Baigsaab's Blog

قبولیت!-

Posted in Islam, Personal by baigsaab on June 19, 2015

زمانہ جاہلیت میں بھی عرب میں کچھ چیزوں کی حرمت مسلّم تھی جیسے حرمت والے مہینے، مہمان اور وعدہ و عہد ۔ بیت اللہ ان حرمت والی چیزوں میں سے غالباً واحد عمارت تھی۔ الرحیق المختوم کے مطابق رسول اللہؐ کی عمر مبارک کا پینتیسواں (35) سال تھا کہ قریش نے بیت اللہ کی تعمیر نو کا ارادہ کیا۔ اس ارادے کے پیچھے جو بھی مقاصد ان کے ہوں اس کے لیئے جو فیصلہ انہوں نے کیا وہ یہ تھا کہ اللہ کے اس گھر کی تعمیر میں اپنی حرام کمائیوں میں سے ایک پیسہ بھی شامل نہیں کریں گے۔ چنانچہ طوائفوں کا مال، سود اور کسی سے ناحق چھینا ہوا مال اس میں شامل نہیں کیا گیا۔ بالآخر خانہ کعبہ کی تعمیر جب شروع ہوئی تو پتہ چلا کہ مال کم پڑ گیا ہے اورچوتھی طرف کی دیوار بن نہیں سکے گی تو ان ‘مشرکوں’ نے اس چوتھی جگہ کی لمبائی کم کر کے آخر میں ایک چھوٹی دیوار اٹھا دی۔ اس دیوار کو ہم حطیم کے نام سے جانتے ہیں۔
سوچنے کی بات یہ ہے کہ وہ جاہل عرب بدو جن کے سامنے زندگی کا کوئی اعلیٰ مقصد، کوئی منزل، کوئی آخرت کا شوق کچھ بھی نہیں تھا، وہ تو اللہ کے لیئے کیئے گئے کام میں حرام کی آمیزش نہ کریں چاہے بقیہ عرب میں ہنسی اڑ جائے کہ ان سے کعبہ کی تعمیر بھی نہ ہو سکی۔ اور ہم جن کے لیئے ‘تھیوری’ میں اصل زندگی آخرت کی ہے، وہ نمازیں بھی پڑھیں مگر ساتھ ہی سود بھی کھائیں کھلائیں، اسی مال سے زکوٰۃ بھی دیں اور صدقات بھی۔ قرآن کھول کر نہ دیکھیں اور حدیث کو نہ سنیں کہ دیکھ یا سن لیا تو عمل واجب ہو جائے گا۔
ہم میں سے ہر شخص کسی نہ کسی بری عادت میں ملوث ہے۔ کسی کو جھوٹ بولنے کی عادت ہے، کسی کو وعدہ خلافی کی، کسی کو امانت کے مطلب ہی نہیں پتہ تو کوئی سود خوری میں ملوث ہے، کوئی بے پردگی کو اپنا تکیہ بنائے بیٹھا ہے تو کوئی غیبت اور چغلیاں ہی کرتا بیٹھا رہتا ہے۔
خوشخبری یہ ہے کہ ہماری مدد کے لیے اللہ نے رمضان کو ایک دفعہ پھر بھیج دیا ہے۔  شیاطین جن قید کر دئیے جائیں گے۔ ہر طرف قرآن اور حدیث کی آوازیں آرہی ہونگی۔ دیکھا جائے تو یہ مقابلہ برابر کا نہیں ہے۔ اللہ نے ہمارے نفس کو تنہا کردیا ہے کہ اس کی مدد کے لیئے اب کوئی نہیں آئے گا۔ اب یہ ہم پر منحصر ہے کہ ہم اس دفعہ بھی اپنے نفس کے لیئے عذر تلاش کرتے ہیں یا اس دفعہ ہم اپنے آپ کو اس غلاظت سے نکالنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں جس کا نام گناہ کبیرہ ہے۔
اللہ کو نہ ہمارا بھوکا رہنا کوئی فائدہ دے سکتا ہے۔ نہ مال خرچ کرنا اس کی سلطنت میں کوئی اضافہ کر سکتا ہے جو بھی نیکی کرے گا اپنے بھلے کے لیئے کرے گا، جو بھی برائی کرے گا اپنا نقصان کرے گا۔
اور قریش کے اس عمل سے ایک چیز جو مجھے دیکھنے کو ملی وہ یہ کہ جب حجر اسود کو نصب کرنے کا وقت آیا تو اللہ نے اپنے نبیؐ کے ہی دست مبارک سے اس کام کو انجام دلوایا۔ کیا پتہ ہمیں بھی اپنے اعمال کی ایسی ہی قبولیت نصیب ہو جائے !!! آمین!

Advertisements
Tagged with: , , , ,

یہ کیسی عید ہے؟

Posted in Social revolution by baigsaab on August 1, 2014

یہ عید کا دن تھا، اور عید کے دن عصر سے پہلے کا وقت کافی خاموشی کا ہوتا ہے۔ رمضان کے آخری عشرے میں بازاروں میں جو رش ہوتا ہے اس کا اینٹی کلائمکس یہ خاموشی ہے۔ توعید کے دن کوئی چار بجے کا وقت ہو گا کہ جب میں فیڈرل بی ایریا کے ایک پٹرول پمپ پر تھا، ، جتنی دیر میں گاڑی میں ایندھن بھرا جا رہا تھا، میں سڑک سے گزرنے والے لوگوں کو دیکھ رہا تھا۔ کبھی موٹر سائیکل پر کوئی صاحب اپنے چھوٹے سے بچے کو لے کر جاتے، کسی کے ہاتھ میں غبارہ، کسی نے رنگین چشمہ لگایا ہوا، زرق برق لباس اور خوشی دیدنی تھی۔
اور اسی وقت میری نظر ان دو بچوں پر پڑی جن کو دیکھ کر لگ رہا تھا جیسے ان کی زندگی میں عید آئی ہی نہیں۔ اپنے ارد گرد موجود رونق اور زندگی سے بے نیاز وہ اس سائن بورڈ کے نیچے سو رہے تھے۔ کمپنی کے اشتہار میں موجود نوجوان جس پر سینکڑوں دفعہ نظر گئی ہو گی، آج ایسا لگ رہا تھا جیسے معاشرے پر ایک بھرپور طنز کر رہا ہو۔ جیسے کہہ رہا ہو، ‘بہت اعلیٰ کام کر رہے ہیں آپ لوگ ان بچوں کو نظر انداز کر کے’۔
آپ کہیں گے کہ میں نے بھی تو صرف تصویر کھینچنے پر ہی اکتفاء کر لیا۔ میں نے کون سے ان کو نئے کپڑے دلا دیئے۔ یا ان کو کھانا کھلا دیا، یا ان کو پیسے ہی دے دیئے کہ وہ کچھ خرچ کر لیں۔ درست۔ اور میں اس بات میں اپنے آپ کو قصور وار سمجھتا ہوں مگر مجھ میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ میں ان کو نیند سے اٹھا کر پوچھ لوں کہ ‘بیٹا کھانا کھایا ہے کچھ’۔ اور ایک دن کے لیے ان کو کھانا کھلا کر یا کپڑے دلا کر ان کو دوبارہ اس زندگی میں مستقل طور پر چھوڑ دوں۔ اور فی الحال کوئی ایسا بندوبست کرنا ممکن نہیں لگ رہا جس میں ایسے بچوں کا کوئی مستقل سہارا ہو سکے۔
ناچار ایک ایسی حرکت کرنا پڑی جو مجھے خود پسند نہیں۔ تصویر کھینچ کر فیس بک پر لگا دی اور اپنا ‘فرض’ پورا کیا!!!۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

کہتے ہیں عید تو بچوں کی ہی ہوتی ہے۔ اور واقعی بچے ہی اس دن سب سے زیادہ مصروف ہوتے ہیں۔ کبھی دادا کو سلام کر کے عیدی حاصل کی، کبھی نانا سے پیار اور عیدی۔ کبھی چاچا کبھی ماموں، کبھی خالہ تو کبھی پھوپھی۔ غرض ایک متوسط طبقے کے بچے کے پاس عید کے تین دنوں میں اچھی خاصی رقم جمع ہو جاتی ہے میرے اندازے کے مطابق اتنی رقم کہ جو عام دنوں میں ان کے اپنے گھر میں دو سے تین دن کا راشن اور گوشت ، سبزی وغیرہ کا انتظام کر سکے۔ ظاہر ہے بچوں کے اوپر یہ نا روا بوجھ ڈالنے کو میں نہیں کہہ رہا، مگر اتنا  ضرور ذہن میں آتا ہے کہ بچے ان پیسوں کا کرتے کیا ہیں؟ کھانا پینا تو ابا کے پیسوں سے ہی ہوتا ہے۔ دیکھا گیا ہے کہ بچےعموماً ان پیسوں سے کچھ خاص نہیں کرتے، بہت ہو گیا تو بہت سی ‘چیز’ کھا لی اور بس۔ بہت سے ماں باپ وہ پیسے بچوں سے لے کر، اس میں کچھ پیسے جوڑ کر، ان کے لیے کوئی اچھی سی چیز لے لیتے ہیں۔
مگر دیکھنے کی بات تو یہ ہے کہ عید ہوتی کیا ہے؟ عید تو رمضان میں اللہ کے حضور مسلمانوں کے روزوں، نمازوں اور قربانیوں کے معاوضہ کا دن ہے۔ جب اللہ تعالیٰ  اپنے بندوں سے کہتے ہیں کہ جاؤ میں نے بخش دیا تمہیں۔ تو ہم مسلمان خوشی مناتے ہیں۔ مگر اس خوشی میں اگر ہم وہ پورا سبق ہی بھول جائیں جو رمضان میں سوکھتے حلق اور خالی پیٹ میں سیکھا تھا تو یہ ایک بہت بڑا مسئلہ ہے۔
رمضان میں ثواب کئی کئی گنا بڑھ کر ملتا ہے۔ اسی لیے لوگ جوق در جوق، بلکہ زبردستی، لوگوں کا روزہ کھلوانے کے لیے پورے مہینےسڑک پر افطار کراتے ہیں۔ مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ باقی سال اتنا ثواب نہیں دے سکتے۔ اخلاص سے کیئے گئے نیکی کے کام کو اللہ تعالیٰ اپنی طرف سے سات سو گنا تک بڑھا دیتے ہیں۔ اور یہ بھی صرف ہمارے سمجھانے کے لیے ہی ہے۔ تو کیا ہی اچھا ہو کہ وہ لوگ جو  رمضان میں افطاریاں کراتے ہیں، باقی سال بھی اس کام کو کسی نہ کسی طرح جاری رکھیں۔

ناداروں کی دیکھ بھال کی اصل ذمہ دار حکومت وقت ہے۔ حضرت عمر ؓ کا وہ قول تو سب نے ہی سنا ہے کہ اگر فرات کے کنارے کتا بھی بھوکا مرتا ہے تو اس کا جواب دہ امیر المومنین ہے۔ تو ان بچوں کی اصل ذمہ داری تو حکومت پر ہی آتی ہے۔ اور اگر حکومت نہیں کرتی تو یہ لوگوں کی اولین ذمہ داری ہے کہ ہر ممکن طریقے سے حکومت کی توجہ اس جانب مبذول کرائیں۔

لیکن اگر حکومت کے کانوں پر جوں نہیں رینگتی، اور جو کہ واقعی نہیں رینگتی، تو یہ ذمہ داری معاشرے پر منتقل ہوجاتی ہے کہ اس معاشرے کے غریبوں کی مدد کی جائے۔ سب سے پہلا فرض رشتہ داروں اور پڑوسیوں کا ہے کہ وہ دیکھیں کہ ان کے قریب کے لوگوں کا یہ حال کیسے ہے۔  یہی اسلام کے معا شی نظام کی جڑ ہے، دولت  کا معاشرے میں ایسے گھومنا کہ جس میں دولت اہل ثروت میں ہی نہ قید ہو جائے، اور ایسے کہ ہرشخص اپنے قریبی رشتہ داروں اور پڑوسیوں کی خبر گیری کرے۔  اسلام کے معاشی نظام کی جڑ بنیاد میں مقصد معاشرے کی فلاح ہے۔
ایک عرصے سے یہ خیال ذہن میں ہے کہ یہ کام سب سے بہتر طریقے سے مساجد میں ہو سکتا ہے۔ ہماری اکثر مساجد میں اہل ثروت لوگ اپنی جیب سے بڑے بڑے خرچے کرتے ہیں۔ ائیر کنڈیشنر یا بڑے جہازی سائز پنکھے تو اب مساجد میں عام ہیں۔ مساجد میں بڑے بڑے منصوبے پایہ تکمیل کو پہنچ جاتے ہیں مثلاً مینار اور گنبد ۔ مگر انہی مساجد میں نماز کے بعد اگر کوئی مانگنے کھڑا ہو جائے تو اس کو ڈانٹ کر چپ کرا دیا جاتا ہے کہ اس بارے میں حکم یہی ہے اور یہی کرنا چاہئے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ چپ نہ کرایا جائے، میں صرف یہ کہتا ہوں کہ ہم دور صحابہ میں نہیں ہیں جب ایک حقیقی فلاحی ریاست کی بنیاد رکھی جا چکی تھی تو اس سلسلے میں اس شخص کے ساتھ نرمی سے پیش آیا جائے، اس کی تذلیل نہ کی جائے۔ دوسرے یہ کہ مساجد میں ایک مد باقاعدہ اس کام کی ہونی چاہیے۔ جس میں محلے میں جو غریب ہیں ان کے لیے کم از کم راشن  اور دوسری بنیادی چیزوں کا انتظام ہونا چاہیے۔ اگر کوئی مانگنے والا اس مسجد میں آئے تو اس کو امام صاحب سے یا مسجد انتظامیہ کے فرد سے رابطہ کرنے کہا جائے۔ اور بات کیونکہ محلے کی ہی ہے تو ان کے گھر کے حالات سب کے سامنے ہونگے۔ ہر مسجد میں یہ طے ہو کہ اپنے پڑوسی کی ہی مدد کی جائے گی۔ اگر کسی اور علاقے سے کوئی ایسا شخص آتا ہے جو واقعی ضرورت مند ہے تو مسجد کی انتظامیہ اس علاقے کی مسجد سے اس شخص کا رابطہ قائم کروائے۔

بظاہر یہ بہت سادہ بات ہے، مگر حقیقتاً اس میں بہت سی پیچیدگیاں ہیں۔ جن کا ادراک ہر اس شخص کو ہے جس نے مساجد کے معاملات کو تھوڑا بہت دیکھا ہے۔ ان مسائل کا تذکرہ کرنا ایک باقاعدہ الگ مضمون کا متقاضی ہے۔ کہنے کی بات یہ ہے کہ ہم من حیث القوم اگر بے حس ہو گئے ہیں تو رمضان اس بے حسی سے جاگنے کا ایک بہت بڑا موقع ہوتا ہے۔ مسجد اسلامی معاشرے کا ایک بہت اہم ستون ہے۔ اس کو اس مقصد کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہے اور کیا جانا چاہیے۔ تو اگر یہ کام ہو سکتا ہے، اور ظاہر ہے کسی اکیلے شخص کا یہ کام ہے ہی نہیں تو ، یہ کام کرنا ضرور چاہیے۔ جو بچے آج سڑکوں پر ایسے گھوم رہے ہیں۔ کل کو یہی بڑے ہوکر اگر غلط ہاتھوں میں پڑ گئے تو خدا نخواستہ ان سےمعاشرے کو ہی خطرہ لا حق ہو جائے گا، اور ہم ہی میں کچھ لوگ کہیں گے، کہ یہ لوگ کہاں سے آتے ہیں۔ یاد رکھیے، مجرم صرف جرم کو کرتا ہے، اسے جرم تک معاشرہ ہی لے کر جاتا ہے۔
اپنے بچوں میں ایثار اور قربانی کا جذبہ بیدار کرنا ہمارا ہی کام ہے۔ یہ کیسی عید ہوئی جس میں ہمارے بچے تو اتنا ‘کما’ لیں کہ ان کو خود سمجھ نہ آئے کہ کرنا کیا ہے ان پیسوں کا، اور یہ بچے کچھ بھی نہ پائیں جبکہ ان کے گھر میں بھوک ایک بہت بڑی حقیقت کے طور پر روزانہ جواب مانگتی ہو۔ تو اپنے بچوں سے ایسے بچوں کا سامنا کرائیں۔ ان کو پتہ ہونا چاہیئے کہ ان کو کیسی کیسی نعمتیں ملی ہوئی ہیں۔ ان کو پتہ چلنا چاہیئے کہ جن چیزوں کو وہ اپنا حق سمجھتے ہیں، ان میں سے درحقیقت کچھ بھی ان کا حق نہیں۔ اور ان کو پتہ چلے کہ اصل خوشی خود کھانے میں نہیں، بلکہ دوسروں کو کھلانے میں ہے۔ تب شاید ایسی عید آئے جس میں واقعی سب بچے خوش ہوں۔ کوئی بچہ عید کے دن محروم نہ ہو۔
مجھے اس عید کا انتظار ہے!۔

کیا خوب قیامت کا ہے گویا کوئی دن اور؟

Posted in Islam, protest, Social revolution by baigsaab on July 13, 2014

میری بیٹی کو ہم سے جدا ہوئے ڈیڑھ سال ہو گئے ہیں۔ کوئی دن ان ڈیڑھ سالوں میں ایسا نہیں ہے جب ہم نے اس کا ذکر  نہ کیا ہو۔ وہ کیسے کھاتی تھی، کیسے مسکراتی تھی۔ فلاں کپڑوں میں کیسی لگتی تھی۔ آج بھی مجھے وہ لمحہ یاد ہے جب میں نے اس کو اپنے ہاتھوں سے قبر میں اتارا تھا۔ اور حالانکہ اس کی سانس بند ہوئے کئی گھنٹے گزر چکے تھے ، لیکن اس ایک آخری لمحے میں، ایک امید تھی کہ شاید وہ پھر سے جی اٹھے!  اس پورے عرصے میں ، سوائے ایک آدھ مضمون کے، میں نے  اس کا ذکر عام محافل میں اور فیس بک پر بہت کم کیا ہے۔ ابھی بھی نہ کرتا  لیکن کیا کروں کہ گزشتہ کئی روز سے میری نظروں کے سامنے متواتر، بار بار، ایک کے بعد ایک ، جویریہ جیسی کئی  ننھی ننھی جانیں اپنی جان سے گزر رہی ہیں۔  میں جب ان بچوں کی بے نور آنکھوں کو دیکھتا ہوں تو قسم ہے میرے رب کی،صبر اور ضبط کے بندھن ٹوٹ جاتے ہیں۔

اسرائیل  نے غزہ میں جو بربریت کی تاز ہ تاریخ رقم کی ہے،  اس میں اس کی ہٹ دھرمی کے ساتھ ساتھ ہم مسلمانوں کی بحیثیت امت صریح غلطی ہے۔رسول اللہؐ کی صحابہ کرام ؓ سے گفتگو پر مبنی ایک حدیث کا مفہوم ہے کہ  جب ہمارے دلوں میں دنیا کی محبت اور موت سے نفرت پیدا ہو جائے گی تو دنیا کی قومیں ہم پر ایسے ٹوٹ پڑیں گی اور ایک دوسرے کو ایسے دعوت دیں گی جیسے دستر خوان پہ چنا ہوا کھانا۔ آج سے پہلے اس حدیث کا مفہوم شاید اتنا سمجھ نہ آ پاتا ہو لیکن اس دور میں اور خصوصاً نو گیارہ کے بعد کی دنیا میں یہ بالکل صادق آتی ہے۔ سچ ہے وہ بات جو کہی ہمارے پیارے نبی ؐ نے، یہ دنیا کی محبت ہے اور موت سے نفرت۔

خدا کی قسم کوئی باپ اپنے بچے کو دفنانا نہیں چاہتا۔ خدا کی قسم کوئی ماں اپنے بچے سے جدا نہیں ہونا چاہتی۔  لیکن کیا کریں کہ اللہ کی حکمت کے آگے چاہے یا نا چاہے ، سب کو سر جھکانا ہی پڑتا ہے۔ مگر ان  بچوں کے، اور بڑوں کے،  خون کے ایک ایک قطرے کا حساب  ان شاء اللہ لے لیا جائے گا۔  ان 57 ا سلامی مملکتوں سے بھی جن کے حکمرانوں کو اللہ نے اقتدار کیا دیا  یہ اپنے تئیں خود خدا بن گئے۔ مگر حال یہ کہ عالمی طاقتوں کے  آگے بھیگی بلی ہی نہیں بلکہ کچھ تو ان کے شکاری کتوں کا کام کر رہے ہیں۔  ان حالات میں کیا کریں؟  اسرائیل کو روکنے والا لگتا ہے کوئی نہیں! یاد رکھیں، ظالم کو ظالم سمجھ کر اس کا ساتھ دینے والا ایمان سے نکل جاتا ہے، اور یہ بھی اسی ہستی ؐکا فرمان ہے جس سے محبت کے ہم دعوے تو پہاڑ جیسے کرتے ہیں لیکن عمل ایک پتھر سے زیادہ نہیں۔

مایوسی پھیلانا یقیناً غلط ہے۔ میں بھی مایوس نہیں ہوں لیکن پریشان ضرور ہوں۔غزہ میں اپنے ارد گرد مرتے لوگ دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے۔ بھوکے بچوں کو ایک روٹی کے لیے ہوٹلوں اور ریستورانوں پر دھکے کھاتے دیکھ کر افسوس ہوتا ہے۔ لوگوں کو اپنی محفلوں میں انڈین آئڈل ،ٹونٹی ٹونٹی کرکٹ ، گاڑی، بنگلہ، پیسہ، اس کے علاوہ کسی اور چیز پر بات نہ کرتے دیکھ کر افسوس ہوتا ہے۔ کبھی کبھار تو ایسا لگتا ہے کہ سب چلتے پھرتے مقبرے ہیں ۔

خدارا پلٹیں اپنے رب کی طرف، ہمارا رب ہم سے شاید خوش نہیں ہے۔ پلٹیں اس سے پہلے کہ ہمیں بھی ایک ایسا عذاب آ پکڑے کہ سنبھلنے کی نوبت ہی نہ آئے۔ استغفار ہی واحد راستہ ہے۔ استغفار ہی سے اللہ مانتا ہے۔ خدارا ظلم کے خلاف باہر نکلیں، خدارا ان معصوم لوگوں کے لیے دعا کریں۔ خدارا ان تمام  مصنوعات  کے بارے میں خود تحقیق کریں اور ان سے رفتہ رفتہ پیچھے چھڑا لیں جو ان بچوں کو مارنے کے لیے اسرائیل کو پیسہ فراہم کرتی ہیں۔ خدارا دعا کریں ۔ خدارا نکلیں۔  اپنے لیے نہیں تو اپنے بچوں کے لیے۔  اپنے نہیں تو ان بچوں کے لیے ہی نکل آئیں جن کی سرد لاشوں کو جب ان کے والدین مٹی کے سپرد کر رہے ہونگے تو شاید ان کے دل میں بھی وہی پاگل سی امید جاگی ہوگی کہ شاید یہ پھر سے جی اٹھیں!

بُھنگانہ، ابابیل اور ڈرون

Posted in Islam, Social revolution by baigsaab on June 28, 2013

اندلس کے طوائف الملوک میں وہ پہلی حکومت جس نے باقاعدہ عیسائی اقوام سے دوسرے مسلمانوں کے خلاف مدد مانگی وہ کوئی اور نہیں قرطبہ  کی حکومت تھی۔  خلافت اندلس کا دارالخلافہ قرطبہ، جہاں سینکڑوں سالوں سے کسی نے کسی  غیر مسلم کو  تلوار سونت کر چلتے نہیں دیکھا تھا، وہاں  اب عیسائی فوجی نام نہاد مسلمان حکمرانوں کے جنگی عزائم کو آگے بڑھانے کے لیے  کرائے کے فوجیوں کے طور پر لڑ رہے تھے! اندلس میں  اموی خلافت  کمزور  ہوئی تو  فوج کے مختلف سرداروں نے اپنے اپنے علاقوں میں اپنی حکومت کا اعلان کردیا۔  یہ علاقے  ’طائفہ’ کہلاتے تھے اور ان کے بادشاہ  ، ‘ملک الطائفہ’، اکثر و بیشتر صرف اپنے علاقے بڑھانے کے چکر میں  رہتے تھے۔   اتحاد امت اور اتحاد بین المسلمین جیسے الفاظ ظاہر ہے توسیع پسندی  اور ہوس ملک گیری کے ماروں کے سامنے نہایت بودے معلوم ہوتے ہیں۔  تو  ان بادشاہوں کی تلواریں بھی آپس میں ہی چلتی تھیں۔ اور اس میں ان کو مدد ملتی تھی کاسٹائل اور دوسری عیسائی ریاستوں سے۔  یہ مدد فوجیوں کی صورت بھی ہوتی تھی، اور کبھی کبھار براہ  راست مسلمان بادشاہ کی طرف سے  عیسائی فوجیں ہی حملہ آور ہو جاتی تھیں۔ ‘تقسیم کرو اور حکومت کرو’ کی یہ اندلسی مثال تھی۔  ان خدمات کے عوض آئیبیریا کے عیسائیوں کو مال، دولت، جائداد  یا جو وہ مانگیں، دیا جاتا تھا۔  نتیجہ یہ کہ عیسائی طاقت بڑھتے بڑھتے اتنی ہو گئی کہ ان نا عاقبت اندیش حکمرانوں کو سانس لینی دوبھر ہو گئی۔   یہ آج سے ٹھیک ایک ہزار سال پہلے کی بات ہے۔

آج کا حال دیکھیں۔ پاکستان کے شمالی علاقوں ، جنہیں نہ جانے کیوں پہلے بھی  ’علاقہ غیر’  ہی کہا جاتا  تھا، میں ایک جنگ ہو رہی ہے۔  ’ہماری جنگ’ !۔ کہنے کو پاکستان کی سرزمین کے دشمن اس علاقے میں چھپے بیٹھے ہیں۔  وہ دشمن جو عام  آبادی میں ایسے گھل مل گئے ہیں کہ وہاں ان کی شادیاں بھی ہوئی ہوئی ہیں اور اولاد بھی۔   ایک ایسا علاقہ جس میں پاکستان کے دوسرے علاقوں سے کوئی نہیں جا سکتا اور وہاں سے پاکستان کے دوسرے علاقوں میں کوئی نہیں جا سکتا۔  بیچ میں اتنی چوکیاں اور اتنے پہرے ہیں کہ سفر کا انجام اکثر و بیشتر ناکامی ہی ہوتا ہے۔ چنانچہ وہاں سے کسی خبر کا آجانا بجائے خود ایک عجوبہ  ہے کجا یہ کہ اس خبر کی تصدیق بھی ہو جائے۔ ایسے میں وہاں پر  فضائی حملے جاری ہیں۔ مقصد ان حملوں کا یہ ہے کہ ‘دہشت گردوں’ کو مار دیا جائے۔  یہ حملے کون کر  رہا ہے، کیوں کر رہا ہے اور کیا یہ اپنے مقصد میں کامیاب ہو رہے ہیں ۔ یہ سوال کر لینا جتنا آسان ہے اس کا جواب تلاش کرنا اتنا ہی مشکل۔

2004 میں ڈامہ ڈولہ میں ایک  میزائل  حملے میں  ’ ملا نیک محمد ‘ کا انتقال ہو گیا۔  اس وقت کسی کی کچھ سمجھ میں ہی نہیں آیا کہ یہ میزائل آیا کہاں سے۔  مگر ہمارے صدر پرویز صاحب نے  کمال پھرتی سے اس کی ذمہ داری  اپنے ادارے کی طرف سے قبول کرتے ہوئے  کہا کہ یہ ہم نے  کیا ہے۔ اس سے قطع نظر کہ ہم نے ایک ایسے شخص کو کیوں مار دیا جو  بعد میں ملنے والی اطلاعات کے مطابق ریاست سے باقاعدہ مذاکرات پر آمادہ تھا،  یہ تفصیلات کہ حملہ ہوا کیسے اس کہانی میں ہی کافی جھول تھے۔  بعد  ازاں  جب جب اس طرح کے حملے ہوتے رہے تو  اسی طرح وہ اور ان کے کارندے یہ ذمہ داریاں قبول کرتے رہے۔  رفتہ رفتہ بات کھلنا شروع ہوئی کہ یہ حملے  دراصل امریکی  ڈرون جاسوس طیارےکرتے ہیں۔  یہ  ڈرون  اول اول تو تھوڑے عرصے کے لیے نظر آتے تھے۔ مگر اب یہ    پورا دن  وزیرستان کے آسمان پر موجود رہتے ہیں۔  ان طیاروں سے  ایک مہینے میں اوسطاً  چھ سے سات حملے ہوتے ہیں۔ ان حملوں میں مرنے والے شہریوں  کے اعداد و شمار میں اتنا فرق ہے کہ   سرکاری شمار  دس سے کم اور  غیر سرکاری  کم و بیش ایک ہزار ہے۔ وجہ اس فرق کی کیا ہے یہ جاننے کے لیے دیکھیئے Living  Under Drones (livingunderdrones.com)  نامی دستاویز سے کچھ معلومات۔

یہ دستاویز  Stanford اور NY University  کے  اشتراک سے بنائی گئی ہے۔  قریباً نو ماہ کی ریسرچ اور درجنوں متاثرین سے  گفتگو  کی بنیاد پر بنائی گئی یہ رپورٹ  دراصل ڈرون  کے استعمال کے انسانی نفسیات پر پڑنے والے اثرات کو اجاگر کرنے کی ایک کوشش ہے۔  اسی  ضمن میں  امریکی اور پاکستانی دونوں طرح کے حکومتی دعوؤں کی بھی قلعی کھول دی گئی ہے۔

وزیرستان میں ڈرون کوابابیل بھی کہتے ہیں مگر زیادہ تر  ’بُھنگانہ’ کہا جاتا ہے، ایک ایسی چیز جو مکھی جیسے بھنبھناتی رہتی ہے۔ وزیرستان میں اس وقت یہ بھنبھناہٹ لوگوں کی زندگیوں کا حصہ بن گئی ہے۔  وہ سوتے ہیں تو سر پر ڈرون کی آواز  آتی ہے، بازار میں ہوتے ہیں تو   ’بُھنگانہ’ صاف نظر آتا ہے۔ ایک وقت میں چھ چھ ڈرون فضا میں نظر آرہے ہوتے ہیں۔ یہ بذات خود ایک ذہنی پریشانی کا باعث ہے   لیکن اصل مسئلہ یہ ہے کہ یہ ڈرون کبھی بھی آگ اگل سکتے ہیں۔ اس کا کوئی مقام، وقت، وجہ یا خاص ہدف نہیں ہے۔

17 مارچ 2011، صبح  تقریباً دس بجے کے قریب  دتہ خیل کے علاقے میں ایک قبائلی جرگہ، جو کہ قبائلی زندگی کا سب سے اہم ادارہ ہے، جاری تھا۔ قریباً چالیس سے کچھ اوپر لوگ  وہاں دو گروہوں میں صلح کرانے بیٹھے تھے، جرگہ کا مقامی انتطامیہ کو دس دن پہلے سے پتہ تھا چناچہ قبائلی بڑے، ملک، خاصہ دار یعنی حکومتی ادارے کے نمائندے بھی موجود تھے جو اس مجمع کے  پرامن ہونے کے لیے ایک  سرکاری سند تھی ۔  کرومائٹ کی کان کا یہ معاملہ کچھ  گرما گرمی کی طرف تھا کہ  اچانک ایک تیز سرسراہٹ سی سنائی دی  اور اس کے بعد ایک زور دار دھماکہ ہوا۔  عینی شاہدین کے مطابق فضا میں موجود ڈرون نے ایک میزائل فائر کیا تھا۔ اس حملے میں کوئی  42 لوگ مارے گئے اور 14 زخمی۔  مرنے والے اکثر لوگوں کے بارے میں یہ مصدقہ  اطلاع ہے کہ ان کا کوئی تعلق کسی  دہشت گرد تنظیم سے نہیں تھا۔ یعنی وہ عام شہری تھے۔ ایک قبائلی  سردار   داؤد خان کا بیٹا ، نور خان،  سانحے کے وقت  پانچ گھنٹے کی مسافت پر تھا۔ وہ واپس آیا تو اپنے  باپ کا  کفن میں لپٹا، جلا ہوا جسم   پایا۔ داؤد خان اس علاقے کا   ایک بڑا سردار تھا۔ اپنے علاقے والوں کے ساتھ ساتھ  گھر والوں کا  بھی سہارا تھا۔  کچھ یہی احوال  حاجی ملک بابت کا تھا جن کا اس ڈرون حملے میں انتقال ہوا۔ ان کا بیٹا خلیل خان  بتاتا ہے کہ مرنے والے کئی  قبائلی بڑوں میں سے پندرہ  تو صرف اسی کے  وزیری قبیلے سے تھے۔

اسی طرح 15 جون 2011 کو  امریکی ڈرون طیارے نے ایک گاڑی  ، جو کہ میرانشاہ اور سرکوٹ کے بیچ میں سفر کر رہی تھی، پر تقریباً چھ میزائل داغے اور پانچ لوگوں کو مار دیا۔  The bureau of investigative journalism کے مطابق پانچوں کے پانچوں لوگوں کو بعد میں  نام سے شناخت کیا گیا اور وہ پانچوں بھی  عام شہری تھے۔  کون لوگ تھے وہ؟ ایک  فارمیسی والا  عتیق الرحمان اور ایک اس کا طالبعلم ملازم ارشاد، ایک آٹو پارٹس کا بیوپاری عمر، ایک واپڈا کا ڈرائیور اکرم اور  اس کا  طالبعلم کزن شیرزادہ۔ یہ ہیں وہ ‘دہشت گرد ‘جن  کو مارنے کے لیے  چھ  Hellfire میزائل داغے گئے اور جب  عمر خان نے گاڑی سے باہر چھلانگ لگا دی تو آخری میزائل  نے اس کو بھی   قتل کر ڈالا۔

یہ صرف دو واقعات ہیں اور ان میں مرنے والے شہریوں کی تعداد پچاس تک پہنچ  جاتی ہے۔  ایک مہینے میں چھ حملے، ایک سال میں درجنوں  حملے اور  ہر حملے میں کئی ہلاکتیں۔کچھ عرصہ پہلے کی اطلاعات کے مطابق مرنے والے صرف بچوں ہی کی تعداد  178  ہے۔ اس کے باوجود جب  امریکی وزارت دفاع یہ کہتی ہے کہ مرنے والے شہریوں کی تعداد دس سے بھی کم ہے تو  پہلا سوال لازماً یہی ذہن میں آتا ہے کہ یہ کوئی اور گنتی گن رہے ہیں کیا؟ جواب اس کا ہے جی ہاں۔  امریکی وزارت دفاع کے مطابق کسی بھی حملے میں مارا جانے والا  ہر وہ مرد جو کہ جنگ لڑ سکتا ہے وہ جنجگو کی فہرست میں آئے گا ، الا یہ کہ اس کی موت کے بعد اس بات کا ٹھوس ثبوت مل جائے کہ  وہ ایک شہری تھا۔  امریکی حکومت کی طرف سے آج تک کوئی ایسی  کوشش نہیں کی گئی جو  ان حملوں میں مرنے والوں کے بارے میں  یہ  پتہ  لگانے کے بارے میں ہو کہ آیا وہ واقعی دہشت گرد تھے بھی کہ نہیں۔ اور ایسا کرنا سیاسی طور پر اوبامہ  کی صدارت کے لیے خودکشی کے مترادف ہو گا۔

باراک اوبامہ نے اس بات کو کبھی چھپانے کی کوشش نہیں کی کہ وہ ڈرون کو  زمینی  یا فضائی فوج پر زیادہ ترجیح  دیتا ہے۔  اس کی وجہ ایک تو یہ ہے کہ ڈرون اگر گر بھی گیا، اور گرتے ہی رہتے ہیں، توبھی  کسی فوجی کا قید میں چلا جانا یا مر جانا  اس سے کہیں  زیادہ عوامی ردعمل  کا موجب ہو گا۔ دوسری  بات یہ کہ گوانتانامو  جیل کا معاملہ بھی باراک اوبامہ کے لیے سانپ کے منہ میں چھچھوندر جیسا ہو گیا ہے۔ اس لیے مزید قیدی بنانے سے بہتر ہے کہ ان کو ٹھکانے لگا دیا جائے۔  لیکن  یہ سب تو ظاہر ہے  کہ  پوشیدہ وجوہات ہیں۔ اصل وجہ جو  اوبامہ، اس کی انتظامیہ  بالخصوص اس ڈرون جنگ کا  کرتا دھرتا  جان برینن  وغیرہ بتاتے ہیں وہ یہ ہے کہ  ’ہمارے ڈرون طیارے دہشت گرد اور عام شہری میں فرق کرنا جانتے ہیں’ یا ‘ہم ہر ممکن کوشش کرتے ہیں کہ ڈرون حملوں میں   عام شہریوں کا نقصان نہ ہو’ یا وہ جملہ  جو سب سے زیادہ  کہا جاتا ہے کہ ‘ہمارے  میزائل Pinpoint Precision پر کام کرتے ہیں’۔

اس    نشانہ بازی کی سوئی کی نوک  کے برابر  درستگی کے بارے میں   IISI  نامی کمپنی نے  ہرجانے کے دعویٰ میں  عدالت  کو   بتایا کہ    ” Netezza  کمپنی نے ہمارا سوفٹوئیر  Geospatialغیر قانونی طریقے سے اور عجلت میں   reverse engineer کر کے سی آئی اے کو بیچا اور انہوں نے یہ جاننے کے باوجود کہ یہ  سوفٹوئیر کئی میٹر تک غلط  جگہ بتا تا ہے، اسے خرید لیا”۔  چھوٹی سی گاڑی پر چھ  Hellfire میزائل مارنے کی ضرورت ایسے ہی نہیں پڑتی۔ اس کے  علاوہ ٹریکنگ چِپس بھی استعمال کی جاتی ہیں جو  زمین پر موجود   امریکہ کے خریدے ہوئے لوگ  مشکوک لوگوں کے  ٹھکانوں پر ڈال دیتے ہیں اور وہ چِپ  ڈرون   کی رہنمائی کرتی ہے۔  اپریل 2009 میں 19 سالہ  حبیب الرحمان  کو   مبینہ  طور  پر TTPنے  گولی  مار دی۔  قتل ہونے سے پہلے اپنے ویڈیو پیغام میں حبیب نے کہا کہ اسے  یہ پتہ نہیں تھا کہ یہ CIAکا کام ہے، اسے تو چپس پھینکنے کے 122 ڈالر دئیے گئے تھے اور کہا گیا تھا کہ اگر تم کسی عرب گھر میں یہ چپ ڈالنے میں  کامیاب ہو گئے تو  بارہ ہزار  ڈالر  ملیں گے۔  اس نے کہا کہ میں نے اندھا دھند وہ چپس ادھر ادھر پھینکنا شروع کر دیں ، میں جانتا تھا کہ لوگ میری وجہ سے مر رہے ہیں مگر مجھے پیسے چاہیے تھے”۔ تو یہ ہے  Pinpoint precision کی روداد!

شروع شروع میں یہ ڈرون حملے  کسی ایک شخص معین پر ہوتے تھے۔  مثلاً  بش انتظامیہ کے دور میں نیک محمد   پر جو حملہ ہوا تھا وہ   Personality strike تھا۔  باراک اوبامہ نے اقتدار میں آنے سے پہلے ہی یہ بات واضح کر دی تھی کہ     وہ  اور اس کی ٹیم ڈرون حملوں کو مزید آگے بڑھائیں گے۔ یہ پروگرام  ایسے آگے  بڑھا کہ اب سی آئی اے کے یہ ڈرون اڑانے والے اگر  کہیں بھی محسوس کریں کہ کوئی مشکوک سرگرمی ہو رہی ہے تو   اکثر و بیشتر  ان کو  حملہ کرنے کے لیے صدر سے اجازت لینے کی ضرورت نہیں ہے۔  جرگہ پر حملہ اسی کا شاخسانہ ہے،  اکرم خان کی گاڑی اسی لیے تباہ کی گئی، جنازوں ،شادیوں  اور دوسرے اجتماعات  پر  بھی حملے اسی Signature Strike کے زمرے میں آتے ہیں۔ یعنی  اگر کوئی صورتحال کسی پہلے سے متعین   Signature پر پورا اتر رہی ہے تو  ڈرون اڑانے والا حملہ کرنے کا مجاز ہے۔  وہ کیا قواعد ہیں جن کی بنیادپر یہ فیصلہ ہوتا ہے ، یہ ایک راز ہے۔   اب تو یہ بات مذاقاً کہی جاتی ہے کہ جہاں  CIA کو تین لوگ اچھل کود کرتے نظر آتے ہیں وہ ایک  Hellfire داغ دیتے ہیں۔

ڈرون طیارے بغیر پائلٹ کے نہیں اڑتے، بس ان کے پائلٹ  طیارہ میں نہیں بیٹھتے۔  وہ  ہزاروں میل دور نیواڈا میں بیٹھے ہوتے ہیں۔ کل کے ایف سولہ اڑانے والے آج Predator اور Reaper اڑا رہے ہیں۔ ایک بڑے سے کنٹینر میں ایک ٹیم بیٹھی ہوتی ہے جس میں سے دو پائلٹ ہوتے ہیں۔  ان کے سامنے بالکل جہاز ہی کے انداز میں مختلف آلات لگے ہوتے ہیں۔ دو سکرینوں پر  جہاز کا بیرونی اور نیچے کا منظر دکھائی دیتا ہے۔  بالکل ایک ویڈیو گیم کا سا سماں ہوتا ہے۔  F-16 کی کمر توڑ پرواز  سے یہ  پرواز اگر ویسے ہی  ’گھر جیسا آرام ‘نہیں تھا تو ڈرون اڑانے والوں کے لیے اس قتل کی سنگینی کو کم سے کم رکھنے کے لیے   اس قتل کو Bug splat یعنی مکھی مارنا کہا جاتا ہے۔  یعنی  مرنے والا جو بھی ہو  کم از کم انسان کہلانے کے لائق نہیں۔  اوبامہ کی اس جنگ میں  حملوں  کی زیادتی کی وجہ سے پائلٹس کی اتنی کمی ہو گئی ہے کہ اب  امریکی فضائیہ اپنے کیڈٹس سے بھی یہ کام لے گی۔ اس پر  طرہ یہ کہ اب  ان کی حوصلہ افزائی کے لیے  ان کو بہادری کے تمغے  بھی دئیے جا نے کا  پروگرام رو بہ عمل ہے۔

اس سارے معاملے میں  پاکستان اور اس کے عوام کا کیا کردار ہے؟  ہم نے مضمون کے آغاز میں ملوک الطوائف  کا  ذکر کیا تھا۔   پاکستان  کی حکومت کا کردار  اس معاملے میں ایسا ہی منافقانہ ہے۔   آنکھ اوجھل پہاڑ اوجھل کے مصداق اس علاقے سے ویسے بھی خبریں نہیں آتیں، اوپر سے ہمارے سابق وزیر اعظم صاحب وکی لیکس کے مطابق یہ کہتے ہوئے پائے گئے کہ ‘آپ اپنا کام جاری رکھیں گے، ہم پارلیمان میں آواز اٹھائیں گے اور پھر خاموش ہو جائیں گے”۔اپنے ملک کی عوام کو اس طرح درندوں کے حوالے کرتے کم ہی دیکھا گیا ہے۔ وزیرستان کی عوام کے آگے CIA کا کنواں اور پیچھے TTP کی کھائی ہے۔  وہ اپنے مخصوص محل وقوع  کی وجہ سے اس وقت  زمین کی پشت پر بد ترین مصیبت  میں ہیں۔ اور اس صورتحال میں انہیں دھکیلنے والے کوئی اور نہیں ان کے اپنے ہموطن ہیں۔

ہمارے  نام نہاد دانشور اکثر و بیشتر یہ کہتے ہوئے پائے گئے ہیں کہ ہم امریکہ کا ڈرون مار کے خود کہاں جائیں گے؟ اس کے جواب میں یہی کہا جاسکتا ہے کہ ان کا اپنا بچہ مرتا کسی ایسے حملے میں تو  پھر پوچھتے  ان  سے۔  ہر وقت ڈرون کی بھنبھناہٹ، اس کی ہمہ وقت موجودگی، اس کا کسی بھی مجمع پر حملہ کر ڈالنا ، اس حملہ کے نتیجے میں مدد کو آنے والوں کو بھی نشانہ بنانا،اپنے پیاروں ، اپنے  بچوں کی مسخ شدہ جلی ہوئی لاشیں ، اور کبھی صرف ان کے جسم کے ٹکڑے  ہی دفنا پانا۔   یہ سب وہ باتیں ہیں جو  انور بیگ اور خورشید ندیم جیسے  یہ ڈرائنگ روم کے دانشوروں کے لئے محسوس کرنا ان کے بس سے باہر ہے۔

کیا ہم ڈرون طیارے گرا سکتے ہیں؟    تو اس کے جواب میں پہلی بات تو  یہ  کہ پوری دنیا جانتی ہے کہ یہ ڈرون طیارے پاکستان کی اپنی  سرزمین سے اڑتے ہیں تو  ہماری فضائی حدود کی خلاف ورزی تو کوئی ہے ہی نہیں، رضا مندی  ہی رضامندی ہے۔  بلکہ ہمارے مقتدر حلقے تو ڈرون ٹیکنالوجی  مانگتے بھی رہے ہیں کہ جی ہمیں بھی تو دکھائیں۔     ڈرون مارگرانا کوئی مشکل کام نہیں ، لیکن مسئلہ یہ  ہے ہی نہیں کہ ہم مار سکتے ہیں کہ نہیں، مسئلہ یہ ہے کہ ہم مارنا چاہتے ہیں کہ نہیں۔   ہمارے نئے نویلے وزیر اعظم صاحب نے فرمایا ہے  کہ ‘ڈرون پر تحفظات ہیں’۔ ان کے اس سے بھی نئے نویلے  مشیر  خارجہ  نے فرمایا کہ  ’تمام صلاحیتیں بروئے کار لائی جا سکتی ہیں’۔  نجانے یہ باتیں کہہ کر وہ کس کی تسلی کرنا چاہتے ہیں ورنہ  صاف نظر آرہا ہے کہ  یہ  بھی  ’اِب کے مار’ والے لوگ ہیں۔  AfPak ریجن کے لیے امریکہ کے نئے  نمائندہ   جیمز ڈابنز سے جب ہمارے ملک کے وزیر اعظم نے کہا کہ ڈرون حملے بند کر دیجیے تو اس نے ایک  یک لفظی جواب  جو دیاوہ  تھا “نہیں” اور ہماراردعمل  تھا ،’جی اچھا’۔ معذرت کے ساتھ ، یہی ڈرون اگر کوئی بیکری والا اڑا رہا ہوتا  اور اس نے  یہ ‘نہیں ‘ بولا ہوتا  تو  اس کے ساتھ یہ کیا سلوک کرتے وہ ہم اچھی طرح جانتے ہیں۔

دتہ خیل میں مرنے والے داؤد خان کے بیٹے نور خان  نے پاکستانی وکیل شہزاد اکبر سے را بطہ کیا جو کہ  درجنوں دوسرے خاندانوں کے  لیے پاکستانی عدالتوں میں ان ڈروں حملوں میں مرنے اور زخمی ہونے والوں کے لیے عدل  مانگ رہے تھے۔   چند ماہ قبل پشاور ہائیکورٹ نے کیس کے فیصلے میں ڈرون حملوں کو غیر قانونی قرار دے دیا ۔  پاکستان کی پارلیمنٹ پہلے ہی ان حملوں کو نا جائز قرار دے چکی ہے۔  عمران خان نے پہلا مطالبہ  جو اس حکومت سے کیا ہے وہ یہی ہے کہ ڈرون حملوں کو رکوا دو ہم تمہارا ساتھ دیں گے۔ پاکستان کی حکومت کے پاس اب   ہر طرح کا اختیار ہے کہ وہ ان حملوں کو  ایک دم رکوا دے  لیکن ان کا پھر بھی ایسا نہ کر نا  سیدھا سیدھا اشارہ کرتا ہے  کہ یا تو ملی بھگت  ہے یا کردار کی کمی، یا  کردار کی کمی کی وجہ سے ملی بھگت!

جب اندلس  کے نا عاقبت اندیش حکمرانوں کے لیے سانس لینا دوبھر ہو گیا  اور  الفانسو ان کی  جڑوں میں بیٹھ گیا تو پھر انہوں نے مدد کے لیے   سمندر پار سے  یوسف بن تاشفین کو بلایا جس نے ایک ہی حملے میں الفانسو کا ایسا صفایا کیا کہ اگلے چار سو سال اندلس میں پھر اسلامی پرچم لہرانے لگا۔  ہم جانتے ہیں کہ پاکستان کے حکمرانوں کے ہاتھ سے معاملات نکل چکے ہیں۔ یہ اب  اپنی مرضی سے  ایک روٹی  بھی نہیں خرید سکتے۔  تو ایسے وقت میں  کسی یوسف بن تاشفین کو نہ سہی، اپنی عوام کو ہی آواز دے لیں۔  ہمیں اصل معاملات سے آگاہ کریں۔  اس بات سے آگاہ کریں کہ مشرف نے جب ہمیں اس نا پاک اور نا مراد جنگ میں دھکیلا تھا تو کیا شرائط طے کی تھیں؟ اس جنگ میں پاکستان اور اس کے وسائل کی شمولیت کے parameters کیا تھے؟  پھر   وہ کیا وجہ ہے کہ  ہمارے شہروں میں اسلامی نام والی تنظیموں کے دھماکے کی ایک ایک لمحے کی خبر دکھائی جاتی ہے لیکن امریکہ کے ان ڈرون حملوں کی کوئی ایک ویڈیو بھی نہیں آتی ۔ کیوں ہم اپنے شہروں میں مرنے والے  شہریوں کی تعداد، علاقے ، حتیٰ کہ مسالک تک سے آگاہ ہیں لیکن  دتہ خیل، سرکوٹ ، میرانشاہ اور ڈامہ ڈولہ کے ان Hellfire میزائل میں مرنے والے ‘دہشت گردوں’ کی اصلیت سے نا واقف ہیں۔  اگر آپ  عوام کو اعتماد میں نہیں لیں گے تو  یہ معاملہ زیادہ دن چلنے والا نہیں ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ  وہ وقت دور نہیں جب یہ Predator اور Reaper کراچی، ملتان، رحیم یار خان،  کوئٹہ ، لاہور، ایبٹ آباد  اور اسلام آباد  کی  فضاؤں میں بھی ایسے ہی نظر آئیں گے۔  لیکن ایسے وقت میں نجانے کیوں مجھے یقین ہے  کہ ہمارے یہ پٹھان بھائی ہمیں ایسے نہیں چھوڑیں گے جیسے ہم نے انہیں چھوڑ رکھا ہے۔  اللہ ہمارے ان بھائیوں اور بہنوں کی حفاظت کرے۔ آمین!

طوفان سے پہلے

Posted in Social revolution by baigsaab on January 11, 2012

معاملہ بہت ہی چھوٹی سی بات سے شروع ہوا تھا۔ اتنی چھوٹی کہ جو کچھ اس کے بعد ہوا یہ یقین کرنا مشکل ہے کہ اس سب کا باعث یہ چھوٹی سی بات ہی تھی۔

یہ نومبر کی ایک شام کی بات ہے۔ اسی نومبر کی۔ شیردل اپنے گھر والوں کو بس میں سوار کرا رہا تھا جو کہ خانپور اپنے گاؤں جا رہے تھے۔ جس جگہ سے یہ بسیں چلتی ہیں وہ کیونکہ عین بازار میں واقع ہےاس لیے بسوں کی روانگی اور آمد کے وقت اچھا خاصا رش ہو جاتا ہے اور کبھی کبھار تھوڑی بہت دھکم پیل بھی ہو جاتی ہے۔ اس وقت بھی یہی کچھ ہو رہا تھا۔ بس کچھ نیمے دروں نیمے بروں انداز میں سڑک پر آرہی تھی۔ جانے والوں کو الوداع کہنے والے جلدی جلدی ان سے آخری باتیں کر رہے تھے اوران کے آس پاس سے راہگیر اور موٹر سائیکل والے بچتے بچاتے نکل رہے تھے۔ شیر دل کا ایک رشتہ دار تنویر رینگتی ہوئی بس کے پائیدان پر چڑھ رہا تھا کہ اس کی ٹانگ ایک موٹر سائیکل سوار کو لگ گئی۔ یہ ایک سولہ سترہ سالہ لڑکا تھا جو دودھ سپلائی پر نکلا ہوا تھا۔ لڑکے نے کچھ نازیبا کلمات کہے تو جواب میں ادھر سے بھی کچھ تلخی کا مظاہرہ ہوا۔ بات کچھ گرم ہو گئی تو یہ حضرت اپنی سواری سے نیچے اترے اور انہوں نے باقاعدہ ہاتھا پائی کی کوشش کی تو اس کو کچھ لوگوں نے پیچھے سے پکڑ لیا۔اس نے اپنے آپ کو ان سے چھڑایا اور سڑک کی دوسری طرف یہ کہتے ہوئے بھاگ گیا کہ “تم نے غلط آدمی کو چھیڑ دیا ہے”۔ ان لوگوں کو پتہ تھا کہ یہ جن لوگوں کا لڑکا ہے وہ علاقے میں کافی لوگوں سے لڑائی جھگڑا کر چکے ہیں لیکن شیر دل کا بہنوئی ان کا بچپن کا دوست تھا اور وہ وہیں موجود تھا، کوئی خاص مسئلے کی بات لگ نہیں رہی تھی۔ ابھی تھوڑی دیر ہی گزری تھی کہ سڑک کی دوسری طرف سے ایک مجمع بھاگتا ہوا ان کی طرف آیا اور اس سے پہلے کہ کوئی بات ہوتی تنویر کے اوپر حملہ کر دیا۔ صورت حال کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے شیردل کا بہنوئی آگے بڑھا اور اس کی مدد کرنے کی کوشش کی، اپنے ان دوستوں سے چھڑانے کے لیے جن کے ساتھ وہ بچپن سے کھیلا تھا۔ لیکن اس کو بھی دھکے دے دئیے گئے۔ اتنا ہنگامہ ہورہا تھا کہ آس پاس میں تماشہ دیکھنے والا مجمع بھی دور ہو گیا اور شیردل اور اس کے دونوں ساتھی ان بیس بائیس لوگوں میں گھر گئے۔ شیر دل کے ہاتھ میں اس کی ۲ سالہ بچی تھی جس کے ساتھ میں وہ اپنے آپ کو بےبس محسوس کر رہا تھا اور وہاں تنویر لہولہان ہو رہا تھا۔ اس نے بڑی مشکل سے اپنی بچی کو کسی جاننے والے کے حوالے کیا اور تنویر کو چھڑانے کے لیے آگے بڑھا تو وہاں سے کسی نے ہتھوڑا چلانا شروع کر دیا۔ یہ دیکھے بغیر کہ یہ ہتھوڑاکسی کے منہ پر لگ رہا ہے، سر پر یا کہاں۔ جب انہوں نے اچھی طرح مار پیٹ کر لی تو وہاں سے چلے گئے۔ ان کے جانے کے بعد ان لوگوں نے اپنے حال کو دیکھا توتنویر کے سر پر گہرے زخم آئے تھے، شیردل کا بہنوئی بھی لہولہان تھا۔ اور خود شیردل کے سر سے بھی خون بہہ رہا تھا۔ ایک چھوٹی سی بات سے اتنا بڑا نقصان ہو گیا۔

********

حسن صاحب نے فون اٹھایا، دوسری طرف شیر دل تھا۔ اپنے بہنوئی اور تنویر کو وہ قریب ہی واقع ان کے گھر چھوڑ کر وہ اپنے گھرآگیا تھا۔ اس نے پوری بات حسن صاحب کو بتائی اور کہا، “سر میں ابھی گھر سے نکل کر واپس وہیں جا رہا ہوں ۔ میں نے وہاں اور لوگ بھی جمع کر لیے ہیں اب میں ان دودھ والوں کو نہیں چھوڑوں گا۔ ایک ایک کو دیکھ لوں گا۔ ” شیر دل حسن صاحب کا شاگرد رہ چکا تھا اور اب ان کے ساتھ ہی ہوتا تھا۔ کوئی بھی قدم اٹھانے سے پہلے وہ حسن صاحب سے مشورہ ضرور کرتا تھا ۔انہوں نے اس کو وہیں ٹھہرنے کو کہا اور خود اس کے گھر کی طرف نکل کھڑے ہوئے۔

********

حسن صاحب شیردل کے گھر پہنچے تو وہ زخمی شیر کی طرح ادھر سے ادھر گھوم رہا تھا۔ صاف لگ رہا تھا کہ اس کو صرف حسن صاحب کی بات نے روکا ہوا ہےورنہ وہ تو اب تک نکل چکا ہوتا۔ اس نے ابھی تک اپنے کپڑے بھی تبدیل نہیں کیے تھے اور اس کے سر کا زخم بھی توجہ مانگ رہا تھا گو زخم گہرا نہیں تھا۔ حسن صاحب کو پتہ تھا کہ معاملہ کو طول دینے کا مطلب سوائے مزید خونریزی کے اور کچھ نہیں لیکن شیر دل غصہ سے بے قابو ہو رہا تھا۔ انہوں نے اس کے جذبات کو دیکھتے ہوئے اس کے ساتھ جانے کا فیصلہ کیا کیونکہ اس وقت اس کو اکیلا چھوڑنا اور خطرناک ہو سکتا تھا ۔ وہ جانتے تھے کہ شیر دل اس وقت صرف انہی کے قابو میں آسکتا ہے۔

********

معاملہ کیونکہ ابھی گرم تھا اس لیے علاقہ میں چہل پہل معمول سے بہت زیادہ تھی۔ حسن صاحب نے شیردل کے کافی دوستوں کو وہاں پایا جو کہ سب اسی معاملہ کو نمٹانے کے لیے جمع ہوئے تھے۔ ان کے عزائم کیا تھے یہ جاننے کے لیے کسی قسم کے اندازے کی ضرورت نہیں تھی کیونکہ وہ مکمل “تیاری “کے ساتھ بیٹھے تھے۔ وہاں پہنچ کر انہیں پتا چلا کہ وہ لڑکے جنہوں نے وہ مار پیٹ کی تھی اب بھاگ چکے ہیں اور دکان پر ان کا باپ بیٹھا تھا۔ حسن صاحب نے شیر دل کی توجہ اس بات کی طرف دلائی اور کہا۔ “دیکھو وہ لڑکے اب یہاں نہیں ہیں، جو بھی تم کر سکو گے ان کے باپ کے ساتھ ہی کرو گے تو کیا ہمیں یہ زیب دیتا ہے کہ ہم ایک شخص کا بدلہ کسی اور سے لیں؟ کیا تم پسند کرو گے کہ تمہارا بدلہ تمہارے ابو سے لیا جائے؟” شیردل بھڑک اٹھا۔ “تو کیا کریں سر؟ بس چوہے بن کر مار کھاتے رہیں؟ میری غیرت یہ برداشت نہیں کر سکتی کہ اس ظلم پر چپ ہو کر بیٹھا جائے۔ ظلم سہنا بھی ظالم کا ساتھ دینا ہی ہے نا؟” حسن صاحب اس کی بات سن رہے تھے اور شیردل اپنا غبار نکالتا جا رہا تھا۔ ” یہ اگر شرمندہ ہوتے تو میں سو دفعہ انہیں معاف کردیتا لیکن یہ شرمندہ نہیں ہوتے ان کا آئے دن کا یہی کام ہے، جب دل چاہتا ہے ڈنڈوں اور ہتھوڑوں سے لوگوں کو مارتے ہیں اور لوگ مار سہتے ہیں۔ نہیں سر مجھے ایسی بے غیرتی گوارا نہیں!”

“تو ہم ان کے خلاف ایف آئی آر درج کرا تے ہیں نا۔ جب ایسے لوگوں سے نمٹنے کے لیے قانون موجود ہے تو ہمیں اپنے ہاتھ خراب کرنے کی کیا ضرورت ہے؟” حسن صاحب نے کہا۔ “میرے تعلقات ہیں نا اوپر تک، ہم دیکھتے ہیں کیسے نہیں ہوتا کچھ؟”

شیردل نے نظریں اٹھا کر حسن صاحب کی طرف دیکھا اور کہا” کون سا قانون کہاں کا قانون سر؟ یہ سب لڑکے یہاں کی سب سے مضبوط پارٹی میں ہیں۔ تھانیدار ان کا “گرائیں” ہے یہاں کوئی نہیں سنے گا ہماری۔۔۔ ” شیردل کے لہجے کی تلخی اس کی مسکراہٹ میں زہر گھول گئی۔

“یار تم میری بات تو مان لو میں ہوں نا میں دیکھ لوں ان سب کو۔” حسن صاحب نے اس کو بالآخر قائل کر لیا۔

********

ڈیوٹی ڈاکٹر نے شیر دل کے زخموں کو دیکھا اور حسن صاحب سے کہا۔ “دیکھو بھئی مسئلہ یہ ہے کہ نہ تو اس کی ہڈی ٹوٹی ہے نہ ہی چھ انچ گہرا زخم لگا ہے۔ تو اس میں میں کیا رپورٹ لکھوں؟” وہ دونوں سرکاری ہسپتال میں بیٹھے تھے جہاں جانے کا مشورہ ان کوتھانے کے محرر نے دیا تھا ۔ حسن صاحب کی سرکاری ملازمت اور ڈی ایس پی سے شناسائی سے یہی ہو سکا کہ محرر نے درشت لہجے میں ہی سہی، ان سے بات کرلی اور ان کو کسی سرکاری ہسپتال سے سرٹیفیکیٹ لانے کو کہا۔ یہ دونوں اب یہاں بیٹھے تھے اور ڈاکٹر شیر دل کے زخموں کو دیکھنے کے ساتھ ساتھ ان کو مفت قانونی داؤ پیچ بتا رہا تھا ۔ “میرے بھائی یہ چھ سات ٹانکے تو آپ کو سیڑھیوں سے گر کر بھی آسکتے ہیں تو کیا آپ سیڑھیوں پر کیس کرو گے؟ اتنی چوٹ پر کچھ بھی نہیں ہوتا، کوئی بڑی چوٹ ہو تو کچھ ہو سکتا ہے۔ آپ بولو تو میں ایسی رپورٹ بنا سکتا ہوں ” ڈاکٹر نے خالص کاروباری دیانت کے ساتھ ان کے ممکنہ راستے ان کے سامنے رکھ دئیے۔ وہ دونوں وہاں سے نکل کر واپس تھانے آگئے۔

تھانے میں ان کے آنے کے بعد دودھ والوں کا ایک نمائندہ بھی آگیا تھا جو کہ محرر کے ساتھ ہی بیٹھ گیا تھا۔ حسن صاحب کو اب تک سمجھ آگیا تھا کہ محرر نے جو ان کو ہسپتال بھیجا تھا تو اس کا مقصد معاملہ کو سنبھالنا تھا نہ کہ کارروائی کو آگے بڑھانا۔اب اس نے ڈاکٹر کی کہی ہوئی بات دہرا دی تو حسن صاحب نے تلخی سے کہا۔ “گویا اگر میں ان میں سے کسی کو ماروں اور نہ ہڈی توڑوں اور نہ چھ انچ گہرا زخم آنے دوں تو آپ میرے خلاف بھی کچھ نہیں کر سکتے” اس پر سامنے بیٹھے اس شخص نے تڑپ کر کاٹ دار لہجے میں کہا “ایسا سوچنا بھی نہیں سمجھے”۔ “اور یہ کیا بیس آدمی بیس آدمی کی رٹ لگائی ہوئی ہے۔ بیس آدمی مل کر مارتے تو تم یہاں بیٹھے ہوتے؟ دو تین لوگ تھے وہ بس!!” اب اس بات میں شک کی گنجائش نہیں تھی کہ یہاں سے صرف ایک ہی فریق کو انصاف مل سکتا ہے۔ حسن صاحب اور شیردل اس جگہ سے واپس آگئے۔

********

اس واقعہ کے تین دن بعد شیر دل حسن صاحب کے ساتھ بیٹھا تھا۔ ان کے کچھ اور ساتھی بھی وہیں تھے جن کے ساتھ وہ مشورہ کیا کرتے تھے۔ شیر دل اپنے دل کی بھڑاس نکال رہا تھا۔ “سر آپ نے دیکھ لیا کہ ان کی پہنچ کہاں کہاں ہے؟ نہ ان کو قانون کا کوئی ڈر ہے نہ کسی اور کا۔ علاقے میں موجود ہر سیاسی پارٹی کے ساتھ وہ بیٹھتےہیں ۔ یہ ان کو چندہ دیتے ہیں اور وہ ان کو پروٹیکشن دیتے ہیں۔ ہر شخص ان سے دب کر رہتا ہے ۔ ان سے نمٹنے کا صرف ایک طریقہ ہے کہ جہاں ان میں سے کوئی ملے اس کو وہیں گرا دو” ۔

حسن صاحب جو اب تک خاموش بیٹھے ہوئے تھے، وہاں موجود سب لوگوں سے مخاطب ہوئے۔ “آپ سب مجھے بہت عرصے سے جانتے ہیں، زندگی کے گرم و سرد ہم نے مل کے دیکھے ہیں۔ ہم میں سے ہر ایک کے پاس باہر نکل جانے کے کئی موقع آئے لیکن میں نے ہمیشہ یہی کہا ہے کہ جب تک مجھے لگتا رہے گا کہ اس معاشرہ میں سدھار کی گنجائش موجود ہے میں کہیں نہیں جاؤں گا۔ لوگ ہمیں بے وقوف کہتے رہے ہیں لیکن قرآن اور حدیث کے مطالعہ سے یہی سامنے آتا ہے کہ گھر بار اگر چھوڑنا ہی ہے تو دین کے لیے نہ کہ دنیا کے لیے۔”

“لیکن اب اس موقع پر میں یہ سوچنے پر مجبور ہو گیا ہوں کہ کیا واقعی ہمیں دین پر عمل کی اجازت ہے؟ قانون ہمیں اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ ہم سڑکوں پر خون کے فیصلے کرتے پھریں لیکن آنکھ کے بدلے آنکھ بھی تو دین نے ہی بتایا ہے۔ ان کو سبق نہ سکھایا گیا تو ایسے اور معاملے ہونگے۔ رپورٹ تک نہیں لکھا سکتے کہ اس کے لیے بھی رشوت دینی ہی پڑے گی۔ یہ لوگ تو کوئی راستہ ہی نہیں چھوڑ رہے سوائے اس کے واقعی وہی کیا جائے کہ جو شیر دل کہہ رہا ہے۔ تو پھر کیا کیا جائے؟ بندوق اٹھا کر ان سب کو مار دیا پھر کیا کریں؟ کیا معاشرہ سے ظلم ختم ہو گیا؟ کیا ایسے سب لوگ ختم ہو گئے؟ معاشرہ میں تو ایسے لوگ لاکھوں نہیں تو ہزاروں کی تعداد میں تو ضرور ہیں تو کیا ہزاروں کو قتل کریں ہم؟ “

ایک ساتھی یوں گویا ہوئے”اگر ہم ان کے دس ماریں گے تو کل کو ہمارا بھی ایک جائے گا۔ ہم سب کو پتا ہے کہ ان معاملات کی شروعات یہی ہوتی ہے اور ان کی انتہا کیا ہوتی ہے۔”

وہاں موجود ایک صاحب نے کہا “یار دیکھا جائے تو یہ ظلم اور زیادتی تو ایام جاہلیت میں بھی تھی۔ لوگ اس وقت بھی بے گناہ قتل ہوتے تھے اور بیٹیاں زندہ دفنائی جاتی تھیں۔ لیکن سنت نبویؐ سے جو ہمیں سبق ملتا ہے وہ یہی ہے کہ بدلنا ہے تو نظام کو بدلو چاہے کچھ بھی ہو جائے”

“یار وہ بھی توہے نا۔ بکریاں لے کر پہاڑ پر چلے جاؤ۔ کمانیں کاٹ دو۔ یہ بھی تو حکم ہے نا بھائی؟ ” ایک اور صاحب نے کہا۔

“خیر دیکھیں اب آگے کیا ہوتا ہے اس معاملہ میں، فی الحال تو شیردل کا معاملہ دیکھنا ہے۔” حسن صاحب نے بات کو سمیٹتے ہوئے کہا۔

********

جس جگہ یہ سارا واقعہ ہوا تھا اس سے ذرا ہی آگے اسی آبادی میں ایک چائے کے ڈھابے پر پنچائت بیٹھی تھی۔ شیر دل کے ماموں کی کوششوں سے یہ پنچائت بلائی گئی تھی کہ معاملہ کو رفع دفع کر دیا جائے۔ انہوں نے بڑی مشکل سے اپنے لڑکوں کو روکا تھا لیکن ان کو پتہ تھا چنگاری ابھی بھی سلگ رہی ہے،ذرا سی ہوا سے آگ بھڑک سکتی تھی اس لیے وہ چاہتے تھے کہ معاملہ جلد از جلد صلح تک پہنچ جائے۔

سرپنچ نے سب سے پہلے تو اس لڑکے کو بلایا اور اس سے سختی سے پوچھا کہ معاملہ ہوا کیا تھا۔ اس نے کچھ بتایا کچھ چھپایا تو وہاں موجود دوسرے لوگوں نے اس کو ٹوک دیا۔ دونوں طرف کے دعوؤں میں تضاد اتنا واضح تھا کہ صاف لگ رہا تھا کہ کوئی ایک پارٹی غلط بیانی سے کام لے رہی ہے۔ دونوں کا کہنا تھا کہ شروعات دوسری طرف سے ہوئی تھی دونوں کہہ رہے تھے زیادتی دوسری طرف سے ہوئی ہے۔ البتہ سختی سے پوچھنے پر لڑکے نے بتایا کہ ہتھوڑے وہی چلا رہا تھا اور اس کا بھائی۔ ان کا باپ وہیں بیٹھا تھا اور اپنے بیٹوں کا دفاع کر رہا تھا۔ بالآخر سر پنچ صاحب نے شیر دل سے کہا ” دیکھ بھئی، یہ تو مان رہا ہے کہ اس نے ایسا کیا لیکن ایسا کوئی بلاوجہ تو نہیں کرے گا، کچھ نہ کچھ تو ہوا ہو گا نا تمہاری طرف سے!!!”

ان کا یہ جملہ سن کر یہی خیال آیا کہ اگر اس اصول کو صحیح مان لیا جائے تو اس کے نتائج کیا ہوں گے؟ ہابیل نے کچھ تو ایسا کیا ہوگا کہ قابیل نے اس کو قتل کر دیا؟ یہود اپنے انبیاء کو قتل کرتے رہے کوئی تو وجہ ہوگی نعوذباللہ۔ مطلب ان کے اصول کے مطابق اس دنیا میں جس پر کوئی زیادتی ہوئی ہے اس میں کوئی نہ کوئی قصور اس کا اپنا بھی ہو گا۔ سرپنچ کے اس تاریخی فیصلے کے ساتھ ہی اذان ہو گئی اور یوں صلح کا اعلان کر دیا گیا۔ دونوں طرف سے ہاتھ ملا لیے گئے اور معافی تلافی ہو گئی۔

********

زبردستی کی اس صلح سے یہ معاملہ تو نمٹ گیا۔ اب شاید یہ لوگ ایک دوسرے کو دیکھ کر منہ دوسری طرف کر کے چلے جائیں۔ شاید شیردل کا بہنوئی ایک دو سال بعد اپنے بچپن کے دوستوں کے ساتھ دوبارہ بیٹھنے لگے۔ شاید تنویر کے سر کے ٹانکوں کے نشان وقت کے ساتھ مندمل ہو جائیں۔ لیکن کیا ایسے واقعات ہونا بند ہو گئے؟ کیا اس بات کی ضمانت مل گئی کہ کل کو کسی اور تنویر کا سر نہیں پھٹے گا؟ وثوق سے کہا جا سکتا ہے کہ اس بات کی کوئی ضمانت نہیں۔ یہ نظام صرف ظلم کی ترویج کر رہا ہے۔ اور مظلوموں کے پاس کوئی ایک بھی ذریعہ نہیں ہے کہ وہ انصاف حاصل کر سکیں۔ نہ ہی ان کو کوئی بچاؤ کا راستہ نظر آتا ہے. ہر کسی کے پاس یہ موقع نہیں ہوتا کہ اگر اس کو کسی جگہ ظلم کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے تو وہ کسی دوسری جگہ ہجرت کر جائے ۔ اسی لیے لاوا اندر ہی اندر پک رہا ہے۔ یہ دیکھنے کے لیے کسی خورد بین کی ضرورت ہے نہ دوربین کی، بس تعصب کی عینک اتارنے کی ضرورت ہے۔ سڑکوں پر ہوتے فیصلے ضروری نہیں ہمیشہ صلح پر منتج ہوں۔ عوام کبھی کبھی اپنی عدالتیں بھی لگا لیتے ہیں اور اس چکی میں گھن کے ساتھ گیہوں بھی پستا ہے۔ عوام کی وحشیانہ عدالتیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ جب لاوا بہت پک جاتا ہے تو وہ پہاڑ کا سر پھاڑ کر باہر آجاتا ہے۔ اگر پریشر ککر میں بھاپ نکلنے کی جگہ نہ ہو تو ہر گھر میں روز دھماکے ہوں۔ یہی اصول سماج کا ہے۔ ظالم معاشرہ مظلوم کےلیے ہر راستہ بند کر کے سمجھتا ہے اس کی بچت ہوگئی جب کہ حقیقتاً وہ اپنے تابوت میں کیل ٹھونک رہا ہوتا ہے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ قانون کو ہاتھ میں لے لیا جائے لیکن اس نظام کی تطیہر اب لازم ہو گئی ہے۔جب تک اس ہتھوڑے برسانے والے کے سر پر بھی ویسے ہی ہتھوڑے نہیں پڑیں گے تب تک وہ بھی باز نہیں آئے گا بلکہ اور نڈر ہو جائے گا۔ جب تک ظلم کرنے والے کو اس بات کا ڈر نہیں ہوگا کہ آنکھ کے بدلے آنکھ اور دانت کے بدلے دانت جا سکتا ہے تب تک ظالم کا ہاتھ نہیں رکے گا۔ یہی قانون قصاص ہے جو ہمیں ہمارے عادل کریم رب نے دیا ہے۔ ” اور اے عقل رکھنے والو تمہارے لیے قصاص میں زندگی (کا سامان) ہے”

وَلَكُمْ فِي الْقِصَاصِ حَيَاةٌ يَا أُولِي الْأَلْبَابِ

Homeschooling: Why and How!

Posted in Social revolution by baigsaab on March 1, 2011

Ustad e Muhtaram ki Yaad main

Posted in Islam by baigsaab on April 22, 2010

Ustad e Muhtaram ki Yaad main

Protest against Gillette’s collective shaving event!

Posted in Uncategorized by baigsaab on April 1, 2010

One of the biggest signs of a society’s bankruptcy is the demise of its social values. Social values are benchmarks of good and bad, acceptable and rejected, desired and detested and so on. So when society derives these values indigenously from within itself, it’s a living society, on the contrary if it depends on external sources for its values, it’s stagnant! What we’re experiencing today in our society is the latter behavior. We’ve slowly and gradually approached a point where we look towards the west for our benchmarks of good, bad, success and failure, while abandoning those given to us by our Creator, ALLAH (swt). It’s evident in our individual behavior and ubiquitous in our society. It’s a direct result of our society’s submission to the western culture and our ignorance towards our cultural asset.

However, saying so doesn’t mean that our individual has gone so bankrupt that he doesn’t love religion. It’s one thing to ignore something and quite another to not love it. That’s exactly why that despite our lack of application of religion in our personal lives, we’re always in unison against any attempt towards disgracing our religious symbols. Protests against blasphemy are a case in point. The west and its agents try it time and again and keep testing the level of “Ghairat” left in Muslims. They’re relentless in their approach therefore we’re experiencing these incidents more and more.

One such incident was Tuesday’s collective shaving event held by Gillette. The company has been holding such events in other countries and brought this campaign to Pakistan for the first time. As reported from various sources, the event was to break the world record set by India where a few more than 1800 people shaved their faces simultaneously. The idea was to gather 2500 men who’ll do the same at the signal and shave their beards to “bring glory to Pakistan”. Apparently someone from Guinness was also present to verify the validity of the claim. The event was to be held at 6 pm in an ongoing festival of some sort at Karachi Expo center.

This seemingly innocuous event, whose sole aim was manifested to revive patriotism in our youth, was actually an attempt to make a mockery of the sunnah of our beloved prophet RasooluLLAH (saw). Keeping beard is not only the sunnah of RasooluLLAH (saw) and his Sahaba (ra) but also his order to us. Every Muslim child knows this and every adult understands it. But the magic of these multinationals is so profound that they successfully deceived hundreds of young men to scrap this important sunnah from their faces collectively with the stroke of their blades. But were they successful? What followed is a case study of the power of word of mouth and more importantly, the strength of connection of Muslims with one another. An eyewitness account is narrated below verbatim.


At around 2 in the afternoon, I got an sms from a close friend of mine mentioning this event. I quickly asked him to confirm it to me as, with no disrespect to him, I couldn’t believe such an event could be held in broad daylight in the heart of the country which achieved its independence in the name of Islam. I asked a few other sources within some religious circles but they expressed their ignorance. Anyway, it wasn’t before 3 when I could log on to my pc and find the event’s specifics online. Truly speaking, I was still not sure if the organizers had the courage to actually hold this event, but there was only one way to confirm. I didn’t know what I would do if I’d confirm it but I just managed to convince myself to go to Expo center. I got at the University road gate of Expo center by 4 and it was, to my bewilderment, deserted as if no event was being held! I moved further and as I turned round the corner, saw some hustle and bustle in front of Sir Shah Suleiman road gate.

There was a mob of around 150 mostly bearded men gathered in front of the gate, there were banners mounted on the building’s fence denouncing the event and the organizers. As I grew nearer, it became evident that a lot had happened already. Although there was a mob gathered there, who seemed to belong mostly from religious schools, but also included individuals who didn’t belong to any religious outfit, there were absolutely no signs of riot or chaos. The mob wasn’t effectively following a leader but it was extremely peaceful. They were chanting slogans demanding stern action against the organizers and that the event be cancelled. As I was approaching the mob, it suddenly began to disperse. On inquiring a gentleman, I was told that the event has been cancelled and the organizers have guaranteed that this promise wouldn’t be broken. On asking which party he belonged to I was told simply that it didn’t matter as all of the people there had gathered purely for the love of the Sunnah of RasooluLLAH (saw), I was literally humbled by this response. Soon after a middle aged cleric addressed without any loudspeaker and lambasted the organizers for their compliance with the Zionist Multinational companies. He also criticized Gillette for their provocative attempt and demanded that their trade license in Pakistan be cancelled. He later demanded the Supreme Court to take notice of the event and punish the culprits. There was another short speech by another young man and then the cleric spoke again. The religious students boarded their bus in the meanwhile and the mob dispersed soon after…

Listening to this account and watching the video of the protest has revived my confidence in this Ummah, I’m sure you’d share the sentiment. If each individual just decides to do whatever is in his capacity, without thinking whether or not it will make a difference, ALLAH would make it easy for him. These were only 100-150 people, ALLAH knows how many would gather if more time was at hand.

But it must be remembered that no enemy raises his eyes towards any nation who guards its ideological borders. We’ve allowed too much influence by the western and Indian media and it’s hurting us badly.If committing a sin collectively is a sin then we’re all guilty of committing the sin of not struggling for establishment of Islam in this country, which ironically was built in the name of Islam. Failure to do so I’m afraid, will result in even greater threats and those may be too much for our weak nation to handle.

May ALLAH save us from such a fate, ameen.

Inqilab!

Posted in Islam, Social revolution by baigsaab on February 6, 2010

Rationale for Islamic way of life (As I have understood)

Posted in Social revolution by baigsaab on September 13, 2008

There are more than a billion Muslims in the world, almost 2/3 of them offer prayers (during ramadan it’s almost 3/4), Saudia is inundated with pilgrims during Hajj, Eid shoppers crowd the markets, every mosque is overflowing during Friday prayers; yet we’re divided, dismantled, disintegrated, and most shamefully, dominated! Still our behaviour is masochistic to say the least. The west can step over our values any time they want and all we do is ignore. The very west that’s dominating us in our lives, is the place we all want to go. We look up to them to cure us from the ailments they’ve caused. Yeah right, you’ve heard all this before! 🙂

My question has lately been, what is it that we should be doing as Muslims to be respected. One thing is clear, no matter how much we try to become “them”, we can’t become “them”, they won’t accept us as one of theirs and rightly so.

Let me confess, this questions came to my mind only after I started listening to dars-e-quran of a contemporary scholar. It was different from other Moulvis bcuz it first created those questions in my mind, and then led to the answers so logically that everything started to fall into place.

First reaction was, if we want to be respected in life, then the only way we can do that is to become ardent followers of Quran. Whatever Quran says, we follow.

Second reaction, since RasooluLLAH brought the Quran, and since he was Saadiq and Ameen, we should trust him that he(S.A.W.) described and acted upon the Quran in the best and most easily understandable manner as possible. So if we follow the Sunnah, we’ll do exactly what Quran wants us to do.

Still, my mind, like the minds of many others, kept asking. There should be a logic behind this. All the rituals, practices, prohibitions, allowances, should have a logical outcome, because Islam is a very practical religion, at least as is told. On one hand, it stops from adultery, fornication, gambling, meaningless activities, and on the other hand orders to do things in a certain way, follow a certain code, do this, don’t do that. This should all lead up to a grander cause than just creating mindless followers.

The reason, as far as I’ve understood, is in this verse of the Quran.

048.028
“It is He Who has sent His Messenger with Guidance and the Religion of Truth, to proclaim it over all religion: and enough is Allah for a Witness.”

Islam was destined to dominate. Muhammad RasooluLLAH’s (S.A.W.) mission was not only to proclaim the message of ALLAH(SWT), but also to upend the prevalent politico-socio-economic system. And as we all know, systems don’t give way all too easily. It needs sacrifices, sacrifices need volunteers, and volunteers should be totally committed to the cause instead of walking the fringes.

For a cause as high as this, the quality of volunteers can’t be compromised. Young volunteers should be thoroughbred, totally developed in an environment in which they breathe not air, but their mission. That environment can be provided by parents who are sincere to each other and trust each other, and follow the Quran themselves. Hence the ban on adultery, and the strict rule of Hijab. The ban on gambling and other meaningless activities was because they dilute the focus away from the mission and, being the footsteps of satan, will lead them away from the correct path. Ban on liquor because a man not in his senses can do all of these banned activities. I hope you’re following me.

It generally takes 20-25 years for a generation to grow. The span between the day the first Wahi arrived, and the day RasooluLLAH(SAW) departed this world, is 23 years. A whole generation grew up with this value system circulating in their blood. They did what the Quran told, but not mindlessly, the wisdom of Sahaba is well known. The way Islam spread even after RasooluLLAH’s (S.A.W.) departure from this world, is enough to prove that their focus wasn’t lost, they believed in ALLAH (SWT), RasooluLLAH (SAW), Quran and their mission. And whenever there will be a “successful” effort to uproot the zionist systems, it can be this way and only this way.

The reason I’ve been repeating the word standardization and discipline, is that as much as belief causes action, actions cause beliefs as well. Someone asked me earlier whether it’ll be realistic to say so. I believe yes it will. Most people only “think” they need a reason to act upon something, whereas in effect they’re themselves doing a lot of things just because the other guy’s doing it. Most of us justify our actions “after” we act. Some people could be the exceptions that prove the rule. I’ve come to believe very firmly that Muslims will soar to greater heights they once reached, there are clear Hadith that predict these. ALLAH (SWT) will get His work done no matter what. If someone works in that way, it’s going to benefit himself only, no one has any might to harm or favor ALLAH (SWT)… And it’s mentioned in the Quran (I miss the reference again, sorry), that if we won’t do the job we’re supposed to do, then we’ll be wiped off the face of the earth and be replaced by a nascent, alive nation.

Diagnosis and treatment? This couplet of Iqbal from Jawab-e-Shikwa has both.
Wo Muazziz thay zamanay main musalman ho karAur tum khwar huay taarik-e-Quran ho kar(They were Muslims, and they were dignified, You abandoned Quran, so you’ve been abandoned)(Iqbal)

If we say that the people currently preaching Islam are not doing it correctly, then we must do it! And if we think someone is doing it right then we must go all out and support him. All we need to do is to learn the Quran, with sincerity, not seeking conspiracy. And the same way we look for the best teacher available for our studies, we should look for teachers of this knowledge as well. The world, and Pakistan, must still have good, practicing scholars, otherwise we’d have been obliterated by now and replaced.

ALLAH (SWT) knows best!