Baigsaab's Blog

آپ کا فرض!-

Posted in Islam, Personal, Social revolution by baigsaab on June 19, 2015

بھوک انسان سے کیا کیا کرواتی ہے۔ بھوکا آدمی چوری بھی کر سکتا ہے اگر اس کو کھانے کو کچھ نہ ملے۔ لوگ اپنے بچوں کی بھوک سے پریشان ہو کر خودکشی کر لیتے ہیں کہ موت اس تکلیف سے آسان لگ رہی ہوتی ہے۔

مگر بھوک کو انسان اختیار بھی کر لیتا ہے۔ کبھی کوئی اپنا مر جائے تو کھانے کی طرف دیکھنے کا بھی دل نہیں چاہتا۔ کبھی بہت غصہ آئے تو انسان کھانا پینا چھوڑ دیتا ہے۔

انسان اپنے کسی بڑے مقصد کے حصول کے لیے بھی بھوکا رہ لیتا ہے۔ کتنے ہی ایسے لوگ ہیں جو نہ آخرت کو مانتے ہیں نہ خدا کو مگر اپنے کاموں کے لیئے کئی کئی وقت کی بھوک پیاس برداشت کر لیتے ہیں۔

تو کیا ہم مسلمان ان ملحدوں سے گئے گزرے ہو گئے ہیں؟ ذرا افطار کے وقت ٹریفک کا حال دیکھیں۔ لگتا ہے مسلمانوں نے روزہ رکھ کر احسان کر دیا ہے کسی پر۔ ہر کوئی بے صبری کے بام عروج پر ہے۔ ہر کوئی اس فکر میں ہے کہ روزہ گھر والوں کے ساتھ کھول لے۔ اس جلدی میں کبھی کسی کی گاڑی کسی کو لگ جائے تو برملا گالیاں تک دینے سے دریغ نہیں کرتے۔ شکر ہے کافی عرصے سے ہاتھا پائی دیکھنے میں نہیں آرہی۔

یہ سب کچھ یہ جانتے ہوئے ہے کہ اللہ کو ہماری بھوک اور پیاس کی کوئی ضرورت نہیں۔ کسی کے پیاسے رہ لینے سے اس بے نیاز ہستی کو کیا فائدہ یا کیا نقصان؟ پھر بھی اس نے اس عبادت کا ثواب خاص اپنے لیے مخصوص کر لیا ہے کہ وہ ہی اس کا بدلہ دے گا۔ روزے کا فائدہ صرف اور صرف انسان کے اپنے لیئے ہے۔ اور وہ یہ کہ وہ انسان جس میں اللہ نے اپنی طرف سے ایک انتہائی اعلیٰ شے یعنی ‘روح’ پھونک دی ہے وہ انسان اپنی چھوٹی چھوٹی نفسانی خواہشات کو قربان کر کے اس اعلیٰ حیثیت کو حاصل کر لے اور اس ‘احسنِ تقویم’ تک پہنچ جائے جس پر اس کو پیدا کیا گیا تھا۔

روزہ رکھیں ضرور، کیونکہ وہ فرض ہے۔ مگر یہ یاد رکھ لیں کہ آپ کا روزہ آپ پر ہی فرض ہے، دوسروں پر نہیں۔

Advertisements
Tagged with: , , ,

یہ کیسی عید ہے؟

Posted in Social revolution by baigsaab on August 1, 2014

یہ عید کا دن تھا، اور عید کے دن عصر سے پہلے کا وقت کافی خاموشی کا ہوتا ہے۔ رمضان کے آخری عشرے میں بازاروں میں جو رش ہوتا ہے اس کا اینٹی کلائمکس یہ خاموشی ہے۔ توعید کے دن کوئی چار بجے کا وقت ہو گا کہ جب میں فیڈرل بی ایریا کے ایک پٹرول پمپ پر تھا، ، جتنی دیر میں گاڑی میں ایندھن بھرا جا رہا تھا، میں سڑک سے گزرنے والے لوگوں کو دیکھ رہا تھا۔ کبھی موٹر سائیکل پر کوئی صاحب اپنے چھوٹے سے بچے کو لے کر جاتے، کسی کے ہاتھ میں غبارہ، کسی نے رنگین چشمہ لگایا ہوا، زرق برق لباس اور خوشی دیدنی تھی۔
اور اسی وقت میری نظر ان دو بچوں پر پڑی جن کو دیکھ کر لگ رہا تھا جیسے ان کی زندگی میں عید آئی ہی نہیں۔ اپنے ارد گرد موجود رونق اور زندگی سے بے نیاز وہ اس سائن بورڈ کے نیچے سو رہے تھے۔ کمپنی کے اشتہار میں موجود نوجوان جس پر سینکڑوں دفعہ نظر گئی ہو گی، آج ایسا لگ رہا تھا جیسے معاشرے پر ایک بھرپور طنز کر رہا ہو۔ جیسے کہہ رہا ہو، ‘بہت اعلیٰ کام کر رہے ہیں آپ لوگ ان بچوں کو نظر انداز کر کے’۔
آپ کہیں گے کہ میں نے بھی تو صرف تصویر کھینچنے پر ہی اکتفاء کر لیا۔ میں نے کون سے ان کو نئے کپڑے دلا دیئے۔ یا ان کو کھانا کھلا دیا، یا ان کو پیسے ہی دے دیئے کہ وہ کچھ خرچ کر لیں۔ درست۔ اور میں اس بات میں اپنے آپ کو قصور وار سمجھتا ہوں مگر مجھ میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ میں ان کو نیند سے اٹھا کر پوچھ لوں کہ ‘بیٹا کھانا کھایا ہے کچھ’۔ اور ایک دن کے لیے ان کو کھانا کھلا کر یا کپڑے دلا کر ان کو دوبارہ اس زندگی میں مستقل طور پر چھوڑ دوں۔ اور فی الحال کوئی ایسا بندوبست کرنا ممکن نہیں لگ رہا جس میں ایسے بچوں کا کوئی مستقل سہارا ہو سکے۔
ناچار ایک ایسی حرکت کرنا پڑی جو مجھے خود پسند نہیں۔ تصویر کھینچ کر فیس بک پر لگا دی اور اپنا ‘فرض’ پورا کیا!!!۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

کہتے ہیں عید تو بچوں کی ہی ہوتی ہے۔ اور واقعی بچے ہی اس دن سب سے زیادہ مصروف ہوتے ہیں۔ کبھی دادا کو سلام کر کے عیدی حاصل کی، کبھی نانا سے پیار اور عیدی۔ کبھی چاچا کبھی ماموں، کبھی خالہ تو کبھی پھوپھی۔ غرض ایک متوسط طبقے کے بچے کے پاس عید کے تین دنوں میں اچھی خاصی رقم جمع ہو جاتی ہے میرے اندازے کے مطابق اتنی رقم کہ جو عام دنوں میں ان کے اپنے گھر میں دو سے تین دن کا راشن اور گوشت ، سبزی وغیرہ کا انتظام کر سکے۔ ظاہر ہے بچوں کے اوپر یہ نا روا بوجھ ڈالنے کو میں نہیں کہہ رہا، مگر اتنا  ضرور ذہن میں آتا ہے کہ بچے ان پیسوں کا کرتے کیا ہیں؟ کھانا پینا تو ابا کے پیسوں سے ہی ہوتا ہے۔ دیکھا گیا ہے کہ بچےعموماً ان پیسوں سے کچھ خاص نہیں کرتے، بہت ہو گیا تو بہت سی ‘چیز’ کھا لی اور بس۔ بہت سے ماں باپ وہ پیسے بچوں سے لے کر، اس میں کچھ پیسے جوڑ کر، ان کے لیے کوئی اچھی سی چیز لے لیتے ہیں۔
مگر دیکھنے کی بات تو یہ ہے کہ عید ہوتی کیا ہے؟ عید تو رمضان میں اللہ کے حضور مسلمانوں کے روزوں، نمازوں اور قربانیوں کے معاوضہ کا دن ہے۔ جب اللہ تعالیٰ  اپنے بندوں سے کہتے ہیں کہ جاؤ میں نے بخش دیا تمہیں۔ تو ہم مسلمان خوشی مناتے ہیں۔ مگر اس خوشی میں اگر ہم وہ پورا سبق ہی بھول جائیں جو رمضان میں سوکھتے حلق اور خالی پیٹ میں سیکھا تھا تو یہ ایک بہت بڑا مسئلہ ہے۔
رمضان میں ثواب کئی کئی گنا بڑھ کر ملتا ہے۔ اسی لیے لوگ جوق در جوق، بلکہ زبردستی، لوگوں کا روزہ کھلوانے کے لیے پورے مہینےسڑک پر افطار کراتے ہیں۔ مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ باقی سال اتنا ثواب نہیں دے سکتے۔ اخلاص سے کیئے گئے نیکی کے کام کو اللہ تعالیٰ اپنی طرف سے سات سو گنا تک بڑھا دیتے ہیں۔ اور یہ بھی صرف ہمارے سمجھانے کے لیے ہی ہے۔ تو کیا ہی اچھا ہو کہ وہ لوگ جو  رمضان میں افطاریاں کراتے ہیں، باقی سال بھی اس کام کو کسی نہ کسی طرح جاری رکھیں۔

ناداروں کی دیکھ بھال کی اصل ذمہ دار حکومت وقت ہے۔ حضرت عمر ؓ کا وہ قول تو سب نے ہی سنا ہے کہ اگر فرات کے کنارے کتا بھی بھوکا مرتا ہے تو اس کا جواب دہ امیر المومنین ہے۔ تو ان بچوں کی اصل ذمہ داری تو حکومت پر ہی آتی ہے۔ اور اگر حکومت نہیں کرتی تو یہ لوگوں کی اولین ذمہ داری ہے کہ ہر ممکن طریقے سے حکومت کی توجہ اس جانب مبذول کرائیں۔

لیکن اگر حکومت کے کانوں پر جوں نہیں رینگتی، اور جو کہ واقعی نہیں رینگتی، تو یہ ذمہ داری معاشرے پر منتقل ہوجاتی ہے کہ اس معاشرے کے غریبوں کی مدد کی جائے۔ سب سے پہلا فرض رشتہ داروں اور پڑوسیوں کا ہے کہ وہ دیکھیں کہ ان کے قریب کے لوگوں کا یہ حال کیسے ہے۔  یہی اسلام کے معا شی نظام کی جڑ ہے، دولت  کا معاشرے میں ایسے گھومنا کہ جس میں دولت اہل ثروت میں ہی نہ قید ہو جائے، اور ایسے کہ ہرشخص اپنے قریبی رشتہ داروں اور پڑوسیوں کی خبر گیری کرے۔  اسلام کے معاشی نظام کی جڑ بنیاد میں مقصد معاشرے کی فلاح ہے۔
ایک عرصے سے یہ خیال ذہن میں ہے کہ یہ کام سب سے بہتر طریقے سے مساجد میں ہو سکتا ہے۔ ہماری اکثر مساجد میں اہل ثروت لوگ اپنی جیب سے بڑے بڑے خرچے کرتے ہیں۔ ائیر کنڈیشنر یا بڑے جہازی سائز پنکھے تو اب مساجد میں عام ہیں۔ مساجد میں بڑے بڑے منصوبے پایہ تکمیل کو پہنچ جاتے ہیں مثلاً مینار اور گنبد ۔ مگر انہی مساجد میں نماز کے بعد اگر کوئی مانگنے کھڑا ہو جائے تو اس کو ڈانٹ کر چپ کرا دیا جاتا ہے کہ اس بارے میں حکم یہی ہے اور یہی کرنا چاہئے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ چپ نہ کرایا جائے، میں صرف یہ کہتا ہوں کہ ہم دور صحابہ میں نہیں ہیں جب ایک حقیقی فلاحی ریاست کی بنیاد رکھی جا چکی تھی تو اس سلسلے میں اس شخص کے ساتھ نرمی سے پیش آیا جائے، اس کی تذلیل نہ کی جائے۔ دوسرے یہ کہ مساجد میں ایک مد باقاعدہ اس کام کی ہونی چاہیے۔ جس میں محلے میں جو غریب ہیں ان کے لیے کم از کم راشن  اور دوسری بنیادی چیزوں کا انتظام ہونا چاہیے۔ اگر کوئی مانگنے والا اس مسجد میں آئے تو اس کو امام صاحب سے یا مسجد انتظامیہ کے فرد سے رابطہ کرنے کہا جائے۔ اور بات کیونکہ محلے کی ہی ہے تو ان کے گھر کے حالات سب کے سامنے ہونگے۔ ہر مسجد میں یہ طے ہو کہ اپنے پڑوسی کی ہی مدد کی جائے گی۔ اگر کسی اور علاقے سے کوئی ایسا شخص آتا ہے جو واقعی ضرورت مند ہے تو مسجد کی انتظامیہ اس علاقے کی مسجد سے اس شخص کا رابطہ قائم کروائے۔

بظاہر یہ بہت سادہ بات ہے، مگر حقیقتاً اس میں بہت سی پیچیدگیاں ہیں۔ جن کا ادراک ہر اس شخص کو ہے جس نے مساجد کے معاملات کو تھوڑا بہت دیکھا ہے۔ ان مسائل کا تذکرہ کرنا ایک باقاعدہ الگ مضمون کا متقاضی ہے۔ کہنے کی بات یہ ہے کہ ہم من حیث القوم اگر بے حس ہو گئے ہیں تو رمضان اس بے حسی سے جاگنے کا ایک بہت بڑا موقع ہوتا ہے۔ مسجد اسلامی معاشرے کا ایک بہت اہم ستون ہے۔ اس کو اس مقصد کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہے اور کیا جانا چاہیے۔ تو اگر یہ کام ہو سکتا ہے، اور ظاہر ہے کسی اکیلے شخص کا یہ کام ہے ہی نہیں تو ، یہ کام کرنا ضرور چاہیے۔ جو بچے آج سڑکوں پر ایسے گھوم رہے ہیں۔ کل کو یہی بڑے ہوکر اگر غلط ہاتھوں میں پڑ گئے تو خدا نخواستہ ان سےمعاشرے کو ہی خطرہ لا حق ہو جائے گا، اور ہم ہی میں کچھ لوگ کہیں گے، کہ یہ لوگ کہاں سے آتے ہیں۔ یاد رکھیے، مجرم صرف جرم کو کرتا ہے، اسے جرم تک معاشرہ ہی لے کر جاتا ہے۔
اپنے بچوں میں ایثار اور قربانی کا جذبہ بیدار کرنا ہمارا ہی کام ہے۔ یہ کیسی عید ہوئی جس میں ہمارے بچے تو اتنا ‘کما’ لیں کہ ان کو خود سمجھ نہ آئے کہ کرنا کیا ہے ان پیسوں کا، اور یہ بچے کچھ بھی نہ پائیں جبکہ ان کے گھر میں بھوک ایک بہت بڑی حقیقت کے طور پر روزانہ جواب مانگتی ہو۔ تو اپنے بچوں سے ایسے بچوں کا سامنا کرائیں۔ ان کو پتہ ہونا چاہیئے کہ ان کو کیسی کیسی نعمتیں ملی ہوئی ہیں۔ ان کو پتہ چلنا چاہیئے کہ جن چیزوں کو وہ اپنا حق سمجھتے ہیں، ان میں سے درحقیقت کچھ بھی ان کا حق نہیں۔ اور ان کو پتہ چلے کہ اصل خوشی خود کھانے میں نہیں، بلکہ دوسروں کو کھلانے میں ہے۔ تب شاید ایسی عید آئے جس میں واقعی سب بچے خوش ہوں۔ کوئی بچہ عید کے دن محروم نہ ہو۔
مجھے اس عید کا انتظار ہے!۔

کیا خوب قیامت کا ہے گویا کوئی دن اور؟

Posted in Islam, protest, Social revolution by baigsaab on July 13, 2014

میری بیٹی کو ہم سے جدا ہوئے ڈیڑھ سال ہو گئے ہیں۔ کوئی دن ان ڈیڑھ سالوں میں ایسا نہیں ہے جب ہم نے اس کا ذکر  نہ کیا ہو۔ وہ کیسے کھاتی تھی، کیسے مسکراتی تھی۔ فلاں کپڑوں میں کیسی لگتی تھی۔ آج بھی مجھے وہ لمحہ یاد ہے جب میں نے اس کو اپنے ہاتھوں سے قبر میں اتارا تھا۔ اور حالانکہ اس کی سانس بند ہوئے کئی گھنٹے گزر چکے تھے ، لیکن اس ایک آخری لمحے میں، ایک امید تھی کہ شاید وہ پھر سے جی اٹھے!  اس پورے عرصے میں ، سوائے ایک آدھ مضمون کے، میں نے  اس کا ذکر عام محافل میں اور فیس بک پر بہت کم کیا ہے۔ ابھی بھی نہ کرتا  لیکن کیا کروں کہ گزشتہ کئی روز سے میری نظروں کے سامنے متواتر، بار بار، ایک کے بعد ایک ، جویریہ جیسی کئی  ننھی ننھی جانیں اپنی جان سے گزر رہی ہیں۔  میں جب ان بچوں کی بے نور آنکھوں کو دیکھتا ہوں تو قسم ہے میرے رب کی،صبر اور ضبط کے بندھن ٹوٹ جاتے ہیں۔

اسرائیل  نے غزہ میں جو بربریت کی تاز ہ تاریخ رقم کی ہے،  اس میں اس کی ہٹ دھرمی کے ساتھ ساتھ ہم مسلمانوں کی بحیثیت امت صریح غلطی ہے۔رسول اللہؐ کی صحابہ کرام ؓ سے گفتگو پر مبنی ایک حدیث کا مفہوم ہے کہ  جب ہمارے دلوں میں دنیا کی محبت اور موت سے نفرت پیدا ہو جائے گی تو دنیا کی قومیں ہم پر ایسے ٹوٹ پڑیں گی اور ایک دوسرے کو ایسے دعوت دیں گی جیسے دستر خوان پہ چنا ہوا کھانا۔ آج سے پہلے اس حدیث کا مفہوم شاید اتنا سمجھ نہ آ پاتا ہو لیکن اس دور میں اور خصوصاً نو گیارہ کے بعد کی دنیا میں یہ بالکل صادق آتی ہے۔ سچ ہے وہ بات جو کہی ہمارے پیارے نبی ؐ نے، یہ دنیا کی محبت ہے اور موت سے نفرت۔

خدا کی قسم کوئی باپ اپنے بچے کو دفنانا نہیں چاہتا۔ خدا کی قسم کوئی ماں اپنے بچے سے جدا نہیں ہونا چاہتی۔  لیکن کیا کریں کہ اللہ کی حکمت کے آگے چاہے یا نا چاہے ، سب کو سر جھکانا ہی پڑتا ہے۔ مگر ان  بچوں کے، اور بڑوں کے،  خون کے ایک ایک قطرے کا حساب  ان شاء اللہ لے لیا جائے گا۔  ان 57 ا سلامی مملکتوں سے بھی جن کے حکمرانوں کو اللہ نے اقتدار کیا دیا  یہ اپنے تئیں خود خدا بن گئے۔ مگر حال یہ کہ عالمی طاقتوں کے  آگے بھیگی بلی ہی نہیں بلکہ کچھ تو ان کے شکاری کتوں کا کام کر رہے ہیں۔  ان حالات میں کیا کریں؟  اسرائیل کو روکنے والا لگتا ہے کوئی نہیں! یاد رکھیں، ظالم کو ظالم سمجھ کر اس کا ساتھ دینے والا ایمان سے نکل جاتا ہے، اور یہ بھی اسی ہستی ؐکا فرمان ہے جس سے محبت کے ہم دعوے تو پہاڑ جیسے کرتے ہیں لیکن عمل ایک پتھر سے زیادہ نہیں۔

مایوسی پھیلانا یقیناً غلط ہے۔ میں بھی مایوس نہیں ہوں لیکن پریشان ضرور ہوں۔غزہ میں اپنے ارد گرد مرتے لوگ دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے۔ بھوکے بچوں کو ایک روٹی کے لیے ہوٹلوں اور ریستورانوں پر دھکے کھاتے دیکھ کر افسوس ہوتا ہے۔ لوگوں کو اپنی محفلوں میں انڈین آئڈل ،ٹونٹی ٹونٹی کرکٹ ، گاڑی، بنگلہ، پیسہ، اس کے علاوہ کسی اور چیز پر بات نہ کرتے دیکھ کر افسوس ہوتا ہے۔ کبھی کبھار تو ایسا لگتا ہے کہ سب چلتے پھرتے مقبرے ہیں ۔

خدارا پلٹیں اپنے رب کی طرف، ہمارا رب ہم سے شاید خوش نہیں ہے۔ پلٹیں اس سے پہلے کہ ہمیں بھی ایک ایسا عذاب آ پکڑے کہ سنبھلنے کی نوبت ہی نہ آئے۔ استغفار ہی واحد راستہ ہے۔ استغفار ہی سے اللہ مانتا ہے۔ خدارا ظلم کے خلاف باہر نکلیں، خدارا ان معصوم لوگوں کے لیے دعا کریں۔ خدارا ان تمام  مصنوعات  کے بارے میں خود تحقیق کریں اور ان سے رفتہ رفتہ پیچھے چھڑا لیں جو ان بچوں کو مارنے کے لیے اسرائیل کو پیسہ فراہم کرتی ہیں۔ خدارا دعا کریں ۔ خدارا نکلیں۔  اپنے لیے نہیں تو اپنے بچوں کے لیے۔  اپنے نہیں تو ان بچوں کے لیے ہی نکل آئیں جن کی سرد لاشوں کو جب ان کے والدین مٹی کے سپرد کر رہے ہونگے تو شاید ان کے دل میں بھی وہی پاگل سی امید جاگی ہوگی کہ شاید یہ پھر سے جی اٹھیں!

ان سارے جزیروں کو کوئی کاش ملا دے

Posted in Islam, protest, Social revolution by baigsaab on July 15, 2013

کیا وقت ہے یہ بھی! ایسا لگتا ہے پوری دنیا میں اگر کہیں خون بہہ رہا ہے تو وہ مسلمان کا ہے۔ لگتا ہے زمین نے مسلمان خون کے علاوہ کچھ قبول کرنے سے انکار کر دیا ہو۔ وہ برما ہو یا فلسطین۔ شام ہو یا سوڈان۔ افغانستان، پاکستان، بنگلہ دیش ، بھارت، کاشغر، ہر جگہ مرنے والا کلمہ توحید کا ماننے والا۔ کہیں ریاستی جبر ہے تو کہیں بیرونی۔ پھر بھی تمام مسلمان حکومتیں ایک دوسرے کے حالات سے یا تو لا تعلق نظر آتی ہیں جیسے بنگلہ دیش افغانستان کے بارے میں یا پاکستان برما کے بارے میں ۔ یا وہ براہ راست اس ظلم کی مدد کر رہی ہیں، جیسے شام میں ایران اور حزب اللہ ۔ مصر کے حالات پر سعودی اور پاکستانی ہر دو قیادتیں خاموش۔

اس تقسیم کو اور علاقائی پیمانے پر لے آئیں اور محض پاکستان کا ذکر کریں تو یہاں بھی حالات دگرگوں ہیں۔ وزیرستان میں ڈرون حملے، کوئٹہ میں ہزارہ قبائل کی صورتحال، کراچی میں روز گرتی بظاہر بے نام لاشیں، پنجاب کی بند ہوتی صنعتیں، سندھ میں ونی کی گئی لڑکیاں ، بلتستان میں مرتے سیاح۔ پورے ملک میں ہوتے دھماکے۔ یہ بچوں کو کھانا کھلانے سے قاصر ،خودکشیاں کرتے اور ان کا علاج نہ کرا پانے کی خلش کے ساتھ زندہ رہنے والے ماں باپ ۔ قدم قدم پر چھوٹےچھوٹے کاموں کے لیے اہلکاروں کی مٹھی گرم کرنے کی مجبوری۔ ان میں سے ہر مسئلے کا ایک چیمپئن ہے۔ جس نے رشوت ستانی کا مسئلہ دیکھ لیا اس کے لیے قیدی چھڑانے والے کی جدوجہد لا حاصل، اور جو شہروں کے دھماکوں پر سراپا احتجاج ہے وہ ڈرون حملوں پر احتجاج کرنے والوں پر سراپا تنقید۔ جس نے سیاسی جدوجہد کا راستہ دیکھ لیا اس کے لیے دوسرے تمام طریقے بدعت اور جس نے اسلحہ اٹھا لیا اس کے لیے باقی سب طفل مکتب!

اس تفریق کا اور کسی پر اتنا منفی اثر نہیں ہوا جتنا مذہبی طبقہ پر۔ اس کی وجہ کیا ہے یہ ہم آگے دیکھتے ہیں ۔ فی الحال تو یہ دیکھ لیں کہ اوپر گنوائے گئے اور دیگر تمام مسائل کے ساتھ جب الیکشن ہوئے تو لوگوں نے اسلامی جماعتوں کو نہ صرف یہ کہ ان مسائل کے حل کے لیے اپنے اعتماد کے قابل نہیں سمجھا بلکہ ایک صوبے کے علاوہ ان کو اس دفعہ کہیں منہ بھی دکھانے کے قابل نہیں چھوڑا۔ پورے ملک کی ایک ہزار کے قریب صوبائی اور قومی اسمبلیوں کی نشستوں سے اسلامی جماعتوں کے ہاتھ کتنی آئیں؟ پندرہ فیصد؟دس فیصد؟ جی نہیں تین فیصد سے بھی کم یعنی بمشکل تیس سیٹیں۔

بات یہ ہے کہ اسلامی ،خاص طور پر اسلامی غیر سیاسی قوتوں کو واقعی اس بات کا ادراک ہوتا نظر نہیں آتا (یا وہ اظہار نہیں کرتے) کہ لوگوں میں ان کی جڑیں کتنی کمزور ہو چکی ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ مذہبی قائدین نے کسی خاص حکمت عملی کے تحت اپنے آپ کو ان حالات میں الگ تھلگ رکھا ہوا ہے۔ علماء زیادہ بہتر جانتے ہوں گے کہ اس کی وجہ کیا ہے اور اس کے لیے لازماً ان کے پاس دلائل ہوں گے ۔ اس سب کا نتیجہ یہ ہے کہ علماء اب معاشرے کی رہنمائی کے منصب سے دست کش ہو گئے ہیں۔ اس کے باوجود ایسا نہیں ہے کہ ہمارے دینی طبقے سکون میں ہیں۔ یہ آئے دن کی فرقہ وارانہ ہلاکتیں کیا علماء کی نہیں ہیں؟ کیا مولانا اسماعیل عالم نہیں تھے؟ کیا مفتی دین پوری صاحب کوئی غیر اہم شخصیت تھے۔ کیا مولانا اسلم شیخوپوری صاحب کوئی گزارے لائق مولوی تھے؟ پھر کیا گزشتہ رمضان کراچی کے سب سے بڑے دارالعلوم کا محاصرہ نہیں کر لیا گیا تھا؟ کیا گزشتہ رمضان میں ہی معتکفین کو مسجد میں گھس کر نہیں مارا گیا؟ کیا آئے دن مدارس کو زیادہ سے زیادہ حکومتی کنٹرول میں لیے جانے کی باتیں نہیں ہور ہیں؟ اس سب کے بعد جب کراچی کے صف اول کے علماء میں سے ایک عالم ، جن کے اپنے مدرسے کے اساتذہ اور طلبہ حالیہ مہینوں میں شہید کیے جا چکے ہیں، ملک کے نو منتخب وزیر اعظم کو ایک کھلا خط لکھتے ہیں تو یقین جانیے ایک لمحے کو تو دل میں ایک موہوم سی امید یہ آئی تھی کہ شاید یہ بھی مصر کے عزّ بن عبد السلام کی روایت قائم کریں گے۔ شاید یہ بھی بادشاہ وقت کو اس کے مفرد نام سے پکاریں گے اور اس کو کسی معاشرتی برائی کی طرف متوجہ کریں گے۔ شاید انہوں نے سود کے خلاف ایکشن لینے کو کہا ہوگا، شاید ڈرون حملوں کے خلاف بات ہو گی، شاید امریکہ کی جنگ سے نکلنے کا حکم دیا ہو گا، شاید احادیث کی روشنی میں اور قرآن کی آیات کی رو سے کسی کافر کے شانہ بشانہ کھڑے ہو کر کسی مسلمان کے خلاف جنگ کرنے کے خلاف وعیدیں سنائی ہونگی۔ شاید مہنگائی کے خلاف بات کی ہوگی، شاید شیعہ سنی فرقہ واریت ختم کرنے کی بات ہوگی، شاید ناموس رسالت ؐ کی حفاظت کے بارے میں کوئی ہدایات ہونگی، شاید رشوت کے خاتمے اور سفارش کی روک تھام کی بابت تنبیہہ ہو گی اور شاید اور کچھ نہیں تو حاکم وقت سے اللے تللے ختم کرنے کی بات ہوگی۔ مگر حیف صد حیف کہ خط جب پڑھا تو اس کا لب لباب تھا کہ ‘جناب اعلیٰ قبلہ وزیر اعظم صاحب دام اقبالہ سے گزارش ہے کہ جمعے کی ہفتہ وار تعطیل بحال فرما دیں”!! یقین کریں اگر کسی ملک کا سب سے بڑا مسئلہ صرف یہ ہے کہ ہفتہ وار تعطیل کس دن کرنی ہے تو ہماری رائے میں وہ ملک روئے ارضی پر جنت سے کم نہیں۔

بہ صد ادب کہ حضرت کی امامت میں بارہا نمازیں ہم بھی ادا کر چکے ہیں کہ ان کا تدیّن باعث تحسین ہے، میری نا چیز رائے میں ایسے بے سروپا اقدامات کی وجہ صرف اور صرف ایک ہے۔ ایک مرکزی قیادت کی غیر موجودگی۔ اگر ہمارے ان بزرگوں کی کوئی مرکزی قیادت ہوتی تو ان کے اقدامات اتنے افراتفری کا شکار نہ ہوتے۔ قیادت لیکن ایسے ہی پیدا نہیں ہو جاتی اس کے لیے کئی اہل لوگوں کو قربانی دینی پڑتی ہے۔ ہمارے بڑوں میں سے کچھ کا حال تو یہ ہے کہ اپنے مرتبے اور رتبے کا بھی خیال نہیں کرتے اور مخالفین کو ایسے ایسے ناموں سے پکارتے ہیں کہ کوئی دشمن بھی کیا پکارے گا۔ مشرک، بدعتی، جنت کے طوطے، بینکر، مردودی، پراسراری، نجدی، وہابی، دیوگندی، یہ سارے نام کلمہ توحید کے ماننے والوں کے ایک گروہ کے منہ سے دوسرے گروہ کے لیے نکل رہے ہیں۔ ایمان کے بعد برا نام لینا بھی برا ہے، سورۃ الحجرات کیا کہہ رہی ہے کیا ہم بتائیں آپ کو؟ اور انہی گروہوں کے ذرا اپنے بزرگوں کے لیے تراشے ہوئے القابات ملاحظہ کیجیے۔ کسی کو رومی ثانی کہا جا رہا ہے، کسی کو شیخ العرب والعجم، کسی کو مجدد ملت، کسی کو شیخ الاسلام، کسی کو بلبل مدینہ کہا جاتا ہے تو کسی کو عارف باللہ۔ کسی کے نام میں دامت برکاتھم کا لاحقہ لگا ہے اور کسی کے ساتھ حفظہ اللہ اور کسی کے ساتھ نور اللہ مرقدہ اور کہیں پر قدس اللہ سرہ۔ یہ افراط و تفریط ایسے ہی نہیں ہے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ یہ بزرگان دین ان ناموں کے اہل نہیں، ان میں سے چند یقیناً ہونگے بھی۔ لیکن ان سابقوں اور لاحقوں پر مرنے مارنے کو دوڑنے سے پہلے اس ہستیؐ کے نام کی اگر حفاظت کر لی جاتی جس کے طفیل ان بزرگوں کی عزت ہے تو یہ ان کے لیے یقیناً زیادہ باعث افتخار ہوتا۔

توہین ناموس رسالت کے واقعات اگر بڑھ رہے ہیں تو کسی وجہ سے بڑھ رہے ہیں۔ مسلمانوں کا نام ہر جگہ دہشت گردی میں لیا جا رہا تو کسی وجہ سے لیا جا رہا ہے۔ اس کی ایک ہی وجہ ہے، اور وہ ہے ایک مرکزی، متفقہ قیادت کی عدم موجودگی جو مسلمانوں کو بحیثیت مجموعی ایک لائحہ عمل طے کر کے دے۔ OIC یا عرب لیگ نہیں بلکہ ایسی قیادت جو واقعی مسلمانوں کو ایک جسد واحد کی طرح چلائے۔ جس کی ایک خارجہ پالیسی ہو، ایک مالیاتی پالیسی ہو، ایک صنعتی پالیسی ہو۔ چاہے تعلیمی اور داخلی پالیسیاں کچھ مختلف بھی ہوں تو اس بکھری ہوئی بے مہار امت میں پھر سے جان پڑ جائے گی۔ مسلمانوں کی عالمی سطح پر پھر ایک آواز ہوگی۔ اگر تمام مسلمان ممالک اس بات پر اصولی طور پر متفق ہو جائیں تو پھر اس ادارے کو آپ خلافت کا نام دے لیں یا ریاستہائے متحدہ اسلامیہ کا، بات ایک ہی ہے۔ مسلمان ممالک میں مقتدر طبقات کے مفادات اس معاملے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔ اور پھر وہ اپنے ملک کے دینی طبقات میں سے چند لوگوں کو خرید کر اپنا الو سیدھا کرلیتے ہیں۔ محض چند اختلافات کی بناء پر النور پارٹی نے الاخوان کا ساتھ چھوڑ دیا۔ مرسی کو نکال کر جو نگران حکومت بنی ہے ا س میں النور کا بھی کچھ حصہ ہے مگر انتظار کیجیے کہ کب اس کو دودھ میں سے مکھی کی طرح نکال پھینکا جاتا ہے۔ ایسے ہی ہماری دینی جماعتیں ایک دوسرے کی سعی کو ناکام بناتی ہیں، کہیں دانستہ کہیں انجانے میں۔ ایک دوسرے کے پیچھے نماز تو پڑھ لیتے ہیں لیکن ہاتھ میں ہاتھ نہیں دیتے۔ اخلاقی ہمدردی تو کرتے ہیں لیکن عملی ساتھ نہیں۔ لال مسجد کا سانحہ ہوا لیکن پورے ملک کی مذہبی جماعتوں نے سوائے ایک رسمی احتجاج کے اور کچھ نہیں کیا۔ وجہ اس کی یہ تھی کہ ان کو مولانا عبدالرشید کے طریقے سے اختلاف تھا۔ سب نے مانا کہ لال مسجد کے معاملے کو حد سے بڑھانے میں پرویز مشرف کا کتنا گھناؤنا کردار تھا۔ کیسے اس نے ایک پھنسی کو پھوڑا بننے دیا اور پھر اس کو ریاستی طاقت سے ایسا کچلا کہ آج تک اس کے اثرات محسوس کیے جاتے ہیں۔ یہ سب مان کر بھی، اور یہ سب جان کر بھی، محض ‘تشریح’ کے فرق کی بنیاد پر ہمارے دینی طبقے نے اخلاقی ہمدردی کو ہی کافی سمجھا اور اس معاملے کو اس مقام تک جانے دیا کہ جہاں محض بے بسی سے تماشہ ہی دیکھا جا سکتا تھا۔ پرویز مشرف نے ایک ایک کر کے یہی کھیل باقیوں کے ساتھ بھی کھیلا ہے۔ کہتے ہیں جرمنی میں نازیوں نے بھی ایسا ہی کیا تھا۔ اس زمانے کے ایک پادری کا یہ مشہور ٹکڑا تو آپ نے سن ہی رکھا ہوگا ؏

First they came for the communists,
and I didn’t speak out because I wasn’t a communist.

Then they came for the socialists,
and I didn’t speak out because I wasn’t a socialist.

Then they came for the trade unionists,
and I didn’t speak out because I wasn’t a trade unionist.

Then they came for me,
and there was no one left to speak for me.

محض دین کی تشریح کے فرق کا مطلب ہے کہ ہر جماعت نے سنت نبوی ؐ کا مطالعہ کر کے حضورؐ کی حیات طیبہ میں سے جو چیز سب سے زیادہ اہم سمجھی اس کو اپنی جدوجہد کا مرکز بنا لیا۔ کسی نے تبلیغ کو اہم سمجھا، کسی نے جہاد کو، کسی نے سیاست کو اپنا میدان عمل بنایا تو کسی نے خیراتی کاموں کو، کوئی مسجد کی تعمیر کر رہا ہے تو کوئی مدرسہ تعمیر کیے چلا جا رہا ہے، کوئی ذکر و اذکار کے ذریعے سنت پر عمل کر رہا ہے تو کوئی تحریکی کا م کر کے ایک منظم جماعت تشکیل دینے کا خواہش مند ہے۔ حضور نبی کریمﷺ کی حیات طیبہ میں ہمیں ان میں سے اکثر کام کسی نہ کسی وقت میں کسی نہ کسی درجہ میں ملتے ہیں۔ سیرت طیبہ ؐ میں ہم جہاد بھی دیکھتے ہیں اور تبلیغ بھی، جماعت سازی بھی دیکھتے ہیں اور ریاست کے امور پر مکمل گرفت بھی دیکھتے ہیں۔ معجزہ یہ ہے کہ جو کام اللہ کے رسول ؐ نے تن تنہا انجام دیا، آج کئی کئی تنظیمیں مل کر بھی نہیں کر پارہیں۔ اس پر مستزاد یہ کہ ایک دوسرے کے کام سے متفق نہ ہونے کی وجہ سے پہلے بحث پھر اختلاف اور پھر سیدھا سیدھا ضد کا معاملہ ہو جاتا ہے ۔ پھر چونکہ معاشرہ میں دینی جماعتوں سے تعاون کرنے والوں کا ایک وسیع مگر بالآخر محدود طبقہ ہے تو ان کا تعاون انہی جماعتوں میں آپس میں تقسیم ہو جاتاہے ۔ کئی مسجدوں میں ایک سے ڈیڑھ کروڑ روپے کے مینار کی تعمیر ہو جاتی ہے جبکہ وہی پیسے کسی اور جگہ کسی دوسرے ، زیادہ ضروری مقصد میں استعمال ہو سکتے تھے۔ لے دے کے بات وہی ایک مرکزی قیادت کی ہے جو ان سارے اثاثوں کی امین ہو اور نہایت دیانت داری اور خداخوفی کے ساتھ اس مال کو استعمال کرے۔ ایک آواز ہو۔ جو اس سے ہٹ کر چلے وہ صاف نظر آجائے کہ یہ دین کا نمائندہ نہیں۔ پہلے ایک شہر میں ایسا اتحاد بن جائے پھر اس کو ملک تک پھیلا دیں۔ یہ مشکل ضرور ہے، ناممکن نہیں ۔

اگر ایسا اتحاد نہیں ہو پا رہا تو قصور عوام کا بھی ہے لیکن اصل قصور میرے نزدیک ان عقیدتمندوں کا ہے جو علماء کے اردگرد گھیرا ڈال کر رکھتے ہیں۔ آج کے دور میں کسی بڑے عالم سے بات کرنا، اس سے کچھ ذاتی طور پر پوچھ پانا اس قدر مشکل کام ہے کہ جب تک آپ کے پاس کوئی بڑی سفارش نہ ہو آپ علماء سے مل نہیں سکتے۔ اس کی وجہ وہ درمیان کے عقیدتمند ہیں جن کے نزدیک ان کے ‘حضرت’ سے کوئی سوال پوچھنا اگر گناہ کبیرہ نہیں تو مکروہ ضرور ہے۔ ایک عقیدتمند ‘حضرت’ کی ویب سائٹ سنبھال رہے ہوتے ہیں تو دوسرے صاحب کے نزدیک کسی کا ان کے شیخ کو براہ راست فون کر لینا مداخلت فی الدین کے زمرے میں آنا چاہیے۔ اس سے زیادہ آسان تو ٹی وی اور ریڈیو پر آنے والے ان نوسربازوں کو کال کرنا ہوتا ہے جن کے لیے رمضان، ربیع الاول، محرم اور ذی الحجہ مقدس کم اور کمائی کے مہینے زیادہ ہیں۔ عوام ایسے ہی نہیں علماء سے کٹ رہے۔ ایک جمعہ کے اجتماع میں راقم نے امام صاحب کو کہتے سنا کہ ‘عوام کو علماء کی ضرورت ہے، علماء کو عوام کی نہیں’ یہ مقولہ شاید پچیس سال پہلے صحیح تھا مگر آج نہیں۔ Rand Corporation کی سفارشات میں صاف لکھا ہے کہ ایسے علماء جو روایت پسندوں کی صف میں آتے ہیں ان کی جگہ ایسے لوگوں کو میڈیا پر لایا جائے جن کی شہرت ترقی پسندوں کی ہے، جن کو مسجدیں نہیں ملتیں۔ جو شراب کی حرمت کے بارے میں شکوک پیدا کریں، جو بدعات کی ترویج میں ممد ہوں ، جو فحاشی کو نئے معانی پہنائیں۔ اور پچھلے آٹھ دس سالوں میں ان سفارشات پر عمل کے نتیجے میں آپ دیکھ لیں کہ اس وقت سب سے زیادہ دیکھا جانے والا پروگرام ایک ایسے پوشیدہ رافضی کا ہے جو عام محفل میں صحابہ کرامؓ کی شان میں گستاخی کرتا پکڑا گیا اور ابھی بھی تقویٰ کا لبادہ اوڑھے رمضان میں نئے نئے کرتب دکھا رہا ہے۔ یہ ذمہ داری عوام کی بھی ہے کیونکہ ان کو اپنے عمل کا حساب خود دینا ہے۔

لیکن علماء کو بھی تو اپنے نمائندے چننے میں احتیاط کرنی چاہیے۔ گزشتہ شوال میں چاند کی رویت پر جو فساد ہمارے ملک کی سب سے بڑی سیاسی مذہبی شخصیت نے بپا کیا وہ آنے والے دنوں کی ایک جھلک تھا۔ یہ خبر بہت نمایاں نہیں ہوئی ورنہ شوال اکتیس دن کا ہوتا نہیں ہے۔ اس ‘اہل حق کے مینار’ نے ایک صوبے میں اقتدار حاصل کرنے کے لیے وہ وہ پینترے بدلے ہیں کہ اچھے اچھے ماہر کرتب بازوں کو پسینہ آجائے۔ اب تو لگتا ہے کہ آنجناب کا مقصد محض اقتدار کا حصول ہے چاہے اس کے لیے وہ امریکی سفیر کے پاس خود چل کر جائیں۔ دین محمدی ؐکے ماننے والوں کو اگر اقتدار مانگنے کے لیے در در کی بھیک مانگنی پڑے تو ایسے اقتدار سے دوری ہی بھلی۔ علماء کا کام دین کی حفاظت کرنا ہے ، اگر اقتدار حاصل کر کے حفاظت ہوتی ہے تو ٹھیک نہیں تو چار حرف بھیجیے ایسے اقتدار پر جس میں عزت سادات بھی ضائع ہونے کا اندیشہ ہو۔ چار حرف بھیجیے ایسے نمائندوں پر جن کے رہتے نہ مدرسے بچیں نہ اساتذہ۔ نہ طالبعلم بچیں نہ طالبات- جنہوں نے سب سے پہلے نعرہ لگایا کہ ‘طالبان اسلام آباد سے سو کلومیٹر پر رہ گئے ہیں’ اور وہاں سے کوڑوں کی ایک جعلی ویڈیو نکل آئی اور پھر سوات میں لاکھوں لوگ اپنے ہی ملک میں بے گھر ہو گئے۔ سب سے پہلے تو ان نام نہاد نمائندوں سے علمائے دین کو اپنے آپ کو بچانا ہوگا ۔

اس سلسلے میں وہ لوگ جو واقعی کسی عالم کے قریبی حلقے سے تعلق رکھتے ہیں وہ اپنے عالم سے بات کریں۔ ان سے سوال کریں ، کچھ مواقع پر ادب ہلاکت کا باعث ہو جاتا ہے۔ آپ صحابہ کرامؓ سے زیادہ اپنے حضرت کی تعظیم نہیں کر سکتے ۔دین کے معاملے میں صحابہ کرامؓ کبھی نہیں شرماتے تھے، سوال کرتے تھے۔ تو اپنے حضرت سے پوچھیں کہ دوسرے علماء میں برائی کیا ہے۔ اس کو دوسرے عالم سے رابطہ بڑھانے میں مدد کریں۔ ایک دوسرے کے لیے جو ان کے دلوں میں کچھ غلط فہمیاں ہیں وہ ختم کرائیں۔ دوسرے مسالک سے رابطہ بڑھانے میں مدد کریں۔ شدت پسندی اور تمسخر سے نہ دوسرا مسلک ختم ہوگا نہ اس کے ماننے والے۔ یہ سولہویں صدی کا اسپین نہیں ہے جہاں تمام ‘دوسروں’ کو جہازوں میں بٹھا کر افریقہ کے ساحلوں کی طرف روانہ کر دیا جائے۔ تو ہمیں ایک ساتھ ہی رہنا ہے، تو اس ساتھ کو کیوں نہ خوشگوار بنا لیا جائے؟ اگر آج (رمضان۱۴۳۴ ہجری) کی رویت ہلال جیسا ماحول پورے سال رہے تو یہ ملک اور یہ دین بہت جلد امن کا نشان بن جائے گا ان شاء اللہ۔ آج کوئی چھوٹا نہیں ہوا ، بلکہ سب اور بڑے ہو گئے۔ سب صحیح ہوئے اور کوئی غلط بھی نہیں ہوا۔ تو یہ اکثر دوسرے مواقع پر بھی ہو سکتا ہے۔

علماء کے لیے اپنی جگہ مضبوط ہونا ضروری ہے کیونکہ ستون تو مضبوط ہی ہوتا ہے اسے اپنی جگہ سے ہلنا نہیں چاہیے۔ ان کے لیے الگ الگ نظر آنے میں کوئی ایسی برائی نہیں کیو نکہ مہیب سمندر میں جزیرے اور بھی خوبصورت لگتے ہیں۔ بس ہم چاہتے ہیں کہ یہ دینی طبقے کسی ایک قیادت پر متفق ہو جائیں اور پھر للہیت کے ساتھ اس پر صبر کریں۔ ایک چھت جب مل جائے گی تو اس کے سائے میں یہ ستون بھی آئیں گے۔ بس اس کے لیے مجھے، آپ کو، ہر اس شخص کو جو کسی بڑی مذہبی شخصیت کے حلقے تک رسائی رکھتا ہے اس کو ایک پل کا کام کرنا ہے جو کسی طرح ا ن تمام جزیروں کو آپس میں ملا دے۔ اگر ہم نے صرف یہی کوشش کر لی اور اس میں اخلاص کا دامن نہیں چھوڑا تو اللہ سے امید ہے کہ وہ ہم کو روز قیامت رسوا نہیں کرے گا۔ بصورت دیگر، فرقہ بندی کو بھڑکانے میں کہیں ہم بھی حصہ دار نہ بن جائیں!


Photo credit: gnuckx / Foter / CC BY

بُھنگانہ، ابابیل اور ڈرون

Posted in Islam, Social revolution by baigsaab on June 28, 2013

اندلس کے طوائف الملوک میں وہ پہلی حکومت جس نے باقاعدہ عیسائی اقوام سے دوسرے مسلمانوں کے خلاف مدد مانگی وہ کوئی اور نہیں قرطبہ  کی حکومت تھی۔  خلافت اندلس کا دارالخلافہ قرطبہ، جہاں سینکڑوں سالوں سے کسی نے کسی  غیر مسلم کو  تلوار سونت کر چلتے نہیں دیکھا تھا، وہاں  اب عیسائی فوجی نام نہاد مسلمان حکمرانوں کے جنگی عزائم کو آگے بڑھانے کے لیے  کرائے کے فوجیوں کے طور پر لڑ رہے تھے! اندلس میں  اموی خلافت  کمزور  ہوئی تو  فوج کے مختلف سرداروں نے اپنے اپنے علاقوں میں اپنی حکومت کا اعلان کردیا۔  یہ علاقے  ’طائفہ’ کہلاتے تھے اور ان کے بادشاہ  ، ‘ملک الطائفہ’، اکثر و بیشتر صرف اپنے علاقے بڑھانے کے چکر میں  رہتے تھے۔   اتحاد امت اور اتحاد بین المسلمین جیسے الفاظ ظاہر ہے توسیع پسندی  اور ہوس ملک گیری کے ماروں کے سامنے نہایت بودے معلوم ہوتے ہیں۔  تو  ان بادشاہوں کی تلواریں بھی آپس میں ہی چلتی تھیں۔ اور اس میں ان کو مدد ملتی تھی کاسٹائل اور دوسری عیسائی ریاستوں سے۔  یہ مدد فوجیوں کی صورت بھی ہوتی تھی، اور کبھی کبھار براہ  راست مسلمان بادشاہ کی طرف سے  عیسائی فوجیں ہی حملہ آور ہو جاتی تھیں۔ ‘تقسیم کرو اور حکومت کرو’ کی یہ اندلسی مثال تھی۔  ان خدمات کے عوض آئیبیریا کے عیسائیوں کو مال، دولت، جائداد  یا جو وہ مانگیں، دیا جاتا تھا۔  نتیجہ یہ کہ عیسائی طاقت بڑھتے بڑھتے اتنی ہو گئی کہ ان نا عاقبت اندیش حکمرانوں کو سانس لینی دوبھر ہو گئی۔   یہ آج سے ٹھیک ایک ہزار سال پہلے کی بات ہے۔

آج کا حال دیکھیں۔ پاکستان کے شمالی علاقوں ، جنہیں نہ جانے کیوں پہلے بھی  ’علاقہ غیر’  ہی کہا جاتا  تھا، میں ایک جنگ ہو رہی ہے۔  ’ہماری جنگ’ !۔ کہنے کو پاکستان کی سرزمین کے دشمن اس علاقے میں چھپے بیٹھے ہیں۔  وہ دشمن جو عام  آبادی میں ایسے گھل مل گئے ہیں کہ وہاں ان کی شادیاں بھی ہوئی ہوئی ہیں اور اولاد بھی۔   ایک ایسا علاقہ جس میں پاکستان کے دوسرے علاقوں سے کوئی نہیں جا سکتا اور وہاں سے پاکستان کے دوسرے علاقوں میں کوئی نہیں جا سکتا۔  بیچ میں اتنی چوکیاں اور اتنے پہرے ہیں کہ سفر کا انجام اکثر و بیشتر ناکامی ہی ہوتا ہے۔ چنانچہ وہاں سے کسی خبر کا آجانا بجائے خود ایک عجوبہ  ہے کجا یہ کہ اس خبر کی تصدیق بھی ہو جائے۔ ایسے میں وہاں پر  فضائی حملے جاری ہیں۔ مقصد ان حملوں کا یہ ہے کہ ‘دہشت گردوں’ کو مار دیا جائے۔  یہ حملے کون کر  رہا ہے، کیوں کر رہا ہے اور کیا یہ اپنے مقصد میں کامیاب ہو رہے ہیں ۔ یہ سوال کر لینا جتنا آسان ہے اس کا جواب تلاش کرنا اتنا ہی مشکل۔

2004 میں ڈامہ ڈولہ میں ایک  میزائل  حملے میں  ’ ملا نیک محمد ‘ کا انتقال ہو گیا۔  اس وقت کسی کی کچھ سمجھ میں ہی نہیں آیا کہ یہ میزائل آیا کہاں سے۔  مگر ہمارے صدر پرویز صاحب نے  کمال پھرتی سے اس کی ذمہ داری  اپنے ادارے کی طرف سے قبول کرتے ہوئے  کہا کہ یہ ہم نے  کیا ہے۔ اس سے قطع نظر کہ ہم نے ایک ایسے شخص کو کیوں مار دیا جو  بعد میں ملنے والی اطلاعات کے مطابق ریاست سے باقاعدہ مذاکرات پر آمادہ تھا،  یہ تفصیلات کہ حملہ ہوا کیسے اس کہانی میں ہی کافی جھول تھے۔  بعد  ازاں  جب جب اس طرح کے حملے ہوتے رہے تو  اسی طرح وہ اور ان کے کارندے یہ ذمہ داریاں قبول کرتے رہے۔  رفتہ رفتہ بات کھلنا شروع ہوئی کہ یہ حملے  دراصل امریکی  ڈرون جاسوس طیارےکرتے ہیں۔  یہ  ڈرون  اول اول تو تھوڑے عرصے کے لیے نظر آتے تھے۔ مگر اب یہ    پورا دن  وزیرستان کے آسمان پر موجود رہتے ہیں۔  ان طیاروں سے  ایک مہینے میں اوسطاً  چھ سے سات حملے ہوتے ہیں۔ ان حملوں میں مرنے والے شہریوں  کے اعداد و شمار میں اتنا فرق ہے کہ   سرکاری شمار  دس سے کم اور  غیر سرکاری  کم و بیش ایک ہزار ہے۔ وجہ اس فرق کی کیا ہے یہ جاننے کے لیے دیکھیئے Living  Under Drones (livingunderdrones.com)  نامی دستاویز سے کچھ معلومات۔

یہ دستاویز  Stanford اور NY University  کے  اشتراک سے بنائی گئی ہے۔  قریباً نو ماہ کی ریسرچ اور درجنوں متاثرین سے  گفتگو  کی بنیاد پر بنائی گئی یہ رپورٹ  دراصل ڈرون  کے استعمال کے انسانی نفسیات پر پڑنے والے اثرات کو اجاگر کرنے کی ایک کوشش ہے۔  اسی  ضمن میں  امریکی اور پاکستانی دونوں طرح کے حکومتی دعوؤں کی بھی قلعی کھول دی گئی ہے۔

وزیرستان میں ڈرون کوابابیل بھی کہتے ہیں مگر زیادہ تر  ’بُھنگانہ’ کہا جاتا ہے، ایک ایسی چیز جو مکھی جیسے بھنبھناتی رہتی ہے۔ وزیرستان میں اس وقت یہ بھنبھناہٹ لوگوں کی زندگیوں کا حصہ بن گئی ہے۔  وہ سوتے ہیں تو سر پر ڈرون کی آواز  آتی ہے، بازار میں ہوتے ہیں تو   ’بُھنگانہ’ صاف نظر آتا ہے۔ ایک وقت میں چھ چھ ڈرون فضا میں نظر آرہے ہوتے ہیں۔ یہ بذات خود ایک ذہنی پریشانی کا باعث ہے   لیکن اصل مسئلہ یہ ہے کہ یہ ڈرون کبھی بھی آگ اگل سکتے ہیں۔ اس کا کوئی مقام، وقت، وجہ یا خاص ہدف نہیں ہے۔

17 مارچ 2011، صبح  تقریباً دس بجے کے قریب  دتہ خیل کے علاقے میں ایک قبائلی جرگہ، جو کہ قبائلی زندگی کا سب سے اہم ادارہ ہے، جاری تھا۔ قریباً چالیس سے کچھ اوپر لوگ  وہاں دو گروہوں میں صلح کرانے بیٹھے تھے، جرگہ کا مقامی انتطامیہ کو دس دن پہلے سے پتہ تھا چناچہ قبائلی بڑے، ملک، خاصہ دار یعنی حکومتی ادارے کے نمائندے بھی موجود تھے جو اس مجمع کے  پرامن ہونے کے لیے ایک  سرکاری سند تھی ۔  کرومائٹ کی کان کا یہ معاملہ کچھ  گرما گرمی کی طرف تھا کہ  اچانک ایک تیز سرسراہٹ سی سنائی دی  اور اس کے بعد ایک زور دار دھماکہ ہوا۔  عینی شاہدین کے مطابق فضا میں موجود ڈرون نے ایک میزائل فائر کیا تھا۔ اس حملے میں کوئی  42 لوگ مارے گئے اور 14 زخمی۔  مرنے والے اکثر لوگوں کے بارے میں یہ مصدقہ  اطلاع ہے کہ ان کا کوئی تعلق کسی  دہشت گرد تنظیم سے نہیں تھا۔ یعنی وہ عام شہری تھے۔ ایک قبائلی  سردار   داؤد خان کا بیٹا ، نور خان،  سانحے کے وقت  پانچ گھنٹے کی مسافت پر تھا۔ وہ واپس آیا تو اپنے  باپ کا  کفن میں لپٹا، جلا ہوا جسم   پایا۔ داؤد خان اس علاقے کا   ایک بڑا سردار تھا۔ اپنے علاقے والوں کے ساتھ ساتھ  گھر والوں کا  بھی سہارا تھا۔  کچھ یہی احوال  حاجی ملک بابت کا تھا جن کا اس ڈرون حملے میں انتقال ہوا۔ ان کا بیٹا خلیل خان  بتاتا ہے کہ مرنے والے کئی  قبائلی بڑوں میں سے پندرہ  تو صرف اسی کے  وزیری قبیلے سے تھے۔

اسی طرح 15 جون 2011 کو  امریکی ڈرون طیارے نے ایک گاڑی  ، جو کہ میرانشاہ اور سرکوٹ کے بیچ میں سفر کر رہی تھی، پر تقریباً چھ میزائل داغے اور پانچ لوگوں کو مار دیا۔  The bureau of investigative journalism کے مطابق پانچوں کے پانچوں لوگوں کو بعد میں  نام سے شناخت کیا گیا اور وہ پانچوں بھی  عام شہری تھے۔  کون لوگ تھے وہ؟ ایک  فارمیسی والا  عتیق الرحمان اور ایک اس کا طالبعلم ملازم ارشاد، ایک آٹو پارٹس کا بیوپاری عمر، ایک واپڈا کا ڈرائیور اکرم اور  اس کا  طالبعلم کزن شیرزادہ۔ یہ ہیں وہ ‘دہشت گرد ‘جن  کو مارنے کے لیے  چھ  Hellfire میزائل داغے گئے اور جب  عمر خان نے گاڑی سے باہر چھلانگ لگا دی تو آخری میزائل  نے اس کو بھی   قتل کر ڈالا۔

یہ صرف دو واقعات ہیں اور ان میں مرنے والے شہریوں کی تعداد پچاس تک پہنچ  جاتی ہے۔  ایک مہینے میں چھ حملے، ایک سال میں درجنوں  حملے اور  ہر حملے میں کئی ہلاکتیں۔کچھ عرصہ پہلے کی اطلاعات کے مطابق مرنے والے صرف بچوں ہی کی تعداد  178  ہے۔ اس کے باوجود جب  امریکی وزارت دفاع یہ کہتی ہے کہ مرنے والے شہریوں کی تعداد دس سے بھی کم ہے تو  پہلا سوال لازماً یہی ذہن میں آتا ہے کہ یہ کوئی اور گنتی گن رہے ہیں کیا؟ جواب اس کا ہے جی ہاں۔  امریکی وزارت دفاع کے مطابق کسی بھی حملے میں مارا جانے والا  ہر وہ مرد جو کہ جنگ لڑ سکتا ہے وہ جنجگو کی فہرست میں آئے گا ، الا یہ کہ اس کی موت کے بعد اس بات کا ٹھوس ثبوت مل جائے کہ  وہ ایک شہری تھا۔  امریکی حکومت کی طرف سے آج تک کوئی ایسی  کوشش نہیں کی گئی جو  ان حملوں میں مرنے والوں کے بارے میں  یہ  پتہ  لگانے کے بارے میں ہو کہ آیا وہ واقعی دہشت گرد تھے بھی کہ نہیں۔ اور ایسا کرنا سیاسی طور پر اوبامہ  کی صدارت کے لیے خودکشی کے مترادف ہو گا۔

باراک اوبامہ نے اس بات کو کبھی چھپانے کی کوشش نہیں کی کہ وہ ڈرون کو  زمینی  یا فضائی فوج پر زیادہ ترجیح  دیتا ہے۔  اس کی وجہ ایک تو یہ ہے کہ ڈرون اگر گر بھی گیا، اور گرتے ہی رہتے ہیں، توبھی  کسی فوجی کا قید میں چلا جانا یا مر جانا  اس سے کہیں  زیادہ عوامی ردعمل  کا موجب ہو گا۔ دوسری  بات یہ کہ گوانتانامو  جیل کا معاملہ بھی باراک اوبامہ کے لیے سانپ کے منہ میں چھچھوندر جیسا ہو گیا ہے۔ اس لیے مزید قیدی بنانے سے بہتر ہے کہ ان کو ٹھکانے لگا دیا جائے۔  لیکن  یہ سب تو ظاہر ہے  کہ  پوشیدہ وجوہات ہیں۔ اصل وجہ جو  اوبامہ، اس کی انتظامیہ  بالخصوص اس ڈرون جنگ کا  کرتا دھرتا  جان برینن  وغیرہ بتاتے ہیں وہ یہ ہے کہ  ’ہمارے ڈرون طیارے دہشت گرد اور عام شہری میں فرق کرنا جانتے ہیں’ یا ‘ہم ہر ممکن کوشش کرتے ہیں کہ ڈرون حملوں میں   عام شہریوں کا نقصان نہ ہو’ یا وہ جملہ  جو سب سے زیادہ  کہا جاتا ہے کہ ‘ہمارے  میزائل Pinpoint Precision پر کام کرتے ہیں’۔

اس    نشانہ بازی کی سوئی کی نوک  کے برابر  درستگی کے بارے میں   IISI  نامی کمپنی نے  ہرجانے کے دعویٰ میں  عدالت  کو   بتایا کہ    ” Netezza  کمپنی نے ہمارا سوفٹوئیر  Geospatialغیر قانونی طریقے سے اور عجلت میں   reverse engineer کر کے سی آئی اے کو بیچا اور انہوں نے یہ جاننے کے باوجود کہ یہ  سوفٹوئیر کئی میٹر تک غلط  جگہ بتا تا ہے، اسے خرید لیا”۔  چھوٹی سی گاڑی پر چھ  Hellfire میزائل مارنے کی ضرورت ایسے ہی نہیں پڑتی۔ اس کے  علاوہ ٹریکنگ چِپس بھی استعمال کی جاتی ہیں جو  زمین پر موجود   امریکہ کے خریدے ہوئے لوگ  مشکوک لوگوں کے  ٹھکانوں پر ڈال دیتے ہیں اور وہ چِپ  ڈرون   کی رہنمائی کرتی ہے۔  اپریل 2009 میں 19 سالہ  حبیب الرحمان  کو   مبینہ  طور  پر TTPنے  گولی  مار دی۔  قتل ہونے سے پہلے اپنے ویڈیو پیغام میں حبیب نے کہا کہ اسے  یہ پتہ نہیں تھا کہ یہ CIAکا کام ہے، اسے تو چپس پھینکنے کے 122 ڈالر دئیے گئے تھے اور کہا گیا تھا کہ اگر تم کسی عرب گھر میں یہ چپ ڈالنے میں  کامیاب ہو گئے تو  بارہ ہزار  ڈالر  ملیں گے۔  اس نے کہا کہ میں نے اندھا دھند وہ چپس ادھر ادھر پھینکنا شروع کر دیں ، میں جانتا تھا کہ لوگ میری وجہ سے مر رہے ہیں مگر مجھے پیسے چاہیے تھے”۔ تو یہ ہے  Pinpoint precision کی روداد!

شروع شروع میں یہ ڈرون حملے  کسی ایک شخص معین پر ہوتے تھے۔  مثلاً  بش انتظامیہ کے دور میں نیک محمد   پر جو حملہ ہوا تھا وہ   Personality strike تھا۔  باراک اوبامہ نے اقتدار میں آنے سے پہلے ہی یہ بات واضح کر دی تھی کہ     وہ  اور اس کی ٹیم ڈرون حملوں کو مزید آگے بڑھائیں گے۔ یہ پروگرام  ایسے آگے  بڑھا کہ اب سی آئی اے کے یہ ڈرون اڑانے والے اگر  کہیں بھی محسوس کریں کہ کوئی مشکوک سرگرمی ہو رہی ہے تو   اکثر و بیشتر  ان کو  حملہ کرنے کے لیے صدر سے اجازت لینے کی ضرورت نہیں ہے۔  جرگہ پر حملہ اسی کا شاخسانہ ہے،  اکرم خان کی گاڑی اسی لیے تباہ کی گئی، جنازوں ،شادیوں  اور دوسرے اجتماعات  پر  بھی حملے اسی Signature Strike کے زمرے میں آتے ہیں۔ یعنی  اگر کوئی صورتحال کسی پہلے سے متعین   Signature پر پورا اتر رہی ہے تو  ڈرون اڑانے والا حملہ کرنے کا مجاز ہے۔  وہ کیا قواعد ہیں جن کی بنیادپر یہ فیصلہ ہوتا ہے ، یہ ایک راز ہے۔   اب تو یہ بات مذاقاً کہی جاتی ہے کہ جہاں  CIA کو تین لوگ اچھل کود کرتے نظر آتے ہیں وہ ایک  Hellfire داغ دیتے ہیں۔

ڈرون طیارے بغیر پائلٹ کے نہیں اڑتے، بس ان کے پائلٹ  طیارہ میں نہیں بیٹھتے۔  وہ  ہزاروں میل دور نیواڈا میں بیٹھے ہوتے ہیں۔ کل کے ایف سولہ اڑانے والے آج Predator اور Reaper اڑا رہے ہیں۔ ایک بڑے سے کنٹینر میں ایک ٹیم بیٹھی ہوتی ہے جس میں سے دو پائلٹ ہوتے ہیں۔  ان کے سامنے بالکل جہاز ہی کے انداز میں مختلف آلات لگے ہوتے ہیں۔ دو سکرینوں پر  جہاز کا بیرونی اور نیچے کا منظر دکھائی دیتا ہے۔  بالکل ایک ویڈیو گیم کا سا سماں ہوتا ہے۔  F-16 کی کمر توڑ پرواز  سے یہ  پرواز اگر ویسے ہی  ’گھر جیسا آرام ‘نہیں تھا تو ڈرون اڑانے والوں کے لیے اس قتل کی سنگینی کو کم سے کم رکھنے کے لیے   اس قتل کو Bug splat یعنی مکھی مارنا کہا جاتا ہے۔  یعنی  مرنے والا جو بھی ہو  کم از کم انسان کہلانے کے لائق نہیں۔  اوبامہ کی اس جنگ میں  حملوں  کی زیادتی کی وجہ سے پائلٹس کی اتنی کمی ہو گئی ہے کہ اب  امریکی فضائیہ اپنے کیڈٹس سے بھی یہ کام لے گی۔ اس پر  طرہ یہ کہ اب  ان کی حوصلہ افزائی کے لیے  ان کو بہادری کے تمغے  بھی دئیے جا نے کا  پروگرام رو بہ عمل ہے۔

اس سارے معاملے میں  پاکستان اور اس کے عوام کا کیا کردار ہے؟  ہم نے مضمون کے آغاز میں ملوک الطوائف  کا  ذکر کیا تھا۔   پاکستان  کی حکومت کا کردار  اس معاملے میں ایسا ہی منافقانہ ہے۔   آنکھ اوجھل پہاڑ اوجھل کے مصداق اس علاقے سے ویسے بھی خبریں نہیں آتیں، اوپر سے ہمارے سابق وزیر اعظم صاحب وکی لیکس کے مطابق یہ کہتے ہوئے پائے گئے کہ ‘آپ اپنا کام جاری رکھیں گے، ہم پارلیمان میں آواز اٹھائیں گے اور پھر خاموش ہو جائیں گے”۔اپنے ملک کی عوام کو اس طرح درندوں کے حوالے کرتے کم ہی دیکھا گیا ہے۔ وزیرستان کی عوام کے آگے CIA کا کنواں اور پیچھے TTP کی کھائی ہے۔  وہ اپنے مخصوص محل وقوع  کی وجہ سے اس وقت  زمین کی پشت پر بد ترین مصیبت  میں ہیں۔ اور اس صورتحال میں انہیں دھکیلنے والے کوئی اور نہیں ان کے اپنے ہموطن ہیں۔

ہمارے  نام نہاد دانشور اکثر و بیشتر یہ کہتے ہوئے پائے گئے ہیں کہ ہم امریکہ کا ڈرون مار کے خود کہاں جائیں گے؟ اس کے جواب میں یہی کہا جاسکتا ہے کہ ان کا اپنا بچہ مرتا کسی ایسے حملے میں تو  پھر پوچھتے  ان  سے۔  ہر وقت ڈرون کی بھنبھناہٹ، اس کی ہمہ وقت موجودگی، اس کا کسی بھی مجمع پر حملہ کر ڈالنا ، اس حملہ کے نتیجے میں مدد کو آنے والوں کو بھی نشانہ بنانا،اپنے پیاروں ، اپنے  بچوں کی مسخ شدہ جلی ہوئی لاشیں ، اور کبھی صرف ان کے جسم کے ٹکڑے  ہی دفنا پانا۔   یہ سب وہ باتیں ہیں جو  انور بیگ اور خورشید ندیم جیسے  یہ ڈرائنگ روم کے دانشوروں کے لئے محسوس کرنا ان کے بس سے باہر ہے۔

کیا ہم ڈرون طیارے گرا سکتے ہیں؟    تو اس کے جواب میں پہلی بات تو  یہ  کہ پوری دنیا جانتی ہے کہ یہ ڈرون طیارے پاکستان کی اپنی  سرزمین سے اڑتے ہیں تو  ہماری فضائی حدود کی خلاف ورزی تو کوئی ہے ہی نہیں، رضا مندی  ہی رضامندی ہے۔  بلکہ ہمارے مقتدر حلقے تو ڈرون ٹیکنالوجی  مانگتے بھی رہے ہیں کہ جی ہمیں بھی تو دکھائیں۔     ڈرون مارگرانا کوئی مشکل کام نہیں ، لیکن مسئلہ یہ  ہے ہی نہیں کہ ہم مار سکتے ہیں کہ نہیں، مسئلہ یہ ہے کہ ہم مارنا چاہتے ہیں کہ نہیں۔   ہمارے نئے نویلے وزیر اعظم صاحب نے فرمایا ہے  کہ ‘ڈرون پر تحفظات ہیں’۔ ان کے اس سے بھی نئے نویلے  مشیر  خارجہ  نے فرمایا کہ  ’تمام صلاحیتیں بروئے کار لائی جا سکتی ہیں’۔  نجانے یہ باتیں کہہ کر وہ کس کی تسلی کرنا چاہتے ہیں ورنہ  صاف نظر آرہا ہے کہ  یہ  بھی  ’اِب کے مار’ والے لوگ ہیں۔  AfPak ریجن کے لیے امریکہ کے نئے  نمائندہ   جیمز ڈابنز سے جب ہمارے ملک کے وزیر اعظم نے کہا کہ ڈرون حملے بند کر دیجیے تو اس نے ایک  یک لفظی جواب  جو دیاوہ  تھا “نہیں” اور ہماراردعمل  تھا ،’جی اچھا’۔ معذرت کے ساتھ ، یہی ڈرون اگر کوئی بیکری والا اڑا رہا ہوتا  اور اس نے  یہ ‘نہیں ‘ بولا ہوتا  تو  اس کے ساتھ یہ کیا سلوک کرتے وہ ہم اچھی طرح جانتے ہیں۔

دتہ خیل میں مرنے والے داؤد خان کے بیٹے نور خان  نے پاکستانی وکیل شہزاد اکبر سے را بطہ کیا جو کہ  درجنوں دوسرے خاندانوں کے  لیے پاکستانی عدالتوں میں ان ڈروں حملوں میں مرنے اور زخمی ہونے والوں کے لیے عدل  مانگ رہے تھے۔   چند ماہ قبل پشاور ہائیکورٹ نے کیس کے فیصلے میں ڈرون حملوں کو غیر قانونی قرار دے دیا ۔  پاکستان کی پارلیمنٹ پہلے ہی ان حملوں کو نا جائز قرار دے چکی ہے۔  عمران خان نے پہلا مطالبہ  جو اس حکومت سے کیا ہے وہ یہی ہے کہ ڈرون حملوں کو رکوا دو ہم تمہارا ساتھ دیں گے۔ پاکستان کی حکومت کے پاس اب   ہر طرح کا اختیار ہے کہ وہ ان حملوں کو  ایک دم رکوا دے  لیکن ان کا پھر بھی ایسا نہ کر نا  سیدھا سیدھا اشارہ کرتا ہے  کہ یا تو ملی بھگت  ہے یا کردار کی کمی، یا  کردار کی کمی کی وجہ سے ملی بھگت!

جب اندلس  کے نا عاقبت اندیش حکمرانوں کے لیے سانس لینا دوبھر ہو گیا  اور  الفانسو ان کی  جڑوں میں بیٹھ گیا تو پھر انہوں نے مدد کے لیے   سمندر پار سے  یوسف بن تاشفین کو بلایا جس نے ایک ہی حملے میں الفانسو کا ایسا صفایا کیا کہ اگلے چار سو سال اندلس میں پھر اسلامی پرچم لہرانے لگا۔  ہم جانتے ہیں کہ پاکستان کے حکمرانوں کے ہاتھ سے معاملات نکل چکے ہیں۔ یہ اب  اپنی مرضی سے  ایک روٹی  بھی نہیں خرید سکتے۔  تو ایسے وقت میں  کسی یوسف بن تاشفین کو نہ سہی، اپنی عوام کو ہی آواز دے لیں۔  ہمیں اصل معاملات سے آگاہ کریں۔  اس بات سے آگاہ کریں کہ مشرف نے جب ہمیں اس نا پاک اور نا مراد جنگ میں دھکیلا تھا تو کیا شرائط طے کی تھیں؟ اس جنگ میں پاکستان اور اس کے وسائل کی شمولیت کے parameters کیا تھے؟  پھر   وہ کیا وجہ ہے کہ  ہمارے شہروں میں اسلامی نام والی تنظیموں کے دھماکے کی ایک ایک لمحے کی خبر دکھائی جاتی ہے لیکن امریکہ کے ان ڈرون حملوں کی کوئی ایک ویڈیو بھی نہیں آتی ۔ کیوں ہم اپنے شہروں میں مرنے والے  شہریوں کی تعداد، علاقے ، حتیٰ کہ مسالک تک سے آگاہ ہیں لیکن  دتہ خیل، سرکوٹ ، میرانشاہ اور ڈامہ ڈولہ کے ان Hellfire میزائل میں مرنے والے ‘دہشت گردوں’ کی اصلیت سے نا واقف ہیں۔  اگر آپ  عوام کو اعتماد میں نہیں لیں گے تو  یہ معاملہ زیادہ دن چلنے والا نہیں ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ  وہ وقت دور نہیں جب یہ Predator اور Reaper کراچی، ملتان، رحیم یار خان،  کوئٹہ ، لاہور، ایبٹ آباد  اور اسلام آباد  کی  فضاؤں میں بھی ایسے ہی نظر آئیں گے۔  لیکن ایسے وقت میں نجانے کیوں مجھے یقین ہے  کہ ہمارے یہ پٹھان بھائی ہمیں ایسے نہیں چھوڑیں گے جیسے ہم نے انہیں چھوڑ رکھا ہے۔  اللہ ہمارے ان بھائیوں اور بہنوں کی حفاظت کرے۔ آمین!

پانچ سو سال پرانا میموگیٹ اسکینڈل

Posted in Social revolution by baigsaab on January 14, 2012

سنتے آئے ہیں کہ تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہے۔ شاید بہت سے لوگوں کے لیے تاریخ میں سوائے بوریت کے اور کچھ نہ ہو لیکن واقعہ یہ ہے کہ تاریخ کا مطالعہ نہ صرف آنے والے خطرات کی پیش بندی کا موقع فرہم کرتا ہے بلکہ وہ موجودہ حالات کو بھی ایک مختلف تناظر میں متعارف کرا سکتا ہے۔ آج کل ہمارے ملک کا سب سے بڑا مسئلہ مہنگائی یا بڑھتی ہوئی خودکشیاں نہیں بلکہ ایک ایسا معاملہ ہے جس میں ہمارے ملک کی اعلیٰ ترین مقتدر شخصیات کا ملک دشمن سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا اندیشہ ہے۔یہ معاملہ ہے میمو گیٹ اسکینڈل کا (نہ چاہتے ہوئے بھی یہ مانگے کی اصطلاح استعمال کرنی پڑ رہی ہے ورنہ صدر نکسن کا قصور اتنا بڑا نہ تھا کہ ایسی شرمناک حرکت اس سے منسوب کر دی جاتی) ۔ کہتے ہیں کہ ہمارے ملک کی اعلیٰ مقتدر ہستیوں نے امریکہ بہادر کے ایک جنرل کو لکھا (یا لکھوایا) کہ حضور آپ کی نظر کرم ہو تو ہم یہاں آپ کی من پسند انتظامیہ کھڑی کر دیں گے۔ اور جو کچھ آپ نے مانگا ہے وہ بلکہ جو آپ نہ بھی مانگیں وہ بھی آپ کی نذر کرتے ہیں بس ہمیں اپنی پسندیدگی کی سند دے دیں۔ یہ وہی مقتدر ہستیاں ہیں جو پہلے یہ کہہ چکی ہیں کہ “کولیٹرل ڈیمیج آپ امریکنوں کو پریشان کرتا ہے ہمیں نہیں” یا “آپ ڈرون برسائے جاؤ ہم منہ دوسری طرف کیے رہیں گے لیکن باہر باہر سے احتجاج بھی کریں گے”۔ مسلمانوں کی صفوں میں غداروں کا ہونا کوئی نئی بات نہیں۔ لیکن مسلمان حکمران اپنے کافر آقا ؤں سے باقاعدہ خط و کتابت کے ساتھ غداری کے عہد و پیمان باندھ لیں اس کی مثال ہماری ذلت کی تاریخ میں بھی بہت ہی کم ہے۔ آج ہم اس میمو کو رو رہے ہیں کہ کس نے لکھا اور کیوں لکھا کس نے اس کو طشت از بام کیا اور کیوں کیا، لیکن مسلمانوں کی تاریخ پچھلے ۵۰۰ سال سے چیخ چیخ کر کہہ رہی ہے کہ تب بھی کسی نے ایک میمو لکھا تھا۔ اور مماثلت بس یہیں ختم نہیں ہو جاتی۔

امیر ابو عبداللہ غرناطہ میں مسلمانوں کا آخری حکمران تھا۔ اندلس میں آٹھ سو سالہ مسلم تاریخ کا آخری باب۔ اپنے باپ مولائے ابوالحسن کی پیٹھ پیچھے اقتدار پر قبضہ کرنے کے بعد اپنے اقتدار کو عوامی حمایت دلانے کے لیے اس نے قسطیلہ (کاسٹائل) کی عیسائی افواج پر یکطرفہ چڑھائی کردی اور بری طرح شکست کھا کر جنگی قیدی بنایا گیا۔ قید سے چھوٹا تو اس شرط کے ساتھ کہ اس کو غرناطہ کا اقتدار واپس دلایا جائے گا تاکہ وہ غرناظہ کی بغیر کسی مزاحمت کے عیسائی حکومت میں شامل ہونے کو یقینی بنائے۔ ابو عبداللہ نے واپس آنے کے بعد اپنے اقتدار کے آخری دن تک ہر روز شاید اسی کوشش میں گزارا کہ وہ کس طرح زیادہ سے زیادہ مال اکٹھا کر لے اس سے پہلے کہ اقتدار چھوڑنا پڑے۔ اس کام میں اس کے معاون اس کے وزرا ء اور امراء بھی تھے اور پورے حکمران طبقہ میں مشکل ہی کوئی ہو جو اس بہتی گنگا میں ہاتھ نہ دھو پایا ہو۔ اس تقریباً سات سال کے عرصے میں لا تعداد دفعہ خط و کتابت ہوئی اور ان میں سے کئی کو محفوظ کر لیا گیا، ڈاکٹر حقی حق نے اپنی کتاب “ہوئے تم دوست جس کے” میں ان کا ذکر کیا ہے اور نسیم حجازی کے “شاہین” سے تو ہماری اکثریت واقف ہی ہے۔ ان “میمو جات” میں کبھی تو امیر ابو عبد اللہ نے لکھا کہ کسی شورش یا ہنگامہ کی صورت میں غرناطہ کی حفاظت کی جائے کیونکہ ہم اپنے دفاع کے لیے آپ کی طرف دیکھتے ہیں۔ تو کبھی جوابی خط میں فرڈینینڈ نے ابو عبد اللہ کو لکھا کہ تمہارے وزیر ہم سے زیادہ کا مطالبہ کر رہے ہیں کیا تمہارے علم میں نہیں؟ کبھی فرڈینینڈ نے ابو عبداللہ سے ایک خط میں “ڈو مور” کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم تمہارے وزراء سے بات کرتے ہوئے تمہارے مفادات کو ترجیح دیتے ہیں۔ لیکن تم پر ہماری عنایات اسی وقت تک ہیں جب تک تم عیسائی حکمرانوں کے مفادات کا خیال رکھو۔ اور سگ ذہنی کا پاتال وہ عبارت بھی موجود ہے جو مسلمان وزراء نے ایک مشترکہ خط میں لکھی کہ اے شان والے بادشاہ، ہم تمہارے حضور حاضر ہو کر تمہارے ہاتھ چومنا چاہتے ہیں اور تمہارے جسم کا ہر وہ حصہ چومنا چاہتے ہیں جس کی کہ اجازت دی جائے تاکہ ان غلاموں کی وارفتگی تم خود دیکھ لو!

لیکن صحیح معنوں میں اس دور کا “میمو” اگر کسی خط کو کہا جا سکتا ہے تو وہ وہ کتابت ہے جو عبداللہ اور اس کے وزیروں نے غرناطہ کو عیسائی حکمرانوں کے حوالے کرنے کے عوض اپنے لیے مراعات کی ضمانت حاصل کرنے کے لیے کی تھی۔ اس خط میں موجود چند شرائط یہ ہیں :

-سقوط غرناطہ کے وقت عبداللہ کو تین لاکھ ماراوید ( کرنسی) کی ادائیگی
-المیریا میں زرخیز زمین
-شاہی خواتین کو زیورات اور بناؤ سنگھار کی چیزیں فروخت کرنے کی اجازت
-عبداللہ اور اس کے امراء کے اموال محفوظ قرار دیا جانا
-الحمراء پر قبضہ کے وقت عبداللہ اور گورنر غرناطہ کو دس دس ہزار سکہ نقد دیے جانا
-جو کسان عبداللہ اور اس کے امراء کے لیے غلہ اگاتے ہیں ان کے تحفظ کی ضمانت

یہ خط ایک کافر بادشاہ کو ایک مسلمان بادشاہ کی طرف سے تھا۔ ایک ایسا مسلمان بادشاہ جس کے سامنے دو میں سے ایک راستہ تھا۔ یا تو عیسائی قوت کے آگے ڈٹ کر کھڑا ہو جائے اور اللہ کی نصرت پر بھروسہ رکھے۔یا اس قوت کے سامنے سے ہٹ جائے اور اپنی اور اپنے خاندان کی بہتری کا خیال کرے۔ بادشاہ نے دوسری راہ اختیار کی اور تاریخ گواہ ہے کہ وہ کوئی بہت زیادہ جیا بھی نہیں اور مرا بھی تو اس حال میں کہ اس کی لاش دریا کے کنارے پڑی تھی اور گھوڑے اسے روند رہے تھے۔ اس خط کے 6 سال بعد غرناطہ پر اسلام کا پرچم غروب ہو گیا۔ اور اس دن سے لے کر آج کا دن ہے، اندلس میں اسلام کبھی واپس نہیں آیا۔ عبداللہ پر شاید اس کی اوقات سے بڑی ذمہ داری آگئی تھی اور اس نے اس ذمہ داری سے ہر ممکن پہلو تہی کرتے ہوئے اپنے تحفظ کو مقدم رکھا۔ اس نے اپنی عوام کو یقیناً یہ باور کرایا ہو گا کہ اس معاہدے میں ہی ہماری بقاء ہے ورنہ ہمارا “تورا بورا” بنا دیا جائے گا۔ یا فرڈینینڈ ہمیں “پتھر کے دور” میں پھینک دے گا۔ اور سقوط کے معاہدے میں بظاہر مسلمانوں کے حقوق کا تحفظ کیا گیا تھا مثلاً انہیں زبردستی عیسائی نہ بنائے جانے کی یقین دہانی اور ان کے جان و مال کا تحفظ لیکن عملاً ایک بار جب عیسائی قابض ہو گئے تو مسلمانوں کے لیے معاہدے کی کسی ایک شق پر بھی عمل کرانا ناممکن تھا۔ مسلمانوں کو زبردستی عیسائی بھی بنایا گیا اور ان کے جان و مال زبردستی چھینے بھی گئے۔ لیکن یہ شاید ان کی غفلت کی قیمت تھی کہ انہوں نے اپنے اس بادشاہ پر بھروسہ کیا تھا جس نے ان کو اقتدار میں آنے سے پہلے ہی بیچ دیا تھا۔

۱۴۹۲ کے اندلس اور آج کے پاکستان میں صرف یہی مماثلت نہیں ہے کہ ان کا بادشاہ بھی جیل سے نکال کر بادشاہ بنایا گیا تھا۔ یا اس کے بادشاہ بنائے جانے میں بھی کسی پاور ڈیل کا دخل تھا۔ یا یہ کہ اس کے وزیر کا نام بھی یوسف تھا۔ یا یہ کہ اس نے بھی اپنی خودغرضی کو وسیع تر قومی مفاد کا نام دیا تھا۔ یا یہ کہ تب بھی ایک میمو لکھا گیا تھا اور آج بھی۔ بلکہ ہمار ے لیے سب سے بڑی مماثلت یہ ہے کہ اس وقت کے عوام بھی اپنے کام دھندوں میں لگے رہے۔ معاملات کی جو تصویر ان کو حکام نے دکھائی وہ دیکھی اور خبردار کرنے والوں کی بات پر کان بھی نہ دھرے۔ حکام شریعت سے روگردانی کرتے رہے ، مملکت کے دفاع کے سودے کرتے رہے اور عوام اپنے کام دھندوں اور کھیل تماشوں میں لگے رہے۔ اس وقت بھی،آنے والے حالات کی سنگینی سے آگاہ کرنے والوں کو “میسینجرز آف ڈوم” یا “تباہی کے قاصد” کہا گیا ہو گا۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہاں غرناطہ میں اسلا م کا پرچم سرنگوں ہوا اور وہاں مسلمانوں کی کم بختی شروع۔ یہ منظر بھی تاریخ کے اوراق میں موجود ہے کہ ایک طویل قطار میں لوگ اپنی باری کا انتظار کر رہے ہیں اور زار و قطار رو رہے ہیں کہ یہ لائن داڑھی کٹانے کے لیے ہے۔ اور یہ بھی کہ مسلمان پردہ دار بیبیوں کو بپتسمہ دیا جا رہا ہے۔ اور یہ بھی کہ مسجدوں میں عیسائی فوجیوں کے گھوڑے بندھے ہیں ۔ اور “انکوئیزشن” کا نام تو غیر مسلم مؤرخین کے سامنے بھی لیں تو وہ بھی کانپ جاتے ہیں۔

پھر لکھتا ہوں، تاریخ پڑھنے سے مستقبل کانقشہ واضح ہوتا ہے۔ یہ سطریں صرف تفنن طبع کے لیے تحریر نہیں کی گئیں بلکہ اس خطرے سے آگاہ کرنے کے لیے ہیں جو ہمارے سروں پر منڈلا رہا ہے۔ اندلس کی تاریخ کے مطالعہ کے وقت ہمیشہ یہی سوچ ذہن میں رہتی تھی کہ کیا اس دور کی عوام اندھی تھی کہ اس کے سامنے اتنا بڑا کھیل ہو گیا اور اسے خبر بھی نہ ہوئی۔ لیکن آج ہمارے ساتھ بھی کچھ ایسے ہی کھیل کھیلے جا رہے ہیں۔ آج ہمارے لیے بجلی، گیس اور دوسری چیزوں کی قلت پیدا کر کے دھیان ان چیزوں میں لگا دیا گیا ہے جیسے یہ دنیا کی سب سے ضروری چیزیں ہوں۔ دوسری طرف ایک سیاسی تماشہ ہے جو کبھی نئےصوبوں کے نام پر اور کبھی انتخابی ہنگامے کے نام پر رچایا جاتا ہے۔ اس سب کے بیچ نیٹو کے سامنے خم ٹھونک کر کھڑے ہونے کی ادا بھی دکھائی گئی ہے جس سے انہیں ہم پر حملہ کرنے کا جواز ملتا نظر آرہا ہے۔ لیکن شاید ان سب سے بھیانک بات یہ ہے کہ گزشتہ کئی سالوں سے دھیرے دھیرے ہمیں اس بات کا عادی بنایا جا رہا ہے کہ ہم کفر کے نیچے رہنے کے لیے راضی ہو جائیں۔ ہمارے ملک میں ہر سال کئی لوگ اصلی اور جعلی طریقے سے بیرون ملک جا رہے ہیں اور وہاں مستقل رہائش اختیا رکر رہے ہیں اور جب وہ لوگ وہاں موجود سہولیات کا ذکر کرتے ہیں تو ہمارے یہاں موجود لوگوں کے دلوں میں بھی ارمان پیدا ہوتا ہے کہ کاش ہمارے یہاں بھی ایسا ہوتا۔ لوگوں کی ایک کثیر تعداد کی نظر میں کامیابی کی معراج امیگریشن ہے۔ اس صورتحال میں ہماری اکثریت کا کسی کافرانہ نظام کو قبول کر لینا بعید از قیاس نہیں۔ لیکن یاد رکھیے، ان طاقتوں کے اصول اپنے لیے کچھ اور ہیں اور ہمارے لیے کچھ اور۔ یہ تجربہ آج سے ۵۰۰ سال پہلے اندلس کے اور پھر افریقہ کے مسلمانوں کو، اس کے بعد ریڈ انڈینز کو اور ماضی قریب میں عراق اور افغانستان کے مسلمانوں کو ہو چکا ہے۔

اس سال ۲ جنوری کو غرناطہ میں اسلام کا پرچم سرنگوں ہوئے ۵۲۰ سال ہو گئے۔ کفر کی چالبازیاں اور مسلم حکمرانوں کی غداریاں اب بھی اس ملت کو لاحق ہیں۔ لیکن ہم سے ہمارے عمل کا ہی سوال کیا جائے گا ان کےنہیں۔ بحیثیت قوم ، ایک با کردار قیادت کی ضرورت جتنی آج ہے اتنی شاید پہلے کبھی بھی نہیں تھی۔ تاریخ کے اوراق ہمیں با آواز بلند متنبہ کر رہے ہیں کہ امت مسلمہ نے جب بھی اپنی قیادت کے لیے شریعت کے علاوہ کوئی اور معیار اختیار کیا تو اسےمنہ کی کھانی پڑی۔ وقت کا تقاضہ ہے کہ ہم قیادت کے بارے میں اپنے نظریات کو تبدیل کریں اور با عمل علماء کو اس بات پر مجبور کریں کہ وہ حالات کی باگ ڈور سیاسی مولویوں کے حوالے کرنے کی بجائے اپنے ہاتھ میں لیں۔ بصورت دیگر حالات اگر اسی طرف چلتے رہے تو وہ دن دور نہیں لگ رہا جب، خاکم بدہن، اسلامی جمہوریہ پاکستان نہ اسلامی رہے نہ پاک بلکہ ایک جمہوری استھان بن کر رہ جائے۔ تب شاید ہمیں ابو عبداللہ کی ما ں کی وہ بات سمجھ میں آئے جو اس نے اپنے بیٹے کو روتے دیکھ کر کہی تھی کہ “جس زمین کی حفاظت تو مردوں کی طرح نہ کر سکا اب اس کے لیے عورتوں کی طرح آنسو کیوں بہاتا ہے”۔

شاید ۵۰۰ سال بعد تاریخ نے ایک ماں کا یہ سوال ہمارے سامنے دوبارہ لا کھڑا کیا ہے، کیا آپ کا جواب تیار ہے؟

طوفان سے پہلے

Posted in Social revolution by baigsaab on January 11, 2012

معاملہ بہت ہی چھوٹی سی بات سے شروع ہوا تھا۔ اتنی چھوٹی کہ جو کچھ اس کے بعد ہوا یہ یقین کرنا مشکل ہے کہ اس سب کا باعث یہ چھوٹی سی بات ہی تھی۔

یہ نومبر کی ایک شام کی بات ہے۔ اسی نومبر کی۔ شیردل اپنے گھر والوں کو بس میں سوار کرا رہا تھا جو کہ خانپور اپنے گاؤں جا رہے تھے۔ جس جگہ سے یہ بسیں چلتی ہیں وہ کیونکہ عین بازار میں واقع ہےاس لیے بسوں کی روانگی اور آمد کے وقت اچھا خاصا رش ہو جاتا ہے اور کبھی کبھار تھوڑی بہت دھکم پیل بھی ہو جاتی ہے۔ اس وقت بھی یہی کچھ ہو رہا تھا۔ بس کچھ نیمے دروں نیمے بروں انداز میں سڑک پر آرہی تھی۔ جانے والوں کو الوداع کہنے والے جلدی جلدی ان سے آخری باتیں کر رہے تھے اوران کے آس پاس سے راہگیر اور موٹر سائیکل والے بچتے بچاتے نکل رہے تھے۔ شیر دل کا ایک رشتہ دار تنویر رینگتی ہوئی بس کے پائیدان پر چڑھ رہا تھا کہ اس کی ٹانگ ایک موٹر سائیکل سوار کو لگ گئی۔ یہ ایک سولہ سترہ سالہ لڑکا تھا جو دودھ سپلائی پر نکلا ہوا تھا۔ لڑکے نے کچھ نازیبا کلمات کہے تو جواب میں ادھر سے بھی کچھ تلخی کا مظاہرہ ہوا۔ بات کچھ گرم ہو گئی تو یہ حضرت اپنی سواری سے نیچے اترے اور انہوں نے باقاعدہ ہاتھا پائی کی کوشش کی تو اس کو کچھ لوگوں نے پیچھے سے پکڑ لیا۔اس نے اپنے آپ کو ان سے چھڑایا اور سڑک کی دوسری طرف یہ کہتے ہوئے بھاگ گیا کہ “تم نے غلط آدمی کو چھیڑ دیا ہے”۔ ان لوگوں کو پتہ تھا کہ یہ جن لوگوں کا لڑکا ہے وہ علاقے میں کافی لوگوں سے لڑائی جھگڑا کر چکے ہیں لیکن شیر دل کا بہنوئی ان کا بچپن کا دوست تھا اور وہ وہیں موجود تھا، کوئی خاص مسئلے کی بات لگ نہیں رہی تھی۔ ابھی تھوڑی دیر ہی گزری تھی کہ سڑک کی دوسری طرف سے ایک مجمع بھاگتا ہوا ان کی طرف آیا اور اس سے پہلے کہ کوئی بات ہوتی تنویر کے اوپر حملہ کر دیا۔ صورت حال کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے شیردل کا بہنوئی آگے بڑھا اور اس کی مدد کرنے کی کوشش کی، اپنے ان دوستوں سے چھڑانے کے لیے جن کے ساتھ وہ بچپن سے کھیلا تھا۔ لیکن اس کو بھی دھکے دے دئیے گئے۔ اتنا ہنگامہ ہورہا تھا کہ آس پاس میں تماشہ دیکھنے والا مجمع بھی دور ہو گیا اور شیردل اور اس کے دونوں ساتھی ان بیس بائیس لوگوں میں گھر گئے۔ شیر دل کے ہاتھ میں اس کی ۲ سالہ بچی تھی جس کے ساتھ میں وہ اپنے آپ کو بےبس محسوس کر رہا تھا اور وہاں تنویر لہولہان ہو رہا تھا۔ اس نے بڑی مشکل سے اپنی بچی کو کسی جاننے والے کے حوالے کیا اور تنویر کو چھڑانے کے لیے آگے بڑھا تو وہاں سے کسی نے ہتھوڑا چلانا شروع کر دیا۔ یہ دیکھے بغیر کہ یہ ہتھوڑاکسی کے منہ پر لگ رہا ہے، سر پر یا کہاں۔ جب انہوں نے اچھی طرح مار پیٹ کر لی تو وہاں سے چلے گئے۔ ان کے جانے کے بعد ان لوگوں نے اپنے حال کو دیکھا توتنویر کے سر پر گہرے زخم آئے تھے، شیردل کا بہنوئی بھی لہولہان تھا۔ اور خود شیردل کے سر سے بھی خون بہہ رہا تھا۔ ایک چھوٹی سی بات سے اتنا بڑا نقصان ہو گیا۔

********

حسن صاحب نے فون اٹھایا، دوسری طرف شیر دل تھا۔ اپنے بہنوئی اور تنویر کو وہ قریب ہی واقع ان کے گھر چھوڑ کر وہ اپنے گھرآگیا تھا۔ اس نے پوری بات حسن صاحب کو بتائی اور کہا، “سر میں ابھی گھر سے نکل کر واپس وہیں جا رہا ہوں ۔ میں نے وہاں اور لوگ بھی جمع کر لیے ہیں اب میں ان دودھ والوں کو نہیں چھوڑوں گا۔ ایک ایک کو دیکھ لوں گا۔ ” شیر دل حسن صاحب کا شاگرد رہ چکا تھا اور اب ان کے ساتھ ہی ہوتا تھا۔ کوئی بھی قدم اٹھانے سے پہلے وہ حسن صاحب سے مشورہ ضرور کرتا تھا ۔انہوں نے اس کو وہیں ٹھہرنے کو کہا اور خود اس کے گھر کی طرف نکل کھڑے ہوئے۔

********

حسن صاحب شیردل کے گھر پہنچے تو وہ زخمی شیر کی طرح ادھر سے ادھر گھوم رہا تھا۔ صاف لگ رہا تھا کہ اس کو صرف حسن صاحب کی بات نے روکا ہوا ہےورنہ وہ تو اب تک نکل چکا ہوتا۔ اس نے ابھی تک اپنے کپڑے بھی تبدیل نہیں کیے تھے اور اس کے سر کا زخم بھی توجہ مانگ رہا تھا گو زخم گہرا نہیں تھا۔ حسن صاحب کو پتہ تھا کہ معاملہ کو طول دینے کا مطلب سوائے مزید خونریزی کے اور کچھ نہیں لیکن شیر دل غصہ سے بے قابو ہو رہا تھا۔ انہوں نے اس کے جذبات کو دیکھتے ہوئے اس کے ساتھ جانے کا فیصلہ کیا کیونکہ اس وقت اس کو اکیلا چھوڑنا اور خطرناک ہو سکتا تھا ۔ وہ جانتے تھے کہ شیر دل اس وقت صرف انہی کے قابو میں آسکتا ہے۔

********

معاملہ کیونکہ ابھی گرم تھا اس لیے علاقہ میں چہل پہل معمول سے بہت زیادہ تھی۔ حسن صاحب نے شیردل کے کافی دوستوں کو وہاں پایا جو کہ سب اسی معاملہ کو نمٹانے کے لیے جمع ہوئے تھے۔ ان کے عزائم کیا تھے یہ جاننے کے لیے کسی قسم کے اندازے کی ضرورت نہیں تھی کیونکہ وہ مکمل “تیاری “کے ساتھ بیٹھے تھے۔ وہاں پہنچ کر انہیں پتا چلا کہ وہ لڑکے جنہوں نے وہ مار پیٹ کی تھی اب بھاگ چکے ہیں اور دکان پر ان کا باپ بیٹھا تھا۔ حسن صاحب نے شیر دل کی توجہ اس بات کی طرف دلائی اور کہا۔ “دیکھو وہ لڑکے اب یہاں نہیں ہیں، جو بھی تم کر سکو گے ان کے باپ کے ساتھ ہی کرو گے تو کیا ہمیں یہ زیب دیتا ہے کہ ہم ایک شخص کا بدلہ کسی اور سے لیں؟ کیا تم پسند کرو گے کہ تمہارا بدلہ تمہارے ابو سے لیا جائے؟” شیردل بھڑک اٹھا۔ “تو کیا کریں سر؟ بس چوہے بن کر مار کھاتے رہیں؟ میری غیرت یہ برداشت نہیں کر سکتی کہ اس ظلم پر چپ ہو کر بیٹھا جائے۔ ظلم سہنا بھی ظالم کا ساتھ دینا ہی ہے نا؟” حسن صاحب اس کی بات سن رہے تھے اور شیردل اپنا غبار نکالتا جا رہا تھا۔ ” یہ اگر شرمندہ ہوتے تو میں سو دفعہ انہیں معاف کردیتا لیکن یہ شرمندہ نہیں ہوتے ان کا آئے دن کا یہی کام ہے، جب دل چاہتا ہے ڈنڈوں اور ہتھوڑوں سے لوگوں کو مارتے ہیں اور لوگ مار سہتے ہیں۔ نہیں سر مجھے ایسی بے غیرتی گوارا نہیں!”

“تو ہم ان کے خلاف ایف آئی آر درج کرا تے ہیں نا۔ جب ایسے لوگوں سے نمٹنے کے لیے قانون موجود ہے تو ہمیں اپنے ہاتھ خراب کرنے کی کیا ضرورت ہے؟” حسن صاحب نے کہا۔ “میرے تعلقات ہیں نا اوپر تک، ہم دیکھتے ہیں کیسے نہیں ہوتا کچھ؟”

شیردل نے نظریں اٹھا کر حسن صاحب کی طرف دیکھا اور کہا” کون سا قانون کہاں کا قانون سر؟ یہ سب لڑکے یہاں کی سب سے مضبوط پارٹی میں ہیں۔ تھانیدار ان کا “گرائیں” ہے یہاں کوئی نہیں سنے گا ہماری۔۔۔ ” شیردل کے لہجے کی تلخی اس کی مسکراہٹ میں زہر گھول گئی۔

“یار تم میری بات تو مان لو میں ہوں نا میں دیکھ لوں ان سب کو۔” حسن صاحب نے اس کو بالآخر قائل کر لیا۔

********

ڈیوٹی ڈاکٹر نے شیر دل کے زخموں کو دیکھا اور حسن صاحب سے کہا۔ “دیکھو بھئی مسئلہ یہ ہے کہ نہ تو اس کی ہڈی ٹوٹی ہے نہ ہی چھ انچ گہرا زخم لگا ہے۔ تو اس میں میں کیا رپورٹ لکھوں؟” وہ دونوں سرکاری ہسپتال میں بیٹھے تھے جہاں جانے کا مشورہ ان کوتھانے کے محرر نے دیا تھا ۔ حسن صاحب کی سرکاری ملازمت اور ڈی ایس پی سے شناسائی سے یہی ہو سکا کہ محرر نے درشت لہجے میں ہی سہی، ان سے بات کرلی اور ان کو کسی سرکاری ہسپتال سے سرٹیفیکیٹ لانے کو کہا۔ یہ دونوں اب یہاں بیٹھے تھے اور ڈاکٹر شیر دل کے زخموں کو دیکھنے کے ساتھ ساتھ ان کو مفت قانونی داؤ پیچ بتا رہا تھا ۔ “میرے بھائی یہ چھ سات ٹانکے تو آپ کو سیڑھیوں سے گر کر بھی آسکتے ہیں تو کیا آپ سیڑھیوں پر کیس کرو گے؟ اتنی چوٹ پر کچھ بھی نہیں ہوتا، کوئی بڑی چوٹ ہو تو کچھ ہو سکتا ہے۔ آپ بولو تو میں ایسی رپورٹ بنا سکتا ہوں ” ڈاکٹر نے خالص کاروباری دیانت کے ساتھ ان کے ممکنہ راستے ان کے سامنے رکھ دئیے۔ وہ دونوں وہاں سے نکل کر واپس تھانے آگئے۔

تھانے میں ان کے آنے کے بعد دودھ والوں کا ایک نمائندہ بھی آگیا تھا جو کہ محرر کے ساتھ ہی بیٹھ گیا تھا۔ حسن صاحب کو اب تک سمجھ آگیا تھا کہ محرر نے جو ان کو ہسپتال بھیجا تھا تو اس کا مقصد معاملہ کو سنبھالنا تھا نہ کہ کارروائی کو آگے بڑھانا۔اب اس نے ڈاکٹر کی کہی ہوئی بات دہرا دی تو حسن صاحب نے تلخی سے کہا۔ “گویا اگر میں ان میں سے کسی کو ماروں اور نہ ہڈی توڑوں اور نہ چھ انچ گہرا زخم آنے دوں تو آپ میرے خلاف بھی کچھ نہیں کر سکتے” اس پر سامنے بیٹھے اس شخص نے تڑپ کر کاٹ دار لہجے میں کہا “ایسا سوچنا بھی نہیں سمجھے”۔ “اور یہ کیا بیس آدمی بیس آدمی کی رٹ لگائی ہوئی ہے۔ بیس آدمی مل کر مارتے تو تم یہاں بیٹھے ہوتے؟ دو تین لوگ تھے وہ بس!!” اب اس بات میں شک کی گنجائش نہیں تھی کہ یہاں سے صرف ایک ہی فریق کو انصاف مل سکتا ہے۔ حسن صاحب اور شیردل اس جگہ سے واپس آگئے۔

********

اس واقعہ کے تین دن بعد شیر دل حسن صاحب کے ساتھ بیٹھا تھا۔ ان کے کچھ اور ساتھی بھی وہیں تھے جن کے ساتھ وہ مشورہ کیا کرتے تھے۔ شیر دل اپنے دل کی بھڑاس نکال رہا تھا۔ “سر آپ نے دیکھ لیا کہ ان کی پہنچ کہاں کہاں ہے؟ نہ ان کو قانون کا کوئی ڈر ہے نہ کسی اور کا۔ علاقے میں موجود ہر سیاسی پارٹی کے ساتھ وہ بیٹھتےہیں ۔ یہ ان کو چندہ دیتے ہیں اور وہ ان کو پروٹیکشن دیتے ہیں۔ ہر شخص ان سے دب کر رہتا ہے ۔ ان سے نمٹنے کا صرف ایک طریقہ ہے کہ جہاں ان میں سے کوئی ملے اس کو وہیں گرا دو” ۔

حسن صاحب جو اب تک خاموش بیٹھے ہوئے تھے، وہاں موجود سب لوگوں سے مخاطب ہوئے۔ “آپ سب مجھے بہت عرصے سے جانتے ہیں، زندگی کے گرم و سرد ہم نے مل کے دیکھے ہیں۔ ہم میں سے ہر ایک کے پاس باہر نکل جانے کے کئی موقع آئے لیکن میں نے ہمیشہ یہی کہا ہے کہ جب تک مجھے لگتا رہے گا کہ اس معاشرہ میں سدھار کی گنجائش موجود ہے میں کہیں نہیں جاؤں گا۔ لوگ ہمیں بے وقوف کہتے رہے ہیں لیکن قرآن اور حدیث کے مطالعہ سے یہی سامنے آتا ہے کہ گھر بار اگر چھوڑنا ہی ہے تو دین کے لیے نہ کہ دنیا کے لیے۔”

“لیکن اب اس موقع پر میں یہ سوچنے پر مجبور ہو گیا ہوں کہ کیا واقعی ہمیں دین پر عمل کی اجازت ہے؟ قانون ہمیں اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ ہم سڑکوں پر خون کے فیصلے کرتے پھریں لیکن آنکھ کے بدلے آنکھ بھی تو دین نے ہی بتایا ہے۔ ان کو سبق نہ سکھایا گیا تو ایسے اور معاملے ہونگے۔ رپورٹ تک نہیں لکھا سکتے کہ اس کے لیے بھی رشوت دینی ہی پڑے گی۔ یہ لوگ تو کوئی راستہ ہی نہیں چھوڑ رہے سوائے اس کے واقعی وہی کیا جائے کہ جو شیر دل کہہ رہا ہے۔ تو پھر کیا کیا جائے؟ بندوق اٹھا کر ان سب کو مار دیا پھر کیا کریں؟ کیا معاشرہ سے ظلم ختم ہو گیا؟ کیا ایسے سب لوگ ختم ہو گئے؟ معاشرہ میں تو ایسے لوگ لاکھوں نہیں تو ہزاروں کی تعداد میں تو ضرور ہیں تو کیا ہزاروں کو قتل کریں ہم؟ “

ایک ساتھی یوں گویا ہوئے”اگر ہم ان کے دس ماریں گے تو کل کو ہمارا بھی ایک جائے گا۔ ہم سب کو پتا ہے کہ ان معاملات کی شروعات یہی ہوتی ہے اور ان کی انتہا کیا ہوتی ہے۔”

وہاں موجود ایک صاحب نے کہا “یار دیکھا جائے تو یہ ظلم اور زیادتی تو ایام جاہلیت میں بھی تھی۔ لوگ اس وقت بھی بے گناہ قتل ہوتے تھے اور بیٹیاں زندہ دفنائی جاتی تھیں۔ لیکن سنت نبویؐ سے جو ہمیں سبق ملتا ہے وہ یہی ہے کہ بدلنا ہے تو نظام کو بدلو چاہے کچھ بھی ہو جائے”

“یار وہ بھی توہے نا۔ بکریاں لے کر پہاڑ پر چلے جاؤ۔ کمانیں کاٹ دو۔ یہ بھی تو حکم ہے نا بھائی؟ ” ایک اور صاحب نے کہا۔

“خیر دیکھیں اب آگے کیا ہوتا ہے اس معاملہ میں، فی الحال تو شیردل کا معاملہ دیکھنا ہے۔” حسن صاحب نے بات کو سمیٹتے ہوئے کہا۔

********

جس جگہ یہ سارا واقعہ ہوا تھا اس سے ذرا ہی آگے اسی آبادی میں ایک چائے کے ڈھابے پر پنچائت بیٹھی تھی۔ شیر دل کے ماموں کی کوششوں سے یہ پنچائت بلائی گئی تھی کہ معاملہ کو رفع دفع کر دیا جائے۔ انہوں نے بڑی مشکل سے اپنے لڑکوں کو روکا تھا لیکن ان کو پتہ تھا چنگاری ابھی بھی سلگ رہی ہے،ذرا سی ہوا سے آگ بھڑک سکتی تھی اس لیے وہ چاہتے تھے کہ معاملہ جلد از جلد صلح تک پہنچ جائے۔

سرپنچ نے سب سے پہلے تو اس لڑکے کو بلایا اور اس سے سختی سے پوچھا کہ معاملہ ہوا کیا تھا۔ اس نے کچھ بتایا کچھ چھپایا تو وہاں موجود دوسرے لوگوں نے اس کو ٹوک دیا۔ دونوں طرف کے دعوؤں میں تضاد اتنا واضح تھا کہ صاف لگ رہا تھا کہ کوئی ایک پارٹی غلط بیانی سے کام لے رہی ہے۔ دونوں کا کہنا تھا کہ شروعات دوسری طرف سے ہوئی تھی دونوں کہہ رہے تھے زیادتی دوسری طرف سے ہوئی ہے۔ البتہ سختی سے پوچھنے پر لڑکے نے بتایا کہ ہتھوڑے وہی چلا رہا تھا اور اس کا بھائی۔ ان کا باپ وہیں بیٹھا تھا اور اپنے بیٹوں کا دفاع کر رہا تھا۔ بالآخر سر پنچ صاحب نے شیر دل سے کہا ” دیکھ بھئی، یہ تو مان رہا ہے کہ اس نے ایسا کیا لیکن ایسا کوئی بلاوجہ تو نہیں کرے گا، کچھ نہ کچھ تو ہوا ہو گا نا تمہاری طرف سے!!!”

ان کا یہ جملہ سن کر یہی خیال آیا کہ اگر اس اصول کو صحیح مان لیا جائے تو اس کے نتائج کیا ہوں گے؟ ہابیل نے کچھ تو ایسا کیا ہوگا کہ قابیل نے اس کو قتل کر دیا؟ یہود اپنے انبیاء کو قتل کرتے رہے کوئی تو وجہ ہوگی نعوذباللہ۔ مطلب ان کے اصول کے مطابق اس دنیا میں جس پر کوئی زیادتی ہوئی ہے اس میں کوئی نہ کوئی قصور اس کا اپنا بھی ہو گا۔ سرپنچ کے اس تاریخی فیصلے کے ساتھ ہی اذان ہو گئی اور یوں صلح کا اعلان کر دیا گیا۔ دونوں طرف سے ہاتھ ملا لیے گئے اور معافی تلافی ہو گئی۔

********

زبردستی کی اس صلح سے یہ معاملہ تو نمٹ گیا۔ اب شاید یہ لوگ ایک دوسرے کو دیکھ کر منہ دوسری طرف کر کے چلے جائیں۔ شاید شیردل کا بہنوئی ایک دو سال بعد اپنے بچپن کے دوستوں کے ساتھ دوبارہ بیٹھنے لگے۔ شاید تنویر کے سر کے ٹانکوں کے نشان وقت کے ساتھ مندمل ہو جائیں۔ لیکن کیا ایسے واقعات ہونا بند ہو گئے؟ کیا اس بات کی ضمانت مل گئی کہ کل کو کسی اور تنویر کا سر نہیں پھٹے گا؟ وثوق سے کہا جا سکتا ہے کہ اس بات کی کوئی ضمانت نہیں۔ یہ نظام صرف ظلم کی ترویج کر رہا ہے۔ اور مظلوموں کے پاس کوئی ایک بھی ذریعہ نہیں ہے کہ وہ انصاف حاصل کر سکیں۔ نہ ہی ان کو کوئی بچاؤ کا راستہ نظر آتا ہے. ہر کسی کے پاس یہ موقع نہیں ہوتا کہ اگر اس کو کسی جگہ ظلم کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے تو وہ کسی دوسری جگہ ہجرت کر جائے ۔ اسی لیے لاوا اندر ہی اندر پک رہا ہے۔ یہ دیکھنے کے لیے کسی خورد بین کی ضرورت ہے نہ دوربین کی، بس تعصب کی عینک اتارنے کی ضرورت ہے۔ سڑکوں پر ہوتے فیصلے ضروری نہیں ہمیشہ صلح پر منتج ہوں۔ عوام کبھی کبھی اپنی عدالتیں بھی لگا لیتے ہیں اور اس چکی میں گھن کے ساتھ گیہوں بھی پستا ہے۔ عوام کی وحشیانہ عدالتیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ جب لاوا بہت پک جاتا ہے تو وہ پہاڑ کا سر پھاڑ کر باہر آجاتا ہے۔ اگر پریشر ککر میں بھاپ نکلنے کی جگہ نہ ہو تو ہر گھر میں روز دھماکے ہوں۔ یہی اصول سماج کا ہے۔ ظالم معاشرہ مظلوم کےلیے ہر راستہ بند کر کے سمجھتا ہے اس کی بچت ہوگئی جب کہ حقیقتاً وہ اپنے تابوت میں کیل ٹھونک رہا ہوتا ہے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ قانون کو ہاتھ میں لے لیا جائے لیکن اس نظام کی تطیہر اب لازم ہو گئی ہے۔جب تک اس ہتھوڑے برسانے والے کے سر پر بھی ویسے ہی ہتھوڑے نہیں پڑیں گے تب تک وہ بھی باز نہیں آئے گا بلکہ اور نڈر ہو جائے گا۔ جب تک ظلم کرنے والے کو اس بات کا ڈر نہیں ہوگا کہ آنکھ کے بدلے آنکھ اور دانت کے بدلے دانت جا سکتا ہے تب تک ظالم کا ہاتھ نہیں رکے گا۔ یہی قانون قصاص ہے جو ہمیں ہمارے عادل کریم رب نے دیا ہے۔ ” اور اے عقل رکھنے والو تمہارے لیے قصاص میں زندگی (کا سامان) ہے”

وَلَكُمْ فِي الْقِصَاصِ حَيَاةٌ يَا أُولِي الْأَلْبَابِ

ڈبے کے قیدی

Posted in Social revolution by baigsaab on November 24, 2011

گستاخی کی معافی چاہتا ہوں لیکن فرض کریں آپ کو کسی جگہ قید کر دیا جاتا ہے. قید خانہ میں آپ کے علاوہ اور بھی بہت سے لوگ ہیں. لیکن اس قیدخانہ کے ضوابط عجیب ہیں. آپ واحد قیدی ہیں جس کو بولنے کی اجازت نہیں ہے، آپ کے علاوہ باقی سب کو بولنے کی اجازت ہے لیکن سننے کی نہیں. آپ دوسرے جس ساتھی کو بولنے کا کہیں گے وہ چپ نہیں رہ سکتا. یہ آپ کے اوپر ہے کہ سب کو ایک ساتھ بولنے دیں یا ایک ایک کر کے یا سب کو چپ کرا دیں.
خیر تو آپ نے ایک ساتھی کو بولنے کی اجازت دی. وہ شروع ہوا. ” یار آج کل ڈینگی بڑا پھیلا ہوا ہے بہت لوگ مر رہے ہیں ، اور تم نے وہ نیا موبائل دیکھا وہ جس میں چار سم ہوتی ہیں لیکن یار اس سے پہلے ایبٹ آباد میں جو ہوا وہ تو سن لو ملکی حدود کی دھجیاں بکھیر دی گئیں. اور وہ جو نئی انڈین فلم ہے نا اس میں ہیرو جو ہے وہ اڑتا ہے(فلم کا گانا گنگناتا ہے) اور لیکن یار کل ایک گھر کی چھت گرنے سے نا دو بچے مر گئے یار. ( یہاں وہ روتا ہے). اور آج فلاں جگہ پر ایک خودکش حملے میں ۳۵ لوگ مر گئے. ان میں سےیار ایک اپنے گھر کا واحد کفیل تھا (افسردہ گانا گانے لگتا ہے)”
اس کی اس بے سرو پا گفتگو سے گھبرا کے آپ نے اس کو چپ کرا دیا. دوسرے کو بولنے کا کہا. وہ شروع ہوا ” شاکر صاحب نے فہیم کو بولا، ‘تمہیں اگر پچیس کروڑ چاہیے تھے تو مجھ سے کہنا تھا اس کے لیے تمہیں تایا جی کے آگے ہاتھ پھیلانے کی کیا ضرورت تھی. یہ لو چیک اور تایا جی کے منہ پہ مار کے آؤ . ایک بریکنگ نیوز ہے کہ خوازہ خیلہ میں تیس دہشت گرد جو ایک شادی کی تقریب میں جا رہے تھے وہ ڈرون حملے میں مارے گئے ہیں، دہشت گردوں میں ۱۴ بچے اور ۶ عورتیں بھی تھیں۔ ( اب یہ دور سے جہاز کی طرح ہاتھ پھیلائے بھاگتا ہوا آتا ہے. اور ایک کونے میں ڈھیر ہو جاتا ہے۔ وہاں سے آواز لگاتاہے ) اب میں کرتا ہوں سستی ترین کال”۔
آپ روئے سخن اس کی طرف سے ایک اور کی طرف کر لیتے ہیں۔ وہ شروع ہوتا ہے۔ ” بھٹی صاحب آپ یہ بتائیں کہ یہ جو آپ پر الزام لگایا ہے ملک صاحب نے اس کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں؟ (آواز بدل کر زور زور سے) جی یہ کیا الزام لگا رہے ہیں میں ان کی بہت عزت کرتا ہوں لیکن میرا منہ نہ کھلوائیں ان کے تو دادا انگریزوں کے گھوڑے نہلاتے تھے۔ اور ان کے ایک چچا انگلستان میں چرس لے جاتے ہوئے پھنس گئے تھے۔ (تیزی سے لہجہ بدل کر) ابھی ابھی خبر آئی ہے کہ مشہور آمر کو مار دیا ہے۔ کسی کی موت پر خوشی منانا اچھی بات نہیں لیکن یہ تو الگ کیس تھا۔ اس کی تو زندگی میں یہ بڑا دلچسپ پہلو تھا۔ اوریہ تو آپ کو پتہ ہی ہو گا کہ افریقہ میں ہاتھی کی نسل میں ایک طرف تو کمی ہو رہی ہے لیکن آج عورتوں کے عالمی دن کے موقع پر عرق النساء بیوٹی پارلر نے تیس عورتوں کا فیشل ۱۵ منٹ میں کر کے عالمی ریکارڈقائم کیا اور پاکستان کا سر فخر سے بلند کر دیا ( گانا گاتا ہے ‘مہندی نی مہندی ای ای مہندی نی مہندی ای ای ای )”

ظاہر ہے ایسی بے سر و پا گفتگو کرنے والے کو آپ پاگل ہی کہیں گے(ہو سکتا ہے یہ سب لکھنے پر آپ کا راقم کے بارے میں بھی یہی گمان ہو) اور ایسی باتیں کرنے والے کے ساتھ ۵ منٹ بیٹھنا بھی آپ کو گوارا نہیں ہوگا کجا یہ کہ قید میں ان کے ساتھ ہوں اور وہ بھی اس طرح کے کئی عدد کے ساتھ۔ لیکن میرا گمان ہے کہ اب تک اکثر قارئین سمجھ گئے ہونگے کہ میں کہنا کیا چاہ رہا ہوں۔ میں صرف یہ عرض کرنا چاہ رہا ہوں کہ ہم میں سے چند خوش نصیبوں کے علاوہ باقی تمام کے تمام لوگ ایسی قید سے روزانہ گزرتے ہیں اور وہ بھی جبری نہیں بالکل بہ رضا و رغبت۔ یہ ٹی وی ہے جس کو ہم نے اتنی آزادی دی ہوئی ہے کہ وہ اتنی انٹ شنٹ بکواسیات کے باوجود ہماری زندگی میں اتنے مرکزی مقام کا مالک ہے کہ ہمیں معلومات چاہییں تو اس سے، تفریح چاہیے تو اس سے ، جب یہ ہنساتا ہے تو ہم ہنستے ہیں ، جب رلاتا ہے رو پڑتے ہیں، جب غصہ دلاتا ہے ہمارے پورے جسم کا خون آنکھوں میں آجاتا ہے، جب چاہتا ہے اسی بات پر آپ کو سکون سے بٹھا دیتا ہے۔ اور تو اور، اچھے برے کی تمیز سکھاتا ہے ۔ غرض اس ۲ بائی ۲ کی مخلوق کو ہم نے بات کرنے کی اتنی آزادی دی ہے کہ یہ ہمارے سامنے ہی سامنے کئی ایسی باتیں کر جاتا ہے کہ جو اگر ہمارے سامنے بڑے بھی کریں تو ان کو ٹوک دیا جائے۔

مسئلہ یہ نہیں ہے کہ میڈیا (اس غلط العوام لفظ کو ہم ٹی وی کے معنی میں ہی لکھ رہے ہیں) کوئی غلط شے ہے۔ کسی بھی آلہ کی طرح یہ بھی نا سمجھ کے ہاتھ میں خطرناک ہے اور کاریگر کے ہاتھ میں با کمال۔ مسئلہ یہ ہے کہ اس “شیطانی مشین” نے ہمیں عملیت پسندی سے دور کردیا ہے۔ دیکھیں ایک مشہور مصنف نے بڑی پیاری کہی کہ TV کہتا ہے کہ دنیا میں اخوت، رواداری اور امن بہت ضروری ہیں لیکن ایسا ٹوتھ پیسٹ زیادہ ضروری ہے جو آپ کو خوش گوار سانس دے۔ کسی بھی طرح کی تفریح کی اہمیت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا لیکن تفریح کے چکر میں زیادہ اہم چیزوں کو نظر انداز کر دینا کیا کوئی عقل مندی ہے؟ دوسری بات ، اور یہ زیادہ خطرناک ہے اور وہ یہ ، کہ جب آپ ٹی وی پر بالکل منحصر ہوجاتے ہیں ایسے کہ وہ آپ کے کان بن جائے اور آپ کی آنکھیں بن جائے تو پھر یہ بہت آسان ہے کہ کچھ ایسے لوگ جن کو آپ جانتے بھی نہیں وہ آپ کو سکھانا شروع کر دیں کہ اچھا کیا ہے اور برا کیا؟ کیا آپ کو پتہ ہے کہ پاکستان کے دیہات میں جو مشہور چوپالیں لگا کرتی تھیں وہ اب نہیں لگتیں؟ لوگ سیانے ہو گئے ہیں۔ پہلے جو مفت میں ایک دوسرے کے گھر کے کام کر دیا کرتے تھے اب نہیں کرتے۔ شام میں جو بیٹھک “ٹیو ول” پر لگا کرتی تھی اب وہ نہیں لگتی کیونکہ لوگ گھروں میں ٹی وی دیکھ رہے ہوتے ہیں۔ گاؤں کا وہ پانی جو اپنی تازگی کی وجہ سے بڑا مشہور ہوتا تھا اب آلودہ ہوتا جا رہا ہے کیونکہ لوگوں نے گھروں میں بیت الخلاء تو بنوا لیے ہیں لیکن نکاسی کا مناسب انتظام نہ ہونے کی وجہ سے پانی وہیں قریب کی زمین میں ہی جذب ہو جاتا ہے۔

زندگی کا ایک پہلو ہے یہ۔ ایسے بیسیوں معاملات ہیں جن میں ہم نے اپنی معصومیت کو محض ۲۰ سال کی مختصر مدت میں کھو دیا ہے ۔ جہاں لوگوں کی آنکھوں میں خلوص ہوتا تھا وہاں اب شک ہے۔ جہاں پیار ہوتا تھا وہاں نفرت ہے، جہاں بھولپن ہوتا تھا وہاں عیاری ہے، جہاں سادگی ہوتی تھی وہاں نمائش ہے، جہاں بے لوثی ہوتی تھی وہاں حرص اور طمع ہے، اور سب سے بڑھ کر، جہاں آخرت تھی وہاں دنیا ہے۔ کیوں؟ صرف اس لیے کہ لوگ اپنے” حقوق ” سے آشنا ہو گئے۔ لوگوں نے مصیبت میں کام آنے کو کار ثواب کی بجائے دھندا بنا لیا ہے کیونکہ ان کو لگتا ہے سامنے والا ان کو بے وقوف بنا رہا ہے۔ میڈیا خود اتنا متخبط ( وہ جسے شیطان نے چھو کر باولا کر دیا ہو) ہے کہ اس کو سمجھ نہیں آرہا کہ کرےکیا؟ اس کو لگتا ہے کہ برائی کو سامنے لے کر آنا نیکی کا کام ہے لیکن ہوتا یہ ہے کہ اس سے برائی برائی نہیں رہتی کیونکہ سب ہی وہ کرنے لگتے ہیں۔ چنانچہ معاشرے میں مزید برائی ہوتی ہے جس کو کوئی اور “نیک” شخص سامنے لاتا ہے۔ تو برائی اور “ختم” ہوتی ہے۔ جی ہاں ہم نے واقعی بڑی محنت سے اپنی روایات کو تباہ کیا ہے اور اس میں تقریباً سب شامل ہیں۔

دوسری طرف جو زیادہ خطرناک بات ہے وہ بھی سمجھ لیں۔ آپ نے کبھی غور کیا کہ کسی بھی خودکش حملے کے بعد نہ صرف یہ کہ ہر چینل کا ایک نمائندہ وہاں موقع پر موجود ہوتا ہے بلکہ ہسپتال میں بھی اور کوئی ایک آدھ وہ اسکوپ بھی لاتا ہے کہ مرنے والوں میں چھوٹی سی ۵ سالہ بچی بھی تھی جس کی ماں غم سے نڈھال ہے ۔ دوسری طرف ڈرون حملے ہیں جو اب تک کی اطلاعات کے مطابق ۲۰۰۴ سے لے کر آج تک ۴۰۰ سے زیادہ ہو چکے ہیں۔ ۴۰۰!!! کیا آج تک کبھی کسی ایک جگہ سے بھی آپ نے لائیو کوریج دیکھی؟ کیا کبھی زخمیوں کی کسی کہانی کے تعاقب میں کوئی مہم جو کسی بچی کی گڑیا کی ٹوٹی ہوئی ٹانگ بھی دکھا سکا؟ ایسا کیوں ہے؟ یہ بات سمجھنے کی ہے نہ کہ سمجھانے کی۔ ویسے تو ہر طرف سے مایوسی کی خبریں ہیں جن سے عوام میں غصہ کی آگ بھڑکائی جاتی ہے۔ پھر فوراً ہی اشتہا ر کا ٹھنڈا پانی ڈال کر سکون میں لے آیا جاتا ہے۔ لیکن جو ہمارے حکمرانوں کے مائی باپ ہیں ان کی کسی بھی کار روائی کی کوئی ایسی خبر کسی بھی ایسے زاویہ سے نہیں دکھائی جاتی کہ جس سے عوام میں کوئی منفی جذبہ بیدار ہو۔ اور آج بالآخر یہ باور کرا دیا گیا ہے کہ خودکش حملے مذہبی انتہا پسند دہشت گرد کرتے ہیں۔ ڈرون حملوں میں مرنے والے سب افراد دہشت گرد ہیں چاہے ان کی عمر تین مہینے ہی کیوں نہ ہو۔میڈیا کو آزادی ضرور ملی ہے لیکن اس آزادی میں بہت سی پراسرار زنجیریں بھی ہیں۔ یہ زنجیریں دیکھنا بہت ضروری ہے۔ سورۃ الحجرات میں اللہ تعالیٰ نے واضح اور غیر مبہم الفاظ میں حکم دے دیا ہے کہ”مومنو! اگر کوئی بدکردار تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے تو خوب تحقیق کرلیا کرو (مبادا) کہ کسی قوم کو نادانی سے نقصان پہنچا دو۔ پھر تم کو اپنے کئے پر نادم ہونا پڑے “

کیونکہ میڈیا اب اکثریت کی آنکھیں اور کان بن گیا ہے اس لیے اس طاقت کا مظاہرہ وقتاً فوقتاً سامنے آتا رہتا ہے۔ میں اپنے ملک کی بات کرنےسے پہلے چاہوں گا کہ آپ کی توجہ امریکی میڈیا کی طرف مبذول کراؤں ۔آپ جانتے ہی ہونگے کہ عراق اور افغانستان پر امریکی حملوں کے لیے ان کے میڈیا نے کتنی طویل مہمات چلائی تھیں۔خاص طور پر عراق پر حملہ کے لیے سازگار فضا بنانے میں دائیں بازو کے روایت پسند میڈیا نے جو کردار ادا کیا ہے وہ شاید بہت کم لوگوں کی نظروں سے اوجھل ہوگا۔ امریکی میڈیا کی یہ طاقت اس سے بہت پہلے پروان چڑھ چکی تھی۔ اگر آپ چاہیں تو “اسپن” نامی دستاویزی فلم آپ کو کافی معلومات دے سکتی ہے۔ لیکن فی الوقت زیر نظر دو موضوعات ہیں۔ ایک تو یہ کہ آپ جانتے ہیں کہ اس وقت امریکہ کے سو سے زیادہ شہروں میں انتہائی منظم احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔ ان کا کوئی لیڈر بھی نہیں لیکن ان کی پکار صرف ایک ہے، عادلانہ معاشی نظام۔ اس تحریک میں ان کے کہنے کے مطابق امریکہ کی ۹۹ فیصد عوام کا مقابلہ ایک فیصد مراعات یافتہ طبقے سے ہے۔ لیکن پھر بھی مین اسٹریم خاص طور پر دائیں بازو کے میڈیا کی طرف سے ان پر شدید تنقید کی جارہی ہے، مذاق اڑایا جا رہا ہے۔ بلکہ اس سے بھی زیادہ تکلیف دہ بات یہ ہے کہ ان کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ اگر ٹوئیٹر ایسے سوشل میڈیا کی سہولت ان کومیسر نہ ہوتی تو ان کو تو شاید ایک دوسرے کے بارے میں پتہ بھی نہ چلتا۔ دوسرا موضوع ہے ڈاکٹر ران پال کا۔ ڈاکٹر پال تیس سال سے امریکی رکن کانگریس ہیں اور امریکہ کی دوسرے ملکوں میں فوجی، مالی اور دیگرمداخلتوں کے خلاف ہیں۔ حکومت کے عام آدمی کی زندگی میں دخل اندازی کو کم کرنا چاہتے ہیں۔ اور تو اور، امریکہ کی اسرائیل کو امداد کے بھی خلاف ہیں۔ اس سب کے باوجود ران پال اس وقت ریپبلکن پارٹی کے ایک مضبوط امیدوار ہیں، نوجوانوں میں خاص طور سے بہت مقبول ہیں اور اس بات کا قوی امکان ہے کہ اگر پارٹی نے ان کو ٹکٹ نہ دیا تو وہ تن تنہا ہی اپنی مہم کا آغاز کر دیں گے۔ لیکن اس کے باوجود میڈیا ان کو نظر انداز کر رہا ہے۔ امریکی صدارتی امیدواروں کی مقبولیت کا ایک بہت اہم پیمانہ یہ بھی ہوتا ہے کہ وہ اپنی مہم کے لیے کتنے پیسے اکٹھے کرسکے ہیں۔ ران پال کے حامیوں نے محض ۳ دن میں ۲ ملین ڈالرز کی رقم جمع کرائی۔ لیکن میڈیا کی بے رخی کا یہ عالم ہے کہ پچھلی ریپبلکن بحث میں ہر امیدوار کو آخر میں اپنی اختتامی کلمات کہنے کا موقع دیا گیا لیکن پال کو نہیں۔ ۱۹۹۲ میں ایک ایسے ہی امیدوار کو اس میڈیا نے اتنا نظر انداز کیا کہ وہ احتجاج کے چکر میں حوالات میں پہنچ گیا۔ اتنی تفصیل بتانے کا مقصد یہ ہے کہ یہ ہے میڈیا ، امریکی میڈیا (جو اصلاً ہمارے میڈیا کا قبلہ ہے) کی طاقت ۔جس طرح امریکی میڈیا خصوصاً فاکس نیوز نیٹ ورک نے عراق میں ڈبلیو۔ایم۔ڈی کی موجودگی کا شور مچایا اور لاکھوں لوگوں کی ہلاکت اور بربادی کے بعد سامنے آیا کہ ایسی کوئی شے عراق کے طول و عرض میں کہیں  موجود نہیں۔ اسی طرح ہمارے میڈیا نے سوات میں کوڑوں کی ویڈیو کو بنیاد بنا کر وہاں آپریشن کی راہ ہموار کی اور ہزاروں لوگوں کی ہلاکت اور لاکھوں کے بے آسرا ہو جانے کے بعد یہ سامنے آیا کہ وہ ویڈیو جعلی تھی۔ ہمارا میڈیا اس وقت اسی نہج پر آگیا ہے کہ جس کو چاہے ہیرو بنا دے، جس کو چاہے زیرو۔ چاہے تو لال مسجد کے معاملے کی پھنسی کو پھوڑا بنا دے ، چاہے تو ڈرون حملوں کے ناسور کو خراش دکھا دے۔ چاہے تو جمہوریت کو ہمارے ہر دکھ کا مداوا بنا دے، چاہے تو خلافت کے نظام کو آج کے دور میں غیر عملی باور کرا دے۔

اگر آپ کو واقعی سمجھ آتا ہے کہ جو میں نے کہا ہے وہ صحیح ہے تو اصلاح احوال کی ابھی سے کوشش کر سکتے ہیں ۔ ٹی وی کو بند کرنا اس کو چلانے سے زیادہ آسان ہے اور ویسے بھی مسئلہ اگر صرف معلومات کا حصول ہے تو اکیسویں صدی میں یہ تو کوئی مسئلہ ہی نہیں۔  لیکن اگر آپ کو میری بات سمجھ نہیں آتی تو پھر بھی ایک چھوٹی سی مشق کرنے میں حرج نہیں۔ آپ ٹی وی دیکھتے ہی ہیں تو دن میں جب آپ مناسب سمجھیں، ۱۰ منٹ کے لیے کاغذ قلم لے کر بیٹھیں، اپنا پسندیدہ چینل لگائیں اور یہ نوٹ کریں کہ آپ کا یہ چینل ان دس منٹ میں کیا دکھاتا ہے۔ اگر میرا اندازہ صحیح ہے تو یہ کچھ ایسا ہی ہونا چاہیے جیسا ہمارے قید خانے کے ان ساتھیوں کی کہانیاں تھیں۔ اب یہ آپ پر ہے کہ آپ اپنے آپ کو اس قید سے چھڑانا چاہتے ہیں یا نہیں۔

کنویں کے عوام

Posted in Islam, Rants, Social revolution by baigsaab on November 23, 2011

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک کنویں میں کچھ مینڈک رہتے تھے. ویسے تو ان کی زندگی میں کوئی مسئله نہیں تھا لیکن ان کا کوئی بادشاہ نہیں تھا.اسی پریشانی میں ان کے دن رات بسر ہو رہے تھے کہ ایک دن کہیں سے لکڑی کا ایک بڑا سا شہتیر آن گرا. زور کا چھپاکہ ہوا اور کنویں میں، جو ظاہر ہے ان کی پوری دنیا تھی، بھونچال آگیا. سب مینڈک ادھر ادھر چھپ گئے. آنکھوں آنکھوں میں ایک دوسرے کو اشارے کیے گئے. ” یہ تو کوئی بہت ہی طاقتور مخلوق لگتی ہے!” “ہاں ہاں اس کو اپنا بادشاہ بنا لیتے ہیں” چنانچہ سب کے سب دست بستہ اس لکڑی کے تختے کے آگے آئے اور عرض کی “مہاراج، آپ کی بہت مہربانی کہ آپ ہماری دنیا میں تشریف لائے.ہم آپ کو اپنا بادشاہ بنانا چاہتے ہیں.” لکڑی کی خاموشی کو رضامندی سمجھ کر انہوں نے اس کو اپنا بادشاہ بنا لیا. روز اس کے سامنے پیش ہوتے اور اپنے فیصلے کراتے.دن گزرتے گئے اور بادشاہ کی خاموشی سے مینڈک بور ہونے لگے. ان کو لگتا تھا کہ بادشاہ کو ذرا دبنگ ہونا چاہیے. اور پھر ایک دن ایک گستاخ مینڈک بادشاہ کے اوپر بیٹھ گیا. پہلے تو سب نے بہت شور مچایا اور اس گستاخ کو سنگین نتائج کی دھمکی دی لیکن بادشاہ کی خاموشی نے ا وروں کو بھی شہہ دی. ایک ایک کر کے سب لکڑی کے اس تختے پر چڑھ گئے اور بالآخر بادشاہ کو “معزول” کر دیا گیا. ابھی اسی ادھیڑ بن میں تھے کہ اگلا بادشاہ کہاں سے لائیں کہ ٹھیک اسی طرح ایک بڑا سا اژدہا نہ جانے کہاں سےکنویں میں آن گرا. پھر وہی زور کا چھپاکہ اور مینڈکوں کی پہلے روپوشی، پھرآنکھوں آنکھوں میں بادشاہ کا انتخاب اورپھر برآمدگی . اب جو مینڈک “تاج پوشی” کے لئے باہر آئے تو بادشاہ سلامت نے آؤ دیکھا نہ تاؤ، جھٹ اپنی رعایا کی طرف لپکے اور پوری عوام کو ایک منٹ میں اپنے پیٹ میں پہنچا دیا. پیٹ میں پہنچ کر مینڈکوں کا کیا رد عمل تھا، اس بارے میں راوی خاموش ہے.

سمجھ نہیں آتا کہ اس کو اپنی قوم کی بدقسمتی کہوں یا انشاء جی کی تحریر کی شگفتگی کہ ۴۰ سال گذرنے کے باوجودان کی اس حکایت کو اپنے عوام پہ مکمل طور پر پورا ہوتے دیکھ سکتے ہیں.کسی سے پوچھ لیں بھائی قیادت کو کیسا ہونا چاہیئے. جواب ملے گا کہ بھائی مخلص ، با صلاحیت اور دیانت دار. پوچھو کہ مسلمان حکمرانوں میں پسند کون ہے، جواب حضرت عمرؓ . پوچھئے یہاں کے حالات کیسے صحیح ہونگے تو جواب اسلام. انگریزی محاورہ ہے کہ اگر خواہش گھوڑا بن سکتی تو ہر فقیر شاہ سوار ہوتا. ذرا ایمان داری سے سوچئے کہ ہمارے کتنے فیصد عوام اپنی دعاؤں میں یہ مانگتے ہونگے کہ اللہ ہمارے صدر وزیر اعظم کو سچا پکا مسلمان بنا دے. کس نے کبھی اپنے ملک کے صدر ، یا گورنر یا علاقے کے ناظم کے پیچھے نماز پڑھنے کی خواہش کی ہوگی جبکہ خلفائے راشدین اور ان کے عمال (گورنر) اپنے لوگوں کو خود نماز پڑھاتے تھے.

گنتی کے چند لوگوں کو چھوڑ کر ہمارے نصیب میں آئے تو ایسے کہ جو یا تو میر جعفر کی اولادوں میں سے تھے (جی ہاں، پاکستان کے ایک صدر صاحب میر جعفر کی اولادوں میں سے تھے!!!) یا جن کو اپنا اتنا ہوش بھی نہیں تھا کہ قضائے حاجت کے لئے کسی بین الاقوامی کانفرنس کے لان کا انتخاب مناسب نہیں . یا وہ جنہوں نے روشن خیالی کا مطلب یہ لیا کہ بغل میں دو کتے دبائے اور تصویر کھنچوا لی یا وہ جن کو اتنا بھاری مینڈیٹ ملا کہ اس کے نیچے آکر وہ ملک کو سود سے پاک کرنے کا نادر موقع گنوا بیٹھے. یا وہ جن کی ایک نہیں دو نہیں تیسری نسل اقتدار کے مزے لوٹ رہی ہے اور لوٹتی چلی جا رہی ہے. ایسا کیوں ہے؟ ہماری پوری تاریخ میں بابائے قوم کے بعد شاید ملک معراج خالد ایک ایسے شخص تھے کہ جو واقعی عام لوگوں کی طرح رہتے تھے . نگران ہی صحیح لیکن وزیر اعظم تو تھے. عام لوگوں کی طرح اکنومی کلاس میں سفر کرتے تھے. اپنے گھر کو وزیر اعظم ہاؤس کا درجہ دیا نہ کہ خود اپنے تام توبڑے سمیت سرکاری محل میں جا بیٹھتے. لیکن کیا ہوا؟ آج کیا کسی کو یاد بھی ہے کہ ہمارے ملک میں محض ١٥ سال پہلے ایسا دور بھی آچکا ہے کہ جب وزیر اعظم عام لوگوں کی طرح رہتا اور گھومتا پھرتا تھا؟

اگر خدا لگتی بات کریں تو اس وقت عوام کا سیاست دانوں پر سے اعتبار مکمل طور پر اٹھ چکا ہے. وہ سیاست جو بنی اسرائیل میں انبیاءجیسی پاکیزہ ہستیاں کیا کرتی تھیں ، آج ایسا لفظ بن گیا ہے جس کے مطلب جھوٹ، دھوکہ ، بد عہدی اور بہتان طرازی ہو کر رہ گیا ہے.یہ وہ لوگ ہیں جو کبھی تو ایک دوسرے کو غلیظ القابات سے نوازتے ہیں، پھر “ملک کے عظیم تر مفاد” میں ان سے اکٹھ بناتے ہیں، اور پھرانہی سے ہاتھا پائی بھی کر بیٹھتے ہیں. پھر مل جائیں گے، پھر روٹھ جائیں گے. غرض جو بھی کرتے ہیں، لگتا یہ کہ عوام کو اس سے کوئی سرو کار ہی نہیں ہے کہ یہ کیا کر رہے ہیں؟ دیکھا یہ گیا ہے کہ ہر کوئی روزانہ TV اس امید پر کھولتا ہے کہ شاید کوئی نیا تماشا دکھ جائے. اور مایوسی نہیں ہوتی. کہیں کوئی قرآن سر پر اٹھا کر اپنے آپ کو معصوم اور دوسرے کو قاتل قرار دے رہا ہے تو کہیں ایسا جواب دیا جا رہا ہے کہ لوگ سوچتے ہی رہ گئے کہ کہا کیا؟ لگتا ایسا ہے کہ ان تمام جماعتوں اور لیڈروں کو پتہ ہے کہ عوام کے چاہنے نہ چاہنے سے کچھ نہیں ہوتا، طاقت کے مراکز کہیں اور ہیں اور ان کو خوش رکھنےمیں ہی اقتدار ملتا ہے. اور یہ جو جملہ ہوتا ہے نا کہ “یار یہ سب ملے ہوئے ہیں” یہ کسی ایک قومیت کے لوگوں میں محدود نہیں ہے. تو ایک دفعہ جی کڑا کر کہ یہ تسلیم کر کیوں نہیں لیتے کہ ہاں بھائی ہماری پسند اور ہے اور ترجیح اور.یہ کہ وہ جو ہم چاہتے ہیں کہ ہم پسند کریں وہ اور چیز ہے اور وہ جو ہمیں واقعی پسند ہے وہ اور. اس سے اور کچھ ہو نہ ہو کم از کم اس دو عملی سے تو جان چھوٹ جائے گی جس میں قوم آج مبتلا ہے.

ویسے قائدین کے اس قحط الرجال کی ذمے داری ایک حد تک علماء پر بھی آتی ہے. انہوں نے خانقاہوں تک اپنے آپ کو محدود کر کے سمجھا کہ حکومت کرنا کسی اور کا کام ہے. ظاہر ہے کہ نظام کوئی خلاء نہیں ہوتا اگر اچھی قوتیں اقتدار پر قبضہ نہیں کرتیں تو بری قوتیں تو آئیں گی ہی. اسلام میں عہدے کی خواہش کرنا اور اس کے لئے تگ و دو کرنا کوئی پسندیدہ بات نہیں ہے لیکن جیسا کہ ہمیں حضرت یوسفؑ کی سیرت میں ملتا ہے کہ اگر متبادل قیادت میں کوئی دیانت دار شخص نہ ہو تو عہدے کو لے لینا غلط بھی نہیں. علماء نے بہرحال احتیاط کو ترجیح دی او رحکمرانوں کو مشوره دینے اور بعض صورتوں میں سرزنش کی حد تک اپنے آپ کو محدود رکھا. اور اگر اسلاف میں تابعین اور تبع تابعین کا طرز عمل دیکھیں تو انہوں نے بھی یہی کیا. لیکن اس وقت میں اور اس وقت میں چند بنیادی فرق ہیں . اور وہ یہ کہ ایک تو اس وقت شریعت کا نظام نافذ تھا. جو بھی برائیاں تھیں وہ بادشاہ یا طبقہ امراء کی حد تک تھیں. دوسرے یہ کہ عوام کا تعلّق علماء کے ساتھ بہت مضبوط تھا. اکثریت کی نظر میں معروف معروف تھا اور منکر منکر.جبکہ آج آوے کا آوا بگڑا ہوا ہے. غرض آج کے اس دور میں جبکہ عوام کی سطح پر شریعت پر عمل تقریبا مفقود ہو گیا ہے،جیّد علماء کے لئے کلمہ حق کو بلند کرنا اور بھی ضروری ہو گیا ہے.

جاتے جاتے اس بات پر غور کر لیں کہ جیسا دودھ ہوتا ہے ویسی ہی بالائی ہوتی ہے. تو جیسی دوغلی قوم ہے ویسے ہی اس کے حکمران. ہمارے نزدیک قائد کو ذرا بھرم باز ہونا چاہیے. جس سے سب ڈرتے ہوں اور جس کے قول و فعل میں بھلے تضاد ہو تو ہو لیکن بات کرے تو سب کو چپ کرا دے. نماز بھلے نہ پڑھے لیکن قرآن کے معنی سمجھا دے بھلے غلط ہوں. اور لیڈر کی شرعی داڑھی کا مطلب تو یہ کہ وہ قیادت کے لائق ہی نہیں.غرض ہم لوگوں کے نزدیک شریف آدمی بیوقوف ہوتا ہے اور تیز آدمی کارآمد. کیا کروں کہ بات اسی کنویں کے مینڈکوں تک واپس آگئی کہ جو شاید”بھولے بادشاہ” پر صبر کر جاتے تو خوش رہتے. اژدہے کے پیٹ میں نہ جانے کیا سوچتے ہونگے. لیکن کیا کریں کہ راوی ایسے بے وقوفوں کے بارے میں چپ ہے!

Homeschooling: Why and How!

Posted in Social revolution by baigsaab on March 1, 2011