کے کپڑے جن لوگوں کو مختصر لگتے تھے آج اپنی بچیوں کو شیلا اور منی بنے دیکھ کر پھولے نہیں سما رہے۔ تیس سال پہلے شوہر اپنی بیوی کا ہاتھ نہیں پکڑ سکتا تھا۔ اب جب تک میاں بیوی اپنی کوئی ایسی تصویر فیس بک پر نہ لگا دیں جس میں دونوں کے درمیان ہوا بھی نہ گزر سکے تب تک لوگ سمجھتے ہیں دونوں میں الفت نہیں۔ ہر وقت ہر جگہ پیار و محبت کا اظہار اپنی جگہ۔

یہ اتنی بڑی تبدیلی کیسے آئی؟ ویسے تو رینڈ کارپوریشن کی پاکستان پر تین رپورٹیں کافی ہیں اس کام کے لیے لیکن اگر ہم تھوڑا وسیع جائزہ لیں تو یہ تبدیلی صرف پاکستانی معاشرے میں نہیں آئی ہے۔ 1990 سے پہلے کی ہالی وڈ کی فلموں اور اب کی فلموں میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ جیسا ہم نے پہلے لکھا، ہم جنس پرستی 25 سال پہلے کے امریکی معاشرہ میں ایک معیوب ہی نہیں نہایت گھٹیا فعل سمجھی جاتی تھی۔ لیکن آج سے قریب 7 سال پہلے ‘بروک بیک ماؤنٹین ‘ نامی فلم کو تین آسکر ایوارڈ اور کئی نامزدگیاں دی گئیں ۔ فلم کا عنوان لواطت تھا۔ فلم کو اس قدر پذیرائی ملنے کی ایک بہت بڑی وجہ یہ تھی کہ امریکی میڈیا میں عام طور پر اور انٹرٹینمنٹ صحافت میں خاص طور پر ایک طویل عرصے سے ایسے لوگ داخل ہو رہے تھے جن کا یا تو جنسی رجحان اس طرف تھا یا وہ سستے پیسے اور شہرت کمانا چاہتے تھے۔ ان لوگوں نے باقاعدہ ایک مہم کے طور پر اس عمل کو لوگوں کی نظروں میں خوشنما یا کم از کم ناقابل نفرت بنا دیا ہے۔ اس تمام مہم کا منطقی انجام یہ ہے کہ اب ‘گے رائٹس’ امریکہ میں ایک زمینی حقیقت بن گئے ہیں۔ اب وہاں رہنے والے مسلمان بھی ان کو ایک عام شہری ہی سمجھنے پر مجبور ہیں۔ بس اپنے بچوں کو ان کی صحبت سے بچا نے کی کوشش کر تے ہوں گے کیونکہ کچھ اور تو وہ کر ہی نہیں سکتے۔ لواطت کی سزا قتل ہے یہ تو شاید ان کے حاشیہ خیال میں بھی نہیں آتا ہوگا۔ امریکہ کے مقبول ترین ٹی وی میزبان بشمول جان اسٹیورٹ کھلے عام اپنے پروگرام میں فحش مذاق کرتے ہیں۔ ایک صدارتی امیدوار ‘رک سینٹورم’ نے ہم جنس پرستوں کو ناراض کیا تو اس کے نام کو گوگل کرنے پر نہایت عجیب نتائج آنے شروع ہوگئے، اتنے عجیب کہ اس کی ‘گوگل پرابلم’ مشہور ہو گئی۔ اور نوبت بہ ایں جا رسید کہ ترقی یافتہ دنیا کے امام امریکہ کے پہلے صدرِ سیاہ فام نے کھلے عام، بلکہ بہت اہتمام کے ساتھ، اس بات کا اعتراف کر لیا ہے کہ ‘اسے ہم جنس پرستی پر کوئی خاص اعتراض نہیں ہے’۔ یہ احوال ہوا امریکی معاشرہ کا۔ اب پڑوسی ملک میں بھی دیکھ لیں۔ کیا آج کی ہندی فلمیں 20 سال پہلے کی ہندی فلموں سے کئی گنا زیادہ فحش نہیں ہیں؟ اب جن ہندی فلموں میں ‘آئٹم نمبر’ نہیں ہوتا وہ فلم فلم نہیں ہوتی۔ بڑے بڑے اداکاروں کو اس بات پر مجبور کر دیا گیا ہے کہ وہ فلم کو چلانے کے لیے اوچھی حرکتیں کریں ۔ کون سا ایسا نام ہے جس کو اپنی فلم میں ‘بولڈ’ سین نہ فلمانا پڑ رہا ہو۔ آپ کے خیال میں ہندوستان کے تمام ہیرو اچانک سے ‘ٹھرکی’ ہو گئے ہیں؟ جی نہیں یہ بھی اسی راستے کے راہی ہیں۔

اس تناظر میں اگر پاکستانی میڈیا کو دیکھیں تو یہاں بھی تبدیلی پچھلے 5-6 سالوں میں ہی آئی ہے۔ 2002 کے انتخابات کے وقت نئے پاکستانی چینلوں نے جو کار کردگی دکھائی تھی وہ اب ماضی کا ایک ورق ہے۔ اس وقت بہت کم ایسا مواد ان چینلوں پر چلتا تھا جس پر عامۃ الناس کو اعتراض ہو۔ اس وقت کی فوٹیج اگر یو ٹیوب پر مل جائے تو ادائیگی کا طریقہ اور انداز کافی حد تک سادہ ہوتا تھا۔ گو پی ٹی وی کے مقابلے میں بہت ‘آزاد’ تھا لیکن اگر آج کے مواد سے موازنہ کیا جائے تو فرق بہت واضح ہے۔ قصہ مختصر، اس وقت کا مواد اتنا قابل اعتراض نہیں تھا جتنا اب کا ہے۔ اب حالت یہ ہے کہ خود میڈیا میں موجود سنجیدہ حلقے چیخ اٹھے ہیں ۔ اوریا مقبول جان، طلعت حسین اور انصار عباسی وغیرہ ثقافتی یلغار یا بے حیائی کے خلاف اپنی اپنی آواز اٹھا رہے ہیں۔ اس کے نتیجے میں عدالت عظمیٰ نے پیمرا کو حکم دیا کہ تمام فحش مواد بند کر دے۔ پیمرا نے فحش کی تعریف سے لا علمی کا اظہار کیا اور یوں ہم اس مجلس تک پہنچ گئے جس میں ایک طرف قاضی حسین احمد، انصار عباسی، اوریا مقبول جان اور محمد حسین محنتی صاحب اور دوسری طرف پیمرا کے عہدیداران، ان کے چیئر مین ڈاکٹر عبدالجبار، جاوید جبار اور ڈاکٹر مہدی حسن وغیرہ بیٹھے ہیں۔ اس مجلس میں یہ لوگ کسی ایک تعریف پر نہیں پہنچ سکے ہیں۔ مذہبی طبقے کے نمائندہ اپنی تعریف لائے ہیں اور لبرل طبقے اپنی۔ لبرل طبقے کے نمائندہ جاوید جبار اور مہدی حسن کہتے ہیں کہ پاکستانی میڈیا میں کچھ بھی قابل اعتراض نہیں میڈیا اپنی ذمہ داری بخوبی ادا کر رہا ہے۔ قاضی حسین احمد کے مطابق چینل خبروں میں ناچ گانا دکھا کر اپنے مینڈیٹ کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔ نیز جرائم کی تصویر کشی بھی قابل مذمت ہے۔ لبرل سمجھتے ہیں کہ یہ مولوی حکومت کے ساتھ مل کر آزادی اظہار رائے پر ڈاکہ ڈال رہے ہیں۔ اور دوسرے طرف والے سمجھ رہے ہیں کہ یہ لوگ فحاشی کیا جانیں جو باپ اور بیٹا اکھٹے بیٹھ کر ہر طرح کا مشروب پیتے ہیں اور ہر طرح کی فلم دیکھتے ہیں۔ غرض جتنے منہ اتنی باتیں۔ لبرلوں کو مولویوں پر بھروسہ نہیں اور مولوی لبرلوں کی بات ماننے کو تیار نہیں۔

اس بات پر لیکن تقریباً سب کا اتفاق تھا کہ فحاشی کی تعریف متعین کرنا آسان کام نہیں۔ اگر ایک کی تعریف مانتے ہیں تو دوسرے کی تعریف میں سے نکل جاتے ہیں اور دوسرے کی مانتے ہیں تو تیسرے کی بات پوری نہیں ہوتی۔ کوئی ایسا طریقہ نہیں سمجھ آرہا جس میں گھوڑے کی ٹانگیں بھی نہ کٹیں ، دولہا کی پگڑی بھی نہ اتاری جائے اور بارات دروازے سے اندر داخل ہوجائے۔اصل میں اس طرح کے معاملات کو طے کرنے کا پوری دنیا میں ایک نظام ہوتا ہے۔ عموماً پارلیمان میں ایسے مسائل کو حل کیا جاتا ہے۔ ورنہ کوئی اور اعلیٰ اختیاراتی ادارہ ایسے کاموں کو بغیر کسی رکاوٹ کے انجام دیتا ہے۔ پاکستان میں ظاہر ہے آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے تو ہر بحث اسی طرح چوراہے میں آتی ہے اور آزادی معلومات کے نام پر حساس معاملات پر بحث کھلے عام ہوتی ہے ۔ قاضی صاحب نے ایک تعریف یہ بیان کی جو مواد گھر والوں کے ساتھ بیٹھ کر نہ دیکھا جا سکے وہ فحش ہے۔ ان کے سامنے شاید اپنے گھر والے ہونگے کیونکہ ماشاءاللہ ان کے گھر میں شرعی پردہ نافذ ہے ورنہ ہم نے تو وہ گھرانے بھی دیکھے ہیں جہاں پانی کے گلاس میں پانی نہیں پی سکتے کہ نہ جانے شراب پینے کے بعد اس کو دھویا بھی گیا تھا کہ نہیں۔ سمیحہ راحیل قاضی صاحبہ نے ایک پروگرام میں کہا کہ پاکستان کی 95 فیصد عوام ان کے ساتھ ہے۔ ہمارا التماس ہے کہ اس بنیاد پر کوئی بھی قدم اٹھانے سے پہلے بندے گن ضرور لیں۔ یہاں تو لوگوں کو سب سے زیادہ افسوس ان کے پسندیدہ سنگر کے ‘انڈین آئڈل ‘ میں ہارنے کا ہوتا ہے۔ مسجد سے عشاء کی نماز پڑھ کر آنے والے انکل مہندی میں جا کر اپنی بہو کو رقص کرتے دیکھ کر بہت محظوظ ہوتے ہیں بلکہ بری ‘پرفارمنس’ پر ناراض بھی ہوتے ہیں۔ بیٹی اگر پردہ شروع کر دے تو ماں اور خاندان والے اس کو دسیوں باتیں سناتے ہیں کہ ‘شادی کیسے ہوگی؟ لوگ کیا کہیں گے ‘۔ لڑکا داڑھی رکھ لے تو پریشانی۔ اعتکاف میں بیٹھ جائے تو گھر میں کہرام۔ یہ ایک متوسط طبقے کے گھر کی بات ہے جہاں کے مرد و زن نماز بھی پڑھتے ہیں اور گانے بھی سنتے ہیں یعنی اللہ کا کلام بھی اور شیطان کا بھی۔ اسی زمانے میں ہم نے دیکھا کہ جس دل میں عمر فاروق ؓ کی محبت ہوتی ہے وہیں شاہ رخ خان کی محبت کو بھی رکھ لیا جاتا ہے بغیر کسی خلش کے۔ نعت خواں اور غزل خواں کا فرق بھی کچھ واضح نہیں ۔ اسلامیات پڑھانے والے لوگوں کو اس بات پر افسوس کرتے دیکھا ہے کہ ‘پاکستانی فلموں میں ڈانس کے اسٹیپس ہی آپس میں نہیں ملتے’۔ نوجوان لڑکوں لڑکیوں کا فیس بک دیکھیں تو ایک ہی صفحے پر آپ کو درود کے فضائل بھی ملیں گے اور نئی انڈین فلم کے بھی۔ ایسے اگر 100 فیصد بھی آپ کے ساتھ ہوں گے نا تو بھی کم ہیں۔

یہ معاملہ اتنا سنجیدہ اور دین کی اتنی بنیادی اساس کے اوپر ضرب لگا رہا ہے کہ اس کے اوپر چپ رہنا اپنی شامت اعمال کو دعوت دینا ہے۔ اللہ کے نبی ؐ نے 14 صدیوں پہلے فرما دیا تھا ‘جب تم حیا نہ کرو تو جو چاہو کرو’۔ انہوں نے بےحیائی سے رکنے کو کہا تھا۔ ہمارے یہ دین بیزار لوگ اس کو اجازت سمجھ لیتے ہیں۔ فحاشی کسے کہتے ہیں یہ آپ کو وہ بچہ بھی بتا سکتا ہے جو گھر میں ریموٹ ہاتھ میں لے کر بیٹھا اپنا کارٹون دیکھ رہا ہوتا ہے اور کسی عجیب اشتہار کے آنے پر ادھر ادھر دیکھنے لگتا ہے۔ فحاشی کی تعریف پوچھنا ویسا ہی ہے جیسا بنی اسرائیل نے گائے کے ذبح کرنے پر حضرت موسیٰ ؑ سے معاملہ کیا تھا- کبھی رنگ پوچھا کبھی عمر، کبھی کام پوچھا کبھی کچھ ۔ کہتے تھے ‘اس گائے نے تو ہمیں شبہے میں ڈال دیا ہے’۔ غرض ۔ جتنے سوال کیے خود پھنستے گئے۔ یہ لوگ چاہتے ہیں کہ پاکستان کو ہندوستان کی نقالی پر لگا دیں لیکن ہندوستان تو خود امریکہ کی نقالی میں لگا ہوا ہے۔ یعنی اصل میں ہمارا سفر بھی ان کے مطابق ہم جنس پرستوں کی حکومت ہے کہ ایک دن اسلامی جمہوریہ پاکستان کا سربراہ ایک ٹی وی پروگرام میں یہ اعلان کر دے کہ ‘اسے ہم جنس پرستی پر کوئی اعتراض نہیں’۔ قوم لوط پر ایک فرد جرم یہ بھی تھی کہ وہ محافل میں کھلم کھلا فحش حرکات کرتے تھے۔کیا اللہ کے نبی ؐ نے کہہ نہیں دیا کہ مجاہرہ (کھلم کھلا فحش حرکات کرنا یا پوشیدہ حرکات کا اعلان کرنا ) کرنے والوں کی معافی نہیں۔ کیا گھر گھر میں چلتے یہ ڈانس شوز ، یہ ڈراموں میں بے ہودہ ڈائیلاگ، یہ کھلم کھلا شراب کا استعمال اور ترغیب، یہ میاں بیوی کا کردار کرنے والے اصلاً نامحرم مرد و عورت کا بے ہودہ مساس، یہ سائن بورڈز پر بڑی شان سے آویزاں عریانیت کی تصاویر۔ کیا یہ فحاشی کا کھلم کھلا ارتکاب نہیں؟ کیا یہ سب مجاہرہ نہیں؟ کیا بچوّ بھائی کی طرح ایک ایک چیز پوچھنی پڑے گی کہ کیا بھی فحاشی نہیں؟کیا یہ بھی نہیں؟ یہ لوگ کہتے ہیں ریموٹ آپ کے ہاتھ میں ہےتبدیل کردو چینل۔ جی ضرور تبدیل کر دیں گے۔ معاشرہ کے سنجیدہ طبقات میں اس وقت اس بڑھتی ہوئی فحاشی کے خلاف ایک لاوا پک رہاہے۔ یہ لاوا کبھی پھٹ پڑا تو چینل تو کیا بہت کچھ تبدیل ہو جائے گا۔ ان مغرب زدہ لوگوں کو اپنی یہ حماقت ان شاء اللہ بہت مہنگی پڑے گی۔ کیوں کہ فحاشی کی تعریف متعین کرنے کا یہ اونٹ اگر کسی غلط کروٹ بیٹھ گیا تو اس کے نیچے ان سمیت بہت کچھ دب سکتا ہے ۔