Baigsaab's Blog

یہ وہ سحر تو نہیں

Posted in Islam, protest, Rants by baigsaab on July 10, 2013

جولائی کے مہینے میں امریکہ ہی نہیں دنیا کے  تیئیس  دیگر ممالک  بھی اپنا  یوم آزادی   مناتے ہیں۔  ارجنٹائن، بیلارس، وینیزویلا اور پیرو  اور خود امریکہ سمیت  ان  میں سے اکثر ممالک نے یہ آزادی بیرونی طاقتوں  کے شکنجے سے حاصل کی تھی۔  امریکہ کے یوم آزادی کی رات تحریر اسکوائر میں لوگوں کو اچھلتے کودتے دیکھ کر  ایسا لگ رہا تھا کہ مصر نے کسی ایسے ہی  ظالمانہ   استعماری  نظام سے نجات حاصل کرلی ہے۔ یہ اس لیے بھی عجیب تھا کیونکہ مصر  نے اگر حسنی مبارک کو تیس سال برداشت کیا تھا اور اس سے پہلے انور السادات اور جمال عبد الناصر اور شاہ فاروق وغیرہ   کو  بھی  برسوں جھیلا تھا تو   اس بار جانے والی حکومت تو نہ فوجی آمریت تھی اور نہ   استبدادی بادشاہت۔ یہ لوگ  تو ایک ایسی حکومت کے خاتمے کی خوشی منا رہے تھے جس  کو ان کے ملک کی  ‘اکثریت’ نے  مرحلہ وار انتخابی عمل کے بعد منتخب کیا تھا۔ محمد مرسی کو  حسنی مبارک سے تشبیہہ دینے والوں نے یہ بھی نہ دیکھا کہ  مرسی نے تو نہ مخالفین سے جیلیں بھرنے کی پالیسی اپنائی،  نہ اپنے مخالفین کے ہجوم پر فائرنگ کروائی ،  نہ  خود پر تنقید کرنے والوں  کو اغواء کروایا،   نہ اپنی ذات کو حرف آخر  اور عقل کل سمجھا(حالانکہ مصر کے نئے منظور شدہ آئین کے بارے میں  پھیلایا گیا  عام تاثر یہی ہے) اور نہ اپنے سے مخالف نظریات کے پرچارکوں کے لیے عرصہ حیات تنگ کیا۔  مرسی پربظاہر الزام ہے تو صرف یہ کہ  وہ دوسرا ‘مبارک’ بننے جا رہا تھا جبکہ درحقیقت ایسا نہیں ہے۔

حقیقت اگر ہے تو  یہ کہ قاہرہ میں خوشیاں مناتے لوگ درحقیقت ایک اسلام پسند حکومت کے خاتمے کی خوشی منا رہے ہیں۔  حقیقت  اگر ہے تو یہ  کہ جب شراب خانوں پر پابندی اور فحاشی پر قدغن لگی تو مصر کے ان  ‘لبرل’ لوگوں  نے  اسی حسنی مبارک کے تیس سالہ دور استبداد کو مرسی کے ایک سالہ دور    استقبال پر ترجیح دی۔  حقیقت اگر ہے تو یہ ہے کہ  مصر، الجزائر، ترکی ، فلسطین اور دنیا بھر میں جہاں بھی اسلام پسند  ‘جمہوری’ حکومتوں کا خاتمہ ہوا ہے   اس کو  مغربی جمہوری ملکوں کی  حمایت  حاصل رہی ہے۔  اور حقیقت اگر ہے تو یہ کہ  بارہ سال  میں پہلی دفعہ کسی حکومت نے اسلام  کو  ریاست کو امور میں مدخل کرنے کے لیے محض چند ہی اقدام کیے تھے   اور اس  کو بھی اسی طرح طاقت کے ساتھ ہٹا دیا گیا جس طرح بارہ سال پہلے طالبان کو ہٹا دیا گیا تھا۔  حقیقت یہ ہے کہ اوبامہ نے اپنی خاص منافقت سے کام لیتے ہوئے جو الفاظ  اپنی تقریر میں رکھے ہیں ان میں ‘تشویش’ اور ‘جمہوری عمل’ کے الفاظ تو ہیں  مگر یہ کہیں نہیں کہا کہ  مصری فوج کا یہ عمل   غلط ہے۔ حقیقت اگر ہے تو یہ کہ اس موقع  پر’ لبرلوں اور سیکولروں ‘ کی منافقت کا پردہ چاک ہو گیا ہے۔  الکُفرُ  مِلّۃٌ  واحدۃٌ   کی ابدی حقیقت سے ہم کو تو  نبی رحمت ؐ  نے  پہلے ہی آگاہ کر دیا تھا، یہ تو ہمارے ہی لوگ تھے جو  دوڑ دوڑ کر ان میں گھسے جاتے تھے۔

لیکن یہ حقیقت بھی اپنی جگہ ہے کہ  الاخوان المسلمون کی حکومت  کے خاتمے میں فیصلہ کن کردار فوج نے نہیں، بلکہ  اسلامی قوتوں نے ادا کیا۔ مصر کیا  پوری دنیا کی تاریخ میں پہلی بار کسی  بڑے ملک میں ایک  اسلامی جمہوری جماعت اس قدر  اکثریت کے ساتھ منتخب بھی  ہوئی اور حکومت قائم بھی کر سکی   مگر  جب وہ گئی تو اس کا ساتھ دینے سے ان کے  اسلامی  اتحادیوں نے نہ صرف انکار کر دیا بلکہ  بالفعل ان کے مخالف کیمپ  میں  جا کھڑے ہوئے۔  جامعۃ الازہر  کے علماء نے ایک  بار  پھر سیکولر  عناصر کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے میں مدد دی  اور اس شخص کے خلاف چلے گئے جس نے کئی دہائیوں میں پہلی بار اقتدار کے ایوانوں میں اللہ کا کلمہ بلند کیا۔ایک بظاہر سیکولر مگر   پیدائشی عیسائی  بلکہ یہودی عدلی المنصور کی حلف برداری میں  غیر مذہبی جنرل الفتاح سیسی کا ہی نہیں ، مذہبی  النور  پارٹی  اور  انتہائی قابل احترام  جامعۃ الازہر   کا بھی بھرپور کردار ہے۔

مصریوں کے بارے میں ایک تاریخی قول  چلا آتا ہے، رِجال ٌ   تَجمعھم الطّبول و ھم مع من غلب ۔ (مصر کے  مرد  ایسے ہیں جن کو ڈھول کی تھاپ اکھٹا کرتی ہے اور وہ اس کے ساتھ ہیں جو غالب آجائے) ۔ یہ کوئی مصر کے ساتھ مخصوص نہیں ہے۔  ہماری عوام بھی مجمع بازی میں کافی خود کفیل ہے۔  بس بازی گر کے پاس ‘مسالہ’ اچھا ہونا چاہیے، لوگ اپنے اصل مسائل بھول کر  نہایت  خلوص کے ساتھ  ان  ڈھولچیوں کے پیچھے چل پڑتے ہیں۔   پاکستان میں عام لوگوں نے مصر کے حالات پر کوئی خاص ردعمل کا مظاہرہ نہیں کیا۔ شاید اس لیے کہ اس کو الیکٹرونک میڈیا پر خاطر خواہ وقت نہیں دیا گیا۔  پرویز رشید صاحب جو حکومت پاکستان کے ترجمان ہیں، انہوں نے  کہا کہ پاکستان کی طرف سے  سرکار ی ردعمل تین سے چار دن میں آئے گا، باوجود اس کے کہ ۱۴ سال پہلے وہ اور ان کے قائد بعینہ اسی عمل سے خود گزر چکے ہیں۔ خلیجی ریاستوں کی طرف سے   تقریباً وہی ردعمل ظاہر کیا گیا ہے جو انہوں نے  اکتوبر  2001  میں افغانستان اور  مارچ 2003 میں  عراق پر امریکی  جارحیت میں  دیا تھا، یعنی  امریکی لائن کی حمایت۔

پاکستان کے   تناظر میں  اگر ہم  مذہبی اور غیر مذہبی   قوتوں کی صورتحال کا جائزہ لیں تو یہ بات سامنے آتی ہے  کہ  لبرل اور سیکولر عناصر  میں اسلامی قوتوں سے زیادہ  ایکا ہے۔  سیکولروں  کی مجبوری یہ ہے کہ  وہ ایک جمہوری حکومت کے خاتمے پر خوشی کا اظہار بھی  نہیں کر  سکتے لہٰذا انہوں نے  اس فوجی بغاوت کی  ذمہ داری الٹا الاخوان پر ڈال دی  ہے کہ اس نے   مصر کی تاریخ میں پہلی بار ایک  جمہوری طور پر منتخب حکومت کی حیثیت سے  اپنی عوام کو  مایوس کیا اور فوج کو  مداخلت کا جواز فراہم کیا۔  ایاز امیر صاحب نے اپنے کالم میں  لکھا کہ مسلم دنیا کی مشکل ہی یہ  ہے کہ یہ  اپنی علاقائی  حدود کی بنیا د پر سوچتے نہیں۔  انہوں نے مرسی  کا تقریباً مذاق اڑاتے ہوئے کہا کہ اپنا گھر سنبھل نہیں رہا تھا اور  وہ  شام کے حالات میں مداخلت کر رہے تھے۔ دوسری جانب  ہمارے مذہبی حلقے   مصر کی تازہ ترین صورتحال میں محض پوائنٹ اسکورنگ کرتے رہ گئے ہیں، الّا ماشا ءاللہ۔  جنہوں نے  اپنی جدوجہد کے لیے انتخابی میدان منتخب کیا تھا وہ  مصر میں  ‘جمہوری’ حکومت کے خاتمے پر مظاہرہ کر رہے  ہیں۔ اور جنہوں نے انتخابی میدان منتخب کرنے کو غلطی قرار دیا وہ  اس فوج کشی کو جمہوری عمل کی ناکامی کا معنی پہنا رہے ہیں۔  واضح رہے کہ جس وقت الاخوان کی حکومت آئی تھی تو  اس وقت  بغلیں بجانے اور  بغلیں جھانکنے کی ترتیب اس کے برعکس تھی۔ سہ ماہی ایقاظ  نے اپنے تازہ مضمون میں  طرفین کے اچھے خاصے لتے لیے ہیں کہ  پہلی بات تو یہ کہ کسی کی ناکامی، ہماری کامیابی کی  ضمانت نہیں۔ اور دوسری بات یہ کہ یہ وقت ایک دوسرے سے لڑنے کا نہیں  ہے۔ بلکہ  اس وقت پہلے سے زیادہ ایک نظر آنے کی ضرورت ہے۔

مصر میں فوجی بغاوت کے بعد مغربی  لکھاریوں کے آنے والے   مضامین اس حقیقت کی غمازی ہی نہیں کر رہے بلکہ ببانگ دہل اس بات  کا اعلان کر رہے  ہیں کہ ان کے نزدیک مسئلہ اسلام ہے، سیاسی یا فوجی اسلام نہیں۔  ڈیوڈ بروکس کے نزدیک   

‘اہم چیز یہ ہے کہ  ایسے لوگوں کو اقتدار سے باہر کر دیا جائے چاہے اس کے لیے  فوجی  بغاوت ہی کا استعمال کیوں نہ کرنا پڑے۔(اصل)   ہدف یہ ہے کہ سیاسی اسلام کو  کمزور کر دیا جائے  چاہے اس کے لیے کچھ بھی کرنا پڑے۔ ‘

مصر میں   لبرلوں کے لیے روشنی کے مینار کی حیثیت رکھنے والے البرادعی  نے  کہا ہے کہ انہیں

اپنے  مغربی دوستوں کو اس بات پر راضی کرنے کے لیے کافی محنت کرنی پڑی  کہ مصر میں جو کچھ فوج نے کیا وہ انتہائی ضروری تھا۔

حاصل وصول ایک  ہی بات ہے،  الجزائر   اور مصر میں  حکومت سیاسی طریقے سے حاصل کی جائے یا اٖ فغانستان  میں   طالبان کے انقلاب کے ذریعے،  اگر حکومت  نے   ذرا بھی  کوشش کی   کہ اسلام کو  ایک جز و کے طور پر ہی سہی لوگوں کی سیاسی زندگی میں داخل کر دیا جائے  تو وہیں اس کے اوپر  ایک ایسی کاری ضرب لگائی جائے گی کہ  ان کی تحریک دس سال پیچھے جا کھڑی ہو گی-  اگر لوگوں کی اکثریت اسلام چاہ رہی ہے اور حکومت نہیں چاہ رہی تو چاہے   مظالم کے پہاڑ ہی  کیوں نہ توڑ دیے جائیں، جیسے شام میں ہو رہا ہے، لبرلوں کے کانوں پر جوں نہیں رینگے گی۔   ترکی میں جو کچھ ابھی ہو رہا ہے   وہ   اگر  آج سے پانچ سال پہلے ہوتا تو  شاید ترکی میں اردگان حکومت کا بھی  خاتمہ ہو چکا ہوتا۔  ان لوگوں کے خیال سے مذہب کی جگہ سیاست نہیں ہے، حکومت نہیں ہے،  معیشت نہیں ہے،  بلکہ معاشرت بھی نہیں ہے، بس مذہب  ایک انفرادی شے ہے ! اب یہ ان کو کون سمجھائے کہ  ؏ جدا ہو دین سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی۔ فرد سے ہی سیاست ہے، فرد سے ہی  حکومت، اسی سے معیشت اور اسی سے معاشرت۔ تو سیدھے سبھاؤ فرد کو ہی کیوں نہیں نکال دیتے  باہر؟

کیا اب بھی کسی کی سمجھ میں نہیں آیا کہ اسلام پسندوں پر عرصہ حیات تنگ کردینے کی آخر وجہ کیا ہے؟ اس چیز کو دیکھنے کے لیے کوئی عقابی نگاہیں نہیں چاہییں کہ مصری فوج نے مرسی سے اقتدار چھیننے سے پہلے ہی  غزہ کی سرنگیں بند کرنے کا کام شروع کر دیا تھا۔  اقتدار میں آنے کے بعد اخوان کے ہمدرد  چار چینل بند کر دیئے گئے۔  الاخوان المسلمون کے دھرنے پر فائرنگ کی گئی جس کے نتیجے میں  تیس سے اوپر لوگ شہید اور سو تک زخمی ہو گئے۔  اس پر نہ کوئی جمہوری روایت  پامال ہوئی نہ انسانی حقوق، کیونکہ  جمہوری روایات کے امین  تو صرف سیکولر ہیں، اور انسانی حقوق کے علمبردار صرف لبرل۔ مصر میں تو خیر براہ راست امریکی ( یعنی صیہونی) مفادات پر  زک پڑ رہی تھی  اس لیے وہاں  تو  انگریزی ترکیب کے مطابق یہ  ‘کب؟’ کا معاملہ تھا ‘اگر’ کا نہیں-  لیکن باقی دنیا میں کیا ہو رہا ہے؟   یورپ میں عورتوں کو  زبردستی بے پردہ کیا جا رہا ہے۔  حجاب پہنی ہوئی عورت کو بھری عدالت میں قتل کر دیا جاتا ہے۔  داڑھی والوں کو ائرپورٹ پر  لائن سے نکال کر تلاشی لی جاتی ہے۔  پکڑا جانے والا اگر فیصل شہزاد ہو ( صحیح یا غلط کی  بات نہیں) تو  وہ تمام مسلمانوں کا  نمائندہ ، اسلام دہشت گردوں کا مذہب اور تمام مسلمانوں کے لیے  شرمندہ نظر آنا لازمی۔  لاکھوں کے قتل کا  متحرک  ہٹلر، ہزاروں کے خون کا ذمہ دار سلوبودان میلاسووچ،  درجنوں کو اپنے  دو ہاتھوں سے مارنے والا اینڈرز بریوک  مگر عیسائیوں  کا  نمائندہ نہیں، یہ ان کا ذاتی فعل ہے جس کی  کسی عیسائی کو صفائی پیش کرنے کی بھی ضرورت نہیں۔ پھر ہمارے اپنے معاشروں میں اسلام پسند جس تضحیک کا نشانہ بنتے ہیں وہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔  جس نے داڑھی رکھ لی وہ منہ چھپا کر پھر رہا ہے اور جو  رات کو  ڈانس پارٹی سے ہو کے آیا ہے اس  کی فیس بک پروفائل پر likes ہی likes ۔  جہاں باپ  نے کسی دینی اجتماع میں جانا شروع کیا بچوں کے منہ لٹکنے شروع ہو گئے۔  انصار عباسی اور اوریا مقبول جان جیسے  کالم نویس   لبرل طبقہ کی ہنسی کا براہ راست نشانہ بنتے ہیں۔

  یہ کیا ہے؟  یہ  دراصل وہ فطری ترتیب  ہے جس پر اللہ نے انسانوں کو پیدا کیا ہے۔  دنیا میں ازل سے ابد تک  درحقیقت صرف دو ہی گروہ ہیں۔  ایک کا نام حزب اللہ، دوسرا حزب الشیاطین۔  فی الوقت  دنیا   چاہے یا  نہ چاہے اپنے آپ کو ان دو  گروہوں  میں تیزی سے تقسیم کر رہی ہے۔   جس کو ہم grey area  کہتے ہیں وہ  اب بہت کم رہ گیا ہے اور اس طرح کے اقدامات کر کے  یہ لادین طبقہ چاہ رہا ہے کہ  یہ تقسیم  بالکل واضح ہو جائے۔  اپنی دانست میں وہ  اپنی دنیا پکی کر رہے ہیں مگر در حقیقت اس سے بڑا خسارے کا سودا  کوئی انسان نہیں کر سکتا۔  و انتم لا تشعرون ! لیکن تم تو  سمجھ ہی نہیں رکھتے! کسی سیکولر سے مگر اور توقع کیا کی جا سکتی ہے، اس کا ایمان دنیا میں ہے وہ اپنے ایمان  کے مطابق کام کر رہا ہے۔  مسئلہ تو ہمارا ہے، ان لوگوں کا جن کا دعوی ٰ تو یہ ہے کہ  ایمان ہمارا اللہ پر ہے، مگر عمل   اس دعوے کی نفی کرتا جا رہا ہے۔ عشق رسولؐ کے مدعی بھی ہیں ، نعت خواں، حافظ بھی ہیں مگر صبح اٹھتے ہی  سب سے پہلے اپنے چہرے سے سنت نبویؐ  کو کھرچ کر  کچھ تو کچرے میں ڈال دیتے ہیں اور کچھ سیدھا گٹر میں بہا دیتے ہیں۔  خواتین صحابیات  مبشرات   ؓ  کی مثالیں  دیتی ہیں مگر انہی کے اصرار پر مرد حرام کماتے ہیں۔  سود پر ہماری معیشت کی بنیاد ہی نہیں ہے، یہ اس  کی جان ہے، ہمارے  نئے نویلے   وزیر خزانہ صاحب نے  تو اس بجٹ میں  انٹرسٹ کا لفظ ہی استعمال نہیں کیا، سیدھا شرح سود کی بات کی۔  تو ہم تو خود اپنے عمل سے ثابت کر رہے ہیں  کہ اسلام فی زمانہ کوئی قابل عمل  چیز نہیں، نہ  انفرادی زندگی میں ، نہ اجتماعی زندگی میں۔ تو   اگر ڈیوڈ بروکس یہ کہہ دیتا ہے کہ  ‘نا اہلی  دراصل بنیاد پرست اسلام  کے   دانشورانہ  DNA  میں  رچی بسی ہوئی ہے’ تو  اس نے  کیا غلط کہہ  دیا ؟

مصر کے حالیہ  واقعات نے  اگر کم از کم بھی یہ کر دیا کہ ہمارے  لوگوں کی  آنکھوں سے   غفلت  کی پٹی کھول دی تو یہ بہت بڑی بات ہو گی۔یہ بات کہ شدت پسندی دراصل اسلام پسند نہیں بلکہ سیکولر اور لبرل طبقہ کرتا ہے، اگر سمجھ آ گئی تو یہ ایک نہایت بڑی بات ہوگی۔ہمارا اشارہ ان لوگوں کی طرف نہیں ہے جو  صرف دینی مزاج کے لوگ نہیں یا جو نماز نہیں پڑھتے یا روزہ نہیں رکھتے۔ ہمارا اشارہ ان لوگوں کی طرف ہے جن کو ان سب کے ساتھ ساتھ   یہ  بھی برا لگتا ہے کہ  ہمارے کھلاڑی ‘ان شاء اللہ ‘ کیوں کہتے ہیں۔  ہمارے لوگ اب اللہ حافظ کیوں کہتے ہیں۔  رمضان کو Ramadan کیوں بولا جا رہا ہے۔   ان میں سے اکثر وہ لوگ ہیں جو اپنے ‘حق’ کو پانے کے لیے جھوٹ کا سہارا لینے میں ذرا عار محسوس نہیں کرتے۔  یہی تو ڈیوڈ بروکس نے کہا ہے، ‘چاہے کسی طریقہ سے بھی بس  سیاسی اسلام کو  ہرا دو’۔ چاہیں تو ایک  جھوٹی ویڈیو چلا کر سوات کے امن  معاہدے کو پارہ پارہ کر دیں۔ چاہیں تو لال مسجد کے خلاف واویلا مچا کر وہاں آپریشن کرا دیں اور پھر ٹسوے بہائیں کہ یہ کیا کر دیا؟  چاہیں تو  صوفی محمد کے خلاف اسمبلی کے فرش پر چلا چلا کر ہاتھ ہلا ہلا کر   تقریریں کریں ۔  چاہیں تو فحاشی کے  بے محابا پھیلاؤ سے صاف مکر جائیں اور اسلام پسندوں پر ثقافتی دیوالیہ پن کی تہمت چسپاں کر دیں۔ یا  جیسے مصر میں ہوا کہ ایک  منتخب  جمہوری حکومت کو  اٹھا کر باہر پھینک دیں اور  اپنے  پیارے البرادعی کو   انتہائی  ‘جمہوری’ طریقے سے نگران حکومت کا حصہ بنوا دیں۔  یقین کریں ، ایسا لگتا ہے کہ یہ دن کو دن  اور رات کو رات بولتے ہیں تو  اس کے پیچھے ان کا مفاد ہوتا ہے۔

اس  سارے  منظر نامہ سے اگر ہم نے اتنا ہی سمجھ لیا تو یہ بھی کوئی معمولی فائدہ نہ ہو گا کہ  ان کی آزادی ہماری آزادی نہیں۔  ان کی شام  ہماری  شام نہیں ، اور ان کی سحر ،ہماری سحر نہیں ۔

 فاعتبرو۱ یا اولی الابصار۔

Advertisements

بُھنگانہ، ابابیل اور ڈرون

Posted in Islam, Social revolution by baigsaab on June 28, 2013

اندلس کے طوائف الملوک میں وہ پہلی حکومت جس نے باقاعدہ عیسائی اقوام سے دوسرے مسلمانوں کے خلاف مدد مانگی وہ کوئی اور نہیں قرطبہ  کی حکومت تھی۔  خلافت اندلس کا دارالخلافہ قرطبہ، جہاں سینکڑوں سالوں سے کسی نے کسی  غیر مسلم کو  تلوار سونت کر چلتے نہیں دیکھا تھا، وہاں  اب عیسائی فوجی نام نہاد مسلمان حکمرانوں کے جنگی عزائم کو آگے بڑھانے کے لیے  کرائے کے فوجیوں کے طور پر لڑ رہے تھے! اندلس میں  اموی خلافت  کمزور  ہوئی تو  فوج کے مختلف سرداروں نے اپنے اپنے علاقوں میں اپنی حکومت کا اعلان کردیا۔  یہ علاقے  ’طائفہ’ کہلاتے تھے اور ان کے بادشاہ  ، ‘ملک الطائفہ’، اکثر و بیشتر صرف اپنے علاقے بڑھانے کے چکر میں  رہتے تھے۔   اتحاد امت اور اتحاد بین المسلمین جیسے الفاظ ظاہر ہے توسیع پسندی  اور ہوس ملک گیری کے ماروں کے سامنے نہایت بودے معلوم ہوتے ہیں۔  تو  ان بادشاہوں کی تلواریں بھی آپس میں ہی چلتی تھیں۔ اور اس میں ان کو مدد ملتی تھی کاسٹائل اور دوسری عیسائی ریاستوں سے۔  یہ مدد فوجیوں کی صورت بھی ہوتی تھی، اور کبھی کبھار براہ  راست مسلمان بادشاہ کی طرف سے  عیسائی فوجیں ہی حملہ آور ہو جاتی تھیں۔ ‘تقسیم کرو اور حکومت کرو’ کی یہ اندلسی مثال تھی۔  ان خدمات کے عوض آئیبیریا کے عیسائیوں کو مال، دولت، جائداد  یا جو وہ مانگیں، دیا جاتا تھا۔  نتیجہ یہ کہ عیسائی طاقت بڑھتے بڑھتے اتنی ہو گئی کہ ان نا عاقبت اندیش حکمرانوں کو سانس لینی دوبھر ہو گئی۔   یہ آج سے ٹھیک ایک ہزار سال پہلے کی بات ہے۔

آج کا حال دیکھیں۔ پاکستان کے شمالی علاقوں ، جنہیں نہ جانے کیوں پہلے بھی  ’علاقہ غیر’  ہی کہا جاتا  تھا، میں ایک جنگ ہو رہی ہے۔  ’ہماری جنگ’ !۔ کہنے کو پاکستان کی سرزمین کے دشمن اس علاقے میں چھپے بیٹھے ہیں۔  وہ دشمن جو عام  آبادی میں ایسے گھل مل گئے ہیں کہ وہاں ان کی شادیاں بھی ہوئی ہوئی ہیں اور اولاد بھی۔   ایک ایسا علاقہ جس میں پاکستان کے دوسرے علاقوں سے کوئی نہیں جا سکتا اور وہاں سے پاکستان کے دوسرے علاقوں میں کوئی نہیں جا سکتا۔  بیچ میں اتنی چوکیاں اور اتنے پہرے ہیں کہ سفر کا انجام اکثر و بیشتر ناکامی ہی ہوتا ہے۔ چنانچہ وہاں سے کسی خبر کا آجانا بجائے خود ایک عجوبہ  ہے کجا یہ کہ اس خبر کی تصدیق بھی ہو جائے۔ ایسے میں وہاں پر  فضائی حملے جاری ہیں۔ مقصد ان حملوں کا یہ ہے کہ ‘دہشت گردوں’ کو مار دیا جائے۔  یہ حملے کون کر  رہا ہے، کیوں کر رہا ہے اور کیا یہ اپنے مقصد میں کامیاب ہو رہے ہیں ۔ یہ سوال کر لینا جتنا آسان ہے اس کا جواب تلاش کرنا اتنا ہی مشکل۔

2004 میں ڈامہ ڈولہ میں ایک  میزائل  حملے میں  ’ ملا نیک محمد ‘ کا انتقال ہو گیا۔  اس وقت کسی کی کچھ سمجھ میں ہی نہیں آیا کہ یہ میزائل آیا کہاں سے۔  مگر ہمارے صدر پرویز صاحب نے  کمال پھرتی سے اس کی ذمہ داری  اپنے ادارے کی طرف سے قبول کرتے ہوئے  کہا کہ یہ ہم نے  کیا ہے۔ اس سے قطع نظر کہ ہم نے ایک ایسے شخص کو کیوں مار دیا جو  بعد میں ملنے والی اطلاعات کے مطابق ریاست سے باقاعدہ مذاکرات پر آمادہ تھا،  یہ تفصیلات کہ حملہ ہوا کیسے اس کہانی میں ہی کافی جھول تھے۔  بعد  ازاں  جب جب اس طرح کے حملے ہوتے رہے تو  اسی طرح وہ اور ان کے کارندے یہ ذمہ داریاں قبول کرتے رہے۔  رفتہ رفتہ بات کھلنا شروع ہوئی کہ یہ حملے  دراصل امریکی  ڈرون جاسوس طیارےکرتے ہیں۔  یہ  ڈرون  اول اول تو تھوڑے عرصے کے لیے نظر آتے تھے۔ مگر اب یہ    پورا دن  وزیرستان کے آسمان پر موجود رہتے ہیں۔  ان طیاروں سے  ایک مہینے میں اوسطاً  چھ سے سات حملے ہوتے ہیں۔ ان حملوں میں مرنے والے شہریوں  کے اعداد و شمار میں اتنا فرق ہے کہ   سرکاری شمار  دس سے کم اور  غیر سرکاری  کم و بیش ایک ہزار ہے۔ وجہ اس فرق کی کیا ہے یہ جاننے کے لیے دیکھیئے Living  Under Drones (livingunderdrones.com)  نامی دستاویز سے کچھ معلومات۔

یہ دستاویز  Stanford اور NY University  کے  اشتراک سے بنائی گئی ہے۔  قریباً نو ماہ کی ریسرچ اور درجنوں متاثرین سے  گفتگو  کی بنیاد پر بنائی گئی یہ رپورٹ  دراصل ڈرون  کے استعمال کے انسانی نفسیات پر پڑنے والے اثرات کو اجاگر کرنے کی ایک کوشش ہے۔  اسی  ضمن میں  امریکی اور پاکستانی دونوں طرح کے حکومتی دعوؤں کی بھی قلعی کھول دی گئی ہے۔

وزیرستان میں ڈرون کوابابیل بھی کہتے ہیں مگر زیادہ تر  ’بُھنگانہ’ کہا جاتا ہے، ایک ایسی چیز جو مکھی جیسے بھنبھناتی رہتی ہے۔ وزیرستان میں اس وقت یہ بھنبھناہٹ لوگوں کی زندگیوں کا حصہ بن گئی ہے۔  وہ سوتے ہیں تو سر پر ڈرون کی آواز  آتی ہے، بازار میں ہوتے ہیں تو   ’بُھنگانہ’ صاف نظر آتا ہے۔ ایک وقت میں چھ چھ ڈرون فضا میں نظر آرہے ہوتے ہیں۔ یہ بذات خود ایک ذہنی پریشانی کا باعث ہے   لیکن اصل مسئلہ یہ ہے کہ یہ ڈرون کبھی بھی آگ اگل سکتے ہیں۔ اس کا کوئی مقام، وقت، وجہ یا خاص ہدف نہیں ہے۔

17 مارچ 2011، صبح  تقریباً دس بجے کے قریب  دتہ خیل کے علاقے میں ایک قبائلی جرگہ، جو کہ قبائلی زندگی کا سب سے اہم ادارہ ہے، جاری تھا۔ قریباً چالیس سے کچھ اوپر لوگ  وہاں دو گروہوں میں صلح کرانے بیٹھے تھے، جرگہ کا مقامی انتطامیہ کو دس دن پہلے سے پتہ تھا چناچہ قبائلی بڑے، ملک، خاصہ دار یعنی حکومتی ادارے کے نمائندے بھی موجود تھے جو اس مجمع کے  پرامن ہونے کے لیے ایک  سرکاری سند تھی ۔  کرومائٹ کی کان کا یہ معاملہ کچھ  گرما گرمی کی طرف تھا کہ  اچانک ایک تیز سرسراہٹ سی سنائی دی  اور اس کے بعد ایک زور دار دھماکہ ہوا۔  عینی شاہدین کے مطابق فضا میں موجود ڈرون نے ایک میزائل فائر کیا تھا۔ اس حملے میں کوئی  42 لوگ مارے گئے اور 14 زخمی۔  مرنے والے اکثر لوگوں کے بارے میں یہ مصدقہ  اطلاع ہے کہ ان کا کوئی تعلق کسی  دہشت گرد تنظیم سے نہیں تھا۔ یعنی وہ عام شہری تھے۔ ایک قبائلی  سردار   داؤد خان کا بیٹا ، نور خان،  سانحے کے وقت  پانچ گھنٹے کی مسافت پر تھا۔ وہ واپس آیا تو اپنے  باپ کا  کفن میں لپٹا، جلا ہوا جسم   پایا۔ داؤد خان اس علاقے کا   ایک بڑا سردار تھا۔ اپنے علاقے والوں کے ساتھ ساتھ  گھر والوں کا  بھی سہارا تھا۔  کچھ یہی احوال  حاجی ملک بابت کا تھا جن کا اس ڈرون حملے میں انتقال ہوا۔ ان کا بیٹا خلیل خان  بتاتا ہے کہ مرنے والے کئی  قبائلی بڑوں میں سے پندرہ  تو صرف اسی کے  وزیری قبیلے سے تھے۔

اسی طرح 15 جون 2011 کو  امریکی ڈرون طیارے نے ایک گاڑی  ، جو کہ میرانشاہ اور سرکوٹ کے بیچ میں سفر کر رہی تھی، پر تقریباً چھ میزائل داغے اور پانچ لوگوں کو مار دیا۔  The bureau of investigative journalism کے مطابق پانچوں کے پانچوں لوگوں کو بعد میں  نام سے شناخت کیا گیا اور وہ پانچوں بھی  عام شہری تھے۔  کون لوگ تھے وہ؟ ایک  فارمیسی والا  عتیق الرحمان اور ایک اس کا طالبعلم ملازم ارشاد، ایک آٹو پارٹس کا بیوپاری عمر، ایک واپڈا کا ڈرائیور اکرم اور  اس کا  طالبعلم کزن شیرزادہ۔ یہ ہیں وہ ‘دہشت گرد ‘جن  کو مارنے کے لیے  چھ  Hellfire میزائل داغے گئے اور جب  عمر خان نے گاڑی سے باہر چھلانگ لگا دی تو آخری میزائل  نے اس کو بھی   قتل کر ڈالا۔

یہ صرف دو واقعات ہیں اور ان میں مرنے والے شہریوں کی تعداد پچاس تک پہنچ  جاتی ہے۔  ایک مہینے میں چھ حملے، ایک سال میں درجنوں  حملے اور  ہر حملے میں کئی ہلاکتیں۔کچھ عرصہ پہلے کی اطلاعات کے مطابق مرنے والے صرف بچوں ہی کی تعداد  178  ہے۔ اس کے باوجود جب  امریکی وزارت دفاع یہ کہتی ہے کہ مرنے والے شہریوں کی تعداد دس سے بھی کم ہے تو  پہلا سوال لازماً یہی ذہن میں آتا ہے کہ یہ کوئی اور گنتی گن رہے ہیں کیا؟ جواب اس کا ہے جی ہاں۔  امریکی وزارت دفاع کے مطابق کسی بھی حملے میں مارا جانے والا  ہر وہ مرد جو کہ جنگ لڑ سکتا ہے وہ جنجگو کی فہرست میں آئے گا ، الا یہ کہ اس کی موت کے بعد اس بات کا ٹھوس ثبوت مل جائے کہ  وہ ایک شہری تھا۔  امریکی حکومت کی طرف سے آج تک کوئی ایسی  کوشش نہیں کی گئی جو  ان حملوں میں مرنے والوں کے بارے میں  یہ  پتہ  لگانے کے بارے میں ہو کہ آیا وہ واقعی دہشت گرد تھے بھی کہ نہیں۔ اور ایسا کرنا سیاسی طور پر اوبامہ  کی صدارت کے لیے خودکشی کے مترادف ہو گا۔

باراک اوبامہ نے اس بات کو کبھی چھپانے کی کوشش نہیں کی کہ وہ ڈرون کو  زمینی  یا فضائی فوج پر زیادہ ترجیح  دیتا ہے۔  اس کی وجہ ایک تو یہ ہے کہ ڈرون اگر گر بھی گیا، اور گرتے ہی رہتے ہیں، توبھی  کسی فوجی کا قید میں چلا جانا یا مر جانا  اس سے کہیں  زیادہ عوامی ردعمل  کا موجب ہو گا۔ دوسری  بات یہ کہ گوانتانامو  جیل کا معاملہ بھی باراک اوبامہ کے لیے سانپ کے منہ میں چھچھوندر جیسا ہو گیا ہے۔ اس لیے مزید قیدی بنانے سے بہتر ہے کہ ان کو ٹھکانے لگا دیا جائے۔  لیکن  یہ سب تو ظاہر ہے  کہ  پوشیدہ وجوہات ہیں۔ اصل وجہ جو  اوبامہ، اس کی انتظامیہ  بالخصوص اس ڈرون جنگ کا  کرتا دھرتا  جان برینن  وغیرہ بتاتے ہیں وہ یہ ہے کہ  ’ہمارے ڈرون طیارے دہشت گرد اور عام شہری میں فرق کرنا جانتے ہیں’ یا ‘ہم ہر ممکن کوشش کرتے ہیں کہ ڈرون حملوں میں   عام شہریوں کا نقصان نہ ہو’ یا وہ جملہ  جو سب سے زیادہ  کہا جاتا ہے کہ ‘ہمارے  میزائل Pinpoint Precision پر کام کرتے ہیں’۔

اس    نشانہ بازی کی سوئی کی نوک  کے برابر  درستگی کے بارے میں   IISI  نامی کمپنی نے  ہرجانے کے دعویٰ میں  عدالت  کو   بتایا کہ    ” Netezza  کمپنی نے ہمارا سوفٹوئیر  Geospatialغیر قانونی طریقے سے اور عجلت میں   reverse engineer کر کے سی آئی اے کو بیچا اور انہوں نے یہ جاننے کے باوجود کہ یہ  سوفٹوئیر کئی میٹر تک غلط  جگہ بتا تا ہے، اسے خرید لیا”۔  چھوٹی سی گاڑی پر چھ  Hellfire میزائل مارنے کی ضرورت ایسے ہی نہیں پڑتی۔ اس کے  علاوہ ٹریکنگ چِپس بھی استعمال کی جاتی ہیں جو  زمین پر موجود   امریکہ کے خریدے ہوئے لوگ  مشکوک لوگوں کے  ٹھکانوں پر ڈال دیتے ہیں اور وہ چِپ  ڈرون   کی رہنمائی کرتی ہے۔  اپریل 2009 میں 19 سالہ  حبیب الرحمان  کو   مبینہ  طور  پر TTPنے  گولی  مار دی۔  قتل ہونے سے پہلے اپنے ویڈیو پیغام میں حبیب نے کہا کہ اسے  یہ پتہ نہیں تھا کہ یہ CIAکا کام ہے، اسے تو چپس پھینکنے کے 122 ڈالر دئیے گئے تھے اور کہا گیا تھا کہ اگر تم کسی عرب گھر میں یہ چپ ڈالنے میں  کامیاب ہو گئے تو  بارہ ہزار  ڈالر  ملیں گے۔  اس نے کہا کہ میں نے اندھا دھند وہ چپس ادھر ادھر پھینکنا شروع کر دیں ، میں جانتا تھا کہ لوگ میری وجہ سے مر رہے ہیں مگر مجھے پیسے چاہیے تھے”۔ تو یہ ہے  Pinpoint precision کی روداد!

شروع شروع میں یہ ڈرون حملے  کسی ایک شخص معین پر ہوتے تھے۔  مثلاً  بش انتظامیہ کے دور میں نیک محمد   پر جو حملہ ہوا تھا وہ   Personality strike تھا۔  باراک اوبامہ نے اقتدار میں آنے سے پہلے ہی یہ بات واضح کر دی تھی کہ     وہ  اور اس کی ٹیم ڈرون حملوں کو مزید آگے بڑھائیں گے۔ یہ پروگرام  ایسے آگے  بڑھا کہ اب سی آئی اے کے یہ ڈرون اڑانے والے اگر  کہیں بھی محسوس کریں کہ کوئی مشکوک سرگرمی ہو رہی ہے تو   اکثر و بیشتر  ان کو  حملہ کرنے کے لیے صدر سے اجازت لینے کی ضرورت نہیں ہے۔  جرگہ پر حملہ اسی کا شاخسانہ ہے،  اکرم خان کی گاڑی اسی لیے تباہ کی گئی، جنازوں ،شادیوں  اور دوسرے اجتماعات  پر  بھی حملے اسی Signature Strike کے زمرے میں آتے ہیں۔ یعنی  اگر کوئی صورتحال کسی پہلے سے متعین   Signature پر پورا اتر رہی ہے تو  ڈرون اڑانے والا حملہ کرنے کا مجاز ہے۔  وہ کیا قواعد ہیں جن کی بنیادپر یہ فیصلہ ہوتا ہے ، یہ ایک راز ہے۔   اب تو یہ بات مذاقاً کہی جاتی ہے کہ جہاں  CIA کو تین لوگ اچھل کود کرتے نظر آتے ہیں وہ ایک  Hellfire داغ دیتے ہیں۔

ڈرون طیارے بغیر پائلٹ کے نہیں اڑتے، بس ان کے پائلٹ  طیارہ میں نہیں بیٹھتے۔  وہ  ہزاروں میل دور نیواڈا میں بیٹھے ہوتے ہیں۔ کل کے ایف سولہ اڑانے والے آج Predator اور Reaper اڑا رہے ہیں۔ ایک بڑے سے کنٹینر میں ایک ٹیم بیٹھی ہوتی ہے جس میں سے دو پائلٹ ہوتے ہیں۔  ان کے سامنے بالکل جہاز ہی کے انداز میں مختلف آلات لگے ہوتے ہیں۔ دو سکرینوں پر  جہاز کا بیرونی اور نیچے کا منظر دکھائی دیتا ہے۔  بالکل ایک ویڈیو گیم کا سا سماں ہوتا ہے۔  F-16 کی کمر توڑ پرواز  سے یہ  پرواز اگر ویسے ہی  ’گھر جیسا آرام ‘نہیں تھا تو ڈرون اڑانے والوں کے لیے اس قتل کی سنگینی کو کم سے کم رکھنے کے لیے   اس قتل کو Bug splat یعنی مکھی مارنا کہا جاتا ہے۔  یعنی  مرنے والا جو بھی ہو  کم از کم انسان کہلانے کے لائق نہیں۔  اوبامہ کی اس جنگ میں  حملوں  کی زیادتی کی وجہ سے پائلٹس کی اتنی کمی ہو گئی ہے کہ اب  امریکی فضائیہ اپنے کیڈٹس سے بھی یہ کام لے گی۔ اس پر  طرہ یہ کہ اب  ان کی حوصلہ افزائی کے لیے  ان کو بہادری کے تمغے  بھی دئیے جا نے کا  پروگرام رو بہ عمل ہے۔

اس سارے معاملے میں  پاکستان اور اس کے عوام کا کیا کردار ہے؟  ہم نے مضمون کے آغاز میں ملوک الطوائف  کا  ذکر کیا تھا۔   پاکستان  کی حکومت کا کردار  اس معاملے میں ایسا ہی منافقانہ ہے۔   آنکھ اوجھل پہاڑ اوجھل کے مصداق اس علاقے سے ویسے بھی خبریں نہیں آتیں، اوپر سے ہمارے سابق وزیر اعظم صاحب وکی لیکس کے مطابق یہ کہتے ہوئے پائے گئے کہ ‘آپ اپنا کام جاری رکھیں گے، ہم پارلیمان میں آواز اٹھائیں گے اور پھر خاموش ہو جائیں گے”۔اپنے ملک کی عوام کو اس طرح درندوں کے حوالے کرتے کم ہی دیکھا گیا ہے۔ وزیرستان کی عوام کے آگے CIA کا کنواں اور پیچھے TTP کی کھائی ہے۔  وہ اپنے مخصوص محل وقوع  کی وجہ سے اس وقت  زمین کی پشت پر بد ترین مصیبت  میں ہیں۔ اور اس صورتحال میں انہیں دھکیلنے والے کوئی اور نہیں ان کے اپنے ہموطن ہیں۔

ہمارے  نام نہاد دانشور اکثر و بیشتر یہ کہتے ہوئے پائے گئے ہیں کہ ہم امریکہ کا ڈرون مار کے خود کہاں جائیں گے؟ اس کے جواب میں یہی کہا جاسکتا ہے کہ ان کا اپنا بچہ مرتا کسی ایسے حملے میں تو  پھر پوچھتے  ان  سے۔  ہر وقت ڈرون کی بھنبھناہٹ، اس کی ہمہ وقت موجودگی، اس کا کسی بھی مجمع پر حملہ کر ڈالنا ، اس حملہ کے نتیجے میں مدد کو آنے والوں کو بھی نشانہ بنانا،اپنے پیاروں ، اپنے  بچوں کی مسخ شدہ جلی ہوئی لاشیں ، اور کبھی صرف ان کے جسم کے ٹکڑے  ہی دفنا پانا۔   یہ سب وہ باتیں ہیں جو  انور بیگ اور خورشید ندیم جیسے  یہ ڈرائنگ روم کے دانشوروں کے لئے محسوس کرنا ان کے بس سے باہر ہے۔

کیا ہم ڈرون طیارے گرا سکتے ہیں؟    تو اس کے جواب میں پہلی بات تو  یہ  کہ پوری دنیا جانتی ہے کہ یہ ڈرون طیارے پاکستان کی اپنی  سرزمین سے اڑتے ہیں تو  ہماری فضائی حدود کی خلاف ورزی تو کوئی ہے ہی نہیں، رضا مندی  ہی رضامندی ہے۔  بلکہ ہمارے مقتدر حلقے تو ڈرون ٹیکنالوجی  مانگتے بھی رہے ہیں کہ جی ہمیں بھی تو دکھائیں۔     ڈرون مارگرانا کوئی مشکل کام نہیں ، لیکن مسئلہ یہ  ہے ہی نہیں کہ ہم مار سکتے ہیں کہ نہیں، مسئلہ یہ ہے کہ ہم مارنا چاہتے ہیں کہ نہیں۔   ہمارے نئے نویلے وزیر اعظم صاحب نے فرمایا ہے  کہ ‘ڈرون پر تحفظات ہیں’۔ ان کے اس سے بھی نئے نویلے  مشیر  خارجہ  نے فرمایا کہ  ’تمام صلاحیتیں بروئے کار لائی جا سکتی ہیں’۔  نجانے یہ باتیں کہہ کر وہ کس کی تسلی کرنا چاہتے ہیں ورنہ  صاف نظر آرہا ہے کہ  یہ  بھی  ’اِب کے مار’ والے لوگ ہیں۔  AfPak ریجن کے لیے امریکہ کے نئے  نمائندہ   جیمز ڈابنز سے جب ہمارے ملک کے وزیر اعظم نے کہا کہ ڈرون حملے بند کر دیجیے تو اس نے ایک  یک لفظی جواب  جو دیاوہ  تھا “نہیں” اور ہماراردعمل  تھا ،’جی اچھا’۔ معذرت کے ساتھ ، یہی ڈرون اگر کوئی بیکری والا اڑا رہا ہوتا  اور اس نے  یہ ‘نہیں ‘ بولا ہوتا  تو  اس کے ساتھ یہ کیا سلوک کرتے وہ ہم اچھی طرح جانتے ہیں۔

دتہ خیل میں مرنے والے داؤد خان کے بیٹے نور خان  نے پاکستانی وکیل شہزاد اکبر سے را بطہ کیا جو کہ  درجنوں دوسرے خاندانوں کے  لیے پاکستانی عدالتوں میں ان ڈروں حملوں میں مرنے اور زخمی ہونے والوں کے لیے عدل  مانگ رہے تھے۔   چند ماہ قبل پشاور ہائیکورٹ نے کیس کے فیصلے میں ڈرون حملوں کو غیر قانونی قرار دے دیا ۔  پاکستان کی پارلیمنٹ پہلے ہی ان حملوں کو نا جائز قرار دے چکی ہے۔  عمران خان نے پہلا مطالبہ  جو اس حکومت سے کیا ہے وہ یہی ہے کہ ڈرون حملوں کو رکوا دو ہم تمہارا ساتھ دیں گے۔ پاکستان کی حکومت کے پاس اب   ہر طرح کا اختیار ہے کہ وہ ان حملوں کو  ایک دم رکوا دے  لیکن ان کا پھر بھی ایسا نہ کر نا  سیدھا سیدھا اشارہ کرتا ہے  کہ یا تو ملی بھگت  ہے یا کردار کی کمی، یا  کردار کی کمی کی وجہ سے ملی بھگت!

جب اندلس  کے نا عاقبت اندیش حکمرانوں کے لیے سانس لینا دوبھر ہو گیا  اور  الفانسو ان کی  جڑوں میں بیٹھ گیا تو پھر انہوں نے مدد کے لیے   سمندر پار سے  یوسف بن تاشفین کو بلایا جس نے ایک ہی حملے میں الفانسو کا ایسا صفایا کیا کہ اگلے چار سو سال اندلس میں پھر اسلامی پرچم لہرانے لگا۔  ہم جانتے ہیں کہ پاکستان کے حکمرانوں کے ہاتھ سے معاملات نکل چکے ہیں۔ یہ اب  اپنی مرضی سے  ایک روٹی  بھی نہیں خرید سکتے۔  تو ایسے وقت میں  کسی یوسف بن تاشفین کو نہ سہی، اپنی عوام کو ہی آواز دے لیں۔  ہمیں اصل معاملات سے آگاہ کریں۔  اس بات سے آگاہ کریں کہ مشرف نے جب ہمیں اس نا پاک اور نا مراد جنگ میں دھکیلا تھا تو کیا شرائط طے کی تھیں؟ اس جنگ میں پاکستان اور اس کے وسائل کی شمولیت کے parameters کیا تھے؟  پھر   وہ کیا وجہ ہے کہ  ہمارے شہروں میں اسلامی نام والی تنظیموں کے دھماکے کی ایک ایک لمحے کی خبر دکھائی جاتی ہے لیکن امریکہ کے ان ڈرون حملوں کی کوئی ایک ویڈیو بھی نہیں آتی ۔ کیوں ہم اپنے شہروں میں مرنے والے  شہریوں کی تعداد، علاقے ، حتیٰ کہ مسالک تک سے آگاہ ہیں لیکن  دتہ خیل، سرکوٹ ، میرانشاہ اور ڈامہ ڈولہ کے ان Hellfire میزائل میں مرنے والے ‘دہشت گردوں’ کی اصلیت سے نا واقف ہیں۔  اگر آپ  عوام کو اعتماد میں نہیں لیں گے تو  یہ معاملہ زیادہ دن چلنے والا نہیں ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ  وہ وقت دور نہیں جب یہ Predator اور Reaper کراچی، ملتان، رحیم یار خان،  کوئٹہ ، لاہور، ایبٹ آباد  اور اسلام آباد  کی  فضاؤں میں بھی ایسے ہی نظر آئیں گے۔  لیکن ایسے وقت میں نجانے کیوں مجھے یقین ہے  کہ ہمارے یہ پٹھان بھائی ہمیں ایسے نہیں چھوڑیں گے جیسے ہم نے انہیں چھوڑ رکھا ہے۔  اللہ ہمارے ان بھائیوں اور بہنوں کی حفاظت کرے۔ آمین!

فحاشی کی ‘تعریف’ میں

Posted in Islam, Rants by baigsaab on September 4, 2012

دنیا کا کوئی ملک ایسا نہیں جہاں کسی نہ کسی وقت کوئی پالیسی بحث نہ چل رہی ہو ۔لیکن پاکستان ان ملکوں میں سے ہے جہاں پالیسی بحث حل یا عمل کے لیے نہیں ٹائم پاس اور تفریح کے لیے ہوتی ہے۔ اس وقت بھی ایک بحث چھڑی ہے۔ یہ نہیں کہ ‘خط’ لکھنا ہے کہ نہیں۔ یہ بھی نہیں کہ پانی سے گاڑی چلانے کے لیے کتنے وزیر چاہییں۔ اور یہ تو بالکل نہیں کہ جمہوریت کے ذریعے عوام سے بہترین انتقام لینے کے بعد اگلے 5 سال کیا کرنا ہے۔ وہ بحث جس کا ہم تذکرہ کر رہے ہیں وہ یہ ہے کہ ‘فحاشی’ کیا ہے؟ جی ہاں۔ فحاشی۔ جسے ہم عریانیت یا جنسیت یا بے ہودگی بھی کہہ سکتے ہیں۔ یہ بحث عدالت عظمیٰ کے حکم پر پیمرا … جو کہ ملک میں الیکٹرانک میڈیا کو کنٹرول کرنے کا ادارہ ہے… اور کچھ مذہبی اور سماجی دانشوروں کے درمیان جاری ہے۔ بحث کیوں ہوئی کیا ہوئی اور کچھ لوگوں کو میڈیا میں فحاشی کیوں نظر نہیں آتی یہ جاننے کے لیے ہم بچوّ بھائی کے پاس گئے۔ بچّو بھائی کون ہیں ۔ بس سمجھ لیں ‘گرو ‘ ہیں ۔ کیا چیز ہے جو انہوں نے نہیں دیکھی۔ اور ان معاملات میں ان کی ‘نظر’ بہت وسیع ہے۔ جب ہم بچوّ بھائی کے پاس پہنچے تو وہ کسی لبرل دانشور (جو کہ ہر لبرل ہوتا ہے) سے بات کر رہے تھے جن کو فحاشی نظر نہیں آرہی تھی ۔ بچوّ بھائی چاہتے تھے وہی انجیکشن قاضی صاحب کو بھی لگا دیں تاکہ یہ بحث ختم ہو۔ بچو بھائی کہہ رہے تھے۔

” جی تو میرے بھائی آپ مجھے وہ میڈیا دکھا دیں گےجس میں آپ کو کو ئی برائی نظر نہیں آتی؟ اچھا تو چلیں میرے گھر چلتے ہیں۔ بس یہ 5 منٹ کے راستے پر ہے گھر میرا۔۔ ارے رے سامنے دیکھئے بھائی کیا کر رہے ہیں؟ اوہ اچھا آپ وہ بورڈ دیکھنے لگ گئے تھے جس میں کوئی لباس خاتون میں سے جھانک رہا تھا۔ جی جی آپ کی نیت پر شک نہیں کر رہا توبہ کریں ۔ جی ویسے تو وہ بورڈ بھی آپ نے بہت غور سے دیکھا تھا جس میں موبائل نے لڑکی کے ساتھ تصویر کھنچوائی ہے ۔ ظاہر ہے ساری خوبیوں کو بغور دیکھنا پڑتا ہے، جی جی موبائل کی خوبیاں اور کیا۔ دیکھیے منہ تو بند کر لیں لوگ کہیں گے کبھی لڑکی نہیں دیکھی ۔ اچھا دیکھیں گھر آگیا۔

جی تو حضرت آپ نے وضو کر لیا؟ ارے وضو تو کریں اتنے پاک میڈیا کو بغیر وضو دیکھیں گے کیا؟ چلیں خیر لیکن یہ ‘آداب’ کے خلاف ہے۔سب سے پہلے خبروں کا چینل دیکھتے ہیں۔ یہ کیا؟ یہ لڑکی اتنا تیار ہو کے کیوں بیٹھی ہے کیا یہاں سے سیدھا اپنی شادی میں جا رہی ہے؟ اچھا معذرت ہم تو خبریں دیکھ رہے تھے لڑکی کے تیار ہونے میں تو کوئی فحاشی نہیں۔ خیر تو یہ تو کچھ ضروری خبر لگ رہی ہے۔ اچھا وزیر اعظم کو خط لکھنا پڑے گا؟ لیکن یہ ساتھ میں گانا کیوں ہے؟ اوہ اچھا خبر کا اثر زیادہ ہوتا ہے۔ اور یہ لڑکی کے چہرے اور آستینوں کا رنگ ایک کیوں ہے؟ او ہ اچھا آستینیں ہیں ہی نہیں ۔ ہاں لیکن یہ تو فحاشی نہیں انڈین گانا تھا نا وہاں تو ہر گھر میں ایک کرینہ کپور ہوتی ہے۔ آئیں دعا کریں ان کافروں کواللہ ہدایت دے دے۔ اچھا تو اشتہار آگئے۔ یہ فون کے ساتھ بندہ بھی وائبریشن پر ہے کیا؟ فون ڈانس کر کے کیوں بیچ رہے ہیں ؟ اور یہ لڑکی کی پیٹھ کیوں برہنہ ہے سردی لگ جائے گی بھئی۔ اچھا کم کپڑوں میں سگنل اچھے آتے ہوں گے۔ یہ کھانسی کا شربت ہے۔ اشتہار دیکھ کرپتہ لگ رہا ہے کھانسی ہوئی کیوں تھی۔ تھوڑا فاصلہ رکھنا چاہیے تھا۔ اور یہ چپل بغیر گانا گائے نہیں بیچ سکتے؟ آپ نے آج تک کسی کو صرف چپل کی وجہ سے اتنا خوش ہوتے دیکھا ہے؟ ویسے یہ تینوں لڑکیاں اگر یہ سمجھ رہی ہیں کہ چپل کپڑوں کی کمی کو پورا کر دے گی تو یہ ان کی غلط فہمی ہے۔ یہ بھی ٖفحاشی نہیں؟ چلیں پھر کوئی ڈرامہ دیکھ لیتے ہیں۔ یہ اچھا ڈرامہ لگ رہا ہے۔ میاں بیوی بات کر رہے ہیں۔ ٍ یہ تو رومینٹک ہو گئے۔ اچھا کمرے میں تو کوئی نہیں ہے ظاہر ہے کیمرہ مین تو کیمرہ کے پیچھے ہے اور میاں بیوی ہی تو ہیں ایک دوسرے کے نہیں تو کیا ہوا کسی نہ کسی کے تو ہیں۔ یہ دو کون ہیں؟ اچھا پریمی ہیں۔ ایک دوسرے سے پیار کرتے ہیں۔ ہاتھ میں ہاتھ ہی تو لیا ہے کوئی آگے تو نہیں بڑھے نا۔ ارے یہ تو آگے بڑھ گیا۔ فحاشی لیکن یہ بھی نہیں معاشرہ میں یہی کچھ تو ہورہا ہوگا۔ چلیں دوسرا ڈرامہ دیکھتے ہیں۔ یہ ڈرامہ بھی مشہور ہے اس میں معاشرے کی سب سے ضروری چیز کے بارے میں آواز اٹھائی گئی ہے۔ جی جی طوائف کے بارے میں۔ ارے یہ ڈائیلاگ سن کے آپ کے کان لال ہو گئے؟ اچھا گرمی زیادہ ہے۔ ڈائیلاگ تو کرارا تھا ویسے۔ اور یہ اس آدمی نے پانی میں کیا ملایا بھلا؟ اچھا شراب ہے۔ ہم سمجھے کوئی حرام شے ہے۔ یہ بھی فحاشی نہیں؟ چلیں اسپورٹس دیکھ لیتے ہیں ۔ آئی پی ایل چل رہا ہے نا آج کل ۔ واہ کیا زبردست بیٹنگ کر رہا ہے مزا آگیا۔ اور یہ چوکاااااا۔ ارے یہ لڑکیوں کو تو ہم سے زیادہ خوشی ہو گئی پورے اسٹیڈیم میں سب سے زیادہ یہی ڈانس کر رہی ہیں۔ کرکٹ کا اتنا شوق ہے بھئی واہ جی خوش کر دیا لڑکیو جہاں رہو سکھی رہو۔ جی بھائی تو آپ کو ابھی بھی کوئی فحاشی نہیں ملی؟ واقعی میں؟ شرفوبھئی ان کے خون کا سیمپل لے لو اور لیبارٹری میں دے دو۔ پانی والی گاڑی میں اسی میٹیریل کا ٹائر ڈا لیں گے کبھی پنکچر نہیں ہوگا دیکھنا۔ ابے بھاگا کہاں جا رہا ہے۔ دیکھ تو سہی صاحب کو درشن کر لے ان کے۔ ایسا ایمان ہے ان کا اسٹیل سے بھی مضبوط۔ اور ایک تو ہے ذرا سی بات پر تیرے ایمان کو خطرہ ہوجاتا ہے۔ یہ بھی بیٹا پاکستان کی اپنی ایجاد ہے پوری دنیا میں ایسا میٹیریل کہیں نہیں ملے گا۔ تجھے بھی غیرت کا ہیضہ رہتا ہے نا سیکھ کچھ ان سے سیکھ!”

یوسفی صاحب کہتے ہیں کہ جب کیلے کے چھلکے پر پاؤں پڑ جائے تو سنبھلنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے، اس پھسلنے کو انجوائے کرنا چاہیے۔ بس یہ قطعہ وہ چھلکا سمجھ لیں۔ ایک بڑے امریکی اخبار کے ایڈیٹر نے ایک دفعہ کہا تھا کہ دنیا کا ہر مضمون نگار صرف اور صرف ایک وجہ سے لکھتا ہے۔ غصہ!

آج سے 30 سال پہلے اگر متوسط طبقے کا ایک پاکستانی گھرانہ کوئی پروگرام ٹی وی پر دیکھ رہا ہوتا تھا تو اس کو کم از کم دو باتوں کی فکر بالکل نہیں ہوتی تھی ۔ ایک چینل تبدیل کرنے کی (کہ ملک میں تھا ہی ایک چینل، کچھ شوقین دور درشن دیکھتے تھے لیکن کافی پاپڑ بیلنے کے بعد)، اور دوسری فکر کوئی ایسا منظر ٹی وی پر آجانے کی کہ جس کو دیکھنے کے لیے ماں باپ بچوں کو پانی لینے بھیج دیں۔ اس زمانے میں عموماً گھروں میں وی سی آر مانگ کر یا کرایہ پر لایا جاتا تھا۔ انڈین فلم چلتی تھی اور سب گھر والے اور دوسرے رشتہ دار بھی آتے تھے اور سب کے بیچ میں یہ وی سی آر چلتا تھا۔ ان فلموں میں جو گانے وانے اور دیگر خرافات ہوتے تھے وہ تو بڑھا دیئے جاتے تھے ۔ ‘بد تمیزیاں’ زیادہ ہونے کی صورت میں ‘ وی سی آر مینیجر ‘ کی پٹائی بھی ہوسکتی تھی۔ یہ کوئی انتہا پسند گھرانے نہیں تھے۔ یہ وہ زمانہ تھا کہ شرفاء کے گھروں میں شوہر کا اپنی بیوی کا ہاتھ لوگوں کے سامنے پکڑ لینا ایک شدید معیوب بات سمجھی جاتی تھی اور گھر کا کوئی بڑا بوڑھا فوراً ہی اس حرکت پر سرزنش کر دیا کرتا تھا۔ اس معصوم زمانے میں بھی کچھ لوگ تھے جو وی سی آر جیسی ‘بے ضرر’ چیز کو حرام مانتے تھے۔ یہ وہ مولوی ٹائپ لوگ تھے جو بیسویں صدی میں داخل ہوئے ہی نہیں بلکہ دروازے پر ہی کھڑے ہو گئے۔ ان لوگوں کو محافل میں بلانے کے لیے کافی اہتمام کرنا پڑتا تھا۔ جیسے کہ دعوت کا جلدی انعقاد کرنا اور ان کا جلد از جلد نکلنا یقینی بنانا تاکہ ‘اصل’ دعوت شروع کی جا سکے۔ وغیرہ وغیرہ۔ دوسری انتہا پر وہ ماڈرن طبقہ تھا جو مغرب کی طرف دیکھتا تھا۔ اس کے ہاں حدود و قیود کا تعین مغرب کی اقدار کی روشنی میں ہی کیا جاتا تھا۔

آج تیس سال بعد، وہ مولوی ٹائپ لوگ اکثر و بیشتر ابھی تک اپنی ‘ہٹ دھرمی’ پر قائم ہیں۔ ٹی وی کے بارے میں بالعموم وہ اپنا نظریہ تبدیل کر چکے ہیں لیکن حیاء اور شرم، بے ہودگی اور فحاشی کا معیار ابھی بھی ان کے ہاں شریعت اور علماء ہی بتاتے ہیں۔ دوسری طرف وہ مغرب زدہ طبقہ ہے جس کا قبلہ ابھی بھی مغرب ہی ہے۔ اس عرصے میں جیسے مغرب میں اخلاقیات تبدیل ہوئی ہیں ویسے ہی ان کے ہاں بھی ہوئی ہیں ۔ مغرب میں پچھلے 25 سال میں ہم جنسیت ایک قابل نفرین سے قابل تقلید شے میں تبدیل ہوئی تو ان کے ہاں درجنوں آل قوم لوط پیدا ہو گئے۔

تبدیلی اگر آئی ہے تو ان گھرانوں میں جہاں مذہبی پہرہ نسبتاً نرم تھا۔ آج تقریباً ہر گھر میں 100 سے زائد چینل ہیں۔ ہر طرح کا مواد انگوٹھے کی ایک جنبش سے دیکھا جا سکتا ہے۔ تیس سال پہلے جن مناظرپر وی سی آر مینیجر کی پٹائی ہو جاتی تھی آج تیس سال بعد وہ نہ صرف قابل قبول بلکہ قابل تحسین بھی ہیں۔ تیس سال پہلے کی انڈین ہیروئین کے کپڑے جن لوگوں کو مختصر لگتے تھے آج اپنی بچیوں کو شیلا اور منی بنے دیکھ کر پھولے نہیں سما رہے۔ تیس سال پہلے شوہر اپنی بیوی کا ہاتھ نہیں پکڑ سکتا تھا۔ اب جب تک میاں بیوی اپنی کوئی ایسی تصویر فیس بک پر نہ لگا دیں جس میں دونوں کے درمیان ہوا بھی نہ گزر سکے تب تک لوگ سمجھتے ہیں دونوں میں الفت نہیں۔ ہر وقت ہر جگہ پیار و محبت کا اظہار اپنی جگہ۔

یہ اتنی بڑی تبدیلی کیسے آئی؟ ویسے تو رینڈ کارپوریشن کی پاکستان پر تین رپورٹیں کافی ہیں اس کام کے لیے لیکن اگر ہم تھوڑا وسیع جائزہ لیں تو یہ تبدیلی صرف پاکستانی معاشرے میں نہیں آئی ہے۔ 1990 سے پہلے کی ہالی وڈ کی فلموں اور اب کی فلموں میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ جیسا ہم نے پہلے لکھا، ہم جنس پرستی 25 سال پہلے کے امریکی معاشرہ میں ایک معیوب ہی نہیں نہایت گھٹیا فعل سمجھی جاتی تھی۔ لیکن آج سے قریب 7 سال پہلے ‘بروک بیک ماؤنٹین ‘ نامی فلم کو تین آسکر ایوارڈ اور کئی نامزدگیاں دی گئیں ۔ فلم کا عنوان لواطت تھا۔ فلم کو اس قدر پذیرائی ملنے کی ایک بہت بڑی وجہ یہ تھی کہ امریکی میڈیا میں عام طور پر اور انٹرٹینمنٹ صحافت میں خاص طور پر ایک طویل عرصے سے ایسے لوگ داخل ہو رہے تھے جن کا یا تو جنسی رجحان اس طرف تھا یا وہ سستے پیسے اور شہرت کمانا چاہتے تھے۔ ان لوگوں نے باقاعدہ ایک مہم کے طور پر اس عمل کو لوگوں کی نظروں میں خوشنما یا کم از کم ناقابل نفرت بنا دیا ہے۔ اس تمام مہم کا منطقی انجام یہ ہے کہ اب ‘گے رائٹس’ امریکہ میں ایک زمینی حقیقت بن گئے ہیں۔ اب وہاں رہنے والے مسلمان بھی ان کو ایک عام شہری ہی سمجھنے پر مجبور ہیں۔ بس اپنے بچوں کو ان کی صحبت سے بچا نے کی کوشش کر تے ہوں گے کیونکہ کچھ اور تو وہ کر ہی نہیں سکتے۔ لواطت کی سزا قتل ہے یہ تو شاید ان کے حاشیہ خیال میں بھی نہیں آتا ہوگا۔ امریکہ کے مقبول ترین ٹی وی میزبان بشمول جان اسٹیورٹ کھلے عام اپنے پروگرام میں فحش مذاق کرتے ہیں۔ ایک صدارتی امیدوار ‘رک سینٹورم’ نے ہم جنس پرستوں کو ناراض کیا تو اس کے نام کو گوگل کرنے پر نہایت عجیب نتائج آنے شروع ہوگئے، اتنے عجیب کہ اس کی ‘گوگل پرابلم’ مشہور ہو گئی۔ اور نوبت بہ ایں جا رسید کہ ترقی یافتہ دنیا کے امام امریکہ کے پہلے صدرِ سیاہ فام نے کھلے عام، بلکہ بہت اہتمام کے ساتھ، اس بات کا اعتراف کر لیا ہے کہ ‘اسے ہم جنس پرستی پر کوئی خاص اعتراض نہیں ہے’۔ یہ احوال ہوا امریکی معاشرہ کا۔ اب پڑوسی ملک میں بھی دیکھ لیں۔ کیا آج کی ہندی فلمیں 20 سال پہلے کی ہندی فلموں سے کئی گنا زیادہ فحش نہیں ہیں؟ اب جن ہندی فلموں میں ‘آئٹم نمبر’ نہیں ہوتا وہ فلم فلم نہیں ہوتی۔ بڑے بڑے اداکاروں کو اس بات پر مجبور کر دیا گیا ہے کہ وہ فلم کو چلانے کے لیے اوچھی حرکتیں کریں ۔ کون سا ایسا نام ہے جس کو اپنی فلم میں ‘بولڈ’ سین نہ فلمانا پڑ رہا ہو۔ آپ کے خیال میں ہندوستان کے تمام ہیرو اچانک سے ‘ٹھرکی’ ہو گئے ہیں؟ جی نہیں یہ بھی اسی راستے کے راہی ہیں۔

اس تناظر میں اگر پاکستانی میڈیا کو دیکھیں تو یہاں بھی تبدیلی پچھلے 5-6 سالوں میں ہی آئی ہے۔ 2002 کے انتخابات کے وقت نئے پاکستانی چینلوں نے جو کار کردگی دکھائی تھی وہ اب ماضی کا ایک ورق ہے۔ اس وقت بہت کم ایسا مواد ان چینلوں پر چلتا تھا جس پر عامۃ الناس کو اعتراض ہو۔ اس وقت کی فوٹیج اگر یو ٹیوب پر مل جائے تو ادائیگی کا طریقہ اور انداز کافی حد تک سادہ ہوتا تھا۔ گو پی ٹی وی کے مقابلے میں بہت ‘آزاد’ تھا لیکن اگر آج کے مواد سے موازنہ کیا جائے تو فرق بہت واضح ہے۔ قصہ مختصر، اس وقت کا مواد اتنا قابل اعتراض نہیں تھا جتنا اب کا ہے۔ اب حالت یہ ہے کہ خود میڈیا میں موجود سنجیدہ حلقے چیخ اٹھے ہیں ۔ اوریا مقبول جان، طلعت حسین اور انصار عباسی وغیرہ ثقافتی یلغار یا بے حیائی کے خلاف اپنی اپنی آواز اٹھا رہے ہیں۔ اس کے نتیجے میں عدالت عظمیٰ نے پیمرا کو حکم دیا کہ تمام فحش مواد بند کر دے۔ پیمرا نے فحش کی تعریف سے لا علمی کا اظہار کیا اور یوں ہم اس مجلس تک پہنچ گئے جس میں ایک طرف قاضی حسین احمد، انصار عباسی، اوریا مقبول جان اور محمد حسین محنتی صاحب اور دوسری طرف پیمرا کے عہدیداران، ان کے چیئر مین ڈاکٹر عبدالجبار، جاوید جبار اور ڈاکٹر مہدی حسن وغیرہ بیٹھے ہیں۔ اس مجلس میں یہ لوگ کسی ایک تعریف پر نہیں پہنچ سکے ہیں۔ مذہبی طبقے کے نمائندہ اپنی تعریف لائے ہیں اور لبرل طبقے اپنی۔ لبرل طبقے کے نمائندہ جاوید جبار اور مہدی حسن کہتے ہیں کہ پاکستانی میڈیا میں کچھ بھی قابل اعتراض نہیں میڈیا اپنی ذمہ داری بخوبی ادا کر رہا ہے۔ قاضی حسین احمد کے مطابق چینل خبروں میں ناچ گانا دکھا کر اپنے مینڈیٹ کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔ نیز جرائم کی تصویر کشی بھی قابل مذمت ہے۔ لبرل سمجھتے ہیں کہ یہ مولوی حکومت کے ساتھ مل کر آزادی اظہار رائے پر ڈاکہ ڈال رہے ہیں۔ اور دوسرے طرف والے سمجھ رہے ہیں کہ یہ لوگ فحاشی کیا جانیں جو باپ اور بیٹا اکھٹے بیٹھ کر ہر طرح کا مشروب پیتے ہیں اور ہر طرح کی فلم دیکھتے ہیں۔ غرض جتنے منہ اتنی باتیں۔ لبرلوں کو مولویوں پر بھروسہ نہیں اور مولوی لبرلوں کی بات ماننے کو تیار نہیں۔

اس بات پر لیکن تقریباً سب کا اتفاق تھا کہ فحاشی کی تعریف متعین کرنا آسان کام نہیں۔ اگر ایک کی تعریف مانتے ہیں تو دوسرے کی تعریف میں سے نکل جاتے ہیں اور دوسرے کی مانتے ہیں تو تیسرے کی بات پوری نہیں ہوتی۔ کوئی ایسا طریقہ نہیں سمجھ آرہا جس میں گھوڑے کی ٹانگیں بھی نہ کٹیں ، دولہا کی پگڑی بھی نہ اتاری جائے اور بارات دروازے سے اندر داخل ہوجائے۔اصل میں اس طرح کے معاملات کو طے کرنے کا پوری دنیا میں ایک نظام ہوتا ہے۔ عموماً پارلیمان میں ایسے مسائل کو حل کیا جاتا ہے۔ ورنہ کوئی اور اعلیٰ اختیاراتی ادارہ ایسے کاموں کو بغیر کسی رکاوٹ کے انجام دیتا ہے۔ پاکستان میں ظاہر ہے آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے تو ہر بحث اسی طرح چوراہے میں آتی ہے اور آزادی معلومات کے نام پر حساس معاملات پر بحث کھلے عام ہوتی ہے ۔ قاضی صاحب نے ایک تعریف یہ بیان کی جو مواد گھر والوں کے ساتھ بیٹھ کر نہ دیکھا جا سکے وہ فحش ہے۔ ان کے سامنے شاید اپنے گھر والے ہونگے کیونکہ ماشاءاللہ ان کے گھر میں شرعی پردہ نافذ ہے ورنہ ہم نے تو وہ گھرانے بھی دیکھے ہیں جہاں پانی کے گلاس میں پانی نہیں پی سکتے کہ نہ جانے شراب پینے کے بعد اس کو دھویا بھی گیا تھا کہ نہیں۔ سمیحہ راحیل قاضی صاحبہ نے ایک پروگرام میں کہا کہ پاکستان کی 95 فیصد عوام ان کے ساتھ ہے۔ ہمارا التماس ہے کہ اس بنیاد پر کوئی بھی قدم اٹھانے سے پہلے بندے گن ضرور لیں۔ یہاں تو لوگوں کو سب سے زیادہ افسوس ان کے پسندیدہ سنگر کے ‘انڈین آئڈل ‘ میں ہارنے کا ہوتا ہے۔ مسجد سے عشاء کی نماز پڑھ کر آنے والے انکل مہندی میں جا کر اپنی بہو کو رقص کرتے دیکھ کر بہت محظوظ ہوتے ہیں بلکہ بری ‘پرفارمنس’ پر ناراض بھی ہوتے ہیں۔ بیٹی اگر پردہ شروع کر دے تو ماں اور خاندان والے اس کو دسیوں باتیں سناتے ہیں کہ ‘شادی کیسے ہوگی؟ لوگ کیا کہیں گے ‘۔ لڑکا داڑھی رکھ لے تو پریشانی۔ اعتکاف میں بیٹھ جائے تو گھر میں کہرام۔ یہ ایک متوسط طبقے کے گھر کی بات ہے جہاں کے مرد و زن نماز بھی پڑھتے ہیں اور گانے بھی سنتے ہیں یعنی اللہ کا کلام بھی اور شیطان کا بھی۔ اسی زمانے میں ہم نے دیکھا کہ جس دل میں عمر فاروق ؓ کی محبت ہوتی ہے وہیں شاہ رخ خان کی محبت کو بھی رکھ لیا جاتا ہے بغیر کسی خلش کے۔ نعت خواں اور غزل خواں کا فرق بھی کچھ واضح نہیں ۔ اسلامیات پڑھانے والے لوگوں کو اس بات پر افسوس کرتے دیکھا ہے کہ ‘پاکستانی فلموں میں ڈانس کے اسٹیپس ہی آپس میں نہیں ملتے’۔ نوجوان لڑکوں لڑکیوں کا فیس بک دیکھیں تو ایک ہی صفحے پر آپ کو درود کے فضائل بھی ملیں گے اور نئی انڈین فلم کے بھی۔ ایسے اگر 100 فیصد بھی آپ کے ساتھ ہوں گے نا تو بھی کم ہیں۔

یہ معاملہ اتنا سنجیدہ اور دین کی اتنی بنیادی اساس کے اوپر ضرب لگا رہا ہے کہ اس کے اوپر چپ رہنا اپنی شامت اعمال کو دعوت دینا ہے۔ اللہ کے نبی ؐ نے 14 صدیوں پہلے فرما دیا تھا ‘جب تم حیا نہ کرو تو جو چاہو کرو’۔ انہوں نے بےحیائی سے رکنے کو کہا تھا۔ ہمارے یہ دین بیزار لوگ اس کو اجازت سمجھ لیتے ہیں۔ فحاشی کسے کہتے ہیں یہ آپ کو وہ بچہ بھی بتا سکتا ہے جو گھر میں ریموٹ ہاتھ میں لے کر بیٹھا اپنا کارٹون دیکھ رہا ہوتا ہے اور کسی عجیب اشتہار کے آنے پر ادھر ادھر دیکھنے لگتا ہے۔ فحاشی کی تعریف پوچھنا ویسا ہی ہے جیسا بنی اسرائیل نے گائے کے ذبح کرنے پر حضرت موسیٰ ؑ سے معاملہ کیا تھا- کبھی رنگ پوچھا کبھی عمر، کبھی کام پوچھا کبھی کچھ ۔ کہتے تھے ‘اس گائے نے تو ہمیں شبہے میں ڈال دیا ہے’۔ غرض ۔ جتنے سوال کیے خود پھنستے گئے۔ یہ لوگ چاہتے ہیں کہ پاکستان کو ہندوستان کی نقالی پر لگا دیں لیکن ہندوستان تو خود امریکہ کی نقالی میں لگا ہوا ہے۔ یعنی اصل میں ہمارا سفر بھی ان کے مطابق ہم جنس پرستوں کی حکومت ہے کہ ایک دن اسلامی جمہوریہ پاکستان کا سربراہ ایک ٹی وی پروگرام میں یہ اعلان کر دے کہ ‘اسے ہم جنس پرستی پر کوئی اعتراض نہیں’۔ قوم لوط پر ایک فرد جرم یہ بھی تھی کہ وہ محافل میں کھلم کھلا فحش حرکات کرتے تھے۔کیا اللہ کے نبی ؐ نے کہہ نہیں دیا کہ مجاہرہ (کھلم کھلا فحش حرکات کرنا یا پوشیدہ حرکات کا اعلان کرنا ) کرنے والوں کی معافی نہیں۔ کیا گھر گھر میں چلتے یہ ڈانس شوز ، یہ ڈراموں میں بے ہودہ ڈائیلاگ، یہ کھلم کھلا شراب کا استعمال اور ترغیب، یہ میاں بیوی کا کردار کرنے والے اصلاً نامحرم مرد و عورت کا بے ہودہ مساس، یہ سائن بورڈز پر بڑی شان سے آویزاں عریانیت کی تصاویر۔ کیا یہ فحاشی کا کھلم کھلا ارتکاب نہیں؟ کیا یہ سب مجاہرہ نہیں؟ کیا بچوّ بھائی کی طرح ایک ایک چیز پوچھنی پڑے گی کہ کیا بھی فحاشی نہیں؟کیا یہ بھی نہیں؟ یہ لوگ کہتے ہیں ریموٹ آپ کے ہاتھ میں ہےتبدیل کردو چینل۔ جی ضرور تبدیل کر دیں گے۔ معاشرہ کے سنجیدہ طبقات میں اس وقت اس بڑھتی ہوئی فحاشی کے خلاف ایک لاوا پک رہاہے۔ یہ لاوا کبھی پھٹ پڑا تو چینل تو کیا بہت کچھ تبدیل ہو جائے گا۔ ان مغرب زدہ لوگوں کو اپنی یہ حماقت ان شاء اللہ بہت مہنگی پڑے گی۔ کیوں کہ فحاشی کی تعریف متعین کرنے کا یہ اونٹ اگر کسی غلط کروٹ بیٹھ گیا تو اس کے نیچے ان سمیت بہت کچھ دب سکتا ہے ۔ 

پانچ سو سال پرانا میموگیٹ اسکینڈل

Posted in Social revolution by baigsaab on January 14, 2012

سنتے آئے ہیں کہ تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہے۔ شاید بہت سے لوگوں کے لیے تاریخ میں سوائے بوریت کے اور کچھ نہ ہو لیکن واقعہ یہ ہے کہ تاریخ کا مطالعہ نہ صرف آنے والے خطرات کی پیش بندی کا موقع فرہم کرتا ہے بلکہ وہ موجودہ حالات کو بھی ایک مختلف تناظر میں متعارف کرا سکتا ہے۔ آج کل ہمارے ملک کا سب سے بڑا مسئلہ مہنگائی یا بڑھتی ہوئی خودکشیاں نہیں بلکہ ایک ایسا معاملہ ہے جس میں ہمارے ملک کی اعلیٰ ترین مقتدر شخصیات کا ملک دشمن سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا اندیشہ ہے۔یہ معاملہ ہے میمو گیٹ اسکینڈل کا (نہ چاہتے ہوئے بھی یہ مانگے کی اصطلاح استعمال کرنی پڑ رہی ہے ورنہ صدر نکسن کا قصور اتنا بڑا نہ تھا کہ ایسی شرمناک حرکت اس سے منسوب کر دی جاتی) ۔ کہتے ہیں کہ ہمارے ملک کی اعلیٰ مقتدر ہستیوں نے امریکہ بہادر کے ایک جنرل کو لکھا (یا لکھوایا) کہ حضور آپ کی نظر کرم ہو تو ہم یہاں آپ کی من پسند انتظامیہ کھڑی کر دیں گے۔ اور جو کچھ آپ نے مانگا ہے وہ بلکہ جو آپ نہ بھی مانگیں وہ بھی آپ کی نذر کرتے ہیں بس ہمیں اپنی پسندیدگی کی سند دے دیں۔ یہ وہی مقتدر ہستیاں ہیں جو پہلے یہ کہہ چکی ہیں کہ “کولیٹرل ڈیمیج آپ امریکنوں کو پریشان کرتا ہے ہمیں نہیں” یا “آپ ڈرون برسائے جاؤ ہم منہ دوسری طرف کیے رہیں گے لیکن باہر باہر سے احتجاج بھی کریں گے”۔ مسلمانوں کی صفوں میں غداروں کا ہونا کوئی نئی بات نہیں۔ لیکن مسلمان حکمران اپنے کافر آقا ؤں سے باقاعدہ خط و کتابت کے ساتھ غداری کے عہد و پیمان باندھ لیں اس کی مثال ہماری ذلت کی تاریخ میں بھی بہت ہی کم ہے۔ آج ہم اس میمو کو رو رہے ہیں کہ کس نے لکھا اور کیوں لکھا کس نے اس کو طشت از بام کیا اور کیوں کیا، لیکن مسلمانوں کی تاریخ پچھلے ۵۰۰ سال سے چیخ چیخ کر کہہ رہی ہے کہ تب بھی کسی نے ایک میمو لکھا تھا۔ اور مماثلت بس یہیں ختم نہیں ہو جاتی۔

امیر ابو عبداللہ غرناطہ میں مسلمانوں کا آخری حکمران تھا۔ اندلس میں آٹھ سو سالہ مسلم تاریخ کا آخری باب۔ اپنے باپ مولائے ابوالحسن کی پیٹھ پیچھے اقتدار پر قبضہ کرنے کے بعد اپنے اقتدار کو عوامی حمایت دلانے کے لیے اس نے قسطیلہ (کاسٹائل) کی عیسائی افواج پر یکطرفہ چڑھائی کردی اور بری طرح شکست کھا کر جنگی قیدی بنایا گیا۔ قید سے چھوٹا تو اس شرط کے ساتھ کہ اس کو غرناطہ کا اقتدار واپس دلایا جائے گا تاکہ وہ غرناظہ کی بغیر کسی مزاحمت کے عیسائی حکومت میں شامل ہونے کو یقینی بنائے۔ ابو عبداللہ نے واپس آنے کے بعد اپنے اقتدار کے آخری دن تک ہر روز شاید اسی کوشش میں گزارا کہ وہ کس طرح زیادہ سے زیادہ مال اکٹھا کر لے اس سے پہلے کہ اقتدار چھوڑنا پڑے۔ اس کام میں اس کے معاون اس کے وزرا ء اور امراء بھی تھے اور پورے حکمران طبقہ میں مشکل ہی کوئی ہو جو اس بہتی گنگا میں ہاتھ نہ دھو پایا ہو۔ اس تقریباً سات سال کے عرصے میں لا تعداد دفعہ خط و کتابت ہوئی اور ان میں سے کئی کو محفوظ کر لیا گیا، ڈاکٹر حقی حق نے اپنی کتاب “ہوئے تم دوست جس کے” میں ان کا ذکر کیا ہے اور نسیم حجازی کے “شاہین” سے تو ہماری اکثریت واقف ہی ہے۔ ان “میمو جات” میں کبھی تو امیر ابو عبد اللہ نے لکھا کہ کسی شورش یا ہنگامہ کی صورت میں غرناطہ کی حفاظت کی جائے کیونکہ ہم اپنے دفاع کے لیے آپ کی طرف دیکھتے ہیں۔ تو کبھی جوابی خط میں فرڈینینڈ نے ابو عبد اللہ کو لکھا کہ تمہارے وزیر ہم سے زیادہ کا مطالبہ کر رہے ہیں کیا تمہارے علم میں نہیں؟ کبھی فرڈینینڈ نے ابو عبداللہ سے ایک خط میں “ڈو مور” کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم تمہارے وزراء سے بات کرتے ہوئے تمہارے مفادات کو ترجیح دیتے ہیں۔ لیکن تم پر ہماری عنایات اسی وقت تک ہیں جب تک تم عیسائی حکمرانوں کے مفادات کا خیال رکھو۔ اور سگ ذہنی کا پاتال وہ عبارت بھی موجود ہے جو مسلمان وزراء نے ایک مشترکہ خط میں لکھی کہ اے شان والے بادشاہ، ہم تمہارے حضور حاضر ہو کر تمہارے ہاتھ چومنا چاہتے ہیں اور تمہارے جسم کا ہر وہ حصہ چومنا چاہتے ہیں جس کی کہ اجازت دی جائے تاکہ ان غلاموں کی وارفتگی تم خود دیکھ لو!

لیکن صحیح معنوں میں اس دور کا “میمو” اگر کسی خط کو کہا جا سکتا ہے تو وہ وہ کتابت ہے جو عبداللہ اور اس کے وزیروں نے غرناطہ کو عیسائی حکمرانوں کے حوالے کرنے کے عوض اپنے لیے مراعات کی ضمانت حاصل کرنے کے لیے کی تھی۔ اس خط میں موجود چند شرائط یہ ہیں :

-سقوط غرناطہ کے وقت عبداللہ کو تین لاکھ ماراوید ( کرنسی) کی ادائیگی
-المیریا میں زرخیز زمین
-شاہی خواتین کو زیورات اور بناؤ سنگھار کی چیزیں فروخت کرنے کی اجازت
-عبداللہ اور اس کے امراء کے اموال محفوظ قرار دیا جانا
-الحمراء پر قبضہ کے وقت عبداللہ اور گورنر غرناطہ کو دس دس ہزار سکہ نقد دیے جانا
-جو کسان عبداللہ اور اس کے امراء کے لیے غلہ اگاتے ہیں ان کے تحفظ کی ضمانت

یہ خط ایک کافر بادشاہ کو ایک مسلمان بادشاہ کی طرف سے تھا۔ ایک ایسا مسلمان بادشاہ جس کے سامنے دو میں سے ایک راستہ تھا۔ یا تو عیسائی قوت کے آگے ڈٹ کر کھڑا ہو جائے اور اللہ کی نصرت پر بھروسہ رکھے۔یا اس قوت کے سامنے سے ہٹ جائے اور اپنی اور اپنے خاندان کی بہتری کا خیال کرے۔ بادشاہ نے دوسری راہ اختیار کی اور تاریخ گواہ ہے کہ وہ کوئی بہت زیادہ جیا بھی نہیں اور مرا بھی تو اس حال میں کہ اس کی لاش دریا کے کنارے پڑی تھی اور گھوڑے اسے روند رہے تھے۔ اس خط کے 6 سال بعد غرناطہ پر اسلام کا پرچم غروب ہو گیا۔ اور اس دن سے لے کر آج کا دن ہے، اندلس میں اسلام کبھی واپس نہیں آیا۔ عبداللہ پر شاید اس کی اوقات سے بڑی ذمہ داری آگئی تھی اور اس نے اس ذمہ داری سے ہر ممکن پہلو تہی کرتے ہوئے اپنے تحفظ کو مقدم رکھا۔ اس نے اپنی عوام کو یقیناً یہ باور کرایا ہو گا کہ اس معاہدے میں ہی ہماری بقاء ہے ورنہ ہمارا “تورا بورا” بنا دیا جائے گا۔ یا فرڈینینڈ ہمیں “پتھر کے دور” میں پھینک دے گا۔ اور سقوط کے معاہدے میں بظاہر مسلمانوں کے حقوق کا تحفظ کیا گیا تھا مثلاً انہیں زبردستی عیسائی نہ بنائے جانے کی یقین دہانی اور ان کے جان و مال کا تحفظ لیکن عملاً ایک بار جب عیسائی قابض ہو گئے تو مسلمانوں کے لیے معاہدے کی کسی ایک شق پر بھی عمل کرانا ناممکن تھا۔ مسلمانوں کو زبردستی عیسائی بھی بنایا گیا اور ان کے جان و مال زبردستی چھینے بھی گئے۔ لیکن یہ شاید ان کی غفلت کی قیمت تھی کہ انہوں نے اپنے اس بادشاہ پر بھروسہ کیا تھا جس نے ان کو اقتدار میں آنے سے پہلے ہی بیچ دیا تھا۔

۱۴۹۲ کے اندلس اور آج کے پاکستان میں صرف یہی مماثلت نہیں ہے کہ ان کا بادشاہ بھی جیل سے نکال کر بادشاہ بنایا گیا تھا۔ یا اس کے بادشاہ بنائے جانے میں بھی کسی پاور ڈیل کا دخل تھا۔ یا یہ کہ اس کے وزیر کا نام بھی یوسف تھا۔ یا یہ کہ اس نے بھی اپنی خودغرضی کو وسیع تر قومی مفاد کا نام دیا تھا۔ یا یہ کہ تب بھی ایک میمو لکھا گیا تھا اور آج بھی۔ بلکہ ہمار ے لیے سب سے بڑی مماثلت یہ ہے کہ اس وقت کے عوام بھی اپنے کام دھندوں میں لگے رہے۔ معاملات کی جو تصویر ان کو حکام نے دکھائی وہ دیکھی اور خبردار کرنے والوں کی بات پر کان بھی نہ دھرے۔ حکام شریعت سے روگردانی کرتے رہے ، مملکت کے دفاع کے سودے کرتے رہے اور عوام اپنے کام دھندوں اور کھیل تماشوں میں لگے رہے۔ اس وقت بھی،آنے والے حالات کی سنگینی سے آگاہ کرنے والوں کو “میسینجرز آف ڈوم” یا “تباہی کے قاصد” کہا گیا ہو گا۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہاں غرناطہ میں اسلا م کا پرچم سرنگوں ہوا اور وہاں مسلمانوں کی کم بختی شروع۔ یہ منظر بھی تاریخ کے اوراق میں موجود ہے کہ ایک طویل قطار میں لوگ اپنی باری کا انتظار کر رہے ہیں اور زار و قطار رو رہے ہیں کہ یہ لائن داڑھی کٹانے کے لیے ہے۔ اور یہ بھی کہ مسلمان پردہ دار بیبیوں کو بپتسمہ دیا جا رہا ہے۔ اور یہ بھی کہ مسجدوں میں عیسائی فوجیوں کے گھوڑے بندھے ہیں ۔ اور “انکوئیزشن” کا نام تو غیر مسلم مؤرخین کے سامنے بھی لیں تو وہ بھی کانپ جاتے ہیں۔

پھر لکھتا ہوں، تاریخ پڑھنے سے مستقبل کانقشہ واضح ہوتا ہے۔ یہ سطریں صرف تفنن طبع کے لیے تحریر نہیں کی گئیں بلکہ اس خطرے سے آگاہ کرنے کے لیے ہیں جو ہمارے سروں پر منڈلا رہا ہے۔ اندلس کی تاریخ کے مطالعہ کے وقت ہمیشہ یہی سوچ ذہن میں رہتی تھی کہ کیا اس دور کی عوام اندھی تھی کہ اس کے سامنے اتنا بڑا کھیل ہو گیا اور اسے خبر بھی نہ ہوئی۔ لیکن آج ہمارے ساتھ بھی کچھ ایسے ہی کھیل کھیلے جا رہے ہیں۔ آج ہمارے لیے بجلی، گیس اور دوسری چیزوں کی قلت پیدا کر کے دھیان ان چیزوں میں لگا دیا گیا ہے جیسے یہ دنیا کی سب سے ضروری چیزیں ہوں۔ دوسری طرف ایک سیاسی تماشہ ہے جو کبھی نئےصوبوں کے نام پر اور کبھی انتخابی ہنگامے کے نام پر رچایا جاتا ہے۔ اس سب کے بیچ نیٹو کے سامنے خم ٹھونک کر کھڑے ہونے کی ادا بھی دکھائی گئی ہے جس سے انہیں ہم پر حملہ کرنے کا جواز ملتا نظر آرہا ہے۔ لیکن شاید ان سب سے بھیانک بات یہ ہے کہ گزشتہ کئی سالوں سے دھیرے دھیرے ہمیں اس بات کا عادی بنایا جا رہا ہے کہ ہم کفر کے نیچے رہنے کے لیے راضی ہو جائیں۔ ہمارے ملک میں ہر سال کئی لوگ اصلی اور جعلی طریقے سے بیرون ملک جا رہے ہیں اور وہاں مستقل رہائش اختیا رکر رہے ہیں اور جب وہ لوگ وہاں موجود سہولیات کا ذکر کرتے ہیں تو ہمارے یہاں موجود لوگوں کے دلوں میں بھی ارمان پیدا ہوتا ہے کہ کاش ہمارے یہاں بھی ایسا ہوتا۔ لوگوں کی ایک کثیر تعداد کی نظر میں کامیابی کی معراج امیگریشن ہے۔ اس صورتحال میں ہماری اکثریت کا کسی کافرانہ نظام کو قبول کر لینا بعید از قیاس نہیں۔ لیکن یاد رکھیے، ان طاقتوں کے اصول اپنے لیے کچھ اور ہیں اور ہمارے لیے کچھ اور۔ یہ تجربہ آج سے ۵۰۰ سال پہلے اندلس کے اور پھر افریقہ کے مسلمانوں کو، اس کے بعد ریڈ انڈینز کو اور ماضی قریب میں عراق اور افغانستان کے مسلمانوں کو ہو چکا ہے۔

اس سال ۲ جنوری کو غرناطہ میں اسلام کا پرچم سرنگوں ہوئے ۵۲۰ سال ہو گئے۔ کفر کی چالبازیاں اور مسلم حکمرانوں کی غداریاں اب بھی اس ملت کو لاحق ہیں۔ لیکن ہم سے ہمارے عمل کا ہی سوال کیا جائے گا ان کےنہیں۔ بحیثیت قوم ، ایک با کردار قیادت کی ضرورت جتنی آج ہے اتنی شاید پہلے کبھی بھی نہیں تھی۔ تاریخ کے اوراق ہمیں با آواز بلند متنبہ کر رہے ہیں کہ امت مسلمہ نے جب بھی اپنی قیادت کے لیے شریعت کے علاوہ کوئی اور معیار اختیار کیا تو اسےمنہ کی کھانی پڑی۔ وقت کا تقاضہ ہے کہ ہم قیادت کے بارے میں اپنے نظریات کو تبدیل کریں اور با عمل علماء کو اس بات پر مجبور کریں کہ وہ حالات کی باگ ڈور سیاسی مولویوں کے حوالے کرنے کی بجائے اپنے ہاتھ میں لیں۔ بصورت دیگر حالات اگر اسی طرف چلتے رہے تو وہ دن دور نہیں لگ رہا جب، خاکم بدہن، اسلامی جمہوریہ پاکستان نہ اسلامی رہے نہ پاک بلکہ ایک جمہوری استھان بن کر رہ جائے۔ تب شاید ہمیں ابو عبداللہ کی ما ں کی وہ بات سمجھ میں آئے جو اس نے اپنے بیٹے کو روتے دیکھ کر کہی تھی کہ “جس زمین کی حفاظت تو مردوں کی طرح نہ کر سکا اب اس کے لیے عورتوں کی طرح آنسو کیوں بہاتا ہے”۔

شاید ۵۰۰ سال بعد تاریخ نے ایک ماں کا یہ سوال ہمارے سامنے دوبارہ لا کھڑا کیا ہے، کیا آپ کا جواب تیار ہے؟

طوفان سے پہلے

Posted in Social revolution by baigsaab on January 11, 2012

معاملہ بہت ہی چھوٹی سی بات سے شروع ہوا تھا۔ اتنی چھوٹی کہ جو کچھ اس کے بعد ہوا یہ یقین کرنا مشکل ہے کہ اس سب کا باعث یہ چھوٹی سی بات ہی تھی۔

یہ نومبر کی ایک شام کی بات ہے۔ اسی نومبر کی۔ شیردل اپنے گھر والوں کو بس میں سوار کرا رہا تھا جو کہ خانپور اپنے گاؤں جا رہے تھے۔ جس جگہ سے یہ بسیں چلتی ہیں وہ کیونکہ عین بازار میں واقع ہےاس لیے بسوں کی روانگی اور آمد کے وقت اچھا خاصا رش ہو جاتا ہے اور کبھی کبھار تھوڑی بہت دھکم پیل بھی ہو جاتی ہے۔ اس وقت بھی یہی کچھ ہو رہا تھا۔ بس کچھ نیمے دروں نیمے بروں انداز میں سڑک پر آرہی تھی۔ جانے والوں کو الوداع کہنے والے جلدی جلدی ان سے آخری باتیں کر رہے تھے اوران کے آس پاس سے راہگیر اور موٹر سائیکل والے بچتے بچاتے نکل رہے تھے۔ شیر دل کا ایک رشتہ دار تنویر رینگتی ہوئی بس کے پائیدان پر چڑھ رہا تھا کہ اس کی ٹانگ ایک موٹر سائیکل سوار کو لگ گئی۔ یہ ایک سولہ سترہ سالہ لڑکا تھا جو دودھ سپلائی پر نکلا ہوا تھا۔ لڑکے نے کچھ نازیبا کلمات کہے تو جواب میں ادھر سے بھی کچھ تلخی کا مظاہرہ ہوا۔ بات کچھ گرم ہو گئی تو یہ حضرت اپنی سواری سے نیچے اترے اور انہوں نے باقاعدہ ہاتھا پائی کی کوشش کی تو اس کو کچھ لوگوں نے پیچھے سے پکڑ لیا۔اس نے اپنے آپ کو ان سے چھڑایا اور سڑک کی دوسری طرف یہ کہتے ہوئے بھاگ گیا کہ “تم نے غلط آدمی کو چھیڑ دیا ہے”۔ ان لوگوں کو پتہ تھا کہ یہ جن لوگوں کا لڑکا ہے وہ علاقے میں کافی لوگوں سے لڑائی جھگڑا کر چکے ہیں لیکن شیر دل کا بہنوئی ان کا بچپن کا دوست تھا اور وہ وہیں موجود تھا، کوئی خاص مسئلے کی بات لگ نہیں رہی تھی۔ ابھی تھوڑی دیر ہی گزری تھی کہ سڑک کی دوسری طرف سے ایک مجمع بھاگتا ہوا ان کی طرف آیا اور اس سے پہلے کہ کوئی بات ہوتی تنویر کے اوپر حملہ کر دیا۔ صورت حال کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے شیردل کا بہنوئی آگے بڑھا اور اس کی مدد کرنے کی کوشش کی، اپنے ان دوستوں سے چھڑانے کے لیے جن کے ساتھ وہ بچپن سے کھیلا تھا۔ لیکن اس کو بھی دھکے دے دئیے گئے۔ اتنا ہنگامہ ہورہا تھا کہ آس پاس میں تماشہ دیکھنے والا مجمع بھی دور ہو گیا اور شیردل اور اس کے دونوں ساتھی ان بیس بائیس لوگوں میں گھر گئے۔ شیر دل کے ہاتھ میں اس کی ۲ سالہ بچی تھی جس کے ساتھ میں وہ اپنے آپ کو بےبس محسوس کر رہا تھا اور وہاں تنویر لہولہان ہو رہا تھا۔ اس نے بڑی مشکل سے اپنی بچی کو کسی جاننے والے کے حوالے کیا اور تنویر کو چھڑانے کے لیے آگے بڑھا تو وہاں سے کسی نے ہتھوڑا چلانا شروع کر دیا۔ یہ دیکھے بغیر کہ یہ ہتھوڑاکسی کے منہ پر لگ رہا ہے، سر پر یا کہاں۔ جب انہوں نے اچھی طرح مار پیٹ کر لی تو وہاں سے چلے گئے۔ ان کے جانے کے بعد ان لوگوں نے اپنے حال کو دیکھا توتنویر کے سر پر گہرے زخم آئے تھے، شیردل کا بہنوئی بھی لہولہان تھا۔ اور خود شیردل کے سر سے بھی خون بہہ رہا تھا۔ ایک چھوٹی سی بات سے اتنا بڑا نقصان ہو گیا۔

********

حسن صاحب نے فون اٹھایا، دوسری طرف شیر دل تھا۔ اپنے بہنوئی اور تنویر کو وہ قریب ہی واقع ان کے گھر چھوڑ کر وہ اپنے گھرآگیا تھا۔ اس نے پوری بات حسن صاحب کو بتائی اور کہا، “سر میں ابھی گھر سے نکل کر واپس وہیں جا رہا ہوں ۔ میں نے وہاں اور لوگ بھی جمع کر لیے ہیں اب میں ان دودھ والوں کو نہیں چھوڑوں گا۔ ایک ایک کو دیکھ لوں گا۔ ” شیر دل حسن صاحب کا شاگرد رہ چکا تھا اور اب ان کے ساتھ ہی ہوتا تھا۔ کوئی بھی قدم اٹھانے سے پہلے وہ حسن صاحب سے مشورہ ضرور کرتا تھا ۔انہوں نے اس کو وہیں ٹھہرنے کو کہا اور خود اس کے گھر کی طرف نکل کھڑے ہوئے۔

********

حسن صاحب شیردل کے گھر پہنچے تو وہ زخمی شیر کی طرح ادھر سے ادھر گھوم رہا تھا۔ صاف لگ رہا تھا کہ اس کو صرف حسن صاحب کی بات نے روکا ہوا ہےورنہ وہ تو اب تک نکل چکا ہوتا۔ اس نے ابھی تک اپنے کپڑے بھی تبدیل نہیں کیے تھے اور اس کے سر کا زخم بھی توجہ مانگ رہا تھا گو زخم گہرا نہیں تھا۔ حسن صاحب کو پتہ تھا کہ معاملہ کو طول دینے کا مطلب سوائے مزید خونریزی کے اور کچھ نہیں لیکن شیر دل غصہ سے بے قابو ہو رہا تھا۔ انہوں نے اس کے جذبات کو دیکھتے ہوئے اس کے ساتھ جانے کا فیصلہ کیا کیونکہ اس وقت اس کو اکیلا چھوڑنا اور خطرناک ہو سکتا تھا ۔ وہ جانتے تھے کہ شیر دل اس وقت صرف انہی کے قابو میں آسکتا ہے۔

********

معاملہ کیونکہ ابھی گرم تھا اس لیے علاقہ میں چہل پہل معمول سے بہت زیادہ تھی۔ حسن صاحب نے شیردل کے کافی دوستوں کو وہاں پایا جو کہ سب اسی معاملہ کو نمٹانے کے لیے جمع ہوئے تھے۔ ان کے عزائم کیا تھے یہ جاننے کے لیے کسی قسم کے اندازے کی ضرورت نہیں تھی کیونکہ وہ مکمل “تیاری “کے ساتھ بیٹھے تھے۔ وہاں پہنچ کر انہیں پتا چلا کہ وہ لڑکے جنہوں نے وہ مار پیٹ کی تھی اب بھاگ چکے ہیں اور دکان پر ان کا باپ بیٹھا تھا۔ حسن صاحب نے شیر دل کی توجہ اس بات کی طرف دلائی اور کہا۔ “دیکھو وہ لڑکے اب یہاں نہیں ہیں، جو بھی تم کر سکو گے ان کے باپ کے ساتھ ہی کرو گے تو کیا ہمیں یہ زیب دیتا ہے کہ ہم ایک شخص کا بدلہ کسی اور سے لیں؟ کیا تم پسند کرو گے کہ تمہارا بدلہ تمہارے ابو سے لیا جائے؟” شیردل بھڑک اٹھا۔ “تو کیا کریں سر؟ بس چوہے بن کر مار کھاتے رہیں؟ میری غیرت یہ برداشت نہیں کر سکتی کہ اس ظلم پر چپ ہو کر بیٹھا جائے۔ ظلم سہنا بھی ظالم کا ساتھ دینا ہی ہے نا؟” حسن صاحب اس کی بات سن رہے تھے اور شیردل اپنا غبار نکالتا جا رہا تھا۔ ” یہ اگر شرمندہ ہوتے تو میں سو دفعہ انہیں معاف کردیتا لیکن یہ شرمندہ نہیں ہوتے ان کا آئے دن کا یہی کام ہے، جب دل چاہتا ہے ڈنڈوں اور ہتھوڑوں سے لوگوں کو مارتے ہیں اور لوگ مار سہتے ہیں۔ نہیں سر مجھے ایسی بے غیرتی گوارا نہیں!”

“تو ہم ان کے خلاف ایف آئی آر درج کرا تے ہیں نا۔ جب ایسے لوگوں سے نمٹنے کے لیے قانون موجود ہے تو ہمیں اپنے ہاتھ خراب کرنے کی کیا ضرورت ہے؟” حسن صاحب نے کہا۔ “میرے تعلقات ہیں نا اوپر تک، ہم دیکھتے ہیں کیسے نہیں ہوتا کچھ؟”

شیردل نے نظریں اٹھا کر حسن صاحب کی طرف دیکھا اور کہا” کون سا قانون کہاں کا قانون سر؟ یہ سب لڑکے یہاں کی سب سے مضبوط پارٹی میں ہیں۔ تھانیدار ان کا “گرائیں” ہے یہاں کوئی نہیں سنے گا ہماری۔۔۔ ” شیردل کے لہجے کی تلخی اس کی مسکراہٹ میں زہر گھول گئی۔

“یار تم میری بات تو مان لو میں ہوں نا میں دیکھ لوں ان سب کو۔” حسن صاحب نے اس کو بالآخر قائل کر لیا۔

********

ڈیوٹی ڈاکٹر نے شیر دل کے زخموں کو دیکھا اور حسن صاحب سے کہا۔ “دیکھو بھئی مسئلہ یہ ہے کہ نہ تو اس کی ہڈی ٹوٹی ہے نہ ہی چھ انچ گہرا زخم لگا ہے۔ تو اس میں میں کیا رپورٹ لکھوں؟” وہ دونوں سرکاری ہسپتال میں بیٹھے تھے جہاں جانے کا مشورہ ان کوتھانے کے محرر نے دیا تھا ۔ حسن صاحب کی سرکاری ملازمت اور ڈی ایس پی سے شناسائی سے یہی ہو سکا کہ محرر نے درشت لہجے میں ہی سہی، ان سے بات کرلی اور ان کو کسی سرکاری ہسپتال سے سرٹیفیکیٹ لانے کو کہا۔ یہ دونوں اب یہاں بیٹھے تھے اور ڈاکٹر شیر دل کے زخموں کو دیکھنے کے ساتھ ساتھ ان کو مفت قانونی داؤ پیچ بتا رہا تھا ۔ “میرے بھائی یہ چھ سات ٹانکے تو آپ کو سیڑھیوں سے گر کر بھی آسکتے ہیں تو کیا آپ سیڑھیوں پر کیس کرو گے؟ اتنی چوٹ پر کچھ بھی نہیں ہوتا، کوئی بڑی چوٹ ہو تو کچھ ہو سکتا ہے۔ آپ بولو تو میں ایسی رپورٹ بنا سکتا ہوں ” ڈاکٹر نے خالص کاروباری دیانت کے ساتھ ان کے ممکنہ راستے ان کے سامنے رکھ دئیے۔ وہ دونوں وہاں سے نکل کر واپس تھانے آگئے۔

تھانے میں ان کے آنے کے بعد دودھ والوں کا ایک نمائندہ بھی آگیا تھا جو کہ محرر کے ساتھ ہی بیٹھ گیا تھا۔ حسن صاحب کو اب تک سمجھ آگیا تھا کہ محرر نے جو ان کو ہسپتال بھیجا تھا تو اس کا مقصد معاملہ کو سنبھالنا تھا نہ کہ کارروائی کو آگے بڑھانا۔اب اس نے ڈاکٹر کی کہی ہوئی بات دہرا دی تو حسن صاحب نے تلخی سے کہا۔ “گویا اگر میں ان میں سے کسی کو ماروں اور نہ ہڈی توڑوں اور نہ چھ انچ گہرا زخم آنے دوں تو آپ میرے خلاف بھی کچھ نہیں کر سکتے” اس پر سامنے بیٹھے اس شخص نے تڑپ کر کاٹ دار لہجے میں کہا “ایسا سوچنا بھی نہیں سمجھے”۔ “اور یہ کیا بیس آدمی بیس آدمی کی رٹ لگائی ہوئی ہے۔ بیس آدمی مل کر مارتے تو تم یہاں بیٹھے ہوتے؟ دو تین لوگ تھے وہ بس!!” اب اس بات میں شک کی گنجائش نہیں تھی کہ یہاں سے صرف ایک ہی فریق کو انصاف مل سکتا ہے۔ حسن صاحب اور شیردل اس جگہ سے واپس آگئے۔

********

اس واقعہ کے تین دن بعد شیر دل حسن صاحب کے ساتھ بیٹھا تھا۔ ان کے کچھ اور ساتھی بھی وہیں تھے جن کے ساتھ وہ مشورہ کیا کرتے تھے۔ شیر دل اپنے دل کی بھڑاس نکال رہا تھا۔ “سر آپ نے دیکھ لیا کہ ان کی پہنچ کہاں کہاں ہے؟ نہ ان کو قانون کا کوئی ڈر ہے نہ کسی اور کا۔ علاقے میں موجود ہر سیاسی پارٹی کے ساتھ وہ بیٹھتےہیں ۔ یہ ان کو چندہ دیتے ہیں اور وہ ان کو پروٹیکشن دیتے ہیں۔ ہر شخص ان سے دب کر رہتا ہے ۔ ان سے نمٹنے کا صرف ایک طریقہ ہے کہ جہاں ان میں سے کوئی ملے اس کو وہیں گرا دو” ۔

حسن صاحب جو اب تک خاموش بیٹھے ہوئے تھے، وہاں موجود سب لوگوں سے مخاطب ہوئے۔ “آپ سب مجھے بہت عرصے سے جانتے ہیں، زندگی کے گرم و سرد ہم نے مل کے دیکھے ہیں۔ ہم میں سے ہر ایک کے پاس باہر نکل جانے کے کئی موقع آئے لیکن میں نے ہمیشہ یہی کہا ہے کہ جب تک مجھے لگتا رہے گا کہ اس معاشرہ میں سدھار کی گنجائش موجود ہے میں کہیں نہیں جاؤں گا۔ لوگ ہمیں بے وقوف کہتے رہے ہیں لیکن قرآن اور حدیث کے مطالعہ سے یہی سامنے آتا ہے کہ گھر بار اگر چھوڑنا ہی ہے تو دین کے لیے نہ کہ دنیا کے لیے۔”

“لیکن اب اس موقع پر میں یہ سوچنے پر مجبور ہو گیا ہوں کہ کیا واقعی ہمیں دین پر عمل کی اجازت ہے؟ قانون ہمیں اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ ہم سڑکوں پر خون کے فیصلے کرتے پھریں لیکن آنکھ کے بدلے آنکھ بھی تو دین نے ہی بتایا ہے۔ ان کو سبق نہ سکھایا گیا تو ایسے اور معاملے ہونگے۔ رپورٹ تک نہیں لکھا سکتے کہ اس کے لیے بھی رشوت دینی ہی پڑے گی۔ یہ لوگ تو کوئی راستہ ہی نہیں چھوڑ رہے سوائے اس کے واقعی وہی کیا جائے کہ جو شیر دل کہہ رہا ہے۔ تو پھر کیا کیا جائے؟ بندوق اٹھا کر ان سب کو مار دیا پھر کیا کریں؟ کیا معاشرہ سے ظلم ختم ہو گیا؟ کیا ایسے سب لوگ ختم ہو گئے؟ معاشرہ میں تو ایسے لوگ لاکھوں نہیں تو ہزاروں کی تعداد میں تو ضرور ہیں تو کیا ہزاروں کو قتل کریں ہم؟ “

ایک ساتھی یوں گویا ہوئے”اگر ہم ان کے دس ماریں گے تو کل کو ہمارا بھی ایک جائے گا۔ ہم سب کو پتا ہے کہ ان معاملات کی شروعات یہی ہوتی ہے اور ان کی انتہا کیا ہوتی ہے۔”

وہاں موجود ایک صاحب نے کہا “یار دیکھا جائے تو یہ ظلم اور زیادتی تو ایام جاہلیت میں بھی تھی۔ لوگ اس وقت بھی بے گناہ قتل ہوتے تھے اور بیٹیاں زندہ دفنائی جاتی تھیں۔ لیکن سنت نبویؐ سے جو ہمیں سبق ملتا ہے وہ یہی ہے کہ بدلنا ہے تو نظام کو بدلو چاہے کچھ بھی ہو جائے”

“یار وہ بھی توہے نا۔ بکریاں لے کر پہاڑ پر چلے جاؤ۔ کمانیں کاٹ دو۔ یہ بھی تو حکم ہے نا بھائی؟ ” ایک اور صاحب نے کہا۔

“خیر دیکھیں اب آگے کیا ہوتا ہے اس معاملہ میں، فی الحال تو شیردل کا معاملہ دیکھنا ہے۔” حسن صاحب نے بات کو سمیٹتے ہوئے کہا۔

********

جس جگہ یہ سارا واقعہ ہوا تھا اس سے ذرا ہی آگے اسی آبادی میں ایک چائے کے ڈھابے پر پنچائت بیٹھی تھی۔ شیر دل کے ماموں کی کوششوں سے یہ پنچائت بلائی گئی تھی کہ معاملہ کو رفع دفع کر دیا جائے۔ انہوں نے بڑی مشکل سے اپنے لڑکوں کو روکا تھا لیکن ان کو پتہ تھا چنگاری ابھی بھی سلگ رہی ہے،ذرا سی ہوا سے آگ بھڑک سکتی تھی اس لیے وہ چاہتے تھے کہ معاملہ جلد از جلد صلح تک پہنچ جائے۔

سرپنچ نے سب سے پہلے تو اس لڑکے کو بلایا اور اس سے سختی سے پوچھا کہ معاملہ ہوا کیا تھا۔ اس نے کچھ بتایا کچھ چھپایا تو وہاں موجود دوسرے لوگوں نے اس کو ٹوک دیا۔ دونوں طرف کے دعوؤں میں تضاد اتنا واضح تھا کہ صاف لگ رہا تھا کہ کوئی ایک پارٹی غلط بیانی سے کام لے رہی ہے۔ دونوں کا کہنا تھا کہ شروعات دوسری طرف سے ہوئی تھی دونوں کہہ رہے تھے زیادتی دوسری طرف سے ہوئی ہے۔ البتہ سختی سے پوچھنے پر لڑکے نے بتایا کہ ہتھوڑے وہی چلا رہا تھا اور اس کا بھائی۔ ان کا باپ وہیں بیٹھا تھا اور اپنے بیٹوں کا دفاع کر رہا تھا۔ بالآخر سر پنچ صاحب نے شیر دل سے کہا ” دیکھ بھئی، یہ تو مان رہا ہے کہ اس نے ایسا کیا لیکن ایسا کوئی بلاوجہ تو نہیں کرے گا، کچھ نہ کچھ تو ہوا ہو گا نا تمہاری طرف سے!!!”

ان کا یہ جملہ سن کر یہی خیال آیا کہ اگر اس اصول کو صحیح مان لیا جائے تو اس کے نتائج کیا ہوں گے؟ ہابیل نے کچھ تو ایسا کیا ہوگا کہ قابیل نے اس کو قتل کر دیا؟ یہود اپنے انبیاء کو قتل کرتے رہے کوئی تو وجہ ہوگی نعوذباللہ۔ مطلب ان کے اصول کے مطابق اس دنیا میں جس پر کوئی زیادتی ہوئی ہے اس میں کوئی نہ کوئی قصور اس کا اپنا بھی ہو گا۔ سرپنچ کے اس تاریخی فیصلے کے ساتھ ہی اذان ہو گئی اور یوں صلح کا اعلان کر دیا گیا۔ دونوں طرف سے ہاتھ ملا لیے گئے اور معافی تلافی ہو گئی۔

********

زبردستی کی اس صلح سے یہ معاملہ تو نمٹ گیا۔ اب شاید یہ لوگ ایک دوسرے کو دیکھ کر منہ دوسری طرف کر کے چلے جائیں۔ شاید شیردل کا بہنوئی ایک دو سال بعد اپنے بچپن کے دوستوں کے ساتھ دوبارہ بیٹھنے لگے۔ شاید تنویر کے سر کے ٹانکوں کے نشان وقت کے ساتھ مندمل ہو جائیں۔ لیکن کیا ایسے واقعات ہونا بند ہو گئے؟ کیا اس بات کی ضمانت مل گئی کہ کل کو کسی اور تنویر کا سر نہیں پھٹے گا؟ وثوق سے کہا جا سکتا ہے کہ اس بات کی کوئی ضمانت نہیں۔ یہ نظام صرف ظلم کی ترویج کر رہا ہے۔ اور مظلوموں کے پاس کوئی ایک بھی ذریعہ نہیں ہے کہ وہ انصاف حاصل کر سکیں۔ نہ ہی ان کو کوئی بچاؤ کا راستہ نظر آتا ہے. ہر کسی کے پاس یہ موقع نہیں ہوتا کہ اگر اس کو کسی جگہ ظلم کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے تو وہ کسی دوسری جگہ ہجرت کر جائے ۔ اسی لیے لاوا اندر ہی اندر پک رہا ہے۔ یہ دیکھنے کے لیے کسی خورد بین کی ضرورت ہے نہ دوربین کی، بس تعصب کی عینک اتارنے کی ضرورت ہے۔ سڑکوں پر ہوتے فیصلے ضروری نہیں ہمیشہ صلح پر منتج ہوں۔ عوام کبھی کبھی اپنی عدالتیں بھی لگا لیتے ہیں اور اس چکی میں گھن کے ساتھ گیہوں بھی پستا ہے۔ عوام کی وحشیانہ عدالتیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ جب لاوا بہت پک جاتا ہے تو وہ پہاڑ کا سر پھاڑ کر باہر آجاتا ہے۔ اگر پریشر ککر میں بھاپ نکلنے کی جگہ نہ ہو تو ہر گھر میں روز دھماکے ہوں۔ یہی اصول سماج کا ہے۔ ظالم معاشرہ مظلوم کےلیے ہر راستہ بند کر کے سمجھتا ہے اس کی بچت ہوگئی جب کہ حقیقتاً وہ اپنے تابوت میں کیل ٹھونک رہا ہوتا ہے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ قانون کو ہاتھ میں لے لیا جائے لیکن اس نظام کی تطیہر اب لازم ہو گئی ہے۔جب تک اس ہتھوڑے برسانے والے کے سر پر بھی ویسے ہی ہتھوڑے نہیں پڑیں گے تب تک وہ بھی باز نہیں آئے گا بلکہ اور نڈر ہو جائے گا۔ جب تک ظلم کرنے والے کو اس بات کا ڈر نہیں ہوگا کہ آنکھ کے بدلے آنکھ اور دانت کے بدلے دانت جا سکتا ہے تب تک ظالم کا ہاتھ نہیں رکے گا۔ یہی قانون قصاص ہے جو ہمیں ہمارے عادل کریم رب نے دیا ہے۔ ” اور اے عقل رکھنے والو تمہارے لیے قصاص میں زندگی (کا سامان) ہے”

وَلَكُمْ فِي الْقِصَاصِ حَيَاةٌ يَا أُولِي الْأَلْبَابِ

ڈبے کے قیدی

Posted in Social revolution by baigsaab on November 24, 2011

گستاخی کی معافی چاہتا ہوں لیکن فرض کریں آپ کو کسی جگہ قید کر دیا جاتا ہے. قید خانہ میں آپ کے علاوہ اور بھی بہت سے لوگ ہیں. لیکن اس قیدخانہ کے ضوابط عجیب ہیں. آپ واحد قیدی ہیں جس کو بولنے کی اجازت نہیں ہے، آپ کے علاوہ باقی سب کو بولنے کی اجازت ہے لیکن سننے کی نہیں. آپ دوسرے جس ساتھی کو بولنے کا کہیں گے وہ چپ نہیں رہ سکتا. یہ آپ کے اوپر ہے کہ سب کو ایک ساتھ بولنے دیں یا ایک ایک کر کے یا سب کو چپ کرا دیں.
خیر تو آپ نے ایک ساتھی کو بولنے کی اجازت دی. وہ شروع ہوا. ” یار آج کل ڈینگی بڑا پھیلا ہوا ہے بہت لوگ مر رہے ہیں ، اور تم نے وہ نیا موبائل دیکھا وہ جس میں چار سم ہوتی ہیں لیکن یار اس سے پہلے ایبٹ آباد میں جو ہوا وہ تو سن لو ملکی حدود کی دھجیاں بکھیر دی گئیں. اور وہ جو نئی انڈین فلم ہے نا اس میں ہیرو جو ہے وہ اڑتا ہے(فلم کا گانا گنگناتا ہے) اور لیکن یار کل ایک گھر کی چھت گرنے سے نا دو بچے مر گئے یار. ( یہاں وہ روتا ہے). اور آج فلاں جگہ پر ایک خودکش حملے میں ۳۵ لوگ مر گئے. ان میں سےیار ایک اپنے گھر کا واحد کفیل تھا (افسردہ گانا گانے لگتا ہے)”
اس کی اس بے سرو پا گفتگو سے گھبرا کے آپ نے اس کو چپ کرا دیا. دوسرے کو بولنے کا کہا. وہ شروع ہوا ” شاکر صاحب نے فہیم کو بولا، ‘تمہیں اگر پچیس کروڑ چاہیے تھے تو مجھ سے کہنا تھا اس کے لیے تمہیں تایا جی کے آگے ہاتھ پھیلانے کی کیا ضرورت تھی. یہ لو چیک اور تایا جی کے منہ پہ مار کے آؤ . ایک بریکنگ نیوز ہے کہ خوازہ خیلہ میں تیس دہشت گرد جو ایک شادی کی تقریب میں جا رہے تھے وہ ڈرون حملے میں مارے گئے ہیں، دہشت گردوں میں ۱۴ بچے اور ۶ عورتیں بھی تھیں۔ ( اب یہ دور سے جہاز کی طرح ہاتھ پھیلائے بھاگتا ہوا آتا ہے. اور ایک کونے میں ڈھیر ہو جاتا ہے۔ وہاں سے آواز لگاتاہے ) اب میں کرتا ہوں سستی ترین کال”۔
آپ روئے سخن اس کی طرف سے ایک اور کی طرف کر لیتے ہیں۔ وہ شروع ہوتا ہے۔ ” بھٹی صاحب آپ یہ بتائیں کہ یہ جو آپ پر الزام لگایا ہے ملک صاحب نے اس کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں؟ (آواز بدل کر زور زور سے) جی یہ کیا الزام لگا رہے ہیں میں ان کی بہت عزت کرتا ہوں لیکن میرا منہ نہ کھلوائیں ان کے تو دادا انگریزوں کے گھوڑے نہلاتے تھے۔ اور ان کے ایک چچا انگلستان میں چرس لے جاتے ہوئے پھنس گئے تھے۔ (تیزی سے لہجہ بدل کر) ابھی ابھی خبر آئی ہے کہ مشہور آمر کو مار دیا ہے۔ کسی کی موت پر خوشی منانا اچھی بات نہیں لیکن یہ تو الگ کیس تھا۔ اس کی تو زندگی میں یہ بڑا دلچسپ پہلو تھا۔ اوریہ تو آپ کو پتہ ہی ہو گا کہ افریقہ میں ہاتھی کی نسل میں ایک طرف تو کمی ہو رہی ہے لیکن آج عورتوں کے عالمی دن کے موقع پر عرق النساء بیوٹی پارلر نے تیس عورتوں کا فیشل ۱۵ منٹ میں کر کے عالمی ریکارڈقائم کیا اور پاکستان کا سر فخر سے بلند کر دیا ( گانا گاتا ہے ‘مہندی نی مہندی ای ای مہندی نی مہندی ای ای ای )”

ظاہر ہے ایسی بے سر و پا گفتگو کرنے والے کو آپ پاگل ہی کہیں گے(ہو سکتا ہے یہ سب لکھنے پر آپ کا راقم کے بارے میں بھی یہی گمان ہو) اور ایسی باتیں کرنے والے کے ساتھ ۵ منٹ بیٹھنا بھی آپ کو گوارا نہیں ہوگا کجا یہ کہ قید میں ان کے ساتھ ہوں اور وہ بھی اس طرح کے کئی عدد کے ساتھ۔ لیکن میرا گمان ہے کہ اب تک اکثر قارئین سمجھ گئے ہونگے کہ میں کہنا کیا چاہ رہا ہوں۔ میں صرف یہ عرض کرنا چاہ رہا ہوں کہ ہم میں سے چند خوش نصیبوں کے علاوہ باقی تمام کے تمام لوگ ایسی قید سے روزانہ گزرتے ہیں اور وہ بھی جبری نہیں بالکل بہ رضا و رغبت۔ یہ ٹی وی ہے جس کو ہم نے اتنی آزادی دی ہوئی ہے کہ وہ اتنی انٹ شنٹ بکواسیات کے باوجود ہماری زندگی میں اتنے مرکزی مقام کا مالک ہے کہ ہمیں معلومات چاہییں تو اس سے، تفریح چاہیے تو اس سے ، جب یہ ہنساتا ہے تو ہم ہنستے ہیں ، جب رلاتا ہے رو پڑتے ہیں، جب غصہ دلاتا ہے ہمارے پورے جسم کا خون آنکھوں میں آجاتا ہے، جب چاہتا ہے اسی بات پر آپ کو سکون سے بٹھا دیتا ہے۔ اور تو اور، اچھے برے کی تمیز سکھاتا ہے ۔ غرض اس ۲ بائی ۲ کی مخلوق کو ہم نے بات کرنے کی اتنی آزادی دی ہے کہ یہ ہمارے سامنے ہی سامنے کئی ایسی باتیں کر جاتا ہے کہ جو اگر ہمارے سامنے بڑے بھی کریں تو ان کو ٹوک دیا جائے۔

مسئلہ یہ نہیں ہے کہ میڈیا (اس غلط العوام لفظ کو ہم ٹی وی کے معنی میں ہی لکھ رہے ہیں) کوئی غلط شے ہے۔ کسی بھی آلہ کی طرح یہ بھی نا سمجھ کے ہاتھ میں خطرناک ہے اور کاریگر کے ہاتھ میں با کمال۔ مسئلہ یہ ہے کہ اس “شیطانی مشین” نے ہمیں عملیت پسندی سے دور کردیا ہے۔ دیکھیں ایک مشہور مصنف نے بڑی پیاری کہی کہ TV کہتا ہے کہ دنیا میں اخوت، رواداری اور امن بہت ضروری ہیں لیکن ایسا ٹوتھ پیسٹ زیادہ ضروری ہے جو آپ کو خوش گوار سانس دے۔ کسی بھی طرح کی تفریح کی اہمیت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا لیکن تفریح کے چکر میں زیادہ اہم چیزوں کو نظر انداز کر دینا کیا کوئی عقل مندی ہے؟ دوسری بات ، اور یہ زیادہ خطرناک ہے اور وہ یہ ، کہ جب آپ ٹی وی پر بالکل منحصر ہوجاتے ہیں ایسے کہ وہ آپ کے کان بن جائے اور آپ کی آنکھیں بن جائے تو پھر یہ بہت آسان ہے کہ کچھ ایسے لوگ جن کو آپ جانتے بھی نہیں وہ آپ کو سکھانا شروع کر دیں کہ اچھا کیا ہے اور برا کیا؟ کیا آپ کو پتہ ہے کہ پاکستان کے دیہات میں جو مشہور چوپالیں لگا کرتی تھیں وہ اب نہیں لگتیں؟ لوگ سیانے ہو گئے ہیں۔ پہلے جو مفت میں ایک دوسرے کے گھر کے کام کر دیا کرتے تھے اب نہیں کرتے۔ شام میں جو بیٹھک “ٹیو ول” پر لگا کرتی تھی اب وہ نہیں لگتی کیونکہ لوگ گھروں میں ٹی وی دیکھ رہے ہوتے ہیں۔ گاؤں کا وہ پانی جو اپنی تازگی کی وجہ سے بڑا مشہور ہوتا تھا اب آلودہ ہوتا جا رہا ہے کیونکہ لوگوں نے گھروں میں بیت الخلاء تو بنوا لیے ہیں لیکن نکاسی کا مناسب انتظام نہ ہونے کی وجہ سے پانی وہیں قریب کی زمین میں ہی جذب ہو جاتا ہے۔

زندگی کا ایک پہلو ہے یہ۔ ایسے بیسیوں معاملات ہیں جن میں ہم نے اپنی معصومیت کو محض ۲۰ سال کی مختصر مدت میں کھو دیا ہے ۔ جہاں لوگوں کی آنکھوں میں خلوص ہوتا تھا وہاں اب شک ہے۔ جہاں پیار ہوتا تھا وہاں نفرت ہے، جہاں بھولپن ہوتا تھا وہاں عیاری ہے، جہاں سادگی ہوتی تھی وہاں نمائش ہے، جہاں بے لوثی ہوتی تھی وہاں حرص اور طمع ہے، اور سب سے بڑھ کر، جہاں آخرت تھی وہاں دنیا ہے۔ کیوں؟ صرف اس لیے کہ لوگ اپنے” حقوق ” سے آشنا ہو گئے۔ لوگوں نے مصیبت میں کام آنے کو کار ثواب کی بجائے دھندا بنا لیا ہے کیونکہ ان کو لگتا ہے سامنے والا ان کو بے وقوف بنا رہا ہے۔ میڈیا خود اتنا متخبط ( وہ جسے شیطان نے چھو کر باولا کر دیا ہو) ہے کہ اس کو سمجھ نہیں آرہا کہ کرےکیا؟ اس کو لگتا ہے کہ برائی کو سامنے لے کر آنا نیکی کا کام ہے لیکن ہوتا یہ ہے کہ اس سے برائی برائی نہیں رہتی کیونکہ سب ہی وہ کرنے لگتے ہیں۔ چنانچہ معاشرے میں مزید برائی ہوتی ہے جس کو کوئی اور “نیک” شخص سامنے لاتا ہے۔ تو برائی اور “ختم” ہوتی ہے۔ جی ہاں ہم نے واقعی بڑی محنت سے اپنی روایات کو تباہ کیا ہے اور اس میں تقریباً سب شامل ہیں۔

دوسری طرف جو زیادہ خطرناک بات ہے وہ بھی سمجھ لیں۔ آپ نے کبھی غور کیا کہ کسی بھی خودکش حملے کے بعد نہ صرف یہ کہ ہر چینل کا ایک نمائندہ وہاں موقع پر موجود ہوتا ہے بلکہ ہسپتال میں بھی اور کوئی ایک آدھ وہ اسکوپ بھی لاتا ہے کہ مرنے والوں میں چھوٹی سی ۵ سالہ بچی بھی تھی جس کی ماں غم سے نڈھال ہے ۔ دوسری طرف ڈرون حملے ہیں جو اب تک کی اطلاعات کے مطابق ۲۰۰۴ سے لے کر آج تک ۴۰۰ سے زیادہ ہو چکے ہیں۔ ۴۰۰!!! کیا آج تک کبھی کسی ایک جگہ سے بھی آپ نے لائیو کوریج دیکھی؟ کیا کبھی زخمیوں کی کسی کہانی کے تعاقب میں کوئی مہم جو کسی بچی کی گڑیا کی ٹوٹی ہوئی ٹانگ بھی دکھا سکا؟ ایسا کیوں ہے؟ یہ بات سمجھنے کی ہے نہ کہ سمجھانے کی۔ ویسے تو ہر طرف سے مایوسی کی خبریں ہیں جن سے عوام میں غصہ کی آگ بھڑکائی جاتی ہے۔ پھر فوراً ہی اشتہا ر کا ٹھنڈا پانی ڈال کر سکون میں لے آیا جاتا ہے۔ لیکن جو ہمارے حکمرانوں کے مائی باپ ہیں ان کی کسی بھی کار روائی کی کوئی ایسی خبر کسی بھی ایسے زاویہ سے نہیں دکھائی جاتی کہ جس سے عوام میں کوئی منفی جذبہ بیدار ہو۔ اور آج بالآخر یہ باور کرا دیا گیا ہے کہ خودکش حملے مذہبی انتہا پسند دہشت گرد کرتے ہیں۔ ڈرون حملوں میں مرنے والے سب افراد دہشت گرد ہیں چاہے ان کی عمر تین مہینے ہی کیوں نہ ہو۔میڈیا کو آزادی ضرور ملی ہے لیکن اس آزادی میں بہت سی پراسرار زنجیریں بھی ہیں۔ یہ زنجیریں دیکھنا بہت ضروری ہے۔ سورۃ الحجرات میں اللہ تعالیٰ نے واضح اور غیر مبہم الفاظ میں حکم دے دیا ہے کہ”مومنو! اگر کوئی بدکردار تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے تو خوب تحقیق کرلیا کرو (مبادا) کہ کسی قوم کو نادانی سے نقصان پہنچا دو۔ پھر تم کو اپنے کئے پر نادم ہونا پڑے “

کیونکہ میڈیا اب اکثریت کی آنکھیں اور کان بن گیا ہے اس لیے اس طاقت کا مظاہرہ وقتاً فوقتاً سامنے آتا رہتا ہے۔ میں اپنے ملک کی بات کرنےسے پہلے چاہوں گا کہ آپ کی توجہ امریکی میڈیا کی طرف مبذول کراؤں ۔آپ جانتے ہی ہونگے کہ عراق اور افغانستان پر امریکی حملوں کے لیے ان کے میڈیا نے کتنی طویل مہمات چلائی تھیں۔خاص طور پر عراق پر حملہ کے لیے سازگار فضا بنانے میں دائیں بازو کے روایت پسند میڈیا نے جو کردار ادا کیا ہے وہ شاید بہت کم لوگوں کی نظروں سے اوجھل ہوگا۔ امریکی میڈیا کی یہ طاقت اس سے بہت پہلے پروان چڑھ چکی تھی۔ اگر آپ چاہیں تو “اسپن” نامی دستاویزی فلم آپ کو کافی معلومات دے سکتی ہے۔ لیکن فی الوقت زیر نظر دو موضوعات ہیں۔ ایک تو یہ کہ آپ جانتے ہیں کہ اس وقت امریکہ کے سو سے زیادہ شہروں میں انتہائی منظم احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔ ان کا کوئی لیڈر بھی نہیں لیکن ان کی پکار صرف ایک ہے، عادلانہ معاشی نظام۔ اس تحریک میں ان کے کہنے کے مطابق امریکہ کی ۹۹ فیصد عوام کا مقابلہ ایک فیصد مراعات یافتہ طبقے سے ہے۔ لیکن پھر بھی مین اسٹریم خاص طور پر دائیں بازو کے میڈیا کی طرف سے ان پر شدید تنقید کی جارہی ہے، مذاق اڑایا جا رہا ہے۔ بلکہ اس سے بھی زیادہ تکلیف دہ بات یہ ہے کہ ان کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ اگر ٹوئیٹر ایسے سوشل میڈیا کی سہولت ان کومیسر نہ ہوتی تو ان کو تو شاید ایک دوسرے کے بارے میں پتہ بھی نہ چلتا۔ دوسرا موضوع ہے ڈاکٹر ران پال کا۔ ڈاکٹر پال تیس سال سے امریکی رکن کانگریس ہیں اور امریکہ کی دوسرے ملکوں میں فوجی، مالی اور دیگرمداخلتوں کے خلاف ہیں۔ حکومت کے عام آدمی کی زندگی میں دخل اندازی کو کم کرنا چاہتے ہیں۔ اور تو اور، امریکہ کی اسرائیل کو امداد کے بھی خلاف ہیں۔ اس سب کے باوجود ران پال اس وقت ریپبلکن پارٹی کے ایک مضبوط امیدوار ہیں، نوجوانوں میں خاص طور سے بہت مقبول ہیں اور اس بات کا قوی امکان ہے کہ اگر پارٹی نے ان کو ٹکٹ نہ دیا تو وہ تن تنہا ہی اپنی مہم کا آغاز کر دیں گے۔ لیکن اس کے باوجود میڈیا ان کو نظر انداز کر رہا ہے۔ امریکی صدارتی امیدواروں کی مقبولیت کا ایک بہت اہم پیمانہ یہ بھی ہوتا ہے کہ وہ اپنی مہم کے لیے کتنے پیسے اکٹھے کرسکے ہیں۔ ران پال کے حامیوں نے محض ۳ دن میں ۲ ملین ڈالرز کی رقم جمع کرائی۔ لیکن میڈیا کی بے رخی کا یہ عالم ہے کہ پچھلی ریپبلکن بحث میں ہر امیدوار کو آخر میں اپنی اختتامی کلمات کہنے کا موقع دیا گیا لیکن پال کو نہیں۔ ۱۹۹۲ میں ایک ایسے ہی امیدوار کو اس میڈیا نے اتنا نظر انداز کیا کہ وہ احتجاج کے چکر میں حوالات میں پہنچ گیا۔ اتنی تفصیل بتانے کا مقصد یہ ہے کہ یہ ہے میڈیا ، امریکی میڈیا (جو اصلاً ہمارے میڈیا کا قبلہ ہے) کی طاقت ۔جس طرح امریکی میڈیا خصوصاً فاکس نیوز نیٹ ورک نے عراق میں ڈبلیو۔ایم۔ڈی کی موجودگی کا شور مچایا اور لاکھوں لوگوں کی ہلاکت اور بربادی کے بعد سامنے آیا کہ ایسی کوئی شے عراق کے طول و عرض میں کہیں  موجود نہیں۔ اسی طرح ہمارے میڈیا نے سوات میں کوڑوں کی ویڈیو کو بنیاد بنا کر وہاں آپریشن کی راہ ہموار کی اور ہزاروں لوگوں کی ہلاکت اور لاکھوں کے بے آسرا ہو جانے کے بعد یہ سامنے آیا کہ وہ ویڈیو جعلی تھی۔ ہمارا میڈیا اس وقت اسی نہج پر آگیا ہے کہ جس کو چاہے ہیرو بنا دے، جس کو چاہے زیرو۔ چاہے تو لال مسجد کے معاملے کی پھنسی کو پھوڑا بنا دے ، چاہے تو ڈرون حملوں کے ناسور کو خراش دکھا دے۔ چاہے تو جمہوریت کو ہمارے ہر دکھ کا مداوا بنا دے، چاہے تو خلافت کے نظام کو آج کے دور میں غیر عملی باور کرا دے۔

اگر آپ کو واقعی سمجھ آتا ہے کہ جو میں نے کہا ہے وہ صحیح ہے تو اصلاح احوال کی ابھی سے کوشش کر سکتے ہیں ۔ ٹی وی کو بند کرنا اس کو چلانے سے زیادہ آسان ہے اور ویسے بھی مسئلہ اگر صرف معلومات کا حصول ہے تو اکیسویں صدی میں یہ تو کوئی مسئلہ ہی نہیں۔  لیکن اگر آپ کو میری بات سمجھ نہیں آتی تو پھر بھی ایک چھوٹی سی مشق کرنے میں حرج نہیں۔ آپ ٹی وی دیکھتے ہی ہیں تو دن میں جب آپ مناسب سمجھیں، ۱۰ منٹ کے لیے کاغذ قلم لے کر بیٹھیں، اپنا پسندیدہ چینل لگائیں اور یہ نوٹ کریں کہ آپ کا یہ چینل ان دس منٹ میں کیا دکھاتا ہے۔ اگر میرا اندازہ صحیح ہے تو یہ کچھ ایسا ہی ہونا چاہیے جیسا ہمارے قید خانے کے ان ساتھیوں کی کہانیاں تھیں۔ اب یہ آپ پر ہے کہ آپ اپنے آپ کو اس قید سے چھڑانا چاہتے ہیں یا نہیں۔

کنویں کے عوام

Posted in Islam, Rants, Social revolution by baigsaab on November 23, 2011

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک کنویں میں کچھ مینڈک رہتے تھے. ویسے تو ان کی زندگی میں کوئی مسئله نہیں تھا لیکن ان کا کوئی بادشاہ نہیں تھا.اسی پریشانی میں ان کے دن رات بسر ہو رہے تھے کہ ایک دن کہیں سے لکڑی کا ایک بڑا سا شہتیر آن گرا. زور کا چھپاکہ ہوا اور کنویں میں، جو ظاہر ہے ان کی پوری دنیا تھی، بھونچال آگیا. سب مینڈک ادھر ادھر چھپ گئے. آنکھوں آنکھوں میں ایک دوسرے کو اشارے کیے گئے. ” یہ تو کوئی بہت ہی طاقتور مخلوق لگتی ہے!” “ہاں ہاں اس کو اپنا بادشاہ بنا لیتے ہیں” چنانچہ سب کے سب دست بستہ اس لکڑی کے تختے کے آگے آئے اور عرض کی “مہاراج، آپ کی بہت مہربانی کہ آپ ہماری دنیا میں تشریف لائے.ہم آپ کو اپنا بادشاہ بنانا چاہتے ہیں.” لکڑی کی خاموشی کو رضامندی سمجھ کر انہوں نے اس کو اپنا بادشاہ بنا لیا. روز اس کے سامنے پیش ہوتے اور اپنے فیصلے کراتے.دن گزرتے گئے اور بادشاہ کی خاموشی سے مینڈک بور ہونے لگے. ان کو لگتا تھا کہ بادشاہ کو ذرا دبنگ ہونا چاہیے. اور پھر ایک دن ایک گستاخ مینڈک بادشاہ کے اوپر بیٹھ گیا. پہلے تو سب نے بہت شور مچایا اور اس گستاخ کو سنگین نتائج کی دھمکی دی لیکن بادشاہ کی خاموشی نے ا وروں کو بھی شہہ دی. ایک ایک کر کے سب لکڑی کے اس تختے پر چڑھ گئے اور بالآخر بادشاہ کو “معزول” کر دیا گیا. ابھی اسی ادھیڑ بن میں تھے کہ اگلا بادشاہ کہاں سے لائیں کہ ٹھیک اسی طرح ایک بڑا سا اژدہا نہ جانے کہاں سےکنویں میں آن گرا. پھر وہی زور کا چھپاکہ اور مینڈکوں کی پہلے روپوشی، پھرآنکھوں آنکھوں میں بادشاہ کا انتخاب اورپھر برآمدگی . اب جو مینڈک “تاج پوشی” کے لئے باہر آئے تو بادشاہ سلامت نے آؤ دیکھا نہ تاؤ، جھٹ اپنی رعایا کی طرف لپکے اور پوری عوام کو ایک منٹ میں اپنے پیٹ میں پہنچا دیا. پیٹ میں پہنچ کر مینڈکوں کا کیا رد عمل تھا، اس بارے میں راوی خاموش ہے.

سمجھ نہیں آتا کہ اس کو اپنی قوم کی بدقسمتی کہوں یا انشاء جی کی تحریر کی شگفتگی کہ ۴۰ سال گذرنے کے باوجودان کی اس حکایت کو اپنے عوام پہ مکمل طور پر پورا ہوتے دیکھ سکتے ہیں.کسی سے پوچھ لیں بھائی قیادت کو کیسا ہونا چاہیئے. جواب ملے گا کہ بھائی مخلص ، با صلاحیت اور دیانت دار. پوچھو کہ مسلمان حکمرانوں میں پسند کون ہے، جواب حضرت عمرؓ . پوچھئے یہاں کے حالات کیسے صحیح ہونگے تو جواب اسلام. انگریزی محاورہ ہے کہ اگر خواہش گھوڑا بن سکتی تو ہر فقیر شاہ سوار ہوتا. ذرا ایمان داری سے سوچئے کہ ہمارے کتنے فیصد عوام اپنی دعاؤں میں یہ مانگتے ہونگے کہ اللہ ہمارے صدر وزیر اعظم کو سچا پکا مسلمان بنا دے. کس نے کبھی اپنے ملک کے صدر ، یا گورنر یا علاقے کے ناظم کے پیچھے نماز پڑھنے کی خواہش کی ہوگی جبکہ خلفائے راشدین اور ان کے عمال (گورنر) اپنے لوگوں کو خود نماز پڑھاتے تھے.

گنتی کے چند لوگوں کو چھوڑ کر ہمارے نصیب میں آئے تو ایسے کہ جو یا تو میر جعفر کی اولادوں میں سے تھے (جی ہاں، پاکستان کے ایک صدر صاحب میر جعفر کی اولادوں میں سے تھے!!!) یا جن کو اپنا اتنا ہوش بھی نہیں تھا کہ قضائے حاجت کے لئے کسی بین الاقوامی کانفرنس کے لان کا انتخاب مناسب نہیں . یا وہ جنہوں نے روشن خیالی کا مطلب یہ لیا کہ بغل میں دو کتے دبائے اور تصویر کھنچوا لی یا وہ جن کو اتنا بھاری مینڈیٹ ملا کہ اس کے نیچے آکر وہ ملک کو سود سے پاک کرنے کا نادر موقع گنوا بیٹھے. یا وہ جن کی ایک نہیں دو نہیں تیسری نسل اقتدار کے مزے لوٹ رہی ہے اور لوٹتی چلی جا رہی ہے. ایسا کیوں ہے؟ ہماری پوری تاریخ میں بابائے قوم کے بعد شاید ملک معراج خالد ایک ایسے شخص تھے کہ جو واقعی عام لوگوں کی طرح رہتے تھے . نگران ہی صحیح لیکن وزیر اعظم تو تھے. عام لوگوں کی طرح اکنومی کلاس میں سفر کرتے تھے. اپنے گھر کو وزیر اعظم ہاؤس کا درجہ دیا نہ کہ خود اپنے تام توبڑے سمیت سرکاری محل میں جا بیٹھتے. لیکن کیا ہوا؟ آج کیا کسی کو یاد بھی ہے کہ ہمارے ملک میں محض ١٥ سال پہلے ایسا دور بھی آچکا ہے کہ جب وزیر اعظم عام لوگوں کی طرح رہتا اور گھومتا پھرتا تھا؟

اگر خدا لگتی بات کریں تو اس وقت عوام کا سیاست دانوں پر سے اعتبار مکمل طور پر اٹھ چکا ہے. وہ سیاست جو بنی اسرائیل میں انبیاءجیسی پاکیزہ ہستیاں کیا کرتی تھیں ، آج ایسا لفظ بن گیا ہے جس کے مطلب جھوٹ، دھوکہ ، بد عہدی اور بہتان طرازی ہو کر رہ گیا ہے.یہ وہ لوگ ہیں جو کبھی تو ایک دوسرے کو غلیظ القابات سے نوازتے ہیں، پھر “ملک کے عظیم تر مفاد” میں ان سے اکٹھ بناتے ہیں، اور پھرانہی سے ہاتھا پائی بھی کر بیٹھتے ہیں. پھر مل جائیں گے، پھر روٹھ جائیں گے. غرض جو بھی کرتے ہیں، لگتا یہ کہ عوام کو اس سے کوئی سرو کار ہی نہیں ہے کہ یہ کیا کر رہے ہیں؟ دیکھا یہ گیا ہے کہ ہر کوئی روزانہ TV اس امید پر کھولتا ہے کہ شاید کوئی نیا تماشا دکھ جائے. اور مایوسی نہیں ہوتی. کہیں کوئی قرآن سر پر اٹھا کر اپنے آپ کو معصوم اور دوسرے کو قاتل قرار دے رہا ہے تو کہیں ایسا جواب دیا جا رہا ہے کہ لوگ سوچتے ہی رہ گئے کہ کہا کیا؟ لگتا ایسا ہے کہ ان تمام جماعتوں اور لیڈروں کو پتہ ہے کہ عوام کے چاہنے نہ چاہنے سے کچھ نہیں ہوتا، طاقت کے مراکز کہیں اور ہیں اور ان کو خوش رکھنےمیں ہی اقتدار ملتا ہے. اور یہ جو جملہ ہوتا ہے نا کہ “یار یہ سب ملے ہوئے ہیں” یہ کسی ایک قومیت کے لوگوں میں محدود نہیں ہے. تو ایک دفعہ جی کڑا کر کہ یہ تسلیم کر کیوں نہیں لیتے کہ ہاں بھائی ہماری پسند اور ہے اور ترجیح اور.یہ کہ وہ جو ہم چاہتے ہیں کہ ہم پسند کریں وہ اور چیز ہے اور وہ جو ہمیں واقعی پسند ہے وہ اور. اس سے اور کچھ ہو نہ ہو کم از کم اس دو عملی سے تو جان چھوٹ جائے گی جس میں قوم آج مبتلا ہے.

ویسے قائدین کے اس قحط الرجال کی ذمے داری ایک حد تک علماء پر بھی آتی ہے. انہوں نے خانقاہوں تک اپنے آپ کو محدود کر کے سمجھا کہ حکومت کرنا کسی اور کا کام ہے. ظاہر ہے کہ نظام کوئی خلاء نہیں ہوتا اگر اچھی قوتیں اقتدار پر قبضہ نہیں کرتیں تو بری قوتیں تو آئیں گی ہی. اسلام میں عہدے کی خواہش کرنا اور اس کے لئے تگ و دو کرنا کوئی پسندیدہ بات نہیں ہے لیکن جیسا کہ ہمیں حضرت یوسفؑ کی سیرت میں ملتا ہے کہ اگر متبادل قیادت میں کوئی دیانت دار شخص نہ ہو تو عہدے کو لے لینا غلط بھی نہیں. علماء نے بہرحال احتیاط کو ترجیح دی او رحکمرانوں کو مشوره دینے اور بعض صورتوں میں سرزنش کی حد تک اپنے آپ کو محدود رکھا. اور اگر اسلاف میں تابعین اور تبع تابعین کا طرز عمل دیکھیں تو انہوں نے بھی یہی کیا. لیکن اس وقت میں اور اس وقت میں چند بنیادی فرق ہیں . اور وہ یہ کہ ایک تو اس وقت شریعت کا نظام نافذ تھا. جو بھی برائیاں تھیں وہ بادشاہ یا طبقہ امراء کی حد تک تھیں. دوسرے یہ کہ عوام کا تعلّق علماء کے ساتھ بہت مضبوط تھا. اکثریت کی نظر میں معروف معروف تھا اور منکر منکر.جبکہ آج آوے کا آوا بگڑا ہوا ہے. غرض آج کے اس دور میں جبکہ عوام کی سطح پر شریعت پر عمل تقریبا مفقود ہو گیا ہے،جیّد علماء کے لئے کلمہ حق کو بلند کرنا اور بھی ضروری ہو گیا ہے.

جاتے جاتے اس بات پر غور کر لیں کہ جیسا دودھ ہوتا ہے ویسی ہی بالائی ہوتی ہے. تو جیسی دوغلی قوم ہے ویسے ہی اس کے حکمران. ہمارے نزدیک قائد کو ذرا بھرم باز ہونا چاہیے. جس سے سب ڈرتے ہوں اور جس کے قول و فعل میں بھلے تضاد ہو تو ہو لیکن بات کرے تو سب کو چپ کرا دے. نماز بھلے نہ پڑھے لیکن قرآن کے معنی سمجھا دے بھلے غلط ہوں. اور لیڈر کی شرعی داڑھی کا مطلب تو یہ کہ وہ قیادت کے لائق ہی نہیں.غرض ہم لوگوں کے نزدیک شریف آدمی بیوقوف ہوتا ہے اور تیز آدمی کارآمد. کیا کروں کہ بات اسی کنویں کے مینڈکوں تک واپس آگئی کہ جو شاید”بھولے بادشاہ” پر صبر کر جاتے تو خوش رہتے. اژدہے کے پیٹ میں نہ جانے کیا سوچتے ہونگے. لیکن کیا کریں کہ راوی ایسے بے وقوفوں کے بارے میں چپ ہے!

Homeschooling: Why and How!

Posted in Social revolution by baigsaab on March 1, 2011

Has the moment not yet come!

Posted in Social revolution by baigsaab on January 1, 2011

Has the Moment Not yet come

Pakistani ExPats are ashamed but not for reasons they should be!

Posted in Social revolution by baigsaab on May 14, 2010

“Think of the press as a great keyboard on which the government can play.”, so said the same Joseph Goebbels who’s linked to the famous quote “If you tell a lie big enough and keep repeating it, people will eventually come to believe it”.

Despite West’s claim of despising the Nazis, they’ve fondly adopted the standards set by Hitler’s propaganda machine, and they’ve improved it to near perfection. Over the course of the last decade, the western media have trumpeted with untiring consistency a claim that has now taken its root in the minds of not only the general public in the west, but also the victims of that claim!

The claim? “Muslims are terrorists”… Ok not all Muslims are terrorists, but those that we call are definitely them, so say the west. This lie has been repeated with such focused concentration and in so many different formats and versions – through movies, news, novels, social media- that it is now accepted as fact. So much so that whenever a new terrorism incident takes place, Muslims, especially Pakistanis, are the first to condemn it and after finding out the accused was indeed a Muslim brother or sister, start alienating him from the global Muslim brotherhood. In essence, before the trial is even begun, the accused is convicted by his own people and actual case proceedings remain only a formality!

This behavior is most evident in the recent case of Faisal Shahzad, the Time Square bombing “suspect”. Ever since it was reported that he could be the major hand in plotting probably the biggest car bomb in recent history, internet was exploded with apologies from Pakistanis across the globe. Pakistan’s most watched channel was angry that this person has brought shame to the entire Pakistani nation and his own family. Most of the blogs and their commenters rued the fact that he threw away his carefully built “American Dream” just like that. Pakistani ex-patriots feared even more strict vigilance over them, while believing this “fanatic should be jailed for life”. All in all, their verdict is, guilty as charged!

However, one felt there’s something missing from this whole story, the other side of course! Even though Faisal Shahzad can now boast a wikipedia page , that’s probably not for reasons he’d have liked himself. That page is full of stories mentioning different facets of the case- some claiming he dumped his documents in the home he had abandoned quite a while ago- but they didn’t, even for a single line, give a piece of what Faisal Shahzad says. It’s totally one sided. And to put it mildly, that stinks! But somehow this fact is missed by all involved. There has been absolutely no access to him by our government or by other Pakistani coummunity members, at least not publicly available.

The report that his documents were found from his “abandoned” house is so ridiculous that it shouldn’t have made it to the press in the first place. What would a person, allegedly looking to bomb his way into FBI’s most wanted list, be doing in his old house is beyond logic and beats a level headed reader. Other claims are that he had gone to his birthplace Peshawar on his recent visit ; started wearing all blacks and remaining serious while stealthily walking across his backyard, that’s neighbor’s reports, he was seen posing on Times Square was also a claim. That his documents had cards from someone wishing him well were also pertinent for some reports. Huffington post even attempted to sneak into his Facebook profile only to put the blame on another Faisal Shahzad. Such is the state of electronic media and citizen blogs. Whatever happened in Pakistan is another matter.

When I asked a few Ex-Patriots, their opinion was that it’s an open and shut case – he plotted a crime, failed, got arrested, gave up his rights and admitted! I was amazed, appalled really to see how much faith they have in “their” media and government is saying, otherwise any Pakistani knows how people can be made to confess under duress. Besides, in most laws, confessions under custody weigh nothing unless they’re given in front of legal authority. If an accused declines to testify on his confession it may be called a mistrial.

I invite you to put yourself in Faisal’s shoes. You’re an average Pakistani living in the US trying to consolidate your career there. You’re very apprehensive of any indication of extremism from any of your acquaintances. You try to live by the sidelines. You’re boarding a flight to Pakistan; suddenly you get arrested, finding you’re on TV across the world. Authorities give you two choices, confess the crimes handed to you and face some years in Guantanamo Bay Prison or get ready for trial find yourself guilty as charged and still go to Gitmo facing life sentence. You’ve heard of water boarding, you’ve heard of electric shocks, you’ve heard of stories of blood hounds in Abu ghuraib jail. You’re an innocuous, in fact scared, person. You’re left with no choice but to admit the crimes which you didn’t hear before that day. Under duress, any scared person would do what he did.

For most people my theory would seem laughable but Dr Shirin Mazari also smells a rat in this whole story. I don’t trust American justice system and for good reason. It’s discriminatory! It has been discriminating on grounds of race, religion and color. This is not a matter of today, it’s been happening since the first day an Italian set foot on this soil. America bombs more Pakistani civilians daily in drone attacks then it has lost soldiers in Afghanistan. Pakistani blood, Muslim blood is so cheap that even thousand Muslims don’t equate an American life. Is that justice? My apologies to US lovers but any country who had laws legalizing lynching only 50 years ago and has killed more people than Hitler and Halaku combined has to do a lot more than just lip service to gain Muslim’s confidence.

Lastly, Pakistanis living in America shouldn’t be ashamed of Faisal. They should be ashamed of themselves. Their brothers and sisters, fellow compatriots are facing one-sided trials in front of their own eyes. Faisal Shahzad and Dr Afia are only two of hundreds detained in Gitmo without proper trials. Still, Pakistanis in general are happy to live their lives with the convenience of their families, fearing any voice against these cases might land them into trouble. What’s shameful is this behavior, not getting framed by corrupt authorities. It’s their pathetic submission to this unjust system that has led the Americans to believe that all Pakistanis would give up their rights if paid enough. They’re feeling shame alright, but one feels it’s for all the wrong reasons!