Baigsaab's Blog

بُھنگانہ، ابابیل اور ڈرون

Posted in Islam, Social revolution by baigsaab on June 28, 2013

اندلس کے طوائف الملوک میں وہ پہلی حکومت جس نے باقاعدہ عیسائی اقوام سے دوسرے مسلمانوں کے خلاف مدد مانگی وہ کوئی اور نہیں قرطبہ  کی حکومت تھی۔  خلافت اندلس کا دارالخلافہ قرطبہ، جہاں سینکڑوں سالوں سے کسی نے کسی  غیر مسلم کو  تلوار سونت کر چلتے نہیں دیکھا تھا، وہاں  اب عیسائی فوجی نام نہاد مسلمان حکمرانوں کے جنگی عزائم کو آگے بڑھانے کے لیے  کرائے کے فوجیوں کے طور پر لڑ رہے تھے! اندلس میں  اموی خلافت  کمزور  ہوئی تو  فوج کے مختلف سرداروں نے اپنے اپنے علاقوں میں اپنی حکومت کا اعلان کردیا۔  یہ علاقے  ’طائفہ’ کہلاتے تھے اور ان کے بادشاہ  ، ‘ملک الطائفہ’، اکثر و بیشتر صرف اپنے علاقے بڑھانے کے چکر میں  رہتے تھے۔   اتحاد امت اور اتحاد بین المسلمین جیسے الفاظ ظاہر ہے توسیع پسندی  اور ہوس ملک گیری کے ماروں کے سامنے نہایت بودے معلوم ہوتے ہیں۔  تو  ان بادشاہوں کی تلواریں بھی آپس میں ہی چلتی تھیں۔ اور اس میں ان کو مدد ملتی تھی کاسٹائل اور دوسری عیسائی ریاستوں سے۔  یہ مدد فوجیوں کی صورت بھی ہوتی تھی، اور کبھی کبھار براہ  راست مسلمان بادشاہ کی طرف سے  عیسائی فوجیں ہی حملہ آور ہو جاتی تھیں۔ ‘تقسیم کرو اور حکومت کرو’ کی یہ اندلسی مثال تھی۔  ان خدمات کے عوض آئیبیریا کے عیسائیوں کو مال، دولت، جائداد  یا جو وہ مانگیں، دیا جاتا تھا۔  نتیجہ یہ کہ عیسائی طاقت بڑھتے بڑھتے اتنی ہو گئی کہ ان نا عاقبت اندیش حکمرانوں کو سانس لینی دوبھر ہو گئی۔   یہ آج سے ٹھیک ایک ہزار سال پہلے کی بات ہے۔

آج کا حال دیکھیں۔ پاکستان کے شمالی علاقوں ، جنہیں نہ جانے کیوں پہلے بھی  ’علاقہ غیر’  ہی کہا جاتا  تھا، میں ایک جنگ ہو رہی ہے۔  ’ہماری جنگ’ !۔ کہنے کو پاکستان کی سرزمین کے دشمن اس علاقے میں چھپے بیٹھے ہیں۔  وہ دشمن جو عام  آبادی میں ایسے گھل مل گئے ہیں کہ وہاں ان کی شادیاں بھی ہوئی ہوئی ہیں اور اولاد بھی۔   ایک ایسا علاقہ جس میں پاکستان کے دوسرے علاقوں سے کوئی نہیں جا سکتا اور وہاں سے پاکستان کے دوسرے علاقوں میں کوئی نہیں جا سکتا۔  بیچ میں اتنی چوکیاں اور اتنے پہرے ہیں کہ سفر کا انجام اکثر و بیشتر ناکامی ہی ہوتا ہے۔ چنانچہ وہاں سے کسی خبر کا آجانا بجائے خود ایک عجوبہ  ہے کجا یہ کہ اس خبر کی تصدیق بھی ہو جائے۔ ایسے میں وہاں پر  فضائی حملے جاری ہیں۔ مقصد ان حملوں کا یہ ہے کہ ‘دہشت گردوں’ کو مار دیا جائے۔  یہ حملے کون کر  رہا ہے، کیوں کر رہا ہے اور کیا یہ اپنے مقصد میں کامیاب ہو رہے ہیں ۔ یہ سوال کر لینا جتنا آسان ہے اس کا جواب تلاش کرنا اتنا ہی مشکل۔

2004 میں ڈامہ ڈولہ میں ایک  میزائل  حملے میں  ’ ملا نیک محمد ‘ کا انتقال ہو گیا۔  اس وقت کسی کی کچھ سمجھ میں ہی نہیں آیا کہ یہ میزائل آیا کہاں سے۔  مگر ہمارے صدر پرویز صاحب نے  کمال پھرتی سے اس کی ذمہ داری  اپنے ادارے کی طرف سے قبول کرتے ہوئے  کہا کہ یہ ہم نے  کیا ہے۔ اس سے قطع نظر کہ ہم نے ایک ایسے شخص کو کیوں مار دیا جو  بعد میں ملنے والی اطلاعات کے مطابق ریاست سے باقاعدہ مذاکرات پر آمادہ تھا،  یہ تفصیلات کہ حملہ ہوا کیسے اس کہانی میں ہی کافی جھول تھے۔  بعد  ازاں  جب جب اس طرح کے حملے ہوتے رہے تو  اسی طرح وہ اور ان کے کارندے یہ ذمہ داریاں قبول کرتے رہے۔  رفتہ رفتہ بات کھلنا شروع ہوئی کہ یہ حملے  دراصل امریکی  ڈرون جاسوس طیارےکرتے ہیں۔  یہ  ڈرون  اول اول تو تھوڑے عرصے کے لیے نظر آتے تھے۔ مگر اب یہ    پورا دن  وزیرستان کے آسمان پر موجود رہتے ہیں۔  ان طیاروں سے  ایک مہینے میں اوسطاً  چھ سے سات حملے ہوتے ہیں۔ ان حملوں میں مرنے والے شہریوں  کے اعداد و شمار میں اتنا فرق ہے کہ   سرکاری شمار  دس سے کم اور  غیر سرکاری  کم و بیش ایک ہزار ہے۔ وجہ اس فرق کی کیا ہے یہ جاننے کے لیے دیکھیئے Living  Under Drones (livingunderdrones.com)  نامی دستاویز سے کچھ معلومات۔

یہ دستاویز  Stanford اور NY University  کے  اشتراک سے بنائی گئی ہے۔  قریباً نو ماہ کی ریسرچ اور درجنوں متاثرین سے  گفتگو  کی بنیاد پر بنائی گئی یہ رپورٹ  دراصل ڈرون  کے استعمال کے انسانی نفسیات پر پڑنے والے اثرات کو اجاگر کرنے کی ایک کوشش ہے۔  اسی  ضمن میں  امریکی اور پاکستانی دونوں طرح کے حکومتی دعوؤں کی بھی قلعی کھول دی گئی ہے۔

وزیرستان میں ڈرون کوابابیل بھی کہتے ہیں مگر زیادہ تر  ’بُھنگانہ’ کہا جاتا ہے، ایک ایسی چیز جو مکھی جیسے بھنبھناتی رہتی ہے۔ وزیرستان میں اس وقت یہ بھنبھناہٹ لوگوں کی زندگیوں کا حصہ بن گئی ہے۔  وہ سوتے ہیں تو سر پر ڈرون کی آواز  آتی ہے، بازار میں ہوتے ہیں تو   ’بُھنگانہ’ صاف نظر آتا ہے۔ ایک وقت میں چھ چھ ڈرون فضا میں نظر آرہے ہوتے ہیں۔ یہ بذات خود ایک ذہنی پریشانی کا باعث ہے   لیکن اصل مسئلہ یہ ہے کہ یہ ڈرون کبھی بھی آگ اگل سکتے ہیں۔ اس کا کوئی مقام، وقت، وجہ یا خاص ہدف نہیں ہے۔

17 مارچ 2011، صبح  تقریباً دس بجے کے قریب  دتہ خیل کے علاقے میں ایک قبائلی جرگہ، جو کہ قبائلی زندگی کا سب سے اہم ادارہ ہے، جاری تھا۔ قریباً چالیس سے کچھ اوپر لوگ  وہاں دو گروہوں میں صلح کرانے بیٹھے تھے، جرگہ کا مقامی انتطامیہ کو دس دن پہلے سے پتہ تھا چناچہ قبائلی بڑے، ملک، خاصہ دار یعنی حکومتی ادارے کے نمائندے بھی موجود تھے جو اس مجمع کے  پرامن ہونے کے لیے ایک  سرکاری سند تھی ۔  کرومائٹ کی کان کا یہ معاملہ کچھ  گرما گرمی کی طرف تھا کہ  اچانک ایک تیز سرسراہٹ سی سنائی دی  اور اس کے بعد ایک زور دار دھماکہ ہوا۔  عینی شاہدین کے مطابق فضا میں موجود ڈرون نے ایک میزائل فائر کیا تھا۔ اس حملے میں کوئی  42 لوگ مارے گئے اور 14 زخمی۔  مرنے والے اکثر لوگوں کے بارے میں یہ مصدقہ  اطلاع ہے کہ ان کا کوئی تعلق کسی  دہشت گرد تنظیم سے نہیں تھا۔ یعنی وہ عام شہری تھے۔ ایک قبائلی  سردار   داؤد خان کا بیٹا ، نور خان،  سانحے کے وقت  پانچ گھنٹے کی مسافت پر تھا۔ وہ واپس آیا تو اپنے  باپ کا  کفن میں لپٹا، جلا ہوا جسم   پایا۔ داؤد خان اس علاقے کا   ایک بڑا سردار تھا۔ اپنے علاقے والوں کے ساتھ ساتھ  گھر والوں کا  بھی سہارا تھا۔  کچھ یہی احوال  حاجی ملک بابت کا تھا جن کا اس ڈرون حملے میں انتقال ہوا۔ ان کا بیٹا خلیل خان  بتاتا ہے کہ مرنے والے کئی  قبائلی بڑوں میں سے پندرہ  تو صرف اسی کے  وزیری قبیلے سے تھے۔

اسی طرح 15 جون 2011 کو  امریکی ڈرون طیارے نے ایک گاڑی  ، جو کہ میرانشاہ اور سرکوٹ کے بیچ میں سفر کر رہی تھی، پر تقریباً چھ میزائل داغے اور پانچ لوگوں کو مار دیا۔  The bureau of investigative journalism کے مطابق پانچوں کے پانچوں لوگوں کو بعد میں  نام سے شناخت کیا گیا اور وہ پانچوں بھی  عام شہری تھے۔  کون لوگ تھے وہ؟ ایک  فارمیسی والا  عتیق الرحمان اور ایک اس کا طالبعلم ملازم ارشاد، ایک آٹو پارٹس کا بیوپاری عمر، ایک واپڈا کا ڈرائیور اکرم اور  اس کا  طالبعلم کزن شیرزادہ۔ یہ ہیں وہ ‘دہشت گرد ‘جن  کو مارنے کے لیے  چھ  Hellfire میزائل داغے گئے اور جب  عمر خان نے گاڑی سے باہر چھلانگ لگا دی تو آخری میزائل  نے اس کو بھی   قتل کر ڈالا۔

یہ صرف دو واقعات ہیں اور ان میں مرنے والے شہریوں کی تعداد پچاس تک پہنچ  جاتی ہے۔  ایک مہینے میں چھ حملے، ایک سال میں درجنوں  حملے اور  ہر حملے میں کئی ہلاکتیں۔کچھ عرصہ پہلے کی اطلاعات کے مطابق مرنے والے صرف بچوں ہی کی تعداد  178  ہے۔ اس کے باوجود جب  امریکی وزارت دفاع یہ کہتی ہے کہ مرنے والے شہریوں کی تعداد دس سے بھی کم ہے تو  پہلا سوال لازماً یہی ذہن میں آتا ہے کہ یہ کوئی اور گنتی گن رہے ہیں کیا؟ جواب اس کا ہے جی ہاں۔  امریکی وزارت دفاع کے مطابق کسی بھی حملے میں مارا جانے والا  ہر وہ مرد جو کہ جنگ لڑ سکتا ہے وہ جنجگو کی فہرست میں آئے گا ، الا یہ کہ اس کی موت کے بعد اس بات کا ٹھوس ثبوت مل جائے کہ  وہ ایک شہری تھا۔  امریکی حکومت کی طرف سے آج تک کوئی ایسی  کوشش نہیں کی گئی جو  ان حملوں میں مرنے والوں کے بارے میں  یہ  پتہ  لگانے کے بارے میں ہو کہ آیا وہ واقعی دہشت گرد تھے بھی کہ نہیں۔ اور ایسا کرنا سیاسی طور پر اوبامہ  کی صدارت کے لیے خودکشی کے مترادف ہو گا۔

باراک اوبامہ نے اس بات کو کبھی چھپانے کی کوشش نہیں کی کہ وہ ڈرون کو  زمینی  یا فضائی فوج پر زیادہ ترجیح  دیتا ہے۔  اس کی وجہ ایک تو یہ ہے کہ ڈرون اگر گر بھی گیا، اور گرتے ہی رہتے ہیں، توبھی  کسی فوجی کا قید میں چلا جانا یا مر جانا  اس سے کہیں  زیادہ عوامی ردعمل  کا موجب ہو گا۔ دوسری  بات یہ کہ گوانتانامو  جیل کا معاملہ بھی باراک اوبامہ کے لیے سانپ کے منہ میں چھچھوندر جیسا ہو گیا ہے۔ اس لیے مزید قیدی بنانے سے بہتر ہے کہ ان کو ٹھکانے لگا دیا جائے۔  لیکن  یہ سب تو ظاہر ہے  کہ  پوشیدہ وجوہات ہیں۔ اصل وجہ جو  اوبامہ، اس کی انتظامیہ  بالخصوص اس ڈرون جنگ کا  کرتا دھرتا  جان برینن  وغیرہ بتاتے ہیں وہ یہ ہے کہ  ’ہمارے ڈرون طیارے دہشت گرد اور عام شہری میں فرق کرنا جانتے ہیں’ یا ‘ہم ہر ممکن کوشش کرتے ہیں کہ ڈرون حملوں میں   عام شہریوں کا نقصان نہ ہو’ یا وہ جملہ  جو سب سے زیادہ  کہا جاتا ہے کہ ‘ہمارے  میزائل Pinpoint Precision پر کام کرتے ہیں’۔

اس    نشانہ بازی کی سوئی کی نوک  کے برابر  درستگی کے بارے میں   IISI  نامی کمپنی نے  ہرجانے کے دعویٰ میں  عدالت  کو   بتایا کہ    ” Netezza  کمپنی نے ہمارا سوفٹوئیر  Geospatialغیر قانونی طریقے سے اور عجلت میں   reverse engineer کر کے سی آئی اے کو بیچا اور انہوں نے یہ جاننے کے باوجود کہ یہ  سوفٹوئیر کئی میٹر تک غلط  جگہ بتا تا ہے، اسے خرید لیا”۔  چھوٹی سی گاڑی پر چھ  Hellfire میزائل مارنے کی ضرورت ایسے ہی نہیں پڑتی۔ اس کے  علاوہ ٹریکنگ چِپس بھی استعمال کی جاتی ہیں جو  زمین پر موجود   امریکہ کے خریدے ہوئے لوگ  مشکوک لوگوں کے  ٹھکانوں پر ڈال دیتے ہیں اور وہ چِپ  ڈرون   کی رہنمائی کرتی ہے۔  اپریل 2009 میں 19 سالہ  حبیب الرحمان  کو   مبینہ  طور  پر TTPنے  گولی  مار دی۔  قتل ہونے سے پہلے اپنے ویڈیو پیغام میں حبیب نے کہا کہ اسے  یہ پتہ نہیں تھا کہ یہ CIAکا کام ہے، اسے تو چپس پھینکنے کے 122 ڈالر دئیے گئے تھے اور کہا گیا تھا کہ اگر تم کسی عرب گھر میں یہ چپ ڈالنے میں  کامیاب ہو گئے تو  بارہ ہزار  ڈالر  ملیں گے۔  اس نے کہا کہ میں نے اندھا دھند وہ چپس ادھر ادھر پھینکنا شروع کر دیں ، میں جانتا تھا کہ لوگ میری وجہ سے مر رہے ہیں مگر مجھے پیسے چاہیے تھے”۔ تو یہ ہے  Pinpoint precision کی روداد!

شروع شروع میں یہ ڈرون حملے  کسی ایک شخص معین پر ہوتے تھے۔  مثلاً  بش انتظامیہ کے دور میں نیک محمد   پر جو حملہ ہوا تھا وہ   Personality strike تھا۔  باراک اوبامہ نے اقتدار میں آنے سے پہلے ہی یہ بات واضح کر دی تھی کہ     وہ  اور اس کی ٹیم ڈرون حملوں کو مزید آگے بڑھائیں گے۔ یہ پروگرام  ایسے آگے  بڑھا کہ اب سی آئی اے کے یہ ڈرون اڑانے والے اگر  کہیں بھی محسوس کریں کہ کوئی مشکوک سرگرمی ہو رہی ہے تو   اکثر و بیشتر  ان کو  حملہ کرنے کے لیے صدر سے اجازت لینے کی ضرورت نہیں ہے۔  جرگہ پر حملہ اسی کا شاخسانہ ہے،  اکرم خان کی گاڑی اسی لیے تباہ کی گئی، جنازوں ،شادیوں  اور دوسرے اجتماعات  پر  بھی حملے اسی Signature Strike کے زمرے میں آتے ہیں۔ یعنی  اگر کوئی صورتحال کسی پہلے سے متعین   Signature پر پورا اتر رہی ہے تو  ڈرون اڑانے والا حملہ کرنے کا مجاز ہے۔  وہ کیا قواعد ہیں جن کی بنیادپر یہ فیصلہ ہوتا ہے ، یہ ایک راز ہے۔   اب تو یہ بات مذاقاً کہی جاتی ہے کہ جہاں  CIA کو تین لوگ اچھل کود کرتے نظر آتے ہیں وہ ایک  Hellfire داغ دیتے ہیں۔

ڈرون طیارے بغیر پائلٹ کے نہیں اڑتے، بس ان کے پائلٹ  طیارہ میں نہیں بیٹھتے۔  وہ  ہزاروں میل دور نیواڈا میں بیٹھے ہوتے ہیں۔ کل کے ایف سولہ اڑانے والے آج Predator اور Reaper اڑا رہے ہیں۔ ایک بڑے سے کنٹینر میں ایک ٹیم بیٹھی ہوتی ہے جس میں سے دو پائلٹ ہوتے ہیں۔  ان کے سامنے بالکل جہاز ہی کے انداز میں مختلف آلات لگے ہوتے ہیں۔ دو سکرینوں پر  جہاز کا بیرونی اور نیچے کا منظر دکھائی دیتا ہے۔  بالکل ایک ویڈیو گیم کا سا سماں ہوتا ہے۔  F-16 کی کمر توڑ پرواز  سے یہ  پرواز اگر ویسے ہی  ’گھر جیسا آرام ‘نہیں تھا تو ڈرون اڑانے والوں کے لیے اس قتل کی سنگینی کو کم سے کم رکھنے کے لیے   اس قتل کو Bug splat یعنی مکھی مارنا کہا جاتا ہے۔  یعنی  مرنے والا جو بھی ہو  کم از کم انسان کہلانے کے لائق نہیں۔  اوبامہ کی اس جنگ میں  حملوں  کی زیادتی کی وجہ سے پائلٹس کی اتنی کمی ہو گئی ہے کہ اب  امریکی فضائیہ اپنے کیڈٹس سے بھی یہ کام لے گی۔ اس پر  طرہ یہ کہ اب  ان کی حوصلہ افزائی کے لیے  ان کو بہادری کے تمغے  بھی دئیے جا نے کا  پروگرام رو بہ عمل ہے۔

اس سارے معاملے میں  پاکستان اور اس کے عوام کا کیا کردار ہے؟  ہم نے مضمون کے آغاز میں ملوک الطوائف  کا  ذکر کیا تھا۔   پاکستان  کی حکومت کا کردار  اس معاملے میں ایسا ہی منافقانہ ہے۔   آنکھ اوجھل پہاڑ اوجھل کے مصداق اس علاقے سے ویسے بھی خبریں نہیں آتیں، اوپر سے ہمارے سابق وزیر اعظم صاحب وکی لیکس کے مطابق یہ کہتے ہوئے پائے گئے کہ ‘آپ اپنا کام جاری رکھیں گے، ہم پارلیمان میں آواز اٹھائیں گے اور پھر خاموش ہو جائیں گے”۔اپنے ملک کی عوام کو اس طرح درندوں کے حوالے کرتے کم ہی دیکھا گیا ہے۔ وزیرستان کی عوام کے آگے CIA کا کنواں اور پیچھے TTP کی کھائی ہے۔  وہ اپنے مخصوص محل وقوع  کی وجہ سے اس وقت  زمین کی پشت پر بد ترین مصیبت  میں ہیں۔ اور اس صورتحال میں انہیں دھکیلنے والے کوئی اور نہیں ان کے اپنے ہموطن ہیں۔

ہمارے  نام نہاد دانشور اکثر و بیشتر یہ کہتے ہوئے پائے گئے ہیں کہ ہم امریکہ کا ڈرون مار کے خود کہاں جائیں گے؟ اس کے جواب میں یہی کہا جاسکتا ہے کہ ان کا اپنا بچہ مرتا کسی ایسے حملے میں تو  پھر پوچھتے  ان  سے۔  ہر وقت ڈرون کی بھنبھناہٹ، اس کی ہمہ وقت موجودگی، اس کا کسی بھی مجمع پر حملہ کر ڈالنا ، اس حملہ کے نتیجے میں مدد کو آنے والوں کو بھی نشانہ بنانا،اپنے پیاروں ، اپنے  بچوں کی مسخ شدہ جلی ہوئی لاشیں ، اور کبھی صرف ان کے جسم کے ٹکڑے  ہی دفنا پانا۔   یہ سب وہ باتیں ہیں جو  انور بیگ اور خورشید ندیم جیسے  یہ ڈرائنگ روم کے دانشوروں کے لئے محسوس کرنا ان کے بس سے باہر ہے۔

کیا ہم ڈرون طیارے گرا سکتے ہیں؟    تو اس کے جواب میں پہلی بات تو  یہ  کہ پوری دنیا جانتی ہے کہ یہ ڈرون طیارے پاکستان کی اپنی  سرزمین سے اڑتے ہیں تو  ہماری فضائی حدود کی خلاف ورزی تو کوئی ہے ہی نہیں، رضا مندی  ہی رضامندی ہے۔  بلکہ ہمارے مقتدر حلقے تو ڈرون ٹیکنالوجی  مانگتے بھی رہے ہیں کہ جی ہمیں بھی تو دکھائیں۔     ڈرون مارگرانا کوئی مشکل کام نہیں ، لیکن مسئلہ یہ  ہے ہی نہیں کہ ہم مار سکتے ہیں کہ نہیں، مسئلہ یہ ہے کہ ہم مارنا چاہتے ہیں کہ نہیں۔   ہمارے نئے نویلے وزیر اعظم صاحب نے فرمایا ہے  کہ ‘ڈرون پر تحفظات ہیں’۔ ان کے اس سے بھی نئے نویلے  مشیر  خارجہ  نے فرمایا کہ  ’تمام صلاحیتیں بروئے کار لائی جا سکتی ہیں’۔  نجانے یہ باتیں کہہ کر وہ کس کی تسلی کرنا چاہتے ہیں ورنہ  صاف نظر آرہا ہے کہ  یہ  بھی  ’اِب کے مار’ والے لوگ ہیں۔  AfPak ریجن کے لیے امریکہ کے نئے  نمائندہ   جیمز ڈابنز سے جب ہمارے ملک کے وزیر اعظم نے کہا کہ ڈرون حملے بند کر دیجیے تو اس نے ایک  یک لفظی جواب  جو دیاوہ  تھا “نہیں” اور ہماراردعمل  تھا ،’جی اچھا’۔ معذرت کے ساتھ ، یہی ڈرون اگر کوئی بیکری والا اڑا رہا ہوتا  اور اس نے  یہ ‘نہیں ‘ بولا ہوتا  تو  اس کے ساتھ یہ کیا سلوک کرتے وہ ہم اچھی طرح جانتے ہیں۔

دتہ خیل میں مرنے والے داؤد خان کے بیٹے نور خان  نے پاکستانی وکیل شہزاد اکبر سے را بطہ کیا جو کہ  درجنوں دوسرے خاندانوں کے  لیے پاکستانی عدالتوں میں ان ڈروں حملوں میں مرنے اور زخمی ہونے والوں کے لیے عدل  مانگ رہے تھے۔   چند ماہ قبل پشاور ہائیکورٹ نے کیس کے فیصلے میں ڈرون حملوں کو غیر قانونی قرار دے دیا ۔  پاکستان کی پارلیمنٹ پہلے ہی ان حملوں کو نا جائز قرار دے چکی ہے۔  عمران خان نے پہلا مطالبہ  جو اس حکومت سے کیا ہے وہ یہی ہے کہ ڈرون حملوں کو رکوا دو ہم تمہارا ساتھ دیں گے۔ پاکستان کی حکومت کے پاس اب   ہر طرح کا اختیار ہے کہ وہ ان حملوں کو  ایک دم رکوا دے  لیکن ان کا پھر بھی ایسا نہ کر نا  سیدھا سیدھا اشارہ کرتا ہے  کہ یا تو ملی بھگت  ہے یا کردار کی کمی، یا  کردار کی کمی کی وجہ سے ملی بھگت!

جب اندلس  کے نا عاقبت اندیش حکمرانوں کے لیے سانس لینا دوبھر ہو گیا  اور  الفانسو ان کی  جڑوں میں بیٹھ گیا تو پھر انہوں نے مدد کے لیے   سمندر پار سے  یوسف بن تاشفین کو بلایا جس نے ایک ہی حملے میں الفانسو کا ایسا صفایا کیا کہ اگلے چار سو سال اندلس میں پھر اسلامی پرچم لہرانے لگا۔  ہم جانتے ہیں کہ پاکستان کے حکمرانوں کے ہاتھ سے معاملات نکل چکے ہیں۔ یہ اب  اپنی مرضی سے  ایک روٹی  بھی نہیں خرید سکتے۔  تو ایسے وقت میں  کسی یوسف بن تاشفین کو نہ سہی، اپنی عوام کو ہی آواز دے لیں۔  ہمیں اصل معاملات سے آگاہ کریں۔  اس بات سے آگاہ کریں کہ مشرف نے جب ہمیں اس نا پاک اور نا مراد جنگ میں دھکیلا تھا تو کیا شرائط طے کی تھیں؟ اس جنگ میں پاکستان اور اس کے وسائل کی شمولیت کے parameters کیا تھے؟  پھر   وہ کیا وجہ ہے کہ  ہمارے شہروں میں اسلامی نام والی تنظیموں کے دھماکے کی ایک ایک لمحے کی خبر دکھائی جاتی ہے لیکن امریکہ کے ان ڈرون حملوں کی کوئی ایک ویڈیو بھی نہیں آتی ۔ کیوں ہم اپنے شہروں میں مرنے والے  شہریوں کی تعداد، علاقے ، حتیٰ کہ مسالک تک سے آگاہ ہیں لیکن  دتہ خیل، سرکوٹ ، میرانشاہ اور ڈامہ ڈولہ کے ان Hellfire میزائل میں مرنے والے ‘دہشت گردوں’ کی اصلیت سے نا واقف ہیں۔  اگر آپ  عوام کو اعتماد میں نہیں لیں گے تو  یہ معاملہ زیادہ دن چلنے والا نہیں ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ  وہ وقت دور نہیں جب یہ Predator اور Reaper کراچی، ملتان، رحیم یار خان،  کوئٹہ ، لاہور، ایبٹ آباد  اور اسلام آباد  کی  فضاؤں میں بھی ایسے ہی نظر آئیں گے۔  لیکن ایسے وقت میں نجانے کیوں مجھے یقین ہے  کہ ہمارے یہ پٹھان بھائی ہمیں ایسے نہیں چھوڑیں گے جیسے ہم نے انہیں چھوڑ رکھا ہے۔  اللہ ہمارے ان بھائیوں اور بہنوں کی حفاظت کرے۔ آمین!

Advertisements

ہوئے تم دوست جس کے

Posted in Islam, Rants by baigsaab on August 29, 2012

بل  اورائلی کا طریقہ بہت سیدھا ہے۔ جو بھی بات وہ منوانا چاہتا ہے وہ  ڈنکے کی چوٹ پر کہتا ہے اور اس کے لیے صحیح یا غلط کوئی بھی دلائل دیتا ہے۔ اس کے ان دلائل کو جو رد کرتا ہے اس کو موصوف سخت سست سناتے ہیں۔ اورائلی اپنے مخالفین کو جاہل اور بےوقوف ثابت کرنے کی پوری کوشش کرتا  نظر آتا ہے   اور مد مقابل کو دلائل کی بجائے آواز سے زیر کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اگر کہیں اس کو ہزیمت کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو  فوراً پینترا بدل کر مخالف کے کسی نازک پہلو کو نشانہ بناتا ہے اوراس کو زیر کر لیتا ہے۔ ‘احمق اور محب وطن’ نامی کتاب کے مصنف کا فاکس نیوز پر چلنے والا  پروگرام  ‘او رائلی فیکٹر’  ایک اندازہ کے مطابق اس وقت امریکہ کا سب سے زیادہ دیکھا جانے والا پروگرام ہے۔  ایک سروے کے مطابق موصوف امریکہ کے  گیارہویں اور ایک اور سروے کے مطابق دوسرے سب سے با اثر ریڈیو ٹاک شو  میزبان ہیں۔  تو آخر او رائلی کا فیکٹر ہے کیا؟  اس کے سننے اور  دیکھنے والوں پر اس کا کیا  اثر ہوتا ہے؟  ۲۰۰۹ میں ایک اسقاط حمل کے ماہر ڈاکٹر کا قتل ہوگیا جس کو خبروں کے مطابق  ایک ‘اینٹی ابارشن’ جنونی  نے قتل کیا تھا۔  او رائلی نے اس سے پہلے اس ڈاکٹر کے خلاف وقتا   ً فوقتا     ً  کچھ پروگرام کیے تھے اور اس نے اس کا نام ‘ٹلر دی بے بی کلر ‘ رکھا تھا۔ یہ کہنا کہ ڈاکٹر کے قتل میں بل او رائلی  کی باتوں کا اثر تھا ایک  ناقابل تصدیق بات ہے لیکن اس کی باتوں کا اثر بہرحال اس کے سننے والوں پر ہوتا ہے۔ ایسے ہی ایک پروگرام میں  بحیثیت مہمان وہ نیویارک میں مسجد کے قیام کی شدید مخالفت کرتا نظر آتا ہے اور وجہ یہ بیان کرتا ہے کہ ‘مسلمانوں نے ہمیں ۹/۱۱ کو نشانہ بنایا تھا’۔     اس پر  شو کی مشترک میزبان ‘ووپی گولڈبرگ ‘ اور ایک اور خاتون شو سے اٹھ کر چلی گئیں۔ لیکن موصوف اپنی بات پر اڑے رہے۔

 او رائلی جیسے لوگ پوری دنیا کے میڈیا میں ملیں گے۔  ایسے لوگ اپنی بات میں زور پیدا کرنے کے لیے گالیوں اور طنزیہ جملوں کا سہارا لیتے ہیں۔  اپنی بات کو صحیح ثابت کرنے کے لیے جھوٹے  ‘حقائق’  بنا لیتے ہیں ۔ مخالفین کا مذاق اڑاتے ہیں اور گالیاں تک دینے سے دریغ نہیں کرتے۔   ان کا مقصد خود کو صحیح ثابت کرنے سے زیادہ دوسرے کو غلط ثابت کرنا ہوتا ہے۔ ایسے لوگوں کے پروگرام کی ویورشپ ہمیشہ زیادہ ہوتی ہے کیونکہ وہ سنسنی  آمیز اور اسفل  باتیں کرتے ہیں  اور  عوام کی اکثریت  ٹی وی دیکھتی ہی  ان چیزوں کی وجہ سے ہے۔

ہمارے ملک میں ٹاک شوز میں ایسے لوگوں کو ریٹنگز بڑھانے  کے لیے بلایا جاتا ہے۔  لوگ نہ صرف ان کو دیکھتے ہیں بلکہ ان کی باتوں سے لطف اندوز بھی ہوتے ہیں۔ ان  سب میں جن صاحب کے کلام کے حسن پر نثار بہت لوگ ہیں وہ وہ ہیں جن کی پردہ اور عریانیت کے بارے میں کہی گئی آراء آج کل آپ سن ہی رہے ہونگے ۔  یہ اس لیے باقیوں سے ممتاز ہیں کیونکہ  نوجوانوں کا ایک پڑھا لکھا طبقہ ان کی باتوں کو سنتا ہے۔  اسی لیے ان کی کہی ہوئی بات چاہے غلط ہی کیوں نہ ہو اس کا اثر بہت ہوتا ہے۔   چنانچہ  کلیہ عامہ کے برعکس، کہ فرد  معین پر بات کرنے سے کسی کا فائدہ نہیں ہوتا، ہمیں قلم اٹھانا پڑ رہا ہے۔

 حریفوں کو لتاڑنا اور ذلیل کرنا چاہے وہ کوئی بھی ہو یہ ان کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے۔  کسی بھی عزت دار  شخص کو للو پنجو کہہ دینا ان کے لیے مسئلہ ہی نہیں۔ لوگ کہتے ہیں یہ ‘پی’ کر آتے ہیں لیکن میرے خیال سے یہ ایک نا مناسب بات ہے اور کسی پر بے جا تہمت(ویسے بھی ایک نعت گو شاعر  ،جو مدینے میں ننگے پیر پھرتا ہو،سے حرام شے کی   نسبت کرنا  شاید بہتان کے زمرے میں آتا ہو)لیکن گفتگو ان کی کبھی کبھار، بلکہ اکثر،ہذیانی ہی ہوتی ہے۔  موصوف کی یو ٹیوب پر موجود ایک کلپ  میں وہ مسلمانوں کی چودہ سو سالہ تاریخ میں سے چن چن کر آپس کی لڑائیاں نکالتے دکھائے گئے ہیں کہ کس طرح عباسیوں نے امویوں کو رگڑا اور کیسے تیمور نے یلدرم کو رگیدا اور کیسے  لودھی اور تغلق اور مغل اور نہ جانے کون کون مسلمان  تاریخ کے صفحات میں لڑتا ہوا پایا گیا۔  موصوف نے لیکن کہیں  بتانا مناسب نہیں سمجھا کہ  یہ لڑائیاں مذہب کے نام پر نہیں تھیں۔  اگر  ایک مذہب کے ماننے والوں کا آپس میں لڑنا غلط بات ہے تو یورپ کی تو پوری تاریخ ہی کیتھولک اور پروٹسٹنٹ کی  لڑائیوں میں گذری ہے۔     اسی طرح موصوف اکثر اپنے اخباری کالم میں   مغرب کی ترقی کو سراہتے ہوئے پائے گئے ہیں بھلے وہ ترقی ان کی  سماجی بدحالی  پر منتج ہو۔ امریکہ کی در اندازیوں کو  “بڑی طاقتیں ایسے ہی بی ہیو  کرتی ہیں” کہہ کر سند عطا کردیتے  ہیں۔   ایک پروگرام میں انہوں نے بڑی نخوت سے کہا کہ  ‘میں کوئی ایم اے اردو نہیں ہوں ، میں نے اکنامکس میں ماسٹرز کیا ہے’، تو کوئی  ان سے پوچھے بھائی  جب یہ کام کرنا نہیں تھا تو کسی  حقدار  کی سیٹ ضائع کرانا کیا ضرور تھا؟ پڑھے لکھے لوگ ان کی باتیں کیوں سنتے ہیں؟ پتہ نہیں! شاید وہ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ منافقت اور جہالت اور  بے غیرتی جیسے الفاظ ان کے لیے استعما ل نہیں ہو رہے۔  یا  شاید ہماری اکثریت  خود رحمی کی بیماری کا شکار ہے۔  ایک اور وجہ  شاید یہ ہے کہ وہ اپنی باتوں میں مولویوں اور سیاست دانوں دونوں کو رگیدتے ہیں  اور  ہمارا پڑھا لکھا طبقہ   اکثر و بیشتر دونوں سے  بیزار  ہے۔

موصوف کا حا لیہ بیان یہ ہے کہ پردہ عرب کی رسم تھی جس کو اسلام نے باقی رکھا۔  اسی  طرح داڑھی  کا تعلق عرب کی آب و ہوا سے تھا۔  خیر یہ تو کوئی ایسی بات نہیں ۔ صرف پردہ اور داڑھی ہی نہیں۔ اسلام میں اور چیزیں بھی عرب کلچر  سے آئی ہیں۔ مثلا ً  حج۔ مثلاً جہاد۔   مثلا ً نکاح اور دیگر رسومات۔ ہمارا یہ ماننا ہے کہ نبی آخر الزمانﷺ عرب تھے اس لیے عربوں کی  اس زمانے کی ہر چیز سے  جسے ہمارے نبی ؐ نے جاری رکھا ،چاہے وہ آج کے زمانے میں کتنی ہی عجیب کیوں نہ لگے ، محبت ہمارے دین کا حصہ ہے۔ جسے یہ بات سمجھ نہ آئے وہ خود اللہ کے سامنے اپنا جواب تیار کر لے۔  ہم نے تو وہ حدیث سن رکھی  ہے کہ جس کا مفہوم ہے کہ اسلام کا آغاز ایک اجنبی چیز کے طور پر ہوا تھا  اور عنقریب وہ  دوبارہ ایک اجنبی چیز بن جائے گا تو ان کے لیے خوشخبری ہے جو اس کے ساتھ ساتھ خود بھی اجنبی ہو گئے۔

مغرب کی تعریف میں حضرت اس حد تک غلو سے کام لے گئے  کہ فرما گئے کہ وہاں عریانی ستر بن گئی ہے۔  وجہ اس کی بیان کرتے ہیں کہ  نیم برہنہ عورتیں وہاں کھلے عام پھر رہی ہوتی ہیں اور کوئی دیکھتا تک نہیں۔  اب اس کو کوئی ان کی سادہ لوحی ہی کہہ سکتا ہے  ورنہ یہ چیز فطرت کے مطابق نہیں  ہے  کہ مرد کو  عورت میں کشش محسوس  نہ ہو۔  اور حقائق ان کی اس دلیل کے بالکل برعکس چیخ چیخ کر کہہ رہے ہیں کہ دنیا میں ابھی بھی ریپ کے زیادہ واقعات  ان کے اس مغرب میں ہی ہوتے ہیں جہاں ان کے مطابق عریانی ستر ہے۔  ایک اطلاع کے مطابق  ایک ترقی یافتہ مغربی ملک  میں ایک بے روزگار  سافٹ وئیر پروفیشنل خاتون کو بے روزگاری کے زمانے میں ایک نوکری کی پیشکش ہوئی۔ کام ایک جدید قسم کے صاف ستھرے کوٹھے پر تھا۔ انکار کی صورت میں بے روزگاری الاؤنس سے ہاتھ دھونے کی  پریشانی۔ یہ آپ کے پسندیدہ مغرب میں ہو رہا ہے۔    اسی پروگرام میں ایک بڑے غزل گائک کے ہم نام صاحب یہ کہتے ہوئے پائے گئے کہ قرآن میں حکم ہے زینت کو چھپانے کا۔ پھر زینت کا مطلب خود ہی بتاتے ہوئے کہا کہ اس کے مطلب ہیں خوبصورتی۔   اب چہرے سے زیادہ خوبصورتی کہاں ہوتی ہے یہ وہ  حضرت بتا نہیں  رہے۔  خیر یہ تو ایک جملہ معترضہ تھا۔

مسئلہ ان کا اور ان جیسے دوسرے لوگوں کا  شاید یہ ہے کہ  یہ مغرب کے  اس مکمل اور  ہمہ گیر تسلط سے بری طرح مرعوب ہیں۔ ان کے نزدیک  مغرب  کی ترقی   ہم بچشم سر دیکھ رہے ہیں اور  اس   کی تقلید کرنا اس دور میں اسلا م کی سب سے بڑی خدمت ہے۔    اس تقلید کی طرف پیشقدمی میں جو بھی چیز انہیں پا ؤں میں زنجیر  ڈالتی  نظر آتی ہے اس کو یکسر مسترد کردینا  ان کی مجبوری ہے۔

ہم  ان کے لیے اور ان جیسے دوسرے لوگوں کے لیے صرف یہی کہنا چاہتے ہیں کہ  یہ دنیا دارالامتحان ہے۔ یہاں مشکل بھی ایک امتحان ہے اور آسانی بھی۔ غربت بھی ایک امتحان ہے اور امیری بھی۔  اسی طرح  پسماندگی بھی ایک امتحان ہے اور ترقی بھی۔ بلکہ کئی معنی میں عشرت عسرت سے بڑی آزمائش ہے کہ امام احمد ابن حنبل کا واقعہ ہمیں یہی بتاتا ہے کہ شدید مار کو برداشت کر گئے لیکن  جب نئے خلیفہ نے کچھ رقم بھیجی تو رو پڑے  کہ یہ امتحان پہلے سے زیادہ مشکل تھا۔  مغرب کی حالیہ آسائشیں ایک طرف ان کے لیے امتحان ہے کہ وہ اپنے رب کو پہچانتے ہیں کہ نہیں تو دوسری طرف  ہم مسلمانوں کے لیے کہ ہم دنیا کی ترقی کو اہمیت دیتے ہوئے قدم بہ قدم ان کی تقلید کرتے ہیں  اور دیوانہ وار ان کے پیچھے  دوڑتے ہیں یا صرف اس چیز کو لیتے ہیں جو ہماری شریعت سے متصادم نہ ہو۔  پھر دنیاوی کامیابی کسی بھی لحاظ سے اس بات کی ضمانت نہیں ہے کہ  کوئی  اللہ کے پسندیدہ بندوں میں شامل ہو گیا۔  دنیا میں  لگ بھگ ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر آئے ان میں سے   کچھ کے ساتھ شاید ایک بھی امتی نہ ہو۔ کتنے ہی  صحابی تھے جو اسلام کے غلبے سے پہلے اپنے رب سے جا ملے تو کیا وہ ناکام ہو گئے؟    معاذاللہ ہرگز نہیں۔   سلف صالحین کا طریقہ یہ تھا کہ سنت کو دانتوں سے پکڑ لو چاہے کتنے ہی دقیانوسیت کے طعنے کیوں نہ پڑیں اور  اس میں کتنی ہی تکلیف کیوں نہ اٹھانی پڑے۔  کیونکہ  بہرحال دنیا مومن کے لیے قید خانہ ہے اور کافر کے لیے جنت۔

یہ بات اپنی جگہ بجا ہے کہ ہم مسلمان اس خزانے پر جس کا نام قرآن ہے ایک سانپ بن کر بیٹھے ہیں کہ نہ خود عمل کرتے ہیں اور نہ کسی اور تک اس پیغا م کو پہنچانے دیتے ہیں۔ لیکن اس کا یہ مطلب قطعی نہیں ہے کہ  کسی کو  علماء پر لعن طعن کرنے کا لائسنس مل گیا۔ وہ بھی صرف اس لیے کہ انہوں نے ان کے حساب سے دنیاوی تعلیم کی ترویج نہیں کی۔  جو کام علماء اس  پر فتن دور میں کر رہے ہیں وہ ناکافی ہوسکتا ہے لیکن وہ پھر بھی اس طوفان کے آگے بند باندھے ہوئے ہیں کہ جو  اب تک ہماری نظروں کے سامنے روسی، بھارتی اور چینی تہذیبوں کو نگل چکاہے اور اب ہماری پوری اقدار کو گھاس کے تنکوں کی طرح بہا لے جانا چاہتا ہے۔  اگر ہم اپنے مردوں کو سنت کے مطابق دفنا سکتے ہیں تو اس وجہ سے کہ ہم تک دین کی تعلیم پہنچی ہے، اگر بیٹی کی شادی کرنی ہے تو مسنون نکاح مولوی ہی بتاتا ہے۔ہمیں تو لگتا ہے کہ یہ دقیانوسیت کے الزام لگانے والے جو ڈاکٹر عبدالسلام اور  سید احمد خاں کو اپنا محسن کہتے ہیں، کبھی اپنے ڈرائنگ روموں سے نکلے ہی نہیں۔ اگر کسی کے پاس علم کی کمی ہے تو وہ شاید ان کے پاس ہی ہوگی کیونکہ یہ بات ہر شخص جو دین کے علم کے لیے تھوڑی سی محنت کر سکتا ہے وہ جانتا ہے کہ صرف کراچی ہی میں دو ایسی عظیم الشان درسگاہیں ہیں جہاں دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ  جدید سائنسی تعلیم بھی دی جاتی ہے۔  جامعۃ الرشید کا فلکیاتی تحقیق کا ادارہ تو اپنی مثال آپ ہے۔ باقی ملک میں آپ خود دیکھیں۔

لیکن جو اصل مغالطہ ان کو ہے وہ یہ ہے کہ اسلام کی نشاۃ اولیٰ مسلمان سائنسدانوں کی وجہ سے  ہوئی تھی۔ یہ ایک شدید فکری مغالطہ بلکہ حماقت ہے جس کا شکار ہمارے اکثر و بیشتر پڑھے لکھے حضرات ہیں۔  خاص طور سے ہمارے کالم نگاروں اور نامور دانشوروں کی اکثریت یہی بات کرتی نظر آتی ہے۔ اپنے چوہدری صاحب اس دن بڑے تاسف سے  عباسی صاحب سے کہہ رہے تھے کہ آپ نے اسلام کی کیا خدمت کی کیا آپ نے لوٹا بھی ایجاد کیا؟  ان لوگوں کے خیال سے یورپ کو جو تسلط حاصل ہے وہ اس کی سائنسی ایجادات کی وجہ سے ہے۔ یہ مذاق اڑاتے ہیں کہ دنیا   کائنات کی تخلیق کا راز جاننے نکلی ہے، ناسا  کا  ‘کیوریوسٹی’ مریخ پر کامیابی سے قدم رکھ چکا ہے اور ہمیں وہاں سے تصاویر بھیج رہا ہے اور ہمارے ملا کو اس بات  کے جواب دینے سے  ہی فرصت نہیں کہ استنجاء ہو گیا کہ نہیں۔ یا  غسل واجب ہو ایا نہیں؟ یا یہ کہ چاند کے لیے دیکھنا بھی ضروری ہے یا قمری کیلنڈر پر یقین کر لیں؟  پہلا سوال یہ ہے کہ کیا یہ سب سوال غیر اہم ہیں؟ اگر احادیث کے ذخیرے کو دیکھ کر بات کریں تو قطعاً نہیں۔ اور دوسرا سوال جو ہمیں واپس اس فکری حماقت کی طرف لے آتا ہے وہ یہ ہے کہ کیا دنیا میں ترقی کے لیے سائنس لا بد منہ ہے؟

اسلامی حکومت کی حدود  وفات نبوی ﷺ کے محض ۷۵ سال کے  عرصے میں شمالی افریقہ، سندھ اور جزیرہ نما آئیبیریا تک پھیل چکی تھیں۔ دور خلافت راشدہ میں ہی مملکت خداداد کی سرحدیں پورے جزیرہ نمائے عرب کا احاطہ کر چکی تھیں۔ اس پورے عرصے میں نہ کوئی مشہور سائنسدان سامنے آیا نہ کوئی  قابل ذکر غیر جنگی ایجاد۔آ بھی نہیں سکتا تھا کیونکہ عربوں کے پاس سائنس کا علم تھا ہی نہیں۔ وہ تو جب یونانی علوم کو عربی میں ترجمہ کرنا شروع کیا گیا ہے تب کہیں مسلمانوں میں فلسفہ اور ریاضی اور طب کے ماہر پیدا ہونے شروع ہوئے۔ تو اس سے پہلے کے سو سوا سو سال تک ہم کیسے  اتنے بڑے  رقبے  پر اسلامی حکومت  قائم کر پائے؟  وہ کون سی چیز  تھی مسلمانوں کے پاس کہ آدھی دنیا ان کی مطیع بن گئی؟  وہ چیز تھی  جناب رب کا نظام۔ نظام خلافت۔ نظام عدل اجتماعی۔  وہ نظام  جس کا نقشہ  قرآن میں ملتا ہے۔ وہ نظام کہ جو ہمارے آقا ﷺ نے اپنے  خطبہ حجۃ الوداع کے موقع پر  بیان کیا کہ  کسی گورے کو کالے پر اور کالے کو گورے پر فضیلت نہیں۔ نہ عربی کو عجمی پر نہ عجمی کو عربی پر۔ اور جو خلیفہ اول حضرت ابوبکر ؓ نے اپنے پہلے خطبے میں کہا کہ تمہار ا کمزور میرے نزدیک طاقتور ہے اور طاقتور میرے نزدیک کمزور جب تک حقدار کو اس کا حق نہ دلا دوں۔  وہ نظام کہ جس کو  کسریٰ کے دربار میں ہمارے اسلاف نے  یوں بیان کیا تھا کہ ‘ ہم بھیجے گئے ہیں۔۔۔  تاکہ لوگوں کو ملوکیت کے اندھیروں سے نکال کر اسلام کے عدل میں لے آئیں’۔  یہ تھی مسلمانوں کی کامیابی کی کنجی۔ اللہ کی زمین پر اللہ کا نظام۔   اس کے برعکس آپ دیکھیں کہ یہاں بڑے بڑے سائنسدان آنا شروع ہوئے یہاں خلافت کمزور ہونا شروع ہوئی، وجہ یہ نہیں ہو گی لیکن یہ   امر واقعہ ضرور ہے۔ دوسری بنیادی چیز جو اتنی ہی ضروری تھی وہ تھی جہاد۔ وہ جہاد نہیں جو نفس کے خلاف ہوتا ہے بلکہ وہ جہاد جس میں تن من دھن لگایا جاتا ہے۔ جس میں مال کا خطرہ بھی ہوتا ہے اور جان کا بھی۔ جب وہ رخصت ہو گیا، جب موت کے شوق کی جگہ دنیا کی محبت نے لے لی تو ہماری حالت سیلاب کے پانی پر موجود جھاگ جیسی ہوگئی یا با الفاظ حدیث ‘دسترخوان پر چنے ہوئے  کھانے کی طرح’۔  اس کا جیتا جاگتا ثبوت آپ کو افغانستان میں مل رہا ہے جہاں بے سر و سامان مجاہدین کیل کانٹے سے لیس  ایساف کے فوجیوں کو ناکوں چنے چبوا رہے ہیں اور  ان کا بس نہیں چل رہا کہ کیا کریں۔ آپ کے مغرب میں ہی کسی نے کہا تھا۔۔۔

It’s not the gun that fires; it’s the shoulder behind it [that matters]..

ہمارے افغان بھائی آج بھی ثابت کررہے ہیں کہ فضائے بدر پیدا کرنے سے واقعی نصرت آتی ہے، ہم کرنے والے تو بنیں۔

خیر تو بات کہاں سے شروع ہوئی تھی کہاں پہنچ گئی۔ بات یہ تھی  کہ بات کو زور سے، گالی سے، جاہل، بےوقوف، گھامڑ، بدتمیز اور للو پنجو ایسے الفاظ کہہ کر وہ لوگ کرتے ہیں جن کی دلیل میں وزن نہ ہو۔ خالی برتن زیادہ بجتا ہے اسی لیے موصوف کی آواز دور تک جاتی ہے۔  دوسری بات یہ کہ جس کا کام اسی کو ساجھے۔ جس بات کا پتہ نہ ہو اس میں بولنا نہیں چاہیے۔ اب اگر کوئی آپ کے پاس مائک لے کے آ ہی گیا ہے تو بھائی اس کو سیدھے سبھاؤ بتا دو کہ میاں یہ میرا میدان نہیں۔  لیکن ہمارے وطن میں مذہب وہ مظلوم شے ہے کہ جو اس کے حقیقی امین ہیں وہ گوشہ نشین ہیں  اور گویا   ایک حدیث کے مصداق ایسا لگ رہا ہے کہ آخری زمانے کے “روبیضہ”  عام لوگوں کے معاملات میں گفتگو کر رہے ہیں۔ چنانچہ ابھی کچھ عرصے پہلے ایک جید عالم کے پوتے اور جغادری صحافی کے صاحبزادے  ایک موقر روزنامے میں  اپنے کالم میں بینکنگ انٹرسٹ کو جائز قرار دینے کا فتویٰ دے بیٹھے یہ دیکھے بغیر کہ ان کی معلومات اس معاملے میں ہیں بھی کہ نہیں۔  اور یہ تو ٹی وی نہ دیکھنے والوں نے بھی دیکھا کہ رمضان کے مہینے میں ہر چینل پر ایک سے  بڑھ کر ایک  نوٹنکی بیٹھا مذہب پر بول رہا ہے الا ماشاء اللہ۔ خیر تو ہمارے ‘سبجیکٹ’ صاحب سے بھی چپ نہ رہا گیا اور پتہ نہیں کس کیفیت میں وہ کچھ بول گئے کہ  غالباً بعد میں خود بھی بغلیں جھانک رہے ہوں  کہ یہ کیا کہہ  دیا۔ عریانی۔۔ستر؟ اگر کسی نے  مذاق میں بھی کہہ دیا کہ اس نیک کام کی ابتداء  اپنے گھر سے کرنے میں  کیا چیز مانع ہے تو پتہ نہیں موصوف اپنی کون سی والی گالیوں کا پٹارا کھولیں گے۔  حضرت اگر مغرب آپ کو اتنا محبوب ہے تو آپ دعا کیجیے، ہم بھی آمین کہیں گے کہ آپ کا حشر انہی اہل مغرب کے ساتھ ہو۔

  او  رائلی سے کسی نے عراق کی جنگ کے  بعد پوچھا کہ تم نے کہا تھا کہ تم اپنی بات غلط ثابت ہونے پر (کہ عراق میں تباہ کن ہتھیار ہیں) قوم سے معافی مانگو گے تو اس نے بالکل سیدھے سیدھے معافی مانگ لی۔ او رائلی جیسا اڑیل بڈھا یہ کر سکتا ہے تو آپ تو پھر عاشق رسول ؐ ہونے کا دعویٰ رکھتے ہیں۔ اپنے پیچھے چلنے والوں کو گمراہ کرنے پر ان سے معافی مانگ لیں تو یہ ان کے ساتھ بھی بھلائی ہو گی اور اپنے ساتھ تو خیر ہو گی ہی۔ کیونکہ ایک انسان اپنی گمراہی کا بوجھ ہی اٹھا لے تو بڑی بات ہے، ہزاروں لاکھوں کی گمراہی کا بوجھ کوئی کیسے اٹھا سکے گا؟

پانچ سو سال پرانا میموگیٹ اسکینڈل

Posted in Social revolution by baigsaab on January 14, 2012

سنتے آئے ہیں کہ تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہے۔ شاید بہت سے لوگوں کے لیے تاریخ میں سوائے بوریت کے اور کچھ نہ ہو لیکن واقعہ یہ ہے کہ تاریخ کا مطالعہ نہ صرف آنے والے خطرات کی پیش بندی کا موقع فرہم کرتا ہے بلکہ وہ موجودہ حالات کو بھی ایک مختلف تناظر میں متعارف کرا سکتا ہے۔ آج کل ہمارے ملک کا سب سے بڑا مسئلہ مہنگائی یا بڑھتی ہوئی خودکشیاں نہیں بلکہ ایک ایسا معاملہ ہے جس میں ہمارے ملک کی اعلیٰ ترین مقتدر شخصیات کا ملک دشمن سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا اندیشہ ہے۔یہ معاملہ ہے میمو گیٹ اسکینڈل کا (نہ چاہتے ہوئے بھی یہ مانگے کی اصطلاح استعمال کرنی پڑ رہی ہے ورنہ صدر نکسن کا قصور اتنا بڑا نہ تھا کہ ایسی شرمناک حرکت اس سے منسوب کر دی جاتی) ۔ کہتے ہیں کہ ہمارے ملک کی اعلیٰ مقتدر ہستیوں نے امریکہ بہادر کے ایک جنرل کو لکھا (یا لکھوایا) کہ حضور آپ کی نظر کرم ہو تو ہم یہاں آپ کی من پسند انتظامیہ کھڑی کر دیں گے۔ اور جو کچھ آپ نے مانگا ہے وہ بلکہ جو آپ نہ بھی مانگیں وہ بھی آپ کی نذر کرتے ہیں بس ہمیں اپنی پسندیدگی کی سند دے دیں۔ یہ وہی مقتدر ہستیاں ہیں جو پہلے یہ کہہ چکی ہیں کہ “کولیٹرل ڈیمیج آپ امریکنوں کو پریشان کرتا ہے ہمیں نہیں” یا “آپ ڈرون برسائے جاؤ ہم منہ دوسری طرف کیے رہیں گے لیکن باہر باہر سے احتجاج بھی کریں گے”۔ مسلمانوں کی صفوں میں غداروں کا ہونا کوئی نئی بات نہیں۔ لیکن مسلمان حکمران اپنے کافر آقا ؤں سے باقاعدہ خط و کتابت کے ساتھ غداری کے عہد و پیمان باندھ لیں اس کی مثال ہماری ذلت کی تاریخ میں بھی بہت ہی کم ہے۔ آج ہم اس میمو کو رو رہے ہیں کہ کس نے لکھا اور کیوں لکھا کس نے اس کو طشت از بام کیا اور کیوں کیا، لیکن مسلمانوں کی تاریخ پچھلے ۵۰۰ سال سے چیخ چیخ کر کہہ رہی ہے کہ تب بھی کسی نے ایک میمو لکھا تھا۔ اور مماثلت بس یہیں ختم نہیں ہو جاتی۔

امیر ابو عبداللہ غرناطہ میں مسلمانوں کا آخری حکمران تھا۔ اندلس میں آٹھ سو سالہ مسلم تاریخ کا آخری باب۔ اپنے باپ مولائے ابوالحسن کی پیٹھ پیچھے اقتدار پر قبضہ کرنے کے بعد اپنے اقتدار کو عوامی حمایت دلانے کے لیے اس نے قسطیلہ (کاسٹائل) کی عیسائی افواج پر یکطرفہ چڑھائی کردی اور بری طرح شکست کھا کر جنگی قیدی بنایا گیا۔ قید سے چھوٹا تو اس شرط کے ساتھ کہ اس کو غرناطہ کا اقتدار واپس دلایا جائے گا تاکہ وہ غرناظہ کی بغیر کسی مزاحمت کے عیسائی حکومت میں شامل ہونے کو یقینی بنائے۔ ابو عبداللہ نے واپس آنے کے بعد اپنے اقتدار کے آخری دن تک ہر روز شاید اسی کوشش میں گزارا کہ وہ کس طرح زیادہ سے زیادہ مال اکٹھا کر لے اس سے پہلے کہ اقتدار چھوڑنا پڑے۔ اس کام میں اس کے معاون اس کے وزرا ء اور امراء بھی تھے اور پورے حکمران طبقہ میں مشکل ہی کوئی ہو جو اس بہتی گنگا میں ہاتھ نہ دھو پایا ہو۔ اس تقریباً سات سال کے عرصے میں لا تعداد دفعہ خط و کتابت ہوئی اور ان میں سے کئی کو محفوظ کر لیا گیا، ڈاکٹر حقی حق نے اپنی کتاب “ہوئے تم دوست جس کے” میں ان کا ذکر کیا ہے اور نسیم حجازی کے “شاہین” سے تو ہماری اکثریت واقف ہی ہے۔ ان “میمو جات” میں کبھی تو امیر ابو عبد اللہ نے لکھا کہ کسی شورش یا ہنگامہ کی صورت میں غرناطہ کی حفاظت کی جائے کیونکہ ہم اپنے دفاع کے لیے آپ کی طرف دیکھتے ہیں۔ تو کبھی جوابی خط میں فرڈینینڈ نے ابو عبد اللہ کو لکھا کہ تمہارے وزیر ہم سے زیادہ کا مطالبہ کر رہے ہیں کیا تمہارے علم میں نہیں؟ کبھی فرڈینینڈ نے ابو عبداللہ سے ایک خط میں “ڈو مور” کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم تمہارے وزراء سے بات کرتے ہوئے تمہارے مفادات کو ترجیح دیتے ہیں۔ لیکن تم پر ہماری عنایات اسی وقت تک ہیں جب تک تم عیسائی حکمرانوں کے مفادات کا خیال رکھو۔ اور سگ ذہنی کا پاتال وہ عبارت بھی موجود ہے جو مسلمان وزراء نے ایک مشترکہ خط میں لکھی کہ اے شان والے بادشاہ، ہم تمہارے حضور حاضر ہو کر تمہارے ہاتھ چومنا چاہتے ہیں اور تمہارے جسم کا ہر وہ حصہ چومنا چاہتے ہیں جس کی کہ اجازت دی جائے تاکہ ان غلاموں کی وارفتگی تم خود دیکھ لو!

لیکن صحیح معنوں میں اس دور کا “میمو” اگر کسی خط کو کہا جا سکتا ہے تو وہ وہ کتابت ہے جو عبداللہ اور اس کے وزیروں نے غرناطہ کو عیسائی حکمرانوں کے حوالے کرنے کے عوض اپنے لیے مراعات کی ضمانت حاصل کرنے کے لیے کی تھی۔ اس خط میں موجود چند شرائط یہ ہیں :

-سقوط غرناطہ کے وقت عبداللہ کو تین لاکھ ماراوید ( کرنسی) کی ادائیگی
-المیریا میں زرخیز زمین
-شاہی خواتین کو زیورات اور بناؤ سنگھار کی چیزیں فروخت کرنے کی اجازت
-عبداللہ اور اس کے امراء کے اموال محفوظ قرار دیا جانا
-الحمراء پر قبضہ کے وقت عبداللہ اور گورنر غرناطہ کو دس دس ہزار سکہ نقد دیے جانا
-جو کسان عبداللہ اور اس کے امراء کے لیے غلہ اگاتے ہیں ان کے تحفظ کی ضمانت

یہ خط ایک کافر بادشاہ کو ایک مسلمان بادشاہ کی طرف سے تھا۔ ایک ایسا مسلمان بادشاہ جس کے سامنے دو میں سے ایک راستہ تھا۔ یا تو عیسائی قوت کے آگے ڈٹ کر کھڑا ہو جائے اور اللہ کی نصرت پر بھروسہ رکھے۔یا اس قوت کے سامنے سے ہٹ جائے اور اپنی اور اپنے خاندان کی بہتری کا خیال کرے۔ بادشاہ نے دوسری راہ اختیار کی اور تاریخ گواہ ہے کہ وہ کوئی بہت زیادہ جیا بھی نہیں اور مرا بھی تو اس حال میں کہ اس کی لاش دریا کے کنارے پڑی تھی اور گھوڑے اسے روند رہے تھے۔ اس خط کے 6 سال بعد غرناطہ پر اسلام کا پرچم غروب ہو گیا۔ اور اس دن سے لے کر آج کا دن ہے، اندلس میں اسلام کبھی واپس نہیں آیا۔ عبداللہ پر شاید اس کی اوقات سے بڑی ذمہ داری آگئی تھی اور اس نے اس ذمہ داری سے ہر ممکن پہلو تہی کرتے ہوئے اپنے تحفظ کو مقدم رکھا۔ اس نے اپنی عوام کو یقیناً یہ باور کرایا ہو گا کہ اس معاہدے میں ہی ہماری بقاء ہے ورنہ ہمارا “تورا بورا” بنا دیا جائے گا۔ یا فرڈینینڈ ہمیں “پتھر کے دور” میں پھینک دے گا۔ اور سقوط کے معاہدے میں بظاہر مسلمانوں کے حقوق کا تحفظ کیا گیا تھا مثلاً انہیں زبردستی عیسائی نہ بنائے جانے کی یقین دہانی اور ان کے جان و مال کا تحفظ لیکن عملاً ایک بار جب عیسائی قابض ہو گئے تو مسلمانوں کے لیے معاہدے کی کسی ایک شق پر بھی عمل کرانا ناممکن تھا۔ مسلمانوں کو زبردستی عیسائی بھی بنایا گیا اور ان کے جان و مال زبردستی چھینے بھی گئے۔ لیکن یہ شاید ان کی غفلت کی قیمت تھی کہ انہوں نے اپنے اس بادشاہ پر بھروسہ کیا تھا جس نے ان کو اقتدار میں آنے سے پہلے ہی بیچ دیا تھا۔

۱۴۹۲ کے اندلس اور آج کے پاکستان میں صرف یہی مماثلت نہیں ہے کہ ان کا بادشاہ بھی جیل سے نکال کر بادشاہ بنایا گیا تھا۔ یا اس کے بادشاہ بنائے جانے میں بھی کسی پاور ڈیل کا دخل تھا۔ یا یہ کہ اس کے وزیر کا نام بھی یوسف تھا۔ یا یہ کہ اس نے بھی اپنی خودغرضی کو وسیع تر قومی مفاد کا نام دیا تھا۔ یا یہ کہ تب بھی ایک میمو لکھا گیا تھا اور آج بھی۔ بلکہ ہمار ے لیے سب سے بڑی مماثلت یہ ہے کہ اس وقت کے عوام بھی اپنے کام دھندوں میں لگے رہے۔ معاملات کی جو تصویر ان کو حکام نے دکھائی وہ دیکھی اور خبردار کرنے والوں کی بات پر کان بھی نہ دھرے۔ حکام شریعت سے روگردانی کرتے رہے ، مملکت کے دفاع کے سودے کرتے رہے اور عوام اپنے کام دھندوں اور کھیل تماشوں میں لگے رہے۔ اس وقت بھی،آنے والے حالات کی سنگینی سے آگاہ کرنے والوں کو “میسینجرز آف ڈوم” یا “تباہی کے قاصد” کہا گیا ہو گا۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہاں غرناطہ میں اسلا م کا پرچم سرنگوں ہوا اور وہاں مسلمانوں کی کم بختی شروع۔ یہ منظر بھی تاریخ کے اوراق میں موجود ہے کہ ایک طویل قطار میں لوگ اپنی باری کا انتظار کر رہے ہیں اور زار و قطار رو رہے ہیں کہ یہ لائن داڑھی کٹانے کے لیے ہے۔ اور یہ بھی کہ مسلمان پردہ دار بیبیوں کو بپتسمہ دیا جا رہا ہے۔ اور یہ بھی کہ مسجدوں میں عیسائی فوجیوں کے گھوڑے بندھے ہیں ۔ اور “انکوئیزشن” کا نام تو غیر مسلم مؤرخین کے سامنے بھی لیں تو وہ بھی کانپ جاتے ہیں۔

پھر لکھتا ہوں، تاریخ پڑھنے سے مستقبل کانقشہ واضح ہوتا ہے۔ یہ سطریں صرف تفنن طبع کے لیے تحریر نہیں کی گئیں بلکہ اس خطرے سے آگاہ کرنے کے لیے ہیں جو ہمارے سروں پر منڈلا رہا ہے۔ اندلس کی تاریخ کے مطالعہ کے وقت ہمیشہ یہی سوچ ذہن میں رہتی تھی کہ کیا اس دور کی عوام اندھی تھی کہ اس کے سامنے اتنا بڑا کھیل ہو گیا اور اسے خبر بھی نہ ہوئی۔ لیکن آج ہمارے ساتھ بھی کچھ ایسے ہی کھیل کھیلے جا رہے ہیں۔ آج ہمارے لیے بجلی، گیس اور دوسری چیزوں کی قلت پیدا کر کے دھیان ان چیزوں میں لگا دیا گیا ہے جیسے یہ دنیا کی سب سے ضروری چیزیں ہوں۔ دوسری طرف ایک سیاسی تماشہ ہے جو کبھی نئےصوبوں کے نام پر اور کبھی انتخابی ہنگامے کے نام پر رچایا جاتا ہے۔ اس سب کے بیچ نیٹو کے سامنے خم ٹھونک کر کھڑے ہونے کی ادا بھی دکھائی گئی ہے جس سے انہیں ہم پر حملہ کرنے کا جواز ملتا نظر آرہا ہے۔ لیکن شاید ان سب سے بھیانک بات یہ ہے کہ گزشتہ کئی سالوں سے دھیرے دھیرے ہمیں اس بات کا عادی بنایا جا رہا ہے کہ ہم کفر کے نیچے رہنے کے لیے راضی ہو جائیں۔ ہمارے ملک میں ہر سال کئی لوگ اصلی اور جعلی طریقے سے بیرون ملک جا رہے ہیں اور وہاں مستقل رہائش اختیا رکر رہے ہیں اور جب وہ لوگ وہاں موجود سہولیات کا ذکر کرتے ہیں تو ہمارے یہاں موجود لوگوں کے دلوں میں بھی ارمان پیدا ہوتا ہے کہ کاش ہمارے یہاں بھی ایسا ہوتا۔ لوگوں کی ایک کثیر تعداد کی نظر میں کامیابی کی معراج امیگریشن ہے۔ اس صورتحال میں ہماری اکثریت کا کسی کافرانہ نظام کو قبول کر لینا بعید از قیاس نہیں۔ لیکن یاد رکھیے، ان طاقتوں کے اصول اپنے لیے کچھ اور ہیں اور ہمارے لیے کچھ اور۔ یہ تجربہ آج سے ۵۰۰ سال پہلے اندلس کے اور پھر افریقہ کے مسلمانوں کو، اس کے بعد ریڈ انڈینز کو اور ماضی قریب میں عراق اور افغانستان کے مسلمانوں کو ہو چکا ہے۔

اس سال ۲ جنوری کو غرناطہ میں اسلام کا پرچم سرنگوں ہوئے ۵۲۰ سال ہو گئے۔ کفر کی چالبازیاں اور مسلم حکمرانوں کی غداریاں اب بھی اس ملت کو لاحق ہیں۔ لیکن ہم سے ہمارے عمل کا ہی سوال کیا جائے گا ان کےنہیں۔ بحیثیت قوم ، ایک با کردار قیادت کی ضرورت جتنی آج ہے اتنی شاید پہلے کبھی بھی نہیں تھی۔ تاریخ کے اوراق ہمیں با آواز بلند متنبہ کر رہے ہیں کہ امت مسلمہ نے جب بھی اپنی قیادت کے لیے شریعت کے علاوہ کوئی اور معیار اختیار کیا تو اسےمنہ کی کھانی پڑی۔ وقت کا تقاضہ ہے کہ ہم قیادت کے بارے میں اپنے نظریات کو تبدیل کریں اور با عمل علماء کو اس بات پر مجبور کریں کہ وہ حالات کی باگ ڈور سیاسی مولویوں کے حوالے کرنے کی بجائے اپنے ہاتھ میں لیں۔ بصورت دیگر حالات اگر اسی طرف چلتے رہے تو وہ دن دور نہیں لگ رہا جب، خاکم بدہن، اسلامی جمہوریہ پاکستان نہ اسلامی رہے نہ پاک بلکہ ایک جمہوری استھان بن کر رہ جائے۔ تب شاید ہمیں ابو عبداللہ کی ما ں کی وہ بات سمجھ میں آئے جو اس نے اپنے بیٹے کو روتے دیکھ کر کہی تھی کہ “جس زمین کی حفاظت تو مردوں کی طرح نہ کر سکا اب اس کے لیے عورتوں کی طرح آنسو کیوں بہاتا ہے”۔

شاید ۵۰۰ سال بعد تاریخ نے ایک ماں کا یہ سوال ہمارے سامنے دوبارہ لا کھڑا کیا ہے، کیا آپ کا جواب تیار ہے؟

طوفان سے پہلے

Posted in Social revolution by baigsaab on January 11, 2012

معاملہ بہت ہی چھوٹی سی بات سے شروع ہوا تھا۔ اتنی چھوٹی کہ جو کچھ اس کے بعد ہوا یہ یقین کرنا مشکل ہے کہ اس سب کا باعث یہ چھوٹی سی بات ہی تھی۔

یہ نومبر کی ایک شام کی بات ہے۔ اسی نومبر کی۔ شیردل اپنے گھر والوں کو بس میں سوار کرا رہا تھا جو کہ خانپور اپنے گاؤں جا رہے تھے۔ جس جگہ سے یہ بسیں چلتی ہیں وہ کیونکہ عین بازار میں واقع ہےاس لیے بسوں کی روانگی اور آمد کے وقت اچھا خاصا رش ہو جاتا ہے اور کبھی کبھار تھوڑی بہت دھکم پیل بھی ہو جاتی ہے۔ اس وقت بھی یہی کچھ ہو رہا تھا۔ بس کچھ نیمے دروں نیمے بروں انداز میں سڑک پر آرہی تھی۔ جانے والوں کو الوداع کہنے والے جلدی جلدی ان سے آخری باتیں کر رہے تھے اوران کے آس پاس سے راہگیر اور موٹر سائیکل والے بچتے بچاتے نکل رہے تھے۔ شیر دل کا ایک رشتہ دار تنویر رینگتی ہوئی بس کے پائیدان پر چڑھ رہا تھا کہ اس کی ٹانگ ایک موٹر سائیکل سوار کو لگ گئی۔ یہ ایک سولہ سترہ سالہ لڑکا تھا جو دودھ سپلائی پر نکلا ہوا تھا۔ لڑکے نے کچھ نازیبا کلمات کہے تو جواب میں ادھر سے بھی کچھ تلخی کا مظاہرہ ہوا۔ بات کچھ گرم ہو گئی تو یہ حضرت اپنی سواری سے نیچے اترے اور انہوں نے باقاعدہ ہاتھا پائی کی کوشش کی تو اس کو کچھ لوگوں نے پیچھے سے پکڑ لیا۔اس نے اپنے آپ کو ان سے چھڑایا اور سڑک کی دوسری طرف یہ کہتے ہوئے بھاگ گیا کہ “تم نے غلط آدمی کو چھیڑ دیا ہے”۔ ان لوگوں کو پتہ تھا کہ یہ جن لوگوں کا لڑکا ہے وہ علاقے میں کافی لوگوں سے لڑائی جھگڑا کر چکے ہیں لیکن شیر دل کا بہنوئی ان کا بچپن کا دوست تھا اور وہ وہیں موجود تھا، کوئی خاص مسئلے کی بات لگ نہیں رہی تھی۔ ابھی تھوڑی دیر ہی گزری تھی کہ سڑک کی دوسری طرف سے ایک مجمع بھاگتا ہوا ان کی طرف آیا اور اس سے پہلے کہ کوئی بات ہوتی تنویر کے اوپر حملہ کر دیا۔ صورت حال کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے شیردل کا بہنوئی آگے بڑھا اور اس کی مدد کرنے کی کوشش کی، اپنے ان دوستوں سے چھڑانے کے لیے جن کے ساتھ وہ بچپن سے کھیلا تھا۔ لیکن اس کو بھی دھکے دے دئیے گئے۔ اتنا ہنگامہ ہورہا تھا کہ آس پاس میں تماشہ دیکھنے والا مجمع بھی دور ہو گیا اور شیردل اور اس کے دونوں ساتھی ان بیس بائیس لوگوں میں گھر گئے۔ شیر دل کے ہاتھ میں اس کی ۲ سالہ بچی تھی جس کے ساتھ میں وہ اپنے آپ کو بےبس محسوس کر رہا تھا اور وہاں تنویر لہولہان ہو رہا تھا۔ اس نے بڑی مشکل سے اپنی بچی کو کسی جاننے والے کے حوالے کیا اور تنویر کو چھڑانے کے لیے آگے بڑھا تو وہاں سے کسی نے ہتھوڑا چلانا شروع کر دیا۔ یہ دیکھے بغیر کہ یہ ہتھوڑاکسی کے منہ پر لگ رہا ہے، سر پر یا کہاں۔ جب انہوں نے اچھی طرح مار پیٹ کر لی تو وہاں سے چلے گئے۔ ان کے جانے کے بعد ان لوگوں نے اپنے حال کو دیکھا توتنویر کے سر پر گہرے زخم آئے تھے، شیردل کا بہنوئی بھی لہولہان تھا۔ اور خود شیردل کے سر سے بھی خون بہہ رہا تھا۔ ایک چھوٹی سی بات سے اتنا بڑا نقصان ہو گیا۔

********

حسن صاحب نے فون اٹھایا، دوسری طرف شیر دل تھا۔ اپنے بہنوئی اور تنویر کو وہ قریب ہی واقع ان کے گھر چھوڑ کر وہ اپنے گھرآگیا تھا۔ اس نے پوری بات حسن صاحب کو بتائی اور کہا، “سر میں ابھی گھر سے نکل کر واپس وہیں جا رہا ہوں ۔ میں نے وہاں اور لوگ بھی جمع کر لیے ہیں اب میں ان دودھ والوں کو نہیں چھوڑوں گا۔ ایک ایک کو دیکھ لوں گا۔ ” شیر دل حسن صاحب کا شاگرد رہ چکا تھا اور اب ان کے ساتھ ہی ہوتا تھا۔ کوئی بھی قدم اٹھانے سے پہلے وہ حسن صاحب سے مشورہ ضرور کرتا تھا ۔انہوں نے اس کو وہیں ٹھہرنے کو کہا اور خود اس کے گھر کی طرف نکل کھڑے ہوئے۔

********

حسن صاحب شیردل کے گھر پہنچے تو وہ زخمی شیر کی طرح ادھر سے ادھر گھوم رہا تھا۔ صاف لگ رہا تھا کہ اس کو صرف حسن صاحب کی بات نے روکا ہوا ہےورنہ وہ تو اب تک نکل چکا ہوتا۔ اس نے ابھی تک اپنے کپڑے بھی تبدیل نہیں کیے تھے اور اس کے سر کا زخم بھی توجہ مانگ رہا تھا گو زخم گہرا نہیں تھا۔ حسن صاحب کو پتہ تھا کہ معاملہ کو طول دینے کا مطلب سوائے مزید خونریزی کے اور کچھ نہیں لیکن شیر دل غصہ سے بے قابو ہو رہا تھا۔ انہوں نے اس کے جذبات کو دیکھتے ہوئے اس کے ساتھ جانے کا فیصلہ کیا کیونکہ اس وقت اس کو اکیلا چھوڑنا اور خطرناک ہو سکتا تھا ۔ وہ جانتے تھے کہ شیر دل اس وقت صرف انہی کے قابو میں آسکتا ہے۔

********

معاملہ کیونکہ ابھی گرم تھا اس لیے علاقہ میں چہل پہل معمول سے بہت زیادہ تھی۔ حسن صاحب نے شیردل کے کافی دوستوں کو وہاں پایا جو کہ سب اسی معاملہ کو نمٹانے کے لیے جمع ہوئے تھے۔ ان کے عزائم کیا تھے یہ جاننے کے لیے کسی قسم کے اندازے کی ضرورت نہیں تھی کیونکہ وہ مکمل “تیاری “کے ساتھ بیٹھے تھے۔ وہاں پہنچ کر انہیں پتا چلا کہ وہ لڑکے جنہوں نے وہ مار پیٹ کی تھی اب بھاگ چکے ہیں اور دکان پر ان کا باپ بیٹھا تھا۔ حسن صاحب نے شیر دل کی توجہ اس بات کی طرف دلائی اور کہا۔ “دیکھو وہ لڑکے اب یہاں نہیں ہیں، جو بھی تم کر سکو گے ان کے باپ کے ساتھ ہی کرو گے تو کیا ہمیں یہ زیب دیتا ہے کہ ہم ایک شخص کا بدلہ کسی اور سے لیں؟ کیا تم پسند کرو گے کہ تمہارا بدلہ تمہارے ابو سے لیا جائے؟” شیردل بھڑک اٹھا۔ “تو کیا کریں سر؟ بس چوہے بن کر مار کھاتے رہیں؟ میری غیرت یہ برداشت نہیں کر سکتی کہ اس ظلم پر چپ ہو کر بیٹھا جائے۔ ظلم سہنا بھی ظالم کا ساتھ دینا ہی ہے نا؟” حسن صاحب اس کی بات سن رہے تھے اور شیردل اپنا غبار نکالتا جا رہا تھا۔ ” یہ اگر شرمندہ ہوتے تو میں سو دفعہ انہیں معاف کردیتا لیکن یہ شرمندہ نہیں ہوتے ان کا آئے دن کا یہی کام ہے، جب دل چاہتا ہے ڈنڈوں اور ہتھوڑوں سے لوگوں کو مارتے ہیں اور لوگ مار سہتے ہیں۔ نہیں سر مجھے ایسی بے غیرتی گوارا نہیں!”

“تو ہم ان کے خلاف ایف آئی آر درج کرا تے ہیں نا۔ جب ایسے لوگوں سے نمٹنے کے لیے قانون موجود ہے تو ہمیں اپنے ہاتھ خراب کرنے کی کیا ضرورت ہے؟” حسن صاحب نے کہا۔ “میرے تعلقات ہیں نا اوپر تک، ہم دیکھتے ہیں کیسے نہیں ہوتا کچھ؟”

شیردل نے نظریں اٹھا کر حسن صاحب کی طرف دیکھا اور کہا” کون سا قانون کہاں کا قانون سر؟ یہ سب لڑکے یہاں کی سب سے مضبوط پارٹی میں ہیں۔ تھانیدار ان کا “گرائیں” ہے یہاں کوئی نہیں سنے گا ہماری۔۔۔ ” شیردل کے لہجے کی تلخی اس کی مسکراہٹ میں زہر گھول گئی۔

“یار تم میری بات تو مان لو میں ہوں نا میں دیکھ لوں ان سب کو۔” حسن صاحب نے اس کو بالآخر قائل کر لیا۔

********

ڈیوٹی ڈاکٹر نے شیر دل کے زخموں کو دیکھا اور حسن صاحب سے کہا۔ “دیکھو بھئی مسئلہ یہ ہے کہ نہ تو اس کی ہڈی ٹوٹی ہے نہ ہی چھ انچ گہرا زخم لگا ہے۔ تو اس میں میں کیا رپورٹ لکھوں؟” وہ دونوں سرکاری ہسپتال میں بیٹھے تھے جہاں جانے کا مشورہ ان کوتھانے کے محرر نے دیا تھا ۔ حسن صاحب کی سرکاری ملازمت اور ڈی ایس پی سے شناسائی سے یہی ہو سکا کہ محرر نے درشت لہجے میں ہی سہی، ان سے بات کرلی اور ان کو کسی سرکاری ہسپتال سے سرٹیفیکیٹ لانے کو کہا۔ یہ دونوں اب یہاں بیٹھے تھے اور ڈاکٹر شیر دل کے زخموں کو دیکھنے کے ساتھ ساتھ ان کو مفت قانونی داؤ پیچ بتا رہا تھا ۔ “میرے بھائی یہ چھ سات ٹانکے تو آپ کو سیڑھیوں سے گر کر بھی آسکتے ہیں تو کیا آپ سیڑھیوں پر کیس کرو گے؟ اتنی چوٹ پر کچھ بھی نہیں ہوتا، کوئی بڑی چوٹ ہو تو کچھ ہو سکتا ہے۔ آپ بولو تو میں ایسی رپورٹ بنا سکتا ہوں ” ڈاکٹر نے خالص کاروباری دیانت کے ساتھ ان کے ممکنہ راستے ان کے سامنے رکھ دئیے۔ وہ دونوں وہاں سے نکل کر واپس تھانے آگئے۔

تھانے میں ان کے آنے کے بعد دودھ والوں کا ایک نمائندہ بھی آگیا تھا جو کہ محرر کے ساتھ ہی بیٹھ گیا تھا۔ حسن صاحب کو اب تک سمجھ آگیا تھا کہ محرر نے جو ان کو ہسپتال بھیجا تھا تو اس کا مقصد معاملہ کو سنبھالنا تھا نہ کہ کارروائی کو آگے بڑھانا۔اب اس نے ڈاکٹر کی کہی ہوئی بات دہرا دی تو حسن صاحب نے تلخی سے کہا۔ “گویا اگر میں ان میں سے کسی کو ماروں اور نہ ہڈی توڑوں اور نہ چھ انچ گہرا زخم آنے دوں تو آپ میرے خلاف بھی کچھ نہیں کر سکتے” اس پر سامنے بیٹھے اس شخص نے تڑپ کر کاٹ دار لہجے میں کہا “ایسا سوچنا بھی نہیں سمجھے”۔ “اور یہ کیا بیس آدمی بیس آدمی کی رٹ لگائی ہوئی ہے۔ بیس آدمی مل کر مارتے تو تم یہاں بیٹھے ہوتے؟ دو تین لوگ تھے وہ بس!!” اب اس بات میں شک کی گنجائش نہیں تھی کہ یہاں سے صرف ایک ہی فریق کو انصاف مل سکتا ہے۔ حسن صاحب اور شیردل اس جگہ سے واپس آگئے۔

********

اس واقعہ کے تین دن بعد شیر دل حسن صاحب کے ساتھ بیٹھا تھا۔ ان کے کچھ اور ساتھی بھی وہیں تھے جن کے ساتھ وہ مشورہ کیا کرتے تھے۔ شیر دل اپنے دل کی بھڑاس نکال رہا تھا۔ “سر آپ نے دیکھ لیا کہ ان کی پہنچ کہاں کہاں ہے؟ نہ ان کو قانون کا کوئی ڈر ہے نہ کسی اور کا۔ علاقے میں موجود ہر سیاسی پارٹی کے ساتھ وہ بیٹھتےہیں ۔ یہ ان کو چندہ دیتے ہیں اور وہ ان کو پروٹیکشن دیتے ہیں۔ ہر شخص ان سے دب کر رہتا ہے ۔ ان سے نمٹنے کا صرف ایک طریقہ ہے کہ جہاں ان میں سے کوئی ملے اس کو وہیں گرا دو” ۔

حسن صاحب جو اب تک خاموش بیٹھے ہوئے تھے، وہاں موجود سب لوگوں سے مخاطب ہوئے۔ “آپ سب مجھے بہت عرصے سے جانتے ہیں، زندگی کے گرم و سرد ہم نے مل کے دیکھے ہیں۔ ہم میں سے ہر ایک کے پاس باہر نکل جانے کے کئی موقع آئے لیکن میں نے ہمیشہ یہی کہا ہے کہ جب تک مجھے لگتا رہے گا کہ اس معاشرہ میں سدھار کی گنجائش موجود ہے میں کہیں نہیں جاؤں گا۔ لوگ ہمیں بے وقوف کہتے رہے ہیں لیکن قرآن اور حدیث کے مطالعہ سے یہی سامنے آتا ہے کہ گھر بار اگر چھوڑنا ہی ہے تو دین کے لیے نہ کہ دنیا کے لیے۔”

“لیکن اب اس موقع پر میں یہ سوچنے پر مجبور ہو گیا ہوں کہ کیا واقعی ہمیں دین پر عمل کی اجازت ہے؟ قانون ہمیں اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ ہم سڑکوں پر خون کے فیصلے کرتے پھریں لیکن آنکھ کے بدلے آنکھ بھی تو دین نے ہی بتایا ہے۔ ان کو سبق نہ سکھایا گیا تو ایسے اور معاملے ہونگے۔ رپورٹ تک نہیں لکھا سکتے کہ اس کے لیے بھی رشوت دینی ہی پڑے گی۔ یہ لوگ تو کوئی راستہ ہی نہیں چھوڑ رہے سوائے اس کے واقعی وہی کیا جائے کہ جو شیر دل کہہ رہا ہے۔ تو پھر کیا کیا جائے؟ بندوق اٹھا کر ان سب کو مار دیا پھر کیا کریں؟ کیا معاشرہ سے ظلم ختم ہو گیا؟ کیا ایسے سب لوگ ختم ہو گئے؟ معاشرہ میں تو ایسے لوگ لاکھوں نہیں تو ہزاروں کی تعداد میں تو ضرور ہیں تو کیا ہزاروں کو قتل کریں ہم؟ “

ایک ساتھی یوں گویا ہوئے”اگر ہم ان کے دس ماریں گے تو کل کو ہمارا بھی ایک جائے گا۔ ہم سب کو پتا ہے کہ ان معاملات کی شروعات یہی ہوتی ہے اور ان کی انتہا کیا ہوتی ہے۔”

وہاں موجود ایک صاحب نے کہا “یار دیکھا جائے تو یہ ظلم اور زیادتی تو ایام جاہلیت میں بھی تھی۔ لوگ اس وقت بھی بے گناہ قتل ہوتے تھے اور بیٹیاں زندہ دفنائی جاتی تھیں۔ لیکن سنت نبویؐ سے جو ہمیں سبق ملتا ہے وہ یہی ہے کہ بدلنا ہے تو نظام کو بدلو چاہے کچھ بھی ہو جائے”

“یار وہ بھی توہے نا۔ بکریاں لے کر پہاڑ پر چلے جاؤ۔ کمانیں کاٹ دو۔ یہ بھی تو حکم ہے نا بھائی؟ ” ایک اور صاحب نے کہا۔

“خیر دیکھیں اب آگے کیا ہوتا ہے اس معاملہ میں، فی الحال تو شیردل کا معاملہ دیکھنا ہے۔” حسن صاحب نے بات کو سمیٹتے ہوئے کہا۔

********

جس جگہ یہ سارا واقعہ ہوا تھا اس سے ذرا ہی آگے اسی آبادی میں ایک چائے کے ڈھابے پر پنچائت بیٹھی تھی۔ شیر دل کے ماموں کی کوششوں سے یہ پنچائت بلائی گئی تھی کہ معاملہ کو رفع دفع کر دیا جائے۔ انہوں نے بڑی مشکل سے اپنے لڑکوں کو روکا تھا لیکن ان کو پتہ تھا چنگاری ابھی بھی سلگ رہی ہے،ذرا سی ہوا سے آگ بھڑک سکتی تھی اس لیے وہ چاہتے تھے کہ معاملہ جلد از جلد صلح تک پہنچ جائے۔

سرپنچ نے سب سے پہلے تو اس لڑکے کو بلایا اور اس سے سختی سے پوچھا کہ معاملہ ہوا کیا تھا۔ اس نے کچھ بتایا کچھ چھپایا تو وہاں موجود دوسرے لوگوں نے اس کو ٹوک دیا۔ دونوں طرف کے دعوؤں میں تضاد اتنا واضح تھا کہ صاف لگ رہا تھا کہ کوئی ایک پارٹی غلط بیانی سے کام لے رہی ہے۔ دونوں کا کہنا تھا کہ شروعات دوسری طرف سے ہوئی تھی دونوں کہہ رہے تھے زیادتی دوسری طرف سے ہوئی ہے۔ البتہ سختی سے پوچھنے پر لڑکے نے بتایا کہ ہتھوڑے وہی چلا رہا تھا اور اس کا بھائی۔ ان کا باپ وہیں بیٹھا تھا اور اپنے بیٹوں کا دفاع کر رہا تھا۔ بالآخر سر پنچ صاحب نے شیر دل سے کہا ” دیکھ بھئی، یہ تو مان رہا ہے کہ اس نے ایسا کیا لیکن ایسا کوئی بلاوجہ تو نہیں کرے گا، کچھ نہ کچھ تو ہوا ہو گا نا تمہاری طرف سے!!!”

ان کا یہ جملہ سن کر یہی خیال آیا کہ اگر اس اصول کو صحیح مان لیا جائے تو اس کے نتائج کیا ہوں گے؟ ہابیل نے کچھ تو ایسا کیا ہوگا کہ قابیل نے اس کو قتل کر دیا؟ یہود اپنے انبیاء کو قتل کرتے رہے کوئی تو وجہ ہوگی نعوذباللہ۔ مطلب ان کے اصول کے مطابق اس دنیا میں جس پر کوئی زیادتی ہوئی ہے اس میں کوئی نہ کوئی قصور اس کا اپنا بھی ہو گا۔ سرپنچ کے اس تاریخی فیصلے کے ساتھ ہی اذان ہو گئی اور یوں صلح کا اعلان کر دیا گیا۔ دونوں طرف سے ہاتھ ملا لیے گئے اور معافی تلافی ہو گئی۔

********

زبردستی کی اس صلح سے یہ معاملہ تو نمٹ گیا۔ اب شاید یہ لوگ ایک دوسرے کو دیکھ کر منہ دوسری طرف کر کے چلے جائیں۔ شاید شیردل کا بہنوئی ایک دو سال بعد اپنے بچپن کے دوستوں کے ساتھ دوبارہ بیٹھنے لگے۔ شاید تنویر کے سر کے ٹانکوں کے نشان وقت کے ساتھ مندمل ہو جائیں۔ لیکن کیا ایسے واقعات ہونا بند ہو گئے؟ کیا اس بات کی ضمانت مل گئی کہ کل کو کسی اور تنویر کا سر نہیں پھٹے گا؟ وثوق سے کہا جا سکتا ہے کہ اس بات کی کوئی ضمانت نہیں۔ یہ نظام صرف ظلم کی ترویج کر رہا ہے۔ اور مظلوموں کے پاس کوئی ایک بھی ذریعہ نہیں ہے کہ وہ انصاف حاصل کر سکیں۔ نہ ہی ان کو کوئی بچاؤ کا راستہ نظر آتا ہے. ہر کسی کے پاس یہ موقع نہیں ہوتا کہ اگر اس کو کسی جگہ ظلم کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے تو وہ کسی دوسری جگہ ہجرت کر جائے ۔ اسی لیے لاوا اندر ہی اندر پک رہا ہے۔ یہ دیکھنے کے لیے کسی خورد بین کی ضرورت ہے نہ دوربین کی، بس تعصب کی عینک اتارنے کی ضرورت ہے۔ سڑکوں پر ہوتے فیصلے ضروری نہیں ہمیشہ صلح پر منتج ہوں۔ عوام کبھی کبھی اپنی عدالتیں بھی لگا لیتے ہیں اور اس چکی میں گھن کے ساتھ گیہوں بھی پستا ہے۔ عوام کی وحشیانہ عدالتیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ جب لاوا بہت پک جاتا ہے تو وہ پہاڑ کا سر پھاڑ کر باہر آجاتا ہے۔ اگر پریشر ککر میں بھاپ نکلنے کی جگہ نہ ہو تو ہر گھر میں روز دھماکے ہوں۔ یہی اصول سماج کا ہے۔ ظالم معاشرہ مظلوم کےلیے ہر راستہ بند کر کے سمجھتا ہے اس کی بچت ہوگئی جب کہ حقیقتاً وہ اپنے تابوت میں کیل ٹھونک رہا ہوتا ہے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ قانون کو ہاتھ میں لے لیا جائے لیکن اس نظام کی تطیہر اب لازم ہو گئی ہے۔جب تک اس ہتھوڑے برسانے والے کے سر پر بھی ویسے ہی ہتھوڑے نہیں پڑیں گے تب تک وہ بھی باز نہیں آئے گا بلکہ اور نڈر ہو جائے گا۔ جب تک ظلم کرنے والے کو اس بات کا ڈر نہیں ہوگا کہ آنکھ کے بدلے آنکھ اور دانت کے بدلے دانت جا سکتا ہے تب تک ظالم کا ہاتھ نہیں رکے گا۔ یہی قانون قصاص ہے جو ہمیں ہمارے عادل کریم رب نے دیا ہے۔ ” اور اے عقل رکھنے والو تمہارے لیے قصاص میں زندگی (کا سامان) ہے”

وَلَكُمْ فِي الْقِصَاصِ حَيَاةٌ يَا أُولِي الْأَلْبَابِ

Has the moment not yet come!

Posted in Social revolution by baigsaab on January 1, 2011

Has the Moment Not yet come

For those who ponder

Posted in Islam, Social revolution by baigsaab on April 21, 2010

The modern age is the age of professionalism. This is the age when being workaholic is not a disorder but a demand. People now cannot tend to their most basic needs because they haven’t the time to do so. Being ahead from their peers in the rat race remains the ultimate desire of every individual. So much so that to be ahead in life they forsake their basic rights, right to be happy, right to be content, right to be with the family, right to be religious etc. Today’s civilization seems like a giant web which has tied us in invisible strings where we’re supposed to do only three things: Go to work, go home, and prepare to go to work. Even our recreations are a way of supplementing this schedule.

But there are times, when destiny laughs in our face and makes us feel so helpless that we’re left wondering if we had any power all along. It’s at such times that our monotony comes to an abrupt halt. One such instance is when we’re witnessing the funeral of a loved one. At such a time, none of our “most important and most urgent” errands are so much as important as the grief of losing our loved ones. Work can wait then, because we’ve humbly submitted to our destiny.

The same hand of destiny is currently holding an entire continent- who is the flag bearer of atheism in the world- in a state of paralysis. Europe’s air travel has come down to an absolute halt due to hot toxic ash oozing from a glacier.

(Boston Big Picture)

I couldn’t help but laugh at the remark from an acquaintance that “isn’t it ironic hot lava is coming from Iceland!” The volcano, Eyjafjallajökull (Pronounced something like Aiya-fjadla-yeugdul), is a veteran of centuries and since the time of its reawakening last week, has spewed enough fumes and toxic ash into the atmosphere to have spread over almost all Europe.
(BBC News)
That’s why all flights coming in and out of Europe have been seized, leaving hundreds of thousands of commuters stranded at airports, airlines incurring daily losses of over 200 Million USD for accommodating customers, even Germany’s Chancellor has had to make her trip back home from Italy via car. Those who could afford are opting for the Intra-Continent train system, and some have opted for the fairy, converting one industry’s misery into another’s pleasure. The majority of people are those who are left stranded. People who were supposed to be on urgent assignments abroad have had to realign their schedule, they couldn’t have done otherwise. No matter how badly the airlines and the passengers want these flights to take off, conditions are absolutely not favorable for flight and there is high risk of plain crashes with ash blocking the engines. Worse, the glacier is still exhuming its contents and there’s a fair chance it could continue to do so for a month or even more. Worst, it could trigger other volcanoes which are somehow quite abundant in Iceland.

Our businesses run on the premise of predictability. We hope that the world wouldn’t come to end tomorrow. That’s why we leave our loved ones behind everyday to work because we believe that we’ll come back in the evening to see them again. This predictability comes from the laws that ALLAH (swt) has embedded in the universe: law of gravitation, law of entropy, law of aerodynamics, law of surface tension, law of aging etc. ALLAH (swt) declares this tranquility in the Quran as one of His Ayaat.
In Surah Faatir it is mentioned:

إِنَّ اللَّهَ يُمْسِكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ أَن تَزُولَا ۚ وَلَئِن زَالَتَا إِنْ أَمْسَكَهُمَا مِنْ أَحَدٍ مِّن بَعْدِهِ ۚ إِنَّهُ كَانَ حَلِيمًا غَفُورًا

خدا ہی آسمانوں اور زمین کو تھامے رکھتا ہے کہ ٹل نہ جائیں۔ اگر وہ ٹل جائیں تو خدا کے سوا کوئی ایسا نہیں جو ان کو تھام سکے۔ بےشک وہ بردبار (اور) بخشنے والا ہے

Lo! Allah graspeth the heavens and the earth that they deviate not, and if they were to deviate there is not one that could grasp them after Him. Lo! He is ever Clement, Forgiving. (41)

On another place it is mentioned in Surah Shoora:

إِن يَشَأ يُسكِنِ الرّيحَ فَيَظلَلنَ رَواكِدَ عَلىٰ ظَهرِهِ ۚ إِنَّ فى ذٰلِكَ لَءايٰتٍ لِكُلِّ صَبّارٍ شَكورٍ

اگر خدا چاہے تو ہوا کو ٹھیرا دے اور جہاز اس کی سطح پر کھڑے رہ جائیں۔ تمام صبر اور شکر کرنے والوں کے لئے ان (باتوں) میں قدرت خدا کے نمونے ہیں

If He will He calmeth the wind so that they keep still upon its surface – Lo! herein verily are signs for every steadfast grateful (heart). – (33)

In Surah Room it is mentioned:

وَمِن ءايٰتِهِ أَن يُرسِلَ الرِّياحَ مُبَشِّرٰتٍ وَلِيُذيقَكُم مِن رَحمَتِهِ وَلِتَجرِىَ الفُلكُ بِأَمرِهِ وَلِتَبتَغوا مِن فَضلِهِ وَلَعَلَّكُم تَشكُرونَ

اور اُسی کی نشانیوں میں سے ہے کہ ہواؤں کو بھیجتا ہے کہ خوشخبری دیتی ہیں تاکہ تم کو اپنی رحمت کے مزے چکھائے اور تاکہ اس کے حکم سے کشتیاں چلیں اور تاکہ اس کے فضل سے (روزی) طلب کرو عجب نہیں کہ تم شکر کرو

And of His signs is this: He sendeth herald winds to make you taste His mercy, and that the ships may sail at His command, and that ye may seek his favour, and that haply ye may be thankful. (46)

As it is clear from the above mentioned verses, the laws of nature, no matter how predictable, are subject to ALLAH (swt)’s will. It’s not just that the universe was created by ALLAH (swt) and triggered in a self-perpetuation state. No. ALLAH (swt) is well and truly at the helm of His eternal kingdom. Earthquakes, volcanic eruptions, tsunamis, cyclones, tremors, and epidemics like dengue fever, cholera and plague are not signs of chaos, but the exceptions that prove the rule. They are but just a way to remind human beings that they’re not left unanswerable and that they’re not indispensable. There were much mightier civilizations than the current one which have been swept clean from the face of this earth in such catastrophes. As if they never were.

For those affected by this current debacle, and for those who’re witnessing it happen, maybe ALLAH (swt) has given a chance to ponder in his Ayaat. We’ve got to take the time out of our busy schedules to look into ourselves and in the universe. Human being has become lonelier and lonelier but the solitude that lets us think about our Creator is still a rare commodity. We should relish this chance. Any calamity that makes us closer to our Lord is not a calamity, it’s a blessing. And smart and practical people grab blessings with both hands!

May ALLAH (swt) makes us one of his dear ones. Ameen

Quranic references from:

Quran Media Player

Quran Explorer

Tanzil.info