Baigsaab's Blog

ان سارے جزیروں کو کوئی کاش ملا دے

Posted in Islam, protest, Social revolution by baigsaab on July 15, 2013

کیا وقت ہے یہ بھی! ایسا لگتا ہے پوری دنیا میں اگر کہیں خون بہہ رہا ہے تو وہ مسلمان کا ہے۔ لگتا ہے زمین نے مسلمان خون کے علاوہ کچھ قبول کرنے سے انکار کر دیا ہو۔ وہ برما ہو یا فلسطین۔ شام ہو یا سوڈان۔ افغانستان، پاکستان، بنگلہ دیش ، بھارت، کاشغر، ہر جگہ مرنے والا کلمہ توحید کا ماننے والا۔ کہیں ریاستی جبر ہے تو کہیں بیرونی۔ پھر بھی تمام مسلمان حکومتیں ایک دوسرے کے حالات سے یا تو لا تعلق نظر آتی ہیں جیسے بنگلہ دیش افغانستان کے بارے میں یا پاکستان برما کے بارے میں ۔ یا وہ براہ راست اس ظلم کی مدد کر رہی ہیں، جیسے شام میں ایران اور حزب اللہ ۔ مصر کے حالات پر سعودی اور پاکستانی ہر دو قیادتیں خاموش۔

اس تقسیم کو اور علاقائی پیمانے پر لے آئیں اور محض پاکستان کا ذکر کریں تو یہاں بھی حالات دگرگوں ہیں۔ وزیرستان میں ڈرون حملے، کوئٹہ میں ہزارہ قبائل کی صورتحال، کراچی میں روز گرتی بظاہر بے نام لاشیں، پنجاب کی بند ہوتی صنعتیں، سندھ میں ونی کی گئی لڑکیاں ، بلتستان میں مرتے سیاح۔ پورے ملک میں ہوتے دھماکے۔ یہ بچوں کو کھانا کھلانے سے قاصر ،خودکشیاں کرتے اور ان کا علاج نہ کرا پانے کی خلش کے ساتھ زندہ رہنے والے ماں باپ ۔ قدم قدم پر چھوٹےچھوٹے کاموں کے لیے اہلکاروں کی مٹھی گرم کرنے کی مجبوری۔ ان میں سے ہر مسئلے کا ایک چیمپئن ہے۔ جس نے رشوت ستانی کا مسئلہ دیکھ لیا اس کے لیے قیدی چھڑانے والے کی جدوجہد لا حاصل، اور جو شہروں کے دھماکوں پر سراپا احتجاج ہے وہ ڈرون حملوں پر احتجاج کرنے والوں پر سراپا تنقید۔ جس نے سیاسی جدوجہد کا راستہ دیکھ لیا اس کے لیے دوسرے تمام طریقے بدعت اور جس نے اسلحہ اٹھا لیا اس کے لیے باقی سب طفل مکتب!

اس تفریق کا اور کسی پر اتنا منفی اثر نہیں ہوا جتنا مذہبی طبقہ پر۔ اس کی وجہ کیا ہے یہ ہم آگے دیکھتے ہیں ۔ فی الحال تو یہ دیکھ لیں کہ اوپر گنوائے گئے اور دیگر تمام مسائل کے ساتھ جب الیکشن ہوئے تو لوگوں نے اسلامی جماعتوں کو نہ صرف یہ کہ ان مسائل کے حل کے لیے اپنے اعتماد کے قابل نہیں سمجھا بلکہ ایک صوبے کے علاوہ ان کو اس دفعہ کہیں منہ بھی دکھانے کے قابل نہیں چھوڑا۔ پورے ملک کی ایک ہزار کے قریب صوبائی اور قومی اسمبلیوں کی نشستوں سے اسلامی جماعتوں کے ہاتھ کتنی آئیں؟ پندرہ فیصد؟دس فیصد؟ جی نہیں تین فیصد سے بھی کم یعنی بمشکل تیس سیٹیں۔

بات یہ ہے کہ اسلامی ،خاص طور پر اسلامی غیر سیاسی قوتوں کو واقعی اس بات کا ادراک ہوتا نظر نہیں آتا (یا وہ اظہار نہیں کرتے) کہ لوگوں میں ان کی جڑیں کتنی کمزور ہو چکی ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ مذہبی قائدین نے کسی خاص حکمت عملی کے تحت اپنے آپ کو ان حالات میں الگ تھلگ رکھا ہوا ہے۔ علماء زیادہ بہتر جانتے ہوں گے کہ اس کی وجہ کیا ہے اور اس کے لیے لازماً ان کے پاس دلائل ہوں گے ۔ اس سب کا نتیجہ یہ ہے کہ علماء اب معاشرے کی رہنمائی کے منصب سے دست کش ہو گئے ہیں۔ اس کے باوجود ایسا نہیں ہے کہ ہمارے دینی طبقے سکون میں ہیں۔ یہ آئے دن کی فرقہ وارانہ ہلاکتیں کیا علماء کی نہیں ہیں؟ کیا مولانا اسماعیل عالم نہیں تھے؟ کیا مفتی دین پوری صاحب کوئی غیر اہم شخصیت تھے۔ کیا مولانا اسلم شیخوپوری صاحب کوئی گزارے لائق مولوی تھے؟ پھر کیا گزشتہ رمضان کراچی کے سب سے بڑے دارالعلوم کا محاصرہ نہیں کر لیا گیا تھا؟ کیا گزشتہ رمضان میں ہی معتکفین کو مسجد میں گھس کر نہیں مارا گیا؟ کیا آئے دن مدارس کو زیادہ سے زیادہ حکومتی کنٹرول میں لیے جانے کی باتیں نہیں ہور ہیں؟ اس سب کے بعد جب کراچی کے صف اول کے علماء میں سے ایک عالم ، جن کے اپنے مدرسے کے اساتذہ اور طلبہ حالیہ مہینوں میں شہید کیے جا چکے ہیں، ملک کے نو منتخب وزیر اعظم کو ایک کھلا خط لکھتے ہیں تو یقین جانیے ایک لمحے کو تو دل میں ایک موہوم سی امید یہ آئی تھی کہ شاید یہ بھی مصر کے عزّ بن عبد السلام کی روایت قائم کریں گے۔ شاید یہ بھی بادشاہ وقت کو اس کے مفرد نام سے پکاریں گے اور اس کو کسی معاشرتی برائی کی طرف متوجہ کریں گے۔ شاید انہوں نے سود کے خلاف ایکشن لینے کو کہا ہوگا، شاید ڈرون حملوں کے خلاف بات ہو گی، شاید امریکہ کی جنگ سے نکلنے کا حکم دیا ہو گا، شاید احادیث کی روشنی میں اور قرآن کی آیات کی رو سے کسی کافر کے شانہ بشانہ کھڑے ہو کر کسی مسلمان کے خلاف جنگ کرنے کے خلاف وعیدیں سنائی ہونگی۔ شاید مہنگائی کے خلاف بات کی ہوگی، شاید شیعہ سنی فرقہ واریت ختم کرنے کی بات ہوگی، شاید ناموس رسالت ؐ کی حفاظت کے بارے میں کوئی ہدایات ہونگی، شاید رشوت کے خاتمے اور سفارش کی روک تھام کی بابت تنبیہہ ہو گی اور شاید اور کچھ نہیں تو حاکم وقت سے اللے تللے ختم کرنے کی بات ہوگی۔ مگر حیف صد حیف کہ خط جب پڑھا تو اس کا لب لباب تھا کہ ‘جناب اعلیٰ قبلہ وزیر اعظم صاحب دام اقبالہ سے گزارش ہے کہ جمعے کی ہفتہ وار تعطیل بحال فرما دیں”!! یقین کریں اگر کسی ملک کا سب سے بڑا مسئلہ صرف یہ ہے کہ ہفتہ وار تعطیل کس دن کرنی ہے تو ہماری رائے میں وہ ملک روئے ارضی پر جنت سے کم نہیں۔

بہ صد ادب کہ حضرت کی امامت میں بارہا نمازیں ہم بھی ادا کر چکے ہیں کہ ان کا تدیّن باعث تحسین ہے، میری نا چیز رائے میں ایسے بے سروپا اقدامات کی وجہ صرف اور صرف ایک ہے۔ ایک مرکزی قیادت کی غیر موجودگی۔ اگر ہمارے ان بزرگوں کی کوئی مرکزی قیادت ہوتی تو ان کے اقدامات اتنے افراتفری کا شکار نہ ہوتے۔ قیادت لیکن ایسے ہی پیدا نہیں ہو جاتی اس کے لیے کئی اہل لوگوں کو قربانی دینی پڑتی ہے۔ ہمارے بڑوں میں سے کچھ کا حال تو یہ ہے کہ اپنے مرتبے اور رتبے کا بھی خیال نہیں کرتے اور مخالفین کو ایسے ایسے ناموں سے پکارتے ہیں کہ کوئی دشمن بھی کیا پکارے گا۔ مشرک، بدعتی، جنت کے طوطے، بینکر، مردودی، پراسراری، نجدی، وہابی، دیوگندی، یہ سارے نام کلمہ توحید کے ماننے والوں کے ایک گروہ کے منہ سے دوسرے گروہ کے لیے نکل رہے ہیں۔ ایمان کے بعد برا نام لینا بھی برا ہے، سورۃ الحجرات کیا کہہ رہی ہے کیا ہم بتائیں آپ کو؟ اور انہی گروہوں کے ذرا اپنے بزرگوں کے لیے تراشے ہوئے القابات ملاحظہ کیجیے۔ کسی کو رومی ثانی کہا جا رہا ہے، کسی کو شیخ العرب والعجم، کسی کو مجدد ملت، کسی کو شیخ الاسلام، کسی کو بلبل مدینہ کہا جاتا ہے تو کسی کو عارف باللہ۔ کسی کے نام میں دامت برکاتھم کا لاحقہ لگا ہے اور کسی کے ساتھ حفظہ اللہ اور کسی کے ساتھ نور اللہ مرقدہ اور کہیں پر قدس اللہ سرہ۔ یہ افراط و تفریط ایسے ہی نہیں ہے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ یہ بزرگان دین ان ناموں کے اہل نہیں، ان میں سے چند یقیناً ہونگے بھی۔ لیکن ان سابقوں اور لاحقوں پر مرنے مارنے کو دوڑنے سے پہلے اس ہستیؐ کے نام کی اگر حفاظت کر لی جاتی جس کے طفیل ان بزرگوں کی عزت ہے تو یہ ان کے لیے یقیناً زیادہ باعث افتخار ہوتا۔

توہین ناموس رسالت کے واقعات اگر بڑھ رہے ہیں تو کسی وجہ سے بڑھ رہے ہیں۔ مسلمانوں کا نام ہر جگہ دہشت گردی میں لیا جا رہا تو کسی وجہ سے لیا جا رہا ہے۔ اس کی ایک ہی وجہ ہے، اور وہ ہے ایک مرکزی، متفقہ قیادت کی عدم موجودگی جو مسلمانوں کو بحیثیت مجموعی ایک لائحہ عمل طے کر کے دے۔ OIC یا عرب لیگ نہیں بلکہ ایسی قیادت جو واقعی مسلمانوں کو ایک جسد واحد کی طرح چلائے۔ جس کی ایک خارجہ پالیسی ہو، ایک مالیاتی پالیسی ہو، ایک صنعتی پالیسی ہو۔ چاہے تعلیمی اور داخلی پالیسیاں کچھ مختلف بھی ہوں تو اس بکھری ہوئی بے مہار امت میں پھر سے جان پڑ جائے گی۔ مسلمانوں کی عالمی سطح پر پھر ایک آواز ہوگی۔ اگر تمام مسلمان ممالک اس بات پر اصولی طور پر متفق ہو جائیں تو پھر اس ادارے کو آپ خلافت کا نام دے لیں یا ریاستہائے متحدہ اسلامیہ کا، بات ایک ہی ہے۔ مسلمان ممالک میں مقتدر طبقات کے مفادات اس معاملے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔ اور پھر وہ اپنے ملک کے دینی طبقات میں سے چند لوگوں کو خرید کر اپنا الو سیدھا کرلیتے ہیں۔ محض چند اختلافات کی بناء پر النور پارٹی نے الاخوان کا ساتھ چھوڑ دیا۔ مرسی کو نکال کر جو نگران حکومت بنی ہے ا س میں النور کا بھی کچھ حصہ ہے مگر انتظار کیجیے کہ کب اس کو دودھ میں سے مکھی کی طرح نکال پھینکا جاتا ہے۔ ایسے ہی ہماری دینی جماعتیں ایک دوسرے کی سعی کو ناکام بناتی ہیں، کہیں دانستہ کہیں انجانے میں۔ ایک دوسرے کے پیچھے نماز تو پڑھ لیتے ہیں لیکن ہاتھ میں ہاتھ نہیں دیتے۔ اخلاقی ہمدردی تو کرتے ہیں لیکن عملی ساتھ نہیں۔ لال مسجد کا سانحہ ہوا لیکن پورے ملک کی مذہبی جماعتوں نے سوائے ایک رسمی احتجاج کے اور کچھ نہیں کیا۔ وجہ اس کی یہ تھی کہ ان کو مولانا عبدالرشید کے طریقے سے اختلاف تھا۔ سب نے مانا کہ لال مسجد کے معاملے کو حد سے بڑھانے میں پرویز مشرف کا کتنا گھناؤنا کردار تھا۔ کیسے اس نے ایک پھنسی کو پھوڑا بننے دیا اور پھر اس کو ریاستی طاقت سے ایسا کچلا کہ آج تک اس کے اثرات محسوس کیے جاتے ہیں۔ یہ سب مان کر بھی، اور یہ سب جان کر بھی، محض ‘تشریح’ کے فرق کی بنیاد پر ہمارے دینی طبقے نے اخلاقی ہمدردی کو ہی کافی سمجھا اور اس معاملے کو اس مقام تک جانے دیا کہ جہاں محض بے بسی سے تماشہ ہی دیکھا جا سکتا تھا۔ پرویز مشرف نے ایک ایک کر کے یہی کھیل باقیوں کے ساتھ بھی کھیلا ہے۔ کہتے ہیں جرمنی میں نازیوں نے بھی ایسا ہی کیا تھا۔ اس زمانے کے ایک پادری کا یہ مشہور ٹکڑا تو آپ نے سن ہی رکھا ہوگا ؏

First they came for the communists,
and I didn’t speak out because I wasn’t a communist.

Then they came for the socialists,
and I didn’t speak out because I wasn’t a socialist.

Then they came for the trade unionists,
and I didn’t speak out because I wasn’t a trade unionist.

Then they came for me,
and there was no one left to speak for me.

محض دین کی تشریح کے فرق کا مطلب ہے کہ ہر جماعت نے سنت نبوی ؐ کا مطالعہ کر کے حضورؐ کی حیات طیبہ میں سے جو چیز سب سے زیادہ اہم سمجھی اس کو اپنی جدوجہد کا مرکز بنا لیا۔ کسی نے تبلیغ کو اہم سمجھا، کسی نے جہاد کو، کسی نے سیاست کو اپنا میدان عمل بنایا تو کسی نے خیراتی کاموں کو، کوئی مسجد کی تعمیر کر رہا ہے تو کوئی مدرسہ تعمیر کیے چلا جا رہا ہے، کوئی ذکر و اذکار کے ذریعے سنت پر عمل کر رہا ہے تو کوئی تحریکی کا م کر کے ایک منظم جماعت تشکیل دینے کا خواہش مند ہے۔ حضور نبی کریمﷺ کی حیات طیبہ میں ہمیں ان میں سے اکثر کام کسی نہ کسی وقت میں کسی نہ کسی درجہ میں ملتے ہیں۔ سیرت طیبہ ؐ میں ہم جہاد بھی دیکھتے ہیں اور تبلیغ بھی، جماعت سازی بھی دیکھتے ہیں اور ریاست کے امور پر مکمل گرفت بھی دیکھتے ہیں۔ معجزہ یہ ہے کہ جو کام اللہ کے رسول ؐ نے تن تنہا انجام دیا، آج کئی کئی تنظیمیں مل کر بھی نہیں کر پارہیں۔ اس پر مستزاد یہ کہ ایک دوسرے کے کام سے متفق نہ ہونے کی وجہ سے پہلے بحث پھر اختلاف اور پھر سیدھا سیدھا ضد کا معاملہ ہو جاتا ہے ۔ پھر چونکہ معاشرہ میں دینی جماعتوں سے تعاون کرنے والوں کا ایک وسیع مگر بالآخر محدود طبقہ ہے تو ان کا تعاون انہی جماعتوں میں آپس میں تقسیم ہو جاتاہے ۔ کئی مسجدوں میں ایک سے ڈیڑھ کروڑ روپے کے مینار کی تعمیر ہو جاتی ہے جبکہ وہی پیسے کسی اور جگہ کسی دوسرے ، زیادہ ضروری مقصد میں استعمال ہو سکتے تھے۔ لے دے کے بات وہی ایک مرکزی قیادت کی ہے جو ان سارے اثاثوں کی امین ہو اور نہایت دیانت داری اور خداخوفی کے ساتھ اس مال کو استعمال کرے۔ ایک آواز ہو۔ جو اس سے ہٹ کر چلے وہ صاف نظر آجائے کہ یہ دین کا نمائندہ نہیں۔ پہلے ایک شہر میں ایسا اتحاد بن جائے پھر اس کو ملک تک پھیلا دیں۔ یہ مشکل ضرور ہے، ناممکن نہیں ۔

اگر ایسا اتحاد نہیں ہو پا رہا تو قصور عوام کا بھی ہے لیکن اصل قصور میرے نزدیک ان عقیدتمندوں کا ہے جو علماء کے اردگرد گھیرا ڈال کر رکھتے ہیں۔ آج کے دور میں کسی بڑے عالم سے بات کرنا، اس سے کچھ ذاتی طور پر پوچھ پانا اس قدر مشکل کام ہے کہ جب تک آپ کے پاس کوئی بڑی سفارش نہ ہو آپ علماء سے مل نہیں سکتے۔ اس کی وجہ وہ درمیان کے عقیدتمند ہیں جن کے نزدیک ان کے ‘حضرت’ سے کوئی سوال پوچھنا اگر گناہ کبیرہ نہیں تو مکروہ ضرور ہے۔ ایک عقیدتمند ‘حضرت’ کی ویب سائٹ سنبھال رہے ہوتے ہیں تو دوسرے صاحب کے نزدیک کسی کا ان کے شیخ کو براہ راست فون کر لینا مداخلت فی الدین کے زمرے میں آنا چاہیے۔ اس سے زیادہ آسان تو ٹی وی اور ریڈیو پر آنے والے ان نوسربازوں کو کال کرنا ہوتا ہے جن کے لیے رمضان، ربیع الاول، محرم اور ذی الحجہ مقدس کم اور کمائی کے مہینے زیادہ ہیں۔ عوام ایسے ہی نہیں علماء سے کٹ رہے۔ ایک جمعہ کے اجتماع میں راقم نے امام صاحب کو کہتے سنا کہ ‘عوام کو علماء کی ضرورت ہے، علماء کو عوام کی نہیں’ یہ مقولہ شاید پچیس سال پہلے صحیح تھا مگر آج نہیں۔ Rand Corporation کی سفارشات میں صاف لکھا ہے کہ ایسے علماء جو روایت پسندوں کی صف میں آتے ہیں ان کی جگہ ایسے لوگوں کو میڈیا پر لایا جائے جن کی شہرت ترقی پسندوں کی ہے، جن کو مسجدیں نہیں ملتیں۔ جو شراب کی حرمت کے بارے میں شکوک پیدا کریں، جو بدعات کی ترویج میں ممد ہوں ، جو فحاشی کو نئے معانی پہنائیں۔ اور پچھلے آٹھ دس سالوں میں ان سفارشات پر عمل کے نتیجے میں آپ دیکھ لیں کہ اس وقت سب سے زیادہ دیکھا جانے والا پروگرام ایک ایسے پوشیدہ رافضی کا ہے جو عام محفل میں صحابہ کرامؓ کی شان میں گستاخی کرتا پکڑا گیا اور ابھی بھی تقویٰ کا لبادہ اوڑھے رمضان میں نئے نئے کرتب دکھا رہا ہے۔ یہ ذمہ داری عوام کی بھی ہے کیونکہ ان کو اپنے عمل کا حساب خود دینا ہے۔

لیکن علماء کو بھی تو اپنے نمائندے چننے میں احتیاط کرنی چاہیے۔ گزشتہ شوال میں چاند کی رویت پر جو فساد ہمارے ملک کی سب سے بڑی سیاسی مذہبی شخصیت نے بپا کیا وہ آنے والے دنوں کی ایک جھلک تھا۔ یہ خبر بہت نمایاں نہیں ہوئی ورنہ شوال اکتیس دن کا ہوتا نہیں ہے۔ اس ‘اہل حق کے مینار’ نے ایک صوبے میں اقتدار حاصل کرنے کے لیے وہ وہ پینترے بدلے ہیں کہ اچھے اچھے ماہر کرتب بازوں کو پسینہ آجائے۔ اب تو لگتا ہے کہ آنجناب کا مقصد محض اقتدار کا حصول ہے چاہے اس کے لیے وہ امریکی سفیر کے پاس خود چل کر جائیں۔ دین محمدی ؐکے ماننے والوں کو اگر اقتدار مانگنے کے لیے در در کی بھیک مانگنی پڑے تو ایسے اقتدار سے دوری ہی بھلی۔ علماء کا کام دین کی حفاظت کرنا ہے ، اگر اقتدار حاصل کر کے حفاظت ہوتی ہے تو ٹھیک نہیں تو چار حرف بھیجیے ایسے اقتدار پر جس میں عزت سادات بھی ضائع ہونے کا اندیشہ ہو۔ چار حرف بھیجیے ایسے نمائندوں پر جن کے رہتے نہ مدرسے بچیں نہ اساتذہ۔ نہ طالبعلم بچیں نہ طالبات- جنہوں نے سب سے پہلے نعرہ لگایا کہ ‘طالبان اسلام آباد سے سو کلومیٹر پر رہ گئے ہیں’ اور وہاں سے کوڑوں کی ایک جعلی ویڈیو نکل آئی اور پھر سوات میں لاکھوں لوگ اپنے ہی ملک میں بے گھر ہو گئے۔ سب سے پہلے تو ان نام نہاد نمائندوں سے علمائے دین کو اپنے آپ کو بچانا ہوگا ۔

اس سلسلے میں وہ لوگ جو واقعی کسی عالم کے قریبی حلقے سے تعلق رکھتے ہیں وہ اپنے عالم سے بات کریں۔ ان سے سوال کریں ، کچھ مواقع پر ادب ہلاکت کا باعث ہو جاتا ہے۔ آپ صحابہ کرامؓ سے زیادہ اپنے حضرت کی تعظیم نہیں کر سکتے ۔دین کے معاملے میں صحابہ کرامؓ کبھی نہیں شرماتے تھے، سوال کرتے تھے۔ تو اپنے حضرت سے پوچھیں کہ دوسرے علماء میں برائی کیا ہے۔ اس کو دوسرے عالم سے رابطہ بڑھانے میں مدد کریں۔ ایک دوسرے کے لیے جو ان کے دلوں میں کچھ غلط فہمیاں ہیں وہ ختم کرائیں۔ دوسرے مسالک سے رابطہ بڑھانے میں مدد کریں۔ شدت پسندی اور تمسخر سے نہ دوسرا مسلک ختم ہوگا نہ اس کے ماننے والے۔ یہ سولہویں صدی کا اسپین نہیں ہے جہاں تمام ‘دوسروں’ کو جہازوں میں بٹھا کر افریقہ کے ساحلوں کی طرف روانہ کر دیا جائے۔ تو ہمیں ایک ساتھ ہی رہنا ہے، تو اس ساتھ کو کیوں نہ خوشگوار بنا لیا جائے؟ اگر آج (رمضان۱۴۳۴ ہجری) کی رویت ہلال جیسا ماحول پورے سال رہے تو یہ ملک اور یہ دین بہت جلد امن کا نشان بن جائے گا ان شاء اللہ۔ آج کوئی چھوٹا نہیں ہوا ، بلکہ سب اور بڑے ہو گئے۔ سب صحیح ہوئے اور کوئی غلط بھی نہیں ہوا۔ تو یہ اکثر دوسرے مواقع پر بھی ہو سکتا ہے۔

علماء کے لیے اپنی جگہ مضبوط ہونا ضروری ہے کیونکہ ستون تو مضبوط ہی ہوتا ہے اسے اپنی جگہ سے ہلنا نہیں چاہیے۔ ان کے لیے الگ الگ نظر آنے میں کوئی ایسی برائی نہیں کیو نکہ مہیب سمندر میں جزیرے اور بھی خوبصورت لگتے ہیں۔ بس ہم چاہتے ہیں کہ یہ دینی طبقے کسی ایک قیادت پر متفق ہو جائیں اور پھر للہیت کے ساتھ اس پر صبر کریں۔ ایک چھت جب مل جائے گی تو اس کے سائے میں یہ ستون بھی آئیں گے۔ بس اس کے لیے مجھے، آپ کو، ہر اس شخص کو جو کسی بڑی مذہبی شخصیت کے حلقے تک رسائی رکھتا ہے اس کو ایک پل کا کام کرنا ہے جو کسی طرح ا ن تمام جزیروں کو آپس میں ملا دے۔ اگر ہم نے صرف یہی کوشش کر لی اور اس میں اخلاص کا دامن نہیں چھوڑا تو اللہ سے امید ہے کہ وہ ہم کو روز قیامت رسوا نہیں کرے گا۔ بصورت دیگر، فرقہ بندی کو بھڑکانے میں کہیں ہم بھی حصہ دار نہ بن جائیں!


Photo credit: gnuckx / Foter / CC BY

Advertisements

فحاشی کی ‘تعریف’ میں

Posted in Islam, Rants by baigsaab on September 4, 2012

دنیا کا کوئی ملک ایسا نہیں جہاں کسی نہ کسی وقت کوئی پالیسی بحث نہ چل رہی ہو ۔لیکن پاکستان ان ملکوں میں سے ہے جہاں پالیسی بحث حل یا عمل کے لیے نہیں ٹائم پاس اور تفریح کے لیے ہوتی ہے۔ اس وقت بھی ایک بحث چھڑی ہے۔ یہ نہیں کہ ‘خط’ لکھنا ہے کہ نہیں۔ یہ بھی نہیں کہ پانی سے گاڑی چلانے کے لیے کتنے وزیر چاہییں۔ اور یہ تو بالکل نہیں کہ جمہوریت کے ذریعے عوام سے بہترین انتقام لینے کے بعد اگلے 5 سال کیا کرنا ہے۔ وہ بحث جس کا ہم تذکرہ کر رہے ہیں وہ یہ ہے کہ ‘فحاشی’ کیا ہے؟ جی ہاں۔ فحاشی۔ جسے ہم عریانیت یا جنسیت یا بے ہودگی بھی کہہ سکتے ہیں۔ یہ بحث عدالت عظمیٰ کے حکم پر پیمرا … جو کہ ملک میں الیکٹرانک میڈیا کو کنٹرول کرنے کا ادارہ ہے… اور کچھ مذہبی اور سماجی دانشوروں کے درمیان جاری ہے۔ بحث کیوں ہوئی کیا ہوئی اور کچھ لوگوں کو میڈیا میں فحاشی کیوں نظر نہیں آتی یہ جاننے کے لیے ہم بچوّ بھائی کے پاس گئے۔ بچّو بھائی کون ہیں ۔ بس سمجھ لیں ‘گرو ‘ ہیں ۔ کیا چیز ہے جو انہوں نے نہیں دیکھی۔ اور ان معاملات میں ان کی ‘نظر’ بہت وسیع ہے۔ جب ہم بچوّ بھائی کے پاس پہنچے تو وہ کسی لبرل دانشور (جو کہ ہر لبرل ہوتا ہے) سے بات کر رہے تھے جن کو فحاشی نظر نہیں آرہی تھی ۔ بچوّ بھائی چاہتے تھے وہی انجیکشن قاضی صاحب کو بھی لگا دیں تاکہ یہ بحث ختم ہو۔ بچو بھائی کہہ رہے تھے۔

” جی تو میرے بھائی آپ مجھے وہ میڈیا دکھا دیں گےجس میں آپ کو کو ئی برائی نظر نہیں آتی؟ اچھا تو چلیں میرے گھر چلتے ہیں۔ بس یہ 5 منٹ کے راستے پر ہے گھر میرا۔۔ ارے رے سامنے دیکھئے بھائی کیا کر رہے ہیں؟ اوہ اچھا آپ وہ بورڈ دیکھنے لگ گئے تھے جس میں کوئی لباس خاتون میں سے جھانک رہا تھا۔ جی جی آپ کی نیت پر شک نہیں کر رہا توبہ کریں ۔ جی ویسے تو وہ بورڈ بھی آپ نے بہت غور سے دیکھا تھا جس میں موبائل نے لڑکی کے ساتھ تصویر کھنچوائی ہے ۔ ظاہر ہے ساری خوبیوں کو بغور دیکھنا پڑتا ہے، جی جی موبائل کی خوبیاں اور کیا۔ دیکھیے منہ تو بند کر لیں لوگ کہیں گے کبھی لڑکی نہیں دیکھی ۔ اچھا دیکھیں گھر آگیا۔

جی تو حضرت آپ نے وضو کر لیا؟ ارے وضو تو کریں اتنے پاک میڈیا کو بغیر وضو دیکھیں گے کیا؟ چلیں خیر لیکن یہ ‘آداب’ کے خلاف ہے۔سب سے پہلے خبروں کا چینل دیکھتے ہیں۔ یہ کیا؟ یہ لڑکی اتنا تیار ہو کے کیوں بیٹھی ہے کیا یہاں سے سیدھا اپنی شادی میں جا رہی ہے؟ اچھا معذرت ہم تو خبریں دیکھ رہے تھے لڑکی کے تیار ہونے میں تو کوئی فحاشی نہیں۔ خیر تو یہ تو کچھ ضروری خبر لگ رہی ہے۔ اچھا وزیر اعظم کو خط لکھنا پڑے گا؟ لیکن یہ ساتھ میں گانا کیوں ہے؟ اوہ اچھا خبر کا اثر زیادہ ہوتا ہے۔ اور یہ لڑکی کے چہرے اور آستینوں کا رنگ ایک کیوں ہے؟ او ہ اچھا آستینیں ہیں ہی نہیں ۔ ہاں لیکن یہ تو فحاشی نہیں انڈین گانا تھا نا وہاں تو ہر گھر میں ایک کرینہ کپور ہوتی ہے۔ آئیں دعا کریں ان کافروں کواللہ ہدایت دے دے۔ اچھا تو اشتہار آگئے۔ یہ فون کے ساتھ بندہ بھی وائبریشن پر ہے کیا؟ فون ڈانس کر کے کیوں بیچ رہے ہیں ؟ اور یہ لڑکی کی پیٹھ کیوں برہنہ ہے سردی لگ جائے گی بھئی۔ اچھا کم کپڑوں میں سگنل اچھے آتے ہوں گے۔ یہ کھانسی کا شربت ہے۔ اشتہار دیکھ کرپتہ لگ رہا ہے کھانسی ہوئی کیوں تھی۔ تھوڑا فاصلہ رکھنا چاہیے تھا۔ اور یہ چپل بغیر گانا گائے نہیں بیچ سکتے؟ آپ نے آج تک کسی کو صرف چپل کی وجہ سے اتنا خوش ہوتے دیکھا ہے؟ ویسے یہ تینوں لڑکیاں اگر یہ سمجھ رہی ہیں کہ چپل کپڑوں کی کمی کو پورا کر دے گی تو یہ ان کی غلط فہمی ہے۔ یہ بھی ٖفحاشی نہیں؟ چلیں پھر کوئی ڈرامہ دیکھ لیتے ہیں۔ یہ اچھا ڈرامہ لگ رہا ہے۔ میاں بیوی بات کر رہے ہیں۔ ٍ یہ تو رومینٹک ہو گئے۔ اچھا کمرے میں تو کوئی نہیں ہے ظاہر ہے کیمرہ مین تو کیمرہ کے پیچھے ہے اور میاں بیوی ہی تو ہیں ایک دوسرے کے نہیں تو کیا ہوا کسی نہ کسی کے تو ہیں۔ یہ دو کون ہیں؟ اچھا پریمی ہیں۔ ایک دوسرے سے پیار کرتے ہیں۔ ہاتھ میں ہاتھ ہی تو لیا ہے کوئی آگے تو نہیں بڑھے نا۔ ارے یہ تو آگے بڑھ گیا۔ فحاشی لیکن یہ بھی نہیں معاشرہ میں یہی کچھ تو ہورہا ہوگا۔ چلیں دوسرا ڈرامہ دیکھتے ہیں۔ یہ ڈرامہ بھی مشہور ہے اس میں معاشرے کی سب سے ضروری چیز کے بارے میں آواز اٹھائی گئی ہے۔ جی جی طوائف کے بارے میں۔ ارے یہ ڈائیلاگ سن کے آپ کے کان لال ہو گئے؟ اچھا گرمی زیادہ ہے۔ ڈائیلاگ تو کرارا تھا ویسے۔ اور یہ اس آدمی نے پانی میں کیا ملایا بھلا؟ اچھا شراب ہے۔ ہم سمجھے کوئی حرام شے ہے۔ یہ بھی فحاشی نہیں؟ چلیں اسپورٹس دیکھ لیتے ہیں ۔ آئی پی ایل چل رہا ہے نا آج کل ۔ واہ کیا زبردست بیٹنگ کر رہا ہے مزا آگیا۔ اور یہ چوکاااااا۔ ارے یہ لڑکیوں کو تو ہم سے زیادہ خوشی ہو گئی پورے اسٹیڈیم میں سب سے زیادہ یہی ڈانس کر رہی ہیں۔ کرکٹ کا اتنا شوق ہے بھئی واہ جی خوش کر دیا لڑکیو جہاں رہو سکھی رہو۔ جی بھائی تو آپ کو ابھی بھی کوئی فحاشی نہیں ملی؟ واقعی میں؟ شرفوبھئی ان کے خون کا سیمپل لے لو اور لیبارٹری میں دے دو۔ پانی والی گاڑی میں اسی میٹیریل کا ٹائر ڈا لیں گے کبھی پنکچر نہیں ہوگا دیکھنا۔ ابے بھاگا کہاں جا رہا ہے۔ دیکھ تو سہی صاحب کو درشن کر لے ان کے۔ ایسا ایمان ہے ان کا اسٹیل سے بھی مضبوط۔ اور ایک تو ہے ذرا سی بات پر تیرے ایمان کو خطرہ ہوجاتا ہے۔ یہ بھی بیٹا پاکستان کی اپنی ایجاد ہے پوری دنیا میں ایسا میٹیریل کہیں نہیں ملے گا۔ تجھے بھی غیرت کا ہیضہ رہتا ہے نا سیکھ کچھ ان سے سیکھ!”

یوسفی صاحب کہتے ہیں کہ جب کیلے کے چھلکے پر پاؤں پڑ جائے تو سنبھلنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے، اس پھسلنے کو انجوائے کرنا چاہیے۔ بس یہ قطعہ وہ چھلکا سمجھ لیں۔ ایک بڑے امریکی اخبار کے ایڈیٹر نے ایک دفعہ کہا تھا کہ دنیا کا ہر مضمون نگار صرف اور صرف ایک وجہ سے لکھتا ہے۔ غصہ!

آج سے 30 سال پہلے اگر متوسط طبقے کا ایک پاکستانی گھرانہ کوئی پروگرام ٹی وی پر دیکھ رہا ہوتا تھا تو اس کو کم از کم دو باتوں کی فکر بالکل نہیں ہوتی تھی ۔ ایک چینل تبدیل کرنے کی (کہ ملک میں تھا ہی ایک چینل، کچھ شوقین دور درشن دیکھتے تھے لیکن کافی پاپڑ بیلنے کے بعد)، اور دوسری فکر کوئی ایسا منظر ٹی وی پر آجانے کی کہ جس کو دیکھنے کے لیے ماں باپ بچوں کو پانی لینے بھیج دیں۔ اس زمانے میں عموماً گھروں میں وی سی آر مانگ کر یا کرایہ پر لایا جاتا تھا۔ انڈین فلم چلتی تھی اور سب گھر والے اور دوسرے رشتہ دار بھی آتے تھے اور سب کے بیچ میں یہ وی سی آر چلتا تھا۔ ان فلموں میں جو گانے وانے اور دیگر خرافات ہوتے تھے وہ تو بڑھا دیئے جاتے تھے ۔ ‘بد تمیزیاں’ زیادہ ہونے کی صورت میں ‘ وی سی آر مینیجر ‘ کی پٹائی بھی ہوسکتی تھی۔ یہ کوئی انتہا پسند گھرانے نہیں تھے۔ یہ وہ زمانہ تھا کہ شرفاء کے گھروں میں شوہر کا اپنی بیوی کا ہاتھ لوگوں کے سامنے پکڑ لینا ایک شدید معیوب بات سمجھی جاتی تھی اور گھر کا کوئی بڑا بوڑھا فوراً ہی اس حرکت پر سرزنش کر دیا کرتا تھا۔ اس معصوم زمانے میں بھی کچھ لوگ تھے جو وی سی آر جیسی ‘بے ضرر’ چیز کو حرام مانتے تھے۔ یہ وہ مولوی ٹائپ لوگ تھے جو بیسویں صدی میں داخل ہوئے ہی نہیں بلکہ دروازے پر ہی کھڑے ہو گئے۔ ان لوگوں کو محافل میں بلانے کے لیے کافی اہتمام کرنا پڑتا تھا۔ جیسے کہ دعوت کا جلدی انعقاد کرنا اور ان کا جلد از جلد نکلنا یقینی بنانا تاکہ ‘اصل’ دعوت شروع کی جا سکے۔ وغیرہ وغیرہ۔ دوسری انتہا پر وہ ماڈرن طبقہ تھا جو مغرب کی طرف دیکھتا تھا۔ اس کے ہاں حدود و قیود کا تعین مغرب کی اقدار کی روشنی میں ہی کیا جاتا تھا۔

آج تیس سال بعد، وہ مولوی ٹائپ لوگ اکثر و بیشتر ابھی تک اپنی ‘ہٹ دھرمی’ پر قائم ہیں۔ ٹی وی کے بارے میں بالعموم وہ اپنا نظریہ تبدیل کر چکے ہیں لیکن حیاء اور شرم، بے ہودگی اور فحاشی کا معیار ابھی بھی ان کے ہاں شریعت اور علماء ہی بتاتے ہیں۔ دوسری طرف وہ مغرب زدہ طبقہ ہے جس کا قبلہ ابھی بھی مغرب ہی ہے۔ اس عرصے میں جیسے مغرب میں اخلاقیات تبدیل ہوئی ہیں ویسے ہی ان کے ہاں بھی ہوئی ہیں ۔ مغرب میں پچھلے 25 سال میں ہم جنسیت ایک قابل نفرین سے قابل تقلید شے میں تبدیل ہوئی تو ان کے ہاں درجنوں آل قوم لوط پیدا ہو گئے۔

تبدیلی اگر آئی ہے تو ان گھرانوں میں جہاں مذہبی پہرہ نسبتاً نرم تھا۔ آج تقریباً ہر گھر میں 100 سے زائد چینل ہیں۔ ہر طرح کا مواد انگوٹھے کی ایک جنبش سے دیکھا جا سکتا ہے۔ تیس سال پہلے جن مناظرپر وی سی آر مینیجر کی پٹائی ہو جاتی تھی آج تیس سال بعد وہ نہ صرف قابل قبول بلکہ قابل تحسین بھی ہیں۔ تیس سال پہلے کی انڈین ہیروئین کے کپڑے جن لوگوں کو مختصر لگتے تھے آج اپنی بچیوں کو شیلا اور منی بنے دیکھ کر پھولے نہیں سما رہے۔ تیس سال پہلے شوہر اپنی بیوی کا ہاتھ نہیں پکڑ سکتا تھا۔ اب جب تک میاں بیوی اپنی کوئی ایسی تصویر فیس بک پر نہ لگا دیں جس میں دونوں کے درمیان ہوا بھی نہ گزر سکے تب تک لوگ سمجھتے ہیں دونوں میں الفت نہیں۔ ہر وقت ہر جگہ پیار و محبت کا اظہار اپنی جگہ۔

یہ اتنی بڑی تبدیلی کیسے آئی؟ ویسے تو رینڈ کارپوریشن کی پاکستان پر تین رپورٹیں کافی ہیں اس کام کے لیے لیکن اگر ہم تھوڑا وسیع جائزہ لیں تو یہ تبدیلی صرف پاکستانی معاشرے میں نہیں آئی ہے۔ 1990 سے پہلے کی ہالی وڈ کی فلموں اور اب کی فلموں میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ جیسا ہم نے پہلے لکھا، ہم جنس پرستی 25 سال پہلے کے امریکی معاشرہ میں ایک معیوب ہی نہیں نہایت گھٹیا فعل سمجھی جاتی تھی۔ لیکن آج سے قریب 7 سال پہلے ‘بروک بیک ماؤنٹین ‘ نامی فلم کو تین آسکر ایوارڈ اور کئی نامزدگیاں دی گئیں ۔ فلم کا عنوان لواطت تھا۔ فلم کو اس قدر پذیرائی ملنے کی ایک بہت بڑی وجہ یہ تھی کہ امریکی میڈیا میں عام طور پر اور انٹرٹینمنٹ صحافت میں خاص طور پر ایک طویل عرصے سے ایسے لوگ داخل ہو رہے تھے جن کا یا تو جنسی رجحان اس طرف تھا یا وہ سستے پیسے اور شہرت کمانا چاہتے تھے۔ ان لوگوں نے باقاعدہ ایک مہم کے طور پر اس عمل کو لوگوں کی نظروں میں خوشنما یا کم از کم ناقابل نفرت بنا دیا ہے۔ اس تمام مہم کا منطقی انجام یہ ہے کہ اب ‘گے رائٹس’ امریکہ میں ایک زمینی حقیقت بن گئے ہیں۔ اب وہاں رہنے والے مسلمان بھی ان کو ایک عام شہری ہی سمجھنے پر مجبور ہیں۔ بس اپنے بچوں کو ان کی صحبت سے بچا نے کی کوشش کر تے ہوں گے کیونکہ کچھ اور تو وہ کر ہی نہیں سکتے۔ لواطت کی سزا قتل ہے یہ تو شاید ان کے حاشیہ خیال میں بھی نہیں آتا ہوگا۔ امریکہ کے مقبول ترین ٹی وی میزبان بشمول جان اسٹیورٹ کھلے عام اپنے پروگرام میں فحش مذاق کرتے ہیں۔ ایک صدارتی امیدوار ‘رک سینٹورم’ نے ہم جنس پرستوں کو ناراض کیا تو اس کے نام کو گوگل کرنے پر نہایت عجیب نتائج آنے شروع ہوگئے، اتنے عجیب کہ اس کی ‘گوگل پرابلم’ مشہور ہو گئی۔ اور نوبت بہ ایں جا رسید کہ ترقی یافتہ دنیا کے امام امریکہ کے پہلے صدرِ سیاہ فام نے کھلے عام، بلکہ بہت اہتمام کے ساتھ، اس بات کا اعتراف کر لیا ہے کہ ‘اسے ہم جنس پرستی پر کوئی خاص اعتراض نہیں ہے’۔ یہ احوال ہوا امریکی معاشرہ کا۔ اب پڑوسی ملک میں بھی دیکھ لیں۔ کیا آج کی ہندی فلمیں 20 سال پہلے کی ہندی فلموں سے کئی گنا زیادہ فحش نہیں ہیں؟ اب جن ہندی فلموں میں ‘آئٹم نمبر’ نہیں ہوتا وہ فلم فلم نہیں ہوتی۔ بڑے بڑے اداکاروں کو اس بات پر مجبور کر دیا گیا ہے کہ وہ فلم کو چلانے کے لیے اوچھی حرکتیں کریں ۔ کون سا ایسا نام ہے جس کو اپنی فلم میں ‘بولڈ’ سین نہ فلمانا پڑ رہا ہو۔ آپ کے خیال میں ہندوستان کے تمام ہیرو اچانک سے ‘ٹھرکی’ ہو گئے ہیں؟ جی نہیں یہ بھی اسی راستے کے راہی ہیں۔

اس تناظر میں اگر پاکستانی میڈیا کو دیکھیں تو یہاں بھی تبدیلی پچھلے 5-6 سالوں میں ہی آئی ہے۔ 2002 کے انتخابات کے وقت نئے پاکستانی چینلوں نے جو کار کردگی دکھائی تھی وہ اب ماضی کا ایک ورق ہے۔ اس وقت بہت کم ایسا مواد ان چینلوں پر چلتا تھا جس پر عامۃ الناس کو اعتراض ہو۔ اس وقت کی فوٹیج اگر یو ٹیوب پر مل جائے تو ادائیگی کا طریقہ اور انداز کافی حد تک سادہ ہوتا تھا۔ گو پی ٹی وی کے مقابلے میں بہت ‘آزاد’ تھا لیکن اگر آج کے مواد سے موازنہ کیا جائے تو فرق بہت واضح ہے۔ قصہ مختصر، اس وقت کا مواد اتنا قابل اعتراض نہیں تھا جتنا اب کا ہے۔ اب حالت یہ ہے کہ خود میڈیا میں موجود سنجیدہ حلقے چیخ اٹھے ہیں ۔ اوریا مقبول جان، طلعت حسین اور انصار عباسی وغیرہ ثقافتی یلغار یا بے حیائی کے خلاف اپنی اپنی آواز اٹھا رہے ہیں۔ اس کے نتیجے میں عدالت عظمیٰ نے پیمرا کو حکم دیا کہ تمام فحش مواد بند کر دے۔ پیمرا نے فحش کی تعریف سے لا علمی کا اظہار کیا اور یوں ہم اس مجلس تک پہنچ گئے جس میں ایک طرف قاضی حسین احمد، انصار عباسی، اوریا مقبول جان اور محمد حسین محنتی صاحب اور دوسری طرف پیمرا کے عہدیداران، ان کے چیئر مین ڈاکٹر عبدالجبار، جاوید جبار اور ڈاکٹر مہدی حسن وغیرہ بیٹھے ہیں۔ اس مجلس میں یہ لوگ کسی ایک تعریف پر نہیں پہنچ سکے ہیں۔ مذہبی طبقے کے نمائندہ اپنی تعریف لائے ہیں اور لبرل طبقے اپنی۔ لبرل طبقے کے نمائندہ جاوید جبار اور مہدی حسن کہتے ہیں کہ پاکستانی میڈیا میں کچھ بھی قابل اعتراض نہیں میڈیا اپنی ذمہ داری بخوبی ادا کر رہا ہے۔ قاضی حسین احمد کے مطابق چینل خبروں میں ناچ گانا دکھا کر اپنے مینڈیٹ کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔ نیز جرائم کی تصویر کشی بھی قابل مذمت ہے۔ لبرل سمجھتے ہیں کہ یہ مولوی حکومت کے ساتھ مل کر آزادی اظہار رائے پر ڈاکہ ڈال رہے ہیں۔ اور دوسرے طرف والے سمجھ رہے ہیں کہ یہ لوگ فحاشی کیا جانیں جو باپ اور بیٹا اکھٹے بیٹھ کر ہر طرح کا مشروب پیتے ہیں اور ہر طرح کی فلم دیکھتے ہیں۔ غرض جتنے منہ اتنی باتیں۔ لبرلوں کو مولویوں پر بھروسہ نہیں اور مولوی لبرلوں کی بات ماننے کو تیار نہیں۔

اس بات پر لیکن تقریباً سب کا اتفاق تھا کہ فحاشی کی تعریف متعین کرنا آسان کام نہیں۔ اگر ایک کی تعریف مانتے ہیں تو دوسرے کی تعریف میں سے نکل جاتے ہیں اور دوسرے کی مانتے ہیں تو تیسرے کی بات پوری نہیں ہوتی۔ کوئی ایسا طریقہ نہیں سمجھ آرہا جس میں گھوڑے کی ٹانگیں بھی نہ کٹیں ، دولہا کی پگڑی بھی نہ اتاری جائے اور بارات دروازے سے اندر داخل ہوجائے۔اصل میں اس طرح کے معاملات کو طے کرنے کا پوری دنیا میں ایک نظام ہوتا ہے۔ عموماً پارلیمان میں ایسے مسائل کو حل کیا جاتا ہے۔ ورنہ کوئی اور اعلیٰ اختیاراتی ادارہ ایسے کاموں کو بغیر کسی رکاوٹ کے انجام دیتا ہے۔ پاکستان میں ظاہر ہے آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے تو ہر بحث اسی طرح چوراہے میں آتی ہے اور آزادی معلومات کے نام پر حساس معاملات پر بحث کھلے عام ہوتی ہے ۔ قاضی صاحب نے ایک تعریف یہ بیان کی جو مواد گھر والوں کے ساتھ بیٹھ کر نہ دیکھا جا سکے وہ فحش ہے۔ ان کے سامنے شاید اپنے گھر والے ہونگے کیونکہ ماشاءاللہ ان کے گھر میں شرعی پردہ نافذ ہے ورنہ ہم نے تو وہ گھرانے بھی دیکھے ہیں جہاں پانی کے گلاس میں پانی نہیں پی سکتے کہ نہ جانے شراب پینے کے بعد اس کو دھویا بھی گیا تھا کہ نہیں۔ سمیحہ راحیل قاضی صاحبہ نے ایک پروگرام میں کہا کہ پاکستان کی 95 فیصد عوام ان کے ساتھ ہے۔ ہمارا التماس ہے کہ اس بنیاد پر کوئی بھی قدم اٹھانے سے پہلے بندے گن ضرور لیں۔ یہاں تو لوگوں کو سب سے زیادہ افسوس ان کے پسندیدہ سنگر کے ‘انڈین آئڈل ‘ میں ہارنے کا ہوتا ہے۔ مسجد سے عشاء کی نماز پڑھ کر آنے والے انکل مہندی میں جا کر اپنی بہو کو رقص کرتے دیکھ کر بہت محظوظ ہوتے ہیں بلکہ بری ‘پرفارمنس’ پر ناراض بھی ہوتے ہیں۔ بیٹی اگر پردہ شروع کر دے تو ماں اور خاندان والے اس کو دسیوں باتیں سناتے ہیں کہ ‘شادی کیسے ہوگی؟ لوگ کیا کہیں گے ‘۔ لڑکا داڑھی رکھ لے تو پریشانی۔ اعتکاف میں بیٹھ جائے تو گھر میں کہرام۔ یہ ایک متوسط طبقے کے گھر کی بات ہے جہاں کے مرد و زن نماز بھی پڑھتے ہیں اور گانے بھی سنتے ہیں یعنی اللہ کا کلام بھی اور شیطان کا بھی۔ اسی زمانے میں ہم نے دیکھا کہ جس دل میں عمر فاروق ؓ کی محبت ہوتی ہے وہیں شاہ رخ خان کی محبت کو بھی رکھ لیا جاتا ہے بغیر کسی خلش کے۔ نعت خواں اور غزل خواں کا فرق بھی کچھ واضح نہیں ۔ اسلامیات پڑھانے والے لوگوں کو اس بات پر افسوس کرتے دیکھا ہے کہ ‘پاکستانی فلموں میں ڈانس کے اسٹیپس ہی آپس میں نہیں ملتے’۔ نوجوان لڑکوں لڑکیوں کا فیس بک دیکھیں تو ایک ہی صفحے پر آپ کو درود کے فضائل بھی ملیں گے اور نئی انڈین فلم کے بھی۔ ایسے اگر 100 فیصد بھی آپ کے ساتھ ہوں گے نا تو بھی کم ہیں۔

یہ معاملہ اتنا سنجیدہ اور دین کی اتنی بنیادی اساس کے اوپر ضرب لگا رہا ہے کہ اس کے اوپر چپ رہنا اپنی شامت اعمال کو دعوت دینا ہے۔ اللہ کے نبی ؐ نے 14 صدیوں پہلے فرما دیا تھا ‘جب تم حیا نہ کرو تو جو چاہو کرو’۔ انہوں نے بےحیائی سے رکنے کو کہا تھا۔ ہمارے یہ دین بیزار لوگ اس کو اجازت سمجھ لیتے ہیں۔ فحاشی کسے کہتے ہیں یہ آپ کو وہ بچہ بھی بتا سکتا ہے جو گھر میں ریموٹ ہاتھ میں لے کر بیٹھا اپنا کارٹون دیکھ رہا ہوتا ہے اور کسی عجیب اشتہار کے آنے پر ادھر ادھر دیکھنے لگتا ہے۔ فحاشی کی تعریف پوچھنا ویسا ہی ہے جیسا بنی اسرائیل نے گائے کے ذبح کرنے پر حضرت موسیٰ ؑ سے معاملہ کیا تھا- کبھی رنگ پوچھا کبھی عمر، کبھی کام پوچھا کبھی کچھ ۔ کہتے تھے ‘اس گائے نے تو ہمیں شبہے میں ڈال دیا ہے’۔ غرض ۔ جتنے سوال کیے خود پھنستے گئے۔ یہ لوگ چاہتے ہیں کہ پاکستان کو ہندوستان کی نقالی پر لگا دیں لیکن ہندوستان تو خود امریکہ کی نقالی میں لگا ہوا ہے۔ یعنی اصل میں ہمارا سفر بھی ان کے مطابق ہم جنس پرستوں کی حکومت ہے کہ ایک دن اسلامی جمہوریہ پاکستان کا سربراہ ایک ٹی وی پروگرام میں یہ اعلان کر دے کہ ‘اسے ہم جنس پرستی پر کوئی اعتراض نہیں’۔ قوم لوط پر ایک فرد جرم یہ بھی تھی کہ وہ محافل میں کھلم کھلا فحش حرکات کرتے تھے۔کیا اللہ کے نبی ؐ نے کہہ نہیں دیا کہ مجاہرہ (کھلم کھلا فحش حرکات کرنا یا پوشیدہ حرکات کا اعلان کرنا ) کرنے والوں کی معافی نہیں۔ کیا گھر گھر میں چلتے یہ ڈانس شوز ، یہ ڈراموں میں بے ہودہ ڈائیلاگ، یہ کھلم کھلا شراب کا استعمال اور ترغیب، یہ میاں بیوی کا کردار کرنے والے اصلاً نامحرم مرد و عورت کا بے ہودہ مساس، یہ سائن بورڈز پر بڑی شان سے آویزاں عریانیت کی تصاویر۔ کیا یہ فحاشی کا کھلم کھلا ارتکاب نہیں؟ کیا یہ سب مجاہرہ نہیں؟ کیا بچوّ بھائی کی طرح ایک ایک چیز پوچھنی پڑے گی کہ کیا بھی فحاشی نہیں؟کیا یہ بھی نہیں؟ یہ لوگ کہتے ہیں ریموٹ آپ کے ہاتھ میں ہےتبدیل کردو چینل۔ جی ضرور تبدیل کر دیں گے۔ معاشرہ کے سنجیدہ طبقات میں اس وقت اس بڑھتی ہوئی فحاشی کے خلاف ایک لاوا پک رہاہے۔ یہ لاوا کبھی پھٹ پڑا تو چینل تو کیا بہت کچھ تبدیل ہو جائے گا۔ ان مغرب زدہ لوگوں کو اپنی یہ حماقت ان شاء اللہ بہت مہنگی پڑے گی۔ کیوں کہ فحاشی کی تعریف متعین کرنے کا یہ اونٹ اگر کسی غلط کروٹ بیٹھ گیا تو اس کے نیچے ان سمیت بہت کچھ دب سکتا ہے ۔ 

Inqilab!

Posted in Islam, Social revolution by baigsaab on February 6, 2010

Questions to Mothers and Sisters!

Posted in Islam, Social revolution by baigsaab on February 5, 2010

Paradox of Pakistani Society

Posted in Islam by baigsaab on April 17, 2008

The Pakistani society is a unique one. We have deep-running roots for the love of religion. Almost every mosque is over-crowded in Friday prayers despite the fact that there is at least a mosque every kilometer in major cities. If the huge congregations in Madni Masjid and Faizan-e-Madina on Thursday night are any indication, people crave for any opportunity to learn about Islam and practice it. Yet, it’s becoming even more difficult to follow the religion in the country, and much easier to follow western fashion.

It’s easier to have a goatee than a full grown beard, much easier to wear a jeans torn from the knee than wearing a trouser above ankles, easier to listen to songs than listening to Qirat. Worst of all, offering of prayers is much more difficult than watching a movie. It doesn’t mean that there’s a resistance from the masses, but there are certainly more than a few eyebrows raised in such cases. Even people with the religious mindset don’t resist their children from following the western fashion, and don’t push them to offering prayers. In a nutshell, despite the growing numbers in the mosque, the quality of the followers is depleting quickly.

What I feel is that as a nation, we’ve separated what we like and what we know is right. Despite the widespread belief that Music is prohibited, we’re producing more musicians than ever before. Liquor is freer than ever, so is adultery.

There’s widespread hypocrisy in our society, we love what we learn to hate since childhood – cheating, lying, bribing, extorting etc. And it is this deliberate hypocrisy that’s brought about our downfall as a nation. Knowingly doing wrong leaves irreparable scars on the character of a person – person who is the unit of society – society that’s digging its own grave.

Tagged with: , , ,