Baigsaab's Blog

پانچ سو سال پرانا میموگیٹ اسکینڈل

Posted in Social revolution by baigsaab on January 14, 2012

سنتے آئے ہیں کہ تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہے۔ شاید بہت سے لوگوں کے لیے تاریخ میں سوائے بوریت کے اور کچھ نہ ہو لیکن واقعہ یہ ہے کہ تاریخ کا مطالعہ نہ صرف آنے والے خطرات کی پیش بندی کا موقع فرہم کرتا ہے بلکہ وہ موجودہ حالات کو بھی ایک مختلف تناظر میں متعارف کرا سکتا ہے۔ آج کل ہمارے ملک کا سب سے بڑا مسئلہ مہنگائی یا بڑھتی ہوئی خودکشیاں نہیں بلکہ ایک ایسا معاملہ ہے جس میں ہمارے ملک کی اعلیٰ ترین مقتدر شخصیات کا ملک دشمن سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا اندیشہ ہے۔یہ معاملہ ہے میمو گیٹ اسکینڈل کا (نہ چاہتے ہوئے بھی یہ مانگے کی اصطلاح استعمال کرنی پڑ رہی ہے ورنہ صدر نکسن کا قصور اتنا بڑا نہ تھا کہ ایسی شرمناک حرکت اس سے منسوب کر دی جاتی) ۔ کہتے ہیں کہ ہمارے ملک کی اعلیٰ مقتدر ہستیوں نے امریکہ بہادر کے ایک جنرل کو لکھا (یا لکھوایا) کہ حضور آپ کی نظر کرم ہو تو ہم یہاں آپ کی من پسند انتظامیہ کھڑی کر دیں گے۔ اور جو کچھ آپ نے مانگا ہے وہ بلکہ جو آپ نہ بھی مانگیں وہ بھی آپ کی نذر کرتے ہیں بس ہمیں اپنی پسندیدگی کی سند دے دیں۔ یہ وہی مقتدر ہستیاں ہیں جو پہلے یہ کہہ چکی ہیں کہ “کولیٹرل ڈیمیج آپ امریکنوں کو پریشان کرتا ہے ہمیں نہیں” یا “آپ ڈرون برسائے جاؤ ہم منہ دوسری طرف کیے رہیں گے لیکن باہر باہر سے احتجاج بھی کریں گے”۔ مسلمانوں کی صفوں میں غداروں کا ہونا کوئی نئی بات نہیں۔ لیکن مسلمان حکمران اپنے کافر آقا ؤں سے باقاعدہ خط و کتابت کے ساتھ غداری کے عہد و پیمان باندھ لیں اس کی مثال ہماری ذلت کی تاریخ میں بھی بہت ہی کم ہے۔ آج ہم اس میمو کو رو رہے ہیں کہ کس نے لکھا اور کیوں لکھا کس نے اس کو طشت از بام کیا اور کیوں کیا، لیکن مسلمانوں کی تاریخ پچھلے ۵۰۰ سال سے چیخ چیخ کر کہہ رہی ہے کہ تب بھی کسی نے ایک میمو لکھا تھا۔ اور مماثلت بس یہیں ختم نہیں ہو جاتی۔

امیر ابو عبداللہ غرناطہ میں مسلمانوں کا آخری حکمران تھا۔ اندلس میں آٹھ سو سالہ مسلم تاریخ کا آخری باب۔ اپنے باپ مولائے ابوالحسن کی پیٹھ پیچھے اقتدار پر قبضہ کرنے کے بعد اپنے اقتدار کو عوامی حمایت دلانے کے لیے اس نے قسطیلہ (کاسٹائل) کی عیسائی افواج پر یکطرفہ چڑھائی کردی اور بری طرح شکست کھا کر جنگی قیدی بنایا گیا۔ قید سے چھوٹا تو اس شرط کے ساتھ کہ اس کو غرناطہ کا اقتدار واپس دلایا جائے گا تاکہ وہ غرناظہ کی بغیر کسی مزاحمت کے عیسائی حکومت میں شامل ہونے کو یقینی بنائے۔ ابو عبداللہ نے واپس آنے کے بعد اپنے اقتدار کے آخری دن تک ہر روز شاید اسی کوشش میں گزارا کہ وہ کس طرح زیادہ سے زیادہ مال اکٹھا کر لے اس سے پہلے کہ اقتدار چھوڑنا پڑے۔ اس کام میں اس کے معاون اس کے وزرا ء اور امراء بھی تھے اور پورے حکمران طبقہ میں مشکل ہی کوئی ہو جو اس بہتی گنگا میں ہاتھ نہ دھو پایا ہو۔ اس تقریباً سات سال کے عرصے میں لا تعداد دفعہ خط و کتابت ہوئی اور ان میں سے کئی کو محفوظ کر لیا گیا، ڈاکٹر حقی حق نے اپنی کتاب “ہوئے تم دوست جس کے” میں ان کا ذکر کیا ہے اور نسیم حجازی کے “شاہین” سے تو ہماری اکثریت واقف ہی ہے۔ ان “میمو جات” میں کبھی تو امیر ابو عبد اللہ نے لکھا کہ کسی شورش یا ہنگامہ کی صورت میں غرناطہ کی حفاظت کی جائے کیونکہ ہم اپنے دفاع کے لیے آپ کی طرف دیکھتے ہیں۔ تو کبھی جوابی خط میں فرڈینینڈ نے ابو عبد اللہ کو لکھا کہ تمہارے وزیر ہم سے زیادہ کا مطالبہ کر رہے ہیں کیا تمہارے علم میں نہیں؟ کبھی فرڈینینڈ نے ابو عبداللہ سے ایک خط میں “ڈو مور” کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم تمہارے وزراء سے بات کرتے ہوئے تمہارے مفادات کو ترجیح دیتے ہیں۔ لیکن تم پر ہماری عنایات اسی وقت تک ہیں جب تک تم عیسائی حکمرانوں کے مفادات کا خیال رکھو۔ اور سگ ذہنی کا پاتال وہ عبارت بھی موجود ہے جو مسلمان وزراء نے ایک مشترکہ خط میں لکھی کہ اے شان والے بادشاہ، ہم تمہارے حضور حاضر ہو کر تمہارے ہاتھ چومنا چاہتے ہیں اور تمہارے جسم کا ہر وہ حصہ چومنا چاہتے ہیں جس کی کہ اجازت دی جائے تاکہ ان غلاموں کی وارفتگی تم خود دیکھ لو!

لیکن صحیح معنوں میں اس دور کا “میمو” اگر کسی خط کو کہا جا سکتا ہے تو وہ وہ کتابت ہے جو عبداللہ اور اس کے وزیروں نے غرناطہ کو عیسائی حکمرانوں کے حوالے کرنے کے عوض اپنے لیے مراعات کی ضمانت حاصل کرنے کے لیے کی تھی۔ اس خط میں موجود چند شرائط یہ ہیں :

-سقوط غرناطہ کے وقت عبداللہ کو تین لاکھ ماراوید ( کرنسی) کی ادائیگی
-المیریا میں زرخیز زمین
-شاہی خواتین کو زیورات اور بناؤ سنگھار کی چیزیں فروخت کرنے کی اجازت
-عبداللہ اور اس کے امراء کے اموال محفوظ قرار دیا جانا
-الحمراء پر قبضہ کے وقت عبداللہ اور گورنر غرناطہ کو دس دس ہزار سکہ نقد دیے جانا
-جو کسان عبداللہ اور اس کے امراء کے لیے غلہ اگاتے ہیں ان کے تحفظ کی ضمانت

یہ خط ایک کافر بادشاہ کو ایک مسلمان بادشاہ کی طرف سے تھا۔ ایک ایسا مسلمان بادشاہ جس کے سامنے دو میں سے ایک راستہ تھا۔ یا تو عیسائی قوت کے آگے ڈٹ کر کھڑا ہو جائے اور اللہ کی نصرت پر بھروسہ رکھے۔یا اس قوت کے سامنے سے ہٹ جائے اور اپنی اور اپنے خاندان کی بہتری کا خیال کرے۔ بادشاہ نے دوسری راہ اختیار کی اور تاریخ گواہ ہے کہ وہ کوئی بہت زیادہ جیا بھی نہیں اور مرا بھی تو اس حال میں کہ اس کی لاش دریا کے کنارے پڑی تھی اور گھوڑے اسے روند رہے تھے۔ اس خط کے 6 سال بعد غرناطہ پر اسلام کا پرچم غروب ہو گیا۔ اور اس دن سے لے کر آج کا دن ہے، اندلس میں اسلام کبھی واپس نہیں آیا۔ عبداللہ پر شاید اس کی اوقات سے بڑی ذمہ داری آگئی تھی اور اس نے اس ذمہ داری سے ہر ممکن پہلو تہی کرتے ہوئے اپنے تحفظ کو مقدم رکھا۔ اس نے اپنی عوام کو یقیناً یہ باور کرایا ہو گا کہ اس معاہدے میں ہی ہماری بقاء ہے ورنہ ہمارا “تورا بورا” بنا دیا جائے گا۔ یا فرڈینینڈ ہمیں “پتھر کے دور” میں پھینک دے گا۔ اور سقوط کے معاہدے میں بظاہر مسلمانوں کے حقوق کا تحفظ کیا گیا تھا مثلاً انہیں زبردستی عیسائی نہ بنائے جانے کی یقین دہانی اور ان کے جان و مال کا تحفظ لیکن عملاً ایک بار جب عیسائی قابض ہو گئے تو مسلمانوں کے لیے معاہدے کی کسی ایک شق پر بھی عمل کرانا ناممکن تھا۔ مسلمانوں کو زبردستی عیسائی بھی بنایا گیا اور ان کے جان و مال زبردستی چھینے بھی گئے۔ لیکن یہ شاید ان کی غفلت کی قیمت تھی کہ انہوں نے اپنے اس بادشاہ پر بھروسہ کیا تھا جس نے ان کو اقتدار میں آنے سے پہلے ہی بیچ دیا تھا۔

۱۴۹۲ کے اندلس اور آج کے پاکستان میں صرف یہی مماثلت نہیں ہے کہ ان کا بادشاہ بھی جیل سے نکال کر بادشاہ بنایا گیا تھا۔ یا اس کے بادشاہ بنائے جانے میں بھی کسی پاور ڈیل کا دخل تھا۔ یا یہ کہ اس کے وزیر کا نام بھی یوسف تھا۔ یا یہ کہ اس نے بھی اپنی خودغرضی کو وسیع تر قومی مفاد کا نام دیا تھا۔ یا یہ کہ تب بھی ایک میمو لکھا گیا تھا اور آج بھی۔ بلکہ ہمار ے لیے سب سے بڑی مماثلت یہ ہے کہ اس وقت کے عوام بھی اپنے کام دھندوں میں لگے رہے۔ معاملات کی جو تصویر ان کو حکام نے دکھائی وہ دیکھی اور خبردار کرنے والوں کی بات پر کان بھی نہ دھرے۔ حکام شریعت سے روگردانی کرتے رہے ، مملکت کے دفاع کے سودے کرتے رہے اور عوام اپنے کام دھندوں اور کھیل تماشوں میں لگے رہے۔ اس وقت بھی،آنے والے حالات کی سنگینی سے آگاہ کرنے والوں کو “میسینجرز آف ڈوم” یا “تباہی کے قاصد” کہا گیا ہو گا۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہاں غرناطہ میں اسلا م کا پرچم سرنگوں ہوا اور وہاں مسلمانوں کی کم بختی شروع۔ یہ منظر بھی تاریخ کے اوراق میں موجود ہے کہ ایک طویل قطار میں لوگ اپنی باری کا انتظار کر رہے ہیں اور زار و قطار رو رہے ہیں کہ یہ لائن داڑھی کٹانے کے لیے ہے۔ اور یہ بھی کہ مسلمان پردہ دار بیبیوں کو بپتسمہ دیا جا رہا ہے۔ اور یہ بھی کہ مسجدوں میں عیسائی فوجیوں کے گھوڑے بندھے ہیں ۔ اور “انکوئیزشن” کا نام تو غیر مسلم مؤرخین کے سامنے بھی لیں تو وہ بھی کانپ جاتے ہیں۔

پھر لکھتا ہوں، تاریخ پڑھنے سے مستقبل کانقشہ واضح ہوتا ہے۔ یہ سطریں صرف تفنن طبع کے لیے تحریر نہیں کی گئیں بلکہ اس خطرے سے آگاہ کرنے کے لیے ہیں جو ہمارے سروں پر منڈلا رہا ہے۔ اندلس کی تاریخ کے مطالعہ کے وقت ہمیشہ یہی سوچ ذہن میں رہتی تھی کہ کیا اس دور کی عوام اندھی تھی کہ اس کے سامنے اتنا بڑا کھیل ہو گیا اور اسے خبر بھی نہ ہوئی۔ لیکن آج ہمارے ساتھ بھی کچھ ایسے ہی کھیل کھیلے جا رہے ہیں۔ آج ہمارے لیے بجلی، گیس اور دوسری چیزوں کی قلت پیدا کر کے دھیان ان چیزوں میں لگا دیا گیا ہے جیسے یہ دنیا کی سب سے ضروری چیزیں ہوں۔ دوسری طرف ایک سیاسی تماشہ ہے جو کبھی نئےصوبوں کے نام پر اور کبھی انتخابی ہنگامے کے نام پر رچایا جاتا ہے۔ اس سب کے بیچ نیٹو کے سامنے خم ٹھونک کر کھڑے ہونے کی ادا بھی دکھائی گئی ہے جس سے انہیں ہم پر حملہ کرنے کا جواز ملتا نظر آرہا ہے۔ لیکن شاید ان سب سے بھیانک بات یہ ہے کہ گزشتہ کئی سالوں سے دھیرے دھیرے ہمیں اس بات کا عادی بنایا جا رہا ہے کہ ہم کفر کے نیچے رہنے کے لیے راضی ہو جائیں۔ ہمارے ملک میں ہر سال کئی لوگ اصلی اور جعلی طریقے سے بیرون ملک جا رہے ہیں اور وہاں مستقل رہائش اختیا رکر رہے ہیں اور جب وہ لوگ وہاں موجود سہولیات کا ذکر کرتے ہیں تو ہمارے یہاں موجود لوگوں کے دلوں میں بھی ارمان پیدا ہوتا ہے کہ کاش ہمارے یہاں بھی ایسا ہوتا۔ لوگوں کی ایک کثیر تعداد کی نظر میں کامیابی کی معراج امیگریشن ہے۔ اس صورتحال میں ہماری اکثریت کا کسی کافرانہ نظام کو قبول کر لینا بعید از قیاس نہیں۔ لیکن یاد رکھیے، ان طاقتوں کے اصول اپنے لیے کچھ اور ہیں اور ہمارے لیے کچھ اور۔ یہ تجربہ آج سے ۵۰۰ سال پہلے اندلس کے اور پھر افریقہ کے مسلمانوں کو، اس کے بعد ریڈ انڈینز کو اور ماضی قریب میں عراق اور افغانستان کے مسلمانوں کو ہو چکا ہے۔

اس سال ۲ جنوری کو غرناطہ میں اسلام کا پرچم سرنگوں ہوئے ۵۲۰ سال ہو گئے۔ کفر کی چالبازیاں اور مسلم حکمرانوں کی غداریاں اب بھی اس ملت کو لاحق ہیں۔ لیکن ہم سے ہمارے عمل کا ہی سوال کیا جائے گا ان کےنہیں۔ بحیثیت قوم ، ایک با کردار قیادت کی ضرورت جتنی آج ہے اتنی شاید پہلے کبھی بھی نہیں تھی۔ تاریخ کے اوراق ہمیں با آواز بلند متنبہ کر رہے ہیں کہ امت مسلمہ نے جب بھی اپنی قیادت کے لیے شریعت کے علاوہ کوئی اور معیار اختیار کیا تو اسےمنہ کی کھانی پڑی۔ وقت کا تقاضہ ہے کہ ہم قیادت کے بارے میں اپنے نظریات کو تبدیل کریں اور با عمل علماء کو اس بات پر مجبور کریں کہ وہ حالات کی باگ ڈور سیاسی مولویوں کے حوالے کرنے کی بجائے اپنے ہاتھ میں لیں۔ بصورت دیگر حالات اگر اسی طرف چلتے رہے تو وہ دن دور نہیں لگ رہا جب، خاکم بدہن، اسلامی جمہوریہ پاکستان نہ اسلامی رہے نہ پاک بلکہ ایک جمہوری استھان بن کر رہ جائے۔ تب شاید ہمیں ابو عبداللہ کی ما ں کی وہ بات سمجھ میں آئے جو اس نے اپنے بیٹے کو روتے دیکھ کر کہی تھی کہ “جس زمین کی حفاظت تو مردوں کی طرح نہ کر سکا اب اس کے لیے عورتوں کی طرح آنسو کیوں بہاتا ہے”۔

شاید ۵۰۰ سال بعد تاریخ نے ایک ماں کا یہ سوال ہمارے سامنے دوبارہ لا کھڑا کیا ہے، کیا آپ کا جواب تیار ہے؟

Advertisements