Baigsaab's Blog

کیا خوب قیامت کا ہے گویا کوئی دن اور؟

Posted in Islam, protest, Social revolution by baigsaab on July 13, 2014

میری بیٹی کو ہم سے جدا ہوئے ڈیڑھ سال ہو گئے ہیں۔ کوئی دن ان ڈیڑھ سالوں میں ایسا نہیں ہے جب ہم نے اس کا ذکر  نہ کیا ہو۔ وہ کیسے کھاتی تھی، کیسے مسکراتی تھی۔ فلاں کپڑوں میں کیسی لگتی تھی۔ آج بھی مجھے وہ لمحہ یاد ہے جب میں نے اس کو اپنے ہاتھوں سے قبر میں اتارا تھا۔ اور حالانکہ اس کی سانس بند ہوئے کئی گھنٹے گزر چکے تھے ، لیکن اس ایک آخری لمحے میں، ایک امید تھی کہ شاید وہ پھر سے جی اٹھے!  اس پورے عرصے میں ، سوائے ایک آدھ مضمون کے، میں نے  اس کا ذکر عام محافل میں اور فیس بک پر بہت کم کیا ہے۔ ابھی بھی نہ کرتا  لیکن کیا کروں کہ گزشتہ کئی روز سے میری نظروں کے سامنے متواتر، بار بار، ایک کے بعد ایک ، جویریہ جیسی کئی  ننھی ننھی جانیں اپنی جان سے گزر رہی ہیں۔  میں جب ان بچوں کی بے نور آنکھوں کو دیکھتا ہوں تو قسم ہے میرے رب کی،صبر اور ضبط کے بندھن ٹوٹ جاتے ہیں۔

اسرائیل  نے غزہ میں جو بربریت کی تاز ہ تاریخ رقم کی ہے،  اس میں اس کی ہٹ دھرمی کے ساتھ ساتھ ہم مسلمانوں کی بحیثیت امت صریح غلطی ہے۔رسول اللہؐ کی صحابہ کرام ؓ سے گفتگو پر مبنی ایک حدیث کا مفہوم ہے کہ  جب ہمارے دلوں میں دنیا کی محبت اور موت سے نفرت پیدا ہو جائے گی تو دنیا کی قومیں ہم پر ایسے ٹوٹ پڑیں گی اور ایک دوسرے کو ایسے دعوت دیں گی جیسے دستر خوان پہ چنا ہوا کھانا۔ آج سے پہلے اس حدیث کا مفہوم شاید اتنا سمجھ نہ آ پاتا ہو لیکن اس دور میں اور خصوصاً نو گیارہ کے بعد کی دنیا میں یہ بالکل صادق آتی ہے۔ سچ ہے وہ بات جو کہی ہمارے پیارے نبی ؐ نے، یہ دنیا کی محبت ہے اور موت سے نفرت۔

خدا کی قسم کوئی باپ اپنے بچے کو دفنانا نہیں چاہتا۔ خدا کی قسم کوئی ماں اپنے بچے سے جدا نہیں ہونا چاہتی۔  لیکن کیا کریں کہ اللہ کی حکمت کے آگے چاہے یا نا چاہے ، سب کو سر جھکانا ہی پڑتا ہے۔ مگر ان  بچوں کے، اور بڑوں کے،  خون کے ایک ایک قطرے کا حساب  ان شاء اللہ لے لیا جائے گا۔  ان 57 ا سلامی مملکتوں سے بھی جن کے حکمرانوں کو اللہ نے اقتدار کیا دیا  یہ اپنے تئیں خود خدا بن گئے۔ مگر حال یہ کہ عالمی طاقتوں کے  آگے بھیگی بلی ہی نہیں بلکہ کچھ تو ان کے شکاری کتوں کا کام کر رہے ہیں۔  ان حالات میں کیا کریں؟  اسرائیل کو روکنے والا لگتا ہے کوئی نہیں! یاد رکھیں، ظالم کو ظالم سمجھ کر اس کا ساتھ دینے والا ایمان سے نکل جاتا ہے، اور یہ بھی اسی ہستی ؐکا فرمان ہے جس سے محبت کے ہم دعوے تو پہاڑ جیسے کرتے ہیں لیکن عمل ایک پتھر سے زیادہ نہیں۔

مایوسی پھیلانا یقیناً غلط ہے۔ میں بھی مایوس نہیں ہوں لیکن پریشان ضرور ہوں۔غزہ میں اپنے ارد گرد مرتے لوگ دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے۔ بھوکے بچوں کو ایک روٹی کے لیے ہوٹلوں اور ریستورانوں پر دھکے کھاتے دیکھ کر افسوس ہوتا ہے۔ لوگوں کو اپنی محفلوں میں انڈین آئڈل ،ٹونٹی ٹونٹی کرکٹ ، گاڑی، بنگلہ، پیسہ، اس کے علاوہ کسی اور چیز پر بات نہ کرتے دیکھ کر افسوس ہوتا ہے۔ کبھی کبھار تو ایسا لگتا ہے کہ سب چلتے پھرتے مقبرے ہیں ۔

خدارا پلٹیں اپنے رب کی طرف، ہمارا رب ہم سے شاید خوش نہیں ہے۔ پلٹیں اس سے پہلے کہ ہمیں بھی ایک ایسا عذاب آ پکڑے کہ سنبھلنے کی نوبت ہی نہ آئے۔ استغفار ہی واحد راستہ ہے۔ استغفار ہی سے اللہ مانتا ہے۔ خدارا ظلم کے خلاف باہر نکلیں، خدارا ان معصوم لوگوں کے لیے دعا کریں۔ خدارا ان تمام  مصنوعات  کے بارے میں خود تحقیق کریں اور ان سے رفتہ رفتہ پیچھے چھڑا لیں جو ان بچوں کو مارنے کے لیے اسرائیل کو پیسہ فراہم کرتی ہیں۔ خدارا دعا کریں ۔ خدارا نکلیں۔  اپنے لیے نہیں تو اپنے بچوں کے لیے۔  اپنے نہیں تو ان بچوں کے لیے ہی نکل آئیں جن کی سرد لاشوں کو جب ان کے والدین مٹی کے سپرد کر رہے ہونگے تو شاید ان کے دل میں بھی وہی پاگل سی امید جاگی ہوگی کہ شاید یہ پھر سے جی اٹھیں!

ان سارے جزیروں کو کوئی کاش ملا دے

Posted in Islam, protest, Social revolution by baigsaab on July 15, 2013

کیا وقت ہے یہ بھی! ایسا لگتا ہے پوری دنیا میں اگر کہیں خون بہہ رہا ہے تو وہ مسلمان کا ہے۔ لگتا ہے زمین نے مسلمان خون کے علاوہ کچھ قبول کرنے سے انکار کر دیا ہو۔ وہ برما ہو یا فلسطین۔ شام ہو یا سوڈان۔ افغانستان، پاکستان، بنگلہ دیش ، بھارت، کاشغر، ہر جگہ مرنے والا کلمہ توحید کا ماننے والا۔ کہیں ریاستی جبر ہے تو کہیں بیرونی۔ پھر بھی تمام مسلمان حکومتیں ایک دوسرے کے حالات سے یا تو لا تعلق نظر آتی ہیں جیسے بنگلہ دیش افغانستان کے بارے میں یا پاکستان برما کے بارے میں ۔ یا وہ براہ راست اس ظلم کی مدد کر رہی ہیں، جیسے شام میں ایران اور حزب اللہ ۔ مصر کے حالات پر سعودی اور پاکستانی ہر دو قیادتیں خاموش۔

اس تقسیم کو اور علاقائی پیمانے پر لے آئیں اور محض پاکستان کا ذکر کریں تو یہاں بھی حالات دگرگوں ہیں۔ وزیرستان میں ڈرون حملے، کوئٹہ میں ہزارہ قبائل کی صورتحال، کراچی میں روز گرتی بظاہر بے نام لاشیں، پنجاب کی بند ہوتی صنعتیں، سندھ میں ونی کی گئی لڑکیاں ، بلتستان میں مرتے سیاح۔ پورے ملک میں ہوتے دھماکے۔ یہ بچوں کو کھانا کھلانے سے قاصر ،خودکشیاں کرتے اور ان کا علاج نہ کرا پانے کی خلش کے ساتھ زندہ رہنے والے ماں باپ ۔ قدم قدم پر چھوٹےچھوٹے کاموں کے لیے اہلکاروں کی مٹھی گرم کرنے کی مجبوری۔ ان میں سے ہر مسئلے کا ایک چیمپئن ہے۔ جس نے رشوت ستانی کا مسئلہ دیکھ لیا اس کے لیے قیدی چھڑانے والے کی جدوجہد لا حاصل، اور جو شہروں کے دھماکوں پر سراپا احتجاج ہے وہ ڈرون حملوں پر احتجاج کرنے والوں پر سراپا تنقید۔ جس نے سیاسی جدوجہد کا راستہ دیکھ لیا اس کے لیے دوسرے تمام طریقے بدعت اور جس نے اسلحہ اٹھا لیا اس کے لیے باقی سب طفل مکتب!

اس تفریق کا اور کسی پر اتنا منفی اثر نہیں ہوا جتنا مذہبی طبقہ پر۔ اس کی وجہ کیا ہے یہ ہم آگے دیکھتے ہیں ۔ فی الحال تو یہ دیکھ لیں کہ اوپر گنوائے گئے اور دیگر تمام مسائل کے ساتھ جب الیکشن ہوئے تو لوگوں نے اسلامی جماعتوں کو نہ صرف یہ کہ ان مسائل کے حل کے لیے اپنے اعتماد کے قابل نہیں سمجھا بلکہ ایک صوبے کے علاوہ ان کو اس دفعہ کہیں منہ بھی دکھانے کے قابل نہیں چھوڑا۔ پورے ملک کی ایک ہزار کے قریب صوبائی اور قومی اسمبلیوں کی نشستوں سے اسلامی جماعتوں کے ہاتھ کتنی آئیں؟ پندرہ فیصد؟دس فیصد؟ جی نہیں تین فیصد سے بھی کم یعنی بمشکل تیس سیٹیں۔

بات یہ ہے کہ اسلامی ،خاص طور پر اسلامی غیر سیاسی قوتوں کو واقعی اس بات کا ادراک ہوتا نظر نہیں آتا (یا وہ اظہار نہیں کرتے) کہ لوگوں میں ان کی جڑیں کتنی کمزور ہو چکی ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ مذہبی قائدین نے کسی خاص حکمت عملی کے تحت اپنے آپ کو ان حالات میں الگ تھلگ رکھا ہوا ہے۔ علماء زیادہ بہتر جانتے ہوں گے کہ اس کی وجہ کیا ہے اور اس کے لیے لازماً ان کے پاس دلائل ہوں گے ۔ اس سب کا نتیجہ یہ ہے کہ علماء اب معاشرے کی رہنمائی کے منصب سے دست کش ہو گئے ہیں۔ اس کے باوجود ایسا نہیں ہے کہ ہمارے دینی طبقے سکون میں ہیں۔ یہ آئے دن کی فرقہ وارانہ ہلاکتیں کیا علماء کی نہیں ہیں؟ کیا مولانا اسماعیل عالم نہیں تھے؟ کیا مفتی دین پوری صاحب کوئی غیر اہم شخصیت تھے۔ کیا مولانا اسلم شیخوپوری صاحب کوئی گزارے لائق مولوی تھے؟ پھر کیا گزشتہ رمضان کراچی کے سب سے بڑے دارالعلوم کا محاصرہ نہیں کر لیا گیا تھا؟ کیا گزشتہ رمضان میں ہی معتکفین کو مسجد میں گھس کر نہیں مارا گیا؟ کیا آئے دن مدارس کو زیادہ سے زیادہ حکومتی کنٹرول میں لیے جانے کی باتیں نہیں ہور ہیں؟ اس سب کے بعد جب کراچی کے صف اول کے علماء میں سے ایک عالم ، جن کے اپنے مدرسے کے اساتذہ اور طلبہ حالیہ مہینوں میں شہید کیے جا چکے ہیں، ملک کے نو منتخب وزیر اعظم کو ایک کھلا خط لکھتے ہیں تو یقین جانیے ایک لمحے کو تو دل میں ایک موہوم سی امید یہ آئی تھی کہ شاید یہ بھی مصر کے عزّ بن عبد السلام کی روایت قائم کریں گے۔ شاید یہ بھی بادشاہ وقت کو اس کے مفرد نام سے پکاریں گے اور اس کو کسی معاشرتی برائی کی طرف متوجہ کریں گے۔ شاید انہوں نے سود کے خلاف ایکشن لینے کو کہا ہوگا، شاید ڈرون حملوں کے خلاف بات ہو گی، شاید امریکہ کی جنگ سے نکلنے کا حکم دیا ہو گا، شاید احادیث کی روشنی میں اور قرآن کی آیات کی رو سے کسی کافر کے شانہ بشانہ کھڑے ہو کر کسی مسلمان کے خلاف جنگ کرنے کے خلاف وعیدیں سنائی ہونگی۔ شاید مہنگائی کے خلاف بات کی ہوگی، شاید شیعہ سنی فرقہ واریت ختم کرنے کی بات ہوگی، شاید ناموس رسالت ؐ کی حفاظت کے بارے میں کوئی ہدایات ہونگی، شاید رشوت کے خاتمے اور سفارش کی روک تھام کی بابت تنبیہہ ہو گی اور شاید اور کچھ نہیں تو حاکم وقت سے اللے تللے ختم کرنے کی بات ہوگی۔ مگر حیف صد حیف کہ خط جب پڑھا تو اس کا لب لباب تھا کہ ‘جناب اعلیٰ قبلہ وزیر اعظم صاحب دام اقبالہ سے گزارش ہے کہ جمعے کی ہفتہ وار تعطیل بحال فرما دیں”!! یقین کریں اگر کسی ملک کا سب سے بڑا مسئلہ صرف یہ ہے کہ ہفتہ وار تعطیل کس دن کرنی ہے تو ہماری رائے میں وہ ملک روئے ارضی پر جنت سے کم نہیں۔

بہ صد ادب کہ حضرت کی امامت میں بارہا نمازیں ہم بھی ادا کر چکے ہیں کہ ان کا تدیّن باعث تحسین ہے، میری نا چیز رائے میں ایسے بے سروپا اقدامات کی وجہ صرف اور صرف ایک ہے۔ ایک مرکزی قیادت کی غیر موجودگی۔ اگر ہمارے ان بزرگوں کی کوئی مرکزی قیادت ہوتی تو ان کے اقدامات اتنے افراتفری کا شکار نہ ہوتے۔ قیادت لیکن ایسے ہی پیدا نہیں ہو جاتی اس کے لیے کئی اہل لوگوں کو قربانی دینی پڑتی ہے۔ ہمارے بڑوں میں سے کچھ کا حال تو یہ ہے کہ اپنے مرتبے اور رتبے کا بھی خیال نہیں کرتے اور مخالفین کو ایسے ایسے ناموں سے پکارتے ہیں کہ کوئی دشمن بھی کیا پکارے گا۔ مشرک، بدعتی، جنت کے طوطے، بینکر، مردودی، پراسراری، نجدی، وہابی، دیوگندی، یہ سارے نام کلمہ توحید کے ماننے والوں کے ایک گروہ کے منہ سے دوسرے گروہ کے لیے نکل رہے ہیں۔ ایمان کے بعد برا نام لینا بھی برا ہے، سورۃ الحجرات کیا کہہ رہی ہے کیا ہم بتائیں آپ کو؟ اور انہی گروہوں کے ذرا اپنے بزرگوں کے لیے تراشے ہوئے القابات ملاحظہ کیجیے۔ کسی کو رومی ثانی کہا جا رہا ہے، کسی کو شیخ العرب والعجم، کسی کو مجدد ملت، کسی کو شیخ الاسلام، کسی کو بلبل مدینہ کہا جاتا ہے تو کسی کو عارف باللہ۔ کسی کے نام میں دامت برکاتھم کا لاحقہ لگا ہے اور کسی کے ساتھ حفظہ اللہ اور کسی کے ساتھ نور اللہ مرقدہ اور کہیں پر قدس اللہ سرہ۔ یہ افراط و تفریط ایسے ہی نہیں ہے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ یہ بزرگان دین ان ناموں کے اہل نہیں، ان میں سے چند یقیناً ہونگے بھی۔ لیکن ان سابقوں اور لاحقوں پر مرنے مارنے کو دوڑنے سے پہلے اس ہستیؐ کے نام کی اگر حفاظت کر لی جاتی جس کے طفیل ان بزرگوں کی عزت ہے تو یہ ان کے لیے یقیناً زیادہ باعث افتخار ہوتا۔

توہین ناموس رسالت کے واقعات اگر بڑھ رہے ہیں تو کسی وجہ سے بڑھ رہے ہیں۔ مسلمانوں کا نام ہر جگہ دہشت گردی میں لیا جا رہا تو کسی وجہ سے لیا جا رہا ہے۔ اس کی ایک ہی وجہ ہے، اور وہ ہے ایک مرکزی، متفقہ قیادت کی عدم موجودگی جو مسلمانوں کو بحیثیت مجموعی ایک لائحہ عمل طے کر کے دے۔ OIC یا عرب لیگ نہیں بلکہ ایسی قیادت جو واقعی مسلمانوں کو ایک جسد واحد کی طرح چلائے۔ جس کی ایک خارجہ پالیسی ہو، ایک مالیاتی پالیسی ہو، ایک صنعتی پالیسی ہو۔ چاہے تعلیمی اور داخلی پالیسیاں کچھ مختلف بھی ہوں تو اس بکھری ہوئی بے مہار امت میں پھر سے جان پڑ جائے گی۔ مسلمانوں کی عالمی سطح پر پھر ایک آواز ہوگی۔ اگر تمام مسلمان ممالک اس بات پر اصولی طور پر متفق ہو جائیں تو پھر اس ادارے کو آپ خلافت کا نام دے لیں یا ریاستہائے متحدہ اسلامیہ کا، بات ایک ہی ہے۔ مسلمان ممالک میں مقتدر طبقات کے مفادات اس معاملے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔ اور پھر وہ اپنے ملک کے دینی طبقات میں سے چند لوگوں کو خرید کر اپنا الو سیدھا کرلیتے ہیں۔ محض چند اختلافات کی بناء پر النور پارٹی نے الاخوان کا ساتھ چھوڑ دیا۔ مرسی کو نکال کر جو نگران حکومت بنی ہے ا س میں النور کا بھی کچھ حصہ ہے مگر انتظار کیجیے کہ کب اس کو دودھ میں سے مکھی کی طرح نکال پھینکا جاتا ہے۔ ایسے ہی ہماری دینی جماعتیں ایک دوسرے کی سعی کو ناکام بناتی ہیں، کہیں دانستہ کہیں انجانے میں۔ ایک دوسرے کے پیچھے نماز تو پڑھ لیتے ہیں لیکن ہاتھ میں ہاتھ نہیں دیتے۔ اخلاقی ہمدردی تو کرتے ہیں لیکن عملی ساتھ نہیں۔ لال مسجد کا سانحہ ہوا لیکن پورے ملک کی مذہبی جماعتوں نے سوائے ایک رسمی احتجاج کے اور کچھ نہیں کیا۔ وجہ اس کی یہ تھی کہ ان کو مولانا عبدالرشید کے طریقے سے اختلاف تھا۔ سب نے مانا کہ لال مسجد کے معاملے کو حد سے بڑھانے میں پرویز مشرف کا کتنا گھناؤنا کردار تھا۔ کیسے اس نے ایک پھنسی کو پھوڑا بننے دیا اور پھر اس کو ریاستی طاقت سے ایسا کچلا کہ آج تک اس کے اثرات محسوس کیے جاتے ہیں۔ یہ سب مان کر بھی، اور یہ سب جان کر بھی، محض ‘تشریح’ کے فرق کی بنیاد پر ہمارے دینی طبقے نے اخلاقی ہمدردی کو ہی کافی سمجھا اور اس معاملے کو اس مقام تک جانے دیا کہ جہاں محض بے بسی سے تماشہ ہی دیکھا جا سکتا تھا۔ پرویز مشرف نے ایک ایک کر کے یہی کھیل باقیوں کے ساتھ بھی کھیلا ہے۔ کہتے ہیں جرمنی میں نازیوں نے بھی ایسا ہی کیا تھا۔ اس زمانے کے ایک پادری کا یہ مشہور ٹکڑا تو آپ نے سن ہی رکھا ہوگا ؏

First they came for the communists,
and I didn’t speak out because I wasn’t a communist.

Then they came for the socialists,
and I didn’t speak out because I wasn’t a socialist.

Then they came for the trade unionists,
and I didn’t speak out because I wasn’t a trade unionist.

Then they came for me,
and there was no one left to speak for me.

محض دین کی تشریح کے فرق کا مطلب ہے کہ ہر جماعت نے سنت نبوی ؐ کا مطالعہ کر کے حضورؐ کی حیات طیبہ میں سے جو چیز سب سے زیادہ اہم سمجھی اس کو اپنی جدوجہد کا مرکز بنا لیا۔ کسی نے تبلیغ کو اہم سمجھا، کسی نے جہاد کو، کسی نے سیاست کو اپنا میدان عمل بنایا تو کسی نے خیراتی کاموں کو، کوئی مسجد کی تعمیر کر رہا ہے تو کوئی مدرسہ تعمیر کیے چلا جا رہا ہے، کوئی ذکر و اذکار کے ذریعے سنت پر عمل کر رہا ہے تو کوئی تحریکی کا م کر کے ایک منظم جماعت تشکیل دینے کا خواہش مند ہے۔ حضور نبی کریمﷺ کی حیات طیبہ میں ہمیں ان میں سے اکثر کام کسی نہ کسی وقت میں کسی نہ کسی درجہ میں ملتے ہیں۔ سیرت طیبہ ؐ میں ہم جہاد بھی دیکھتے ہیں اور تبلیغ بھی، جماعت سازی بھی دیکھتے ہیں اور ریاست کے امور پر مکمل گرفت بھی دیکھتے ہیں۔ معجزہ یہ ہے کہ جو کام اللہ کے رسول ؐ نے تن تنہا انجام دیا، آج کئی کئی تنظیمیں مل کر بھی نہیں کر پارہیں۔ اس پر مستزاد یہ کہ ایک دوسرے کے کام سے متفق نہ ہونے کی وجہ سے پہلے بحث پھر اختلاف اور پھر سیدھا سیدھا ضد کا معاملہ ہو جاتا ہے ۔ پھر چونکہ معاشرہ میں دینی جماعتوں سے تعاون کرنے والوں کا ایک وسیع مگر بالآخر محدود طبقہ ہے تو ان کا تعاون انہی جماعتوں میں آپس میں تقسیم ہو جاتاہے ۔ کئی مسجدوں میں ایک سے ڈیڑھ کروڑ روپے کے مینار کی تعمیر ہو جاتی ہے جبکہ وہی پیسے کسی اور جگہ کسی دوسرے ، زیادہ ضروری مقصد میں استعمال ہو سکتے تھے۔ لے دے کے بات وہی ایک مرکزی قیادت کی ہے جو ان سارے اثاثوں کی امین ہو اور نہایت دیانت داری اور خداخوفی کے ساتھ اس مال کو استعمال کرے۔ ایک آواز ہو۔ جو اس سے ہٹ کر چلے وہ صاف نظر آجائے کہ یہ دین کا نمائندہ نہیں۔ پہلے ایک شہر میں ایسا اتحاد بن جائے پھر اس کو ملک تک پھیلا دیں۔ یہ مشکل ضرور ہے، ناممکن نہیں ۔

اگر ایسا اتحاد نہیں ہو پا رہا تو قصور عوام کا بھی ہے لیکن اصل قصور میرے نزدیک ان عقیدتمندوں کا ہے جو علماء کے اردگرد گھیرا ڈال کر رکھتے ہیں۔ آج کے دور میں کسی بڑے عالم سے بات کرنا، اس سے کچھ ذاتی طور پر پوچھ پانا اس قدر مشکل کام ہے کہ جب تک آپ کے پاس کوئی بڑی سفارش نہ ہو آپ علماء سے مل نہیں سکتے۔ اس کی وجہ وہ درمیان کے عقیدتمند ہیں جن کے نزدیک ان کے ‘حضرت’ سے کوئی سوال پوچھنا اگر گناہ کبیرہ نہیں تو مکروہ ضرور ہے۔ ایک عقیدتمند ‘حضرت’ کی ویب سائٹ سنبھال رہے ہوتے ہیں تو دوسرے صاحب کے نزدیک کسی کا ان کے شیخ کو براہ راست فون کر لینا مداخلت فی الدین کے زمرے میں آنا چاہیے۔ اس سے زیادہ آسان تو ٹی وی اور ریڈیو پر آنے والے ان نوسربازوں کو کال کرنا ہوتا ہے جن کے لیے رمضان، ربیع الاول، محرم اور ذی الحجہ مقدس کم اور کمائی کے مہینے زیادہ ہیں۔ عوام ایسے ہی نہیں علماء سے کٹ رہے۔ ایک جمعہ کے اجتماع میں راقم نے امام صاحب کو کہتے سنا کہ ‘عوام کو علماء کی ضرورت ہے، علماء کو عوام کی نہیں’ یہ مقولہ شاید پچیس سال پہلے صحیح تھا مگر آج نہیں۔ Rand Corporation کی سفارشات میں صاف لکھا ہے کہ ایسے علماء جو روایت پسندوں کی صف میں آتے ہیں ان کی جگہ ایسے لوگوں کو میڈیا پر لایا جائے جن کی شہرت ترقی پسندوں کی ہے، جن کو مسجدیں نہیں ملتیں۔ جو شراب کی حرمت کے بارے میں شکوک پیدا کریں، جو بدعات کی ترویج میں ممد ہوں ، جو فحاشی کو نئے معانی پہنائیں۔ اور پچھلے آٹھ دس سالوں میں ان سفارشات پر عمل کے نتیجے میں آپ دیکھ لیں کہ اس وقت سب سے زیادہ دیکھا جانے والا پروگرام ایک ایسے پوشیدہ رافضی کا ہے جو عام محفل میں صحابہ کرامؓ کی شان میں گستاخی کرتا پکڑا گیا اور ابھی بھی تقویٰ کا لبادہ اوڑھے رمضان میں نئے نئے کرتب دکھا رہا ہے۔ یہ ذمہ داری عوام کی بھی ہے کیونکہ ان کو اپنے عمل کا حساب خود دینا ہے۔

لیکن علماء کو بھی تو اپنے نمائندے چننے میں احتیاط کرنی چاہیے۔ گزشتہ شوال میں چاند کی رویت پر جو فساد ہمارے ملک کی سب سے بڑی سیاسی مذہبی شخصیت نے بپا کیا وہ آنے والے دنوں کی ایک جھلک تھا۔ یہ خبر بہت نمایاں نہیں ہوئی ورنہ شوال اکتیس دن کا ہوتا نہیں ہے۔ اس ‘اہل حق کے مینار’ نے ایک صوبے میں اقتدار حاصل کرنے کے لیے وہ وہ پینترے بدلے ہیں کہ اچھے اچھے ماہر کرتب بازوں کو پسینہ آجائے۔ اب تو لگتا ہے کہ آنجناب کا مقصد محض اقتدار کا حصول ہے چاہے اس کے لیے وہ امریکی سفیر کے پاس خود چل کر جائیں۔ دین محمدی ؐکے ماننے والوں کو اگر اقتدار مانگنے کے لیے در در کی بھیک مانگنی پڑے تو ایسے اقتدار سے دوری ہی بھلی۔ علماء کا کام دین کی حفاظت کرنا ہے ، اگر اقتدار حاصل کر کے حفاظت ہوتی ہے تو ٹھیک نہیں تو چار حرف بھیجیے ایسے اقتدار پر جس میں عزت سادات بھی ضائع ہونے کا اندیشہ ہو۔ چار حرف بھیجیے ایسے نمائندوں پر جن کے رہتے نہ مدرسے بچیں نہ اساتذہ۔ نہ طالبعلم بچیں نہ طالبات- جنہوں نے سب سے پہلے نعرہ لگایا کہ ‘طالبان اسلام آباد سے سو کلومیٹر پر رہ گئے ہیں’ اور وہاں سے کوڑوں کی ایک جعلی ویڈیو نکل آئی اور پھر سوات میں لاکھوں لوگ اپنے ہی ملک میں بے گھر ہو گئے۔ سب سے پہلے تو ان نام نہاد نمائندوں سے علمائے دین کو اپنے آپ کو بچانا ہوگا ۔

اس سلسلے میں وہ لوگ جو واقعی کسی عالم کے قریبی حلقے سے تعلق رکھتے ہیں وہ اپنے عالم سے بات کریں۔ ان سے سوال کریں ، کچھ مواقع پر ادب ہلاکت کا باعث ہو جاتا ہے۔ آپ صحابہ کرامؓ سے زیادہ اپنے حضرت کی تعظیم نہیں کر سکتے ۔دین کے معاملے میں صحابہ کرامؓ کبھی نہیں شرماتے تھے، سوال کرتے تھے۔ تو اپنے حضرت سے پوچھیں کہ دوسرے علماء میں برائی کیا ہے۔ اس کو دوسرے عالم سے رابطہ بڑھانے میں مدد کریں۔ ایک دوسرے کے لیے جو ان کے دلوں میں کچھ غلط فہمیاں ہیں وہ ختم کرائیں۔ دوسرے مسالک سے رابطہ بڑھانے میں مدد کریں۔ شدت پسندی اور تمسخر سے نہ دوسرا مسلک ختم ہوگا نہ اس کے ماننے والے۔ یہ سولہویں صدی کا اسپین نہیں ہے جہاں تمام ‘دوسروں’ کو جہازوں میں بٹھا کر افریقہ کے ساحلوں کی طرف روانہ کر دیا جائے۔ تو ہمیں ایک ساتھ ہی رہنا ہے، تو اس ساتھ کو کیوں نہ خوشگوار بنا لیا جائے؟ اگر آج (رمضان۱۴۳۴ ہجری) کی رویت ہلال جیسا ماحول پورے سال رہے تو یہ ملک اور یہ دین بہت جلد امن کا نشان بن جائے گا ان شاء اللہ۔ آج کوئی چھوٹا نہیں ہوا ، بلکہ سب اور بڑے ہو گئے۔ سب صحیح ہوئے اور کوئی غلط بھی نہیں ہوا۔ تو یہ اکثر دوسرے مواقع پر بھی ہو سکتا ہے۔

علماء کے لیے اپنی جگہ مضبوط ہونا ضروری ہے کیونکہ ستون تو مضبوط ہی ہوتا ہے اسے اپنی جگہ سے ہلنا نہیں چاہیے۔ ان کے لیے الگ الگ نظر آنے میں کوئی ایسی برائی نہیں کیو نکہ مہیب سمندر میں جزیرے اور بھی خوبصورت لگتے ہیں۔ بس ہم چاہتے ہیں کہ یہ دینی طبقے کسی ایک قیادت پر متفق ہو جائیں اور پھر للہیت کے ساتھ اس پر صبر کریں۔ ایک چھت جب مل جائے گی تو اس کے سائے میں یہ ستون بھی آئیں گے۔ بس اس کے لیے مجھے، آپ کو، ہر اس شخص کو جو کسی بڑی مذہبی شخصیت کے حلقے تک رسائی رکھتا ہے اس کو ایک پل کا کام کرنا ہے جو کسی طرح ا ن تمام جزیروں کو آپس میں ملا دے۔ اگر ہم نے صرف یہی کوشش کر لی اور اس میں اخلاص کا دامن نہیں چھوڑا تو اللہ سے امید ہے کہ وہ ہم کو روز قیامت رسوا نہیں کرے گا۔ بصورت دیگر، فرقہ بندی کو بھڑکانے میں کہیں ہم بھی حصہ دار نہ بن جائیں!


Photo credit: gnuckx / Foter / CC BY

یہ وہ سحر تو نہیں

Posted in Islam, protest, Rants by baigsaab on July 10, 2013

جولائی کے مہینے میں امریکہ ہی نہیں دنیا کے  تیئیس  دیگر ممالک  بھی اپنا  یوم آزادی   مناتے ہیں۔  ارجنٹائن، بیلارس، وینیزویلا اور پیرو  اور خود امریکہ سمیت  ان  میں سے اکثر ممالک نے یہ آزادی بیرونی طاقتوں  کے شکنجے سے حاصل کی تھی۔  امریکہ کے یوم آزادی کی رات تحریر اسکوائر میں لوگوں کو اچھلتے کودتے دیکھ کر  ایسا لگ رہا تھا کہ مصر نے کسی ایسے ہی  ظالمانہ   استعماری  نظام سے نجات حاصل کرلی ہے۔ یہ اس لیے بھی عجیب تھا کیونکہ مصر  نے اگر حسنی مبارک کو تیس سال برداشت کیا تھا اور اس سے پہلے انور السادات اور جمال عبد الناصر اور شاہ فاروق وغیرہ   کو  بھی  برسوں جھیلا تھا تو   اس بار جانے والی حکومت تو نہ فوجی آمریت تھی اور نہ   استبدادی بادشاہت۔ یہ لوگ  تو ایک ایسی حکومت کے خاتمے کی خوشی منا رہے تھے جس  کو ان کے ملک کی  ‘اکثریت’ نے  مرحلہ وار انتخابی عمل کے بعد منتخب کیا تھا۔ محمد مرسی کو  حسنی مبارک سے تشبیہہ دینے والوں نے یہ بھی نہ دیکھا کہ  مرسی نے تو نہ مخالفین سے جیلیں بھرنے کی پالیسی اپنائی،  نہ اپنے مخالفین کے ہجوم پر فائرنگ کروائی ،  نہ  خود پر تنقید کرنے والوں  کو اغواء کروایا،   نہ اپنی ذات کو حرف آخر  اور عقل کل سمجھا(حالانکہ مصر کے نئے منظور شدہ آئین کے بارے میں  پھیلایا گیا  عام تاثر یہی ہے) اور نہ اپنے سے مخالف نظریات کے پرچارکوں کے لیے عرصہ حیات تنگ کیا۔  مرسی پربظاہر الزام ہے تو صرف یہ کہ  وہ دوسرا ‘مبارک’ بننے جا رہا تھا جبکہ درحقیقت ایسا نہیں ہے۔

حقیقت اگر ہے تو  یہ کہ قاہرہ میں خوشیاں مناتے لوگ درحقیقت ایک اسلام پسند حکومت کے خاتمے کی خوشی منا رہے ہیں۔  حقیقت  اگر ہے تو یہ  کہ جب شراب خانوں پر پابندی اور فحاشی پر قدغن لگی تو مصر کے ان  ‘لبرل’ لوگوں  نے  اسی حسنی مبارک کے تیس سالہ دور استبداد کو مرسی کے ایک سالہ دور    استقبال پر ترجیح دی۔  حقیقت اگر ہے تو یہ ہے کہ  مصر، الجزائر، ترکی ، فلسطین اور دنیا بھر میں جہاں بھی اسلام پسند  ‘جمہوری’ حکومتوں کا خاتمہ ہوا ہے   اس کو  مغربی جمہوری ملکوں کی  حمایت  حاصل رہی ہے۔  اور حقیقت اگر ہے تو یہ کہ  بارہ سال  میں پہلی دفعہ کسی حکومت نے اسلام  کو  ریاست کو امور میں مدخل کرنے کے لیے محض چند ہی اقدام کیے تھے   اور اس  کو بھی اسی طرح طاقت کے ساتھ ہٹا دیا گیا جس طرح بارہ سال پہلے طالبان کو ہٹا دیا گیا تھا۔  حقیقت یہ ہے کہ اوبامہ نے اپنی خاص منافقت سے کام لیتے ہوئے جو الفاظ  اپنی تقریر میں رکھے ہیں ان میں ‘تشویش’ اور ‘جمہوری عمل’ کے الفاظ تو ہیں  مگر یہ کہیں نہیں کہا کہ  مصری فوج کا یہ عمل   غلط ہے۔ حقیقت اگر ہے تو یہ کہ اس موقع  پر’ لبرلوں اور سیکولروں ‘ کی منافقت کا پردہ چاک ہو گیا ہے۔  الکُفرُ  مِلّۃٌ  واحدۃٌ   کی ابدی حقیقت سے ہم کو تو  نبی رحمت ؐ  نے  پہلے ہی آگاہ کر دیا تھا، یہ تو ہمارے ہی لوگ تھے جو  دوڑ دوڑ کر ان میں گھسے جاتے تھے۔

لیکن یہ حقیقت بھی اپنی جگہ ہے کہ  الاخوان المسلمون کی حکومت  کے خاتمے میں فیصلہ کن کردار فوج نے نہیں، بلکہ  اسلامی قوتوں نے ادا کیا۔ مصر کیا  پوری دنیا کی تاریخ میں پہلی بار کسی  بڑے ملک میں ایک  اسلامی جمہوری جماعت اس قدر  اکثریت کے ساتھ منتخب بھی  ہوئی اور حکومت قائم بھی کر سکی   مگر  جب وہ گئی تو اس کا ساتھ دینے سے ان کے  اسلامی  اتحادیوں نے نہ صرف انکار کر دیا بلکہ  بالفعل ان کے مخالف کیمپ  میں  جا کھڑے ہوئے۔  جامعۃ الازہر  کے علماء نے ایک  بار  پھر سیکولر  عناصر کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے میں مدد دی  اور اس شخص کے خلاف چلے گئے جس نے کئی دہائیوں میں پہلی بار اقتدار کے ایوانوں میں اللہ کا کلمہ بلند کیا۔ایک بظاہر سیکولر مگر   پیدائشی عیسائی  بلکہ یہودی عدلی المنصور کی حلف برداری میں  غیر مذہبی جنرل الفتاح سیسی کا ہی نہیں ، مذہبی  النور  پارٹی  اور  انتہائی قابل احترام  جامعۃ الازہر   کا بھی بھرپور کردار ہے۔

مصریوں کے بارے میں ایک تاریخی قول  چلا آتا ہے، رِجال ٌ   تَجمعھم الطّبول و ھم مع من غلب ۔ (مصر کے  مرد  ایسے ہیں جن کو ڈھول کی تھاپ اکھٹا کرتی ہے اور وہ اس کے ساتھ ہیں جو غالب آجائے) ۔ یہ کوئی مصر کے ساتھ مخصوص نہیں ہے۔  ہماری عوام بھی مجمع بازی میں کافی خود کفیل ہے۔  بس بازی گر کے پاس ‘مسالہ’ اچھا ہونا چاہیے، لوگ اپنے اصل مسائل بھول کر  نہایت  خلوص کے ساتھ  ان  ڈھولچیوں کے پیچھے چل پڑتے ہیں۔   پاکستان میں عام لوگوں نے مصر کے حالات پر کوئی خاص ردعمل کا مظاہرہ نہیں کیا۔ شاید اس لیے کہ اس کو الیکٹرونک میڈیا پر خاطر خواہ وقت نہیں دیا گیا۔  پرویز رشید صاحب جو حکومت پاکستان کے ترجمان ہیں، انہوں نے  کہا کہ پاکستان کی طرف سے  سرکار ی ردعمل تین سے چار دن میں آئے گا، باوجود اس کے کہ ۱۴ سال پہلے وہ اور ان کے قائد بعینہ اسی عمل سے خود گزر چکے ہیں۔ خلیجی ریاستوں کی طرف سے   تقریباً وہی ردعمل ظاہر کیا گیا ہے جو انہوں نے  اکتوبر  2001  میں افغانستان اور  مارچ 2003 میں  عراق پر امریکی  جارحیت میں  دیا تھا، یعنی  امریکی لائن کی حمایت۔

پاکستان کے   تناظر میں  اگر ہم  مذہبی اور غیر مذہبی   قوتوں کی صورتحال کا جائزہ لیں تو یہ بات سامنے آتی ہے  کہ  لبرل اور سیکولر عناصر  میں اسلامی قوتوں سے زیادہ  ایکا ہے۔  سیکولروں  کی مجبوری یہ ہے کہ  وہ ایک جمہوری حکومت کے خاتمے پر خوشی کا اظہار بھی  نہیں کر  سکتے لہٰذا انہوں نے  اس فوجی بغاوت کی  ذمہ داری الٹا الاخوان پر ڈال دی  ہے کہ اس نے   مصر کی تاریخ میں پہلی بار ایک  جمہوری طور پر منتخب حکومت کی حیثیت سے  اپنی عوام کو  مایوس کیا اور فوج کو  مداخلت کا جواز فراہم کیا۔  ایاز امیر صاحب نے اپنے کالم میں  لکھا کہ مسلم دنیا کی مشکل ہی یہ  ہے کہ یہ  اپنی علاقائی  حدود کی بنیا د پر سوچتے نہیں۔  انہوں نے مرسی  کا تقریباً مذاق اڑاتے ہوئے کہا کہ اپنا گھر سنبھل نہیں رہا تھا اور  وہ  شام کے حالات میں مداخلت کر رہے تھے۔ دوسری جانب  ہمارے مذہبی حلقے   مصر کی تازہ ترین صورتحال میں محض پوائنٹ اسکورنگ کرتے رہ گئے ہیں، الّا ماشا ءاللہ۔  جنہوں نے  اپنی جدوجہد کے لیے انتخابی میدان منتخب کیا تھا وہ  مصر میں  ‘جمہوری’ حکومت کے خاتمے پر مظاہرہ کر رہے  ہیں۔ اور جنہوں نے انتخابی میدان منتخب کرنے کو غلطی قرار دیا وہ  اس فوج کشی کو جمہوری عمل کی ناکامی کا معنی پہنا رہے ہیں۔  واضح رہے کہ جس وقت الاخوان کی حکومت آئی تھی تو  اس وقت  بغلیں بجانے اور  بغلیں جھانکنے کی ترتیب اس کے برعکس تھی۔ سہ ماہی ایقاظ  نے اپنے تازہ مضمون میں  طرفین کے اچھے خاصے لتے لیے ہیں کہ  پہلی بات تو یہ کہ کسی کی ناکامی، ہماری کامیابی کی  ضمانت نہیں۔ اور دوسری بات یہ کہ یہ وقت ایک دوسرے سے لڑنے کا نہیں  ہے۔ بلکہ  اس وقت پہلے سے زیادہ ایک نظر آنے کی ضرورت ہے۔

مصر میں فوجی بغاوت کے بعد مغربی  لکھاریوں کے آنے والے   مضامین اس حقیقت کی غمازی ہی نہیں کر رہے بلکہ ببانگ دہل اس بات  کا اعلان کر رہے  ہیں کہ ان کے نزدیک مسئلہ اسلام ہے، سیاسی یا فوجی اسلام نہیں۔  ڈیوڈ بروکس کے نزدیک   

‘اہم چیز یہ ہے کہ  ایسے لوگوں کو اقتدار سے باہر کر دیا جائے چاہے اس کے لیے  فوجی  بغاوت ہی کا استعمال کیوں نہ کرنا پڑے۔(اصل)   ہدف یہ ہے کہ سیاسی اسلام کو  کمزور کر دیا جائے  چاہے اس کے لیے کچھ بھی کرنا پڑے۔ ‘

مصر میں   لبرلوں کے لیے روشنی کے مینار کی حیثیت رکھنے والے البرادعی  نے  کہا ہے کہ انہیں

اپنے  مغربی دوستوں کو اس بات پر راضی کرنے کے لیے کافی محنت کرنی پڑی  کہ مصر میں جو کچھ فوج نے کیا وہ انتہائی ضروری تھا۔

حاصل وصول ایک  ہی بات ہے،  الجزائر   اور مصر میں  حکومت سیاسی طریقے سے حاصل کی جائے یا اٖ فغانستان  میں   طالبان کے انقلاب کے ذریعے،  اگر حکومت  نے   ذرا بھی  کوشش کی   کہ اسلام کو  ایک جز و کے طور پر ہی سہی لوگوں کی سیاسی زندگی میں داخل کر دیا جائے  تو وہیں اس کے اوپر  ایک ایسی کاری ضرب لگائی جائے گی کہ  ان کی تحریک دس سال پیچھے جا کھڑی ہو گی-  اگر لوگوں کی اکثریت اسلام چاہ رہی ہے اور حکومت نہیں چاہ رہی تو چاہے   مظالم کے پہاڑ ہی  کیوں نہ توڑ دیے جائیں، جیسے شام میں ہو رہا ہے، لبرلوں کے کانوں پر جوں نہیں رینگے گی۔   ترکی میں جو کچھ ابھی ہو رہا ہے   وہ   اگر  آج سے پانچ سال پہلے ہوتا تو  شاید ترکی میں اردگان حکومت کا بھی  خاتمہ ہو چکا ہوتا۔  ان لوگوں کے خیال سے مذہب کی جگہ سیاست نہیں ہے، حکومت نہیں ہے،  معیشت نہیں ہے،  بلکہ معاشرت بھی نہیں ہے، بس مذہب  ایک انفرادی شے ہے ! اب یہ ان کو کون سمجھائے کہ  ؏ جدا ہو دین سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی۔ فرد سے ہی سیاست ہے، فرد سے ہی  حکومت، اسی سے معیشت اور اسی سے معاشرت۔ تو سیدھے سبھاؤ فرد کو ہی کیوں نہیں نکال دیتے  باہر؟

کیا اب بھی کسی کی سمجھ میں نہیں آیا کہ اسلام پسندوں پر عرصہ حیات تنگ کردینے کی آخر وجہ کیا ہے؟ اس چیز کو دیکھنے کے لیے کوئی عقابی نگاہیں نہیں چاہییں کہ مصری فوج نے مرسی سے اقتدار چھیننے سے پہلے ہی  غزہ کی سرنگیں بند کرنے کا کام شروع کر دیا تھا۔  اقتدار میں آنے کے بعد اخوان کے ہمدرد  چار چینل بند کر دیئے گئے۔  الاخوان المسلمون کے دھرنے پر فائرنگ کی گئی جس کے نتیجے میں  تیس سے اوپر لوگ شہید اور سو تک زخمی ہو گئے۔  اس پر نہ کوئی جمہوری روایت  پامال ہوئی نہ انسانی حقوق، کیونکہ  جمہوری روایات کے امین  تو صرف سیکولر ہیں، اور انسانی حقوق کے علمبردار صرف لبرل۔ مصر میں تو خیر براہ راست امریکی ( یعنی صیہونی) مفادات پر  زک پڑ رہی تھی  اس لیے وہاں  تو  انگریزی ترکیب کے مطابق یہ  ‘کب؟’ کا معاملہ تھا ‘اگر’ کا نہیں-  لیکن باقی دنیا میں کیا ہو رہا ہے؟   یورپ میں عورتوں کو  زبردستی بے پردہ کیا جا رہا ہے۔  حجاب پہنی ہوئی عورت کو بھری عدالت میں قتل کر دیا جاتا ہے۔  داڑھی والوں کو ائرپورٹ پر  لائن سے نکال کر تلاشی لی جاتی ہے۔  پکڑا جانے والا اگر فیصل شہزاد ہو ( صحیح یا غلط کی  بات نہیں) تو  وہ تمام مسلمانوں کا  نمائندہ ، اسلام دہشت گردوں کا مذہب اور تمام مسلمانوں کے لیے  شرمندہ نظر آنا لازمی۔  لاکھوں کے قتل کا  متحرک  ہٹلر، ہزاروں کے خون کا ذمہ دار سلوبودان میلاسووچ،  درجنوں کو اپنے  دو ہاتھوں سے مارنے والا اینڈرز بریوک  مگر عیسائیوں  کا  نمائندہ نہیں، یہ ان کا ذاتی فعل ہے جس کی  کسی عیسائی کو صفائی پیش کرنے کی بھی ضرورت نہیں۔ پھر ہمارے اپنے معاشروں میں اسلام پسند جس تضحیک کا نشانہ بنتے ہیں وہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔  جس نے داڑھی رکھ لی وہ منہ چھپا کر پھر رہا ہے اور جو  رات کو  ڈانس پارٹی سے ہو کے آیا ہے اس  کی فیس بک پروفائل پر likes ہی likes ۔  جہاں باپ  نے کسی دینی اجتماع میں جانا شروع کیا بچوں کے منہ لٹکنے شروع ہو گئے۔  انصار عباسی اور اوریا مقبول جان جیسے  کالم نویس   لبرل طبقہ کی ہنسی کا براہ راست نشانہ بنتے ہیں۔

  یہ کیا ہے؟  یہ  دراصل وہ فطری ترتیب  ہے جس پر اللہ نے انسانوں کو پیدا کیا ہے۔  دنیا میں ازل سے ابد تک  درحقیقت صرف دو ہی گروہ ہیں۔  ایک کا نام حزب اللہ، دوسرا حزب الشیاطین۔  فی الوقت  دنیا   چاہے یا  نہ چاہے اپنے آپ کو ان دو  گروہوں  میں تیزی سے تقسیم کر رہی ہے۔   جس کو ہم grey area  کہتے ہیں وہ  اب بہت کم رہ گیا ہے اور اس طرح کے اقدامات کر کے  یہ لادین طبقہ چاہ رہا ہے کہ  یہ تقسیم  بالکل واضح ہو جائے۔  اپنی دانست میں وہ  اپنی دنیا پکی کر رہے ہیں مگر در حقیقت اس سے بڑا خسارے کا سودا  کوئی انسان نہیں کر سکتا۔  و انتم لا تشعرون ! لیکن تم تو  سمجھ ہی نہیں رکھتے! کسی سیکولر سے مگر اور توقع کیا کی جا سکتی ہے، اس کا ایمان دنیا میں ہے وہ اپنے ایمان  کے مطابق کام کر رہا ہے۔  مسئلہ تو ہمارا ہے، ان لوگوں کا جن کا دعوی ٰ تو یہ ہے کہ  ایمان ہمارا اللہ پر ہے، مگر عمل   اس دعوے کی نفی کرتا جا رہا ہے۔ عشق رسولؐ کے مدعی بھی ہیں ، نعت خواں، حافظ بھی ہیں مگر صبح اٹھتے ہی  سب سے پہلے اپنے چہرے سے سنت نبویؐ  کو کھرچ کر  کچھ تو کچرے میں ڈال دیتے ہیں اور کچھ سیدھا گٹر میں بہا دیتے ہیں۔  خواتین صحابیات  مبشرات   ؓ  کی مثالیں  دیتی ہیں مگر انہی کے اصرار پر مرد حرام کماتے ہیں۔  سود پر ہماری معیشت کی بنیاد ہی نہیں ہے، یہ اس  کی جان ہے، ہمارے  نئے نویلے   وزیر خزانہ صاحب نے  تو اس بجٹ میں  انٹرسٹ کا لفظ ہی استعمال نہیں کیا، سیدھا شرح سود کی بات کی۔  تو ہم تو خود اپنے عمل سے ثابت کر رہے ہیں  کہ اسلام فی زمانہ کوئی قابل عمل  چیز نہیں، نہ  انفرادی زندگی میں ، نہ اجتماعی زندگی میں۔ تو   اگر ڈیوڈ بروکس یہ کہہ دیتا ہے کہ  ‘نا اہلی  دراصل بنیاد پرست اسلام  کے   دانشورانہ  DNA  میں  رچی بسی ہوئی ہے’ تو  اس نے  کیا غلط کہہ  دیا ؟

مصر کے حالیہ  واقعات نے  اگر کم از کم بھی یہ کر دیا کہ ہمارے  لوگوں کی  آنکھوں سے   غفلت  کی پٹی کھول دی تو یہ بہت بڑی بات ہو گی۔یہ بات کہ شدت پسندی دراصل اسلام پسند نہیں بلکہ سیکولر اور لبرل طبقہ کرتا ہے، اگر سمجھ آ گئی تو یہ ایک نہایت بڑی بات ہوگی۔ہمارا اشارہ ان لوگوں کی طرف نہیں ہے جو  صرف دینی مزاج کے لوگ نہیں یا جو نماز نہیں پڑھتے یا روزہ نہیں رکھتے۔ ہمارا اشارہ ان لوگوں کی طرف ہے جن کو ان سب کے ساتھ ساتھ   یہ  بھی برا لگتا ہے کہ  ہمارے کھلاڑی ‘ان شاء اللہ ‘ کیوں کہتے ہیں۔  ہمارے لوگ اب اللہ حافظ کیوں کہتے ہیں۔  رمضان کو Ramadan کیوں بولا جا رہا ہے۔   ان میں سے اکثر وہ لوگ ہیں جو اپنے ‘حق’ کو پانے کے لیے جھوٹ کا سہارا لینے میں ذرا عار محسوس نہیں کرتے۔  یہی تو ڈیوڈ بروکس نے کہا ہے، ‘چاہے کسی طریقہ سے بھی بس  سیاسی اسلام کو  ہرا دو’۔ چاہیں تو ایک  جھوٹی ویڈیو چلا کر سوات کے امن  معاہدے کو پارہ پارہ کر دیں۔ چاہیں تو لال مسجد کے خلاف واویلا مچا کر وہاں آپریشن کرا دیں اور پھر ٹسوے بہائیں کہ یہ کیا کر دیا؟  چاہیں تو  صوفی محمد کے خلاف اسمبلی کے فرش پر چلا چلا کر ہاتھ ہلا ہلا کر   تقریریں کریں ۔  چاہیں تو فحاشی کے  بے محابا پھیلاؤ سے صاف مکر جائیں اور اسلام پسندوں پر ثقافتی دیوالیہ پن کی تہمت چسپاں کر دیں۔ یا  جیسے مصر میں ہوا کہ ایک  منتخب  جمہوری حکومت کو  اٹھا کر باہر پھینک دیں اور  اپنے  پیارے البرادعی کو   انتہائی  ‘جمہوری’ طریقے سے نگران حکومت کا حصہ بنوا دیں۔  یقین کریں ، ایسا لگتا ہے کہ یہ دن کو دن  اور رات کو رات بولتے ہیں تو  اس کے پیچھے ان کا مفاد ہوتا ہے۔

اس  سارے  منظر نامہ سے اگر ہم نے اتنا ہی سمجھ لیا تو یہ بھی کوئی معمولی فائدہ نہ ہو گا کہ  ان کی آزادی ہماری آزادی نہیں۔  ان کی شام  ہماری  شام نہیں ، اور ان کی سحر ،ہماری سحر نہیں ۔

 فاعتبرو۱ یا اولی الابصار۔

Blasphemy Law and The Dilemma of the Apologists!

Posted in Islam, protest by baigsaab on December 8, 2010

A few years back there was a huge uproar in the Muslim communities around the world over the Danish cartoon controversy. Protests in some parts such as Pakistan turned violent and angry mobs damaged private property apart from burning effigies of the culprits. This scribe had written a piece- in fact a series of articles– back then urging people to just ignore these insults as, in my opinion back then, that’s the only suitable reply. Apart from that, the series also tried to prove from the Seerah of RasooluLLAH (s.a.w.) and Sahaba (r.a.) that they always dealt with blasphemous behavior in the same way.

Well, I have to confess, I was ignorant of our history and I was foolishly wrong!

I guess now that I’ve read and heard a bit of our history (still not all of it obviously), I can tell you that there’s overwhelming evidence that the only suitable punishment against blasphemy to RasooluLLAH (s.a.w.) and all the prophets of ALLAH (s.w.t.) is death, and a swift one at that! Not only there’re instances that Sahaba (r.a.) killed blasphemers but they did so with the approval, and in some cases orders, of RasooluLLAH (s.a.w.).

Ka’b ibn Ashraf, Abu Rafay, Ibn Khatal and his two slavegirls, a jewish woman in Medina and lots of others are such criminals that were slain by Sahaba (r.a.) and, as is reported in numerous Hadith, with orders or approvals of RasooluLLAH (s.a.w.). Some were set up, some ambushed, some immediately killed, some properly executed.

The fact that such an important part of Seerat un Nabi (s.a.w.) is one of the most obscure ones is a mind-boggling phenomenon. We’ve been taught in our schools and colleges and higher levels that Islam is a religion of tolerance, that RasooluLLAH (s.a.w.) always fought when war was thrust upon Muslims and that RasooluLLAH (s.a.w.) pardoned each and every one of his enemies – even the killers of Hadhrat Hamza (r.a.)- on the day of Fath Makka,.

It turns out that we’ve been told only partial truths!

The history that we have been studying in our course book has been contorted; the Truth has been misconstrued. The roots of the current science-centric education system that we are following in Pakistan, can be traced back to two major movements historically: a) Malthusianism[1] and b) the Ali Garh movement[2]. It was with the efforts of Sir Syed Ahmed Khan that Muslims started studying the sciences and English language and his services can’t be denied. Yet, it was also largely due to his influence that Muslims, early after, adopted the already corrupt and infected education system set by British East India Company.

The advent of this modern education in Muslims became the main cause of promotion of a more docile version of Islam. A docile, rather toothless, version of Islam that practices non-violence to the core and goes to war only when war is thrust upon it. While that’s not entirely untrue, it’s not the whole truth either. There are countless examples when the offensive was taken by Muslims and took the Kuffar by surprise. Ghazwa Badr was well and truly the first proper battle between Muslims and Kuffar but what’s not told to us is that there were as many as eight military expeditions sent or led by RasooluLLAH (s.a.w.) before the battle of Badr. Each of those expeditions paid dividends and a large area in Hijaz which was earlier under allegiance with Quraish either became a Muslim ally or became neutral. Also, there’re a lot of examples of preemptive strikes out of which the famous battle of Khyber and the battle of Bani Al-Mustaliq are famous. Reading our history in this way casts a totally different light altogether to how we should go about our religious duties. But by and large, these incidents have been obscured by our education system and either inadvertently or intentionally created breeds after breeds of apologists whose life’s work is to deny such important elements of our history.

Some glaring examples can be found in response to the recent case of Aasia Maseeh, the woman convicted of blasphemy against RasooluLLAH (s.a.w.). While there are liberal fascist making raucous noises to repeal the blasphemy law altogether, there are also some apologists, senior opinion-makers in the print and electronic media, who are trying to remind us of the tolerance in our religion, that a mother of 5 children – one of which is disabled- should be pardoned, especially after she says she’s sorry. There are also such daft columnists who see Salman Taseer’s hasty visit with his family to the convicted woman in prison and conducting a press conference there as an act out of empathy. It’s beyond words how disgusted the people of Pakistan are with the efforts of the ruling class to have a convict of blasphemy pardoned, that too on the orders of Pope Benedict, while the same ruling elite is tightlipped over the abduction and illegitimate trial of Dr Aafia Siddiqui.

But even if we assume that the government will go the whole nine yards to get Aasia removed to some western country, it seems appropriate at this point to see if pardoning Aasia Maseeh is within the power of the government or not.

Apologists claim that RasooluLLAH (s.a.w.) pardoned everyone who ever said anything foul to him. They give the examples of the women who threw garbage on RasooluLLAH (s.a.w.) daily, whom he (s.a.w.) had visited when she’d fallen ill. They also give the examples of conquest of Makka (Fath Makka) when he (s.a.w.) pardoned everyone in Makka. They also claim Aasia Maseeh said she’s sorry and has hence repented. They also say that Aasia is a non Muslim and Muslim capital punishment is not applicable to her. They say she’s a women and she’s poor so she should be pardoned. That we should pardon her to show goodwill towards west and thus pave the way to Islam’s preaching.

First of all, the amnesty on the day of the Fath Makka was for everyone, except there was a black list. A list of those who were to be slain even if they were found hanging with the curtains of Kabba, the most sacred of sacred places on earth. Ibn Khatal, as it goes, was found exactly in this situation and still was executed. There were two slavegirls of Ibn Khatal who used to sing absurdities against RasooluLLAH (s.a.w.) and they were also in that list. It’s important to note that they were also women like Aasia, they were also non-muslims like her, they probably were also poor, in fact they were slaves and hence had no free will, still they were executed. Ibn Taimiyah says that it shows that blasphemy against RasooluLLAH (s.a.w.) is an even greater crime than murder.

Secondly, even if we agree that RasooluLLAH (s.a.w.) pardoned some when he found it appropriate, it should stand as his prerogative and that’s it. Now we can’t pardon anyone on his behalf. Neither the government, nor the complainant.

Thirdly, even if she’s sorry for what she did doesn’t make her crime any milder. It’s similar if a murderer on the death row says he’s sorry, doesn’t absolve him of his crime. After all we’ve just seen that the crime that was perpetrated here was bigger than murder. It’s the verdict of scholars new and old, that the perpetrator of blasphemy should be killed immediately and not to be given a chance.

Lastly, we shouldn’t pardon her to just show our goodwill towards the west. Just to show how tolerant we are. That’s the most absurd excuse to do something equally absurd. If we had dealt with blasphemers in the way of Sahaba (r.a.) lately, our outlook would be a lot more different from it is today. It’s because of this tolerant behavior that any tom, harry or dick could say or write what he likes about our sacred personalities. If Salman Rushdi had been slain back then in the eighties, or Tasleema Nasreen back in the nineties, or the perpetrators of the European newspapers controversy had been killed back then, we would be a lot better off than we are today. Every time something like this happens, our response has grown weaker. And now it has come down to the point where our government is trying to dodge its public to provide safe passage to a convict of blasphemy. I seek refuge with ALLAH (s.w.t.) from the day when our public would be trying to save such a criminal from punishment.

As an afterthought, we probably should agree with the liberal fascists on one thing. That the blasphemy law should be repealed altogether. As it happens, having a law for a crime makes the punishment predictable. And when something is predictable it’s all the more defendable. If there’s no blasphemy law, then public would do justice on its own. The anticipation of punishment would be all the more painful for the perpetrators as the punishment itself.

There would be a Ghazi Ilm Deen Shaheed on every street, every city! 


[1] Malthusianism refers to the political/economic thought of Reverend and indirect employee of British East India Company Thomas Robert Malthus, whose ideas were first developed during the industrial revolution. It follows his 1798 writings, An Essay on the Principle of Population, which had a great impact on the way British East India Company managed India; it had a great impact on economic\political\education policies of Great Britain.
[2] Aligarh Movement was the movement led by Sir Syed Ahmed Khan, to educate the Muslims of the Indian subcontinent after the defeat of the rebels in the Indian rebellion of 1857.

Irony in Multan

Posted in protest by baigsaab on April 19, 2008

Policies in Pakistan are invariably a joke!

Just on Tuesday, angry mob ransacked the MEPCO office. Dozens of cars were burnt, property losses are still being recorded. Protests went into the second day with around 40 men arrested under the anti-terrorist law. We saw officials retaliating strongly against the protesters. All of this havoc due to a commodity called “electricity”, which is rare in Pakistan.

The irony of the situation is, in the same city, probably across a few blocks, two teams were playing an international cricket match, under lights. And to add insult to injury of those protesters, there was no power outage like the one in Lahore.

Ok, I concede that the stadium may be running those lights on generators, which is quite the standard these days. But the laymen don’t understand that do they? For them the math is simple, light runs on electricity, and that comes from WAPDA.

Wouldn’t it be nice on part of PCB to arrange day-only matches for a low-profile series such as this? I wonder!

Tagged with: , , , ,

Protests Final

Posted in protest by baigsaab on February 28, 2008

This is the final part of a three part series, please find the earlier parts here and here.

In order to handle such situations, what we’re lacking is an understanding of how the Prophet of Allah (S.a.w.) and his companions handled them. Obviously, during the 13 years of early preaching in Makkah, and in the 10 years in Medina while inviting world leaders to Islam, there have been several incidents when someone grew so much in his audacity that he did something blasphemous to the Prophet of Allah (S.a.w.). We know that Abu-Lahb and his wife were known blasphemers, so was Abu Jahl during the stay in Mecca. While Caesar of Rome, Hercules of Syria, and the Iranian emperor all responded in aggressive negation, some even tearing the letter that contained Quranic verses. As far as I have found out, there’s been very few incidents when a Companion’s sword did the justice. But to that end, my knowledge is limited and requires your input. If we can just find out from the life of the Prophet (s.a.w.) and his companions how they responded in those events, we may end up having a destination as a nation after all.
[Knowledge gain August 2009: The book Ar Rahiq ul Makhtoom gives references of murders of a jew called Kaab bin Ashraf and another blasphemer who were both murdered by Sahabah (ra) and that too after deceiving them! So we have a precedent after all]

What we definitely need is having a strong media base. We need to create more opinion makers – like one of my friends has previously said in a circulating email chain, there aren’t much good Muslim writers on Wikipedia -to divert the masses in our favor, we need to show them the other side of the picture, in a more humane way. And this can only be done when the Muslim Media are strong enough and more importantly, united enough to send out a singular message to the world. I know that the points raised in this write up are not new, but I’ve written them in the hope that they may be able to tap a newer audience and just may reignite our dormant fire of Iman.

All we need to do is to make a start, and with a pure heart. We just need to find our individual strengths – some of us are good orators, some are good writers, some are good presenters, the mathematicians, the scientists, the number crunchers, the architects, the pilots, the marines, the astronauts, the multi-linguals, the multi-culturals, each has a strength, a niche’ that sets him or her apart – and then find out how to put it to the best use for Islam. Taking time out is easy. Just start by giving 5% of your time to the brainstorming session. If we’re thinking about it the same way we think about that next picnic spot, the new restaurant, that next car, that elusive better job, or just about anything that we’re obsessed about, we can hope that Allah would lead us to the correct path.

And just signing off, there’s a verse in the Quran (I can’t remember the reference) whose message is: If the love of your parents, your sons and daughters, your spouse, your business, your wealth, your houses or just about anything is more than your love for ALLAH, then just wait in a far corner for ALLAH’s verdict, and Allah doesn’t like such Kafirs. [Knowledge gain August 2009: At Taubah:24] Let’s analyze ourselves again and again, and try to explore ourselves how we can make the change. Singly, I’m very weak, but with you, and the omnipresent help of Allah, we could be the most formidable force in the world.

This is the final part of a three part series, please find the earlier parts here and here.

Protests II

Posted in protest by baigsaab on February 28, 2008

This is the second part of a three part series, please find the first part here and the last part here.

If we look back at the last five years, there have been a number of such incidents where Muslims have been provoked by a seemingly harmless entity. Take for example, Nike’s new range of shoes in which the word “Air” was written to resemble “Allah” in Arabic; Burger king’s ice cream packaging where the cone was made to resemble “Allah” in Arabic; Wikipedia printing paintings depicting the Prophet (S.a.w.); Salman Rushdie being awarded British knighthood despite Muslim outrage. Muslims fail to understand the coincidence and the good intent behind these incidents. Apparently, the western corporate giants are trying to lure the huge Muslim population by putting the symbols known to them on their brands. It’s only that Muslims don’t see the friendly side of it at all. For them, fiddling with anything sacred to them is just blasphemy. Herein lies the problem of the west. If the west can bow to their Japanese guests saying “sayonara”, eat Chinese food with chop sticks, wear Hawaiian shirts on beaches – in short, respect and follow the traditions of other nations the way it’s recommended – then may be they can just know how to communicate with Muslims. But the question is who’ll show them the turn-ons and turn-offs of the Muslims. May be it’s the job of the Muslim administrations around the world.

Muslim governments on the other hand, are dealing with domestic violence and tension on borders. As these lines are being written, Turkey is at war against the Kurds, Iraq against the combating locals, Pakistan against the local Talibans, Afghanistan against the actual Talibans, The Fateh regime of Palestine against Hamas, Sudan dealing with the Darfur crisis, while other Muslim countries are also engaged in constant mind games from the rest of the world. With such problems at hand, Muslim rulers are not only already exhausted, the majority of them is not considered to be practicing Muslim by other Muslims. That, eventually – and quite rightly – becomes the job of the general Muslim population.

The plight of a common Muslim today is that he or she loves Islam but is not ready to follow it. People who don’t even offer Friday prayers still love Islam, but only as someone would love his birthplace. This is the same reason why we get to receive long email chains proclaiming Will Smith or Michael Jackson’s acceptance of Islam, there’s an inner desire in each and every one of the 1 billion strong Muslims to serve Islam, to preach its teachings, to show the world the correct side of Islam. However, we’re not inclined to first follow the same principles in our lives. We see someone with a beard and say “Masha ALLAH” and then step into the barber’s shop to fashion that goatee on our chin; we hear the Azaan and sit upright, and when it finishes, go back to the same reclining position. But the desire to do good doesn’t die, it may be dormant, but it’s there without argument. So when such an incident occurs, we feel extremely agitated, and with no knowledge of how to handle things, eventually end up following charlatans who convince them that killing any “Kafir” is the only way to salvation. Hence you see the suicide bombings, the beheadings of journalists and other instruments of terrorism. And unless we, the common Muslim, is educated enough, there’s no way we can convince the non-believers that for all the man-made problems created in this world today, Islam has the solutions for all of them.

This is the second part of a three part series, please find the first part here and the last part here.

Protests

Posted in protest by baigsaab on February 28, 2008

This is the first part of a three part series, please find the other parts here and here.

The Indus Highway is one of the busiest national routes connecting several important cities of Pakistan with one another. But the angry mob that shut it down for traffic was probably oblivious to this fact. The closure presumably forced dozens of commuters on either sides of the blockade to look for alternate routes or – even worse – wait indefinitely until the crowd scatters. The reason for the protest apparently was the reprinting of the blasphemous cartoons by the Danish papers. The result of the protest? As always, some burnt effigies, a few items set ablaze, broken windows etc. of which definitely none was a property of the sketcher, the paper, Denmark or even any foreigner. Those things must have belonged to one of our own people, who probably would have ended up having definitely negative thoughts about the mob – so much for making friends!

Several time zones away, the cartoonist responsible for the provocation was probably ensconced in the safety of his home. The papers publishing the trash are adamant on their so-called freedom of expression, the Danish government is unperturbed by the global outcry in the Muslim world, even after the threat of some Muslim countries to ban Danish products, and all that the Muslim governments can do is call the Danish envoy to the foreign office and “vehemently” protest to him, then asked him on tea and discussed the prospects of new trade scenarios with Denmark.

While all of this is going on, a new controversy is cooking in the financial capital of the world. In a busy Manhattan street, New york, a new building is being built. Nothing new and nothing wrong with that so far, except that it’s shaped as a cube and is colored black. And if you still don’t smell a rat, here’s the killer punch, the building’s being called Apple Mecca, and apart from being a showroom to Macintosh’s various products, is said to have a liquor bar of its own. A move that’s certain to draw further protest from Muslims all across the globe. More fervent protests are expected in response to this fresh episode of deliberately hurting Muslim sentiment. So one can predict that more violence is going to follow and again, the rioters will vent their anger on local properties instead of doing some meaningful protest.

This is the first part of a three part series, please find the other parts here and here.

Hat tip: Owais @ ExxSol