Baigsaab's Blog

ان سارے جزیروں کو کوئی کاش ملا دے

Posted in Islam, protest, Social revolution by baigsaab on July 15, 2013

کیا وقت ہے یہ بھی! ایسا لگتا ہے پوری دنیا میں اگر کہیں خون بہہ رہا ہے تو وہ مسلمان کا ہے۔ لگتا ہے زمین نے مسلمان خون کے علاوہ کچھ قبول کرنے سے انکار کر دیا ہو۔ وہ برما ہو یا فلسطین۔ شام ہو یا سوڈان۔ افغانستان، پاکستان، بنگلہ دیش ، بھارت، کاشغر، ہر جگہ مرنے والا کلمہ توحید کا ماننے والا۔ کہیں ریاستی جبر ہے تو کہیں بیرونی۔ پھر بھی تمام مسلمان حکومتیں ایک دوسرے کے حالات سے یا تو لا تعلق نظر آتی ہیں جیسے بنگلہ دیش افغانستان کے بارے میں یا پاکستان برما کے بارے میں ۔ یا وہ براہ راست اس ظلم کی مدد کر رہی ہیں، جیسے شام میں ایران اور حزب اللہ ۔ مصر کے حالات پر سعودی اور پاکستانی ہر دو قیادتیں خاموش۔

اس تقسیم کو اور علاقائی پیمانے پر لے آئیں اور محض پاکستان کا ذکر کریں تو یہاں بھی حالات دگرگوں ہیں۔ وزیرستان میں ڈرون حملے، کوئٹہ میں ہزارہ قبائل کی صورتحال، کراچی میں روز گرتی بظاہر بے نام لاشیں، پنجاب کی بند ہوتی صنعتیں، سندھ میں ونی کی گئی لڑکیاں ، بلتستان میں مرتے سیاح۔ پورے ملک میں ہوتے دھماکے۔ یہ بچوں کو کھانا کھلانے سے قاصر ،خودکشیاں کرتے اور ان کا علاج نہ کرا پانے کی خلش کے ساتھ زندہ رہنے والے ماں باپ ۔ قدم قدم پر چھوٹےچھوٹے کاموں کے لیے اہلکاروں کی مٹھی گرم کرنے کی مجبوری۔ ان میں سے ہر مسئلے کا ایک چیمپئن ہے۔ جس نے رشوت ستانی کا مسئلہ دیکھ لیا اس کے لیے قیدی چھڑانے والے کی جدوجہد لا حاصل، اور جو شہروں کے دھماکوں پر سراپا احتجاج ہے وہ ڈرون حملوں پر احتجاج کرنے والوں پر سراپا تنقید۔ جس نے سیاسی جدوجہد کا راستہ دیکھ لیا اس کے لیے دوسرے تمام طریقے بدعت اور جس نے اسلحہ اٹھا لیا اس کے لیے باقی سب طفل مکتب!

اس تفریق کا اور کسی پر اتنا منفی اثر نہیں ہوا جتنا مذہبی طبقہ پر۔ اس کی وجہ کیا ہے یہ ہم آگے دیکھتے ہیں ۔ فی الحال تو یہ دیکھ لیں کہ اوپر گنوائے گئے اور دیگر تمام مسائل کے ساتھ جب الیکشن ہوئے تو لوگوں نے اسلامی جماعتوں کو نہ صرف یہ کہ ان مسائل کے حل کے لیے اپنے اعتماد کے قابل نہیں سمجھا بلکہ ایک صوبے کے علاوہ ان کو اس دفعہ کہیں منہ بھی دکھانے کے قابل نہیں چھوڑا۔ پورے ملک کی ایک ہزار کے قریب صوبائی اور قومی اسمبلیوں کی نشستوں سے اسلامی جماعتوں کے ہاتھ کتنی آئیں؟ پندرہ فیصد؟دس فیصد؟ جی نہیں تین فیصد سے بھی کم یعنی بمشکل تیس سیٹیں۔

بات یہ ہے کہ اسلامی ،خاص طور پر اسلامی غیر سیاسی قوتوں کو واقعی اس بات کا ادراک ہوتا نظر نہیں آتا (یا وہ اظہار نہیں کرتے) کہ لوگوں میں ان کی جڑیں کتنی کمزور ہو چکی ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ مذہبی قائدین نے کسی خاص حکمت عملی کے تحت اپنے آپ کو ان حالات میں الگ تھلگ رکھا ہوا ہے۔ علماء زیادہ بہتر جانتے ہوں گے کہ اس کی وجہ کیا ہے اور اس کے لیے لازماً ان کے پاس دلائل ہوں گے ۔ اس سب کا نتیجہ یہ ہے کہ علماء اب معاشرے کی رہنمائی کے منصب سے دست کش ہو گئے ہیں۔ اس کے باوجود ایسا نہیں ہے کہ ہمارے دینی طبقے سکون میں ہیں۔ یہ آئے دن کی فرقہ وارانہ ہلاکتیں کیا علماء کی نہیں ہیں؟ کیا مولانا اسماعیل عالم نہیں تھے؟ کیا مفتی دین پوری صاحب کوئی غیر اہم شخصیت تھے۔ کیا مولانا اسلم شیخوپوری صاحب کوئی گزارے لائق مولوی تھے؟ پھر کیا گزشتہ رمضان کراچی کے سب سے بڑے دارالعلوم کا محاصرہ نہیں کر لیا گیا تھا؟ کیا گزشتہ رمضان میں ہی معتکفین کو مسجد میں گھس کر نہیں مارا گیا؟ کیا آئے دن مدارس کو زیادہ سے زیادہ حکومتی کنٹرول میں لیے جانے کی باتیں نہیں ہور ہیں؟ اس سب کے بعد جب کراچی کے صف اول کے علماء میں سے ایک عالم ، جن کے اپنے مدرسے کے اساتذہ اور طلبہ حالیہ مہینوں میں شہید کیے جا چکے ہیں، ملک کے نو منتخب وزیر اعظم کو ایک کھلا خط لکھتے ہیں تو یقین جانیے ایک لمحے کو تو دل میں ایک موہوم سی امید یہ آئی تھی کہ شاید یہ بھی مصر کے عزّ بن عبد السلام کی روایت قائم کریں گے۔ شاید یہ بھی بادشاہ وقت کو اس کے مفرد نام سے پکاریں گے اور اس کو کسی معاشرتی برائی کی طرف متوجہ کریں گے۔ شاید انہوں نے سود کے خلاف ایکشن لینے کو کہا ہوگا، شاید ڈرون حملوں کے خلاف بات ہو گی، شاید امریکہ کی جنگ سے نکلنے کا حکم دیا ہو گا، شاید احادیث کی روشنی میں اور قرآن کی آیات کی رو سے کسی کافر کے شانہ بشانہ کھڑے ہو کر کسی مسلمان کے خلاف جنگ کرنے کے خلاف وعیدیں سنائی ہونگی۔ شاید مہنگائی کے خلاف بات کی ہوگی، شاید شیعہ سنی فرقہ واریت ختم کرنے کی بات ہوگی، شاید ناموس رسالت ؐ کی حفاظت کے بارے میں کوئی ہدایات ہونگی، شاید رشوت کے خاتمے اور سفارش کی روک تھام کی بابت تنبیہہ ہو گی اور شاید اور کچھ نہیں تو حاکم وقت سے اللے تللے ختم کرنے کی بات ہوگی۔ مگر حیف صد حیف کہ خط جب پڑھا تو اس کا لب لباب تھا کہ ‘جناب اعلیٰ قبلہ وزیر اعظم صاحب دام اقبالہ سے گزارش ہے کہ جمعے کی ہفتہ وار تعطیل بحال فرما دیں”!! یقین کریں اگر کسی ملک کا سب سے بڑا مسئلہ صرف یہ ہے کہ ہفتہ وار تعطیل کس دن کرنی ہے تو ہماری رائے میں وہ ملک روئے ارضی پر جنت سے کم نہیں۔

بہ صد ادب کہ حضرت کی امامت میں بارہا نمازیں ہم بھی ادا کر چکے ہیں کہ ان کا تدیّن باعث تحسین ہے، میری نا چیز رائے میں ایسے بے سروپا اقدامات کی وجہ صرف اور صرف ایک ہے۔ ایک مرکزی قیادت کی غیر موجودگی۔ اگر ہمارے ان بزرگوں کی کوئی مرکزی قیادت ہوتی تو ان کے اقدامات اتنے افراتفری کا شکار نہ ہوتے۔ قیادت لیکن ایسے ہی پیدا نہیں ہو جاتی اس کے لیے کئی اہل لوگوں کو قربانی دینی پڑتی ہے۔ ہمارے بڑوں میں سے کچھ کا حال تو یہ ہے کہ اپنے مرتبے اور رتبے کا بھی خیال نہیں کرتے اور مخالفین کو ایسے ایسے ناموں سے پکارتے ہیں کہ کوئی دشمن بھی کیا پکارے گا۔ مشرک، بدعتی، جنت کے طوطے، بینکر، مردودی، پراسراری، نجدی، وہابی، دیوگندی، یہ سارے نام کلمہ توحید کے ماننے والوں کے ایک گروہ کے منہ سے دوسرے گروہ کے لیے نکل رہے ہیں۔ ایمان کے بعد برا نام لینا بھی برا ہے، سورۃ الحجرات کیا کہہ رہی ہے کیا ہم بتائیں آپ کو؟ اور انہی گروہوں کے ذرا اپنے بزرگوں کے لیے تراشے ہوئے القابات ملاحظہ کیجیے۔ کسی کو رومی ثانی کہا جا رہا ہے، کسی کو شیخ العرب والعجم، کسی کو مجدد ملت، کسی کو شیخ الاسلام، کسی کو بلبل مدینہ کہا جاتا ہے تو کسی کو عارف باللہ۔ کسی کے نام میں دامت برکاتھم کا لاحقہ لگا ہے اور کسی کے ساتھ حفظہ اللہ اور کسی کے ساتھ نور اللہ مرقدہ اور کہیں پر قدس اللہ سرہ۔ یہ افراط و تفریط ایسے ہی نہیں ہے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ یہ بزرگان دین ان ناموں کے اہل نہیں، ان میں سے چند یقیناً ہونگے بھی۔ لیکن ان سابقوں اور لاحقوں پر مرنے مارنے کو دوڑنے سے پہلے اس ہستیؐ کے نام کی اگر حفاظت کر لی جاتی جس کے طفیل ان بزرگوں کی عزت ہے تو یہ ان کے لیے یقیناً زیادہ باعث افتخار ہوتا۔

توہین ناموس رسالت کے واقعات اگر بڑھ رہے ہیں تو کسی وجہ سے بڑھ رہے ہیں۔ مسلمانوں کا نام ہر جگہ دہشت گردی میں لیا جا رہا تو کسی وجہ سے لیا جا رہا ہے۔ اس کی ایک ہی وجہ ہے، اور وہ ہے ایک مرکزی، متفقہ قیادت کی عدم موجودگی جو مسلمانوں کو بحیثیت مجموعی ایک لائحہ عمل طے کر کے دے۔ OIC یا عرب لیگ نہیں بلکہ ایسی قیادت جو واقعی مسلمانوں کو ایک جسد واحد کی طرح چلائے۔ جس کی ایک خارجہ پالیسی ہو، ایک مالیاتی پالیسی ہو، ایک صنعتی پالیسی ہو۔ چاہے تعلیمی اور داخلی پالیسیاں کچھ مختلف بھی ہوں تو اس بکھری ہوئی بے مہار امت میں پھر سے جان پڑ جائے گی۔ مسلمانوں کی عالمی سطح پر پھر ایک آواز ہوگی۔ اگر تمام مسلمان ممالک اس بات پر اصولی طور پر متفق ہو جائیں تو پھر اس ادارے کو آپ خلافت کا نام دے لیں یا ریاستہائے متحدہ اسلامیہ کا، بات ایک ہی ہے۔ مسلمان ممالک میں مقتدر طبقات کے مفادات اس معاملے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔ اور پھر وہ اپنے ملک کے دینی طبقات میں سے چند لوگوں کو خرید کر اپنا الو سیدھا کرلیتے ہیں۔ محض چند اختلافات کی بناء پر النور پارٹی نے الاخوان کا ساتھ چھوڑ دیا۔ مرسی کو نکال کر جو نگران حکومت بنی ہے ا س میں النور کا بھی کچھ حصہ ہے مگر انتظار کیجیے کہ کب اس کو دودھ میں سے مکھی کی طرح نکال پھینکا جاتا ہے۔ ایسے ہی ہماری دینی جماعتیں ایک دوسرے کی سعی کو ناکام بناتی ہیں، کہیں دانستہ کہیں انجانے میں۔ ایک دوسرے کے پیچھے نماز تو پڑھ لیتے ہیں لیکن ہاتھ میں ہاتھ نہیں دیتے۔ اخلاقی ہمدردی تو کرتے ہیں لیکن عملی ساتھ نہیں۔ لال مسجد کا سانحہ ہوا لیکن پورے ملک کی مذہبی جماعتوں نے سوائے ایک رسمی احتجاج کے اور کچھ نہیں کیا۔ وجہ اس کی یہ تھی کہ ان کو مولانا عبدالرشید کے طریقے سے اختلاف تھا۔ سب نے مانا کہ لال مسجد کے معاملے کو حد سے بڑھانے میں پرویز مشرف کا کتنا گھناؤنا کردار تھا۔ کیسے اس نے ایک پھنسی کو پھوڑا بننے دیا اور پھر اس کو ریاستی طاقت سے ایسا کچلا کہ آج تک اس کے اثرات محسوس کیے جاتے ہیں۔ یہ سب مان کر بھی، اور یہ سب جان کر بھی، محض ‘تشریح’ کے فرق کی بنیاد پر ہمارے دینی طبقے نے اخلاقی ہمدردی کو ہی کافی سمجھا اور اس معاملے کو اس مقام تک جانے دیا کہ جہاں محض بے بسی سے تماشہ ہی دیکھا جا سکتا تھا۔ پرویز مشرف نے ایک ایک کر کے یہی کھیل باقیوں کے ساتھ بھی کھیلا ہے۔ کہتے ہیں جرمنی میں نازیوں نے بھی ایسا ہی کیا تھا۔ اس زمانے کے ایک پادری کا یہ مشہور ٹکڑا تو آپ نے سن ہی رکھا ہوگا ؏

First they came for the communists,
and I didn’t speak out because I wasn’t a communist.

Then they came for the socialists,
and I didn’t speak out because I wasn’t a socialist.

Then they came for the trade unionists,
and I didn’t speak out because I wasn’t a trade unionist.

Then they came for me,
and there was no one left to speak for me.

محض دین کی تشریح کے فرق کا مطلب ہے کہ ہر جماعت نے سنت نبوی ؐ کا مطالعہ کر کے حضورؐ کی حیات طیبہ میں سے جو چیز سب سے زیادہ اہم سمجھی اس کو اپنی جدوجہد کا مرکز بنا لیا۔ کسی نے تبلیغ کو اہم سمجھا، کسی نے جہاد کو، کسی نے سیاست کو اپنا میدان عمل بنایا تو کسی نے خیراتی کاموں کو، کوئی مسجد کی تعمیر کر رہا ہے تو کوئی مدرسہ تعمیر کیے چلا جا رہا ہے، کوئی ذکر و اذکار کے ذریعے سنت پر عمل کر رہا ہے تو کوئی تحریکی کا م کر کے ایک منظم جماعت تشکیل دینے کا خواہش مند ہے۔ حضور نبی کریمﷺ کی حیات طیبہ میں ہمیں ان میں سے اکثر کام کسی نہ کسی وقت میں کسی نہ کسی درجہ میں ملتے ہیں۔ سیرت طیبہ ؐ میں ہم جہاد بھی دیکھتے ہیں اور تبلیغ بھی، جماعت سازی بھی دیکھتے ہیں اور ریاست کے امور پر مکمل گرفت بھی دیکھتے ہیں۔ معجزہ یہ ہے کہ جو کام اللہ کے رسول ؐ نے تن تنہا انجام دیا، آج کئی کئی تنظیمیں مل کر بھی نہیں کر پارہیں۔ اس پر مستزاد یہ کہ ایک دوسرے کے کام سے متفق نہ ہونے کی وجہ سے پہلے بحث پھر اختلاف اور پھر سیدھا سیدھا ضد کا معاملہ ہو جاتا ہے ۔ پھر چونکہ معاشرہ میں دینی جماعتوں سے تعاون کرنے والوں کا ایک وسیع مگر بالآخر محدود طبقہ ہے تو ان کا تعاون انہی جماعتوں میں آپس میں تقسیم ہو جاتاہے ۔ کئی مسجدوں میں ایک سے ڈیڑھ کروڑ روپے کے مینار کی تعمیر ہو جاتی ہے جبکہ وہی پیسے کسی اور جگہ کسی دوسرے ، زیادہ ضروری مقصد میں استعمال ہو سکتے تھے۔ لے دے کے بات وہی ایک مرکزی قیادت کی ہے جو ان سارے اثاثوں کی امین ہو اور نہایت دیانت داری اور خداخوفی کے ساتھ اس مال کو استعمال کرے۔ ایک آواز ہو۔ جو اس سے ہٹ کر چلے وہ صاف نظر آجائے کہ یہ دین کا نمائندہ نہیں۔ پہلے ایک شہر میں ایسا اتحاد بن جائے پھر اس کو ملک تک پھیلا دیں۔ یہ مشکل ضرور ہے، ناممکن نہیں ۔

اگر ایسا اتحاد نہیں ہو پا رہا تو قصور عوام کا بھی ہے لیکن اصل قصور میرے نزدیک ان عقیدتمندوں کا ہے جو علماء کے اردگرد گھیرا ڈال کر رکھتے ہیں۔ آج کے دور میں کسی بڑے عالم سے بات کرنا، اس سے کچھ ذاتی طور پر پوچھ پانا اس قدر مشکل کام ہے کہ جب تک آپ کے پاس کوئی بڑی سفارش نہ ہو آپ علماء سے مل نہیں سکتے۔ اس کی وجہ وہ درمیان کے عقیدتمند ہیں جن کے نزدیک ان کے ‘حضرت’ سے کوئی سوال پوچھنا اگر گناہ کبیرہ نہیں تو مکروہ ضرور ہے۔ ایک عقیدتمند ‘حضرت’ کی ویب سائٹ سنبھال رہے ہوتے ہیں تو دوسرے صاحب کے نزدیک کسی کا ان کے شیخ کو براہ راست فون کر لینا مداخلت فی الدین کے زمرے میں آنا چاہیے۔ اس سے زیادہ آسان تو ٹی وی اور ریڈیو پر آنے والے ان نوسربازوں کو کال کرنا ہوتا ہے جن کے لیے رمضان، ربیع الاول، محرم اور ذی الحجہ مقدس کم اور کمائی کے مہینے زیادہ ہیں۔ عوام ایسے ہی نہیں علماء سے کٹ رہے۔ ایک جمعہ کے اجتماع میں راقم نے امام صاحب کو کہتے سنا کہ ‘عوام کو علماء کی ضرورت ہے، علماء کو عوام کی نہیں’ یہ مقولہ شاید پچیس سال پہلے صحیح تھا مگر آج نہیں۔ Rand Corporation کی سفارشات میں صاف لکھا ہے کہ ایسے علماء جو روایت پسندوں کی صف میں آتے ہیں ان کی جگہ ایسے لوگوں کو میڈیا پر لایا جائے جن کی شہرت ترقی پسندوں کی ہے، جن کو مسجدیں نہیں ملتیں۔ جو شراب کی حرمت کے بارے میں شکوک پیدا کریں، جو بدعات کی ترویج میں ممد ہوں ، جو فحاشی کو نئے معانی پہنائیں۔ اور پچھلے آٹھ دس سالوں میں ان سفارشات پر عمل کے نتیجے میں آپ دیکھ لیں کہ اس وقت سب سے زیادہ دیکھا جانے والا پروگرام ایک ایسے پوشیدہ رافضی کا ہے جو عام محفل میں صحابہ کرامؓ کی شان میں گستاخی کرتا پکڑا گیا اور ابھی بھی تقویٰ کا لبادہ اوڑھے رمضان میں نئے نئے کرتب دکھا رہا ہے۔ یہ ذمہ داری عوام کی بھی ہے کیونکہ ان کو اپنے عمل کا حساب خود دینا ہے۔

لیکن علماء کو بھی تو اپنے نمائندے چننے میں احتیاط کرنی چاہیے۔ گزشتہ شوال میں چاند کی رویت پر جو فساد ہمارے ملک کی سب سے بڑی سیاسی مذہبی شخصیت نے بپا کیا وہ آنے والے دنوں کی ایک جھلک تھا۔ یہ خبر بہت نمایاں نہیں ہوئی ورنہ شوال اکتیس دن کا ہوتا نہیں ہے۔ اس ‘اہل حق کے مینار’ نے ایک صوبے میں اقتدار حاصل کرنے کے لیے وہ وہ پینترے بدلے ہیں کہ اچھے اچھے ماہر کرتب بازوں کو پسینہ آجائے۔ اب تو لگتا ہے کہ آنجناب کا مقصد محض اقتدار کا حصول ہے چاہے اس کے لیے وہ امریکی سفیر کے پاس خود چل کر جائیں۔ دین محمدی ؐکے ماننے والوں کو اگر اقتدار مانگنے کے لیے در در کی بھیک مانگنی پڑے تو ایسے اقتدار سے دوری ہی بھلی۔ علماء کا کام دین کی حفاظت کرنا ہے ، اگر اقتدار حاصل کر کے حفاظت ہوتی ہے تو ٹھیک نہیں تو چار حرف بھیجیے ایسے اقتدار پر جس میں عزت سادات بھی ضائع ہونے کا اندیشہ ہو۔ چار حرف بھیجیے ایسے نمائندوں پر جن کے رہتے نہ مدرسے بچیں نہ اساتذہ۔ نہ طالبعلم بچیں نہ طالبات- جنہوں نے سب سے پہلے نعرہ لگایا کہ ‘طالبان اسلام آباد سے سو کلومیٹر پر رہ گئے ہیں’ اور وہاں سے کوڑوں کی ایک جعلی ویڈیو نکل آئی اور پھر سوات میں لاکھوں لوگ اپنے ہی ملک میں بے گھر ہو گئے۔ سب سے پہلے تو ان نام نہاد نمائندوں سے علمائے دین کو اپنے آپ کو بچانا ہوگا ۔

اس سلسلے میں وہ لوگ جو واقعی کسی عالم کے قریبی حلقے سے تعلق رکھتے ہیں وہ اپنے عالم سے بات کریں۔ ان سے سوال کریں ، کچھ مواقع پر ادب ہلاکت کا باعث ہو جاتا ہے۔ آپ صحابہ کرامؓ سے زیادہ اپنے حضرت کی تعظیم نہیں کر سکتے ۔دین کے معاملے میں صحابہ کرامؓ کبھی نہیں شرماتے تھے، سوال کرتے تھے۔ تو اپنے حضرت سے پوچھیں کہ دوسرے علماء میں برائی کیا ہے۔ اس کو دوسرے عالم سے رابطہ بڑھانے میں مدد کریں۔ ایک دوسرے کے لیے جو ان کے دلوں میں کچھ غلط فہمیاں ہیں وہ ختم کرائیں۔ دوسرے مسالک سے رابطہ بڑھانے میں مدد کریں۔ شدت پسندی اور تمسخر سے نہ دوسرا مسلک ختم ہوگا نہ اس کے ماننے والے۔ یہ سولہویں صدی کا اسپین نہیں ہے جہاں تمام ‘دوسروں’ کو جہازوں میں بٹھا کر افریقہ کے ساحلوں کی طرف روانہ کر دیا جائے۔ تو ہمیں ایک ساتھ ہی رہنا ہے، تو اس ساتھ کو کیوں نہ خوشگوار بنا لیا جائے؟ اگر آج (رمضان۱۴۳۴ ہجری) کی رویت ہلال جیسا ماحول پورے سال رہے تو یہ ملک اور یہ دین بہت جلد امن کا نشان بن جائے گا ان شاء اللہ۔ آج کوئی چھوٹا نہیں ہوا ، بلکہ سب اور بڑے ہو گئے۔ سب صحیح ہوئے اور کوئی غلط بھی نہیں ہوا۔ تو یہ اکثر دوسرے مواقع پر بھی ہو سکتا ہے۔

علماء کے لیے اپنی جگہ مضبوط ہونا ضروری ہے کیونکہ ستون تو مضبوط ہی ہوتا ہے اسے اپنی جگہ سے ہلنا نہیں چاہیے۔ ان کے لیے الگ الگ نظر آنے میں کوئی ایسی برائی نہیں کیو نکہ مہیب سمندر میں جزیرے اور بھی خوبصورت لگتے ہیں۔ بس ہم چاہتے ہیں کہ یہ دینی طبقے کسی ایک قیادت پر متفق ہو جائیں اور پھر للہیت کے ساتھ اس پر صبر کریں۔ ایک چھت جب مل جائے گی تو اس کے سائے میں یہ ستون بھی آئیں گے۔ بس اس کے لیے مجھے، آپ کو، ہر اس شخص کو جو کسی بڑی مذہبی شخصیت کے حلقے تک رسائی رکھتا ہے اس کو ایک پل کا کام کرنا ہے جو کسی طرح ا ن تمام جزیروں کو آپس میں ملا دے۔ اگر ہم نے صرف یہی کوشش کر لی اور اس میں اخلاص کا دامن نہیں چھوڑا تو اللہ سے امید ہے کہ وہ ہم کو روز قیامت رسوا نہیں کرے گا۔ بصورت دیگر، فرقہ بندی کو بھڑکانے میں کہیں ہم بھی حصہ دار نہ بن جائیں!


Photo credit: gnuckx / Foter / CC BY

کنویں کے عوام

Posted in Islam, Rants, Social revolution by baigsaab on November 23, 2011

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک کنویں میں کچھ مینڈک رہتے تھے. ویسے تو ان کی زندگی میں کوئی مسئله نہیں تھا لیکن ان کا کوئی بادشاہ نہیں تھا.اسی پریشانی میں ان کے دن رات بسر ہو رہے تھے کہ ایک دن کہیں سے لکڑی کا ایک بڑا سا شہتیر آن گرا. زور کا چھپاکہ ہوا اور کنویں میں، جو ظاہر ہے ان کی پوری دنیا تھی، بھونچال آگیا. سب مینڈک ادھر ادھر چھپ گئے. آنکھوں آنکھوں میں ایک دوسرے کو اشارے کیے گئے. ” یہ تو کوئی بہت ہی طاقتور مخلوق لگتی ہے!” “ہاں ہاں اس کو اپنا بادشاہ بنا لیتے ہیں” چنانچہ سب کے سب دست بستہ اس لکڑی کے تختے کے آگے آئے اور عرض کی “مہاراج، آپ کی بہت مہربانی کہ آپ ہماری دنیا میں تشریف لائے.ہم آپ کو اپنا بادشاہ بنانا چاہتے ہیں.” لکڑی کی خاموشی کو رضامندی سمجھ کر انہوں نے اس کو اپنا بادشاہ بنا لیا. روز اس کے سامنے پیش ہوتے اور اپنے فیصلے کراتے.دن گزرتے گئے اور بادشاہ کی خاموشی سے مینڈک بور ہونے لگے. ان کو لگتا تھا کہ بادشاہ کو ذرا دبنگ ہونا چاہیے. اور پھر ایک دن ایک گستاخ مینڈک بادشاہ کے اوپر بیٹھ گیا. پہلے تو سب نے بہت شور مچایا اور اس گستاخ کو سنگین نتائج کی دھمکی دی لیکن بادشاہ کی خاموشی نے ا وروں کو بھی شہہ دی. ایک ایک کر کے سب لکڑی کے اس تختے پر چڑھ گئے اور بالآخر بادشاہ کو “معزول” کر دیا گیا. ابھی اسی ادھیڑ بن میں تھے کہ اگلا بادشاہ کہاں سے لائیں کہ ٹھیک اسی طرح ایک بڑا سا اژدہا نہ جانے کہاں سےکنویں میں آن گرا. پھر وہی زور کا چھپاکہ اور مینڈکوں کی پہلے روپوشی، پھرآنکھوں آنکھوں میں بادشاہ کا انتخاب اورپھر برآمدگی . اب جو مینڈک “تاج پوشی” کے لئے باہر آئے تو بادشاہ سلامت نے آؤ دیکھا نہ تاؤ، جھٹ اپنی رعایا کی طرف لپکے اور پوری عوام کو ایک منٹ میں اپنے پیٹ میں پہنچا دیا. پیٹ میں پہنچ کر مینڈکوں کا کیا رد عمل تھا، اس بارے میں راوی خاموش ہے.

سمجھ نہیں آتا کہ اس کو اپنی قوم کی بدقسمتی کہوں یا انشاء جی کی تحریر کی شگفتگی کہ ۴۰ سال گذرنے کے باوجودان کی اس حکایت کو اپنے عوام پہ مکمل طور پر پورا ہوتے دیکھ سکتے ہیں.کسی سے پوچھ لیں بھائی قیادت کو کیسا ہونا چاہیئے. جواب ملے گا کہ بھائی مخلص ، با صلاحیت اور دیانت دار. پوچھو کہ مسلمان حکمرانوں میں پسند کون ہے، جواب حضرت عمرؓ . پوچھئے یہاں کے حالات کیسے صحیح ہونگے تو جواب اسلام. انگریزی محاورہ ہے کہ اگر خواہش گھوڑا بن سکتی تو ہر فقیر شاہ سوار ہوتا. ذرا ایمان داری سے سوچئے کہ ہمارے کتنے فیصد عوام اپنی دعاؤں میں یہ مانگتے ہونگے کہ اللہ ہمارے صدر وزیر اعظم کو سچا پکا مسلمان بنا دے. کس نے کبھی اپنے ملک کے صدر ، یا گورنر یا علاقے کے ناظم کے پیچھے نماز پڑھنے کی خواہش کی ہوگی جبکہ خلفائے راشدین اور ان کے عمال (گورنر) اپنے لوگوں کو خود نماز پڑھاتے تھے.

گنتی کے چند لوگوں کو چھوڑ کر ہمارے نصیب میں آئے تو ایسے کہ جو یا تو میر جعفر کی اولادوں میں سے تھے (جی ہاں، پاکستان کے ایک صدر صاحب میر جعفر کی اولادوں میں سے تھے!!!) یا جن کو اپنا اتنا ہوش بھی نہیں تھا کہ قضائے حاجت کے لئے کسی بین الاقوامی کانفرنس کے لان کا انتخاب مناسب نہیں . یا وہ جنہوں نے روشن خیالی کا مطلب یہ لیا کہ بغل میں دو کتے دبائے اور تصویر کھنچوا لی یا وہ جن کو اتنا بھاری مینڈیٹ ملا کہ اس کے نیچے آکر وہ ملک کو سود سے پاک کرنے کا نادر موقع گنوا بیٹھے. یا وہ جن کی ایک نہیں دو نہیں تیسری نسل اقتدار کے مزے لوٹ رہی ہے اور لوٹتی چلی جا رہی ہے. ایسا کیوں ہے؟ ہماری پوری تاریخ میں بابائے قوم کے بعد شاید ملک معراج خالد ایک ایسے شخص تھے کہ جو واقعی عام لوگوں کی طرح رہتے تھے . نگران ہی صحیح لیکن وزیر اعظم تو تھے. عام لوگوں کی طرح اکنومی کلاس میں سفر کرتے تھے. اپنے گھر کو وزیر اعظم ہاؤس کا درجہ دیا نہ کہ خود اپنے تام توبڑے سمیت سرکاری محل میں جا بیٹھتے. لیکن کیا ہوا؟ آج کیا کسی کو یاد بھی ہے کہ ہمارے ملک میں محض ١٥ سال پہلے ایسا دور بھی آچکا ہے کہ جب وزیر اعظم عام لوگوں کی طرح رہتا اور گھومتا پھرتا تھا؟

اگر خدا لگتی بات کریں تو اس وقت عوام کا سیاست دانوں پر سے اعتبار مکمل طور پر اٹھ چکا ہے. وہ سیاست جو بنی اسرائیل میں انبیاءجیسی پاکیزہ ہستیاں کیا کرتی تھیں ، آج ایسا لفظ بن گیا ہے جس کے مطلب جھوٹ، دھوکہ ، بد عہدی اور بہتان طرازی ہو کر رہ گیا ہے.یہ وہ لوگ ہیں جو کبھی تو ایک دوسرے کو غلیظ القابات سے نوازتے ہیں، پھر “ملک کے عظیم تر مفاد” میں ان سے اکٹھ بناتے ہیں، اور پھرانہی سے ہاتھا پائی بھی کر بیٹھتے ہیں. پھر مل جائیں گے، پھر روٹھ جائیں گے. غرض جو بھی کرتے ہیں، لگتا یہ کہ عوام کو اس سے کوئی سرو کار ہی نہیں ہے کہ یہ کیا کر رہے ہیں؟ دیکھا یہ گیا ہے کہ ہر کوئی روزانہ TV اس امید پر کھولتا ہے کہ شاید کوئی نیا تماشا دکھ جائے. اور مایوسی نہیں ہوتی. کہیں کوئی قرآن سر پر اٹھا کر اپنے آپ کو معصوم اور دوسرے کو قاتل قرار دے رہا ہے تو کہیں ایسا جواب دیا جا رہا ہے کہ لوگ سوچتے ہی رہ گئے کہ کہا کیا؟ لگتا ایسا ہے کہ ان تمام جماعتوں اور لیڈروں کو پتہ ہے کہ عوام کے چاہنے نہ چاہنے سے کچھ نہیں ہوتا، طاقت کے مراکز کہیں اور ہیں اور ان کو خوش رکھنےمیں ہی اقتدار ملتا ہے. اور یہ جو جملہ ہوتا ہے نا کہ “یار یہ سب ملے ہوئے ہیں” یہ کسی ایک قومیت کے لوگوں میں محدود نہیں ہے. تو ایک دفعہ جی کڑا کر کہ یہ تسلیم کر کیوں نہیں لیتے کہ ہاں بھائی ہماری پسند اور ہے اور ترجیح اور.یہ کہ وہ جو ہم چاہتے ہیں کہ ہم پسند کریں وہ اور چیز ہے اور وہ جو ہمیں واقعی پسند ہے وہ اور. اس سے اور کچھ ہو نہ ہو کم از کم اس دو عملی سے تو جان چھوٹ جائے گی جس میں قوم آج مبتلا ہے.

ویسے قائدین کے اس قحط الرجال کی ذمے داری ایک حد تک علماء پر بھی آتی ہے. انہوں نے خانقاہوں تک اپنے آپ کو محدود کر کے سمجھا کہ حکومت کرنا کسی اور کا کام ہے. ظاہر ہے کہ نظام کوئی خلاء نہیں ہوتا اگر اچھی قوتیں اقتدار پر قبضہ نہیں کرتیں تو بری قوتیں تو آئیں گی ہی. اسلام میں عہدے کی خواہش کرنا اور اس کے لئے تگ و دو کرنا کوئی پسندیدہ بات نہیں ہے لیکن جیسا کہ ہمیں حضرت یوسفؑ کی سیرت میں ملتا ہے کہ اگر متبادل قیادت میں کوئی دیانت دار شخص نہ ہو تو عہدے کو لے لینا غلط بھی نہیں. علماء نے بہرحال احتیاط کو ترجیح دی او رحکمرانوں کو مشوره دینے اور بعض صورتوں میں سرزنش کی حد تک اپنے آپ کو محدود رکھا. اور اگر اسلاف میں تابعین اور تبع تابعین کا طرز عمل دیکھیں تو انہوں نے بھی یہی کیا. لیکن اس وقت میں اور اس وقت میں چند بنیادی فرق ہیں . اور وہ یہ کہ ایک تو اس وقت شریعت کا نظام نافذ تھا. جو بھی برائیاں تھیں وہ بادشاہ یا طبقہ امراء کی حد تک تھیں. دوسرے یہ کہ عوام کا تعلّق علماء کے ساتھ بہت مضبوط تھا. اکثریت کی نظر میں معروف معروف تھا اور منکر منکر.جبکہ آج آوے کا آوا بگڑا ہوا ہے. غرض آج کے اس دور میں جبکہ عوام کی سطح پر شریعت پر عمل تقریبا مفقود ہو گیا ہے،جیّد علماء کے لئے کلمہ حق کو بلند کرنا اور بھی ضروری ہو گیا ہے.

جاتے جاتے اس بات پر غور کر لیں کہ جیسا دودھ ہوتا ہے ویسی ہی بالائی ہوتی ہے. تو جیسی دوغلی قوم ہے ویسے ہی اس کے حکمران. ہمارے نزدیک قائد کو ذرا بھرم باز ہونا چاہیے. جس سے سب ڈرتے ہوں اور جس کے قول و فعل میں بھلے تضاد ہو تو ہو لیکن بات کرے تو سب کو چپ کرا دے. نماز بھلے نہ پڑھے لیکن قرآن کے معنی سمجھا دے بھلے غلط ہوں. اور لیڈر کی شرعی داڑھی کا مطلب تو یہ کہ وہ قیادت کے لائق ہی نہیں.غرض ہم لوگوں کے نزدیک شریف آدمی بیوقوف ہوتا ہے اور تیز آدمی کارآمد. کیا کروں کہ بات اسی کنویں کے مینڈکوں تک واپس آگئی کہ جو شاید”بھولے بادشاہ” پر صبر کر جاتے تو خوش رہتے. اژدہے کے پیٹ میں نہ جانے کیا سوچتے ہونگے. لیکن کیا کریں کہ راوی ایسے بے وقوفوں کے بارے میں چپ ہے!

Has the moment not yet come!

Posted in Social revolution by baigsaab on January 1, 2011

Has the Moment Not yet come

Pakistani ExPats are ashamed but not for reasons they should be!

Posted in Social revolution by baigsaab on May 14, 2010

“Think of the press as a great keyboard on which the government can play.”, so said the same Joseph Goebbels who’s linked to the famous quote “If you tell a lie big enough and keep repeating it, people will eventually come to believe it”.

Despite West’s claim of despising the Nazis, they’ve fondly adopted the standards set by Hitler’s propaganda machine, and they’ve improved it to near perfection. Over the course of the last decade, the western media have trumpeted with untiring consistency a claim that has now taken its root in the minds of not only the general public in the west, but also the victims of that claim!

The claim? “Muslims are terrorists”… Ok not all Muslims are terrorists, but those that we call are definitely them, so say the west. This lie has been repeated with such focused concentration and in so many different formats and versions – through movies, news, novels, social media- that it is now accepted as fact. So much so that whenever a new terrorism incident takes place, Muslims, especially Pakistanis, are the first to condemn it and after finding out the accused was indeed a Muslim brother or sister, start alienating him from the global Muslim brotherhood. In essence, before the trial is even begun, the accused is convicted by his own people and actual case proceedings remain only a formality!

This behavior is most evident in the recent case of Faisal Shahzad, the Time Square bombing “suspect”. Ever since it was reported that he could be the major hand in plotting probably the biggest car bomb in recent history, internet was exploded with apologies from Pakistanis across the globe. Pakistan’s most watched channel was angry that this person has brought shame to the entire Pakistani nation and his own family. Most of the blogs and their commenters rued the fact that he threw away his carefully built “American Dream” just like that. Pakistani ex-patriots feared even more strict vigilance over them, while believing this “fanatic should be jailed for life”. All in all, their verdict is, guilty as charged!

However, one felt there’s something missing from this whole story, the other side of course! Even though Faisal Shahzad can now boast a wikipedia page , that’s probably not for reasons he’d have liked himself. That page is full of stories mentioning different facets of the case- some claiming he dumped his documents in the home he had abandoned quite a while ago- but they didn’t, even for a single line, give a piece of what Faisal Shahzad says. It’s totally one sided. And to put it mildly, that stinks! But somehow this fact is missed by all involved. There has been absolutely no access to him by our government or by other Pakistani coummunity members, at least not publicly available.

The report that his documents were found from his “abandoned” house is so ridiculous that it shouldn’t have made it to the press in the first place. What would a person, allegedly looking to bomb his way into FBI’s most wanted list, be doing in his old house is beyond logic and beats a level headed reader. Other claims are that he had gone to his birthplace Peshawar on his recent visit ; started wearing all blacks and remaining serious while stealthily walking across his backyard, that’s neighbor’s reports, he was seen posing on Times Square was also a claim. That his documents had cards from someone wishing him well were also pertinent for some reports. Huffington post even attempted to sneak into his Facebook profile only to put the blame on another Faisal Shahzad. Such is the state of electronic media and citizen blogs. Whatever happened in Pakistan is another matter.

When I asked a few Ex-Patriots, their opinion was that it’s an open and shut case – he plotted a crime, failed, got arrested, gave up his rights and admitted! I was amazed, appalled really to see how much faith they have in “their” media and government is saying, otherwise any Pakistani knows how people can be made to confess under duress. Besides, in most laws, confessions under custody weigh nothing unless they’re given in front of legal authority. If an accused declines to testify on his confession it may be called a mistrial.

I invite you to put yourself in Faisal’s shoes. You’re an average Pakistani living in the US trying to consolidate your career there. You’re very apprehensive of any indication of extremism from any of your acquaintances. You try to live by the sidelines. You’re boarding a flight to Pakistan; suddenly you get arrested, finding you’re on TV across the world. Authorities give you two choices, confess the crimes handed to you and face some years in Guantanamo Bay Prison or get ready for trial find yourself guilty as charged and still go to Gitmo facing life sentence. You’ve heard of water boarding, you’ve heard of electric shocks, you’ve heard of stories of blood hounds in Abu ghuraib jail. You’re an innocuous, in fact scared, person. You’re left with no choice but to admit the crimes which you didn’t hear before that day. Under duress, any scared person would do what he did.

For most people my theory would seem laughable but Dr Shirin Mazari also smells a rat in this whole story. I don’t trust American justice system and for good reason. It’s discriminatory! It has been discriminating on grounds of race, religion and color. This is not a matter of today, it’s been happening since the first day an Italian set foot on this soil. America bombs more Pakistani civilians daily in drone attacks then it has lost soldiers in Afghanistan. Pakistani blood, Muslim blood is so cheap that even thousand Muslims don’t equate an American life. Is that justice? My apologies to US lovers but any country who had laws legalizing lynching only 50 years ago and has killed more people than Hitler and Halaku combined has to do a lot more than just lip service to gain Muslim’s confidence.

Lastly, Pakistanis living in America shouldn’t be ashamed of Faisal. They should be ashamed of themselves. Their brothers and sisters, fellow compatriots are facing one-sided trials in front of their own eyes. Faisal Shahzad and Dr Afia are only two of hundreds detained in Gitmo without proper trials. Still, Pakistanis in general are happy to live their lives with the convenience of their families, fearing any voice against these cases might land them into trouble. What’s shameful is this behavior, not getting framed by corrupt authorities. It’s their pathetic submission to this unjust system that has led the Americans to believe that all Pakistanis would give up their rights if paid enough. They’re feeling shame alright, but one feels it’s for all the wrong reasons!

Questions to Mothers and Sisters!

Posted in Islam, Social revolution by baigsaab on February 5, 2010

نجات

Posted in Rants, Social revolution by baigsaab on May 21, 2009

ہر حکمران کی زندگی میں ایک ایسا لمحہ لازماً آتا ہے جب اسے یہ فیصلہ کرنا ہوتا ہے کہ وہ تاریخ میں کیا مقام چاہتا ہے۔ کسی ٹی وی ڈرامے کے بر عکس تاریخ میں کسی کردار سے مماثلت “محض اتفاق” نہیں ہوتی، بلکہ حکمران اس بات کا خود فیصلہ کرتا ہے کہ وہ صلاح الدین ایوبی بننا چاہتا ہے یا میر صادق، یوسف بن تاشفین بننا چاہتا ہے یا بہادر شاہ یا پھرسلطان ٹیپو بننا چاہتا ہے یا نظام دکن۔ اس تناظر میں اپنے حکمرانوں کا جائزہ لیں تو محسوس ہوتا یے کہ ان سب نے شاہ رنگیلا بننے کی قسم کھائی ہوئی ہے۔

مغل بادشاہ روشن اختر شاہ رنگیلا مغلیہ دور زوال میں اس وقت بادشاہ بنا جب بادشاہ لباس کی طرح تبدیل ہو رہے تھے۔ اپنے اقتدار کو طول دینے کے لئےہر قسم کے ہتھکنڈے تو اس نے استعمال کئے ہی، اس کے دور میں دربارمیں بے لباسی، شراب نوشی اور بے حیائی کو فروغ دیا گیا۔ اس کی حکمرانی دارالحکومت تک محدود تھی، یہ بھی کوئی انوکھی بات نہیں۔ جس بات نے اس کا نام تاریخ میں ہمیشہ کے لئے کالا کر دیا وہ کوئی اور بات تھی۔

 شاہ ایران نادر شاہ درانی نے ہندوستان پر حملہ کیا تو اس بھولے بادشاہ نے بھی مقابلہ کی ٹھانی۔ لیکن نتیجہ وہی ہوا کہ دو ڈھائی گھنٹے کی لڑائی کے بعد ہی بادشاہ نے ہتھیار ڈال دیے۔ اور تو اور، دلی تک نادر شاہ کو ایسکورٹ بھی کیا گیا جہاں اس نے بادشاہ کی رٹ کو خوب چیلنج کیا۔ قتل عام کیا اور بار بار کیا۔ اورجب گیا تو بادشاہ کاتخت اور قوم کی غیرت اورعزت دونوں ساتھ لے گیا۔ اس کے بعد بادشاہ کی زندگی مصلے پہ گذری یا شراب خانے میں، ہمیں غرض نہیں۔ ہمیں تو یہ دیکھنا ہے کہ ایسے حکمران ہمیں ہی کیوں ملتے ہیں؟اور ہم کیا کر سکتے ہیں کہ یہ سلسلہ اب بند ہو جائے۔

 وَكَذٰلِكَ نُوَلِّىۡ بَعۡضَ الظّٰلِمِيۡنَ بَعۡضًۢا بِمَا كَانُوۡا يَكۡسِبُوۡنَ(الانعام:129)

 اور اسی طرح ہم ظالموں کو ان کے اعمال کے سبب جو وہ کرتے تھے ایک دوسرے پر مسلط کر دیتے ہیں

 قرآن کا فتویٰ آپ نے پڑھ لیا؟ اب ذرا اپنے گریبان میں جھانک کر بھی دیکھ لیتے ہیں کہ ہم نے ایسا کیاقصور کیا ہےکہ جویہ لالچیوں کا ٹولہ ہم پر مسلط کر دیا گیا ہے؟

 اس حقیقت سے کوئی با شعور انسان انکار نہیں کر سکتا کہ ہمارا معاشرہ اس وقت گندگی کا ڈھیر ہے۔ پیار، اخوت،اعتبار، ایثار یہ سب چیزیں غائب اوروعدہ خلافی، بغض، کینہ، حسد اور ایسی ہی ساری بیماریاں ہمارے معاشرے میں عام ہیں۔ ہمارے ہی ہاتھوں ہمارے بھائی قتل ہوتے ہیں، ہم ہی انہیں دفناتے ہیں، اور پھر ہم بھی اپنے کسی بھائی کی گولی کا نشانہ بن جاتے ہیں۔ یہ سب کچھ ہمارے ارد گرد ہی ہو رہا ہے لیکن ہماری گفتگو کا اہم ترین موضوع ہے آئی پی ایل۔ یا پھر انڈین آئڈل یا کبھی منہ کا مزہ بدلنے کے لئےمہنگائی کی آڑمیں حکمرانوں کی نا اہلی کا رونا رو لیا۔ بس۔ ہم گندگی کے اس ڈھیر کا پاس سے ناک پر ہاتھ رکھ کر گذر جاتے ہیں لیکن یہ کوشش نہیں کرتے کہ یہ گندگی ختم ہو۔ کوشش کیا اس معاملے میں بات کرنا بھی حماقت سمجھتے ہیں کہ یہ تو حکومت کا کام ہے۔

 جبکہ ہم میں سے ہر ایک ذمہ دار ہے۔ ہم خود نہیں چاہتے کہ یہ نظام بدلے۔ بدل جائے گا تو پھر ہمارے نا جائز کام کیسے ھونگے؟َ ابھی تو رشوت سے ہر بند دروازہ کھل جاتا ہے، جھوٹ بول کے سزا سے بچ سکتے ہیں، جعلی کاغذات سےہزاروں ایکڑ زمین اپنے نام کروا سکتے ہیں، بجلی چوری کر سکتے ہیں، امتحان میں نقل کر کے پاس ہو سکتے ہیں،سڑک کے بیچوں بیچ شامیانہ لگا کر اپنی خوشیاں منا سکتے ہیں(چاہے کسی اور کو کتنی ہی تکلیف ہو) ۔یہ سب کر سکتے ہیں لیکن اگر کوئی عادل حکمران آگیا تو پھر یہ کام کیسے ہونگے؟

 ہم نے کتنی ہی چیزیں جانتے بوجھتے اللہ کے احکامات کی صریح خلاف ورزی میں کی ہیں؟ ہمارا پورا نظام سود پر چل رہا ہے۔ پردہ سب کو پتہ ہے کہ لازمی ہے، پتہ نہیں کس کا سرٹیفیکیٹ ہم سب کے پاس ہے جو ہم اپنی عورتوں کو یوں بے پردہ گھومنے دیتے ہیں، ہر جگہ ان کی تصاویر کی نمائش کرتے پھرتے ہیں کہ جس خبیث کی مرضی جیسے چاہے دیکھے انہیں۔ واضح حکم ہے اللہ کا ان دو چیزوں کے بارے میں۔ ہم کبھی قرآن کو میت اور سوئم کے علاوہ کہیں پڑھیں تودکھائی دے۔

 مومنو! خدا سے ڈرو اور اگر ایمان رکھتے ہو تو جتنا سود باقی رہ گیا ہے اس کوچھوڑ دو اگر ایسا نہ کرو گے تو خبردار ہوجاؤ (کہ تم) خدا اور رسول سے جنگ کرنے کے لئے (تیار ہوتے ہو) اور اگر توبہ کرلو گے (اور سود چھوڑ دو گے) تو تم کو اپنی اصل رقم لینے کا حق ہے جس میں نہ اوروں کانقصان اورنہ تمہارا نقصان(البقرۃ:279،280)

اے پیغمبر اپنی بیویوں اور بیٹیوں اور مسلمانوں کی عورتوں سے کہہ دو کہ (باہر نکلا کریں تو) اپنے (مونہوں) پر چادر لٹکا (کر گھونگھٹ نکال) لیا کریں۔ یہ امر ان کے لئے موجب شناخت (وامتیاز) ہوگا تو کوئی ان کو ایذا نہ دے گا۔ اور خدا بخشنے والا مہربان ہے(الاحزاب: 59)

 لاعلمی شاید قابل معافی ہے۔ شاید۔
بے عملی بھی شاید کسی طرح معاف ہو جائے۔
لیکن جانتے بوجھتے اللہ کے خلاف اعلان جنگ کرنا، یہ ہے وہ عمل جس نے ہمیں شدید ذلت اور رسوائی میں مبتلا کر رکھا ہے، اور ہمارے اوپر ایسے لوگ مسلط کر دئے گئے ہیں جن کو عزت دار گھروں میں کوئی رشتہ نہ ملے۔

 شاید ہم پر وہ وقت آگیا ہے جس کے بعد قوموں پر توبہ کا دروازہ بند ہو جاتا ہے۔ تاریخ سے ہمیں یہی سبق ملتا ہے۔ بغداد، غرناطہ، دلی، یہ سب ہماری ہی تاریخ ہیں۔ جب کہ ہم میں تو وہ خرابیاں بھی ہیں جن کی وجہ سے گذشتہ امتیں تباہ ہوئیں۔ توہم تو ان عذابوں کا بھی اپنے آپ کو مستحق ثابت کر چکے۔

 دیکھئے، تاریخ بہت سفاک ہوتی ہے، مصلحتیں عموماً تاریخ کے آئینے میں نہایت بدنما معلوم ہوتی ہیں۔ تو کل جب ہمارے بچے ہم سے یہ سوال کریں گے کہ پاکستان جل رہا تھا، آپ آگ بجھارہے تھے یا ہاتھ سینک ریے تھے؟ تو اپنے آپ کو ان تلخ سوالوں کا جواب دینے کے لئےجھوٹ ابھی سے تیار کر لیں۔ یا پھر آئیں اوراپنےبچوں سے فخر سے سچ بولنے کے لئے اپنا آج بدل ڈالیں۔

 اور اس دنیا کی تاریخ توشاید پھر کسی طوفان نوح میں بہہ جائے لیکن اللہ تو ہماری شہہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے۔ روز قیامت اس کو کیا جواب دیں گے ک اس کے دربار میں تو ابو جہل بھی جھوٹ نہ بول پائے گا۔

 تو طریقہ کیا ہے اس گندگی سے نجات پانے کا؟ طریقہ بہت آسان ہے!

 وَاعۡتَصِمُوۡا بِحَبۡلِ اللّٰهِ جَمِيۡعًا وَّلَا تَفَرَّقُوۡا‌(آل عمران: 102)

 اور سب مل کر الله کی رسی مضبوط پکڑو اور پھوٹ نہ ڈالو

 آئیے اپنے رب کے حضور توبہ کریں۔ توبہ کریں کہ وہ تو واقعی توبہ قبول کرنے والا ہے۔ اور توبہ کرنے والوں کوپسند کرتا ہے۔

 سرکشی نے کر دئے دھندلے نقوش بندگی

 آئو سجدے میں گریں لوح جبیں تازہ کریں

Rationale for Islamic way of life (As I have understood)

Posted in Social revolution by baigsaab on September 13, 2008

There are more than a billion Muslims in the world, almost 2/3 of them offer prayers (during ramadan it’s almost 3/4), Saudia is inundated with pilgrims during Hajj, Eid shoppers crowd the markets, every mosque is overflowing during Friday prayers; yet we’re divided, dismantled, disintegrated, and most shamefully, dominated! Still our behaviour is masochistic to say the least. The west can step over our values any time they want and all we do is ignore. The very west that’s dominating us in our lives, is the place we all want to go. We look up to them to cure us from the ailments they’ve caused. Yeah right, you’ve heard all this before! 🙂

My question has lately been, what is it that we should be doing as Muslims to be respected. One thing is clear, no matter how much we try to become “them”, we can’t become “them”, they won’t accept us as one of theirs and rightly so.

Let me confess, this questions came to my mind only after I started listening to dars-e-quran of a contemporary scholar. It was different from other Moulvis bcuz it first created those questions in my mind, and then led to the answers so logically that everything started to fall into place.

First reaction was, if we want to be respected in life, then the only way we can do that is to become ardent followers of Quran. Whatever Quran says, we follow.

Second reaction, since RasooluLLAH brought the Quran, and since he was Saadiq and Ameen, we should trust him that he(S.A.W.) described and acted upon the Quran in the best and most easily understandable manner as possible. So if we follow the Sunnah, we’ll do exactly what Quran wants us to do.

Still, my mind, like the minds of many others, kept asking. There should be a logic behind this. All the rituals, practices, prohibitions, allowances, should have a logical outcome, because Islam is a very practical religion, at least as is told. On one hand, it stops from adultery, fornication, gambling, meaningless activities, and on the other hand orders to do things in a certain way, follow a certain code, do this, don’t do that. This should all lead up to a grander cause than just creating mindless followers.

The reason, as far as I’ve understood, is in this verse of the Quran.

048.028
“It is He Who has sent His Messenger with Guidance and the Religion of Truth, to proclaim it over all religion: and enough is Allah for a Witness.”

Islam was destined to dominate. Muhammad RasooluLLAH’s (S.A.W.) mission was not only to proclaim the message of ALLAH(SWT), but also to upend the prevalent politico-socio-economic system. And as we all know, systems don’t give way all too easily. It needs sacrifices, sacrifices need volunteers, and volunteers should be totally committed to the cause instead of walking the fringes.

For a cause as high as this, the quality of volunteers can’t be compromised. Young volunteers should be thoroughbred, totally developed in an environment in which they breathe not air, but their mission. That environment can be provided by parents who are sincere to each other and trust each other, and follow the Quran themselves. Hence the ban on adultery, and the strict rule of Hijab. The ban on gambling and other meaningless activities was because they dilute the focus away from the mission and, being the footsteps of satan, will lead them away from the correct path. Ban on liquor because a man not in his senses can do all of these banned activities. I hope you’re following me.

It generally takes 20-25 years for a generation to grow. The span between the day the first Wahi arrived, and the day RasooluLLAH(SAW) departed this world, is 23 years. A whole generation grew up with this value system circulating in their blood. They did what the Quran told, but not mindlessly, the wisdom of Sahaba is well known. The way Islam spread even after RasooluLLAH’s (S.A.W.) departure from this world, is enough to prove that their focus wasn’t lost, they believed in ALLAH (SWT), RasooluLLAH (SAW), Quran and their mission. And whenever there will be a “successful” effort to uproot the zionist systems, it can be this way and only this way.

The reason I’ve been repeating the word standardization and discipline, is that as much as belief causes action, actions cause beliefs as well. Someone asked me earlier whether it’ll be realistic to say so. I believe yes it will. Most people only “think” they need a reason to act upon something, whereas in effect they’re themselves doing a lot of things just because the other guy’s doing it. Most of us justify our actions “after” we act. Some people could be the exceptions that prove the rule. I’ve come to believe very firmly that Muslims will soar to greater heights they once reached, there are clear Hadith that predict these. ALLAH (SWT) will get His work done no matter what. If someone works in that way, it’s going to benefit himself only, no one has any might to harm or favor ALLAH (SWT)… And it’s mentioned in the Quran (I miss the reference again, sorry), that if we won’t do the job we’re supposed to do, then we’ll be wiped off the face of the earth and be replaced by a nascent, alive nation.

Diagnosis and treatment? This couplet of Iqbal from Jawab-e-Shikwa has both.
Wo Muazziz thay zamanay main musalman ho karAur tum khwar huay taarik-e-Quran ho kar(They were Muslims, and they were dignified, You abandoned Quran, so you’ve been abandoned)(Iqbal)

If we say that the people currently preaching Islam are not doing it correctly, then we must do it! And if we think someone is doing it right then we must go all out and support him. All we need to do is to learn the Quran, with sincerity, not seeking conspiracy. And the same way we look for the best teacher available for our studies, we should look for teachers of this knowledge as well. The world, and Pakistan, must still have good, practicing scholars, otherwise we’d have been obliterated by now and replaced.

ALLAH (SWT) knows best!