Baigsaab's Blog

نجات

Posted in Rants, Social revolution by baigsaab on May 21, 2009

ہر حکمران کی زندگی میں ایک ایسا لمحہ لازماً آتا ہے جب اسے یہ فیصلہ کرنا ہوتا ہے کہ وہ تاریخ میں کیا مقام چاہتا ہے۔ کسی ٹی وی ڈرامے کے بر عکس تاریخ میں کسی کردار سے مماثلت “محض اتفاق” نہیں ہوتی، بلکہ حکمران اس بات کا خود فیصلہ کرتا ہے کہ وہ صلاح الدین ایوبی بننا چاہتا ہے یا میر صادق، یوسف بن تاشفین بننا چاہتا ہے یا بہادر شاہ یا پھرسلطان ٹیپو بننا چاہتا ہے یا نظام دکن۔ اس تناظر میں اپنے حکمرانوں کا جائزہ لیں تو محسوس ہوتا یے کہ ان سب نے شاہ رنگیلا بننے کی قسم کھائی ہوئی ہے۔

مغل بادشاہ روشن اختر شاہ رنگیلا مغلیہ دور زوال میں اس وقت بادشاہ بنا جب بادشاہ لباس کی طرح تبدیل ہو رہے تھے۔ اپنے اقتدار کو طول دینے کے لئےہر قسم کے ہتھکنڈے تو اس نے استعمال کئے ہی، اس کے دور میں دربارمیں بے لباسی، شراب نوشی اور بے حیائی کو فروغ دیا گیا۔ اس کی حکمرانی دارالحکومت تک محدود تھی، یہ بھی کوئی انوکھی بات نہیں۔ جس بات نے اس کا نام تاریخ میں ہمیشہ کے لئے کالا کر دیا وہ کوئی اور بات تھی۔

 شاہ ایران نادر شاہ درانی نے ہندوستان پر حملہ کیا تو اس بھولے بادشاہ نے بھی مقابلہ کی ٹھانی۔ لیکن نتیجہ وہی ہوا کہ دو ڈھائی گھنٹے کی لڑائی کے بعد ہی بادشاہ نے ہتھیار ڈال دیے۔ اور تو اور، دلی تک نادر شاہ کو ایسکورٹ بھی کیا گیا جہاں اس نے بادشاہ کی رٹ کو خوب چیلنج کیا۔ قتل عام کیا اور بار بار کیا۔ اورجب گیا تو بادشاہ کاتخت اور قوم کی غیرت اورعزت دونوں ساتھ لے گیا۔ اس کے بعد بادشاہ کی زندگی مصلے پہ گذری یا شراب خانے میں، ہمیں غرض نہیں۔ ہمیں تو یہ دیکھنا ہے کہ ایسے حکمران ہمیں ہی کیوں ملتے ہیں؟اور ہم کیا کر سکتے ہیں کہ یہ سلسلہ اب بند ہو جائے۔

 وَكَذٰلِكَ نُوَلِّىۡ بَعۡضَ الظّٰلِمِيۡنَ بَعۡضًۢا بِمَا كَانُوۡا يَكۡسِبُوۡنَ(الانعام:129)

 اور اسی طرح ہم ظالموں کو ان کے اعمال کے سبب جو وہ کرتے تھے ایک دوسرے پر مسلط کر دیتے ہیں

 قرآن کا فتویٰ آپ نے پڑھ لیا؟ اب ذرا اپنے گریبان میں جھانک کر بھی دیکھ لیتے ہیں کہ ہم نے ایسا کیاقصور کیا ہےکہ جویہ لالچیوں کا ٹولہ ہم پر مسلط کر دیا گیا ہے؟

 اس حقیقت سے کوئی با شعور انسان انکار نہیں کر سکتا کہ ہمارا معاشرہ اس وقت گندگی کا ڈھیر ہے۔ پیار، اخوت،اعتبار، ایثار یہ سب چیزیں غائب اوروعدہ خلافی، بغض، کینہ، حسد اور ایسی ہی ساری بیماریاں ہمارے معاشرے میں عام ہیں۔ ہمارے ہی ہاتھوں ہمارے بھائی قتل ہوتے ہیں، ہم ہی انہیں دفناتے ہیں، اور پھر ہم بھی اپنے کسی بھائی کی گولی کا نشانہ بن جاتے ہیں۔ یہ سب کچھ ہمارے ارد گرد ہی ہو رہا ہے لیکن ہماری گفتگو کا اہم ترین موضوع ہے آئی پی ایل۔ یا پھر انڈین آئڈل یا کبھی منہ کا مزہ بدلنے کے لئےمہنگائی کی آڑمیں حکمرانوں کی نا اہلی کا رونا رو لیا۔ بس۔ ہم گندگی کے اس ڈھیر کا پاس سے ناک پر ہاتھ رکھ کر گذر جاتے ہیں لیکن یہ کوشش نہیں کرتے کہ یہ گندگی ختم ہو۔ کوشش کیا اس معاملے میں بات کرنا بھی حماقت سمجھتے ہیں کہ یہ تو حکومت کا کام ہے۔

 جبکہ ہم میں سے ہر ایک ذمہ دار ہے۔ ہم خود نہیں چاہتے کہ یہ نظام بدلے۔ بدل جائے گا تو پھر ہمارے نا جائز کام کیسے ھونگے؟َ ابھی تو رشوت سے ہر بند دروازہ کھل جاتا ہے، جھوٹ بول کے سزا سے بچ سکتے ہیں، جعلی کاغذات سےہزاروں ایکڑ زمین اپنے نام کروا سکتے ہیں، بجلی چوری کر سکتے ہیں، امتحان میں نقل کر کے پاس ہو سکتے ہیں،سڑک کے بیچوں بیچ شامیانہ لگا کر اپنی خوشیاں منا سکتے ہیں(چاہے کسی اور کو کتنی ہی تکلیف ہو) ۔یہ سب کر سکتے ہیں لیکن اگر کوئی عادل حکمران آگیا تو پھر یہ کام کیسے ہونگے؟

 ہم نے کتنی ہی چیزیں جانتے بوجھتے اللہ کے احکامات کی صریح خلاف ورزی میں کی ہیں؟ ہمارا پورا نظام سود پر چل رہا ہے۔ پردہ سب کو پتہ ہے کہ لازمی ہے، پتہ نہیں کس کا سرٹیفیکیٹ ہم سب کے پاس ہے جو ہم اپنی عورتوں کو یوں بے پردہ گھومنے دیتے ہیں، ہر جگہ ان کی تصاویر کی نمائش کرتے پھرتے ہیں کہ جس خبیث کی مرضی جیسے چاہے دیکھے انہیں۔ واضح حکم ہے اللہ کا ان دو چیزوں کے بارے میں۔ ہم کبھی قرآن کو میت اور سوئم کے علاوہ کہیں پڑھیں تودکھائی دے۔

 مومنو! خدا سے ڈرو اور اگر ایمان رکھتے ہو تو جتنا سود باقی رہ گیا ہے اس کوچھوڑ دو اگر ایسا نہ کرو گے تو خبردار ہوجاؤ (کہ تم) خدا اور رسول سے جنگ کرنے کے لئے (تیار ہوتے ہو) اور اگر توبہ کرلو گے (اور سود چھوڑ دو گے) تو تم کو اپنی اصل رقم لینے کا حق ہے جس میں نہ اوروں کانقصان اورنہ تمہارا نقصان(البقرۃ:279،280)

اے پیغمبر اپنی بیویوں اور بیٹیوں اور مسلمانوں کی عورتوں سے کہہ دو کہ (باہر نکلا کریں تو) اپنے (مونہوں) پر چادر لٹکا (کر گھونگھٹ نکال) لیا کریں۔ یہ امر ان کے لئے موجب شناخت (وامتیاز) ہوگا تو کوئی ان کو ایذا نہ دے گا۔ اور خدا بخشنے والا مہربان ہے(الاحزاب: 59)

 لاعلمی شاید قابل معافی ہے۔ شاید۔
بے عملی بھی شاید کسی طرح معاف ہو جائے۔
لیکن جانتے بوجھتے اللہ کے خلاف اعلان جنگ کرنا، یہ ہے وہ عمل جس نے ہمیں شدید ذلت اور رسوائی میں مبتلا کر رکھا ہے، اور ہمارے اوپر ایسے لوگ مسلط کر دئے گئے ہیں جن کو عزت دار گھروں میں کوئی رشتہ نہ ملے۔

 شاید ہم پر وہ وقت آگیا ہے جس کے بعد قوموں پر توبہ کا دروازہ بند ہو جاتا ہے۔ تاریخ سے ہمیں یہی سبق ملتا ہے۔ بغداد، غرناطہ، دلی، یہ سب ہماری ہی تاریخ ہیں۔ جب کہ ہم میں تو وہ خرابیاں بھی ہیں جن کی وجہ سے گذشتہ امتیں تباہ ہوئیں۔ توہم تو ان عذابوں کا بھی اپنے آپ کو مستحق ثابت کر چکے۔

 دیکھئے، تاریخ بہت سفاک ہوتی ہے، مصلحتیں عموماً تاریخ کے آئینے میں نہایت بدنما معلوم ہوتی ہیں۔ تو کل جب ہمارے بچے ہم سے یہ سوال کریں گے کہ پاکستان جل رہا تھا، آپ آگ بجھارہے تھے یا ہاتھ سینک ریے تھے؟ تو اپنے آپ کو ان تلخ سوالوں کا جواب دینے کے لئےجھوٹ ابھی سے تیار کر لیں۔ یا پھر آئیں اوراپنےبچوں سے فخر سے سچ بولنے کے لئے اپنا آج بدل ڈالیں۔

 اور اس دنیا کی تاریخ توشاید پھر کسی طوفان نوح میں بہہ جائے لیکن اللہ تو ہماری شہہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے۔ روز قیامت اس کو کیا جواب دیں گے ک اس کے دربار میں تو ابو جہل بھی جھوٹ نہ بول پائے گا۔

 تو طریقہ کیا ہے اس گندگی سے نجات پانے کا؟ طریقہ بہت آسان ہے!

 وَاعۡتَصِمُوۡا بِحَبۡلِ اللّٰهِ جَمِيۡعًا وَّلَا تَفَرَّقُوۡا‌(آل عمران: 102)

 اور سب مل کر الله کی رسی مضبوط پکڑو اور پھوٹ نہ ڈالو

 آئیے اپنے رب کے حضور توبہ کریں۔ توبہ کریں کہ وہ تو واقعی توبہ قبول کرنے والا ہے۔ اور توبہ کرنے والوں کوپسند کرتا ہے۔

 سرکشی نے کر دئے دھندلے نقوش بندگی

 آئو سجدے میں گریں لوح جبیں تازہ کریں

Advertisements