Baigsaab's Blog

اباجی

Posted in Personal by baigsaab on April 22, 2015

آج پھر اباجی نے بستر میں پیشاب کر دیا تھا۔

عمر بھی تو بہت ہو گئی تھی ان کی۔ ستتر سال۔  شوگر الگ۔ بی پی الگ۔ اتنی چیزوں میں کبھی کبھی کوئی بھول بھی جاتا ہے کہ اباجی کا ‘پلاسٹک’ اپنی جگہ پر ہے کہ نہیں! بس یہی بھول گئی تھی خادمہ بھی۔بہو نے  خادمہ کے خوب لتے لیے کہ اس بار اس کے جہیز کا لحاف بھی کام آگیا تھا۔ ہنگامہ تو نہ کیا ۔  مگر اب کی بار اس نے میاں سے بات کرنے کی ٹھان لی تھی۔ سب تھک چکے تھے اب۔

“سنیئے مجھے کچھ بات کرنی ہے۔ ”
“جانتا ہوں،  اباجی کو اولڈہوم میں چھڑوانا چاہ رہی ہوگی پھر!”
“تو اس میں حرج ہی کیا ہے؟”
“حرج؟؟ باپ ہے وہ میرا! اس کو اٹھا کر اس کوڑے دان میں ڈال کر آجاؤں؟ “

“کوڑے دان؟ خواب میں بھی نہیں ملتی ایسی جگہ! کتنے ایکڑ پر تھا وہ اولڈ ہوم؟ ہاں ۔۔۔ پورے پندرہ ایکڑ پر!   کیا نہیں تھا وہاں۔  ہمارے یہاں تو چھ گھنٹے بجلی جاتی ہے۔ وہاں؟ کوئی لوڈشیڈنگ نہیں؟ ہر بزرگ کا اپنا کمرہ۔  اپنا کھانے کا مینیو۔ اپنا خادم۔   جب چاہا اٹھ کر باغ میں چلے گئے۔ جب چاہا ساتھیوں سے گپیں لگالیں۔۔۔ میں تو کہتی ہوں ایسے ٹھاٹ تو بادشاہوں کے ہوتے ہیں”

“ہم تو نہیں ہونگے نا وہاں”

“تو آپ تو یہاں بھی نہیں ہوتے۔ ایک ایک ہفتہ گزر جاتا ہے بچے آپ کی شکل نہیں دیکھ پاتے۔ اباجی کو آخری دفعہ سلام کب کیا تھا آپ نے؟  “

“پھر بھی۔ یہ میرا گھر ہے۔ اپنے گھر سے اپنے باپ کو نکالوں گا تو دنیا تھوکے گی مجھ پر۔”

“دنیا کو تو رہنے ہی دیں آپ،  کسی کے پاس اتنا فالتو وقت نہیں کہ  دوسروں کی زندگیوں میں جھانکتا پھرے۔ آپ کے دونوں بھائی پہلے ہی  باہرہیں اور خود کے فیس کے پیسے پورے نہیں ہو پارہے، اباجی کو کیسے رکھیں گے؟ اور  وہ  ہم جو امیگریشن ویز ا کے لیئے انتظار کر رہے ہیں؟ وہ آگیا تو اباجی کو تو آپ لے جا نہیں سکتے ساتھ۔ ۔  پھر کیا کریں گےآپ ؟ میری مانیں ابھی اپنے سامنے سارے انتظام کروا لیں۔ تاکہ کوئی اونچ نیچ ہو جائے  تو  خود دیکھ لیں۔ “


اس کے ہاتھ میں اباجی کا فوٹو تھا جس میں وہ اس کے گریجوئیشن  کے دن امی کے ساتھ بہت ہی خوش لگ رہے تھے۔ اب دونوں ہی اس دنیا میں نہیں تھے۔ امی تو خیر دس سال پہلے ہی  چل بسی تھیں۔  اولڈ ہوم میں اباجی  بھی۔ ایک ہفتہ بھی  تو  نہ نکال پائے۔ خادم نے  چوتھے دن صبح ان کا کمرہ کھولا تو نیند میں ہی چل بسے تھے۔ بستر بالکل خشک تھا۔ غالباً  شروع رات میں ہی  انتقال کر گئے تھے۔آہٹ کی آواز آئی تو اس نے دیکھا سامنے دانیال کھڑا تھا۔ آٹھ سال کا تھا دانیال۔  دادا کا لاڈلا۔  اس کے ہاتھ میں اس کا چھوٹا بیگ تھا جو وہ گرمیوں کی چھٹیاں گزارنے خالہ کے گھر لے کر گیا تھا۔

“یہ تم کہاں جارہے ہو؟ “

“آپ بھیجیں گے نا”

“میں کہاں بھیجوں گا”

“جہاں دادا کو بھیجا تھا”

“کیوں؟”

“!!-وہ۔۔۔۔ رات کو سوتے  میں۔ میں نے بلینکٹ خراب کر دیا تھا”

Tagged with: , ,

یہ کیسی عید ہے؟

Posted in Social revolution by baigsaab on August 1, 2014

یہ عید کا دن تھا، اور عید کے دن عصر سے پہلے کا وقت کافی خاموشی کا ہوتا ہے۔ رمضان کے آخری عشرے میں بازاروں میں جو رش ہوتا ہے اس کا اینٹی کلائمکس یہ خاموشی ہے۔ توعید کے دن کوئی چار بجے کا وقت ہو گا کہ جب میں فیڈرل بی ایریا کے ایک پٹرول پمپ پر تھا، ، جتنی دیر میں گاڑی میں ایندھن بھرا جا رہا تھا، میں سڑک سے گزرنے والے لوگوں کو دیکھ رہا تھا۔ کبھی موٹر سائیکل پر کوئی صاحب اپنے چھوٹے سے بچے کو لے کر جاتے، کسی کے ہاتھ میں غبارہ، کسی نے رنگین چشمہ لگایا ہوا، زرق برق لباس اور خوشی دیدنی تھی۔
اور اسی وقت میری نظر ان دو بچوں پر پڑی جن کو دیکھ کر لگ رہا تھا جیسے ان کی زندگی میں عید آئی ہی نہیں۔ اپنے ارد گرد موجود رونق اور زندگی سے بے نیاز وہ اس سائن بورڈ کے نیچے سو رہے تھے۔ کمپنی کے اشتہار میں موجود نوجوان جس پر سینکڑوں دفعہ نظر گئی ہو گی، آج ایسا لگ رہا تھا جیسے معاشرے پر ایک بھرپور طنز کر رہا ہو۔ جیسے کہہ رہا ہو، ‘بہت اعلیٰ کام کر رہے ہیں آپ لوگ ان بچوں کو نظر انداز کر کے’۔
آپ کہیں گے کہ میں نے بھی تو صرف تصویر کھینچنے پر ہی اکتفاء کر لیا۔ میں نے کون سے ان کو نئے کپڑے دلا دیئے۔ یا ان کو کھانا کھلا دیا، یا ان کو پیسے ہی دے دیئے کہ وہ کچھ خرچ کر لیں۔ درست۔ اور میں اس بات میں اپنے آپ کو قصور وار سمجھتا ہوں مگر مجھ میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ میں ان کو نیند سے اٹھا کر پوچھ لوں کہ ‘بیٹا کھانا کھایا ہے کچھ’۔ اور ایک دن کے لیے ان کو کھانا کھلا کر یا کپڑے دلا کر ان کو دوبارہ اس زندگی میں مستقل طور پر چھوڑ دوں۔ اور فی الحال کوئی ایسا بندوبست کرنا ممکن نہیں لگ رہا جس میں ایسے بچوں کا کوئی مستقل سہارا ہو سکے۔
ناچار ایک ایسی حرکت کرنا پڑی جو مجھے خود پسند نہیں۔ تصویر کھینچ کر فیس بک پر لگا دی اور اپنا ‘فرض’ پورا کیا!!!۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

کہتے ہیں عید تو بچوں کی ہی ہوتی ہے۔ اور واقعی بچے ہی اس دن سب سے زیادہ مصروف ہوتے ہیں۔ کبھی دادا کو سلام کر کے عیدی حاصل کی، کبھی نانا سے پیار اور عیدی۔ کبھی چاچا کبھی ماموں، کبھی خالہ تو کبھی پھوپھی۔ غرض ایک متوسط طبقے کے بچے کے پاس عید کے تین دنوں میں اچھی خاصی رقم جمع ہو جاتی ہے میرے اندازے کے مطابق اتنی رقم کہ جو عام دنوں میں ان کے اپنے گھر میں دو سے تین دن کا راشن اور گوشت ، سبزی وغیرہ کا انتظام کر سکے۔ ظاہر ہے بچوں کے اوپر یہ نا روا بوجھ ڈالنے کو میں نہیں کہہ رہا، مگر اتنا  ضرور ذہن میں آتا ہے کہ بچے ان پیسوں کا کرتے کیا ہیں؟ کھانا پینا تو ابا کے پیسوں سے ہی ہوتا ہے۔ دیکھا گیا ہے کہ بچےعموماً ان پیسوں سے کچھ خاص نہیں کرتے، بہت ہو گیا تو بہت سی ‘چیز’ کھا لی اور بس۔ بہت سے ماں باپ وہ پیسے بچوں سے لے کر، اس میں کچھ پیسے جوڑ کر، ان کے لیے کوئی اچھی سی چیز لے لیتے ہیں۔
مگر دیکھنے کی بات تو یہ ہے کہ عید ہوتی کیا ہے؟ عید تو رمضان میں اللہ کے حضور مسلمانوں کے روزوں، نمازوں اور قربانیوں کے معاوضہ کا دن ہے۔ جب اللہ تعالیٰ  اپنے بندوں سے کہتے ہیں کہ جاؤ میں نے بخش دیا تمہیں۔ تو ہم مسلمان خوشی مناتے ہیں۔ مگر اس خوشی میں اگر ہم وہ پورا سبق ہی بھول جائیں جو رمضان میں سوکھتے حلق اور خالی پیٹ میں سیکھا تھا تو یہ ایک بہت بڑا مسئلہ ہے۔
رمضان میں ثواب کئی کئی گنا بڑھ کر ملتا ہے۔ اسی لیے لوگ جوق در جوق، بلکہ زبردستی، لوگوں کا روزہ کھلوانے کے لیے پورے مہینےسڑک پر افطار کراتے ہیں۔ مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ باقی سال اتنا ثواب نہیں دے سکتے۔ اخلاص سے کیئے گئے نیکی کے کام کو اللہ تعالیٰ اپنی طرف سے سات سو گنا تک بڑھا دیتے ہیں۔ اور یہ بھی صرف ہمارے سمجھانے کے لیے ہی ہے۔ تو کیا ہی اچھا ہو کہ وہ لوگ جو  رمضان میں افطاریاں کراتے ہیں، باقی سال بھی اس کام کو کسی نہ کسی طرح جاری رکھیں۔

ناداروں کی دیکھ بھال کی اصل ذمہ دار حکومت وقت ہے۔ حضرت عمر ؓ کا وہ قول تو سب نے ہی سنا ہے کہ اگر فرات کے کنارے کتا بھی بھوکا مرتا ہے تو اس کا جواب دہ امیر المومنین ہے۔ تو ان بچوں کی اصل ذمہ داری تو حکومت پر ہی آتی ہے۔ اور اگر حکومت نہیں کرتی تو یہ لوگوں کی اولین ذمہ داری ہے کہ ہر ممکن طریقے سے حکومت کی توجہ اس جانب مبذول کرائیں۔

لیکن اگر حکومت کے کانوں پر جوں نہیں رینگتی، اور جو کہ واقعی نہیں رینگتی، تو یہ ذمہ داری معاشرے پر منتقل ہوجاتی ہے کہ اس معاشرے کے غریبوں کی مدد کی جائے۔ سب سے پہلا فرض رشتہ داروں اور پڑوسیوں کا ہے کہ وہ دیکھیں کہ ان کے قریب کے لوگوں کا یہ حال کیسے ہے۔  یہی اسلام کے معا شی نظام کی جڑ ہے، دولت  کا معاشرے میں ایسے گھومنا کہ جس میں دولت اہل ثروت میں ہی نہ قید ہو جائے، اور ایسے کہ ہرشخص اپنے قریبی رشتہ داروں اور پڑوسیوں کی خبر گیری کرے۔  اسلام کے معاشی نظام کی جڑ بنیاد میں مقصد معاشرے کی فلاح ہے۔
ایک عرصے سے یہ خیال ذہن میں ہے کہ یہ کام سب سے بہتر طریقے سے مساجد میں ہو سکتا ہے۔ ہماری اکثر مساجد میں اہل ثروت لوگ اپنی جیب سے بڑے بڑے خرچے کرتے ہیں۔ ائیر کنڈیشنر یا بڑے جہازی سائز پنکھے تو اب مساجد میں عام ہیں۔ مساجد میں بڑے بڑے منصوبے پایہ تکمیل کو پہنچ جاتے ہیں مثلاً مینار اور گنبد ۔ مگر انہی مساجد میں نماز کے بعد اگر کوئی مانگنے کھڑا ہو جائے تو اس کو ڈانٹ کر چپ کرا دیا جاتا ہے کہ اس بارے میں حکم یہی ہے اور یہی کرنا چاہئے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ چپ نہ کرایا جائے، میں صرف یہ کہتا ہوں کہ ہم دور صحابہ میں نہیں ہیں جب ایک حقیقی فلاحی ریاست کی بنیاد رکھی جا چکی تھی تو اس سلسلے میں اس شخص کے ساتھ نرمی سے پیش آیا جائے، اس کی تذلیل نہ کی جائے۔ دوسرے یہ کہ مساجد میں ایک مد باقاعدہ اس کام کی ہونی چاہیے۔ جس میں محلے میں جو غریب ہیں ان کے لیے کم از کم راشن  اور دوسری بنیادی چیزوں کا انتظام ہونا چاہیے۔ اگر کوئی مانگنے والا اس مسجد میں آئے تو اس کو امام صاحب سے یا مسجد انتظامیہ کے فرد سے رابطہ کرنے کہا جائے۔ اور بات کیونکہ محلے کی ہی ہے تو ان کے گھر کے حالات سب کے سامنے ہونگے۔ ہر مسجد میں یہ طے ہو کہ اپنے پڑوسی کی ہی مدد کی جائے گی۔ اگر کسی اور علاقے سے کوئی ایسا شخص آتا ہے جو واقعی ضرورت مند ہے تو مسجد کی انتظامیہ اس علاقے کی مسجد سے اس شخص کا رابطہ قائم کروائے۔

بظاہر یہ بہت سادہ بات ہے، مگر حقیقتاً اس میں بہت سی پیچیدگیاں ہیں۔ جن کا ادراک ہر اس شخص کو ہے جس نے مساجد کے معاملات کو تھوڑا بہت دیکھا ہے۔ ان مسائل کا تذکرہ کرنا ایک باقاعدہ الگ مضمون کا متقاضی ہے۔ کہنے کی بات یہ ہے کہ ہم من حیث القوم اگر بے حس ہو گئے ہیں تو رمضان اس بے حسی سے جاگنے کا ایک بہت بڑا موقع ہوتا ہے۔ مسجد اسلامی معاشرے کا ایک بہت اہم ستون ہے۔ اس کو اس مقصد کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہے اور کیا جانا چاہیے۔ تو اگر یہ کام ہو سکتا ہے، اور ظاہر ہے کسی اکیلے شخص کا یہ کام ہے ہی نہیں تو ، یہ کام کرنا ضرور چاہیے۔ جو بچے آج سڑکوں پر ایسے گھوم رہے ہیں۔ کل کو یہی بڑے ہوکر اگر غلط ہاتھوں میں پڑ گئے تو خدا نخواستہ ان سےمعاشرے کو ہی خطرہ لا حق ہو جائے گا، اور ہم ہی میں کچھ لوگ کہیں گے، کہ یہ لوگ کہاں سے آتے ہیں۔ یاد رکھیے، مجرم صرف جرم کو کرتا ہے، اسے جرم تک معاشرہ ہی لے کر جاتا ہے۔
اپنے بچوں میں ایثار اور قربانی کا جذبہ بیدار کرنا ہمارا ہی کام ہے۔ یہ کیسی عید ہوئی جس میں ہمارے بچے تو اتنا ‘کما’ لیں کہ ان کو خود سمجھ نہ آئے کہ کرنا کیا ہے ان پیسوں کا، اور یہ بچے کچھ بھی نہ پائیں جبکہ ان کے گھر میں بھوک ایک بہت بڑی حقیقت کے طور پر روزانہ جواب مانگتی ہو۔ تو اپنے بچوں سے ایسے بچوں کا سامنا کرائیں۔ ان کو پتہ ہونا چاہیئے کہ ان کو کیسی کیسی نعمتیں ملی ہوئی ہیں۔ ان کو پتہ چلنا چاہیئے کہ جن چیزوں کو وہ اپنا حق سمجھتے ہیں، ان میں سے درحقیقت کچھ بھی ان کا حق نہیں۔ اور ان کو پتہ چلے کہ اصل خوشی خود کھانے میں نہیں، بلکہ دوسروں کو کھلانے میں ہے۔ تب شاید ایسی عید آئے جس میں واقعی سب بچے خوش ہوں۔ کوئی بچہ عید کے دن محروم نہ ہو۔
مجھے اس عید کا انتظار ہے!۔

کیا خوب قیامت کا ہے گویا کوئی دن اور؟

Posted in Islam, protest, Social revolution by baigsaab on July 13, 2014

میری بیٹی کو ہم سے جدا ہوئے ڈیڑھ سال ہو گئے ہیں۔ کوئی دن ان ڈیڑھ سالوں میں ایسا نہیں ہے جب ہم نے اس کا ذکر  نہ کیا ہو۔ وہ کیسے کھاتی تھی، کیسے مسکراتی تھی۔ فلاں کپڑوں میں کیسی لگتی تھی۔ آج بھی مجھے وہ لمحہ یاد ہے جب میں نے اس کو اپنے ہاتھوں سے قبر میں اتارا تھا۔ اور حالانکہ اس کی سانس بند ہوئے کئی گھنٹے گزر چکے تھے ، لیکن اس ایک آخری لمحے میں، ایک امید تھی کہ شاید وہ پھر سے جی اٹھے!  اس پورے عرصے میں ، سوائے ایک آدھ مضمون کے، میں نے  اس کا ذکر عام محافل میں اور فیس بک پر بہت کم کیا ہے۔ ابھی بھی نہ کرتا  لیکن کیا کروں کہ گزشتہ کئی روز سے میری نظروں کے سامنے متواتر، بار بار، ایک کے بعد ایک ، جویریہ جیسی کئی  ننھی ننھی جانیں اپنی جان سے گزر رہی ہیں۔  میں جب ان بچوں کی بے نور آنکھوں کو دیکھتا ہوں تو قسم ہے میرے رب کی،صبر اور ضبط کے بندھن ٹوٹ جاتے ہیں۔

اسرائیل  نے غزہ میں جو بربریت کی تاز ہ تاریخ رقم کی ہے،  اس میں اس کی ہٹ دھرمی کے ساتھ ساتھ ہم مسلمانوں کی بحیثیت امت صریح غلطی ہے۔رسول اللہؐ کی صحابہ کرام ؓ سے گفتگو پر مبنی ایک حدیث کا مفہوم ہے کہ  جب ہمارے دلوں میں دنیا کی محبت اور موت سے نفرت پیدا ہو جائے گی تو دنیا کی قومیں ہم پر ایسے ٹوٹ پڑیں گی اور ایک دوسرے کو ایسے دعوت دیں گی جیسے دستر خوان پہ چنا ہوا کھانا۔ آج سے پہلے اس حدیث کا مفہوم شاید اتنا سمجھ نہ آ پاتا ہو لیکن اس دور میں اور خصوصاً نو گیارہ کے بعد کی دنیا میں یہ بالکل صادق آتی ہے۔ سچ ہے وہ بات جو کہی ہمارے پیارے نبی ؐ نے، یہ دنیا کی محبت ہے اور موت سے نفرت۔

خدا کی قسم کوئی باپ اپنے بچے کو دفنانا نہیں چاہتا۔ خدا کی قسم کوئی ماں اپنے بچے سے جدا نہیں ہونا چاہتی۔  لیکن کیا کریں کہ اللہ کی حکمت کے آگے چاہے یا نا چاہے ، سب کو سر جھکانا ہی پڑتا ہے۔ مگر ان  بچوں کے، اور بڑوں کے،  خون کے ایک ایک قطرے کا حساب  ان شاء اللہ لے لیا جائے گا۔  ان 57 ا سلامی مملکتوں سے بھی جن کے حکمرانوں کو اللہ نے اقتدار کیا دیا  یہ اپنے تئیں خود خدا بن گئے۔ مگر حال یہ کہ عالمی طاقتوں کے  آگے بھیگی بلی ہی نہیں بلکہ کچھ تو ان کے شکاری کتوں کا کام کر رہے ہیں۔  ان حالات میں کیا کریں؟  اسرائیل کو روکنے والا لگتا ہے کوئی نہیں! یاد رکھیں، ظالم کو ظالم سمجھ کر اس کا ساتھ دینے والا ایمان سے نکل جاتا ہے، اور یہ بھی اسی ہستی ؐکا فرمان ہے جس سے محبت کے ہم دعوے تو پہاڑ جیسے کرتے ہیں لیکن عمل ایک پتھر سے زیادہ نہیں۔

مایوسی پھیلانا یقیناً غلط ہے۔ میں بھی مایوس نہیں ہوں لیکن پریشان ضرور ہوں۔غزہ میں اپنے ارد گرد مرتے لوگ دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے۔ بھوکے بچوں کو ایک روٹی کے لیے ہوٹلوں اور ریستورانوں پر دھکے کھاتے دیکھ کر افسوس ہوتا ہے۔ لوگوں کو اپنی محفلوں میں انڈین آئڈل ،ٹونٹی ٹونٹی کرکٹ ، گاڑی، بنگلہ، پیسہ، اس کے علاوہ کسی اور چیز پر بات نہ کرتے دیکھ کر افسوس ہوتا ہے۔ کبھی کبھار تو ایسا لگتا ہے کہ سب چلتے پھرتے مقبرے ہیں ۔

خدارا پلٹیں اپنے رب کی طرف، ہمارا رب ہم سے شاید خوش نہیں ہے۔ پلٹیں اس سے پہلے کہ ہمیں بھی ایک ایسا عذاب آ پکڑے کہ سنبھلنے کی نوبت ہی نہ آئے۔ استغفار ہی واحد راستہ ہے۔ استغفار ہی سے اللہ مانتا ہے۔ خدارا ظلم کے خلاف باہر نکلیں، خدارا ان معصوم لوگوں کے لیے دعا کریں۔ خدارا ان تمام  مصنوعات  کے بارے میں خود تحقیق کریں اور ان سے رفتہ رفتہ پیچھے چھڑا لیں جو ان بچوں کو مارنے کے لیے اسرائیل کو پیسہ فراہم کرتی ہیں۔ خدارا دعا کریں ۔ خدارا نکلیں۔  اپنے لیے نہیں تو اپنے بچوں کے لیے۔  اپنے نہیں تو ان بچوں کے لیے ہی نکل آئیں جن کی سرد لاشوں کو جب ان کے والدین مٹی کے سپرد کر رہے ہونگے تو شاید ان کے دل میں بھی وہی پاگل سی امید جاگی ہوگی کہ شاید یہ پھر سے جی اٹھیں!

بُھنگانہ، ابابیل اور ڈرون

Posted in Islam, Social revolution by baigsaab on June 28, 2013

اندلس کے طوائف الملوک میں وہ پہلی حکومت جس نے باقاعدہ عیسائی اقوام سے دوسرے مسلمانوں کے خلاف مدد مانگی وہ کوئی اور نہیں قرطبہ  کی حکومت تھی۔  خلافت اندلس کا دارالخلافہ قرطبہ، جہاں سینکڑوں سالوں سے کسی نے کسی  غیر مسلم کو  تلوار سونت کر چلتے نہیں دیکھا تھا، وہاں  اب عیسائی فوجی نام نہاد مسلمان حکمرانوں کے جنگی عزائم کو آگے بڑھانے کے لیے  کرائے کے فوجیوں کے طور پر لڑ رہے تھے! اندلس میں  اموی خلافت  کمزور  ہوئی تو  فوج کے مختلف سرداروں نے اپنے اپنے علاقوں میں اپنی حکومت کا اعلان کردیا۔  یہ علاقے  ’طائفہ’ کہلاتے تھے اور ان کے بادشاہ  ، ‘ملک الطائفہ’، اکثر و بیشتر صرف اپنے علاقے بڑھانے کے چکر میں  رہتے تھے۔   اتحاد امت اور اتحاد بین المسلمین جیسے الفاظ ظاہر ہے توسیع پسندی  اور ہوس ملک گیری کے ماروں کے سامنے نہایت بودے معلوم ہوتے ہیں۔  تو  ان بادشاہوں کی تلواریں بھی آپس میں ہی چلتی تھیں۔ اور اس میں ان کو مدد ملتی تھی کاسٹائل اور دوسری عیسائی ریاستوں سے۔  یہ مدد فوجیوں کی صورت بھی ہوتی تھی، اور کبھی کبھار براہ  راست مسلمان بادشاہ کی طرف سے  عیسائی فوجیں ہی حملہ آور ہو جاتی تھیں۔ ‘تقسیم کرو اور حکومت کرو’ کی یہ اندلسی مثال تھی۔  ان خدمات کے عوض آئیبیریا کے عیسائیوں کو مال، دولت، جائداد  یا جو وہ مانگیں، دیا جاتا تھا۔  نتیجہ یہ کہ عیسائی طاقت بڑھتے بڑھتے اتنی ہو گئی کہ ان نا عاقبت اندیش حکمرانوں کو سانس لینی دوبھر ہو گئی۔   یہ آج سے ٹھیک ایک ہزار سال پہلے کی بات ہے۔

آج کا حال دیکھیں۔ پاکستان کے شمالی علاقوں ، جنہیں نہ جانے کیوں پہلے بھی  ’علاقہ غیر’  ہی کہا جاتا  تھا، میں ایک جنگ ہو رہی ہے۔  ’ہماری جنگ’ !۔ کہنے کو پاکستان کی سرزمین کے دشمن اس علاقے میں چھپے بیٹھے ہیں۔  وہ دشمن جو عام  آبادی میں ایسے گھل مل گئے ہیں کہ وہاں ان کی شادیاں بھی ہوئی ہوئی ہیں اور اولاد بھی۔   ایک ایسا علاقہ جس میں پاکستان کے دوسرے علاقوں سے کوئی نہیں جا سکتا اور وہاں سے پاکستان کے دوسرے علاقوں میں کوئی نہیں جا سکتا۔  بیچ میں اتنی چوکیاں اور اتنے پہرے ہیں کہ سفر کا انجام اکثر و بیشتر ناکامی ہی ہوتا ہے۔ چنانچہ وہاں سے کسی خبر کا آجانا بجائے خود ایک عجوبہ  ہے کجا یہ کہ اس خبر کی تصدیق بھی ہو جائے۔ ایسے میں وہاں پر  فضائی حملے جاری ہیں۔ مقصد ان حملوں کا یہ ہے کہ ‘دہشت گردوں’ کو مار دیا جائے۔  یہ حملے کون کر  رہا ہے، کیوں کر رہا ہے اور کیا یہ اپنے مقصد میں کامیاب ہو رہے ہیں ۔ یہ سوال کر لینا جتنا آسان ہے اس کا جواب تلاش کرنا اتنا ہی مشکل۔

2004 میں ڈامہ ڈولہ میں ایک  میزائل  حملے میں  ’ ملا نیک محمد ‘ کا انتقال ہو گیا۔  اس وقت کسی کی کچھ سمجھ میں ہی نہیں آیا کہ یہ میزائل آیا کہاں سے۔  مگر ہمارے صدر پرویز صاحب نے  کمال پھرتی سے اس کی ذمہ داری  اپنے ادارے کی طرف سے قبول کرتے ہوئے  کہا کہ یہ ہم نے  کیا ہے۔ اس سے قطع نظر کہ ہم نے ایک ایسے شخص کو کیوں مار دیا جو  بعد میں ملنے والی اطلاعات کے مطابق ریاست سے باقاعدہ مذاکرات پر آمادہ تھا،  یہ تفصیلات کہ حملہ ہوا کیسے اس کہانی میں ہی کافی جھول تھے۔  بعد  ازاں  جب جب اس طرح کے حملے ہوتے رہے تو  اسی طرح وہ اور ان کے کارندے یہ ذمہ داریاں قبول کرتے رہے۔  رفتہ رفتہ بات کھلنا شروع ہوئی کہ یہ حملے  دراصل امریکی  ڈرون جاسوس طیارےکرتے ہیں۔  یہ  ڈرون  اول اول تو تھوڑے عرصے کے لیے نظر آتے تھے۔ مگر اب یہ    پورا دن  وزیرستان کے آسمان پر موجود رہتے ہیں۔  ان طیاروں سے  ایک مہینے میں اوسطاً  چھ سے سات حملے ہوتے ہیں۔ ان حملوں میں مرنے والے شہریوں  کے اعداد و شمار میں اتنا فرق ہے کہ   سرکاری شمار  دس سے کم اور  غیر سرکاری  کم و بیش ایک ہزار ہے۔ وجہ اس فرق کی کیا ہے یہ جاننے کے لیے دیکھیئے Living  Under Drones (livingunderdrones.com)  نامی دستاویز سے کچھ معلومات۔

یہ دستاویز  Stanford اور NY University  کے  اشتراک سے بنائی گئی ہے۔  قریباً نو ماہ کی ریسرچ اور درجنوں متاثرین سے  گفتگو  کی بنیاد پر بنائی گئی یہ رپورٹ  دراصل ڈرون  کے استعمال کے انسانی نفسیات پر پڑنے والے اثرات کو اجاگر کرنے کی ایک کوشش ہے۔  اسی  ضمن میں  امریکی اور پاکستانی دونوں طرح کے حکومتی دعوؤں کی بھی قلعی کھول دی گئی ہے۔

وزیرستان میں ڈرون کوابابیل بھی کہتے ہیں مگر زیادہ تر  ’بُھنگانہ’ کہا جاتا ہے، ایک ایسی چیز جو مکھی جیسے بھنبھناتی رہتی ہے۔ وزیرستان میں اس وقت یہ بھنبھناہٹ لوگوں کی زندگیوں کا حصہ بن گئی ہے۔  وہ سوتے ہیں تو سر پر ڈرون کی آواز  آتی ہے، بازار میں ہوتے ہیں تو   ’بُھنگانہ’ صاف نظر آتا ہے۔ ایک وقت میں چھ چھ ڈرون فضا میں نظر آرہے ہوتے ہیں۔ یہ بذات خود ایک ذہنی پریشانی کا باعث ہے   لیکن اصل مسئلہ یہ ہے کہ یہ ڈرون کبھی بھی آگ اگل سکتے ہیں۔ اس کا کوئی مقام، وقت، وجہ یا خاص ہدف نہیں ہے۔

17 مارچ 2011، صبح  تقریباً دس بجے کے قریب  دتہ خیل کے علاقے میں ایک قبائلی جرگہ، جو کہ قبائلی زندگی کا سب سے اہم ادارہ ہے، جاری تھا۔ قریباً چالیس سے کچھ اوپر لوگ  وہاں دو گروہوں میں صلح کرانے بیٹھے تھے، جرگہ کا مقامی انتطامیہ کو دس دن پہلے سے پتہ تھا چناچہ قبائلی بڑے، ملک، خاصہ دار یعنی حکومتی ادارے کے نمائندے بھی موجود تھے جو اس مجمع کے  پرامن ہونے کے لیے ایک  سرکاری سند تھی ۔  کرومائٹ کی کان کا یہ معاملہ کچھ  گرما گرمی کی طرف تھا کہ  اچانک ایک تیز سرسراہٹ سی سنائی دی  اور اس کے بعد ایک زور دار دھماکہ ہوا۔  عینی شاہدین کے مطابق فضا میں موجود ڈرون نے ایک میزائل فائر کیا تھا۔ اس حملے میں کوئی  42 لوگ مارے گئے اور 14 زخمی۔  مرنے والے اکثر لوگوں کے بارے میں یہ مصدقہ  اطلاع ہے کہ ان کا کوئی تعلق کسی  دہشت گرد تنظیم سے نہیں تھا۔ یعنی وہ عام شہری تھے۔ ایک قبائلی  سردار   داؤد خان کا بیٹا ، نور خان،  سانحے کے وقت  پانچ گھنٹے کی مسافت پر تھا۔ وہ واپس آیا تو اپنے  باپ کا  کفن میں لپٹا، جلا ہوا جسم   پایا۔ داؤد خان اس علاقے کا   ایک بڑا سردار تھا۔ اپنے علاقے والوں کے ساتھ ساتھ  گھر والوں کا  بھی سہارا تھا۔  کچھ یہی احوال  حاجی ملک بابت کا تھا جن کا اس ڈرون حملے میں انتقال ہوا۔ ان کا بیٹا خلیل خان  بتاتا ہے کہ مرنے والے کئی  قبائلی بڑوں میں سے پندرہ  تو صرف اسی کے  وزیری قبیلے سے تھے۔

اسی طرح 15 جون 2011 کو  امریکی ڈرون طیارے نے ایک گاڑی  ، جو کہ میرانشاہ اور سرکوٹ کے بیچ میں سفر کر رہی تھی، پر تقریباً چھ میزائل داغے اور پانچ لوگوں کو مار دیا۔  The bureau of investigative journalism کے مطابق پانچوں کے پانچوں لوگوں کو بعد میں  نام سے شناخت کیا گیا اور وہ پانچوں بھی  عام شہری تھے۔  کون لوگ تھے وہ؟ ایک  فارمیسی والا  عتیق الرحمان اور ایک اس کا طالبعلم ملازم ارشاد، ایک آٹو پارٹس کا بیوپاری عمر، ایک واپڈا کا ڈرائیور اکرم اور  اس کا  طالبعلم کزن شیرزادہ۔ یہ ہیں وہ ‘دہشت گرد ‘جن  کو مارنے کے لیے  چھ  Hellfire میزائل داغے گئے اور جب  عمر خان نے گاڑی سے باہر چھلانگ لگا دی تو آخری میزائل  نے اس کو بھی   قتل کر ڈالا۔

یہ صرف دو واقعات ہیں اور ان میں مرنے والے شہریوں کی تعداد پچاس تک پہنچ  جاتی ہے۔  ایک مہینے میں چھ حملے، ایک سال میں درجنوں  حملے اور  ہر حملے میں کئی ہلاکتیں۔کچھ عرصہ پہلے کی اطلاعات کے مطابق مرنے والے صرف بچوں ہی کی تعداد  178  ہے۔ اس کے باوجود جب  امریکی وزارت دفاع یہ کہتی ہے کہ مرنے والے شہریوں کی تعداد دس سے بھی کم ہے تو  پہلا سوال لازماً یہی ذہن میں آتا ہے کہ یہ کوئی اور گنتی گن رہے ہیں کیا؟ جواب اس کا ہے جی ہاں۔  امریکی وزارت دفاع کے مطابق کسی بھی حملے میں مارا جانے والا  ہر وہ مرد جو کہ جنگ لڑ سکتا ہے وہ جنجگو کی فہرست میں آئے گا ، الا یہ کہ اس کی موت کے بعد اس بات کا ٹھوس ثبوت مل جائے کہ  وہ ایک شہری تھا۔  امریکی حکومت کی طرف سے آج تک کوئی ایسی  کوشش نہیں کی گئی جو  ان حملوں میں مرنے والوں کے بارے میں  یہ  پتہ  لگانے کے بارے میں ہو کہ آیا وہ واقعی دہشت گرد تھے بھی کہ نہیں۔ اور ایسا کرنا سیاسی طور پر اوبامہ  کی صدارت کے لیے خودکشی کے مترادف ہو گا۔

باراک اوبامہ نے اس بات کو کبھی چھپانے کی کوشش نہیں کی کہ وہ ڈرون کو  زمینی  یا فضائی فوج پر زیادہ ترجیح  دیتا ہے۔  اس کی وجہ ایک تو یہ ہے کہ ڈرون اگر گر بھی گیا، اور گرتے ہی رہتے ہیں، توبھی  کسی فوجی کا قید میں چلا جانا یا مر جانا  اس سے کہیں  زیادہ عوامی ردعمل  کا موجب ہو گا۔ دوسری  بات یہ کہ گوانتانامو  جیل کا معاملہ بھی باراک اوبامہ کے لیے سانپ کے منہ میں چھچھوندر جیسا ہو گیا ہے۔ اس لیے مزید قیدی بنانے سے بہتر ہے کہ ان کو ٹھکانے لگا دیا جائے۔  لیکن  یہ سب تو ظاہر ہے  کہ  پوشیدہ وجوہات ہیں۔ اصل وجہ جو  اوبامہ، اس کی انتظامیہ  بالخصوص اس ڈرون جنگ کا  کرتا دھرتا  جان برینن  وغیرہ بتاتے ہیں وہ یہ ہے کہ  ’ہمارے ڈرون طیارے دہشت گرد اور عام شہری میں فرق کرنا جانتے ہیں’ یا ‘ہم ہر ممکن کوشش کرتے ہیں کہ ڈرون حملوں میں   عام شہریوں کا نقصان نہ ہو’ یا وہ جملہ  جو سب سے زیادہ  کہا جاتا ہے کہ ‘ہمارے  میزائل Pinpoint Precision پر کام کرتے ہیں’۔

اس    نشانہ بازی کی سوئی کی نوک  کے برابر  درستگی کے بارے میں   IISI  نامی کمپنی نے  ہرجانے کے دعویٰ میں  عدالت  کو   بتایا کہ    ” Netezza  کمپنی نے ہمارا سوفٹوئیر  Geospatialغیر قانونی طریقے سے اور عجلت میں   reverse engineer کر کے سی آئی اے کو بیچا اور انہوں نے یہ جاننے کے باوجود کہ یہ  سوفٹوئیر کئی میٹر تک غلط  جگہ بتا تا ہے، اسے خرید لیا”۔  چھوٹی سی گاڑی پر چھ  Hellfire میزائل مارنے کی ضرورت ایسے ہی نہیں پڑتی۔ اس کے  علاوہ ٹریکنگ چِپس بھی استعمال کی جاتی ہیں جو  زمین پر موجود   امریکہ کے خریدے ہوئے لوگ  مشکوک لوگوں کے  ٹھکانوں پر ڈال دیتے ہیں اور وہ چِپ  ڈرون   کی رہنمائی کرتی ہے۔  اپریل 2009 میں 19 سالہ  حبیب الرحمان  کو   مبینہ  طور  پر TTPنے  گولی  مار دی۔  قتل ہونے سے پہلے اپنے ویڈیو پیغام میں حبیب نے کہا کہ اسے  یہ پتہ نہیں تھا کہ یہ CIAکا کام ہے، اسے تو چپس پھینکنے کے 122 ڈالر دئیے گئے تھے اور کہا گیا تھا کہ اگر تم کسی عرب گھر میں یہ چپ ڈالنے میں  کامیاب ہو گئے تو  بارہ ہزار  ڈالر  ملیں گے۔  اس نے کہا کہ میں نے اندھا دھند وہ چپس ادھر ادھر پھینکنا شروع کر دیں ، میں جانتا تھا کہ لوگ میری وجہ سے مر رہے ہیں مگر مجھے پیسے چاہیے تھے”۔ تو یہ ہے  Pinpoint precision کی روداد!

شروع شروع میں یہ ڈرون حملے  کسی ایک شخص معین پر ہوتے تھے۔  مثلاً  بش انتظامیہ کے دور میں نیک محمد   پر جو حملہ ہوا تھا وہ   Personality strike تھا۔  باراک اوبامہ نے اقتدار میں آنے سے پہلے ہی یہ بات واضح کر دی تھی کہ     وہ  اور اس کی ٹیم ڈرون حملوں کو مزید آگے بڑھائیں گے۔ یہ پروگرام  ایسے آگے  بڑھا کہ اب سی آئی اے کے یہ ڈرون اڑانے والے اگر  کہیں بھی محسوس کریں کہ کوئی مشکوک سرگرمی ہو رہی ہے تو   اکثر و بیشتر  ان کو  حملہ کرنے کے لیے صدر سے اجازت لینے کی ضرورت نہیں ہے۔  جرگہ پر حملہ اسی کا شاخسانہ ہے،  اکرم خان کی گاڑی اسی لیے تباہ کی گئی، جنازوں ،شادیوں  اور دوسرے اجتماعات  پر  بھی حملے اسی Signature Strike کے زمرے میں آتے ہیں۔ یعنی  اگر کوئی صورتحال کسی پہلے سے متعین   Signature پر پورا اتر رہی ہے تو  ڈرون اڑانے والا حملہ کرنے کا مجاز ہے۔  وہ کیا قواعد ہیں جن کی بنیادپر یہ فیصلہ ہوتا ہے ، یہ ایک راز ہے۔   اب تو یہ بات مذاقاً کہی جاتی ہے کہ جہاں  CIA کو تین لوگ اچھل کود کرتے نظر آتے ہیں وہ ایک  Hellfire داغ دیتے ہیں۔

ڈرون طیارے بغیر پائلٹ کے نہیں اڑتے، بس ان کے پائلٹ  طیارہ میں نہیں بیٹھتے۔  وہ  ہزاروں میل دور نیواڈا میں بیٹھے ہوتے ہیں۔ کل کے ایف سولہ اڑانے والے آج Predator اور Reaper اڑا رہے ہیں۔ ایک بڑے سے کنٹینر میں ایک ٹیم بیٹھی ہوتی ہے جس میں سے دو پائلٹ ہوتے ہیں۔  ان کے سامنے بالکل جہاز ہی کے انداز میں مختلف آلات لگے ہوتے ہیں۔ دو سکرینوں پر  جہاز کا بیرونی اور نیچے کا منظر دکھائی دیتا ہے۔  بالکل ایک ویڈیو گیم کا سا سماں ہوتا ہے۔  F-16 کی کمر توڑ پرواز  سے یہ  پرواز اگر ویسے ہی  ’گھر جیسا آرام ‘نہیں تھا تو ڈرون اڑانے والوں کے لیے اس قتل کی سنگینی کو کم سے کم رکھنے کے لیے   اس قتل کو Bug splat یعنی مکھی مارنا کہا جاتا ہے۔  یعنی  مرنے والا جو بھی ہو  کم از کم انسان کہلانے کے لائق نہیں۔  اوبامہ کی اس جنگ میں  حملوں  کی زیادتی کی وجہ سے پائلٹس کی اتنی کمی ہو گئی ہے کہ اب  امریکی فضائیہ اپنے کیڈٹس سے بھی یہ کام لے گی۔ اس پر  طرہ یہ کہ اب  ان کی حوصلہ افزائی کے لیے  ان کو بہادری کے تمغے  بھی دئیے جا نے کا  پروگرام رو بہ عمل ہے۔

اس سارے معاملے میں  پاکستان اور اس کے عوام کا کیا کردار ہے؟  ہم نے مضمون کے آغاز میں ملوک الطوائف  کا  ذکر کیا تھا۔   پاکستان  کی حکومت کا کردار  اس معاملے میں ایسا ہی منافقانہ ہے۔   آنکھ اوجھل پہاڑ اوجھل کے مصداق اس علاقے سے ویسے بھی خبریں نہیں آتیں، اوپر سے ہمارے سابق وزیر اعظم صاحب وکی لیکس کے مطابق یہ کہتے ہوئے پائے گئے کہ ‘آپ اپنا کام جاری رکھیں گے، ہم پارلیمان میں آواز اٹھائیں گے اور پھر خاموش ہو جائیں گے”۔اپنے ملک کی عوام کو اس طرح درندوں کے حوالے کرتے کم ہی دیکھا گیا ہے۔ وزیرستان کی عوام کے آگے CIA کا کنواں اور پیچھے TTP کی کھائی ہے۔  وہ اپنے مخصوص محل وقوع  کی وجہ سے اس وقت  زمین کی پشت پر بد ترین مصیبت  میں ہیں۔ اور اس صورتحال میں انہیں دھکیلنے والے کوئی اور نہیں ان کے اپنے ہموطن ہیں۔

ہمارے  نام نہاد دانشور اکثر و بیشتر یہ کہتے ہوئے پائے گئے ہیں کہ ہم امریکہ کا ڈرون مار کے خود کہاں جائیں گے؟ اس کے جواب میں یہی کہا جاسکتا ہے کہ ان کا اپنا بچہ مرتا کسی ایسے حملے میں تو  پھر پوچھتے  ان  سے۔  ہر وقت ڈرون کی بھنبھناہٹ، اس کی ہمہ وقت موجودگی، اس کا کسی بھی مجمع پر حملہ کر ڈالنا ، اس حملہ کے نتیجے میں مدد کو آنے والوں کو بھی نشانہ بنانا،اپنے پیاروں ، اپنے  بچوں کی مسخ شدہ جلی ہوئی لاشیں ، اور کبھی صرف ان کے جسم کے ٹکڑے  ہی دفنا پانا۔   یہ سب وہ باتیں ہیں جو  انور بیگ اور خورشید ندیم جیسے  یہ ڈرائنگ روم کے دانشوروں کے لئے محسوس کرنا ان کے بس سے باہر ہے۔

کیا ہم ڈرون طیارے گرا سکتے ہیں؟    تو اس کے جواب میں پہلی بات تو  یہ  کہ پوری دنیا جانتی ہے کہ یہ ڈرون طیارے پاکستان کی اپنی  سرزمین سے اڑتے ہیں تو  ہماری فضائی حدود کی خلاف ورزی تو کوئی ہے ہی نہیں، رضا مندی  ہی رضامندی ہے۔  بلکہ ہمارے مقتدر حلقے تو ڈرون ٹیکنالوجی  مانگتے بھی رہے ہیں کہ جی ہمیں بھی تو دکھائیں۔     ڈرون مارگرانا کوئی مشکل کام نہیں ، لیکن مسئلہ یہ  ہے ہی نہیں کہ ہم مار سکتے ہیں کہ نہیں، مسئلہ یہ ہے کہ ہم مارنا چاہتے ہیں کہ نہیں۔   ہمارے نئے نویلے وزیر اعظم صاحب نے فرمایا ہے  کہ ‘ڈرون پر تحفظات ہیں’۔ ان کے اس سے بھی نئے نویلے  مشیر  خارجہ  نے فرمایا کہ  ’تمام صلاحیتیں بروئے کار لائی جا سکتی ہیں’۔  نجانے یہ باتیں کہہ کر وہ کس کی تسلی کرنا چاہتے ہیں ورنہ  صاف نظر آرہا ہے کہ  یہ  بھی  ’اِب کے مار’ والے لوگ ہیں۔  AfPak ریجن کے لیے امریکہ کے نئے  نمائندہ   جیمز ڈابنز سے جب ہمارے ملک کے وزیر اعظم نے کہا کہ ڈرون حملے بند کر دیجیے تو اس نے ایک  یک لفظی جواب  جو دیاوہ  تھا “نہیں” اور ہماراردعمل  تھا ،’جی اچھا’۔ معذرت کے ساتھ ، یہی ڈرون اگر کوئی بیکری والا اڑا رہا ہوتا  اور اس نے  یہ ‘نہیں ‘ بولا ہوتا  تو  اس کے ساتھ یہ کیا سلوک کرتے وہ ہم اچھی طرح جانتے ہیں۔

دتہ خیل میں مرنے والے داؤد خان کے بیٹے نور خان  نے پاکستانی وکیل شہزاد اکبر سے را بطہ کیا جو کہ  درجنوں دوسرے خاندانوں کے  لیے پاکستانی عدالتوں میں ان ڈروں حملوں میں مرنے اور زخمی ہونے والوں کے لیے عدل  مانگ رہے تھے۔   چند ماہ قبل پشاور ہائیکورٹ نے کیس کے فیصلے میں ڈرون حملوں کو غیر قانونی قرار دے دیا ۔  پاکستان کی پارلیمنٹ پہلے ہی ان حملوں کو نا جائز قرار دے چکی ہے۔  عمران خان نے پہلا مطالبہ  جو اس حکومت سے کیا ہے وہ یہی ہے کہ ڈرون حملوں کو رکوا دو ہم تمہارا ساتھ دیں گے۔ پاکستان کی حکومت کے پاس اب   ہر طرح کا اختیار ہے کہ وہ ان حملوں کو  ایک دم رکوا دے  لیکن ان کا پھر بھی ایسا نہ کر نا  سیدھا سیدھا اشارہ کرتا ہے  کہ یا تو ملی بھگت  ہے یا کردار کی کمی، یا  کردار کی کمی کی وجہ سے ملی بھگت!

جب اندلس  کے نا عاقبت اندیش حکمرانوں کے لیے سانس لینا دوبھر ہو گیا  اور  الفانسو ان کی  جڑوں میں بیٹھ گیا تو پھر انہوں نے مدد کے لیے   سمندر پار سے  یوسف بن تاشفین کو بلایا جس نے ایک ہی حملے میں الفانسو کا ایسا صفایا کیا کہ اگلے چار سو سال اندلس میں پھر اسلامی پرچم لہرانے لگا۔  ہم جانتے ہیں کہ پاکستان کے حکمرانوں کے ہاتھ سے معاملات نکل چکے ہیں۔ یہ اب  اپنی مرضی سے  ایک روٹی  بھی نہیں خرید سکتے۔  تو ایسے وقت میں  کسی یوسف بن تاشفین کو نہ سہی، اپنی عوام کو ہی آواز دے لیں۔  ہمیں اصل معاملات سے آگاہ کریں۔  اس بات سے آگاہ کریں کہ مشرف نے جب ہمیں اس نا پاک اور نا مراد جنگ میں دھکیلا تھا تو کیا شرائط طے کی تھیں؟ اس جنگ میں پاکستان اور اس کے وسائل کی شمولیت کے parameters کیا تھے؟  پھر   وہ کیا وجہ ہے کہ  ہمارے شہروں میں اسلامی نام والی تنظیموں کے دھماکے کی ایک ایک لمحے کی خبر دکھائی جاتی ہے لیکن امریکہ کے ان ڈرون حملوں کی کوئی ایک ویڈیو بھی نہیں آتی ۔ کیوں ہم اپنے شہروں میں مرنے والے  شہریوں کی تعداد، علاقے ، حتیٰ کہ مسالک تک سے آگاہ ہیں لیکن  دتہ خیل، سرکوٹ ، میرانشاہ اور ڈامہ ڈولہ کے ان Hellfire میزائل میں مرنے والے ‘دہشت گردوں’ کی اصلیت سے نا واقف ہیں۔  اگر آپ  عوام کو اعتماد میں نہیں لیں گے تو  یہ معاملہ زیادہ دن چلنے والا نہیں ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ  وہ وقت دور نہیں جب یہ Predator اور Reaper کراچی، ملتان، رحیم یار خان،  کوئٹہ ، لاہور، ایبٹ آباد  اور اسلام آباد  کی  فضاؤں میں بھی ایسے ہی نظر آئیں گے۔  لیکن ایسے وقت میں نجانے کیوں مجھے یقین ہے  کہ ہمارے یہ پٹھان بھائی ہمیں ایسے نہیں چھوڑیں گے جیسے ہم نے انہیں چھوڑ رکھا ہے۔  اللہ ہمارے ان بھائیوں اور بہنوں کی حفاظت کرے۔ آمین!

اور وہ رخصت ہو گئی

Posted in Personal by baigsaab on April 27, 2013

جویریہ چلی گئی! ساڑھے چار سال تک جس فون کال سے میں ڈرتا رہا، جب وہ آئی تو میں اس سے اسی طرح بے خبر تھا جیسے انسان  اپنی موت سے بے خبر ہوتا ہے۔ جویریہ میری بیٹی تھی۔ ساڑھے چار سال کی میری ننھی سی پیاری سی گڑیا۔ جسے جن ہاتھوں سے اٹھا کر میں گھر میں لایا تھا، انہی ہاتھوں سے اس کو قبر میں اتارنا پڑا۔ لیکن یہ مضمون اس لیے نہیں لکھ رہا کہ مجھے نعوذ باللہ  اپنی تقدیر پر کوئی گلہ ہے، یا ہمدردیاں سمیٹنا مقصود ہے۔ الحمدللہ  اللہ نے  لوگوں کے دل ہمارے لیے اتنے نرم کردئیے ہیں کہ ہم سے تو یہی محبت نہیں سنبھالی جا رہی۔  یہ مضمون صرف ان ساڑھے چار سالوں کی ایک چھوٹی سی کہانی ہے، جن میں میں نے اور جویریہ کی ماں نے کئی زندگیاں گذار لیں۔ جو بوجھ کئی  مہینے سے میرے دل پر ہے اس کو کاغذ  پر منتقل کرلینے سے شاید میرے دل کو کچھ قرار آ جائے اور شاید میں ان لوگوں کا شکریہ ادا کر سکوں جن سے تشکر کا اظہار کرنا مجھ پر قرض ہے۔

 جویریہ کو پیدائشی طور پر سانس کی تکلیف تھی ۔ پیدائش کے وقت پھیپھڑوں میں پانی بھر جانے کی وجہ سے اس کو پیدائش کے فوراً بعد ہی انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں رکھنا پڑا۔ وہیں  ہم پر یہ عقدہ کھلا کہ گائناکالوجسٹ کی غفلت کی وجہ سے یہ کیس  اتنا خراب ہوا  ورنہ اس کو بہتر طریقے سے ہینڈل کیا جا سکتا تھا۔ بہرحال، اس دوران ہمارا تعارف ڈاکٹر فریدہ سے ہوا ،جو ہر لحاظ سے بچوں کی ایک بہت اچھی ڈاکٹر ہیں۔  جویریہ کے نقوش پیدائش کے وقت عام پاکستانی بچوں سے مختلف تھے، کچھ چینی سے نقوش تھے۔ دبی ہوئی ناک،  انتہائی گورا رنگ، تھوڑی باہر کو نکلی ہوئی آنکھیں ۔  ڈاکٹر فریدہ  نے ہمیں یقین دلایا کہ جویریہ ایک ‘نارمل’ بچی ہے اور یہ کہ یہ تھوڑا سا عرصہ اس کو مشکل میں گذارنا پڑے گا۔ ایک پورا ہفتہ ہم   اولاد کی نعمت مل جانے کے باوجود ایسے گذارتے رہے جیسے کسی  کا  حج کا ٹکٹ اور ویزہ سب لگا ہو اور جہاز چلنے بند ہو جائیں۔ جو والدین اس طرح کی کیفیت سے گزر چکے ہیں وہ سمجھ سکتے ہیں کہ میں کیا کہہ رہا ہوں۔

ہسپتال سے فارغ ہونے کے بعد جب اس کو گھر لے کر آئے تو مستقل طور پر اس کی سانس لینے کی آواز سے ہم پریشان ہوتے تھے۔ اس کیفیت کو ‘اسٹرائیڈر’ کہتے ہیں اور یہ عمر کے ساتھ ساتھ بہتر ہو جاتی ہے۔  کہیں جاتے آتے تو لوگ مڑ مڑ کر دیکھتے تھے کہ  یہ لوگ اس ‘بیمار’ بچی کے ساتھ کہاں آگئے۔  اس کیفیت میں ہم مختلف ڈاکٹروں کے چکر لگاتے رہے، کوئی ڈاکٹر جو ہمارے سوالوں کا جواب دے دے۔ کافی ڈاکٹروں کے چکر لگانے کے بعد، جن میں کراچی کے نامور سرجن اور بچوں کے مشہور ڈاکٹر بھی شامل ہیں، ہماری ملاقات ریحان بھائی سے ہوئی۔  انہوں نے جویریہ کا اچھی طرح معائنہ کرنے کے بعد ہمیں بتایا کہ  یہ کسی صورت ڈاؤنز کا کیس نہیں  ہے۔ (ڈاؤنز کے بارے میں آگے بات  آ رہی ہے)۔  مزید تشفی کے لیے انہوں نے ہمیں اس کا کروموسوم کا ٹیسٹ کرانے کہا  جو کہ بعد میں  نارمل آیا۔ ڈاکٹر فریدہ اور ڈاکٹر ریحان، وہ دو لوگ ہیں جنہوں نے ہماری ہر اس طرح سے مدد کی جس طرح کوئی ڈاکٹر کر سکتا ہے، ریحان بھائی نے تو اس سے بھی زیادہ۔  دونوں ہماری باتوں کو توجہ سے سنتے تھے۔ خاصا وقت دیتے تھے۔ اگر ہم کوئی سوال کرتے تھے تو  اس کا جواب اچھی طرح دیتے تھے ، ٹالتے نہیں تھے۔ جویریہ کی پوری زندگی میں ہم ان دو افراد کے ساتھ کافی وابستہ رہے اور ان دونوں  کے اس ہمدردانہ رویہ کی وجہ سے ہمارا دل ڈاکٹروں  کی طرف سے کافی صاف رہا۔ دو سال کی عمر تک جویریہ کئی دفعہ ہسپتال میں رہی، ایک دفعہ آئی سی یو بھی ہو کر آئی۔  تاہم اس دوران ہم لوگ کافی حد تک اس کے ساتھ زندگی گذارنے کے عادی ہو گئے تھے۔  ہمارے گھر میں کئی  طرح کی مشینیں آگئیں۔ ایک سکشن مشین بھی لی گئی جس کا استعمال یہ تھا کہ بچی کے حلق میں ایک نالی ڈال کر بلغم کو کھینچ کر باہر نکالنا ہوتا تھا۔  یہ ایک صبر آزما کام تھا اور مجھ سا ڈھیٹ بھی یہ کام کرنے سے  گھبراتا تھا، لیکن میری اہلیہ نے اس موقع پر بھی مجھ سے بڑھ کر ہمت دکھائی اور کئی دن تک وہ یہ کام دن میں متعدد دفعہ کرتی رہیں۔

زندگی پھر کبھی ویسی نہ رہی۔ ہمارے معمولات کافی تبدیل ہو چکے تھے۔ آنا جانا ، ملنا ملانا کافی حد تک کم ہو گیا تھا۔ کسی تقریب میں جانے سے قبل پہلے ہمیں دیکھنا پڑتا تھا کہ تقریب کتنی دیر کی ہے، کس کی ہے، کیا وہاں سردی ہوگی، کیا ہوا ہو گی، کیا ہم تقریب درمیان میں چھوڑ کر آسکیں گے۔  غرض ہماری ، خاص طور پر میری اہلیہ کی، تفریح اور آرام مکمل طور پر جویریہ کی صحت اور طبعیت کے تابع ہو گئے۔  ہم کہیں جاتے تھے تو باہر کے گرد و غبار اور شور دھوئیں کی وجہ سے   اے سی چلاتے تھے، لیکن چونکہ جویریہ کو خنکی سے بھی مسئلہ ہوتا تھا ، چنانچہ میری بیگم کو اسے گود میں لے کر پیچھے بیٹھنا پڑتا تھا۔   ناواقف سمجھتے کہ شاید ہماری ناراضگی اتنی بڑھ گئی ہے کہ ہم ساتھ نہیں بیٹھتے ، اور واقف سمجھتے کہ میں اپنی قدامت پسندی کی وجہ سے ایسا کرتا ہوں۔  ہم نے چاول کھانا تقریباً بند کردئیے اور کھاتے بھی تھے تو اس سے چھپ کر کیونکہ چاول اس کے لیے ناموزوں تھے  اور یہ  چاولوں کی عاشق۔

پھر جویریہ کی زندگی کا سنہرا دور آیا، اور یہ وہ دور ہے جس کی یادیں میرے دل میں  نقش  ہیں۔ اس میں وہ ہنستی ہے، ہنساتی ہے، پیار کرتی ہے، ناز اٹھواتی ہے، نخرے دکھاتی ہے۔ یہ وہ دور ہے جب میں نے اس کے لیے کراچی کے مہنگے سے مہنگے کپڑے لا کر دیے۔  جب ہم لوگ باہر کھانا کھانے جاتے تھے اور جویریہ گاڑی کی پچھلی سیٹ پر دونوں اگلی سیٹوں کے بیچ میں  کھڑی ہوجاتی اور پورے راستے سونے کا نام  نہ لیتی۔  جب اس کی شرارتوں سے تنگ آکر میں  کہہ دیتا کہ میں اب کھانا کھانے باہر نہیں جاؤں گا۔  اور کچھ دن بعد ہم  پھر نکل کھڑے ہوتے۔  اس وقت میں بھی ہم کو اس کی نگہداشت کرنی تو پڑتی تھی لیکن نسبتاً کم۔ اس کی سانس کی آواز اب بھی آتی تھی لیکن صرف کسی نئے بندہ کو کہ ہم تو عادی ہو گئے تھے۔  غرض اس  نے کافی حد تک اپنی پیدائشی کمزوری پر قابو پا لیا تھا۔  اسی دوران ہم نے اس کی اسکولنگ، بلکہ صحیح معنوں میں ، ہوم اسکولنگ شروع کرا دی جہاں اس  کا خیال اور بھی زیادہ رکھا جانے لگا۔  ساتھ ساتھ اس کو  نیبولائز کرنا پڑتا تھا لیکن کبھی کبھار۔

جب وہ تین سال کی ہوئی تو اس کی ماں ، جو گزشتہ ایک سال سے مجھے مستقل  کہے جا رہی تھی، نے مجھے مجبور کیا کہ میں اس کا چیک اپ کرواؤں کہ وہ بولتی کیوں نہیں۔  میں ٹالتا رہا کہ بچے کبھی کبھار پانچ سال تک بھی نہیں بولتے لیکن اس کا اصرار بڑھتا گیا۔ ہمیں اس کا سماعت کا ٹیسٹ کرانے کا کہا گیا۔  اور جب رزلٹ آیا تو میرے پیروں کے نیچے کی زمین  نکل گئی۔ رپورٹ میں درج تھا کہ اس کی سماعت ایک کان سے ہوتی ہی نہیں اور دوسرے کان سے کم ہے۔  ایک اور جگہ یہی ٹیسٹ کرایا تو وہ پہلے سے بھی عجیب آیا کہ اس میں دونوں کانوں میں محض بیس فیصد سماعت ثابت ہوئی تھی۔  ہمارے لیے یہ حیرت کی بات یوں تھی کہ ہم نے کبھی اس طرح کا معاملہ محسوس نہیں کیا تھا۔ وہ میرے ساتھ ساری نظموں پر  ایکشن کرتی تھی  اور اس سے پہلے کبھی مجھے یہ شک نہیں ہوا تھا کہ ایسا ہو سکتا ہے۔  ہم نے، بلکہ اگر صحیح کہا جائے تو میں نے، اس وقت ایک فیصلہ یہ کیا کہ فی الحال اس کو سماعت کا آلہ نہیں لگائیں گے،  کیونکہ اس ٹیسٹ کا ایک مسئلہ یہ تھا کہ اس میں نزلہ کی کیفیت بالکل نہیں ہونی چاہیے اور جویریہ کا تو  مسئلہ ہی دائمی نزلہ کا تھا۔ تو میں نے اپنے مشاہدے کو  بنیاد بنا کر اس کو آلہ نہیں لگایا۔ ہم نے جویریہ کی زبان کی بندش کو کھولنے کے  لیے اس کی اسپیچ تھراپی کرانی شروع کی۔ یہ وہ مقام ہے جہاں میں نے اپنی زندگی کے چند با ہمت ترین لوگوں کو دیکھا۔

انسانی جسم کے ہر  خلیہ یعنی سیل میں 46 کروموسوم ہوتے ہیں۔  یہ  کروموسوم جوڑوں کی شکل میں ہوتے ہیں  اور ان کروموسوم  میں انسان کے جسم کے متعلق انتہائی اہم اور بنیادی معلومات ہوتی ہیں۔  ان 23 جوڑوں میں سے اکیسواں کروموسوم جوڑا  اگر ذرا سا بھی بگڑ جائے یعنی   اس میں کروموسوم دو سے زیادہ ہو جائیں  تو اس سے جو کیفیت پیدا ہوتی ہے اس کو ‘ڈاؤنز  سنڈروم’ (Down’s Syndrome) کہتے ہیں۔  ڈاؤنز بچے بہت پیارے ہوتے ہیں   اور ان میں کافی بچے بڑے ہونے کے ساتھ ساتھ اپنے آپ کو کافی سنبھال لیتے ہیں لیکن ان کے لیے ایک آزادانہ زندگی گذارنا ایک چیلنج ہوتا ہے۔

ہم  جویریہ کو  پہلے شہید ملت روڈپر واقع  ایک میموریل سینٹرلے جاتے تھے ، پھر اس کو گلشن میں واقع ایک خصوصی تعلیم کے اسکول میں لےجانے لگے۔   دونوں جگہ کافی لوگ اپنے بچوں کو  اسپیچ تھراپی کے لیے لے کر آتے تھے۔ اور ان میں سے  کچھ  بچے ڈاؤنز ہوتے تھے۔  ایک پیاری سی بچی   وہاں آتی تھی جو کہ ڈاؤنز تھی۔ بہت صاف ستھری، بالکل گڑیا جیسی، اس کی ماں اس کو آہستہ آہستہ سہلاتی رہتی۔ کئی دفعہ وہ ماں سے ناراض ہو جاتی لیکن ماں اس کو کچھ کہتی نہیں تھی۔  صرف ایک نہیں، کئی لوگ تھے، ہمت اور سطوت کے  پہاڑ۔ جو ایسی زندگیاں گذار رہے ہیں جن کا  اکثر لوگ تصور بھی نہیں کر سکتے۔ آپ کو اگر لگتا ہے کہ آپ کے بیٹے کا رنگ کم ہے تو جا کر کسی ایسے  گھر میں تھوڑی دیر بیٹھ آئیے۔ اگر آپ سمجھتے ہیں کہ بے اولاد ہونے کی وجہ سے آپ کے ساتھ کوئی ظلم ہو رہا ہے تو پہلے اولاد کے دکھ کو سمجھنے کی کوشش کر کے دیکھ لیں۔  اگر آپ کا کوئی رشتہ دار  یا دوست ٹائم پر نہیں آرہا اور اس کے گھر میں کوئی بچہ ہے جو عام بچوں سے مختلف ہے  تو ان کو شک کا فائدہ ضرور دے دیں کہ  کئی دفعہ محض باتھ  روم لے جانا  اور کپڑے تبدیل کرانا ہی بہت بڑا چیلنج ہو جاتا ہے۔  ایسے والدین کو دیکھ کر ، ان سے بات کر کے، ان کی ہمت دیکھ کر، اپنی چھوٹی سی تکلیف کوئی تکلیف ہی نہیں لگتی تھی۔  ان لوگوں کے سامنے ہم اپنے آپ کو ناشکرے بونے تصور کرتے تھے۔ ان سب کے علاوہ  ایک اور بھی  ہستی تھی جس کو دیکھ کر ہماری ہمت اور بڑھتی تھی اور وہ تھی خود ہماری بیٹی۔

 مجھے یاد نہیں پڑتا کہ اپنی پوری زندگی میں جویریہ نے کبھی کھل کر سانس لی ہو۔  کوئی دن ایسا مجھے تو یاد نہیں ، جب میں نے اس  کی سانس کی آواز نہ سنی ہو۔  اس کو کھانسی اکثر رہتی تھی۔ لیکن اس کے باوجود اس کو ہنسنا آتا تھا۔ خوش رہنا آتا تھا۔ خوش کرنا آتا تھا۔ ہر ملنے والے سے ہنس کر ملنا اور ملنے والے کو مسکرانے پر مجبور کر دینا یہ اس کے لیے کوئی مسئلہ ہی نہیں  لگتا تھا۔  وہ مجھے یا اپنی ماں کو اداس نہیں دیکھ سکتی تھی۔ وہ  ہمیں فارغ بھی نہیں دیکھ سکتی تھی۔ اس کو پڑھنے کا بہت شوق تھا اور  ہمارے گھر کے در و دیوار اس کی نوٹ بک بن چکے تھے ۔ کہیں ڈرائنگ کی مشق تو کہیں گنتی کی۔  چھوٹے بھائی کے ساتھ اس  کا رویہ ویسا ہی تھا جیسا سب بڑی بہنوں کا ہوتا ہے، دشمنی بھری دوستی!

جویریہ کی وجہ سے ہم نے کچھ انتہائی سطحی لوگوں کو بھی دیکھا۔ وہ لوگ جو ڈاکٹری کے معزز پیشے کو معزز نہیں سمجھتے، صرف پیشہ سمجھتے ہیں۔ وہ بھی جو ان چیزوں کے کاروبار میں ہوتے ہیں۔ ان لوگوں کے لیے سامنے والے کے  جذبات کی یا تو کوئی اہمیت نہیں ہوتی، یا ان کے پاس اپنی بات کو اچھے طریقے سے کرنے کا وقت   یا صلاحیت یا دونوں نہیں ہوتے۔ اکثر ڈاکٹر  ذرا سے مختلف بچوں کو مختلف کیٹیگریز میں رکھ کر آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔  وہ بچے کی پرابلم یا بیماری کی تہہ تک پہنچنے کی کوشش کرنے میں اپنا وقت ضائع کرنا نہیں چاہتے  بلکہ مریض کو اپنے ذہن میں موجود  مختلف ڈبوں میں سے ایک میں ڈال دیتے ہیں۔ ان کے پیسے کھرے ہو جاتے ہیں تو وہ آگے بڑھ جاتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ ان کی توجہ موجودہ کیس پر نہیں بلکہ آنے والے کیس پر ہے۔   ایسے لوگ میرے نزدیک اپنے پیشے کے ساتھ انصاف نہیں کرتے۔ ڈاکٹروں کو فیس لینے سے کسی نے نہیں روکا لیکن فیس کو زندگی کا مقصد بنا لینا ایک تکلیف دہ امر ہے۔ اور رہی بات صحت سے متعلق  دوسرے کاروبار، تو وہ بہرحال کاروبار ہی ہیں۔  آلہ سماعت  بیچنے والے کراچی کے ایک بڑے ادارے کے مالک صاحب نے مجھے  کہا کہ حضرت آپ جلد سے جلد آلہ سماعت لگوا لیں ورنہ آج تو آپ کی بیٹی بہری ہے کل کو خدانخواستہ گونگی نہ ہو جائے۔  ا س جملے کی کاٹ کا اندازہ بھلا اس شخص کو کیسے ہوا ہوگا؟ گھر آ کر بھی بہت دیر اس جملے کی گونج میرے دل و دماغ میں رہی۔   ابھی بھی میں یہی سوچتا ہوں کہ کوئی شخص اس قدر آسانی سے اتنا سفاک جملہ کیسے بول سکتا ہے۔ لیکن حقیقت یہی ہے کہ صحت اس ملک میں آسانی سے حاصل نہیں ہوتی، کیونکہ ایسے لوگوں سے یہ  شعبہ اٹا پڑا ہے۔ پھر بھی کچھ لوگ ہیں جو اس شعبے کی عزت کو برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ جیسے ہمارے دونوں  محسن ڈاکٹرز یا میرے کزن  ڈاکٹر  شیخ جنہوں نے جویریہ کے آخری ایام میں ہماری  ہر ممکن مدد اور رہنمائی کی ۔

جویریہ  کی زندگی کے آخری کچھ مہینوں میں مجھے رہ رہ کر اس کی حفاظت کا خیال آتا تھا۔   لگتا تھا کوئی اس کو مجھ سے چھین لے گا۔ ہر سگنل پر، ہر  پارک میں جہاں ہم جاتے تھے، وہاں میں بالکل مزہ نہیں کرسکتا تھا۔ ایک عجیب سی کیفیت تھی جسے میں اپنی  اہلیہ تک سے بیان نہیں کر سکتا تھا۔ جانے کیوں مجھے لگتا تھا کہ یہ اب زیادہ عرصے نہیں رہے گی۔  میری اہلیہ اس بات پر پریشان ہوتی تھی کہ اس کی شادی کیسے ہوگی اور مجھے ایک لمحہ کے لیے بھی اس کی فکر نہیں ہوتی تھی۔ مجھے فکر تھی تو یہ کہ یہ بڑی ہوجائے۔  بظاہر یہ ایک نہ سمجھ میں آنے والی بات تھی کہ ایک ایسی بچی جو اتنے مشکل دور کو نسبتا ً با آسانی گذار آئی ہو  اس کو آگے ایسا کیا خطرہ ہو سکتا ہے  … لیکن ایک چیز مجھے کھٹک رہی تھی۔ کچھ عرصے سے اس کی طبیعت اچانک بہت بگڑجاتی۔ گلا بالکل بند ہو جاتا اور اگر فوراً اسٹیرائیڈ کا انجیکشن یا  گولی نہ ملتی تو حالت بہت نازک ہو جاتی۔  بس یہی وہ بات تھی جو مجھے  بے چین کئے رکھتی تھی۔ میں جویریہ کی پیدائش کے دن سے اس کی  وفات کے دن  تک  اپنی بیوی کی ہر کال ایسے اٹھا تا تھا کہ اس کے ساتھ یا اللہ خیر کی دعا ہوتی تھی۔

اس اتوار کو میں دفتر میں تھا۔ اور میرے موبائل پر  جویریہ کے ماموں کا فون آرہا تھا۔  میں نے سوچا نماز پڑھ کر کال کر لوں گا ، اس لیے کال نہیں اٹھائی ۔ لیکن جب دوبارہ کال آئی تو میں نے کال اٹھائی  ۔ دوسری طرف سے  ایک کہرام پڑا تھا اور اس میں  اس کے ماموں کی چیختی ہوئی گھبرائی ہوئی آواز کہ “فراز بھائی جلدی آئیں جویریہ کی طبیعت بہت خراب ہے”۔  میں فی الفور اپنی گاڑی کی جانب دوڑا ۔ گاڑی میں بیٹھتے ہی میں مجھ پر سکون کی ایسی کیفیت طاری ہوئی کہ مجھے یقین ہو گیا کہ کچھ ہونے والا ہے۔ میں نے اپنے رب سے دعا کی کہ” اے اللہ یہ آپ ہی کی امانت ہے، آپ ہی اس کا خیال کریں ، میں تو کچھ بھی نہیں کر سکتا”۔ ایسی گفتگو میں  پہلے کئی بار کر چکا تھا … لیکن مجھے کبھی بھی ایسی خاموشی محسوس نہیں ہوتی تھی ، جیسی اس دن ہوئی۔

موبائل پر مستقل رابطہ میں رہتے ہوئے پتہ چلا کہ  جویریہ کو وہ لوگ پہلے ایک ہسپتال لے گئے لیکن ان کے پاس نہ قابل ڈاکٹر تھے نہ آلات۔ تو پھر وہ دوسرے ہسپتال لے کر پہنچے اور  وہاں میں پہنچا۔  اس وقت تک وہ بے ہوش ہو چکی تھی۔  پتہ نہیں اس کو میرے چیخنے کی آوازیں آئی ہونگی کہ نہیں۔  بہرحال اس ہسپتال سے بھی یہی جواب ملا کہ اس کو کسی ‘بڑے’ ہسپتال لے کر جائیں۔  وہاں سے ایمبولینس میں اپنی بیٹی کو ڈال کر میں اور اس کی نانی  شہر کے دوسرے کونے پہنچے تو ڈاکٹروں نے کچھ ہی کوشش کے بعد یہ کہہ دیا کہ اب کچھ ہو نہیں سکتا۔  اس سارے وقت میں میں اپنے آپ کو کس طرح سنبھالے ہوئے تھا ، میں نہیں جانتا۔  بالآخر ڈاکٹروں نے ‘انا للہ و انا الیہ راجعون’ کہہ کر میری بیٹی کی رخصتی کا اعلان کر دیا۔

رات چونکہ کافی ہوگئی تھی ، اس لیے  ہم نے اس کی تدفین دوسرے دن کرنے کا ارادہ کیا۔ رات کو سونا اگرچہ ایک مصیبت  تھا لیکن ضروری بھی تھا۔ صبح جب ہم اٹھے تو میں اور میری بیوی دونوں نے ایک دوسرے سے یہ کہا کہ یوں لگ رہا ہے کہ جیسے کوئی پراجیکٹ ختم ہو گیا۔ ایسا لگ رہا تھا کہ کوئی  بہت بڑی ذمہ داری تھی جس سے ہم لوگ عہدہ برآ ہو گئے ہیں۔ جب اس کو تدفین کے لیے لے جا رہے تھے اور میں نے اس کی پیشانی پر بوسہ لیا تو  لگا کہ اس کا سرد وجود گویا وقت میں قید ہو کر رہ گیا ہے۔ اس کی تدفین کے وقت بھی میں کافی مطمئن تھا۔  کیوں  ؟ کیسے ؟ یہ میں نہیں جانتا ۔  اور جب میں دعا کروا رہا تھا تو میری آنکھوں کے سامنے وہ سارے بچے گھوم رہے تھے جن کو امریکی و اسرائیلی درندوں کی گولیاں اور میزائل روزانہ موت کے گھاٹ اتار رہے تھے۔

یہ محض میرے رب کا کرم ہے کہ میں اور میری بیوی دونوں اپنے حواسوں میں ہیں۔ اولاد کی موت پر میں نے لوگوں کو نیم پاگل بلکہ مکمل پاگل ہوتے دیکھا ہے۔  الحمد للہ ! اللہ کا فضل ہے کہ اس نے ہمیں ایمان کی دولت عطا فرمائی ۔ سو ہم جانتے ہیں کہ تقدیر لکھ دی گئی ہے، اس سے ہٹ کرایک  پتہ بھی نہیں گرے گا۔ اب اس بات کا رونا کیسا کہ یہ کس کی غلطی تھی،  کیا میری  اہلیہ  کی جس نے اپنی پوری زندگی اپنی بیٹی کے لیے وقف کردی اور جو اس وقت وہاں موجود تھی۔ کیا اس کے ماموں کی جس بیچارے کے سامنے شاید یہ پہلا ایسا کیس ہوا تھا۔ یا اس نظام کی جس میں شہر میں ہسپتال تو کئی ہیں لیکن قابل عملہ اور آلات ناپید۔

ہمیں سمجھ آیا کہ اولاد ہونا بذات خود کوئی فخر کی بات نہیں بلکہ یہ تو ایک مسلسل ذمہ داری ہے۔ اگر اولاد کی تربیت صحیح نہ کی اور وہ اولاد خدانخواستہ  نافرمانی کے راستے پر چل پڑی تو وہ الٹا وبال بن جائے گی۔  تو اس حساب سے دیکھا جائے تو ہم کافی خوش نصیب رہے۔  ان مع العسر یسراً  بے شک مشکل کے ساتھ آسانی ہے۔  دیکھیں ناں کتنی آسانی ہو گئی ، کہ اب نہ رشتہ تلاش کرناپڑے گا ، نہ پڑھانے کی فکر، نہ کھلانے پلانے کی فکر، نہ ڈاکٹروں کے چکر ، نہ لوگوں کو جواب دینے کی فکر کہ اس کو ہوا کیا ہے، نہ کسی کو یہ باور کروانے کی مشق کہ یہ سب سنتی ہے بس بولتی نہیں۔ بس یوں سمجھ لیں کہ ہم نے اپنے بیٹی کو اچھی طرح پڑھایا لکھایا، بہت اچھا سا لڑکا اس کے لیے دیکھا اور اس کو رخصت کر دیا، شادی کے بعد وہ ایسی جگہ چلی گئی جہاں نہ فون ہے نہ انٹرنیٹ، اور اس کو واپس آنے میں کافی وقت لگے گا۔ اس با ت کا یقین ہے کہ اب وہ اس  ہستی کے پاس ہے جو مجھ سے اور اس کی ماں سے  اسے کہیں زیادہ پیار کرتا ہے، بلکہ پیار تو کرتا ہی ہمارا رب ہے، ماں باپ تو محض ایک ذریعہ ہوتے ہیں۔ اللہ نے اپنے نبی ؐ کی زبان مبارک سے جو ہمیں بشارتیں دی ہیں وہ  سنتے ہیں اور دل کو بہلاتے ہیں کہ بس چند دن اور۔

بے شک ان مع العسر یسراً  کہ ، محض تین ہفتے بعد ہی، اللہ نے ہمیں  ایک اور اولاد دے دی۔  ایک اور بیٹا دیا۔ یہ بھی اس کا کرم ہے۔ ہم شاید جویریہ کی یاد کو بھلا جاتے اگر بیٹی ہی مل جاتی۔ یہ سب اس کا فضل، اس کا کرم، اس کی رحمت، اس کی مرضی، اس کی  مقرر کردہ تقدیر ہے۔ ہمارے پاس اگر کوئی  اختیار ہے تو محض یہ کہ ان گزرتے ہوئے حالات میں ہمارا ردعمل اور نیت کیا ہوتے ہیں۔ ہونا وہی ہے جو لکھا ہوا ہے، لیکن کیا ہم اس پر راضی بھی ہیں؟  مجھے نہیں پتہ کہ اس میں اللہ کی کیا مصلحت تھی کہ اولاد کو اگر واپس ہی لینا تھا تو  عطا کیوں کی تھی یا اتنا بڑا کیوں کیا،   بس یہ وہ مقام ہے جہاں تسلیم و رضا ایک نتیجہ پیدا کرتی ہے اور  ماتم اور نا شکری کے کلمات ایک دوسرا نتیجہ۔ایسا نہیں کہ ہم دونوں آنسو نہیں بہاتے۔ آنسو تو  نبی اکرم ؐ نے بھی اپنے صاحبزادے کی وفات پر بہائے تھے، حضرت یعقوب ؑ کی آنکھیں حضرت یوسف ؑ کے غم میں سفید ہو گئی تھیں۔ اس کو بھول جانا ہمارے بس میں نہیں کہ یہی لگتا ہے کہ یہ سب ایک خواب ہے۔ ایسا ہم نہیں کرسکتے کہ یہ یکسر بھول جائیں کہ ہماری کبھی کوئی بیٹی تھی حالانکہ  شاید اس سے ہمارا غم بہت حد تک کم ہو جائے۔ لیکن یہاں معاملہ یہ ہے  کہ غم کو بھلانا مقصود نہیں ہے بلکہ اس غم کے ذریعے  اپنے رب تک پہنچنے کا راستہ آسان بنانا ہے۔ یہی ہے مومن کی زندگی کا  حال۔ مصیبت پر صبر  اور آسانی پر شکر۔ ہر دو صورتوں میں مقصد اور مقصود صرف ایک،  اور وہ یہ کہ ہمارا رب ہم سے خوش ہو جائے۔  لہٰذا  حضرت یعقوب ؑ کے الفاظ میں ہی  انما اشکوا بثی و حزنی الی اللہ    کہتے ہیں اور اللہ سے  یہی دعا کرتے ہیں کہ وہ ہم کو اپنے فرمانبردار بندوں میں شامل کرلے اور انہی میں ہمیں رکھے۔ آمین۔

میں ابھی تک یہ فیصلہ نہیں کرپایا ہوں کہ میں نے یہ مضمون لکھا کیوں ہے۔ بس مجھے  بہت سوچنے کے بعد یہی سمجھ آیا کہ مجھے اپنے احساسات کو کاغذ پر منتقل کر لینا چاہیے۔ اگر آپ یہاں تک پڑھ رہے ہیں تو بس ایک چھوٹی سی بات چلتے چلتے اور عرض کر دوں کہ   اپنی اولاد پر پیسہ خرچ کرنے سے زیادہ کوشش اس بات کی کریں کہ اس کو بھرپور وقت اور توجہ دیں ۔ اپنی اولاد کو اپنے لیے صدقہ جاریہ بنانے کی کوشش کریں اور اپنے والدین کے لیے خود  صدقہ جاریہ بننے کی۔   اپنے پیاروں کے ساتھ وقت گذارنے میں خوشی محسوس کریں۔  میں نے جویریہ کو آخری دفعہ اس کی نانی کے گھر چھوڑا تھا اور وہ کمپیوٹر پر بیٹھی تھی، میں چپکے سے نکل گیا کہ اگر اس نے نکلتے ہوئے دیکھ لیا تو قیامت ڈھا دے گی۔ آپ ہی بتائیے  کہ  اگر  مجھے پتہ ہوتا کہ یہ میری اس سے آخری ملاقات ہے تو میں کبھی ایسے جاتا؟  وہ پورا دن اس کے ساتھ نہ گذار دیتا؟ اللہ نے ہم سے ہماری تقدیریں اوجھل رکھی ہیں ، ہم نہیں جانتے آگے کیا ہونے والا ہے، لیکن یہ تو کوشش کرسکتے ہیں نا کہ اپنے ہر الوداع کو خوشگوار بنا لیں، کیا پتہ پھر کتنے ہزار سال بعد کس جگہ کیسے ملاقات ہو؟

Homeschooling: Why and How!

Posted in Social revolution by baigsaab on March 1, 2011

Inqilab!

Posted in Islam, Social revolution by baigsaab on February 6, 2010