Baigsaab's Blog

یہ وہ سحر تو نہیں

Posted in Islam, protest, Rants by baigsaab on July 10, 2013

جولائی کے مہینے میں امریکہ ہی نہیں دنیا کے  تیئیس  دیگر ممالک  بھی اپنا  یوم آزادی   مناتے ہیں۔  ارجنٹائن، بیلارس، وینیزویلا اور پیرو  اور خود امریکہ سمیت  ان  میں سے اکثر ممالک نے یہ آزادی بیرونی طاقتوں  کے شکنجے سے حاصل کی تھی۔  امریکہ کے یوم آزادی کی رات تحریر اسکوائر میں لوگوں کو اچھلتے کودتے دیکھ کر  ایسا لگ رہا تھا کہ مصر نے کسی ایسے ہی  ظالمانہ   استعماری  نظام سے نجات حاصل کرلی ہے۔ یہ اس لیے بھی عجیب تھا کیونکہ مصر  نے اگر حسنی مبارک کو تیس سال برداشت کیا تھا اور اس سے پہلے انور السادات اور جمال عبد الناصر اور شاہ فاروق وغیرہ   کو  بھی  برسوں جھیلا تھا تو   اس بار جانے والی حکومت تو نہ فوجی آمریت تھی اور نہ   استبدادی بادشاہت۔ یہ لوگ  تو ایک ایسی حکومت کے خاتمے کی خوشی منا رہے تھے جس  کو ان کے ملک کی  ‘اکثریت’ نے  مرحلہ وار انتخابی عمل کے بعد منتخب کیا تھا۔ محمد مرسی کو  حسنی مبارک سے تشبیہہ دینے والوں نے یہ بھی نہ دیکھا کہ  مرسی نے تو نہ مخالفین سے جیلیں بھرنے کی پالیسی اپنائی،  نہ اپنے مخالفین کے ہجوم پر فائرنگ کروائی ،  نہ  خود پر تنقید کرنے والوں  کو اغواء کروایا،   نہ اپنی ذات کو حرف آخر  اور عقل کل سمجھا(حالانکہ مصر کے نئے منظور شدہ آئین کے بارے میں  پھیلایا گیا  عام تاثر یہی ہے) اور نہ اپنے سے مخالف نظریات کے پرچارکوں کے لیے عرصہ حیات تنگ کیا۔  مرسی پربظاہر الزام ہے تو صرف یہ کہ  وہ دوسرا ‘مبارک’ بننے جا رہا تھا جبکہ درحقیقت ایسا نہیں ہے۔

حقیقت اگر ہے تو  یہ کہ قاہرہ میں خوشیاں مناتے لوگ درحقیقت ایک اسلام پسند حکومت کے خاتمے کی خوشی منا رہے ہیں۔  حقیقت  اگر ہے تو یہ  کہ جب شراب خانوں پر پابندی اور فحاشی پر قدغن لگی تو مصر کے ان  ‘لبرل’ لوگوں  نے  اسی حسنی مبارک کے تیس سالہ دور استبداد کو مرسی کے ایک سالہ دور    استقبال پر ترجیح دی۔  حقیقت اگر ہے تو یہ ہے کہ  مصر، الجزائر، ترکی ، فلسطین اور دنیا بھر میں جہاں بھی اسلام پسند  ‘جمہوری’ حکومتوں کا خاتمہ ہوا ہے   اس کو  مغربی جمہوری ملکوں کی  حمایت  حاصل رہی ہے۔  اور حقیقت اگر ہے تو یہ کہ  بارہ سال  میں پہلی دفعہ کسی حکومت نے اسلام  کو  ریاست کو امور میں مدخل کرنے کے لیے محض چند ہی اقدام کیے تھے   اور اس  کو بھی اسی طرح طاقت کے ساتھ ہٹا دیا گیا جس طرح بارہ سال پہلے طالبان کو ہٹا دیا گیا تھا۔  حقیقت یہ ہے کہ اوبامہ نے اپنی خاص منافقت سے کام لیتے ہوئے جو الفاظ  اپنی تقریر میں رکھے ہیں ان میں ‘تشویش’ اور ‘جمہوری عمل’ کے الفاظ تو ہیں  مگر یہ کہیں نہیں کہا کہ  مصری فوج کا یہ عمل   غلط ہے۔ حقیقت اگر ہے تو یہ کہ اس موقع  پر’ لبرلوں اور سیکولروں ‘ کی منافقت کا پردہ چاک ہو گیا ہے۔  الکُفرُ  مِلّۃٌ  واحدۃٌ   کی ابدی حقیقت سے ہم کو تو  نبی رحمت ؐ  نے  پہلے ہی آگاہ کر دیا تھا، یہ تو ہمارے ہی لوگ تھے جو  دوڑ دوڑ کر ان میں گھسے جاتے تھے۔

لیکن یہ حقیقت بھی اپنی جگہ ہے کہ  الاخوان المسلمون کی حکومت  کے خاتمے میں فیصلہ کن کردار فوج نے نہیں، بلکہ  اسلامی قوتوں نے ادا کیا۔ مصر کیا  پوری دنیا کی تاریخ میں پہلی بار کسی  بڑے ملک میں ایک  اسلامی جمہوری جماعت اس قدر  اکثریت کے ساتھ منتخب بھی  ہوئی اور حکومت قائم بھی کر سکی   مگر  جب وہ گئی تو اس کا ساتھ دینے سے ان کے  اسلامی  اتحادیوں نے نہ صرف انکار کر دیا بلکہ  بالفعل ان کے مخالف کیمپ  میں  جا کھڑے ہوئے۔  جامعۃ الازہر  کے علماء نے ایک  بار  پھر سیکولر  عناصر کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے میں مدد دی  اور اس شخص کے خلاف چلے گئے جس نے کئی دہائیوں میں پہلی بار اقتدار کے ایوانوں میں اللہ کا کلمہ بلند کیا۔ایک بظاہر سیکولر مگر   پیدائشی عیسائی  بلکہ یہودی عدلی المنصور کی حلف برداری میں  غیر مذہبی جنرل الفتاح سیسی کا ہی نہیں ، مذہبی  النور  پارٹی  اور  انتہائی قابل احترام  جامعۃ الازہر   کا بھی بھرپور کردار ہے۔

مصریوں کے بارے میں ایک تاریخی قول  چلا آتا ہے، رِجال ٌ   تَجمعھم الطّبول و ھم مع من غلب ۔ (مصر کے  مرد  ایسے ہیں جن کو ڈھول کی تھاپ اکھٹا کرتی ہے اور وہ اس کے ساتھ ہیں جو غالب آجائے) ۔ یہ کوئی مصر کے ساتھ مخصوص نہیں ہے۔  ہماری عوام بھی مجمع بازی میں کافی خود کفیل ہے۔  بس بازی گر کے پاس ‘مسالہ’ اچھا ہونا چاہیے، لوگ اپنے اصل مسائل بھول کر  نہایت  خلوص کے ساتھ  ان  ڈھولچیوں کے پیچھے چل پڑتے ہیں۔   پاکستان میں عام لوگوں نے مصر کے حالات پر کوئی خاص ردعمل کا مظاہرہ نہیں کیا۔ شاید اس لیے کہ اس کو الیکٹرونک میڈیا پر خاطر خواہ وقت نہیں دیا گیا۔  پرویز رشید صاحب جو حکومت پاکستان کے ترجمان ہیں، انہوں نے  کہا کہ پاکستان کی طرف سے  سرکار ی ردعمل تین سے چار دن میں آئے گا، باوجود اس کے کہ ۱۴ سال پہلے وہ اور ان کے قائد بعینہ اسی عمل سے خود گزر چکے ہیں۔ خلیجی ریاستوں کی طرف سے   تقریباً وہی ردعمل ظاہر کیا گیا ہے جو انہوں نے  اکتوبر  2001  میں افغانستان اور  مارچ 2003 میں  عراق پر امریکی  جارحیت میں  دیا تھا، یعنی  امریکی لائن کی حمایت۔

پاکستان کے   تناظر میں  اگر ہم  مذہبی اور غیر مذہبی   قوتوں کی صورتحال کا جائزہ لیں تو یہ بات سامنے آتی ہے  کہ  لبرل اور سیکولر عناصر  میں اسلامی قوتوں سے زیادہ  ایکا ہے۔  سیکولروں  کی مجبوری یہ ہے کہ  وہ ایک جمہوری حکومت کے خاتمے پر خوشی کا اظہار بھی  نہیں کر  سکتے لہٰذا انہوں نے  اس فوجی بغاوت کی  ذمہ داری الٹا الاخوان پر ڈال دی  ہے کہ اس نے   مصر کی تاریخ میں پہلی بار ایک  جمہوری طور پر منتخب حکومت کی حیثیت سے  اپنی عوام کو  مایوس کیا اور فوج کو  مداخلت کا جواز فراہم کیا۔  ایاز امیر صاحب نے اپنے کالم میں  لکھا کہ مسلم دنیا کی مشکل ہی یہ  ہے کہ یہ  اپنی علاقائی  حدود کی بنیا د پر سوچتے نہیں۔  انہوں نے مرسی  کا تقریباً مذاق اڑاتے ہوئے کہا کہ اپنا گھر سنبھل نہیں رہا تھا اور  وہ  شام کے حالات میں مداخلت کر رہے تھے۔ دوسری جانب  ہمارے مذہبی حلقے   مصر کی تازہ ترین صورتحال میں محض پوائنٹ اسکورنگ کرتے رہ گئے ہیں، الّا ماشا ءاللہ۔  جنہوں نے  اپنی جدوجہد کے لیے انتخابی میدان منتخب کیا تھا وہ  مصر میں  ‘جمہوری’ حکومت کے خاتمے پر مظاہرہ کر رہے  ہیں۔ اور جنہوں نے انتخابی میدان منتخب کرنے کو غلطی قرار دیا وہ  اس فوج کشی کو جمہوری عمل کی ناکامی کا معنی پہنا رہے ہیں۔  واضح رہے کہ جس وقت الاخوان کی حکومت آئی تھی تو  اس وقت  بغلیں بجانے اور  بغلیں جھانکنے کی ترتیب اس کے برعکس تھی۔ سہ ماہی ایقاظ  نے اپنے تازہ مضمون میں  طرفین کے اچھے خاصے لتے لیے ہیں کہ  پہلی بات تو یہ کہ کسی کی ناکامی، ہماری کامیابی کی  ضمانت نہیں۔ اور دوسری بات یہ کہ یہ وقت ایک دوسرے سے لڑنے کا نہیں  ہے۔ بلکہ  اس وقت پہلے سے زیادہ ایک نظر آنے کی ضرورت ہے۔

مصر میں فوجی بغاوت کے بعد مغربی  لکھاریوں کے آنے والے   مضامین اس حقیقت کی غمازی ہی نہیں کر رہے بلکہ ببانگ دہل اس بات  کا اعلان کر رہے  ہیں کہ ان کے نزدیک مسئلہ اسلام ہے، سیاسی یا فوجی اسلام نہیں۔  ڈیوڈ بروکس کے نزدیک   

‘اہم چیز یہ ہے کہ  ایسے لوگوں کو اقتدار سے باہر کر دیا جائے چاہے اس کے لیے  فوجی  بغاوت ہی کا استعمال کیوں نہ کرنا پڑے۔(اصل)   ہدف یہ ہے کہ سیاسی اسلام کو  کمزور کر دیا جائے  چاہے اس کے لیے کچھ بھی کرنا پڑے۔ ‘

مصر میں   لبرلوں کے لیے روشنی کے مینار کی حیثیت رکھنے والے البرادعی  نے  کہا ہے کہ انہیں

اپنے  مغربی دوستوں کو اس بات پر راضی کرنے کے لیے کافی محنت کرنی پڑی  کہ مصر میں جو کچھ فوج نے کیا وہ انتہائی ضروری تھا۔

حاصل وصول ایک  ہی بات ہے،  الجزائر   اور مصر میں  حکومت سیاسی طریقے سے حاصل کی جائے یا اٖ فغانستان  میں   طالبان کے انقلاب کے ذریعے،  اگر حکومت  نے   ذرا بھی  کوشش کی   کہ اسلام کو  ایک جز و کے طور پر ہی سہی لوگوں کی سیاسی زندگی میں داخل کر دیا جائے  تو وہیں اس کے اوپر  ایک ایسی کاری ضرب لگائی جائے گی کہ  ان کی تحریک دس سال پیچھے جا کھڑی ہو گی-  اگر لوگوں کی اکثریت اسلام چاہ رہی ہے اور حکومت نہیں چاہ رہی تو چاہے   مظالم کے پہاڑ ہی  کیوں نہ توڑ دیے جائیں، جیسے شام میں ہو رہا ہے، لبرلوں کے کانوں پر جوں نہیں رینگے گی۔   ترکی میں جو کچھ ابھی ہو رہا ہے   وہ   اگر  آج سے پانچ سال پہلے ہوتا تو  شاید ترکی میں اردگان حکومت کا بھی  خاتمہ ہو چکا ہوتا۔  ان لوگوں کے خیال سے مذہب کی جگہ سیاست نہیں ہے، حکومت نہیں ہے،  معیشت نہیں ہے،  بلکہ معاشرت بھی نہیں ہے، بس مذہب  ایک انفرادی شے ہے ! اب یہ ان کو کون سمجھائے کہ  ؏ جدا ہو دین سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی۔ فرد سے ہی سیاست ہے، فرد سے ہی  حکومت، اسی سے معیشت اور اسی سے معاشرت۔ تو سیدھے سبھاؤ فرد کو ہی کیوں نہیں نکال دیتے  باہر؟

کیا اب بھی کسی کی سمجھ میں نہیں آیا کہ اسلام پسندوں پر عرصہ حیات تنگ کردینے کی آخر وجہ کیا ہے؟ اس چیز کو دیکھنے کے لیے کوئی عقابی نگاہیں نہیں چاہییں کہ مصری فوج نے مرسی سے اقتدار چھیننے سے پہلے ہی  غزہ کی سرنگیں بند کرنے کا کام شروع کر دیا تھا۔  اقتدار میں آنے کے بعد اخوان کے ہمدرد  چار چینل بند کر دیئے گئے۔  الاخوان المسلمون کے دھرنے پر فائرنگ کی گئی جس کے نتیجے میں  تیس سے اوپر لوگ شہید اور سو تک زخمی ہو گئے۔  اس پر نہ کوئی جمہوری روایت  پامال ہوئی نہ انسانی حقوق، کیونکہ  جمہوری روایات کے امین  تو صرف سیکولر ہیں، اور انسانی حقوق کے علمبردار صرف لبرل۔ مصر میں تو خیر براہ راست امریکی ( یعنی صیہونی) مفادات پر  زک پڑ رہی تھی  اس لیے وہاں  تو  انگریزی ترکیب کے مطابق یہ  ‘کب؟’ کا معاملہ تھا ‘اگر’ کا نہیں-  لیکن باقی دنیا میں کیا ہو رہا ہے؟   یورپ میں عورتوں کو  زبردستی بے پردہ کیا جا رہا ہے۔  حجاب پہنی ہوئی عورت کو بھری عدالت میں قتل کر دیا جاتا ہے۔  داڑھی والوں کو ائرپورٹ پر  لائن سے نکال کر تلاشی لی جاتی ہے۔  پکڑا جانے والا اگر فیصل شہزاد ہو ( صحیح یا غلط کی  بات نہیں) تو  وہ تمام مسلمانوں کا  نمائندہ ، اسلام دہشت گردوں کا مذہب اور تمام مسلمانوں کے لیے  شرمندہ نظر آنا لازمی۔  لاکھوں کے قتل کا  متحرک  ہٹلر، ہزاروں کے خون کا ذمہ دار سلوبودان میلاسووچ،  درجنوں کو اپنے  دو ہاتھوں سے مارنے والا اینڈرز بریوک  مگر عیسائیوں  کا  نمائندہ نہیں، یہ ان کا ذاتی فعل ہے جس کی  کسی عیسائی کو صفائی پیش کرنے کی بھی ضرورت نہیں۔ پھر ہمارے اپنے معاشروں میں اسلام پسند جس تضحیک کا نشانہ بنتے ہیں وہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔  جس نے داڑھی رکھ لی وہ منہ چھپا کر پھر رہا ہے اور جو  رات کو  ڈانس پارٹی سے ہو کے آیا ہے اس  کی فیس بک پروفائل پر likes ہی likes ۔  جہاں باپ  نے کسی دینی اجتماع میں جانا شروع کیا بچوں کے منہ لٹکنے شروع ہو گئے۔  انصار عباسی اور اوریا مقبول جان جیسے  کالم نویس   لبرل طبقہ کی ہنسی کا براہ راست نشانہ بنتے ہیں۔

  یہ کیا ہے؟  یہ  دراصل وہ فطری ترتیب  ہے جس پر اللہ نے انسانوں کو پیدا کیا ہے۔  دنیا میں ازل سے ابد تک  درحقیقت صرف دو ہی گروہ ہیں۔  ایک کا نام حزب اللہ، دوسرا حزب الشیاطین۔  فی الوقت  دنیا   چاہے یا  نہ چاہے اپنے آپ کو ان دو  گروہوں  میں تیزی سے تقسیم کر رہی ہے۔   جس کو ہم grey area  کہتے ہیں وہ  اب بہت کم رہ گیا ہے اور اس طرح کے اقدامات کر کے  یہ لادین طبقہ چاہ رہا ہے کہ  یہ تقسیم  بالکل واضح ہو جائے۔  اپنی دانست میں وہ  اپنی دنیا پکی کر رہے ہیں مگر در حقیقت اس سے بڑا خسارے کا سودا  کوئی انسان نہیں کر سکتا۔  و انتم لا تشعرون ! لیکن تم تو  سمجھ ہی نہیں رکھتے! کسی سیکولر سے مگر اور توقع کیا کی جا سکتی ہے، اس کا ایمان دنیا میں ہے وہ اپنے ایمان  کے مطابق کام کر رہا ہے۔  مسئلہ تو ہمارا ہے، ان لوگوں کا جن کا دعوی ٰ تو یہ ہے کہ  ایمان ہمارا اللہ پر ہے، مگر عمل   اس دعوے کی نفی کرتا جا رہا ہے۔ عشق رسولؐ کے مدعی بھی ہیں ، نعت خواں، حافظ بھی ہیں مگر صبح اٹھتے ہی  سب سے پہلے اپنے چہرے سے سنت نبویؐ  کو کھرچ کر  کچھ تو کچرے میں ڈال دیتے ہیں اور کچھ سیدھا گٹر میں بہا دیتے ہیں۔  خواتین صحابیات  مبشرات   ؓ  کی مثالیں  دیتی ہیں مگر انہی کے اصرار پر مرد حرام کماتے ہیں۔  سود پر ہماری معیشت کی بنیاد ہی نہیں ہے، یہ اس  کی جان ہے، ہمارے  نئے نویلے   وزیر خزانہ صاحب نے  تو اس بجٹ میں  انٹرسٹ کا لفظ ہی استعمال نہیں کیا، سیدھا شرح سود کی بات کی۔  تو ہم تو خود اپنے عمل سے ثابت کر رہے ہیں  کہ اسلام فی زمانہ کوئی قابل عمل  چیز نہیں، نہ  انفرادی زندگی میں ، نہ اجتماعی زندگی میں۔ تو   اگر ڈیوڈ بروکس یہ کہہ دیتا ہے کہ  ‘نا اہلی  دراصل بنیاد پرست اسلام  کے   دانشورانہ  DNA  میں  رچی بسی ہوئی ہے’ تو  اس نے  کیا غلط کہہ  دیا ؟

مصر کے حالیہ  واقعات نے  اگر کم از کم بھی یہ کر دیا کہ ہمارے  لوگوں کی  آنکھوں سے   غفلت  کی پٹی کھول دی تو یہ بہت بڑی بات ہو گی۔یہ بات کہ شدت پسندی دراصل اسلام پسند نہیں بلکہ سیکولر اور لبرل طبقہ کرتا ہے، اگر سمجھ آ گئی تو یہ ایک نہایت بڑی بات ہوگی۔ہمارا اشارہ ان لوگوں کی طرف نہیں ہے جو  صرف دینی مزاج کے لوگ نہیں یا جو نماز نہیں پڑھتے یا روزہ نہیں رکھتے۔ ہمارا اشارہ ان لوگوں کی طرف ہے جن کو ان سب کے ساتھ ساتھ   یہ  بھی برا لگتا ہے کہ  ہمارے کھلاڑی ‘ان شاء اللہ ‘ کیوں کہتے ہیں۔  ہمارے لوگ اب اللہ حافظ کیوں کہتے ہیں۔  رمضان کو Ramadan کیوں بولا جا رہا ہے۔   ان میں سے اکثر وہ لوگ ہیں جو اپنے ‘حق’ کو پانے کے لیے جھوٹ کا سہارا لینے میں ذرا عار محسوس نہیں کرتے۔  یہی تو ڈیوڈ بروکس نے کہا ہے، ‘چاہے کسی طریقہ سے بھی بس  سیاسی اسلام کو  ہرا دو’۔ چاہیں تو ایک  جھوٹی ویڈیو چلا کر سوات کے امن  معاہدے کو پارہ پارہ کر دیں۔ چاہیں تو لال مسجد کے خلاف واویلا مچا کر وہاں آپریشن کرا دیں اور پھر ٹسوے بہائیں کہ یہ کیا کر دیا؟  چاہیں تو  صوفی محمد کے خلاف اسمبلی کے فرش پر چلا چلا کر ہاتھ ہلا ہلا کر   تقریریں کریں ۔  چاہیں تو فحاشی کے  بے محابا پھیلاؤ سے صاف مکر جائیں اور اسلام پسندوں پر ثقافتی دیوالیہ پن کی تہمت چسپاں کر دیں۔ یا  جیسے مصر میں ہوا کہ ایک  منتخب  جمہوری حکومت کو  اٹھا کر باہر پھینک دیں اور  اپنے  پیارے البرادعی کو   انتہائی  ‘جمہوری’ طریقے سے نگران حکومت کا حصہ بنوا دیں۔  یقین کریں ، ایسا لگتا ہے کہ یہ دن کو دن  اور رات کو رات بولتے ہیں تو  اس کے پیچھے ان کا مفاد ہوتا ہے۔

اس  سارے  منظر نامہ سے اگر ہم نے اتنا ہی سمجھ لیا تو یہ بھی کوئی معمولی فائدہ نہ ہو گا کہ  ان کی آزادی ہماری آزادی نہیں۔  ان کی شام  ہماری  شام نہیں ، اور ان کی سحر ،ہماری سحر نہیں ۔

 فاعتبرو۱ یا اولی الابصار۔

Advertisements

اور وہ رخصت ہو گئی

Posted in Personal by baigsaab on April 27, 2013

جویریہ چلی گئی! ساڑھے چار سال تک جس فون کال سے میں ڈرتا رہا، جب وہ آئی تو میں اس سے اسی طرح بے خبر تھا جیسے انسان  اپنی موت سے بے خبر ہوتا ہے۔ جویریہ میری بیٹی تھی۔ ساڑھے چار سال کی میری ننھی سی پیاری سی گڑیا۔ جسے جن ہاتھوں سے اٹھا کر میں گھر میں لایا تھا، انہی ہاتھوں سے اس کو قبر میں اتارنا پڑا۔ لیکن یہ مضمون اس لیے نہیں لکھ رہا کہ مجھے نعوذ باللہ  اپنی تقدیر پر کوئی گلہ ہے، یا ہمدردیاں سمیٹنا مقصود ہے۔ الحمدللہ  اللہ نے  لوگوں کے دل ہمارے لیے اتنے نرم کردئیے ہیں کہ ہم سے تو یہی محبت نہیں سنبھالی جا رہی۔  یہ مضمون صرف ان ساڑھے چار سالوں کی ایک چھوٹی سی کہانی ہے، جن میں میں نے اور جویریہ کی ماں نے کئی زندگیاں گذار لیں۔ جو بوجھ کئی  مہینے سے میرے دل پر ہے اس کو کاغذ  پر منتقل کرلینے سے شاید میرے دل کو کچھ قرار آ جائے اور شاید میں ان لوگوں کا شکریہ ادا کر سکوں جن سے تشکر کا اظہار کرنا مجھ پر قرض ہے۔

 جویریہ کو پیدائشی طور پر سانس کی تکلیف تھی ۔ پیدائش کے وقت پھیپھڑوں میں پانی بھر جانے کی وجہ سے اس کو پیدائش کے فوراً بعد ہی انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں رکھنا پڑا۔ وہیں  ہم پر یہ عقدہ کھلا کہ گائناکالوجسٹ کی غفلت کی وجہ سے یہ کیس  اتنا خراب ہوا  ورنہ اس کو بہتر طریقے سے ہینڈل کیا جا سکتا تھا۔ بہرحال، اس دوران ہمارا تعارف ڈاکٹر فریدہ سے ہوا ،جو ہر لحاظ سے بچوں کی ایک بہت اچھی ڈاکٹر ہیں۔  جویریہ کے نقوش پیدائش کے وقت عام پاکستانی بچوں سے مختلف تھے، کچھ چینی سے نقوش تھے۔ دبی ہوئی ناک،  انتہائی گورا رنگ، تھوڑی باہر کو نکلی ہوئی آنکھیں ۔  ڈاکٹر فریدہ  نے ہمیں یقین دلایا کہ جویریہ ایک ‘نارمل’ بچی ہے اور یہ کہ یہ تھوڑا سا عرصہ اس کو مشکل میں گذارنا پڑے گا۔ ایک پورا ہفتہ ہم   اولاد کی نعمت مل جانے کے باوجود ایسے گذارتے رہے جیسے کسی  کا  حج کا ٹکٹ اور ویزہ سب لگا ہو اور جہاز چلنے بند ہو جائیں۔ جو والدین اس طرح کی کیفیت سے گزر چکے ہیں وہ سمجھ سکتے ہیں کہ میں کیا کہہ رہا ہوں۔

ہسپتال سے فارغ ہونے کے بعد جب اس کو گھر لے کر آئے تو مستقل طور پر اس کی سانس لینے کی آواز سے ہم پریشان ہوتے تھے۔ اس کیفیت کو ‘اسٹرائیڈر’ کہتے ہیں اور یہ عمر کے ساتھ ساتھ بہتر ہو جاتی ہے۔  کہیں جاتے آتے تو لوگ مڑ مڑ کر دیکھتے تھے کہ  یہ لوگ اس ‘بیمار’ بچی کے ساتھ کہاں آگئے۔  اس کیفیت میں ہم مختلف ڈاکٹروں کے چکر لگاتے رہے، کوئی ڈاکٹر جو ہمارے سوالوں کا جواب دے دے۔ کافی ڈاکٹروں کے چکر لگانے کے بعد، جن میں کراچی کے نامور سرجن اور بچوں کے مشہور ڈاکٹر بھی شامل ہیں، ہماری ملاقات ریحان بھائی سے ہوئی۔  انہوں نے جویریہ کا اچھی طرح معائنہ کرنے کے بعد ہمیں بتایا کہ  یہ کسی صورت ڈاؤنز کا کیس نہیں  ہے۔ (ڈاؤنز کے بارے میں آگے بات  آ رہی ہے)۔  مزید تشفی کے لیے انہوں نے ہمیں اس کا کروموسوم کا ٹیسٹ کرانے کہا  جو کہ بعد میں  نارمل آیا۔ ڈاکٹر فریدہ اور ڈاکٹر ریحان، وہ دو لوگ ہیں جنہوں نے ہماری ہر اس طرح سے مدد کی جس طرح کوئی ڈاکٹر کر سکتا ہے، ریحان بھائی نے تو اس سے بھی زیادہ۔  دونوں ہماری باتوں کو توجہ سے سنتے تھے۔ خاصا وقت دیتے تھے۔ اگر ہم کوئی سوال کرتے تھے تو  اس کا جواب اچھی طرح دیتے تھے ، ٹالتے نہیں تھے۔ جویریہ کی پوری زندگی میں ہم ان دو افراد کے ساتھ کافی وابستہ رہے اور ان دونوں  کے اس ہمدردانہ رویہ کی وجہ سے ہمارا دل ڈاکٹروں  کی طرف سے کافی صاف رہا۔ دو سال کی عمر تک جویریہ کئی دفعہ ہسپتال میں رہی، ایک دفعہ آئی سی یو بھی ہو کر آئی۔  تاہم اس دوران ہم لوگ کافی حد تک اس کے ساتھ زندگی گذارنے کے عادی ہو گئے تھے۔  ہمارے گھر میں کئی  طرح کی مشینیں آگئیں۔ ایک سکشن مشین بھی لی گئی جس کا استعمال یہ تھا کہ بچی کے حلق میں ایک نالی ڈال کر بلغم کو کھینچ کر باہر نکالنا ہوتا تھا۔  یہ ایک صبر آزما کام تھا اور مجھ سا ڈھیٹ بھی یہ کام کرنے سے  گھبراتا تھا، لیکن میری اہلیہ نے اس موقع پر بھی مجھ سے بڑھ کر ہمت دکھائی اور کئی دن تک وہ یہ کام دن میں متعدد دفعہ کرتی رہیں۔

زندگی پھر کبھی ویسی نہ رہی۔ ہمارے معمولات کافی تبدیل ہو چکے تھے۔ آنا جانا ، ملنا ملانا کافی حد تک کم ہو گیا تھا۔ کسی تقریب میں جانے سے قبل پہلے ہمیں دیکھنا پڑتا تھا کہ تقریب کتنی دیر کی ہے، کس کی ہے، کیا وہاں سردی ہوگی، کیا ہوا ہو گی، کیا ہم تقریب درمیان میں چھوڑ کر آسکیں گے۔  غرض ہماری ، خاص طور پر میری اہلیہ کی، تفریح اور آرام مکمل طور پر جویریہ کی صحت اور طبعیت کے تابع ہو گئے۔  ہم کہیں جاتے تھے تو باہر کے گرد و غبار اور شور دھوئیں کی وجہ سے   اے سی چلاتے تھے، لیکن چونکہ جویریہ کو خنکی سے بھی مسئلہ ہوتا تھا ، چنانچہ میری بیگم کو اسے گود میں لے کر پیچھے بیٹھنا پڑتا تھا۔   ناواقف سمجھتے کہ شاید ہماری ناراضگی اتنی بڑھ گئی ہے کہ ہم ساتھ نہیں بیٹھتے ، اور واقف سمجھتے کہ میں اپنی قدامت پسندی کی وجہ سے ایسا کرتا ہوں۔  ہم نے چاول کھانا تقریباً بند کردئیے اور کھاتے بھی تھے تو اس سے چھپ کر کیونکہ چاول اس کے لیے ناموزوں تھے  اور یہ  چاولوں کی عاشق۔

پھر جویریہ کی زندگی کا سنہرا دور آیا، اور یہ وہ دور ہے جس کی یادیں میرے دل میں  نقش  ہیں۔ اس میں وہ ہنستی ہے، ہنساتی ہے، پیار کرتی ہے، ناز اٹھواتی ہے، نخرے دکھاتی ہے۔ یہ وہ دور ہے جب میں نے اس کے لیے کراچی کے مہنگے سے مہنگے کپڑے لا کر دیے۔  جب ہم لوگ باہر کھانا کھانے جاتے تھے اور جویریہ گاڑی کی پچھلی سیٹ پر دونوں اگلی سیٹوں کے بیچ میں  کھڑی ہوجاتی اور پورے راستے سونے کا نام  نہ لیتی۔  جب اس کی شرارتوں سے تنگ آکر میں  کہہ دیتا کہ میں اب کھانا کھانے باہر نہیں جاؤں گا۔  اور کچھ دن بعد ہم  پھر نکل کھڑے ہوتے۔  اس وقت میں بھی ہم کو اس کی نگہداشت کرنی تو پڑتی تھی لیکن نسبتاً کم۔ اس کی سانس کی آواز اب بھی آتی تھی لیکن صرف کسی نئے بندہ کو کہ ہم تو عادی ہو گئے تھے۔  غرض اس  نے کافی حد تک اپنی پیدائشی کمزوری پر قابو پا لیا تھا۔  اسی دوران ہم نے اس کی اسکولنگ، بلکہ صحیح معنوں میں ، ہوم اسکولنگ شروع کرا دی جہاں اس  کا خیال اور بھی زیادہ رکھا جانے لگا۔  ساتھ ساتھ اس کو  نیبولائز کرنا پڑتا تھا لیکن کبھی کبھار۔

جب وہ تین سال کی ہوئی تو اس کی ماں ، جو گزشتہ ایک سال سے مجھے مستقل  کہے جا رہی تھی، نے مجھے مجبور کیا کہ میں اس کا چیک اپ کرواؤں کہ وہ بولتی کیوں نہیں۔  میں ٹالتا رہا کہ بچے کبھی کبھار پانچ سال تک بھی نہیں بولتے لیکن اس کا اصرار بڑھتا گیا۔ ہمیں اس کا سماعت کا ٹیسٹ کرانے کا کہا گیا۔  اور جب رزلٹ آیا تو میرے پیروں کے نیچے کی زمین  نکل گئی۔ رپورٹ میں درج تھا کہ اس کی سماعت ایک کان سے ہوتی ہی نہیں اور دوسرے کان سے کم ہے۔  ایک اور جگہ یہی ٹیسٹ کرایا تو وہ پہلے سے بھی عجیب آیا کہ اس میں دونوں کانوں میں محض بیس فیصد سماعت ثابت ہوئی تھی۔  ہمارے لیے یہ حیرت کی بات یوں تھی کہ ہم نے کبھی اس طرح کا معاملہ محسوس نہیں کیا تھا۔ وہ میرے ساتھ ساری نظموں پر  ایکشن کرتی تھی  اور اس سے پہلے کبھی مجھے یہ شک نہیں ہوا تھا کہ ایسا ہو سکتا ہے۔  ہم نے، بلکہ اگر صحیح کہا جائے تو میں نے، اس وقت ایک فیصلہ یہ کیا کہ فی الحال اس کو سماعت کا آلہ نہیں لگائیں گے،  کیونکہ اس ٹیسٹ کا ایک مسئلہ یہ تھا کہ اس میں نزلہ کی کیفیت بالکل نہیں ہونی چاہیے اور جویریہ کا تو  مسئلہ ہی دائمی نزلہ کا تھا۔ تو میں نے اپنے مشاہدے کو  بنیاد بنا کر اس کو آلہ نہیں لگایا۔ ہم نے جویریہ کی زبان کی بندش کو کھولنے کے  لیے اس کی اسپیچ تھراپی کرانی شروع کی۔ یہ وہ مقام ہے جہاں میں نے اپنی زندگی کے چند با ہمت ترین لوگوں کو دیکھا۔

انسانی جسم کے ہر  خلیہ یعنی سیل میں 46 کروموسوم ہوتے ہیں۔  یہ  کروموسوم جوڑوں کی شکل میں ہوتے ہیں  اور ان کروموسوم  میں انسان کے جسم کے متعلق انتہائی اہم اور بنیادی معلومات ہوتی ہیں۔  ان 23 جوڑوں میں سے اکیسواں کروموسوم جوڑا  اگر ذرا سا بھی بگڑ جائے یعنی   اس میں کروموسوم دو سے زیادہ ہو جائیں  تو اس سے جو کیفیت پیدا ہوتی ہے اس کو ‘ڈاؤنز  سنڈروم’ (Down’s Syndrome) کہتے ہیں۔  ڈاؤنز بچے بہت پیارے ہوتے ہیں   اور ان میں کافی بچے بڑے ہونے کے ساتھ ساتھ اپنے آپ کو کافی سنبھال لیتے ہیں لیکن ان کے لیے ایک آزادانہ زندگی گذارنا ایک چیلنج ہوتا ہے۔

ہم  جویریہ کو  پہلے شہید ملت روڈپر واقع  ایک میموریل سینٹرلے جاتے تھے ، پھر اس کو گلشن میں واقع ایک خصوصی تعلیم کے اسکول میں لےجانے لگے۔   دونوں جگہ کافی لوگ اپنے بچوں کو  اسپیچ تھراپی کے لیے لے کر آتے تھے۔ اور ان میں سے  کچھ  بچے ڈاؤنز ہوتے تھے۔  ایک پیاری سی بچی   وہاں آتی تھی جو کہ ڈاؤنز تھی۔ بہت صاف ستھری، بالکل گڑیا جیسی، اس کی ماں اس کو آہستہ آہستہ سہلاتی رہتی۔ کئی دفعہ وہ ماں سے ناراض ہو جاتی لیکن ماں اس کو کچھ کہتی نہیں تھی۔  صرف ایک نہیں، کئی لوگ تھے، ہمت اور سطوت کے  پہاڑ۔ جو ایسی زندگیاں گذار رہے ہیں جن کا  اکثر لوگ تصور بھی نہیں کر سکتے۔ آپ کو اگر لگتا ہے کہ آپ کے بیٹے کا رنگ کم ہے تو جا کر کسی ایسے  گھر میں تھوڑی دیر بیٹھ آئیے۔ اگر آپ سمجھتے ہیں کہ بے اولاد ہونے کی وجہ سے آپ کے ساتھ کوئی ظلم ہو رہا ہے تو پہلے اولاد کے دکھ کو سمجھنے کی کوشش کر کے دیکھ لیں۔  اگر آپ کا کوئی رشتہ دار  یا دوست ٹائم پر نہیں آرہا اور اس کے گھر میں کوئی بچہ ہے جو عام بچوں سے مختلف ہے  تو ان کو شک کا فائدہ ضرور دے دیں کہ  کئی دفعہ محض باتھ  روم لے جانا  اور کپڑے تبدیل کرانا ہی بہت بڑا چیلنج ہو جاتا ہے۔  ایسے والدین کو دیکھ کر ، ان سے بات کر کے، ان کی ہمت دیکھ کر، اپنی چھوٹی سی تکلیف کوئی تکلیف ہی نہیں لگتی تھی۔  ان لوگوں کے سامنے ہم اپنے آپ کو ناشکرے بونے تصور کرتے تھے۔ ان سب کے علاوہ  ایک اور بھی  ہستی تھی جس کو دیکھ کر ہماری ہمت اور بڑھتی تھی اور وہ تھی خود ہماری بیٹی۔

 مجھے یاد نہیں پڑتا کہ اپنی پوری زندگی میں جویریہ نے کبھی کھل کر سانس لی ہو۔  کوئی دن ایسا مجھے تو یاد نہیں ، جب میں نے اس  کی سانس کی آواز نہ سنی ہو۔  اس کو کھانسی اکثر رہتی تھی۔ لیکن اس کے باوجود اس کو ہنسنا آتا تھا۔ خوش رہنا آتا تھا۔ خوش کرنا آتا تھا۔ ہر ملنے والے سے ہنس کر ملنا اور ملنے والے کو مسکرانے پر مجبور کر دینا یہ اس کے لیے کوئی مسئلہ ہی نہیں  لگتا تھا۔  وہ مجھے یا اپنی ماں کو اداس نہیں دیکھ سکتی تھی۔ وہ  ہمیں فارغ بھی نہیں دیکھ سکتی تھی۔ اس کو پڑھنے کا بہت شوق تھا اور  ہمارے گھر کے در و دیوار اس کی نوٹ بک بن چکے تھے ۔ کہیں ڈرائنگ کی مشق تو کہیں گنتی کی۔  چھوٹے بھائی کے ساتھ اس  کا رویہ ویسا ہی تھا جیسا سب بڑی بہنوں کا ہوتا ہے، دشمنی بھری دوستی!

جویریہ کی وجہ سے ہم نے کچھ انتہائی سطحی لوگوں کو بھی دیکھا۔ وہ لوگ جو ڈاکٹری کے معزز پیشے کو معزز نہیں سمجھتے، صرف پیشہ سمجھتے ہیں۔ وہ بھی جو ان چیزوں کے کاروبار میں ہوتے ہیں۔ ان لوگوں کے لیے سامنے والے کے  جذبات کی یا تو کوئی اہمیت نہیں ہوتی، یا ان کے پاس اپنی بات کو اچھے طریقے سے کرنے کا وقت   یا صلاحیت یا دونوں نہیں ہوتے۔ اکثر ڈاکٹر  ذرا سے مختلف بچوں کو مختلف کیٹیگریز میں رکھ کر آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔  وہ بچے کی پرابلم یا بیماری کی تہہ تک پہنچنے کی کوشش کرنے میں اپنا وقت ضائع کرنا نہیں چاہتے  بلکہ مریض کو اپنے ذہن میں موجود  مختلف ڈبوں میں سے ایک میں ڈال دیتے ہیں۔ ان کے پیسے کھرے ہو جاتے ہیں تو وہ آگے بڑھ جاتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ ان کی توجہ موجودہ کیس پر نہیں بلکہ آنے والے کیس پر ہے۔   ایسے لوگ میرے نزدیک اپنے پیشے کے ساتھ انصاف نہیں کرتے۔ ڈاکٹروں کو فیس لینے سے کسی نے نہیں روکا لیکن فیس کو زندگی کا مقصد بنا لینا ایک تکلیف دہ امر ہے۔ اور رہی بات صحت سے متعلق  دوسرے کاروبار، تو وہ بہرحال کاروبار ہی ہیں۔  آلہ سماعت  بیچنے والے کراچی کے ایک بڑے ادارے کے مالک صاحب نے مجھے  کہا کہ حضرت آپ جلد سے جلد آلہ سماعت لگوا لیں ورنہ آج تو آپ کی بیٹی بہری ہے کل کو خدانخواستہ گونگی نہ ہو جائے۔  ا س جملے کی کاٹ کا اندازہ بھلا اس شخص کو کیسے ہوا ہوگا؟ گھر آ کر بھی بہت دیر اس جملے کی گونج میرے دل و دماغ میں رہی۔   ابھی بھی میں یہی سوچتا ہوں کہ کوئی شخص اس قدر آسانی سے اتنا سفاک جملہ کیسے بول سکتا ہے۔ لیکن حقیقت یہی ہے کہ صحت اس ملک میں آسانی سے حاصل نہیں ہوتی، کیونکہ ایسے لوگوں سے یہ  شعبہ اٹا پڑا ہے۔ پھر بھی کچھ لوگ ہیں جو اس شعبے کی عزت کو برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ جیسے ہمارے دونوں  محسن ڈاکٹرز یا میرے کزن  ڈاکٹر  شیخ جنہوں نے جویریہ کے آخری ایام میں ہماری  ہر ممکن مدد اور رہنمائی کی ۔

جویریہ  کی زندگی کے آخری کچھ مہینوں میں مجھے رہ رہ کر اس کی حفاظت کا خیال آتا تھا۔   لگتا تھا کوئی اس کو مجھ سے چھین لے گا۔ ہر سگنل پر، ہر  پارک میں جہاں ہم جاتے تھے، وہاں میں بالکل مزہ نہیں کرسکتا تھا۔ ایک عجیب سی کیفیت تھی جسے میں اپنی  اہلیہ تک سے بیان نہیں کر سکتا تھا۔ جانے کیوں مجھے لگتا تھا کہ یہ اب زیادہ عرصے نہیں رہے گی۔  میری اہلیہ اس بات پر پریشان ہوتی تھی کہ اس کی شادی کیسے ہوگی اور مجھے ایک لمحہ کے لیے بھی اس کی فکر نہیں ہوتی تھی۔ مجھے فکر تھی تو یہ کہ یہ بڑی ہوجائے۔  بظاہر یہ ایک نہ سمجھ میں آنے والی بات تھی کہ ایک ایسی بچی جو اتنے مشکل دور کو نسبتا ً با آسانی گذار آئی ہو  اس کو آگے ایسا کیا خطرہ ہو سکتا ہے  … لیکن ایک چیز مجھے کھٹک رہی تھی۔ کچھ عرصے سے اس کی طبیعت اچانک بہت بگڑجاتی۔ گلا بالکل بند ہو جاتا اور اگر فوراً اسٹیرائیڈ کا انجیکشن یا  گولی نہ ملتی تو حالت بہت نازک ہو جاتی۔  بس یہی وہ بات تھی جو مجھے  بے چین کئے رکھتی تھی۔ میں جویریہ کی پیدائش کے دن سے اس کی  وفات کے دن  تک  اپنی بیوی کی ہر کال ایسے اٹھا تا تھا کہ اس کے ساتھ یا اللہ خیر کی دعا ہوتی تھی۔

اس اتوار کو میں دفتر میں تھا۔ اور میرے موبائل پر  جویریہ کے ماموں کا فون آرہا تھا۔  میں نے سوچا نماز پڑھ کر کال کر لوں گا ، اس لیے کال نہیں اٹھائی ۔ لیکن جب دوبارہ کال آئی تو میں نے کال اٹھائی  ۔ دوسری طرف سے  ایک کہرام پڑا تھا اور اس میں  اس کے ماموں کی چیختی ہوئی گھبرائی ہوئی آواز کہ “فراز بھائی جلدی آئیں جویریہ کی طبیعت بہت خراب ہے”۔  میں فی الفور اپنی گاڑی کی جانب دوڑا ۔ گاڑی میں بیٹھتے ہی میں مجھ پر سکون کی ایسی کیفیت طاری ہوئی کہ مجھے یقین ہو گیا کہ کچھ ہونے والا ہے۔ میں نے اپنے رب سے دعا کی کہ” اے اللہ یہ آپ ہی کی امانت ہے، آپ ہی اس کا خیال کریں ، میں تو کچھ بھی نہیں کر سکتا”۔ ایسی گفتگو میں  پہلے کئی بار کر چکا تھا … لیکن مجھے کبھی بھی ایسی خاموشی محسوس نہیں ہوتی تھی ، جیسی اس دن ہوئی۔

موبائل پر مستقل رابطہ میں رہتے ہوئے پتہ چلا کہ  جویریہ کو وہ لوگ پہلے ایک ہسپتال لے گئے لیکن ان کے پاس نہ قابل ڈاکٹر تھے نہ آلات۔ تو پھر وہ دوسرے ہسپتال لے کر پہنچے اور  وہاں میں پہنچا۔  اس وقت تک وہ بے ہوش ہو چکی تھی۔  پتہ نہیں اس کو میرے چیخنے کی آوازیں آئی ہونگی کہ نہیں۔  بہرحال اس ہسپتال سے بھی یہی جواب ملا کہ اس کو کسی ‘بڑے’ ہسپتال لے کر جائیں۔  وہاں سے ایمبولینس میں اپنی بیٹی کو ڈال کر میں اور اس کی نانی  شہر کے دوسرے کونے پہنچے تو ڈاکٹروں نے کچھ ہی کوشش کے بعد یہ کہہ دیا کہ اب کچھ ہو نہیں سکتا۔  اس سارے وقت میں میں اپنے آپ کو کس طرح سنبھالے ہوئے تھا ، میں نہیں جانتا۔  بالآخر ڈاکٹروں نے ‘انا للہ و انا الیہ راجعون’ کہہ کر میری بیٹی کی رخصتی کا اعلان کر دیا۔

رات چونکہ کافی ہوگئی تھی ، اس لیے  ہم نے اس کی تدفین دوسرے دن کرنے کا ارادہ کیا۔ رات کو سونا اگرچہ ایک مصیبت  تھا لیکن ضروری بھی تھا۔ صبح جب ہم اٹھے تو میں اور میری بیوی دونوں نے ایک دوسرے سے یہ کہا کہ یوں لگ رہا ہے کہ جیسے کوئی پراجیکٹ ختم ہو گیا۔ ایسا لگ رہا تھا کہ کوئی  بہت بڑی ذمہ داری تھی جس سے ہم لوگ عہدہ برآ ہو گئے ہیں۔ جب اس کو تدفین کے لیے لے جا رہے تھے اور میں نے اس کی پیشانی پر بوسہ لیا تو  لگا کہ اس کا سرد وجود گویا وقت میں قید ہو کر رہ گیا ہے۔ اس کی تدفین کے وقت بھی میں کافی مطمئن تھا۔  کیوں  ؟ کیسے ؟ یہ میں نہیں جانتا ۔  اور جب میں دعا کروا رہا تھا تو میری آنکھوں کے سامنے وہ سارے بچے گھوم رہے تھے جن کو امریکی و اسرائیلی درندوں کی گولیاں اور میزائل روزانہ موت کے گھاٹ اتار رہے تھے۔

یہ محض میرے رب کا کرم ہے کہ میں اور میری بیوی دونوں اپنے حواسوں میں ہیں۔ اولاد کی موت پر میں نے لوگوں کو نیم پاگل بلکہ مکمل پاگل ہوتے دیکھا ہے۔  الحمد للہ ! اللہ کا فضل ہے کہ اس نے ہمیں ایمان کی دولت عطا فرمائی ۔ سو ہم جانتے ہیں کہ تقدیر لکھ دی گئی ہے، اس سے ہٹ کرایک  پتہ بھی نہیں گرے گا۔ اب اس بات کا رونا کیسا کہ یہ کس کی غلطی تھی،  کیا میری  اہلیہ  کی جس نے اپنی پوری زندگی اپنی بیٹی کے لیے وقف کردی اور جو اس وقت وہاں موجود تھی۔ کیا اس کے ماموں کی جس بیچارے کے سامنے شاید یہ پہلا ایسا کیس ہوا تھا۔ یا اس نظام کی جس میں شہر میں ہسپتال تو کئی ہیں لیکن قابل عملہ اور آلات ناپید۔

ہمیں سمجھ آیا کہ اولاد ہونا بذات خود کوئی فخر کی بات نہیں بلکہ یہ تو ایک مسلسل ذمہ داری ہے۔ اگر اولاد کی تربیت صحیح نہ کی اور وہ اولاد خدانخواستہ  نافرمانی کے راستے پر چل پڑی تو وہ الٹا وبال بن جائے گی۔  تو اس حساب سے دیکھا جائے تو ہم کافی خوش نصیب رہے۔  ان مع العسر یسراً  بے شک مشکل کے ساتھ آسانی ہے۔  دیکھیں ناں کتنی آسانی ہو گئی ، کہ اب نہ رشتہ تلاش کرناپڑے گا ، نہ پڑھانے کی فکر، نہ کھلانے پلانے کی فکر، نہ ڈاکٹروں کے چکر ، نہ لوگوں کو جواب دینے کی فکر کہ اس کو ہوا کیا ہے، نہ کسی کو یہ باور کروانے کی مشق کہ یہ سب سنتی ہے بس بولتی نہیں۔ بس یوں سمجھ لیں کہ ہم نے اپنے بیٹی کو اچھی طرح پڑھایا لکھایا، بہت اچھا سا لڑکا اس کے لیے دیکھا اور اس کو رخصت کر دیا، شادی کے بعد وہ ایسی جگہ چلی گئی جہاں نہ فون ہے نہ انٹرنیٹ، اور اس کو واپس آنے میں کافی وقت لگے گا۔ اس با ت کا یقین ہے کہ اب وہ اس  ہستی کے پاس ہے جو مجھ سے اور اس کی ماں سے  اسے کہیں زیادہ پیار کرتا ہے، بلکہ پیار تو کرتا ہی ہمارا رب ہے، ماں باپ تو محض ایک ذریعہ ہوتے ہیں۔ اللہ نے اپنے نبی ؐ کی زبان مبارک سے جو ہمیں بشارتیں دی ہیں وہ  سنتے ہیں اور دل کو بہلاتے ہیں کہ بس چند دن اور۔

بے شک ان مع العسر یسراً  کہ ، محض تین ہفتے بعد ہی، اللہ نے ہمیں  ایک اور اولاد دے دی۔  ایک اور بیٹا دیا۔ یہ بھی اس کا کرم ہے۔ ہم شاید جویریہ کی یاد کو بھلا جاتے اگر بیٹی ہی مل جاتی۔ یہ سب اس کا فضل، اس کا کرم، اس کی رحمت، اس کی مرضی، اس کی  مقرر کردہ تقدیر ہے۔ ہمارے پاس اگر کوئی  اختیار ہے تو محض یہ کہ ان گزرتے ہوئے حالات میں ہمارا ردعمل اور نیت کیا ہوتے ہیں۔ ہونا وہی ہے جو لکھا ہوا ہے، لیکن کیا ہم اس پر راضی بھی ہیں؟  مجھے نہیں پتہ کہ اس میں اللہ کی کیا مصلحت تھی کہ اولاد کو اگر واپس ہی لینا تھا تو  عطا کیوں کی تھی یا اتنا بڑا کیوں کیا،   بس یہ وہ مقام ہے جہاں تسلیم و رضا ایک نتیجہ پیدا کرتی ہے اور  ماتم اور نا شکری کے کلمات ایک دوسرا نتیجہ۔ایسا نہیں کہ ہم دونوں آنسو نہیں بہاتے۔ آنسو تو  نبی اکرم ؐ نے بھی اپنے صاحبزادے کی وفات پر بہائے تھے، حضرت یعقوب ؑ کی آنکھیں حضرت یوسف ؑ کے غم میں سفید ہو گئی تھیں۔ اس کو بھول جانا ہمارے بس میں نہیں کہ یہی لگتا ہے کہ یہ سب ایک خواب ہے۔ ایسا ہم نہیں کرسکتے کہ یہ یکسر بھول جائیں کہ ہماری کبھی کوئی بیٹی تھی حالانکہ  شاید اس سے ہمارا غم بہت حد تک کم ہو جائے۔ لیکن یہاں معاملہ یہ ہے  کہ غم کو بھلانا مقصود نہیں ہے بلکہ اس غم کے ذریعے  اپنے رب تک پہنچنے کا راستہ آسان بنانا ہے۔ یہی ہے مومن کی زندگی کا  حال۔ مصیبت پر صبر  اور آسانی پر شکر۔ ہر دو صورتوں میں مقصد اور مقصود صرف ایک،  اور وہ یہ کہ ہمارا رب ہم سے خوش ہو جائے۔  لہٰذا  حضرت یعقوب ؑ کے الفاظ میں ہی  انما اشکوا بثی و حزنی الی اللہ    کہتے ہیں اور اللہ سے  یہی دعا کرتے ہیں کہ وہ ہم کو اپنے فرمانبردار بندوں میں شامل کرلے اور انہی میں ہمیں رکھے۔ آمین۔

میں ابھی تک یہ فیصلہ نہیں کرپایا ہوں کہ میں نے یہ مضمون لکھا کیوں ہے۔ بس مجھے  بہت سوچنے کے بعد یہی سمجھ آیا کہ مجھے اپنے احساسات کو کاغذ پر منتقل کر لینا چاہیے۔ اگر آپ یہاں تک پڑھ رہے ہیں تو بس ایک چھوٹی سی بات چلتے چلتے اور عرض کر دوں کہ   اپنی اولاد پر پیسہ خرچ کرنے سے زیادہ کوشش اس بات کی کریں کہ اس کو بھرپور وقت اور توجہ دیں ۔ اپنی اولاد کو اپنے لیے صدقہ جاریہ بنانے کی کوشش کریں اور اپنے والدین کے لیے خود  صدقہ جاریہ بننے کی۔   اپنے پیاروں کے ساتھ وقت گذارنے میں خوشی محسوس کریں۔  میں نے جویریہ کو آخری دفعہ اس کی نانی کے گھر چھوڑا تھا اور وہ کمپیوٹر پر بیٹھی تھی، میں چپکے سے نکل گیا کہ اگر اس نے نکلتے ہوئے دیکھ لیا تو قیامت ڈھا دے گی۔ آپ ہی بتائیے  کہ  اگر  مجھے پتہ ہوتا کہ یہ میری اس سے آخری ملاقات ہے تو میں کبھی ایسے جاتا؟  وہ پورا دن اس کے ساتھ نہ گذار دیتا؟ اللہ نے ہم سے ہماری تقدیریں اوجھل رکھی ہیں ، ہم نہیں جانتے آگے کیا ہونے والا ہے، لیکن یہ تو کوشش کرسکتے ہیں نا کہ اپنے ہر الوداع کو خوشگوار بنا لیں، کیا پتہ پھر کتنے ہزار سال بعد کس جگہ کیسے ملاقات ہو؟

طوفان سے پہلے

Posted in Social revolution by baigsaab on January 11, 2012

معاملہ بہت ہی چھوٹی سی بات سے شروع ہوا تھا۔ اتنی چھوٹی کہ جو کچھ اس کے بعد ہوا یہ یقین کرنا مشکل ہے کہ اس سب کا باعث یہ چھوٹی سی بات ہی تھی۔

یہ نومبر کی ایک شام کی بات ہے۔ اسی نومبر کی۔ شیردل اپنے گھر والوں کو بس میں سوار کرا رہا تھا جو کہ خانپور اپنے گاؤں جا رہے تھے۔ جس جگہ سے یہ بسیں چلتی ہیں وہ کیونکہ عین بازار میں واقع ہےاس لیے بسوں کی روانگی اور آمد کے وقت اچھا خاصا رش ہو جاتا ہے اور کبھی کبھار تھوڑی بہت دھکم پیل بھی ہو جاتی ہے۔ اس وقت بھی یہی کچھ ہو رہا تھا۔ بس کچھ نیمے دروں نیمے بروں انداز میں سڑک پر آرہی تھی۔ جانے والوں کو الوداع کہنے والے جلدی جلدی ان سے آخری باتیں کر رہے تھے اوران کے آس پاس سے راہگیر اور موٹر سائیکل والے بچتے بچاتے نکل رہے تھے۔ شیر دل کا ایک رشتہ دار تنویر رینگتی ہوئی بس کے پائیدان پر چڑھ رہا تھا کہ اس کی ٹانگ ایک موٹر سائیکل سوار کو لگ گئی۔ یہ ایک سولہ سترہ سالہ لڑکا تھا جو دودھ سپلائی پر نکلا ہوا تھا۔ لڑکے نے کچھ نازیبا کلمات کہے تو جواب میں ادھر سے بھی کچھ تلخی کا مظاہرہ ہوا۔ بات کچھ گرم ہو گئی تو یہ حضرت اپنی سواری سے نیچے اترے اور انہوں نے باقاعدہ ہاتھا پائی کی کوشش کی تو اس کو کچھ لوگوں نے پیچھے سے پکڑ لیا۔اس نے اپنے آپ کو ان سے چھڑایا اور سڑک کی دوسری طرف یہ کہتے ہوئے بھاگ گیا کہ “تم نے غلط آدمی کو چھیڑ دیا ہے”۔ ان لوگوں کو پتہ تھا کہ یہ جن لوگوں کا لڑکا ہے وہ علاقے میں کافی لوگوں سے لڑائی جھگڑا کر چکے ہیں لیکن شیر دل کا بہنوئی ان کا بچپن کا دوست تھا اور وہ وہیں موجود تھا، کوئی خاص مسئلے کی بات لگ نہیں رہی تھی۔ ابھی تھوڑی دیر ہی گزری تھی کہ سڑک کی دوسری طرف سے ایک مجمع بھاگتا ہوا ان کی طرف آیا اور اس سے پہلے کہ کوئی بات ہوتی تنویر کے اوپر حملہ کر دیا۔ صورت حال کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے شیردل کا بہنوئی آگے بڑھا اور اس کی مدد کرنے کی کوشش کی، اپنے ان دوستوں سے چھڑانے کے لیے جن کے ساتھ وہ بچپن سے کھیلا تھا۔ لیکن اس کو بھی دھکے دے دئیے گئے۔ اتنا ہنگامہ ہورہا تھا کہ آس پاس میں تماشہ دیکھنے والا مجمع بھی دور ہو گیا اور شیردل اور اس کے دونوں ساتھی ان بیس بائیس لوگوں میں گھر گئے۔ شیر دل کے ہاتھ میں اس کی ۲ سالہ بچی تھی جس کے ساتھ میں وہ اپنے آپ کو بےبس محسوس کر رہا تھا اور وہاں تنویر لہولہان ہو رہا تھا۔ اس نے بڑی مشکل سے اپنی بچی کو کسی جاننے والے کے حوالے کیا اور تنویر کو چھڑانے کے لیے آگے بڑھا تو وہاں سے کسی نے ہتھوڑا چلانا شروع کر دیا۔ یہ دیکھے بغیر کہ یہ ہتھوڑاکسی کے منہ پر لگ رہا ہے، سر پر یا کہاں۔ جب انہوں نے اچھی طرح مار پیٹ کر لی تو وہاں سے چلے گئے۔ ان کے جانے کے بعد ان لوگوں نے اپنے حال کو دیکھا توتنویر کے سر پر گہرے زخم آئے تھے، شیردل کا بہنوئی بھی لہولہان تھا۔ اور خود شیردل کے سر سے بھی خون بہہ رہا تھا۔ ایک چھوٹی سی بات سے اتنا بڑا نقصان ہو گیا۔

********

حسن صاحب نے فون اٹھایا، دوسری طرف شیر دل تھا۔ اپنے بہنوئی اور تنویر کو وہ قریب ہی واقع ان کے گھر چھوڑ کر وہ اپنے گھرآگیا تھا۔ اس نے پوری بات حسن صاحب کو بتائی اور کہا، “سر میں ابھی گھر سے نکل کر واپس وہیں جا رہا ہوں ۔ میں نے وہاں اور لوگ بھی جمع کر لیے ہیں اب میں ان دودھ والوں کو نہیں چھوڑوں گا۔ ایک ایک کو دیکھ لوں گا۔ ” شیر دل حسن صاحب کا شاگرد رہ چکا تھا اور اب ان کے ساتھ ہی ہوتا تھا۔ کوئی بھی قدم اٹھانے سے پہلے وہ حسن صاحب سے مشورہ ضرور کرتا تھا ۔انہوں نے اس کو وہیں ٹھہرنے کو کہا اور خود اس کے گھر کی طرف نکل کھڑے ہوئے۔

********

حسن صاحب شیردل کے گھر پہنچے تو وہ زخمی شیر کی طرح ادھر سے ادھر گھوم رہا تھا۔ صاف لگ رہا تھا کہ اس کو صرف حسن صاحب کی بات نے روکا ہوا ہےورنہ وہ تو اب تک نکل چکا ہوتا۔ اس نے ابھی تک اپنے کپڑے بھی تبدیل نہیں کیے تھے اور اس کے سر کا زخم بھی توجہ مانگ رہا تھا گو زخم گہرا نہیں تھا۔ حسن صاحب کو پتہ تھا کہ معاملہ کو طول دینے کا مطلب سوائے مزید خونریزی کے اور کچھ نہیں لیکن شیر دل غصہ سے بے قابو ہو رہا تھا۔ انہوں نے اس کے جذبات کو دیکھتے ہوئے اس کے ساتھ جانے کا فیصلہ کیا کیونکہ اس وقت اس کو اکیلا چھوڑنا اور خطرناک ہو سکتا تھا ۔ وہ جانتے تھے کہ شیر دل اس وقت صرف انہی کے قابو میں آسکتا ہے۔

********

معاملہ کیونکہ ابھی گرم تھا اس لیے علاقہ میں چہل پہل معمول سے بہت زیادہ تھی۔ حسن صاحب نے شیردل کے کافی دوستوں کو وہاں پایا جو کہ سب اسی معاملہ کو نمٹانے کے لیے جمع ہوئے تھے۔ ان کے عزائم کیا تھے یہ جاننے کے لیے کسی قسم کے اندازے کی ضرورت نہیں تھی کیونکہ وہ مکمل “تیاری “کے ساتھ بیٹھے تھے۔ وہاں پہنچ کر انہیں پتا چلا کہ وہ لڑکے جنہوں نے وہ مار پیٹ کی تھی اب بھاگ چکے ہیں اور دکان پر ان کا باپ بیٹھا تھا۔ حسن صاحب نے شیر دل کی توجہ اس بات کی طرف دلائی اور کہا۔ “دیکھو وہ لڑکے اب یہاں نہیں ہیں، جو بھی تم کر سکو گے ان کے باپ کے ساتھ ہی کرو گے تو کیا ہمیں یہ زیب دیتا ہے کہ ہم ایک شخص کا بدلہ کسی اور سے لیں؟ کیا تم پسند کرو گے کہ تمہارا بدلہ تمہارے ابو سے لیا جائے؟” شیردل بھڑک اٹھا۔ “تو کیا کریں سر؟ بس چوہے بن کر مار کھاتے رہیں؟ میری غیرت یہ برداشت نہیں کر سکتی کہ اس ظلم پر چپ ہو کر بیٹھا جائے۔ ظلم سہنا بھی ظالم کا ساتھ دینا ہی ہے نا؟” حسن صاحب اس کی بات سن رہے تھے اور شیردل اپنا غبار نکالتا جا رہا تھا۔ ” یہ اگر شرمندہ ہوتے تو میں سو دفعہ انہیں معاف کردیتا لیکن یہ شرمندہ نہیں ہوتے ان کا آئے دن کا یہی کام ہے، جب دل چاہتا ہے ڈنڈوں اور ہتھوڑوں سے لوگوں کو مارتے ہیں اور لوگ مار سہتے ہیں۔ نہیں سر مجھے ایسی بے غیرتی گوارا نہیں!”

“تو ہم ان کے خلاف ایف آئی آر درج کرا تے ہیں نا۔ جب ایسے لوگوں سے نمٹنے کے لیے قانون موجود ہے تو ہمیں اپنے ہاتھ خراب کرنے کی کیا ضرورت ہے؟” حسن صاحب نے کہا۔ “میرے تعلقات ہیں نا اوپر تک، ہم دیکھتے ہیں کیسے نہیں ہوتا کچھ؟”

شیردل نے نظریں اٹھا کر حسن صاحب کی طرف دیکھا اور کہا” کون سا قانون کہاں کا قانون سر؟ یہ سب لڑکے یہاں کی سب سے مضبوط پارٹی میں ہیں۔ تھانیدار ان کا “گرائیں” ہے یہاں کوئی نہیں سنے گا ہماری۔۔۔ ” شیردل کے لہجے کی تلخی اس کی مسکراہٹ میں زہر گھول گئی۔

“یار تم میری بات تو مان لو میں ہوں نا میں دیکھ لوں ان سب کو۔” حسن صاحب نے اس کو بالآخر قائل کر لیا۔

********

ڈیوٹی ڈاکٹر نے شیر دل کے زخموں کو دیکھا اور حسن صاحب سے کہا۔ “دیکھو بھئی مسئلہ یہ ہے کہ نہ تو اس کی ہڈی ٹوٹی ہے نہ ہی چھ انچ گہرا زخم لگا ہے۔ تو اس میں میں کیا رپورٹ لکھوں؟” وہ دونوں سرکاری ہسپتال میں بیٹھے تھے جہاں جانے کا مشورہ ان کوتھانے کے محرر نے دیا تھا ۔ حسن صاحب کی سرکاری ملازمت اور ڈی ایس پی سے شناسائی سے یہی ہو سکا کہ محرر نے درشت لہجے میں ہی سہی، ان سے بات کرلی اور ان کو کسی سرکاری ہسپتال سے سرٹیفیکیٹ لانے کو کہا۔ یہ دونوں اب یہاں بیٹھے تھے اور ڈاکٹر شیر دل کے زخموں کو دیکھنے کے ساتھ ساتھ ان کو مفت قانونی داؤ پیچ بتا رہا تھا ۔ “میرے بھائی یہ چھ سات ٹانکے تو آپ کو سیڑھیوں سے گر کر بھی آسکتے ہیں تو کیا آپ سیڑھیوں پر کیس کرو گے؟ اتنی چوٹ پر کچھ بھی نہیں ہوتا، کوئی بڑی چوٹ ہو تو کچھ ہو سکتا ہے۔ آپ بولو تو میں ایسی رپورٹ بنا سکتا ہوں ” ڈاکٹر نے خالص کاروباری دیانت کے ساتھ ان کے ممکنہ راستے ان کے سامنے رکھ دئیے۔ وہ دونوں وہاں سے نکل کر واپس تھانے آگئے۔

تھانے میں ان کے آنے کے بعد دودھ والوں کا ایک نمائندہ بھی آگیا تھا جو کہ محرر کے ساتھ ہی بیٹھ گیا تھا۔ حسن صاحب کو اب تک سمجھ آگیا تھا کہ محرر نے جو ان کو ہسپتال بھیجا تھا تو اس کا مقصد معاملہ کو سنبھالنا تھا نہ کہ کارروائی کو آگے بڑھانا۔اب اس نے ڈاکٹر کی کہی ہوئی بات دہرا دی تو حسن صاحب نے تلخی سے کہا۔ “گویا اگر میں ان میں سے کسی کو ماروں اور نہ ہڈی توڑوں اور نہ چھ انچ گہرا زخم آنے دوں تو آپ میرے خلاف بھی کچھ نہیں کر سکتے” اس پر سامنے بیٹھے اس شخص نے تڑپ کر کاٹ دار لہجے میں کہا “ایسا سوچنا بھی نہیں سمجھے”۔ “اور یہ کیا بیس آدمی بیس آدمی کی رٹ لگائی ہوئی ہے۔ بیس آدمی مل کر مارتے تو تم یہاں بیٹھے ہوتے؟ دو تین لوگ تھے وہ بس!!” اب اس بات میں شک کی گنجائش نہیں تھی کہ یہاں سے صرف ایک ہی فریق کو انصاف مل سکتا ہے۔ حسن صاحب اور شیردل اس جگہ سے واپس آگئے۔

********

اس واقعہ کے تین دن بعد شیر دل حسن صاحب کے ساتھ بیٹھا تھا۔ ان کے کچھ اور ساتھی بھی وہیں تھے جن کے ساتھ وہ مشورہ کیا کرتے تھے۔ شیر دل اپنے دل کی بھڑاس نکال رہا تھا۔ “سر آپ نے دیکھ لیا کہ ان کی پہنچ کہاں کہاں ہے؟ نہ ان کو قانون کا کوئی ڈر ہے نہ کسی اور کا۔ علاقے میں موجود ہر سیاسی پارٹی کے ساتھ وہ بیٹھتےہیں ۔ یہ ان کو چندہ دیتے ہیں اور وہ ان کو پروٹیکشن دیتے ہیں۔ ہر شخص ان سے دب کر رہتا ہے ۔ ان سے نمٹنے کا صرف ایک طریقہ ہے کہ جہاں ان میں سے کوئی ملے اس کو وہیں گرا دو” ۔

حسن صاحب جو اب تک خاموش بیٹھے ہوئے تھے، وہاں موجود سب لوگوں سے مخاطب ہوئے۔ “آپ سب مجھے بہت عرصے سے جانتے ہیں، زندگی کے گرم و سرد ہم نے مل کے دیکھے ہیں۔ ہم میں سے ہر ایک کے پاس باہر نکل جانے کے کئی موقع آئے لیکن میں نے ہمیشہ یہی کہا ہے کہ جب تک مجھے لگتا رہے گا کہ اس معاشرہ میں سدھار کی گنجائش موجود ہے میں کہیں نہیں جاؤں گا۔ لوگ ہمیں بے وقوف کہتے رہے ہیں لیکن قرآن اور حدیث کے مطالعہ سے یہی سامنے آتا ہے کہ گھر بار اگر چھوڑنا ہی ہے تو دین کے لیے نہ کہ دنیا کے لیے۔”

“لیکن اب اس موقع پر میں یہ سوچنے پر مجبور ہو گیا ہوں کہ کیا واقعی ہمیں دین پر عمل کی اجازت ہے؟ قانون ہمیں اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ ہم سڑکوں پر خون کے فیصلے کرتے پھریں لیکن آنکھ کے بدلے آنکھ بھی تو دین نے ہی بتایا ہے۔ ان کو سبق نہ سکھایا گیا تو ایسے اور معاملے ہونگے۔ رپورٹ تک نہیں لکھا سکتے کہ اس کے لیے بھی رشوت دینی ہی پڑے گی۔ یہ لوگ تو کوئی راستہ ہی نہیں چھوڑ رہے سوائے اس کے واقعی وہی کیا جائے کہ جو شیر دل کہہ رہا ہے۔ تو پھر کیا کیا جائے؟ بندوق اٹھا کر ان سب کو مار دیا پھر کیا کریں؟ کیا معاشرہ سے ظلم ختم ہو گیا؟ کیا ایسے سب لوگ ختم ہو گئے؟ معاشرہ میں تو ایسے لوگ لاکھوں نہیں تو ہزاروں کی تعداد میں تو ضرور ہیں تو کیا ہزاروں کو قتل کریں ہم؟ “

ایک ساتھی یوں گویا ہوئے”اگر ہم ان کے دس ماریں گے تو کل کو ہمارا بھی ایک جائے گا۔ ہم سب کو پتا ہے کہ ان معاملات کی شروعات یہی ہوتی ہے اور ان کی انتہا کیا ہوتی ہے۔”

وہاں موجود ایک صاحب نے کہا “یار دیکھا جائے تو یہ ظلم اور زیادتی تو ایام جاہلیت میں بھی تھی۔ لوگ اس وقت بھی بے گناہ قتل ہوتے تھے اور بیٹیاں زندہ دفنائی جاتی تھیں۔ لیکن سنت نبویؐ سے جو ہمیں سبق ملتا ہے وہ یہی ہے کہ بدلنا ہے تو نظام کو بدلو چاہے کچھ بھی ہو جائے”

“یار وہ بھی توہے نا۔ بکریاں لے کر پہاڑ پر چلے جاؤ۔ کمانیں کاٹ دو۔ یہ بھی تو حکم ہے نا بھائی؟ ” ایک اور صاحب نے کہا۔

“خیر دیکھیں اب آگے کیا ہوتا ہے اس معاملہ میں، فی الحال تو شیردل کا معاملہ دیکھنا ہے۔” حسن صاحب نے بات کو سمیٹتے ہوئے کہا۔

********

جس جگہ یہ سارا واقعہ ہوا تھا اس سے ذرا ہی آگے اسی آبادی میں ایک چائے کے ڈھابے پر پنچائت بیٹھی تھی۔ شیر دل کے ماموں کی کوششوں سے یہ پنچائت بلائی گئی تھی کہ معاملہ کو رفع دفع کر دیا جائے۔ انہوں نے بڑی مشکل سے اپنے لڑکوں کو روکا تھا لیکن ان کو پتہ تھا چنگاری ابھی بھی سلگ رہی ہے،ذرا سی ہوا سے آگ بھڑک سکتی تھی اس لیے وہ چاہتے تھے کہ معاملہ جلد از جلد صلح تک پہنچ جائے۔

سرپنچ نے سب سے پہلے تو اس لڑکے کو بلایا اور اس سے سختی سے پوچھا کہ معاملہ ہوا کیا تھا۔ اس نے کچھ بتایا کچھ چھپایا تو وہاں موجود دوسرے لوگوں نے اس کو ٹوک دیا۔ دونوں طرف کے دعوؤں میں تضاد اتنا واضح تھا کہ صاف لگ رہا تھا کہ کوئی ایک پارٹی غلط بیانی سے کام لے رہی ہے۔ دونوں کا کہنا تھا کہ شروعات دوسری طرف سے ہوئی تھی دونوں کہہ رہے تھے زیادتی دوسری طرف سے ہوئی ہے۔ البتہ سختی سے پوچھنے پر لڑکے نے بتایا کہ ہتھوڑے وہی چلا رہا تھا اور اس کا بھائی۔ ان کا باپ وہیں بیٹھا تھا اور اپنے بیٹوں کا دفاع کر رہا تھا۔ بالآخر سر پنچ صاحب نے شیر دل سے کہا ” دیکھ بھئی، یہ تو مان رہا ہے کہ اس نے ایسا کیا لیکن ایسا کوئی بلاوجہ تو نہیں کرے گا، کچھ نہ کچھ تو ہوا ہو گا نا تمہاری طرف سے!!!”

ان کا یہ جملہ سن کر یہی خیال آیا کہ اگر اس اصول کو صحیح مان لیا جائے تو اس کے نتائج کیا ہوں گے؟ ہابیل نے کچھ تو ایسا کیا ہوگا کہ قابیل نے اس کو قتل کر دیا؟ یہود اپنے انبیاء کو قتل کرتے رہے کوئی تو وجہ ہوگی نعوذباللہ۔ مطلب ان کے اصول کے مطابق اس دنیا میں جس پر کوئی زیادتی ہوئی ہے اس میں کوئی نہ کوئی قصور اس کا اپنا بھی ہو گا۔ سرپنچ کے اس تاریخی فیصلے کے ساتھ ہی اذان ہو گئی اور یوں صلح کا اعلان کر دیا گیا۔ دونوں طرف سے ہاتھ ملا لیے گئے اور معافی تلافی ہو گئی۔

********

زبردستی کی اس صلح سے یہ معاملہ تو نمٹ گیا۔ اب شاید یہ لوگ ایک دوسرے کو دیکھ کر منہ دوسری طرف کر کے چلے جائیں۔ شاید شیردل کا بہنوئی ایک دو سال بعد اپنے بچپن کے دوستوں کے ساتھ دوبارہ بیٹھنے لگے۔ شاید تنویر کے سر کے ٹانکوں کے نشان وقت کے ساتھ مندمل ہو جائیں۔ لیکن کیا ایسے واقعات ہونا بند ہو گئے؟ کیا اس بات کی ضمانت مل گئی کہ کل کو کسی اور تنویر کا سر نہیں پھٹے گا؟ وثوق سے کہا جا سکتا ہے کہ اس بات کی کوئی ضمانت نہیں۔ یہ نظام صرف ظلم کی ترویج کر رہا ہے۔ اور مظلوموں کے پاس کوئی ایک بھی ذریعہ نہیں ہے کہ وہ انصاف حاصل کر سکیں۔ نہ ہی ان کو کوئی بچاؤ کا راستہ نظر آتا ہے. ہر کسی کے پاس یہ موقع نہیں ہوتا کہ اگر اس کو کسی جگہ ظلم کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے تو وہ کسی دوسری جگہ ہجرت کر جائے ۔ اسی لیے لاوا اندر ہی اندر پک رہا ہے۔ یہ دیکھنے کے لیے کسی خورد بین کی ضرورت ہے نہ دوربین کی، بس تعصب کی عینک اتارنے کی ضرورت ہے۔ سڑکوں پر ہوتے فیصلے ضروری نہیں ہمیشہ صلح پر منتج ہوں۔ عوام کبھی کبھی اپنی عدالتیں بھی لگا لیتے ہیں اور اس چکی میں گھن کے ساتھ گیہوں بھی پستا ہے۔ عوام کی وحشیانہ عدالتیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ جب لاوا بہت پک جاتا ہے تو وہ پہاڑ کا سر پھاڑ کر باہر آجاتا ہے۔ اگر پریشر ککر میں بھاپ نکلنے کی جگہ نہ ہو تو ہر گھر میں روز دھماکے ہوں۔ یہی اصول سماج کا ہے۔ ظالم معاشرہ مظلوم کےلیے ہر راستہ بند کر کے سمجھتا ہے اس کی بچت ہوگئی جب کہ حقیقتاً وہ اپنے تابوت میں کیل ٹھونک رہا ہوتا ہے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ قانون کو ہاتھ میں لے لیا جائے لیکن اس نظام کی تطیہر اب لازم ہو گئی ہے۔جب تک اس ہتھوڑے برسانے والے کے سر پر بھی ویسے ہی ہتھوڑے نہیں پڑیں گے تب تک وہ بھی باز نہیں آئے گا بلکہ اور نڈر ہو جائے گا۔ جب تک ظلم کرنے والے کو اس بات کا ڈر نہیں ہوگا کہ آنکھ کے بدلے آنکھ اور دانت کے بدلے دانت جا سکتا ہے تب تک ظالم کا ہاتھ نہیں رکے گا۔ یہی قانون قصاص ہے جو ہمیں ہمارے عادل کریم رب نے دیا ہے۔ ” اور اے عقل رکھنے والو تمہارے لیے قصاص میں زندگی (کا سامان) ہے”

وَلَكُمْ فِي الْقِصَاصِ حَيَاةٌ يَا أُولِي الْأَلْبَابِ

کنویں کے عوام

Posted in Islam, Rants, Social revolution by baigsaab on November 23, 2011

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک کنویں میں کچھ مینڈک رہتے تھے. ویسے تو ان کی زندگی میں کوئی مسئله نہیں تھا لیکن ان کا کوئی بادشاہ نہیں تھا.اسی پریشانی میں ان کے دن رات بسر ہو رہے تھے کہ ایک دن کہیں سے لکڑی کا ایک بڑا سا شہتیر آن گرا. زور کا چھپاکہ ہوا اور کنویں میں، جو ظاہر ہے ان کی پوری دنیا تھی، بھونچال آگیا. سب مینڈک ادھر ادھر چھپ گئے. آنکھوں آنکھوں میں ایک دوسرے کو اشارے کیے گئے. ” یہ تو کوئی بہت ہی طاقتور مخلوق لگتی ہے!” “ہاں ہاں اس کو اپنا بادشاہ بنا لیتے ہیں” چنانچہ سب کے سب دست بستہ اس لکڑی کے تختے کے آگے آئے اور عرض کی “مہاراج، آپ کی بہت مہربانی کہ آپ ہماری دنیا میں تشریف لائے.ہم آپ کو اپنا بادشاہ بنانا چاہتے ہیں.” لکڑی کی خاموشی کو رضامندی سمجھ کر انہوں نے اس کو اپنا بادشاہ بنا لیا. روز اس کے سامنے پیش ہوتے اور اپنے فیصلے کراتے.دن گزرتے گئے اور بادشاہ کی خاموشی سے مینڈک بور ہونے لگے. ان کو لگتا تھا کہ بادشاہ کو ذرا دبنگ ہونا چاہیے. اور پھر ایک دن ایک گستاخ مینڈک بادشاہ کے اوپر بیٹھ گیا. پہلے تو سب نے بہت شور مچایا اور اس گستاخ کو سنگین نتائج کی دھمکی دی لیکن بادشاہ کی خاموشی نے ا وروں کو بھی شہہ دی. ایک ایک کر کے سب لکڑی کے اس تختے پر چڑھ گئے اور بالآخر بادشاہ کو “معزول” کر دیا گیا. ابھی اسی ادھیڑ بن میں تھے کہ اگلا بادشاہ کہاں سے لائیں کہ ٹھیک اسی طرح ایک بڑا سا اژدہا نہ جانے کہاں سےکنویں میں آن گرا. پھر وہی زور کا چھپاکہ اور مینڈکوں کی پہلے روپوشی، پھرآنکھوں آنکھوں میں بادشاہ کا انتخاب اورپھر برآمدگی . اب جو مینڈک “تاج پوشی” کے لئے باہر آئے تو بادشاہ سلامت نے آؤ دیکھا نہ تاؤ، جھٹ اپنی رعایا کی طرف لپکے اور پوری عوام کو ایک منٹ میں اپنے پیٹ میں پہنچا دیا. پیٹ میں پہنچ کر مینڈکوں کا کیا رد عمل تھا، اس بارے میں راوی خاموش ہے.

سمجھ نہیں آتا کہ اس کو اپنی قوم کی بدقسمتی کہوں یا انشاء جی کی تحریر کی شگفتگی کہ ۴۰ سال گذرنے کے باوجودان کی اس حکایت کو اپنے عوام پہ مکمل طور پر پورا ہوتے دیکھ سکتے ہیں.کسی سے پوچھ لیں بھائی قیادت کو کیسا ہونا چاہیئے. جواب ملے گا کہ بھائی مخلص ، با صلاحیت اور دیانت دار. پوچھو کہ مسلمان حکمرانوں میں پسند کون ہے، جواب حضرت عمرؓ . پوچھئے یہاں کے حالات کیسے صحیح ہونگے تو جواب اسلام. انگریزی محاورہ ہے کہ اگر خواہش گھوڑا بن سکتی تو ہر فقیر شاہ سوار ہوتا. ذرا ایمان داری سے سوچئے کہ ہمارے کتنے فیصد عوام اپنی دعاؤں میں یہ مانگتے ہونگے کہ اللہ ہمارے صدر وزیر اعظم کو سچا پکا مسلمان بنا دے. کس نے کبھی اپنے ملک کے صدر ، یا گورنر یا علاقے کے ناظم کے پیچھے نماز پڑھنے کی خواہش کی ہوگی جبکہ خلفائے راشدین اور ان کے عمال (گورنر) اپنے لوگوں کو خود نماز پڑھاتے تھے.

گنتی کے چند لوگوں کو چھوڑ کر ہمارے نصیب میں آئے تو ایسے کہ جو یا تو میر جعفر کی اولادوں میں سے تھے (جی ہاں، پاکستان کے ایک صدر صاحب میر جعفر کی اولادوں میں سے تھے!!!) یا جن کو اپنا اتنا ہوش بھی نہیں تھا کہ قضائے حاجت کے لئے کسی بین الاقوامی کانفرنس کے لان کا انتخاب مناسب نہیں . یا وہ جنہوں نے روشن خیالی کا مطلب یہ لیا کہ بغل میں دو کتے دبائے اور تصویر کھنچوا لی یا وہ جن کو اتنا بھاری مینڈیٹ ملا کہ اس کے نیچے آکر وہ ملک کو سود سے پاک کرنے کا نادر موقع گنوا بیٹھے. یا وہ جن کی ایک نہیں دو نہیں تیسری نسل اقتدار کے مزے لوٹ رہی ہے اور لوٹتی چلی جا رہی ہے. ایسا کیوں ہے؟ ہماری پوری تاریخ میں بابائے قوم کے بعد شاید ملک معراج خالد ایک ایسے شخص تھے کہ جو واقعی عام لوگوں کی طرح رہتے تھے . نگران ہی صحیح لیکن وزیر اعظم تو تھے. عام لوگوں کی طرح اکنومی کلاس میں سفر کرتے تھے. اپنے گھر کو وزیر اعظم ہاؤس کا درجہ دیا نہ کہ خود اپنے تام توبڑے سمیت سرکاری محل میں جا بیٹھتے. لیکن کیا ہوا؟ آج کیا کسی کو یاد بھی ہے کہ ہمارے ملک میں محض ١٥ سال پہلے ایسا دور بھی آچکا ہے کہ جب وزیر اعظم عام لوگوں کی طرح رہتا اور گھومتا پھرتا تھا؟

اگر خدا لگتی بات کریں تو اس وقت عوام کا سیاست دانوں پر سے اعتبار مکمل طور پر اٹھ چکا ہے. وہ سیاست جو بنی اسرائیل میں انبیاءجیسی پاکیزہ ہستیاں کیا کرتی تھیں ، آج ایسا لفظ بن گیا ہے جس کے مطلب جھوٹ، دھوکہ ، بد عہدی اور بہتان طرازی ہو کر رہ گیا ہے.یہ وہ لوگ ہیں جو کبھی تو ایک دوسرے کو غلیظ القابات سے نوازتے ہیں، پھر “ملک کے عظیم تر مفاد” میں ان سے اکٹھ بناتے ہیں، اور پھرانہی سے ہاتھا پائی بھی کر بیٹھتے ہیں. پھر مل جائیں گے، پھر روٹھ جائیں گے. غرض جو بھی کرتے ہیں، لگتا یہ کہ عوام کو اس سے کوئی سرو کار ہی نہیں ہے کہ یہ کیا کر رہے ہیں؟ دیکھا یہ گیا ہے کہ ہر کوئی روزانہ TV اس امید پر کھولتا ہے کہ شاید کوئی نیا تماشا دکھ جائے. اور مایوسی نہیں ہوتی. کہیں کوئی قرآن سر پر اٹھا کر اپنے آپ کو معصوم اور دوسرے کو قاتل قرار دے رہا ہے تو کہیں ایسا جواب دیا جا رہا ہے کہ لوگ سوچتے ہی رہ گئے کہ کہا کیا؟ لگتا ایسا ہے کہ ان تمام جماعتوں اور لیڈروں کو پتہ ہے کہ عوام کے چاہنے نہ چاہنے سے کچھ نہیں ہوتا، طاقت کے مراکز کہیں اور ہیں اور ان کو خوش رکھنےمیں ہی اقتدار ملتا ہے. اور یہ جو جملہ ہوتا ہے نا کہ “یار یہ سب ملے ہوئے ہیں” یہ کسی ایک قومیت کے لوگوں میں محدود نہیں ہے. تو ایک دفعہ جی کڑا کر کہ یہ تسلیم کر کیوں نہیں لیتے کہ ہاں بھائی ہماری پسند اور ہے اور ترجیح اور.یہ کہ وہ جو ہم چاہتے ہیں کہ ہم پسند کریں وہ اور چیز ہے اور وہ جو ہمیں واقعی پسند ہے وہ اور. اس سے اور کچھ ہو نہ ہو کم از کم اس دو عملی سے تو جان چھوٹ جائے گی جس میں قوم آج مبتلا ہے.

ویسے قائدین کے اس قحط الرجال کی ذمے داری ایک حد تک علماء پر بھی آتی ہے. انہوں نے خانقاہوں تک اپنے آپ کو محدود کر کے سمجھا کہ حکومت کرنا کسی اور کا کام ہے. ظاہر ہے کہ نظام کوئی خلاء نہیں ہوتا اگر اچھی قوتیں اقتدار پر قبضہ نہیں کرتیں تو بری قوتیں تو آئیں گی ہی. اسلام میں عہدے کی خواہش کرنا اور اس کے لئے تگ و دو کرنا کوئی پسندیدہ بات نہیں ہے لیکن جیسا کہ ہمیں حضرت یوسفؑ کی سیرت میں ملتا ہے کہ اگر متبادل قیادت میں کوئی دیانت دار شخص نہ ہو تو عہدے کو لے لینا غلط بھی نہیں. علماء نے بہرحال احتیاط کو ترجیح دی او رحکمرانوں کو مشوره دینے اور بعض صورتوں میں سرزنش کی حد تک اپنے آپ کو محدود رکھا. اور اگر اسلاف میں تابعین اور تبع تابعین کا طرز عمل دیکھیں تو انہوں نے بھی یہی کیا. لیکن اس وقت میں اور اس وقت میں چند بنیادی فرق ہیں . اور وہ یہ کہ ایک تو اس وقت شریعت کا نظام نافذ تھا. جو بھی برائیاں تھیں وہ بادشاہ یا طبقہ امراء کی حد تک تھیں. دوسرے یہ کہ عوام کا تعلّق علماء کے ساتھ بہت مضبوط تھا. اکثریت کی نظر میں معروف معروف تھا اور منکر منکر.جبکہ آج آوے کا آوا بگڑا ہوا ہے. غرض آج کے اس دور میں جبکہ عوام کی سطح پر شریعت پر عمل تقریبا مفقود ہو گیا ہے،جیّد علماء کے لئے کلمہ حق کو بلند کرنا اور بھی ضروری ہو گیا ہے.

جاتے جاتے اس بات پر غور کر لیں کہ جیسا دودھ ہوتا ہے ویسی ہی بالائی ہوتی ہے. تو جیسی دوغلی قوم ہے ویسے ہی اس کے حکمران. ہمارے نزدیک قائد کو ذرا بھرم باز ہونا چاہیے. جس سے سب ڈرتے ہوں اور جس کے قول و فعل میں بھلے تضاد ہو تو ہو لیکن بات کرے تو سب کو چپ کرا دے. نماز بھلے نہ پڑھے لیکن قرآن کے معنی سمجھا دے بھلے غلط ہوں. اور لیڈر کی شرعی داڑھی کا مطلب تو یہ کہ وہ قیادت کے لائق ہی نہیں.غرض ہم لوگوں کے نزدیک شریف آدمی بیوقوف ہوتا ہے اور تیز آدمی کارآمد. کیا کروں کہ بات اسی کنویں کے مینڈکوں تک واپس آگئی کہ جو شاید”بھولے بادشاہ” پر صبر کر جاتے تو خوش رہتے. اژدہے کے پیٹ میں نہ جانے کیا سوچتے ہونگے. لیکن کیا کریں کہ راوی ایسے بے وقوفوں کے بارے میں چپ ہے!

For those who ponder

Posted in Islam, Social revolution by baigsaab on April 21, 2010

The modern age is the age of professionalism. This is the age when being workaholic is not a disorder but a demand. People now cannot tend to their most basic needs because they haven’t the time to do so. Being ahead from their peers in the rat race remains the ultimate desire of every individual. So much so that to be ahead in life they forsake their basic rights, right to be happy, right to be content, right to be with the family, right to be religious etc. Today’s civilization seems like a giant web which has tied us in invisible strings where we’re supposed to do only three things: Go to work, go home, and prepare to go to work. Even our recreations are a way of supplementing this schedule.

But there are times, when destiny laughs in our face and makes us feel so helpless that we’re left wondering if we had any power all along. It’s at such times that our monotony comes to an abrupt halt. One such instance is when we’re witnessing the funeral of a loved one. At such a time, none of our “most important and most urgent” errands are so much as important as the grief of losing our loved ones. Work can wait then, because we’ve humbly submitted to our destiny.

The same hand of destiny is currently holding an entire continent- who is the flag bearer of atheism in the world- in a state of paralysis. Europe’s air travel has come down to an absolute halt due to hot toxic ash oozing from a glacier.

(Boston Big Picture)

I couldn’t help but laugh at the remark from an acquaintance that “isn’t it ironic hot lava is coming from Iceland!” The volcano, Eyjafjallajökull (Pronounced something like Aiya-fjadla-yeugdul), is a veteran of centuries and since the time of its reawakening last week, has spewed enough fumes and toxic ash into the atmosphere to have spread over almost all Europe.
(BBC News)
That’s why all flights coming in and out of Europe have been seized, leaving hundreds of thousands of commuters stranded at airports, airlines incurring daily losses of over 200 Million USD for accommodating customers, even Germany’s Chancellor has had to make her trip back home from Italy via car. Those who could afford are opting for the Intra-Continent train system, and some have opted for the fairy, converting one industry’s misery into another’s pleasure. The majority of people are those who are left stranded. People who were supposed to be on urgent assignments abroad have had to realign their schedule, they couldn’t have done otherwise. No matter how badly the airlines and the passengers want these flights to take off, conditions are absolutely not favorable for flight and there is high risk of plain crashes with ash blocking the engines. Worse, the glacier is still exhuming its contents and there’s a fair chance it could continue to do so for a month or even more. Worst, it could trigger other volcanoes which are somehow quite abundant in Iceland.

Our businesses run on the premise of predictability. We hope that the world wouldn’t come to end tomorrow. That’s why we leave our loved ones behind everyday to work because we believe that we’ll come back in the evening to see them again. This predictability comes from the laws that ALLAH (swt) has embedded in the universe: law of gravitation, law of entropy, law of aerodynamics, law of surface tension, law of aging etc. ALLAH (swt) declares this tranquility in the Quran as one of His Ayaat.
In Surah Faatir it is mentioned:

إِنَّ اللَّهَ يُمْسِكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ أَن تَزُولَا ۚ وَلَئِن زَالَتَا إِنْ أَمْسَكَهُمَا مِنْ أَحَدٍ مِّن بَعْدِهِ ۚ إِنَّهُ كَانَ حَلِيمًا غَفُورًا

خدا ہی آسمانوں اور زمین کو تھامے رکھتا ہے کہ ٹل نہ جائیں۔ اگر وہ ٹل جائیں تو خدا کے سوا کوئی ایسا نہیں جو ان کو تھام سکے۔ بےشک وہ بردبار (اور) بخشنے والا ہے

Lo! Allah graspeth the heavens and the earth that they deviate not, and if they were to deviate there is not one that could grasp them after Him. Lo! He is ever Clement, Forgiving. (41)

On another place it is mentioned in Surah Shoora:

إِن يَشَأ يُسكِنِ الرّيحَ فَيَظلَلنَ رَواكِدَ عَلىٰ ظَهرِهِ ۚ إِنَّ فى ذٰلِكَ لَءايٰتٍ لِكُلِّ صَبّارٍ شَكورٍ

اگر خدا چاہے تو ہوا کو ٹھیرا دے اور جہاز اس کی سطح پر کھڑے رہ جائیں۔ تمام صبر اور شکر کرنے والوں کے لئے ان (باتوں) میں قدرت خدا کے نمونے ہیں

If He will He calmeth the wind so that they keep still upon its surface – Lo! herein verily are signs for every steadfast grateful (heart). – (33)

In Surah Room it is mentioned:

وَمِن ءايٰتِهِ أَن يُرسِلَ الرِّياحَ مُبَشِّرٰتٍ وَلِيُذيقَكُم مِن رَحمَتِهِ وَلِتَجرِىَ الفُلكُ بِأَمرِهِ وَلِتَبتَغوا مِن فَضلِهِ وَلَعَلَّكُم تَشكُرونَ

اور اُسی کی نشانیوں میں سے ہے کہ ہواؤں کو بھیجتا ہے کہ خوشخبری دیتی ہیں تاکہ تم کو اپنی رحمت کے مزے چکھائے اور تاکہ اس کے حکم سے کشتیاں چلیں اور تاکہ اس کے فضل سے (روزی) طلب کرو عجب نہیں کہ تم شکر کرو

And of His signs is this: He sendeth herald winds to make you taste His mercy, and that the ships may sail at His command, and that ye may seek his favour, and that haply ye may be thankful. (46)

As it is clear from the above mentioned verses, the laws of nature, no matter how predictable, are subject to ALLAH (swt)’s will. It’s not just that the universe was created by ALLAH (swt) and triggered in a self-perpetuation state. No. ALLAH (swt) is well and truly at the helm of His eternal kingdom. Earthquakes, volcanic eruptions, tsunamis, cyclones, tremors, and epidemics like dengue fever, cholera and plague are not signs of chaos, but the exceptions that prove the rule. They are but just a way to remind human beings that they’re not left unanswerable and that they’re not indispensable. There were much mightier civilizations than the current one which have been swept clean from the face of this earth in such catastrophes. As if they never were.

For those affected by this current debacle, and for those who’re witnessing it happen, maybe ALLAH (swt) has given a chance to ponder in his Ayaat. We’ve got to take the time out of our busy schedules to look into ourselves and in the universe. Human being has become lonelier and lonelier but the solitude that lets us think about our Creator is still a rare commodity. We should relish this chance. Any calamity that makes us closer to our Lord is not a calamity, it’s a blessing. And smart and practical people grab blessings with both hands!

May ALLAH (swt) makes us one of his dear ones. Ameen

Quranic references from:

Quran Media Player

Quran Explorer

Tanzil.info