Baigsaab's Blog

یہ وہ سحر تو نہیں

Posted in Islam, protest, Rants by baigsaab on July 10, 2013

جولائی کے مہینے میں امریکہ ہی نہیں دنیا کے  تیئیس  دیگر ممالک  بھی اپنا  یوم آزادی   مناتے ہیں۔  ارجنٹائن، بیلارس، وینیزویلا اور پیرو  اور خود امریکہ سمیت  ان  میں سے اکثر ممالک نے یہ آزادی بیرونی طاقتوں  کے شکنجے سے حاصل کی تھی۔  امریکہ کے یوم آزادی کی رات تحریر اسکوائر میں لوگوں کو اچھلتے کودتے دیکھ کر  ایسا لگ رہا تھا کہ مصر نے کسی ایسے ہی  ظالمانہ   استعماری  نظام سے نجات حاصل کرلی ہے۔ یہ اس لیے بھی عجیب تھا کیونکہ مصر  نے اگر حسنی مبارک کو تیس سال برداشت کیا تھا اور اس سے پہلے انور السادات اور جمال عبد الناصر اور شاہ فاروق وغیرہ   کو  بھی  برسوں جھیلا تھا تو   اس بار جانے والی حکومت تو نہ فوجی آمریت تھی اور نہ   استبدادی بادشاہت۔ یہ لوگ  تو ایک ایسی حکومت کے خاتمے کی خوشی منا رہے تھے جس  کو ان کے ملک کی  ‘اکثریت’ نے  مرحلہ وار انتخابی عمل کے بعد منتخب کیا تھا۔ محمد مرسی کو  حسنی مبارک سے تشبیہہ دینے والوں نے یہ بھی نہ دیکھا کہ  مرسی نے تو نہ مخالفین سے جیلیں بھرنے کی پالیسی اپنائی،  نہ اپنے مخالفین کے ہجوم پر فائرنگ کروائی ،  نہ  خود پر تنقید کرنے والوں  کو اغواء کروایا،   نہ اپنی ذات کو حرف آخر  اور عقل کل سمجھا(حالانکہ مصر کے نئے منظور شدہ آئین کے بارے میں  پھیلایا گیا  عام تاثر یہی ہے) اور نہ اپنے سے مخالف نظریات کے پرچارکوں کے لیے عرصہ حیات تنگ کیا۔  مرسی پربظاہر الزام ہے تو صرف یہ کہ  وہ دوسرا ‘مبارک’ بننے جا رہا تھا جبکہ درحقیقت ایسا نہیں ہے۔

حقیقت اگر ہے تو  یہ کہ قاہرہ میں خوشیاں مناتے لوگ درحقیقت ایک اسلام پسند حکومت کے خاتمے کی خوشی منا رہے ہیں۔  حقیقت  اگر ہے تو یہ  کہ جب شراب خانوں پر پابندی اور فحاشی پر قدغن لگی تو مصر کے ان  ‘لبرل’ لوگوں  نے  اسی حسنی مبارک کے تیس سالہ دور استبداد کو مرسی کے ایک سالہ دور    استقبال پر ترجیح دی۔  حقیقت اگر ہے تو یہ ہے کہ  مصر، الجزائر، ترکی ، فلسطین اور دنیا بھر میں جہاں بھی اسلام پسند  ‘جمہوری’ حکومتوں کا خاتمہ ہوا ہے   اس کو  مغربی جمہوری ملکوں کی  حمایت  حاصل رہی ہے۔  اور حقیقت اگر ہے تو یہ کہ  بارہ سال  میں پہلی دفعہ کسی حکومت نے اسلام  کو  ریاست کو امور میں مدخل کرنے کے لیے محض چند ہی اقدام کیے تھے   اور اس  کو بھی اسی طرح طاقت کے ساتھ ہٹا دیا گیا جس طرح بارہ سال پہلے طالبان کو ہٹا دیا گیا تھا۔  حقیقت یہ ہے کہ اوبامہ نے اپنی خاص منافقت سے کام لیتے ہوئے جو الفاظ  اپنی تقریر میں رکھے ہیں ان میں ‘تشویش’ اور ‘جمہوری عمل’ کے الفاظ تو ہیں  مگر یہ کہیں نہیں کہا کہ  مصری فوج کا یہ عمل   غلط ہے۔ حقیقت اگر ہے تو یہ کہ اس موقع  پر’ لبرلوں اور سیکولروں ‘ کی منافقت کا پردہ چاک ہو گیا ہے۔  الکُفرُ  مِلّۃٌ  واحدۃٌ   کی ابدی حقیقت سے ہم کو تو  نبی رحمت ؐ  نے  پہلے ہی آگاہ کر دیا تھا، یہ تو ہمارے ہی لوگ تھے جو  دوڑ دوڑ کر ان میں گھسے جاتے تھے۔

لیکن یہ حقیقت بھی اپنی جگہ ہے کہ  الاخوان المسلمون کی حکومت  کے خاتمے میں فیصلہ کن کردار فوج نے نہیں، بلکہ  اسلامی قوتوں نے ادا کیا۔ مصر کیا  پوری دنیا کی تاریخ میں پہلی بار کسی  بڑے ملک میں ایک  اسلامی جمہوری جماعت اس قدر  اکثریت کے ساتھ منتخب بھی  ہوئی اور حکومت قائم بھی کر سکی   مگر  جب وہ گئی تو اس کا ساتھ دینے سے ان کے  اسلامی  اتحادیوں نے نہ صرف انکار کر دیا بلکہ  بالفعل ان کے مخالف کیمپ  میں  جا کھڑے ہوئے۔  جامعۃ الازہر  کے علماء نے ایک  بار  پھر سیکولر  عناصر کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے میں مدد دی  اور اس شخص کے خلاف چلے گئے جس نے کئی دہائیوں میں پہلی بار اقتدار کے ایوانوں میں اللہ کا کلمہ بلند کیا۔ایک بظاہر سیکولر مگر   پیدائشی عیسائی  بلکہ یہودی عدلی المنصور کی حلف برداری میں  غیر مذہبی جنرل الفتاح سیسی کا ہی نہیں ، مذہبی  النور  پارٹی  اور  انتہائی قابل احترام  جامعۃ الازہر   کا بھی بھرپور کردار ہے۔

مصریوں کے بارے میں ایک تاریخی قول  چلا آتا ہے، رِجال ٌ   تَجمعھم الطّبول و ھم مع من غلب ۔ (مصر کے  مرد  ایسے ہیں جن کو ڈھول کی تھاپ اکھٹا کرتی ہے اور وہ اس کے ساتھ ہیں جو غالب آجائے) ۔ یہ کوئی مصر کے ساتھ مخصوص نہیں ہے۔  ہماری عوام بھی مجمع بازی میں کافی خود کفیل ہے۔  بس بازی گر کے پاس ‘مسالہ’ اچھا ہونا چاہیے، لوگ اپنے اصل مسائل بھول کر  نہایت  خلوص کے ساتھ  ان  ڈھولچیوں کے پیچھے چل پڑتے ہیں۔   پاکستان میں عام لوگوں نے مصر کے حالات پر کوئی خاص ردعمل کا مظاہرہ نہیں کیا۔ شاید اس لیے کہ اس کو الیکٹرونک میڈیا پر خاطر خواہ وقت نہیں دیا گیا۔  پرویز رشید صاحب جو حکومت پاکستان کے ترجمان ہیں، انہوں نے  کہا کہ پاکستان کی طرف سے  سرکار ی ردعمل تین سے چار دن میں آئے گا، باوجود اس کے کہ ۱۴ سال پہلے وہ اور ان کے قائد بعینہ اسی عمل سے خود گزر چکے ہیں۔ خلیجی ریاستوں کی طرف سے   تقریباً وہی ردعمل ظاہر کیا گیا ہے جو انہوں نے  اکتوبر  2001  میں افغانستان اور  مارچ 2003 میں  عراق پر امریکی  جارحیت میں  دیا تھا، یعنی  امریکی لائن کی حمایت۔

پاکستان کے   تناظر میں  اگر ہم  مذہبی اور غیر مذہبی   قوتوں کی صورتحال کا جائزہ لیں تو یہ بات سامنے آتی ہے  کہ  لبرل اور سیکولر عناصر  میں اسلامی قوتوں سے زیادہ  ایکا ہے۔  سیکولروں  کی مجبوری یہ ہے کہ  وہ ایک جمہوری حکومت کے خاتمے پر خوشی کا اظہار بھی  نہیں کر  سکتے لہٰذا انہوں نے  اس فوجی بغاوت کی  ذمہ داری الٹا الاخوان پر ڈال دی  ہے کہ اس نے   مصر کی تاریخ میں پہلی بار ایک  جمہوری طور پر منتخب حکومت کی حیثیت سے  اپنی عوام کو  مایوس کیا اور فوج کو  مداخلت کا جواز فراہم کیا۔  ایاز امیر صاحب نے اپنے کالم میں  لکھا کہ مسلم دنیا کی مشکل ہی یہ  ہے کہ یہ  اپنی علاقائی  حدود کی بنیا د پر سوچتے نہیں۔  انہوں نے مرسی  کا تقریباً مذاق اڑاتے ہوئے کہا کہ اپنا گھر سنبھل نہیں رہا تھا اور  وہ  شام کے حالات میں مداخلت کر رہے تھے۔ دوسری جانب  ہمارے مذہبی حلقے   مصر کی تازہ ترین صورتحال میں محض پوائنٹ اسکورنگ کرتے رہ گئے ہیں، الّا ماشا ءاللہ۔  جنہوں نے  اپنی جدوجہد کے لیے انتخابی میدان منتخب کیا تھا وہ  مصر میں  ‘جمہوری’ حکومت کے خاتمے پر مظاہرہ کر رہے  ہیں۔ اور جنہوں نے انتخابی میدان منتخب کرنے کو غلطی قرار دیا وہ  اس فوج کشی کو جمہوری عمل کی ناکامی کا معنی پہنا رہے ہیں۔  واضح رہے کہ جس وقت الاخوان کی حکومت آئی تھی تو  اس وقت  بغلیں بجانے اور  بغلیں جھانکنے کی ترتیب اس کے برعکس تھی۔ سہ ماہی ایقاظ  نے اپنے تازہ مضمون میں  طرفین کے اچھے خاصے لتے لیے ہیں کہ  پہلی بات تو یہ کہ کسی کی ناکامی، ہماری کامیابی کی  ضمانت نہیں۔ اور دوسری بات یہ کہ یہ وقت ایک دوسرے سے لڑنے کا نہیں  ہے۔ بلکہ  اس وقت پہلے سے زیادہ ایک نظر آنے کی ضرورت ہے۔

مصر میں فوجی بغاوت کے بعد مغربی  لکھاریوں کے آنے والے   مضامین اس حقیقت کی غمازی ہی نہیں کر رہے بلکہ ببانگ دہل اس بات  کا اعلان کر رہے  ہیں کہ ان کے نزدیک مسئلہ اسلام ہے، سیاسی یا فوجی اسلام نہیں۔  ڈیوڈ بروکس کے نزدیک   

‘اہم چیز یہ ہے کہ  ایسے لوگوں کو اقتدار سے باہر کر دیا جائے چاہے اس کے لیے  فوجی  بغاوت ہی کا استعمال کیوں نہ کرنا پڑے۔(اصل)   ہدف یہ ہے کہ سیاسی اسلام کو  کمزور کر دیا جائے  چاہے اس کے لیے کچھ بھی کرنا پڑے۔ ‘

مصر میں   لبرلوں کے لیے روشنی کے مینار کی حیثیت رکھنے والے البرادعی  نے  کہا ہے کہ انہیں

اپنے  مغربی دوستوں کو اس بات پر راضی کرنے کے لیے کافی محنت کرنی پڑی  کہ مصر میں جو کچھ فوج نے کیا وہ انتہائی ضروری تھا۔

حاصل وصول ایک  ہی بات ہے،  الجزائر   اور مصر میں  حکومت سیاسی طریقے سے حاصل کی جائے یا اٖ فغانستان  میں   طالبان کے انقلاب کے ذریعے،  اگر حکومت  نے   ذرا بھی  کوشش کی   کہ اسلام کو  ایک جز و کے طور پر ہی سہی لوگوں کی سیاسی زندگی میں داخل کر دیا جائے  تو وہیں اس کے اوپر  ایک ایسی کاری ضرب لگائی جائے گی کہ  ان کی تحریک دس سال پیچھے جا کھڑی ہو گی-  اگر لوگوں کی اکثریت اسلام چاہ رہی ہے اور حکومت نہیں چاہ رہی تو چاہے   مظالم کے پہاڑ ہی  کیوں نہ توڑ دیے جائیں، جیسے شام میں ہو رہا ہے، لبرلوں کے کانوں پر جوں نہیں رینگے گی۔   ترکی میں جو کچھ ابھی ہو رہا ہے   وہ   اگر  آج سے پانچ سال پہلے ہوتا تو  شاید ترکی میں اردگان حکومت کا بھی  خاتمہ ہو چکا ہوتا۔  ان لوگوں کے خیال سے مذہب کی جگہ سیاست نہیں ہے، حکومت نہیں ہے،  معیشت نہیں ہے،  بلکہ معاشرت بھی نہیں ہے، بس مذہب  ایک انفرادی شے ہے ! اب یہ ان کو کون سمجھائے کہ  ؏ جدا ہو دین سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی۔ فرد سے ہی سیاست ہے، فرد سے ہی  حکومت، اسی سے معیشت اور اسی سے معاشرت۔ تو سیدھے سبھاؤ فرد کو ہی کیوں نہیں نکال دیتے  باہر؟

کیا اب بھی کسی کی سمجھ میں نہیں آیا کہ اسلام پسندوں پر عرصہ حیات تنگ کردینے کی آخر وجہ کیا ہے؟ اس چیز کو دیکھنے کے لیے کوئی عقابی نگاہیں نہیں چاہییں کہ مصری فوج نے مرسی سے اقتدار چھیننے سے پہلے ہی  غزہ کی سرنگیں بند کرنے کا کام شروع کر دیا تھا۔  اقتدار میں آنے کے بعد اخوان کے ہمدرد  چار چینل بند کر دیئے گئے۔  الاخوان المسلمون کے دھرنے پر فائرنگ کی گئی جس کے نتیجے میں  تیس سے اوپر لوگ شہید اور سو تک زخمی ہو گئے۔  اس پر نہ کوئی جمہوری روایت  پامال ہوئی نہ انسانی حقوق، کیونکہ  جمہوری روایات کے امین  تو صرف سیکولر ہیں، اور انسانی حقوق کے علمبردار صرف لبرل۔ مصر میں تو خیر براہ راست امریکی ( یعنی صیہونی) مفادات پر  زک پڑ رہی تھی  اس لیے وہاں  تو  انگریزی ترکیب کے مطابق یہ  ‘کب؟’ کا معاملہ تھا ‘اگر’ کا نہیں-  لیکن باقی دنیا میں کیا ہو رہا ہے؟   یورپ میں عورتوں کو  زبردستی بے پردہ کیا جا رہا ہے۔  حجاب پہنی ہوئی عورت کو بھری عدالت میں قتل کر دیا جاتا ہے۔  داڑھی والوں کو ائرپورٹ پر  لائن سے نکال کر تلاشی لی جاتی ہے۔  پکڑا جانے والا اگر فیصل شہزاد ہو ( صحیح یا غلط کی  بات نہیں) تو  وہ تمام مسلمانوں کا  نمائندہ ، اسلام دہشت گردوں کا مذہب اور تمام مسلمانوں کے لیے  شرمندہ نظر آنا لازمی۔  لاکھوں کے قتل کا  متحرک  ہٹلر، ہزاروں کے خون کا ذمہ دار سلوبودان میلاسووچ،  درجنوں کو اپنے  دو ہاتھوں سے مارنے والا اینڈرز بریوک  مگر عیسائیوں  کا  نمائندہ نہیں، یہ ان کا ذاتی فعل ہے جس کی  کسی عیسائی کو صفائی پیش کرنے کی بھی ضرورت نہیں۔ پھر ہمارے اپنے معاشروں میں اسلام پسند جس تضحیک کا نشانہ بنتے ہیں وہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔  جس نے داڑھی رکھ لی وہ منہ چھپا کر پھر رہا ہے اور جو  رات کو  ڈانس پارٹی سے ہو کے آیا ہے اس  کی فیس بک پروفائل پر likes ہی likes ۔  جہاں باپ  نے کسی دینی اجتماع میں جانا شروع کیا بچوں کے منہ لٹکنے شروع ہو گئے۔  انصار عباسی اور اوریا مقبول جان جیسے  کالم نویس   لبرل طبقہ کی ہنسی کا براہ راست نشانہ بنتے ہیں۔

  یہ کیا ہے؟  یہ  دراصل وہ فطری ترتیب  ہے جس پر اللہ نے انسانوں کو پیدا کیا ہے۔  دنیا میں ازل سے ابد تک  درحقیقت صرف دو ہی گروہ ہیں۔  ایک کا نام حزب اللہ، دوسرا حزب الشیاطین۔  فی الوقت  دنیا   چاہے یا  نہ چاہے اپنے آپ کو ان دو  گروہوں  میں تیزی سے تقسیم کر رہی ہے۔   جس کو ہم grey area  کہتے ہیں وہ  اب بہت کم رہ گیا ہے اور اس طرح کے اقدامات کر کے  یہ لادین طبقہ چاہ رہا ہے کہ  یہ تقسیم  بالکل واضح ہو جائے۔  اپنی دانست میں وہ  اپنی دنیا پکی کر رہے ہیں مگر در حقیقت اس سے بڑا خسارے کا سودا  کوئی انسان نہیں کر سکتا۔  و انتم لا تشعرون ! لیکن تم تو  سمجھ ہی نہیں رکھتے! کسی سیکولر سے مگر اور توقع کیا کی جا سکتی ہے، اس کا ایمان دنیا میں ہے وہ اپنے ایمان  کے مطابق کام کر رہا ہے۔  مسئلہ تو ہمارا ہے، ان لوگوں کا جن کا دعوی ٰ تو یہ ہے کہ  ایمان ہمارا اللہ پر ہے، مگر عمل   اس دعوے کی نفی کرتا جا رہا ہے۔ عشق رسولؐ کے مدعی بھی ہیں ، نعت خواں، حافظ بھی ہیں مگر صبح اٹھتے ہی  سب سے پہلے اپنے چہرے سے سنت نبویؐ  کو کھرچ کر  کچھ تو کچرے میں ڈال دیتے ہیں اور کچھ سیدھا گٹر میں بہا دیتے ہیں۔  خواتین صحابیات  مبشرات   ؓ  کی مثالیں  دیتی ہیں مگر انہی کے اصرار پر مرد حرام کماتے ہیں۔  سود پر ہماری معیشت کی بنیاد ہی نہیں ہے، یہ اس  کی جان ہے، ہمارے  نئے نویلے   وزیر خزانہ صاحب نے  تو اس بجٹ میں  انٹرسٹ کا لفظ ہی استعمال نہیں کیا، سیدھا شرح سود کی بات کی۔  تو ہم تو خود اپنے عمل سے ثابت کر رہے ہیں  کہ اسلام فی زمانہ کوئی قابل عمل  چیز نہیں، نہ  انفرادی زندگی میں ، نہ اجتماعی زندگی میں۔ تو   اگر ڈیوڈ بروکس یہ کہہ دیتا ہے کہ  ‘نا اہلی  دراصل بنیاد پرست اسلام  کے   دانشورانہ  DNA  میں  رچی بسی ہوئی ہے’ تو  اس نے  کیا غلط کہہ  دیا ؟

مصر کے حالیہ  واقعات نے  اگر کم از کم بھی یہ کر دیا کہ ہمارے  لوگوں کی  آنکھوں سے   غفلت  کی پٹی کھول دی تو یہ بہت بڑی بات ہو گی۔یہ بات کہ شدت پسندی دراصل اسلام پسند نہیں بلکہ سیکولر اور لبرل طبقہ کرتا ہے، اگر سمجھ آ گئی تو یہ ایک نہایت بڑی بات ہوگی۔ہمارا اشارہ ان لوگوں کی طرف نہیں ہے جو  صرف دینی مزاج کے لوگ نہیں یا جو نماز نہیں پڑھتے یا روزہ نہیں رکھتے۔ ہمارا اشارہ ان لوگوں کی طرف ہے جن کو ان سب کے ساتھ ساتھ   یہ  بھی برا لگتا ہے کہ  ہمارے کھلاڑی ‘ان شاء اللہ ‘ کیوں کہتے ہیں۔  ہمارے لوگ اب اللہ حافظ کیوں کہتے ہیں۔  رمضان کو Ramadan کیوں بولا جا رہا ہے۔   ان میں سے اکثر وہ لوگ ہیں جو اپنے ‘حق’ کو پانے کے لیے جھوٹ کا سہارا لینے میں ذرا عار محسوس نہیں کرتے۔  یہی تو ڈیوڈ بروکس نے کہا ہے، ‘چاہے کسی طریقہ سے بھی بس  سیاسی اسلام کو  ہرا دو’۔ چاہیں تو ایک  جھوٹی ویڈیو چلا کر سوات کے امن  معاہدے کو پارہ پارہ کر دیں۔ چاہیں تو لال مسجد کے خلاف واویلا مچا کر وہاں آپریشن کرا دیں اور پھر ٹسوے بہائیں کہ یہ کیا کر دیا؟  چاہیں تو  صوفی محمد کے خلاف اسمبلی کے فرش پر چلا چلا کر ہاتھ ہلا ہلا کر   تقریریں کریں ۔  چاہیں تو فحاشی کے  بے محابا پھیلاؤ سے صاف مکر جائیں اور اسلام پسندوں پر ثقافتی دیوالیہ پن کی تہمت چسپاں کر دیں۔ یا  جیسے مصر میں ہوا کہ ایک  منتخب  جمہوری حکومت کو  اٹھا کر باہر پھینک دیں اور  اپنے  پیارے البرادعی کو   انتہائی  ‘جمہوری’ طریقے سے نگران حکومت کا حصہ بنوا دیں۔  یقین کریں ، ایسا لگتا ہے کہ یہ دن کو دن  اور رات کو رات بولتے ہیں تو  اس کے پیچھے ان کا مفاد ہوتا ہے۔

اس  سارے  منظر نامہ سے اگر ہم نے اتنا ہی سمجھ لیا تو یہ بھی کوئی معمولی فائدہ نہ ہو گا کہ  ان کی آزادی ہماری آزادی نہیں۔  ان کی شام  ہماری  شام نہیں ، اور ان کی سحر ،ہماری سحر نہیں ۔

 فاعتبرو۱ یا اولی الابصار۔

Advertisements

فحاشی کی ‘تعریف’ میں

Posted in Islam, Rants by baigsaab on September 4, 2012

دنیا کا کوئی ملک ایسا نہیں جہاں کسی نہ کسی وقت کوئی پالیسی بحث نہ چل رہی ہو ۔لیکن پاکستان ان ملکوں میں سے ہے جہاں پالیسی بحث حل یا عمل کے لیے نہیں ٹائم پاس اور تفریح کے لیے ہوتی ہے۔ اس وقت بھی ایک بحث چھڑی ہے۔ یہ نہیں کہ ‘خط’ لکھنا ہے کہ نہیں۔ یہ بھی نہیں کہ پانی سے گاڑی چلانے کے لیے کتنے وزیر چاہییں۔ اور یہ تو بالکل نہیں کہ جمہوریت کے ذریعے عوام سے بہترین انتقام لینے کے بعد اگلے 5 سال کیا کرنا ہے۔ وہ بحث جس کا ہم تذکرہ کر رہے ہیں وہ یہ ہے کہ ‘فحاشی’ کیا ہے؟ جی ہاں۔ فحاشی۔ جسے ہم عریانیت یا جنسیت یا بے ہودگی بھی کہہ سکتے ہیں۔ یہ بحث عدالت عظمیٰ کے حکم پر پیمرا … جو کہ ملک میں الیکٹرانک میڈیا کو کنٹرول کرنے کا ادارہ ہے… اور کچھ مذہبی اور سماجی دانشوروں کے درمیان جاری ہے۔ بحث کیوں ہوئی کیا ہوئی اور کچھ لوگوں کو میڈیا میں فحاشی کیوں نظر نہیں آتی یہ جاننے کے لیے ہم بچوّ بھائی کے پاس گئے۔ بچّو بھائی کون ہیں ۔ بس سمجھ لیں ‘گرو ‘ ہیں ۔ کیا چیز ہے جو انہوں نے نہیں دیکھی۔ اور ان معاملات میں ان کی ‘نظر’ بہت وسیع ہے۔ جب ہم بچوّ بھائی کے پاس پہنچے تو وہ کسی لبرل دانشور (جو کہ ہر لبرل ہوتا ہے) سے بات کر رہے تھے جن کو فحاشی نظر نہیں آرہی تھی ۔ بچوّ بھائی چاہتے تھے وہی انجیکشن قاضی صاحب کو بھی لگا دیں تاکہ یہ بحث ختم ہو۔ بچو بھائی کہہ رہے تھے۔

” جی تو میرے بھائی آپ مجھے وہ میڈیا دکھا دیں گےجس میں آپ کو کو ئی برائی نظر نہیں آتی؟ اچھا تو چلیں میرے گھر چلتے ہیں۔ بس یہ 5 منٹ کے راستے پر ہے گھر میرا۔۔ ارے رے سامنے دیکھئے بھائی کیا کر رہے ہیں؟ اوہ اچھا آپ وہ بورڈ دیکھنے لگ گئے تھے جس میں کوئی لباس خاتون میں سے جھانک رہا تھا۔ جی جی آپ کی نیت پر شک نہیں کر رہا توبہ کریں ۔ جی ویسے تو وہ بورڈ بھی آپ نے بہت غور سے دیکھا تھا جس میں موبائل نے لڑکی کے ساتھ تصویر کھنچوائی ہے ۔ ظاہر ہے ساری خوبیوں کو بغور دیکھنا پڑتا ہے، جی جی موبائل کی خوبیاں اور کیا۔ دیکھیے منہ تو بند کر لیں لوگ کہیں گے کبھی لڑکی نہیں دیکھی ۔ اچھا دیکھیں گھر آگیا۔

جی تو حضرت آپ نے وضو کر لیا؟ ارے وضو تو کریں اتنے پاک میڈیا کو بغیر وضو دیکھیں گے کیا؟ چلیں خیر لیکن یہ ‘آداب’ کے خلاف ہے۔سب سے پہلے خبروں کا چینل دیکھتے ہیں۔ یہ کیا؟ یہ لڑکی اتنا تیار ہو کے کیوں بیٹھی ہے کیا یہاں سے سیدھا اپنی شادی میں جا رہی ہے؟ اچھا معذرت ہم تو خبریں دیکھ رہے تھے لڑکی کے تیار ہونے میں تو کوئی فحاشی نہیں۔ خیر تو یہ تو کچھ ضروری خبر لگ رہی ہے۔ اچھا وزیر اعظم کو خط لکھنا پڑے گا؟ لیکن یہ ساتھ میں گانا کیوں ہے؟ اوہ اچھا خبر کا اثر زیادہ ہوتا ہے۔ اور یہ لڑکی کے چہرے اور آستینوں کا رنگ ایک کیوں ہے؟ او ہ اچھا آستینیں ہیں ہی نہیں ۔ ہاں لیکن یہ تو فحاشی نہیں انڈین گانا تھا نا وہاں تو ہر گھر میں ایک کرینہ کپور ہوتی ہے۔ آئیں دعا کریں ان کافروں کواللہ ہدایت دے دے۔ اچھا تو اشتہار آگئے۔ یہ فون کے ساتھ بندہ بھی وائبریشن پر ہے کیا؟ فون ڈانس کر کے کیوں بیچ رہے ہیں ؟ اور یہ لڑکی کی پیٹھ کیوں برہنہ ہے سردی لگ جائے گی بھئی۔ اچھا کم کپڑوں میں سگنل اچھے آتے ہوں گے۔ یہ کھانسی کا شربت ہے۔ اشتہار دیکھ کرپتہ لگ رہا ہے کھانسی ہوئی کیوں تھی۔ تھوڑا فاصلہ رکھنا چاہیے تھا۔ اور یہ چپل بغیر گانا گائے نہیں بیچ سکتے؟ آپ نے آج تک کسی کو صرف چپل کی وجہ سے اتنا خوش ہوتے دیکھا ہے؟ ویسے یہ تینوں لڑکیاں اگر یہ سمجھ رہی ہیں کہ چپل کپڑوں کی کمی کو پورا کر دے گی تو یہ ان کی غلط فہمی ہے۔ یہ بھی ٖفحاشی نہیں؟ چلیں پھر کوئی ڈرامہ دیکھ لیتے ہیں۔ یہ اچھا ڈرامہ لگ رہا ہے۔ میاں بیوی بات کر رہے ہیں۔ ٍ یہ تو رومینٹک ہو گئے۔ اچھا کمرے میں تو کوئی نہیں ہے ظاہر ہے کیمرہ مین تو کیمرہ کے پیچھے ہے اور میاں بیوی ہی تو ہیں ایک دوسرے کے نہیں تو کیا ہوا کسی نہ کسی کے تو ہیں۔ یہ دو کون ہیں؟ اچھا پریمی ہیں۔ ایک دوسرے سے پیار کرتے ہیں۔ ہاتھ میں ہاتھ ہی تو لیا ہے کوئی آگے تو نہیں بڑھے نا۔ ارے یہ تو آگے بڑھ گیا۔ فحاشی لیکن یہ بھی نہیں معاشرہ میں یہی کچھ تو ہورہا ہوگا۔ چلیں دوسرا ڈرامہ دیکھتے ہیں۔ یہ ڈرامہ بھی مشہور ہے اس میں معاشرے کی سب سے ضروری چیز کے بارے میں آواز اٹھائی گئی ہے۔ جی جی طوائف کے بارے میں۔ ارے یہ ڈائیلاگ سن کے آپ کے کان لال ہو گئے؟ اچھا گرمی زیادہ ہے۔ ڈائیلاگ تو کرارا تھا ویسے۔ اور یہ اس آدمی نے پانی میں کیا ملایا بھلا؟ اچھا شراب ہے۔ ہم سمجھے کوئی حرام شے ہے۔ یہ بھی فحاشی نہیں؟ چلیں اسپورٹس دیکھ لیتے ہیں ۔ آئی پی ایل چل رہا ہے نا آج کل ۔ واہ کیا زبردست بیٹنگ کر رہا ہے مزا آگیا۔ اور یہ چوکاااااا۔ ارے یہ لڑکیوں کو تو ہم سے زیادہ خوشی ہو گئی پورے اسٹیڈیم میں سب سے زیادہ یہی ڈانس کر رہی ہیں۔ کرکٹ کا اتنا شوق ہے بھئی واہ جی خوش کر دیا لڑکیو جہاں رہو سکھی رہو۔ جی بھائی تو آپ کو ابھی بھی کوئی فحاشی نہیں ملی؟ واقعی میں؟ شرفوبھئی ان کے خون کا سیمپل لے لو اور لیبارٹری میں دے دو۔ پانی والی گاڑی میں اسی میٹیریل کا ٹائر ڈا لیں گے کبھی پنکچر نہیں ہوگا دیکھنا۔ ابے بھاگا کہاں جا رہا ہے۔ دیکھ تو سہی صاحب کو درشن کر لے ان کے۔ ایسا ایمان ہے ان کا اسٹیل سے بھی مضبوط۔ اور ایک تو ہے ذرا سی بات پر تیرے ایمان کو خطرہ ہوجاتا ہے۔ یہ بھی بیٹا پاکستان کی اپنی ایجاد ہے پوری دنیا میں ایسا میٹیریل کہیں نہیں ملے گا۔ تجھے بھی غیرت کا ہیضہ رہتا ہے نا سیکھ کچھ ان سے سیکھ!”

یوسفی صاحب کہتے ہیں کہ جب کیلے کے چھلکے پر پاؤں پڑ جائے تو سنبھلنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے، اس پھسلنے کو انجوائے کرنا چاہیے۔ بس یہ قطعہ وہ چھلکا سمجھ لیں۔ ایک بڑے امریکی اخبار کے ایڈیٹر نے ایک دفعہ کہا تھا کہ دنیا کا ہر مضمون نگار صرف اور صرف ایک وجہ سے لکھتا ہے۔ غصہ!

آج سے 30 سال پہلے اگر متوسط طبقے کا ایک پاکستانی گھرانہ کوئی پروگرام ٹی وی پر دیکھ رہا ہوتا تھا تو اس کو کم از کم دو باتوں کی فکر بالکل نہیں ہوتی تھی ۔ ایک چینل تبدیل کرنے کی (کہ ملک میں تھا ہی ایک چینل، کچھ شوقین دور درشن دیکھتے تھے لیکن کافی پاپڑ بیلنے کے بعد)، اور دوسری فکر کوئی ایسا منظر ٹی وی پر آجانے کی کہ جس کو دیکھنے کے لیے ماں باپ بچوں کو پانی لینے بھیج دیں۔ اس زمانے میں عموماً گھروں میں وی سی آر مانگ کر یا کرایہ پر لایا جاتا تھا۔ انڈین فلم چلتی تھی اور سب گھر والے اور دوسرے رشتہ دار بھی آتے تھے اور سب کے بیچ میں یہ وی سی آر چلتا تھا۔ ان فلموں میں جو گانے وانے اور دیگر خرافات ہوتے تھے وہ تو بڑھا دیئے جاتے تھے ۔ ‘بد تمیزیاں’ زیادہ ہونے کی صورت میں ‘ وی سی آر مینیجر ‘ کی پٹائی بھی ہوسکتی تھی۔ یہ کوئی انتہا پسند گھرانے نہیں تھے۔ یہ وہ زمانہ تھا کہ شرفاء کے گھروں میں شوہر کا اپنی بیوی کا ہاتھ لوگوں کے سامنے پکڑ لینا ایک شدید معیوب بات سمجھی جاتی تھی اور گھر کا کوئی بڑا بوڑھا فوراً ہی اس حرکت پر سرزنش کر دیا کرتا تھا۔ اس معصوم زمانے میں بھی کچھ لوگ تھے جو وی سی آر جیسی ‘بے ضرر’ چیز کو حرام مانتے تھے۔ یہ وہ مولوی ٹائپ لوگ تھے جو بیسویں صدی میں داخل ہوئے ہی نہیں بلکہ دروازے پر ہی کھڑے ہو گئے۔ ان لوگوں کو محافل میں بلانے کے لیے کافی اہتمام کرنا پڑتا تھا۔ جیسے کہ دعوت کا جلدی انعقاد کرنا اور ان کا جلد از جلد نکلنا یقینی بنانا تاکہ ‘اصل’ دعوت شروع کی جا سکے۔ وغیرہ وغیرہ۔ دوسری انتہا پر وہ ماڈرن طبقہ تھا جو مغرب کی طرف دیکھتا تھا۔ اس کے ہاں حدود و قیود کا تعین مغرب کی اقدار کی روشنی میں ہی کیا جاتا تھا۔

آج تیس سال بعد، وہ مولوی ٹائپ لوگ اکثر و بیشتر ابھی تک اپنی ‘ہٹ دھرمی’ پر قائم ہیں۔ ٹی وی کے بارے میں بالعموم وہ اپنا نظریہ تبدیل کر چکے ہیں لیکن حیاء اور شرم، بے ہودگی اور فحاشی کا معیار ابھی بھی ان کے ہاں شریعت اور علماء ہی بتاتے ہیں۔ دوسری طرف وہ مغرب زدہ طبقہ ہے جس کا قبلہ ابھی بھی مغرب ہی ہے۔ اس عرصے میں جیسے مغرب میں اخلاقیات تبدیل ہوئی ہیں ویسے ہی ان کے ہاں بھی ہوئی ہیں ۔ مغرب میں پچھلے 25 سال میں ہم جنسیت ایک قابل نفرین سے قابل تقلید شے میں تبدیل ہوئی تو ان کے ہاں درجنوں آل قوم لوط پیدا ہو گئے۔

تبدیلی اگر آئی ہے تو ان گھرانوں میں جہاں مذہبی پہرہ نسبتاً نرم تھا۔ آج تقریباً ہر گھر میں 100 سے زائد چینل ہیں۔ ہر طرح کا مواد انگوٹھے کی ایک جنبش سے دیکھا جا سکتا ہے۔ تیس سال پہلے جن مناظرپر وی سی آر مینیجر کی پٹائی ہو جاتی تھی آج تیس سال بعد وہ نہ صرف قابل قبول بلکہ قابل تحسین بھی ہیں۔ تیس سال پہلے کی انڈین ہیروئین کے کپڑے جن لوگوں کو مختصر لگتے تھے آج اپنی بچیوں کو شیلا اور منی بنے دیکھ کر پھولے نہیں سما رہے۔ تیس سال پہلے شوہر اپنی بیوی کا ہاتھ نہیں پکڑ سکتا تھا۔ اب جب تک میاں بیوی اپنی کوئی ایسی تصویر فیس بک پر نہ لگا دیں جس میں دونوں کے درمیان ہوا بھی نہ گزر سکے تب تک لوگ سمجھتے ہیں دونوں میں الفت نہیں۔ ہر وقت ہر جگہ پیار و محبت کا اظہار اپنی جگہ۔

یہ اتنی بڑی تبدیلی کیسے آئی؟ ویسے تو رینڈ کارپوریشن کی پاکستان پر تین رپورٹیں کافی ہیں اس کام کے لیے لیکن اگر ہم تھوڑا وسیع جائزہ لیں تو یہ تبدیلی صرف پاکستانی معاشرے میں نہیں آئی ہے۔ 1990 سے پہلے کی ہالی وڈ کی فلموں اور اب کی فلموں میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ جیسا ہم نے پہلے لکھا، ہم جنس پرستی 25 سال پہلے کے امریکی معاشرہ میں ایک معیوب ہی نہیں نہایت گھٹیا فعل سمجھی جاتی تھی۔ لیکن آج سے قریب 7 سال پہلے ‘بروک بیک ماؤنٹین ‘ نامی فلم کو تین آسکر ایوارڈ اور کئی نامزدگیاں دی گئیں ۔ فلم کا عنوان لواطت تھا۔ فلم کو اس قدر پذیرائی ملنے کی ایک بہت بڑی وجہ یہ تھی کہ امریکی میڈیا میں عام طور پر اور انٹرٹینمنٹ صحافت میں خاص طور پر ایک طویل عرصے سے ایسے لوگ داخل ہو رہے تھے جن کا یا تو جنسی رجحان اس طرف تھا یا وہ سستے پیسے اور شہرت کمانا چاہتے تھے۔ ان لوگوں نے باقاعدہ ایک مہم کے طور پر اس عمل کو لوگوں کی نظروں میں خوشنما یا کم از کم ناقابل نفرت بنا دیا ہے۔ اس تمام مہم کا منطقی انجام یہ ہے کہ اب ‘گے رائٹس’ امریکہ میں ایک زمینی حقیقت بن گئے ہیں۔ اب وہاں رہنے والے مسلمان بھی ان کو ایک عام شہری ہی سمجھنے پر مجبور ہیں۔ بس اپنے بچوں کو ان کی صحبت سے بچا نے کی کوشش کر تے ہوں گے کیونکہ کچھ اور تو وہ کر ہی نہیں سکتے۔ لواطت کی سزا قتل ہے یہ تو شاید ان کے حاشیہ خیال میں بھی نہیں آتا ہوگا۔ امریکہ کے مقبول ترین ٹی وی میزبان بشمول جان اسٹیورٹ کھلے عام اپنے پروگرام میں فحش مذاق کرتے ہیں۔ ایک صدارتی امیدوار ‘رک سینٹورم’ نے ہم جنس پرستوں کو ناراض کیا تو اس کے نام کو گوگل کرنے پر نہایت عجیب نتائج آنے شروع ہوگئے، اتنے عجیب کہ اس کی ‘گوگل پرابلم’ مشہور ہو گئی۔ اور نوبت بہ ایں جا رسید کہ ترقی یافتہ دنیا کے امام امریکہ کے پہلے صدرِ سیاہ فام نے کھلے عام، بلکہ بہت اہتمام کے ساتھ، اس بات کا اعتراف کر لیا ہے کہ ‘اسے ہم جنس پرستی پر کوئی خاص اعتراض نہیں ہے’۔ یہ احوال ہوا امریکی معاشرہ کا۔ اب پڑوسی ملک میں بھی دیکھ لیں۔ کیا آج کی ہندی فلمیں 20 سال پہلے کی ہندی فلموں سے کئی گنا زیادہ فحش نہیں ہیں؟ اب جن ہندی فلموں میں ‘آئٹم نمبر’ نہیں ہوتا وہ فلم فلم نہیں ہوتی۔ بڑے بڑے اداکاروں کو اس بات پر مجبور کر دیا گیا ہے کہ وہ فلم کو چلانے کے لیے اوچھی حرکتیں کریں ۔ کون سا ایسا نام ہے جس کو اپنی فلم میں ‘بولڈ’ سین نہ فلمانا پڑ رہا ہو۔ آپ کے خیال میں ہندوستان کے تمام ہیرو اچانک سے ‘ٹھرکی’ ہو گئے ہیں؟ جی نہیں یہ بھی اسی راستے کے راہی ہیں۔

اس تناظر میں اگر پاکستانی میڈیا کو دیکھیں تو یہاں بھی تبدیلی پچھلے 5-6 سالوں میں ہی آئی ہے۔ 2002 کے انتخابات کے وقت نئے پاکستانی چینلوں نے جو کار کردگی دکھائی تھی وہ اب ماضی کا ایک ورق ہے۔ اس وقت بہت کم ایسا مواد ان چینلوں پر چلتا تھا جس پر عامۃ الناس کو اعتراض ہو۔ اس وقت کی فوٹیج اگر یو ٹیوب پر مل جائے تو ادائیگی کا طریقہ اور انداز کافی حد تک سادہ ہوتا تھا۔ گو پی ٹی وی کے مقابلے میں بہت ‘آزاد’ تھا لیکن اگر آج کے مواد سے موازنہ کیا جائے تو فرق بہت واضح ہے۔ قصہ مختصر، اس وقت کا مواد اتنا قابل اعتراض نہیں تھا جتنا اب کا ہے۔ اب حالت یہ ہے کہ خود میڈیا میں موجود سنجیدہ حلقے چیخ اٹھے ہیں ۔ اوریا مقبول جان، طلعت حسین اور انصار عباسی وغیرہ ثقافتی یلغار یا بے حیائی کے خلاف اپنی اپنی آواز اٹھا رہے ہیں۔ اس کے نتیجے میں عدالت عظمیٰ نے پیمرا کو حکم دیا کہ تمام فحش مواد بند کر دے۔ پیمرا نے فحش کی تعریف سے لا علمی کا اظہار کیا اور یوں ہم اس مجلس تک پہنچ گئے جس میں ایک طرف قاضی حسین احمد، انصار عباسی، اوریا مقبول جان اور محمد حسین محنتی صاحب اور دوسری طرف پیمرا کے عہدیداران، ان کے چیئر مین ڈاکٹر عبدالجبار، جاوید جبار اور ڈاکٹر مہدی حسن وغیرہ بیٹھے ہیں۔ اس مجلس میں یہ لوگ کسی ایک تعریف پر نہیں پہنچ سکے ہیں۔ مذہبی طبقے کے نمائندہ اپنی تعریف لائے ہیں اور لبرل طبقے اپنی۔ لبرل طبقے کے نمائندہ جاوید جبار اور مہدی حسن کہتے ہیں کہ پاکستانی میڈیا میں کچھ بھی قابل اعتراض نہیں میڈیا اپنی ذمہ داری بخوبی ادا کر رہا ہے۔ قاضی حسین احمد کے مطابق چینل خبروں میں ناچ گانا دکھا کر اپنے مینڈیٹ کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔ نیز جرائم کی تصویر کشی بھی قابل مذمت ہے۔ لبرل سمجھتے ہیں کہ یہ مولوی حکومت کے ساتھ مل کر آزادی اظہار رائے پر ڈاکہ ڈال رہے ہیں۔ اور دوسرے طرف والے سمجھ رہے ہیں کہ یہ لوگ فحاشی کیا جانیں جو باپ اور بیٹا اکھٹے بیٹھ کر ہر طرح کا مشروب پیتے ہیں اور ہر طرح کی فلم دیکھتے ہیں۔ غرض جتنے منہ اتنی باتیں۔ لبرلوں کو مولویوں پر بھروسہ نہیں اور مولوی لبرلوں کی بات ماننے کو تیار نہیں۔

اس بات پر لیکن تقریباً سب کا اتفاق تھا کہ فحاشی کی تعریف متعین کرنا آسان کام نہیں۔ اگر ایک کی تعریف مانتے ہیں تو دوسرے کی تعریف میں سے نکل جاتے ہیں اور دوسرے کی مانتے ہیں تو تیسرے کی بات پوری نہیں ہوتی۔ کوئی ایسا طریقہ نہیں سمجھ آرہا جس میں گھوڑے کی ٹانگیں بھی نہ کٹیں ، دولہا کی پگڑی بھی نہ اتاری جائے اور بارات دروازے سے اندر داخل ہوجائے۔اصل میں اس طرح کے معاملات کو طے کرنے کا پوری دنیا میں ایک نظام ہوتا ہے۔ عموماً پارلیمان میں ایسے مسائل کو حل کیا جاتا ہے۔ ورنہ کوئی اور اعلیٰ اختیاراتی ادارہ ایسے کاموں کو بغیر کسی رکاوٹ کے انجام دیتا ہے۔ پاکستان میں ظاہر ہے آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے تو ہر بحث اسی طرح چوراہے میں آتی ہے اور آزادی معلومات کے نام پر حساس معاملات پر بحث کھلے عام ہوتی ہے ۔ قاضی صاحب نے ایک تعریف یہ بیان کی جو مواد گھر والوں کے ساتھ بیٹھ کر نہ دیکھا جا سکے وہ فحش ہے۔ ان کے سامنے شاید اپنے گھر والے ہونگے کیونکہ ماشاءاللہ ان کے گھر میں شرعی پردہ نافذ ہے ورنہ ہم نے تو وہ گھرانے بھی دیکھے ہیں جہاں پانی کے گلاس میں پانی نہیں پی سکتے کہ نہ جانے شراب پینے کے بعد اس کو دھویا بھی گیا تھا کہ نہیں۔ سمیحہ راحیل قاضی صاحبہ نے ایک پروگرام میں کہا کہ پاکستان کی 95 فیصد عوام ان کے ساتھ ہے۔ ہمارا التماس ہے کہ اس بنیاد پر کوئی بھی قدم اٹھانے سے پہلے بندے گن ضرور لیں۔ یہاں تو لوگوں کو سب سے زیادہ افسوس ان کے پسندیدہ سنگر کے ‘انڈین آئڈل ‘ میں ہارنے کا ہوتا ہے۔ مسجد سے عشاء کی نماز پڑھ کر آنے والے انکل مہندی میں جا کر اپنی بہو کو رقص کرتے دیکھ کر بہت محظوظ ہوتے ہیں بلکہ بری ‘پرفارمنس’ پر ناراض بھی ہوتے ہیں۔ بیٹی اگر پردہ شروع کر دے تو ماں اور خاندان والے اس کو دسیوں باتیں سناتے ہیں کہ ‘شادی کیسے ہوگی؟ لوگ کیا کہیں گے ‘۔ لڑکا داڑھی رکھ لے تو پریشانی۔ اعتکاف میں بیٹھ جائے تو گھر میں کہرام۔ یہ ایک متوسط طبقے کے گھر کی بات ہے جہاں کے مرد و زن نماز بھی پڑھتے ہیں اور گانے بھی سنتے ہیں یعنی اللہ کا کلام بھی اور شیطان کا بھی۔ اسی زمانے میں ہم نے دیکھا کہ جس دل میں عمر فاروق ؓ کی محبت ہوتی ہے وہیں شاہ رخ خان کی محبت کو بھی رکھ لیا جاتا ہے بغیر کسی خلش کے۔ نعت خواں اور غزل خواں کا فرق بھی کچھ واضح نہیں ۔ اسلامیات پڑھانے والے لوگوں کو اس بات پر افسوس کرتے دیکھا ہے کہ ‘پاکستانی فلموں میں ڈانس کے اسٹیپس ہی آپس میں نہیں ملتے’۔ نوجوان لڑکوں لڑکیوں کا فیس بک دیکھیں تو ایک ہی صفحے پر آپ کو درود کے فضائل بھی ملیں گے اور نئی انڈین فلم کے بھی۔ ایسے اگر 100 فیصد بھی آپ کے ساتھ ہوں گے نا تو بھی کم ہیں۔

یہ معاملہ اتنا سنجیدہ اور دین کی اتنی بنیادی اساس کے اوپر ضرب لگا رہا ہے کہ اس کے اوپر چپ رہنا اپنی شامت اعمال کو دعوت دینا ہے۔ اللہ کے نبی ؐ نے 14 صدیوں پہلے فرما دیا تھا ‘جب تم حیا نہ کرو تو جو چاہو کرو’۔ انہوں نے بےحیائی سے رکنے کو کہا تھا۔ ہمارے یہ دین بیزار لوگ اس کو اجازت سمجھ لیتے ہیں۔ فحاشی کسے کہتے ہیں یہ آپ کو وہ بچہ بھی بتا سکتا ہے جو گھر میں ریموٹ ہاتھ میں لے کر بیٹھا اپنا کارٹون دیکھ رہا ہوتا ہے اور کسی عجیب اشتہار کے آنے پر ادھر ادھر دیکھنے لگتا ہے۔ فحاشی کی تعریف پوچھنا ویسا ہی ہے جیسا بنی اسرائیل نے گائے کے ذبح کرنے پر حضرت موسیٰ ؑ سے معاملہ کیا تھا- کبھی رنگ پوچھا کبھی عمر، کبھی کام پوچھا کبھی کچھ ۔ کہتے تھے ‘اس گائے نے تو ہمیں شبہے میں ڈال دیا ہے’۔ غرض ۔ جتنے سوال کیے خود پھنستے گئے۔ یہ لوگ چاہتے ہیں کہ پاکستان کو ہندوستان کی نقالی پر لگا دیں لیکن ہندوستان تو خود امریکہ کی نقالی میں لگا ہوا ہے۔ یعنی اصل میں ہمارا سفر بھی ان کے مطابق ہم جنس پرستوں کی حکومت ہے کہ ایک دن اسلامی جمہوریہ پاکستان کا سربراہ ایک ٹی وی پروگرام میں یہ اعلان کر دے کہ ‘اسے ہم جنس پرستی پر کوئی اعتراض نہیں’۔ قوم لوط پر ایک فرد جرم یہ بھی تھی کہ وہ محافل میں کھلم کھلا فحش حرکات کرتے تھے۔کیا اللہ کے نبی ؐ نے کہہ نہیں دیا کہ مجاہرہ (کھلم کھلا فحش حرکات کرنا یا پوشیدہ حرکات کا اعلان کرنا ) کرنے والوں کی معافی نہیں۔ کیا گھر گھر میں چلتے یہ ڈانس شوز ، یہ ڈراموں میں بے ہودہ ڈائیلاگ، یہ کھلم کھلا شراب کا استعمال اور ترغیب، یہ میاں بیوی کا کردار کرنے والے اصلاً نامحرم مرد و عورت کا بے ہودہ مساس، یہ سائن بورڈز پر بڑی شان سے آویزاں عریانیت کی تصاویر۔ کیا یہ فحاشی کا کھلم کھلا ارتکاب نہیں؟ کیا یہ سب مجاہرہ نہیں؟ کیا بچوّ بھائی کی طرح ایک ایک چیز پوچھنی پڑے گی کہ کیا بھی فحاشی نہیں؟کیا یہ بھی نہیں؟ یہ لوگ کہتے ہیں ریموٹ آپ کے ہاتھ میں ہےتبدیل کردو چینل۔ جی ضرور تبدیل کر دیں گے۔ معاشرہ کے سنجیدہ طبقات میں اس وقت اس بڑھتی ہوئی فحاشی کے خلاف ایک لاوا پک رہاہے۔ یہ لاوا کبھی پھٹ پڑا تو چینل تو کیا بہت کچھ تبدیل ہو جائے گا۔ ان مغرب زدہ لوگوں کو اپنی یہ حماقت ان شاء اللہ بہت مہنگی پڑے گی۔ کیوں کہ فحاشی کی تعریف متعین کرنے کا یہ اونٹ اگر کسی غلط کروٹ بیٹھ گیا تو اس کے نیچے ان سمیت بہت کچھ دب سکتا ہے ۔ 

Homeschooling: Why and How!

Posted in Social revolution by baigsaab on March 1, 2011

Pakistani ExPats are ashamed but not for reasons they should be!

Posted in Social revolution by baigsaab on May 14, 2010

“Think of the press as a great keyboard on which the government can play.”, so said the same Joseph Goebbels who’s linked to the famous quote “If you tell a lie big enough and keep repeating it, people will eventually come to believe it”.

Despite West’s claim of despising the Nazis, they’ve fondly adopted the standards set by Hitler’s propaganda machine, and they’ve improved it to near perfection. Over the course of the last decade, the western media have trumpeted with untiring consistency a claim that has now taken its root in the minds of not only the general public in the west, but also the victims of that claim!

The claim? “Muslims are terrorists”… Ok not all Muslims are terrorists, but those that we call are definitely them, so say the west. This lie has been repeated with such focused concentration and in so many different formats and versions – through movies, news, novels, social media- that it is now accepted as fact. So much so that whenever a new terrorism incident takes place, Muslims, especially Pakistanis, are the first to condemn it and after finding out the accused was indeed a Muslim brother or sister, start alienating him from the global Muslim brotherhood. In essence, before the trial is even begun, the accused is convicted by his own people and actual case proceedings remain only a formality!

This behavior is most evident in the recent case of Faisal Shahzad, the Time Square bombing “suspect”. Ever since it was reported that he could be the major hand in plotting probably the biggest car bomb in recent history, internet was exploded with apologies from Pakistanis across the globe. Pakistan’s most watched channel was angry that this person has brought shame to the entire Pakistani nation and his own family. Most of the blogs and their commenters rued the fact that he threw away his carefully built “American Dream” just like that. Pakistani ex-patriots feared even more strict vigilance over them, while believing this “fanatic should be jailed for life”. All in all, their verdict is, guilty as charged!

However, one felt there’s something missing from this whole story, the other side of course! Even though Faisal Shahzad can now boast a wikipedia page , that’s probably not for reasons he’d have liked himself. That page is full of stories mentioning different facets of the case- some claiming he dumped his documents in the home he had abandoned quite a while ago- but they didn’t, even for a single line, give a piece of what Faisal Shahzad says. It’s totally one sided. And to put it mildly, that stinks! But somehow this fact is missed by all involved. There has been absolutely no access to him by our government or by other Pakistani coummunity members, at least not publicly available.

The report that his documents were found from his “abandoned” house is so ridiculous that it shouldn’t have made it to the press in the first place. What would a person, allegedly looking to bomb his way into FBI’s most wanted list, be doing in his old house is beyond logic and beats a level headed reader. Other claims are that he had gone to his birthplace Peshawar on his recent visit ; started wearing all blacks and remaining serious while stealthily walking across his backyard, that’s neighbor’s reports, he was seen posing on Times Square was also a claim. That his documents had cards from someone wishing him well were also pertinent for some reports. Huffington post even attempted to sneak into his Facebook profile only to put the blame on another Faisal Shahzad. Such is the state of electronic media and citizen blogs. Whatever happened in Pakistan is another matter.

When I asked a few Ex-Patriots, their opinion was that it’s an open and shut case – he plotted a crime, failed, got arrested, gave up his rights and admitted! I was amazed, appalled really to see how much faith they have in “their” media and government is saying, otherwise any Pakistani knows how people can be made to confess under duress. Besides, in most laws, confessions under custody weigh nothing unless they’re given in front of legal authority. If an accused declines to testify on his confession it may be called a mistrial.

I invite you to put yourself in Faisal’s shoes. You’re an average Pakistani living in the US trying to consolidate your career there. You’re very apprehensive of any indication of extremism from any of your acquaintances. You try to live by the sidelines. You’re boarding a flight to Pakistan; suddenly you get arrested, finding you’re on TV across the world. Authorities give you two choices, confess the crimes handed to you and face some years in Guantanamo Bay Prison or get ready for trial find yourself guilty as charged and still go to Gitmo facing life sentence. You’ve heard of water boarding, you’ve heard of electric shocks, you’ve heard of stories of blood hounds in Abu ghuraib jail. You’re an innocuous, in fact scared, person. You’re left with no choice but to admit the crimes which you didn’t hear before that day. Under duress, any scared person would do what he did.

For most people my theory would seem laughable but Dr Shirin Mazari also smells a rat in this whole story. I don’t trust American justice system and for good reason. It’s discriminatory! It has been discriminating on grounds of race, religion and color. This is not a matter of today, it’s been happening since the first day an Italian set foot on this soil. America bombs more Pakistani civilians daily in drone attacks then it has lost soldiers in Afghanistan. Pakistani blood, Muslim blood is so cheap that even thousand Muslims don’t equate an American life. Is that justice? My apologies to US lovers but any country who had laws legalizing lynching only 50 years ago and has killed more people than Hitler and Halaku combined has to do a lot more than just lip service to gain Muslim’s confidence.

Lastly, Pakistanis living in America shouldn’t be ashamed of Faisal. They should be ashamed of themselves. Their brothers and sisters, fellow compatriots are facing one-sided trials in front of their own eyes. Faisal Shahzad and Dr Afia are only two of hundreds detained in Gitmo without proper trials. Still, Pakistanis in general are happy to live their lives with the convenience of their families, fearing any voice against these cases might land them into trouble. What’s shameful is this behavior, not getting framed by corrupt authorities. It’s their pathetic submission to this unjust system that has led the Americans to believe that all Pakistanis would give up their rights if paid enough. They’re feeling shame alright, but one feels it’s for all the wrong reasons!

For those who ponder

Posted in Islam, Social revolution by baigsaab on April 21, 2010

The modern age is the age of professionalism. This is the age when being workaholic is not a disorder but a demand. People now cannot tend to their most basic needs because they haven’t the time to do so. Being ahead from their peers in the rat race remains the ultimate desire of every individual. So much so that to be ahead in life they forsake their basic rights, right to be happy, right to be content, right to be with the family, right to be religious etc. Today’s civilization seems like a giant web which has tied us in invisible strings where we’re supposed to do only three things: Go to work, go home, and prepare to go to work. Even our recreations are a way of supplementing this schedule.

But there are times, when destiny laughs in our face and makes us feel so helpless that we’re left wondering if we had any power all along. It’s at such times that our monotony comes to an abrupt halt. One such instance is when we’re witnessing the funeral of a loved one. At such a time, none of our “most important and most urgent” errands are so much as important as the grief of losing our loved ones. Work can wait then, because we’ve humbly submitted to our destiny.

The same hand of destiny is currently holding an entire continent- who is the flag bearer of atheism in the world- in a state of paralysis. Europe’s air travel has come down to an absolute halt due to hot toxic ash oozing from a glacier.

(Boston Big Picture)

I couldn’t help but laugh at the remark from an acquaintance that “isn’t it ironic hot lava is coming from Iceland!” The volcano, Eyjafjallajökull (Pronounced something like Aiya-fjadla-yeugdul), is a veteran of centuries and since the time of its reawakening last week, has spewed enough fumes and toxic ash into the atmosphere to have spread over almost all Europe.
(BBC News)
That’s why all flights coming in and out of Europe have been seized, leaving hundreds of thousands of commuters stranded at airports, airlines incurring daily losses of over 200 Million USD for accommodating customers, even Germany’s Chancellor has had to make her trip back home from Italy via car. Those who could afford are opting for the Intra-Continent train system, and some have opted for the fairy, converting one industry’s misery into another’s pleasure. The majority of people are those who are left stranded. People who were supposed to be on urgent assignments abroad have had to realign their schedule, they couldn’t have done otherwise. No matter how badly the airlines and the passengers want these flights to take off, conditions are absolutely not favorable for flight and there is high risk of plain crashes with ash blocking the engines. Worse, the glacier is still exhuming its contents and there’s a fair chance it could continue to do so for a month or even more. Worst, it could trigger other volcanoes which are somehow quite abundant in Iceland.

Our businesses run on the premise of predictability. We hope that the world wouldn’t come to end tomorrow. That’s why we leave our loved ones behind everyday to work because we believe that we’ll come back in the evening to see them again. This predictability comes from the laws that ALLAH (swt) has embedded in the universe: law of gravitation, law of entropy, law of aerodynamics, law of surface tension, law of aging etc. ALLAH (swt) declares this tranquility in the Quran as one of His Ayaat.
In Surah Faatir it is mentioned:

إِنَّ اللَّهَ يُمْسِكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ أَن تَزُولَا ۚ وَلَئِن زَالَتَا إِنْ أَمْسَكَهُمَا مِنْ أَحَدٍ مِّن بَعْدِهِ ۚ إِنَّهُ كَانَ حَلِيمًا غَفُورًا

خدا ہی آسمانوں اور زمین کو تھامے رکھتا ہے کہ ٹل نہ جائیں۔ اگر وہ ٹل جائیں تو خدا کے سوا کوئی ایسا نہیں جو ان کو تھام سکے۔ بےشک وہ بردبار (اور) بخشنے والا ہے

Lo! Allah graspeth the heavens and the earth that they deviate not, and if they were to deviate there is not one that could grasp them after Him. Lo! He is ever Clement, Forgiving. (41)

On another place it is mentioned in Surah Shoora:

إِن يَشَأ يُسكِنِ الرّيحَ فَيَظلَلنَ رَواكِدَ عَلىٰ ظَهرِهِ ۚ إِنَّ فى ذٰلِكَ لَءايٰتٍ لِكُلِّ صَبّارٍ شَكورٍ

اگر خدا چاہے تو ہوا کو ٹھیرا دے اور جہاز اس کی سطح پر کھڑے رہ جائیں۔ تمام صبر اور شکر کرنے والوں کے لئے ان (باتوں) میں قدرت خدا کے نمونے ہیں

If He will He calmeth the wind so that they keep still upon its surface – Lo! herein verily are signs for every steadfast grateful (heart). – (33)

In Surah Room it is mentioned:

وَمِن ءايٰتِهِ أَن يُرسِلَ الرِّياحَ مُبَشِّرٰتٍ وَلِيُذيقَكُم مِن رَحمَتِهِ وَلِتَجرِىَ الفُلكُ بِأَمرِهِ وَلِتَبتَغوا مِن فَضلِهِ وَلَعَلَّكُم تَشكُرونَ

اور اُسی کی نشانیوں میں سے ہے کہ ہواؤں کو بھیجتا ہے کہ خوشخبری دیتی ہیں تاکہ تم کو اپنی رحمت کے مزے چکھائے اور تاکہ اس کے حکم سے کشتیاں چلیں اور تاکہ اس کے فضل سے (روزی) طلب کرو عجب نہیں کہ تم شکر کرو

And of His signs is this: He sendeth herald winds to make you taste His mercy, and that the ships may sail at His command, and that ye may seek his favour, and that haply ye may be thankful. (46)

As it is clear from the above mentioned verses, the laws of nature, no matter how predictable, are subject to ALLAH (swt)’s will. It’s not just that the universe was created by ALLAH (swt) and triggered in a self-perpetuation state. No. ALLAH (swt) is well and truly at the helm of His eternal kingdom. Earthquakes, volcanic eruptions, tsunamis, cyclones, tremors, and epidemics like dengue fever, cholera and plague are not signs of chaos, but the exceptions that prove the rule. They are but just a way to remind human beings that they’re not left unanswerable and that they’re not indispensable. There were much mightier civilizations than the current one which have been swept clean from the face of this earth in such catastrophes. As if they never were.

For those affected by this current debacle, and for those who’re witnessing it happen, maybe ALLAH (swt) has given a chance to ponder in his Ayaat. We’ve got to take the time out of our busy schedules to look into ourselves and in the universe. Human being has become lonelier and lonelier but the solitude that lets us think about our Creator is still a rare commodity. We should relish this chance. Any calamity that makes us closer to our Lord is not a calamity, it’s a blessing. And smart and practical people grab blessings with both hands!

May ALLAH (swt) makes us one of his dear ones. Ameen

Quranic references from:

Quran Media Player

Quran Explorer

Tanzil.info