Baigsaab's Blog

ان سارے جزیروں کو کوئی کاش ملا دے

Posted in Islam, protest, Social revolution by baigsaab on July 15, 2013

کیا وقت ہے یہ بھی! ایسا لگتا ہے پوری دنیا میں اگر کہیں خون بہہ رہا ہے تو وہ مسلمان کا ہے۔ لگتا ہے زمین نے مسلمان خون کے علاوہ کچھ قبول کرنے سے انکار کر دیا ہو۔ وہ برما ہو یا فلسطین۔ شام ہو یا سوڈان۔ افغانستان، پاکستان، بنگلہ دیش ، بھارت، کاشغر، ہر جگہ مرنے والا کلمہ توحید کا ماننے والا۔ کہیں ریاستی جبر ہے تو کہیں بیرونی۔ پھر بھی تمام مسلمان حکومتیں ایک دوسرے کے حالات سے یا تو لا تعلق نظر آتی ہیں جیسے بنگلہ دیش افغانستان کے بارے میں یا پاکستان برما کے بارے میں ۔ یا وہ براہ راست اس ظلم کی مدد کر رہی ہیں، جیسے شام میں ایران اور حزب اللہ ۔ مصر کے حالات پر سعودی اور پاکستانی ہر دو قیادتیں خاموش۔

اس تقسیم کو اور علاقائی پیمانے پر لے آئیں اور محض پاکستان کا ذکر کریں تو یہاں بھی حالات دگرگوں ہیں۔ وزیرستان میں ڈرون حملے، کوئٹہ میں ہزارہ قبائل کی صورتحال، کراچی میں روز گرتی بظاہر بے نام لاشیں، پنجاب کی بند ہوتی صنعتیں، سندھ میں ونی کی گئی لڑکیاں ، بلتستان میں مرتے سیاح۔ پورے ملک میں ہوتے دھماکے۔ یہ بچوں کو کھانا کھلانے سے قاصر ،خودکشیاں کرتے اور ان کا علاج نہ کرا پانے کی خلش کے ساتھ زندہ رہنے والے ماں باپ ۔ قدم قدم پر چھوٹےچھوٹے کاموں کے لیے اہلکاروں کی مٹھی گرم کرنے کی مجبوری۔ ان میں سے ہر مسئلے کا ایک چیمپئن ہے۔ جس نے رشوت ستانی کا مسئلہ دیکھ لیا اس کے لیے قیدی چھڑانے والے کی جدوجہد لا حاصل، اور جو شہروں کے دھماکوں پر سراپا احتجاج ہے وہ ڈرون حملوں پر احتجاج کرنے والوں پر سراپا تنقید۔ جس نے سیاسی جدوجہد کا راستہ دیکھ لیا اس کے لیے دوسرے تمام طریقے بدعت اور جس نے اسلحہ اٹھا لیا اس کے لیے باقی سب طفل مکتب!

اس تفریق کا اور کسی پر اتنا منفی اثر نہیں ہوا جتنا مذہبی طبقہ پر۔ اس کی وجہ کیا ہے یہ ہم آگے دیکھتے ہیں ۔ فی الحال تو یہ دیکھ لیں کہ اوپر گنوائے گئے اور دیگر تمام مسائل کے ساتھ جب الیکشن ہوئے تو لوگوں نے اسلامی جماعتوں کو نہ صرف یہ کہ ان مسائل کے حل کے لیے اپنے اعتماد کے قابل نہیں سمجھا بلکہ ایک صوبے کے علاوہ ان کو اس دفعہ کہیں منہ بھی دکھانے کے قابل نہیں چھوڑا۔ پورے ملک کی ایک ہزار کے قریب صوبائی اور قومی اسمبلیوں کی نشستوں سے اسلامی جماعتوں کے ہاتھ کتنی آئیں؟ پندرہ فیصد؟دس فیصد؟ جی نہیں تین فیصد سے بھی کم یعنی بمشکل تیس سیٹیں۔

بات یہ ہے کہ اسلامی ،خاص طور پر اسلامی غیر سیاسی قوتوں کو واقعی اس بات کا ادراک ہوتا نظر نہیں آتا (یا وہ اظہار نہیں کرتے) کہ لوگوں میں ان کی جڑیں کتنی کمزور ہو چکی ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ مذہبی قائدین نے کسی خاص حکمت عملی کے تحت اپنے آپ کو ان حالات میں الگ تھلگ رکھا ہوا ہے۔ علماء زیادہ بہتر جانتے ہوں گے کہ اس کی وجہ کیا ہے اور اس کے لیے لازماً ان کے پاس دلائل ہوں گے ۔ اس سب کا نتیجہ یہ ہے کہ علماء اب معاشرے کی رہنمائی کے منصب سے دست کش ہو گئے ہیں۔ اس کے باوجود ایسا نہیں ہے کہ ہمارے دینی طبقے سکون میں ہیں۔ یہ آئے دن کی فرقہ وارانہ ہلاکتیں کیا علماء کی نہیں ہیں؟ کیا مولانا اسماعیل عالم نہیں تھے؟ کیا مفتی دین پوری صاحب کوئی غیر اہم شخصیت تھے۔ کیا مولانا اسلم شیخوپوری صاحب کوئی گزارے لائق مولوی تھے؟ پھر کیا گزشتہ رمضان کراچی کے سب سے بڑے دارالعلوم کا محاصرہ نہیں کر لیا گیا تھا؟ کیا گزشتہ رمضان میں ہی معتکفین کو مسجد میں گھس کر نہیں مارا گیا؟ کیا آئے دن مدارس کو زیادہ سے زیادہ حکومتی کنٹرول میں لیے جانے کی باتیں نہیں ہور ہیں؟ اس سب کے بعد جب کراچی کے صف اول کے علماء میں سے ایک عالم ، جن کے اپنے مدرسے کے اساتذہ اور طلبہ حالیہ مہینوں میں شہید کیے جا چکے ہیں، ملک کے نو منتخب وزیر اعظم کو ایک کھلا خط لکھتے ہیں تو یقین جانیے ایک لمحے کو تو دل میں ایک موہوم سی امید یہ آئی تھی کہ شاید یہ بھی مصر کے عزّ بن عبد السلام کی روایت قائم کریں گے۔ شاید یہ بھی بادشاہ وقت کو اس کے مفرد نام سے پکاریں گے اور اس کو کسی معاشرتی برائی کی طرف متوجہ کریں گے۔ شاید انہوں نے سود کے خلاف ایکشن لینے کو کہا ہوگا، شاید ڈرون حملوں کے خلاف بات ہو گی، شاید امریکہ کی جنگ سے نکلنے کا حکم دیا ہو گا، شاید احادیث کی روشنی میں اور قرآن کی آیات کی رو سے کسی کافر کے شانہ بشانہ کھڑے ہو کر کسی مسلمان کے خلاف جنگ کرنے کے خلاف وعیدیں سنائی ہونگی۔ شاید مہنگائی کے خلاف بات کی ہوگی، شاید شیعہ سنی فرقہ واریت ختم کرنے کی بات ہوگی، شاید ناموس رسالت ؐ کی حفاظت کے بارے میں کوئی ہدایات ہونگی، شاید رشوت کے خاتمے اور سفارش کی روک تھام کی بابت تنبیہہ ہو گی اور شاید اور کچھ نہیں تو حاکم وقت سے اللے تللے ختم کرنے کی بات ہوگی۔ مگر حیف صد حیف کہ خط جب پڑھا تو اس کا لب لباب تھا کہ ‘جناب اعلیٰ قبلہ وزیر اعظم صاحب دام اقبالہ سے گزارش ہے کہ جمعے کی ہفتہ وار تعطیل بحال فرما دیں”!! یقین کریں اگر کسی ملک کا سب سے بڑا مسئلہ صرف یہ ہے کہ ہفتہ وار تعطیل کس دن کرنی ہے تو ہماری رائے میں وہ ملک روئے ارضی پر جنت سے کم نہیں۔

بہ صد ادب کہ حضرت کی امامت میں بارہا نمازیں ہم بھی ادا کر چکے ہیں کہ ان کا تدیّن باعث تحسین ہے، میری نا چیز رائے میں ایسے بے سروپا اقدامات کی وجہ صرف اور صرف ایک ہے۔ ایک مرکزی قیادت کی غیر موجودگی۔ اگر ہمارے ان بزرگوں کی کوئی مرکزی قیادت ہوتی تو ان کے اقدامات اتنے افراتفری کا شکار نہ ہوتے۔ قیادت لیکن ایسے ہی پیدا نہیں ہو جاتی اس کے لیے کئی اہل لوگوں کو قربانی دینی پڑتی ہے۔ ہمارے بڑوں میں سے کچھ کا حال تو یہ ہے کہ اپنے مرتبے اور رتبے کا بھی خیال نہیں کرتے اور مخالفین کو ایسے ایسے ناموں سے پکارتے ہیں کہ کوئی دشمن بھی کیا پکارے گا۔ مشرک، بدعتی، جنت کے طوطے، بینکر، مردودی، پراسراری، نجدی، وہابی، دیوگندی، یہ سارے نام کلمہ توحید کے ماننے والوں کے ایک گروہ کے منہ سے دوسرے گروہ کے لیے نکل رہے ہیں۔ ایمان کے بعد برا نام لینا بھی برا ہے، سورۃ الحجرات کیا کہہ رہی ہے کیا ہم بتائیں آپ کو؟ اور انہی گروہوں کے ذرا اپنے بزرگوں کے لیے تراشے ہوئے القابات ملاحظہ کیجیے۔ کسی کو رومی ثانی کہا جا رہا ہے، کسی کو شیخ العرب والعجم، کسی کو مجدد ملت، کسی کو شیخ الاسلام، کسی کو بلبل مدینہ کہا جاتا ہے تو کسی کو عارف باللہ۔ کسی کے نام میں دامت برکاتھم کا لاحقہ لگا ہے اور کسی کے ساتھ حفظہ اللہ اور کسی کے ساتھ نور اللہ مرقدہ اور کہیں پر قدس اللہ سرہ۔ یہ افراط و تفریط ایسے ہی نہیں ہے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ یہ بزرگان دین ان ناموں کے اہل نہیں، ان میں سے چند یقیناً ہونگے بھی۔ لیکن ان سابقوں اور لاحقوں پر مرنے مارنے کو دوڑنے سے پہلے اس ہستیؐ کے نام کی اگر حفاظت کر لی جاتی جس کے طفیل ان بزرگوں کی عزت ہے تو یہ ان کے لیے یقیناً زیادہ باعث افتخار ہوتا۔

توہین ناموس رسالت کے واقعات اگر بڑھ رہے ہیں تو کسی وجہ سے بڑھ رہے ہیں۔ مسلمانوں کا نام ہر جگہ دہشت گردی میں لیا جا رہا تو کسی وجہ سے لیا جا رہا ہے۔ اس کی ایک ہی وجہ ہے، اور وہ ہے ایک مرکزی، متفقہ قیادت کی عدم موجودگی جو مسلمانوں کو بحیثیت مجموعی ایک لائحہ عمل طے کر کے دے۔ OIC یا عرب لیگ نہیں بلکہ ایسی قیادت جو واقعی مسلمانوں کو ایک جسد واحد کی طرح چلائے۔ جس کی ایک خارجہ پالیسی ہو، ایک مالیاتی پالیسی ہو، ایک صنعتی پالیسی ہو۔ چاہے تعلیمی اور داخلی پالیسیاں کچھ مختلف بھی ہوں تو اس بکھری ہوئی بے مہار امت میں پھر سے جان پڑ جائے گی۔ مسلمانوں کی عالمی سطح پر پھر ایک آواز ہوگی۔ اگر تمام مسلمان ممالک اس بات پر اصولی طور پر متفق ہو جائیں تو پھر اس ادارے کو آپ خلافت کا نام دے لیں یا ریاستہائے متحدہ اسلامیہ کا، بات ایک ہی ہے۔ مسلمان ممالک میں مقتدر طبقات کے مفادات اس معاملے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔ اور پھر وہ اپنے ملک کے دینی طبقات میں سے چند لوگوں کو خرید کر اپنا الو سیدھا کرلیتے ہیں۔ محض چند اختلافات کی بناء پر النور پارٹی نے الاخوان کا ساتھ چھوڑ دیا۔ مرسی کو نکال کر جو نگران حکومت بنی ہے ا س میں النور کا بھی کچھ حصہ ہے مگر انتظار کیجیے کہ کب اس کو دودھ میں سے مکھی کی طرح نکال پھینکا جاتا ہے۔ ایسے ہی ہماری دینی جماعتیں ایک دوسرے کی سعی کو ناکام بناتی ہیں، کہیں دانستہ کہیں انجانے میں۔ ایک دوسرے کے پیچھے نماز تو پڑھ لیتے ہیں لیکن ہاتھ میں ہاتھ نہیں دیتے۔ اخلاقی ہمدردی تو کرتے ہیں لیکن عملی ساتھ نہیں۔ لال مسجد کا سانحہ ہوا لیکن پورے ملک کی مذہبی جماعتوں نے سوائے ایک رسمی احتجاج کے اور کچھ نہیں کیا۔ وجہ اس کی یہ تھی کہ ان کو مولانا عبدالرشید کے طریقے سے اختلاف تھا۔ سب نے مانا کہ لال مسجد کے معاملے کو حد سے بڑھانے میں پرویز مشرف کا کتنا گھناؤنا کردار تھا۔ کیسے اس نے ایک پھنسی کو پھوڑا بننے دیا اور پھر اس کو ریاستی طاقت سے ایسا کچلا کہ آج تک اس کے اثرات محسوس کیے جاتے ہیں۔ یہ سب مان کر بھی، اور یہ سب جان کر بھی، محض ‘تشریح’ کے فرق کی بنیاد پر ہمارے دینی طبقے نے اخلاقی ہمدردی کو ہی کافی سمجھا اور اس معاملے کو اس مقام تک جانے دیا کہ جہاں محض بے بسی سے تماشہ ہی دیکھا جا سکتا تھا۔ پرویز مشرف نے ایک ایک کر کے یہی کھیل باقیوں کے ساتھ بھی کھیلا ہے۔ کہتے ہیں جرمنی میں نازیوں نے بھی ایسا ہی کیا تھا۔ اس زمانے کے ایک پادری کا یہ مشہور ٹکڑا تو آپ نے سن ہی رکھا ہوگا ؏

First they came for the communists,
and I didn’t speak out because I wasn’t a communist.

Then they came for the socialists,
and I didn’t speak out because I wasn’t a socialist.

Then they came for the trade unionists,
and I didn’t speak out because I wasn’t a trade unionist.

Then they came for me,
and there was no one left to speak for me.

محض دین کی تشریح کے فرق کا مطلب ہے کہ ہر جماعت نے سنت نبوی ؐ کا مطالعہ کر کے حضورؐ کی حیات طیبہ میں سے جو چیز سب سے زیادہ اہم سمجھی اس کو اپنی جدوجہد کا مرکز بنا لیا۔ کسی نے تبلیغ کو اہم سمجھا، کسی نے جہاد کو، کسی نے سیاست کو اپنا میدان عمل بنایا تو کسی نے خیراتی کاموں کو، کوئی مسجد کی تعمیر کر رہا ہے تو کوئی مدرسہ تعمیر کیے چلا جا رہا ہے، کوئی ذکر و اذکار کے ذریعے سنت پر عمل کر رہا ہے تو کوئی تحریکی کا م کر کے ایک منظم جماعت تشکیل دینے کا خواہش مند ہے۔ حضور نبی کریمﷺ کی حیات طیبہ میں ہمیں ان میں سے اکثر کام کسی نہ کسی وقت میں کسی نہ کسی درجہ میں ملتے ہیں۔ سیرت طیبہ ؐ میں ہم جہاد بھی دیکھتے ہیں اور تبلیغ بھی، جماعت سازی بھی دیکھتے ہیں اور ریاست کے امور پر مکمل گرفت بھی دیکھتے ہیں۔ معجزہ یہ ہے کہ جو کام اللہ کے رسول ؐ نے تن تنہا انجام دیا، آج کئی کئی تنظیمیں مل کر بھی نہیں کر پارہیں۔ اس پر مستزاد یہ کہ ایک دوسرے کے کام سے متفق نہ ہونے کی وجہ سے پہلے بحث پھر اختلاف اور پھر سیدھا سیدھا ضد کا معاملہ ہو جاتا ہے ۔ پھر چونکہ معاشرہ میں دینی جماعتوں سے تعاون کرنے والوں کا ایک وسیع مگر بالآخر محدود طبقہ ہے تو ان کا تعاون انہی جماعتوں میں آپس میں تقسیم ہو جاتاہے ۔ کئی مسجدوں میں ایک سے ڈیڑھ کروڑ روپے کے مینار کی تعمیر ہو جاتی ہے جبکہ وہی پیسے کسی اور جگہ کسی دوسرے ، زیادہ ضروری مقصد میں استعمال ہو سکتے تھے۔ لے دے کے بات وہی ایک مرکزی قیادت کی ہے جو ان سارے اثاثوں کی امین ہو اور نہایت دیانت داری اور خداخوفی کے ساتھ اس مال کو استعمال کرے۔ ایک آواز ہو۔ جو اس سے ہٹ کر چلے وہ صاف نظر آجائے کہ یہ دین کا نمائندہ نہیں۔ پہلے ایک شہر میں ایسا اتحاد بن جائے پھر اس کو ملک تک پھیلا دیں۔ یہ مشکل ضرور ہے، ناممکن نہیں ۔

اگر ایسا اتحاد نہیں ہو پا رہا تو قصور عوام کا بھی ہے لیکن اصل قصور میرے نزدیک ان عقیدتمندوں کا ہے جو علماء کے اردگرد گھیرا ڈال کر رکھتے ہیں۔ آج کے دور میں کسی بڑے عالم سے بات کرنا، اس سے کچھ ذاتی طور پر پوچھ پانا اس قدر مشکل کام ہے کہ جب تک آپ کے پاس کوئی بڑی سفارش نہ ہو آپ علماء سے مل نہیں سکتے۔ اس کی وجہ وہ درمیان کے عقیدتمند ہیں جن کے نزدیک ان کے ‘حضرت’ سے کوئی سوال پوچھنا اگر گناہ کبیرہ نہیں تو مکروہ ضرور ہے۔ ایک عقیدتمند ‘حضرت’ کی ویب سائٹ سنبھال رہے ہوتے ہیں تو دوسرے صاحب کے نزدیک کسی کا ان کے شیخ کو براہ راست فون کر لینا مداخلت فی الدین کے زمرے میں آنا چاہیے۔ اس سے زیادہ آسان تو ٹی وی اور ریڈیو پر آنے والے ان نوسربازوں کو کال کرنا ہوتا ہے جن کے لیے رمضان، ربیع الاول، محرم اور ذی الحجہ مقدس کم اور کمائی کے مہینے زیادہ ہیں۔ عوام ایسے ہی نہیں علماء سے کٹ رہے۔ ایک جمعہ کے اجتماع میں راقم نے امام صاحب کو کہتے سنا کہ ‘عوام کو علماء کی ضرورت ہے، علماء کو عوام کی نہیں’ یہ مقولہ شاید پچیس سال پہلے صحیح تھا مگر آج نہیں۔ Rand Corporation کی سفارشات میں صاف لکھا ہے کہ ایسے علماء جو روایت پسندوں کی صف میں آتے ہیں ان کی جگہ ایسے لوگوں کو میڈیا پر لایا جائے جن کی شہرت ترقی پسندوں کی ہے، جن کو مسجدیں نہیں ملتیں۔ جو شراب کی حرمت کے بارے میں شکوک پیدا کریں، جو بدعات کی ترویج میں ممد ہوں ، جو فحاشی کو نئے معانی پہنائیں۔ اور پچھلے آٹھ دس سالوں میں ان سفارشات پر عمل کے نتیجے میں آپ دیکھ لیں کہ اس وقت سب سے زیادہ دیکھا جانے والا پروگرام ایک ایسے پوشیدہ رافضی کا ہے جو عام محفل میں صحابہ کرامؓ کی شان میں گستاخی کرتا پکڑا گیا اور ابھی بھی تقویٰ کا لبادہ اوڑھے رمضان میں نئے نئے کرتب دکھا رہا ہے۔ یہ ذمہ داری عوام کی بھی ہے کیونکہ ان کو اپنے عمل کا حساب خود دینا ہے۔

لیکن علماء کو بھی تو اپنے نمائندے چننے میں احتیاط کرنی چاہیے۔ گزشتہ شوال میں چاند کی رویت پر جو فساد ہمارے ملک کی سب سے بڑی سیاسی مذہبی شخصیت نے بپا کیا وہ آنے والے دنوں کی ایک جھلک تھا۔ یہ خبر بہت نمایاں نہیں ہوئی ورنہ شوال اکتیس دن کا ہوتا نہیں ہے۔ اس ‘اہل حق کے مینار’ نے ایک صوبے میں اقتدار حاصل کرنے کے لیے وہ وہ پینترے بدلے ہیں کہ اچھے اچھے ماہر کرتب بازوں کو پسینہ آجائے۔ اب تو لگتا ہے کہ آنجناب کا مقصد محض اقتدار کا حصول ہے چاہے اس کے لیے وہ امریکی سفیر کے پاس خود چل کر جائیں۔ دین محمدی ؐکے ماننے والوں کو اگر اقتدار مانگنے کے لیے در در کی بھیک مانگنی پڑے تو ایسے اقتدار سے دوری ہی بھلی۔ علماء کا کام دین کی حفاظت کرنا ہے ، اگر اقتدار حاصل کر کے حفاظت ہوتی ہے تو ٹھیک نہیں تو چار حرف بھیجیے ایسے اقتدار پر جس میں عزت سادات بھی ضائع ہونے کا اندیشہ ہو۔ چار حرف بھیجیے ایسے نمائندوں پر جن کے رہتے نہ مدرسے بچیں نہ اساتذہ۔ نہ طالبعلم بچیں نہ طالبات- جنہوں نے سب سے پہلے نعرہ لگایا کہ ‘طالبان اسلام آباد سے سو کلومیٹر پر رہ گئے ہیں’ اور وہاں سے کوڑوں کی ایک جعلی ویڈیو نکل آئی اور پھر سوات میں لاکھوں لوگ اپنے ہی ملک میں بے گھر ہو گئے۔ سب سے پہلے تو ان نام نہاد نمائندوں سے علمائے دین کو اپنے آپ کو بچانا ہوگا ۔

اس سلسلے میں وہ لوگ جو واقعی کسی عالم کے قریبی حلقے سے تعلق رکھتے ہیں وہ اپنے عالم سے بات کریں۔ ان سے سوال کریں ، کچھ مواقع پر ادب ہلاکت کا باعث ہو جاتا ہے۔ آپ صحابہ کرامؓ سے زیادہ اپنے حضرت کی تعظیم نہیں کر سکتے ۔دین کے معاملے میں صحابہ کرامؓ کبھی نہیں شرماتے تھے، سوال کرتے تھے۔ تو اپنے حضرت سے پوچھیں کہ دوسرے علماء میں برائی کیا ہے۔ اس کو دوسرے عالم سے رابطہ بڑھانے میں مدد کریں۔ ایک دوسرے کے لیے جو ان کے دلوں میں کچھ غلط فہمیاں ہیں وہ ختم کرائیں۔ دوسرے مسالک سے رابطہ بڑھانے میں مدد کریں۔ شدت پسندی اور تمسخر سے نہ دوسرا مسلک ختم ہوگا نہ اس کے ماننے والے۔ یہ سولہویں صدی کا اسپین نہیں ہے جہاں تمام ‘دوسروں’ کو جہازوں میں بٹھا کر افریقہ کے ساحلوں کی طرف روانہ کر دیا جائے۔ تو ہمیں ایک ساتھ ہی رہنا ہے، تو اس ساتھ کو کیوں نہ خوشگوار بنا لیا جائے؟ اگر آج (رمضان۱۴۳۴ ہجری) کی رویت ہلال جیسا ماحول پورے سال رہے تو یہ ملک اور یہ دین بہت جلد امن کا نشان بن جائے گا ان شاء اللہ۔ آج کوئی چھوٹا نہیں ہوا ، بلکہ سب اور بڑے ہو گئے۔ سب صحیح ہوئے اور کوئی غلط بھی نہیں ہوا۔ تو یہ اکثر دوسرے مواقع پر بھی ہو سکتا ہے۔

علماء کے لیے اپنی جگہ مضبوط ہونا ضروری ہے کیونکہ ستون تو مضبوط ہی ہوتا ہے اسے اپنی جگہ سے ہلنا نہیں چاہیے۔ ان کے لیے الگ الگ نظر آنے میں کوئی ایسی برائی نہیں کیو نکہ مہیب سمندر میں جزیرے اور بھی خوبصورت لگتے ہیں۔ بس ہم چاہتے ہیں کہ یہ دینی طبقے کسی ایک قیادت پر متفق ہو جائیں اور پھر للہیت کے ساتھ اس پر صبر کریں۔ ایک چھت جب مل جائے گی تو اس کے سائے میں یہ ستون بھی آئیں گے۔ بس اس کے لیے مجھے، آپ کو، ہر اس شخص کو جو کسی بڑی مذہبی شخصیت کے حلقے تک رسائی رکھتا ہے اس کو ایک پل کا کام کرنا ہے جو کسی طرح ا ن تمام جزیروں کو آپس میں ملا دے۔ اگر ہم نے صرف یہی کوشش کر لی اور اس میں اخلاص کا دامن نہیں چھوڑا تو اللہ سے امید ہے کہ وہ ہم کو روز قیامت رسوا نہیں کرے گا۔ بصورت دیگر، فرقہ بندی کو بھڑکانے میں کہیں ہم بھی حصہ دار نہ بن جائیں!


Photo credit: gnuckx / Foter / CC BY

Advertisements

Homeschooling: Why and How!

Posted in Social revolution by baigsaab on March 1, 2011

Has the moment not yet come!

Posted in Social revolution by baigsaab on January 1, 2011

Has the Moment Not yet come

Blasphemy Law and The Dilemma of the Apologists!

Posted in Islam, protest by baigsaab on December 8, 2010

A few years back there was a huge uproar in the Muslim communities around the world over the Danish cartoon controversy. Protests in some parts such as Pakistan turned violent and angry mobs damaged private property apart from burning effigies of the culprits. This scribe had written a piece- in fact a series of articles– back then urging people to just ignore these insults as, in my opinion back then, that’s the only suitable reply. Apart from that, the series also tried to prove from the Seerah of RasooluLLAH (s.a.w.) and Sahaba (r.a.) that they always dealt with blasphemous behavior in the same way.

Well, I have to confess, I was ignorant of our history and I was foolishly wrong!

I guess now that I’ve read and heard a bit of our history (still not all of it obviously), I can tell you that there’s overwhelming evidence that the only suitable punishment against blasphemy to RasooluLLAH (s.a.w.) and all the prophets of ALLAH (s.w.t.) is death, and a swift one at that! Not only there’re instances that Sahaba (r.a.) killed blasphemers but they did so with the approval, and in some cases orders, of RasooluLLAH (s.a.w.).

Ka’b ibn Ashraf, Abu Rafay, Ibn Khatal and his two slavegirls, a jewish woman in Medina and lots of others are such criminals that were slain by Sahaba (r.a.) and, as is reported in numerous Hadith, with orders or approvals of RasooluLLAH (s.a.w.). Some were set up, some ambushed, some immediately killed, some properly executed.

The fact that such an important part of Seerat un Nabi (s.a.w.) is one of the most obscure ones is a mind-boggling phenomenon. We’ve been taught in our schools and colleges and higher levels that Islam is a religion of tolerance, that RasooluLLAH (s.a.w.) always fought when war was thrust upon Muslims and that RasooluLLAH (s.a.w.) pardoned each and every one of his enemies – even the killers of Hadhrat Hamza (r.a.)- on the day of Fath Makka,.

It turns out that we’ve been told only partial truths!

The history that we have been studying in our course book has been contorted; the Truth has been misconstrued. The roots of the current science-centric education system that we are following in Pakistan, can be traced back to two major movements historically: a) Malthusianism[1] and b) the Ali Garh movement[2]. It was with the efforts of Sir Syed Ahmed Khan that Muslims started studying the sciences and English language and his services can’t be denied. Yet, it was also largely due to his influence that Muslims, early after, adopted the already corrupt and infected education system set by British East India Company.

The advent of this modern education in Muslims became the main cause of promotion of a more docile version of Islam. A docile, rather toothless, version of Islam that practices non-violence to the core and goes to war only when war is thrust upon it. While that’s not entirely untrue, it’s not the whole truth either. There are countless examples when the offensive was taken by Muslims and took the Kuffar by surprise. Ghazwa Badr was well and truly the first proper battle between Muslims and Kuffar but what’s not told to us is that there were as many as eight military expeditions sent or led by RasooluLLAH (s.a.w.) before the battle of Badr. Each of those expeditions paid dividends and a large area in Hijaz which was earlier under allegiance with Quraish either became a Muslim ally or became neutral. Also, there’re a lot of examples of preemptive strikes out of which the famous battle of Khyber and the battle of Bani Al-Mustaliq are famous. Reading our history in this way casts a totally different light altogether to how we should go about our religious duties. But by and large, these incidents have been obscured by our education system and either inadvertently or intentionally created breeds after breeds of apologists whose life’s work is to deny such important elements of our history.

Some glaring examples can be found in response to the recent case of Aasia Maseeh, the woman convicted of blasphemy against RasooluLLAH (s.a.w.). While there are liberal fascist making raucous noises to repeal the blasphemy law altogether, there are also some apologists, senior opinion-makers in the print and electronic media, who are trying to remind us of the tolerance in our religion, that a mother of 5 children – one of which is disabled- should be pardoned, especially after she says she’s sorry. There are also such daft columnists who see Salman Taseer’s hasty visit with his family to the convicted woman in prison and conducting a press conference there as an act out of empathy. It’s beyond words how disgusted the people of Pakistan are with the efforts of the ruling class to have a convict of blasphemy pardoned, that too on the orders of Pope Benedict, while the same ruling elite is tightlipped over the abduction and illegitimate trial of Dr Aafia Siddiqui.

But even if we assume that the government will go the whole nine yards to get Aasia removed to some western country, it seems appropriate at this point to see if pardoning Aasia Maseeh is within the power of the government or not.

Apologists claim that RasooluLLAH (s.a.w.) pardoned everyone who ever said anything foul to him. They give the examples of the women who threw garbage on RasooluLLAH (s.a.w.) daily, whom he (s.a.w.) had visited when she’d fallen ill. They also give the examples of conquest of Makka (Fath Makka) when he (s.a.w.) pardoned everyone in Makka. They also claim Aasia Maseeh said she’s sorry and has hence repented. They also say that Aasia is a non Muslim and Muslim capital punishment is not applicable to her. They say she’s a women and she’s poor so she should be pardoned. That we should pardon her to show goodwill towards west and thus pave the way to Islam’s preaching.

First of all, the amnesty on the day of the Fath Makka was for everyone, except there was a black list. A list of those who were to be slain even if they were found hanging with the curtains of Kabba, the most sacred of sacred places on earth. Ibn Khatal, as it goes, was found exactly in this situation and still was executed. There were two slavegirls of Ibn Khatal who used to sing absurdities against RasooluLLAH (s.a.w.) and they were also in that list. It’s important to note that they were also women like Aasia, they were also non-muslims like her, they probably were also poor, in fact they were slaves and hence had no free will, still they were executed. Ibn Taimiyah says that it shows that blasphemy against RasooluLLAH (s.a.w.) is an even greater crime than murder.

Secondly, even if we agree that RasooluLLAH (s.a.w.) pardoned some when he found it appropriate, it should stand as his prerogative and that’s it. Now we can’t pardon anyone on his behalf. Neither the government, nor the complainant.

Thirdly, even if she’s sorry for what she did doesn’t make her crime any milder. It’s similar if a murderer on the death row says he’s sorry, doesn’t absolve him of his crime. After all we’ve just seen that the crime that was perpetrated here was bigger than murder. It’s the verdict of scholars new and old, that the perpetrator of blasphemy should be killed immediately and not to be given a chance.

Lastly, we shouldn’t pardon her to just show our goodwill towards the west. Just to show how tolerant we are. That’s the most absurd excuse to do something equally absurd. If we had dealt with blasphemers in the way of Sahaba (r.a.) lately, our outlook would be a lot more different from it is today. It’s because of this tolerant behavior that any tom, harry or dick could say or write what he likes about our sacred personalities. If Salman Rushdi had been slain back then in the eighties, or Tasleema Nasreen back in the nineties, or the perpetrators of the European newspapers controversy had been killed back then, we would be a lot better off than we are today. Every time something like this happens, our response has grown weaker. And now it has come down to the point where our government is trying to dodge its public to provide safe passage to a convict of blasphemy. I seek refuge with ALLAH (s.w.t.) from the day when our public would be trying to save such a criminal from punishment.

As an afterthought, we probably should agree with the liberal fascists on one thing. That the blasphemy law should be repealed altogether. As it happens, having a law for a crime makes the punishment predictable. And when something is predictable it’s all the more defendable. If there’s no blasphemy law, then public would do justice on its own. The anticipation of punishment would be all the more painful for the perpetrators as the punishment itself.

There would be a Ghazi Ilm Deen Shaheed on every street, every city! 


[1] Malthusianism refers to the political/economic thought of Reverend and indirect employee of British East India Company Thomas Robert Malthus, whose ideas were first developed during the industrial revolution. It follows his 1798 writings, An Essay on the Principle of Population, which had a great impact on the way British East India Company managed India; it had a great impact on economic\political\education policies of Great Britain.
[2] Aligarh Movement was the movement led by Sir Syed Ahmed Khan, to educate the Muslims of the Indian subcontinent after the defeat of the rebels in the Indian rebellion of 1857.

Ustad e Muhtaram ki Yaad main

Posted in Islam by baigsaab on April 22, 2010

Ustad e Muhtaram ki Yaad main

For those who ponder

Posted in Islam, Social revolution by baigsaab on April 21, 2010

The modern age is the age of professionalism. This is the age when being workaholic is not a disorder but a demand. People now cannot tend to their most basic needs because they haven’t the time to do so. Being ahead from their peers in the rat race remains the ultimate desire of every individual. So much so that to be ahead in life they forsake their basic rights, right to be happy, right to be content, right to be with the family, right to be religious etc. Today’s civilization seems like a giant web which has tied us in invisible strings where we’re supposed to do only three things: Go to work, go home, and prepare to go to work. Even our recreations are a way of supplementing this schedule.

But there are times, when destiny laughs in our face and makes us feel so helpless that we’re left wondering if we had any power all along. It’s at such times that our monotony comes to an abrupt halt. One such instance is when we’re witnessing the funeral of a loved one. At such a time, none of our “most important and most urgent” errands are so much as important as the grief of losing our loved ones. Work can wait then, because we’ve humbly submitted to our destiny.

The same hand of destiny is currently holding an entire continent- who is the flag bearer of atheism in the world- in a state of paralysis. Europe’s air travel has come down to an absolute halt due to hot toxic ash oozing from a glacier.

(Boston Big Picture)

I couldn’t help but laugh at the remark from an acquaintance that “isn’t it ironic hot lava is coming from Iceland!” The volcano, Eyjafjallajökull (Pronounced something like Aiya-fjadla-yeugdul), is a veteran of centuries and since the time of its reawakening last week, has spewed enough fumes and toxic ash into the atmosphere to have spread over almost all Europe.
(BBC News)
That’s why all flights coming in and out of Europe have been seized, leaving hundreds of thousands of commuters stranded at airports, airlines incurring daily losses of over 200 Million USD for accommodating customers, even Germany’s Chancellor has had to make her trip back home from Italy via car. Those who could afford are opting for the Intra-Continent train system, and some have opted for the fairy, converting one industry’s misery into another’s pleasure. The majority of people are those who are left stranded. People who were supposed to be on urgent assignments abroad have had to realign their schedule, they couldn’t have done otherwise. No matter how badly the airlines and the passengers want these flights to take off, conditions are absolutely not favorable for flight and there is high risk of plain crashes with ash blocking the engines. Worse, the glacier is still exhuming its contents and there’s a fair chance it could continue to do so for a month or even more. Worst, it could trigger other volcanoes which are somehow quite abundant in Iceland.

Our businesses run on the premise of predictability. We hope that the world wouldn’t come to end tomorrow. That’s why we leave our loved ones behind everyday to work because we believe that we’ll come back in the evening to see them again. This predictability comes from the laws that ALLAH (swt) has embedded in the universe: law of gravitation, law of entropy, law of aerodynamics, law of surface tension, law of aging etc. ALLAH (swt) declares this tranquility in the Quran as one of His Ayaat.
In Surah Faatir it is mentioned:

إِنَّ اللَّهَ يُمْسِكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ أَن تَزُولَا ۚ وَلَئِن زَالَتَا إِنْ أَمْسَكَهُمَا مِنْ أَحَدٍ مِّن بَعْدِهِ ۚ إِنَّهُ كَانَ حَلِيمًا غَفُورًا

خدا ہی آسمانوں اور زمین کو تھامے رکھتا ہے کہ ٹل نہ جائیں۔ اگر وہ ٹل جائیں تو خدا کے سوا کوئی ایسا نہیں جو ان کو تھام سکے۔ بےشک وہ بردبار (اور) بخشنے والا ہے

Lo! Allah graspeth the heavens and the earth that they deviate not, and if they were to deviate there is not one that could grasp them after Him. Lo! He is ever Clement, Forgiving. (41)

On another place it is mentioned in Surah Shoora:

إِن يَشَأ يُسكِنِ الرّيحَ فَيَظلَلنَ رَواكِدَ عَلىٰ ظَهرِهِ ۚ إِنَّ فى ذٰلِكَ لَءايٰتٍ لِكُلِّ صَبّارٍ شَكورٍ

اگر خدا چاہے تو ہوا کو ٹھیرا دے اور جہاز اس کی سطح پر کھڑے رہ جائیں۔ تمام صبر اور شکر کرنے والوں کے لئے ان (باتوں) میں قدرت خدا کے نمونے ہیں

If He will He calmeth the wind so that they keep still upon its surface – Lo! herein verily are signs for every steadfast grateful (heart). – (33)

In Surah Room it is mentioned:

وَمِن ءايٰتِهِ أَن يُرسِلَ الرِّياحَ مُبَشِّرٰتٍ وَلِيُذيقَكُم مِن رَحمَتِهِ وَلِتَجرِىَ الفُلكُ بِأَمرِهِ وَلِتَبتَغوا مِن فَضلِهِ وَلَعَلَّكُم تَشكُرونَ

اور اُسی کی نشانیوں میں سے ہے کہ ہواؤں کو بھیجتا ہے کہ خوشخبری دیتی ہیں تاکہ تم کو اپنی رحمت کے مزے چکھائے اور تاکہ اس کے حکم سے کشتیاں چلیں اور تاکہ اس کے فضل سے (روزی) طلب کرو عجب نہیں کہ تم شکر کرو

And of His signs is this: He sendeth herald winds to make you taste His mercy, and that the ships may sail at His command, and that ye may seek his favour, and that haply ye may be thankful. (46)

As it is clear from the above mentioned verses, the laws of nature, no matter how predictable, are subject to ALLAH (swt)’s will. It’s not just that the universe was created by ALLAH (swt) and triggered in a self-perpetuation state. No. ALLAH (swt) is well and truly at the helm of His eternal kingdom. Earthquakes, volcanic eruptions, tsunamis, cyclones, tremors, and epidemics like dengue fever, cholera and plague are not signs of chaos, but the exceptions that prove the rule. They are but just a way to remind human beings that they’re not left unanswerable and that they’re not indispensable. There were much mightier civilizations than the current one which have been swept clean from the face of this earth in such catastrophes. As if they never were.

For those affected by this current debacle, and for those who’re witnessing it happen, maybe ALLAH (swt) has given a chance to ponder in his Ayaat. We’ve got to take the time out of our busy schedules to look into ourselves and in the universe. Human being has become lonelier and lonelier but the solitude that lets us think about our Creator is still a rare commodity. We should relish this chance. Any calamity that makes us closer to our Lord is not a calamity, it’s a blessing. And smart and practical people grab blessings with both hands!

May ALLAH (swt) makes us one of his dear ones. Ameen

Quranic references from:

Quran Media Player

Quran Explorer

Tanzil.info

Inqilab!

Posted in Islam, Social revolution by baigsaab on February 6, 2010

Questions to Mothers and Sisters!

Posted in Islam, Social revolution by baigsaab on February 5, 2010

Faith and Belief!

Posted in Rants by baigsaab on February 3, 2010

Pakistan’s water resources are under threat of being dried out soon!

Pakistan’s water problems are only a part of its already full plate. Internal and external terrorism, power outages, fuel shortages, unemployment and chaos are also part of our troubles. On the water front, India is reportedly building scores of new dams on rivers flowing into Pakistan, 90 to be precise! If these dams do see the light of day- the first dam is expected somewhere around 2014- Pakistan’s mainland is going to be hit with a severe water shortage. Crops are forecasted to yield a shocking 30% less in that situation, so we’ll be in shortage of food and water at the same time. River water is also essential for livestock which will also be hit with lower production and possibly higher mortality rate. It would be a bleak picture. A very bleak one must admit.

Still, I have hope. Hope that ALLAH (swt) will help us. Who knows, with ALLAH’s mercy, we may see an altogether new and larger river springing out of Pakistan itself. We may see a totally radical solution to power supply that makes us the leaders in world’s power production. Terrorism is, as most of us agree, an issue that can be resolved with political acumen and statesmanship, if that kind of leadership is made available to us. If the world’s poorest country can make the super power to beg for negotiations after 8 long years, then nothing is a far cry. Nothing!

All we need to do is to repent collectively on all that we did in the last 60 years. Pakistan, the gift of ALLAH(swt) to the Muslims of the world, has been left by us to the scavengers who have been taking turns on each other to finish this country off. We, the citizens of Pakistan, have let ourselves down for too long. Now is the time to repent.

O you who believe! If you help (in the cause of) Allâh, He will help you, and make your foothold firm. (Al Quran-47:7)

Let’s seek forgiveness from our Lord. I have every reason to believe that even if a handful of living souls decided to try and please ALLAH (swt), this country, and this world, will be much better places to live! It’s about time we choose the right side.

Remember, when the time comes, it’s belief that is the difference between the bystander and the last man standing!

نجات

Posted in Rants, Social revolution by baigsaab on May 21, 2009

ہر حکمران کی زندگی میں ایک ایسا لمحہ لازماً آتا ہے جب اسے یہ فیصلہ کرنا ہوتا ہے کہ وہ تاریخ میں کیا مقام چاہتا ہے۔ کسی ٹی وی ڈرامے کے بر عکس تاریخ میں کسی کردار سے مماثلت “محض اتفاق” نہیں ہوتی، بلکہ حکمران اس بات کا خود فیصلہ کرتا ہے کہ وہ صلاح الدین ایوبی بننا چاہتا ہے یا میر صادق، یوسف بن تاشفین بننا چاہتا ہے یا بہادر شاہ یا پھرسلطان ٹیپو بننا چاہتا ہے یا نظام دکن۔ اس تناظر میں اپنے حکمرانوں کا جائزہ لیں تو محسوس ہوتا یے کہ ان سب نے شاہ رنگیلا بننے کی قسم کھائی ہوئی ہے۔

مغل بادشاہ روشن اختر شاہ رنگیلا مغلیہ دور زوال میں اس وقت بادشاہ بنا جب بادشاہ لباس کی طرح تبدیل ہو رہے تھے۔ اپنے اقتدار کو طول دینے کے لئےہر قسم کے ہتھکنڈے تو اس نے استعمال کئے ہی، اس کے دور میں دربارمیں بے لباسی، شراب نوشی اور بے حیائی کو فروغ دیا گیا۔ اس کی حکمرانی دارالحکومت تک محدود تھی، یہ بھی کوئی انوکھی بات نہیں۔ جس بات نے اس کا نام تاریخ میں ہمیشہ کے لئے کالا کر دیا وہ کوئی اور بات تھی۔

 شاہ ایران نادر شاہ درانی نے ہندوستان پر حملہ کیا تو اس بھولے بادشاہ نے بھی مقابلہ کی ٹھانی۔ لیکن نتیجہ وہی ہوا کہ دو ڈھائی گھنٹے کی لڑائی کے بعد ہی بادشاہ نے ہتھیار ڈال دیے۔ اور تو اور، دلی تک نادر شاہ کو ایسکورٹ بھی کیا گیا جہاں اس نے بادشاہ کی رٹ کو خوب چیلنج کیا۔ قتل عام کیا اور بار بار کیا۔ اورجب گیا تو بادشاہ کاتخت اور قوم کی غیرت اورعزت دونوں ساتھ لے گیا۔ اس کے بعد بادشاہ کی زندگی مصلے پہ گذری یا شراب خانے میں، ہمیں غرض نہیں۔ ہمیں تو یہ دیکھنا ہے کہ ایسے حکمران ہمیں ہی کیوں ملتے ہیں؟اور ہم کیا کر سکتے ہیں کہ یہ سلسلہ اب بند ہو جائے۔

 وَكَذٰلِكَ نُوَلِّىۡ بَعۡضَ الظّٰلِمِيۡنَ بَعۡضًۢا بِمَا كَانُوۡا يَكۡسِبُوۡنَ(الانعام:129)

 اور اسی طرح ہم ظالموں کو ان کے اعمال کے سبب جو وہ کرتے تھے ایک دوسرے پر مسلط کر دیتے ہیں

 قرآن کا فتویٰ آپ نے پڑھ لیا؟ اب ذرا اپنے گریبان میں جھانک کر بھی دیکھ لیتے ہیں کہ ہم نے ایسا کیاقصور کیا ہےکہ جویہ لالچیوں کا ٹولہ ہم پر مسلط کر دیا گیا ہے؟

 اس حقیقت سے کوئی با شعور انسان انکار نہیں کر سکتا کہ ہمارا معاشرہ اس وقت گندگی کا ڈھیر ہے۔ پیار، اخوت،اعتبار، ایثار یہ سب چیزیں غائب اوروعدہ خلافی، بغض، کینہ، حسد اور ایسی ہی ساری بیماریاں ہمارے معاشرے میں عام ہیں۔ ہمارے ہی ہاتھوں ہمارے بھائی قتل ہوتے ہیں، ہم ہی انہیں دفناتے ہیں، اور پھر ہم بھی اپنے کسی بھائی کی گولی کا نشانہ بن جاتے ہیں۔ یہ سب کچھ ہمارے ارد گرد ہی ہو رہا ہے لیکن ہماری گفتگو کا اہم ترین موضوع ہے آئی پی ایل۔ یا پھر انڈین آئڈل یا کبھی منہ کا مزہ بدلنے کے لئےمہنگائی کی آڑمیں حکمرانوں کی نا اہلی کا رونا رو لیا۔ بس۔ ہم گندگی کے اس ڈھیر کا پاس سے ناک پر ہاتھ رکھ کر گذر جاتے ہیں لیکن یہ کوشش نہیں کرتے کہ یہ گندگی ختم ہو۔ کوشش کیا اس معاملے میں بات کرنا بھی حماقت سمجھتے ہیں کہ یہ تو حکومت کا کام ہے۔

 جبکہ ہم میں سے ہر ایک ذمہ دار ہے۔ ہم خود نہیں چاہتے کہ یہ نظام بدلے۔ بدل جائے گا تو پھر ہمارے نا جائز کام کیسے ھونگے؟َ ابھی تو رشوت سے ہر بند دروازہ کھل جاتا ہے، جھوٹ بول کے سزا سے بچ سکتے ہیں، جعلی کاغذات سےہزاروں ایکڑ زمین اپنے نام کروا سکتے ہیں، بجلی چوری کر سکتے ہیں، امتحان میں نقل کر کے پاس ہو سکتے ہیں،سڑک کے بیچوں بیچ شامیانہ لگا کر اپنی خوشیاں منا سکتے ہیں(چاہے کسی اور کو کتنی ہی تکلیف ہو) ۔یہ سب کر سکتے ہیں لیکن اگر کوئی عادل حکمران آگیا تو پھر یہ کام کیسے ہونگے؟

 ہم نے کتنی ہی چیزیں جانتے بوجھتے اللہ کے احکامات کی صریح خلاف ورزی میں کی ہیں؟ ہمارا پورا نظام سود پر چل رہا ہے۔ پردہ سب کو پتہ ہے کہ لازمی ہے، پتہ نہیں کس کا سرٹیفیکیٹ ہم سب کے پاس ہے جو ہم اپنی عورتوں کو یوں بے پردہ گھومنے دیتے ہیں، ہر جگہ ان کی تصاویر کی نمائش کرتے پھرتے ہیں کہ جس خبیث کی مرضی جیسے چاہے دیکھے انہیں۔ واضح حکم ہے اللہ کا ان دو چیزوں کے بارے میں۔ ہم کبھی قرآن کو میت اور سوئم کے علاوہ کہیں پڑھیں تودکھائی دے۔

 مومنو! خدا سے ڈرو اور اگر ایمان رکھتے ہو تو جتنا سود باقی رہ گیا ہے اس کوچھوڑ دو اگر ایسا نہ کرو گے تو خبردار ہوجاؤ (کہ تم) خدا اور رسول سے جنگ کرنے کے لئے (تیار ہوتے ہو) اور اگر توبہ کرلو گے (اور سود چھوڑ دو گے) تو تم کو اپنی اصل رقم لینے کا حق ہے جس میں نہ اوروں کانقصان اورنہ تمہارا نقصان(البقرۃ:279،280)

اے پیغمبر اپنی بیویوں اور بیٹیوں اور مسلمانوں کی عورتوں سے کہہ دو کہ (باہر نکلا کریں تو) اپنے (مونہوں) پر چادر لٹکا (کر گھونگھٹ نکال) لیا کریں۔ یہ امر ان کے لئے موجب شناخت (وامتیاز) ہوگا تو کوئی ان کو ایذا نہ دے گا۔ اور خدا بخشنے والا مہربان ہے(الاحزاب: 59)

 لاعلمی شاید قابل معافی ہے۔ شاید۔
بے عملی بھی شاید کسی طرح معاف ہو جائے۔
لیکن جانتے بوجھتے اللہ کے خلاف اعلان جنگ کرنا، یہ ہے وہ عمل جس نے ہمیں شدید ذلت اور رسوائی میں مبتلا کر رکھا ہے، اور ہمارے اوپر ایسے لوگ مسلط کر دئے گئے ہیں جن کو عزت دار گھروں میں کوئی رشتہ نہ ملے۔

 شاید ہم پر وہ وقت آگیا ہے جس کے بعد قوموں پر توبہ کا دروازہ بند ہو جاتا ہے۔ تاریخ سے ہمیں یہی سبق ملتا ہے۔ بغداد، غرناطہ، دلی، یہ سب ہماری ہی تاریخ ہیں۔ جب کہ ہم میں تو وہ خرابیاں بھی ہیں جن کی وجہ سے گذشتہ امتیں تباہ ہوئیں۔ توہم تو ان عذابوں کا بھی اپنے آپ کو مستحق ثابت کر چکے۔

 دیکھئے، تاریخ بہت سفاک ہوتی ہے، مصلحتیں عموماً تاریخ کے آئینے میں نہایت بدنما معلوم ہوتی ہیں۔ تو کل جب ہمارے بچے ہم سے یہ سوال کریں گے کہ پاکستان جل رہا تھا، آپ آگ بجھارہے تھے یا ہاتھ سینک ریے تھے؟ تو اپنے آپ کو ان تلخ سوالوں کا جواب دینے کے لئےجھوٹ ابھی سے تیار کر لیں۔ یا پھر آئیں اوراپنےبچوں سے فخر سے سچ بولنے کے لئے اپنا آج بدل ڈالیں۔

 اور اس دنیا کی تاریخ توشاید پھر کسی طوفان نوح میں بہہ جائے لیکن اللہ تو ہماری شہہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے۔ روز قیامت اس کو کیا جواب دیں گے ک اس کے دربار میں تو ابو جہل بھی جھوٹ نہ بول پائے گا۔

 تو طریقہ کیا ہے اس گندگی سے نجات پانے کا؟ طریقہ بہت آسان ہے!

 وَاعۡتَصِمُوۡا بِحَبۡلِ اللّٰهِ جَمِيۡعًا وَّلَا تَفَرَّقُوۡا‌(آل عمران: 102)

 اور سب مل کر الله کی رسی مضبوط پکڑو اور پھوٹ نہ ڈالو

 آئیے اپنے رب کے حضور توبہ کریں۔ توبہ کریں کہ وہ تو واقعی توبہ قبول کرنے والا ہے۔ اور توبہ کرنے والوں کوپسند کرتا ہے۔

 سرکشی نے کر دئے دھندلے نقوش بندگی

 آئو سجدے میں گریں لوح جبیں تازہ کریں