Baigsaab's Blog

ایک سو چوالیس سوال

Posted in Social revolution by baigsaab on April 23, 2018

ایم اے جناح روڈ پر ایک کے بعد ایک تاریخی عمارت واقع ہے۔ ہر عمارت انگریز کی یادگار ۔ مگر ایک عمارت ایسی ہے جو خود تو انگریز کی یادگار ہے ہی۔ اس کا پورا انتظام اور نظم و نسق ابھی انگریز کے دور کی ہی ایک یادگار ہے۔ وہ دونوں اس وقت اسی یادگار یعنی سٹی کورٹ کےاحاطہ میں بیٹھے اپنے وکیل کا انتظار کر رہے تھے۔ صبح کے آٹھ بجے کا وقت دے کر اس بندہ خدا نے دس بجا دئیے تھے اور بدستور دیدار کی کوئی نوید نہیں تھی۔ احاطہ کے چاروں طرف لوہے کا جنگلہ تھا جس کے دوسری طرف ٹریفک رواں دواں تھا اور پرانے رکشوں کی طرح، چل کم رہا تھا اور دھواں زیادہ دے رہا تھا۔

جنید نے حسرت سے ایک آہ بھری اور خاموشی کو توڑا ” یار اچھی بھلی نارمل زندگی گزار رہے تھے۔ پتہ نہیں کیا سمائی ہے بھائی کے دل میں بھی کہ گھر بیچ دیتے ہیں” ۔

اظفر اپنے موبائل سے نظریں ہٹائے بغیر گویا ہوا ۔”تو ایسا غلط بھی نہیں کہہ رہے تمہارے بھائی ۔ تیس سال پرانا مکان ہے۔ اب بات مرمت سے آگے نکل گئی ہے۔ توڑ کر نیاہی بنانا پڑے گا۔ خود پیسے کہاں سے لائیں؟ ویسے یہ نارمل زندگی کی کیا تعریف ہے جناب؟ “

“لو بھلا۔ بھائی نارمل زندگی مطلب جس میں بندے کو کورٹ کچہری، ہسپتال اور تھانے کا چکر نہ لگانا پڑے۔”

“مطلب ان جگہوں پر کام کرنے والے لوگ نارمل زندگی نہیں گزار تے؟ “ اظفر نے موبائل سے سراٹھا کر دیکھ ہی لیا۔

“ویسے میرا یہ مطلب تھا نہیں مگر بات ایسی غلط بھی نہیں ہے۔ سوچ یار پورا دن ایک کے بعدایک بندہ ایک سے بڑھ کر ایک مصیبت لے کر ان لوگو ں کے پاس آتا ہے اور ان کے ذہن میں صرف ایک سوال ہوتا ہے۔ اس سے مال کتنا ملے گا”

“ہوں” اظفر نے بات کو جانے دیا۔

“وہ پچھلی عدالت والا پیشکار تو تم کو یاد ہوگا نا؟ ابے وہی جس کے بچے کا ایکس باکس انلاک کرایا تھا۔ کیا کہا تھا اس نے۔ بھائی آپ کو کروڑوں کا فائدہ ہونے والا ہے کچھ ہمارے لیے کرو گے تو ہم بھی کچھ کریں گے۔ اور کیا کیا؟ اپنی عدالت سے اس عدالت میں کیس بھیج دیا کہ یہ والے جج صاحب وراثت والے کیس جلدی نمٹا دیتے ہیں۔ پچھلے ہفتے میں اکیلا آیا تھا تو پتہ ہے یہ والا پیشکار کیا کہہ رہا تھا؟ وہ آپ کے دوست نہیں آئے اسکول والے؟ بچے کا ایڈمیشن کرانا تھا !”

اب اظفر نے موبائل بند ہی کر دیا۔ “لے بھئی۔ چل خیر ہے۔ ابھی ویسے ہی سال کا بیچ ہے۔ اب یہ وکیل حرامخور جلدی کام کرادے تو سال ختم ہونے سے پہلے ہی اس پیشکار سے جان چھوٹ جائے گی۔ لو نام لیا اور آگیا!”

وکیل صاحب نے آتے ہی پان کی ایک پچکاری سے پاس رکھے گملے میں کتھے اور چونے کی کھاد مہیا کی اور لمبا سا “آسالامالیکم ” کیا ۔ پھر اپنے پاس موجود کاغذات دیکھتے ہوئے یوں گویا ہوئے۔

“یار جنید بھائی۔ آپ لوگوں کا کام تو سمجھ لیں ہو ہی گیا ہے۔ بس اسی ہفتے ہوجائے گا۔ آپ کی باجی کب آرہی ہیں۔”

“یار میں نے آپ سے پوچھا تو تھا کہ کب کا ٹکٹ کرانا ہے؟ آپ نے کہا تھا کہ میں وقت سے پہلے بتادوں گا۔ “

“تو بھیا بتا تو دیا وقت سے پہلے ۔ چار دن ہیں ہفتہ ختم ہونے میں۔ باجی کو بولو آج ہی جہاز میں بیٹھ جائیں۔ “

“یار آپ عجیب بات کر رہے ہو۔ کوئی مذاق تھوڑی ہے ٹکٹ کرانا۔ پندرہ بیس ہزار کا فرق آجاتا ہے کینیڈا کے ٹکٹ میں۔”

“تو بھیا فائدہ بھی تو کروڑوں کا ہے۔ کچھ پانے کے لئیے کچھ کھونا پڑتا ہے۔ اچھا یہ بتاؤ فیس کے کچھ پیسے ملیں گے؟ “

“وہ ابھی دیکھتے ہیں۔ آپ نے صبح آٹھ بجے بلایا تھا ۔ خیریت؟ “

“ہاں جی بھائی ویسے تو خیریت ہی تھی۔ اصل میں آپ سے کیا چھپانا۔۔۔” وکیل صاحب کا موبائل بج اٹھا اور ان کی بات ادھوری رہ گئی ۔

اظفر نے بیزاری سے وکیل صاحب کو دیکھا جو فون پر کسی سے کچھ تیز آواز میں گفتگو فرمارہےتھے اور آہستہ سے جنید کے کان میں کہا۔ “دیکھ میں نے کہا تھا نا کہ اس نے فضول میں بلایا ہےآج ۔ اس کو پیسے چاہیئے تھے اور کچھ نہیں۔ یہ کمبخت وکیل ، مکینک، ڈاکٹر سب ایسے ہی ہوتےہیں۔ ان کے پاس پیسے ہیں تو کام آگے نہیں بڑھنا۔ ان کو پیسے چاہیے ہوں تو پھرتیاں دیکھا کرو۔ابھی خبردار جو تو نے ایک پیسہ بھی دیا اسے آج۔ میں دیکھتا ہوں”۔

وکیل صاحب نے موبائل بند کر کے دوبارہ اپنی توجہ ان دونوں کی جانب مبذول کی تو اظفر نےبات چھیڑ دی۔

“خیر تو ہے وکیل صاحب۔ آپ کچھ غصے میں تھے۔ “

“ارے کیا خیر یار اظفر بھائی۔ صبح صبح ضمانت کا کام پڑگیا تھا موکل کا۔ صاحبزادے نے گاڑی مار کر بندے کو ہسپتال پہنچا دیا تھا۔ تھانے والوں نے بڑی کوشش کی کہ کچھ لے دے کر معاملہ طے ہوجائے مگر صاحب ٹھہرے فضول کے اصول پسند آدمی۔ نتیجۃً پرچہ کٹ گیا اور بچہ اندر۔آج ضمانت کے لیے بچے کو لائے تھے تو پورے تین لاکھ کیش لے آئے۔ اب بھلا بتاؤ نظارت والےکیش کیسے لیں۔ میں نے بھی بہت سنائی کہ یار بندے کو کچھ خود بھی عقل ہوتی ہے میں کیاکیا بتاؤں۔ اب جاؤ آپ اور اس کے سیونگ سرٹیفیکٹ لے کر آؤ ورنہ بچہ دو ہفتے کے ریمانڈ پر اندرجائے گا۔ انہی کا فون تھا۔ کر لیے ہیں سرٹیفیکٹ۔ میں نے کہا آپ جج کے کمرہ پر پہنچو میں آتاہوں۔ ہاں تو جنید بھائی کچھ فیس کا کردیں ذرا”۔ وکیل صاحب وعظ کے آخر میں مطلب کی بات پر آگئے۔

اظفر نے کہا ” یار وکیل صاحب صبح آٹھ بجے سے یہیں بیٹھے ہیں۔ اے ٹی ایم کیسے جاتے۔ آپ ایسا کریں یہ ضمانت والا کیس دیکھ آئیں۔ ہم جب تک پیسے بھی لے آتے ہیں اور کچھ چائے وائےبھی پی لیتے ہیں۔ “

وکیل صاحب نے بیزاری سے “ٹھیک ہے” کہا اور منہ میں پان جماتے ہوئے سیشن کورٹ کی طرف نکل گئے۔


 

“یار تو نے اس بوڑھی اماں کو دیکھا ہے؟ وہ جو پیڑ کے نیچے بیٹھی ہے رومال میں ٹفن لے کر” اظفر نے آنکھ کے اشارے سے جنید کو بتایا۔

جنید نے اماں کو دیکھا اور کہا۔ “ہاں میرے خیال میں ان کا بیٹا کسی کیس میں اندر ہے۔ اسی کےلیے آتی ہیں۔ “

“کس کیس میں۔ ابے بھائی ڈبل سواری کا کیس ہے دفعہ ایک سو چوالیس کا۔ انیس سال کالڑکا ہے۔ بائیک پر نکلا تھا دوستوں کے ساتھ۔ باقی تو سب دے دلا کر نکل گئے۔ یہ غریب پھنس گیا۔ یہ اماں پتہ نہیں کہاں اورنگی ٹاؤن سے آتی ہے روزانہ۔”

“تجھے یہ سب کیسے پتہ چلا بھائی” جنید نے چائے میں چمچ چلاتے ہوئے پوچھا۔

“پتہ کیسے چلنا تھا۔ سنتری نے لائیٹر مانگ لیا۔ میں نے بات چھیڑ دی۔ ابے تجھے پتہ ہے یہ لوگ ہتھکڑی کیسے لگانی ہے اس کے بھی ریٹ رکھتے ہیں۔ مطلب اگر تکلیف والی نہیں لگانی تو اسکے پیسے۔ تالا نہیں لگانا تو اس کے پیسے۔ زنجیر میں اس کو آخر میں رکھنا ہے تو پیسے۔ صحیح بتارہا ہوں دل تو چاہ رہا تھا حرامخور کی سگریٹ کی بجائے اسی کو آگ لگا دوں۔ یار انسانیت نہیں ہے ان میں۔” اظفر بول رہا تھا اور جنید چپ چاپ بسکٹ کا پیکٹ کھولنے کی کوشش کر رہا تھا۔

“یار کوئی حد ہے۔ ڈبل سواری گویا قتل سے بڑھ کر ہے۔ اس کو دیکھو نوابزادے کو۔ گاڑی مار دی مگر ضمانت مل گئی کیونکہ باپ کے پاس پیسہ تھا۔ یہاں ان بیچاروں کے پاس کھانے کو روٹی مشکل سے ملتی ہے۔ اچانک حکومت میں کسی کو سمجھ آیا ایک سو چوالیس لگا دو ڈبل سواری بند کردو۔ تو نے دیکھا تھا نا ڈبل سواری پر پابندی کے اگلے روز کتنے لوگ تھے یہاں؟ ایک زنجیر سے بیس بیس بندہ بندھا تھا۔ ظلم ہے یار۔ کوئی پوچھنے والا نہیں ہے یہاں”۔ اظفر چپ ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا۔

“یار میں تو کہہ رہا تھا تجھے تو کر لے باہر کا۔ اپن دونوں بھائی چلتے ہیں۔ ” جنیدنے چائے میں بسکٹ ڈباتے ہوئے کہا۔

“ابے نہیں یار۔ ابا کو کون دیکھے گا پھر؟ چل مان لیا دونوں چھوٹے دیکھ لیں گے۔ مگر تجھے پتہ ہے ان کی طبیعت خراب رہتی ہے۔ تجھے یاد ہے نا تمہاری پھوپھی کے انتقال پر تینوں بیٹے باہرتھے۔ چار دن بعد تدفین ہوئی تھی۔ رو رہے تھے فون پر کہ یار ہمارے بغیر مت دفنانا۔ بھائی اتنی محبت تھی تو گیا کیوں تھا؟ “

“ابے خیر تو ہے آج تو سب کو لپیٹ رہا ہے سب صحیح تو ہے نا۔” جنید نے مزے سے چائے کاگھونٹ بھرتے ہوئے پوچھا ۔

“صحیح ہے یار سب۔ جاب چھوڑ رہا ہوں میں۔ ” اظفر نے خلاؤں میں دیکھتے ہوئے کہا۔

“ہیں!! اوے غیوں؟ ” جنید کے منہ میں چائے اور الفاظ گڈ مڈ ہوگئے۔

“کیوں کیا۔ ابے یہ باس لوگ بھی نا ۔ فضول کی بے عزتی۔ کل کہہ رہا ہے۔ اگر آپ کو اپنی عزت کی اتنی فکر ہے تو نوکری چھوڑ دیں آپ۔ میں نے بھی جواب دے دیا اگر آپ کو عزت کی فکرنہیں تو نوکری کرتے رہیں آپ ۔ ابے بھائی نوکری کی ہے کوئی غلام تھوڑی ہیں۔ ساڑھے چھ بجےبندہ آفس سے نکل رہا ہو اور یہ کہہ رہا ہے۔ کیا ہو گیا آج جلدی جا رہے ہو؟ اپنی پوری فیملی کوباہر بھیج دیا۔ خود ایک ٹانگ یہاں ایک نیوزی لینڈ۔ اور چاہتا ہے ہم بھی اس کی طرح ذہنی ہوجائیں” اظفر اب باقاعدہ پھٹ پڑا تھا۔

“لے بھئی تو تو بالکل ہی پٹڑی سے اتر گیا ہے۔ تیری چائے میں کچھ گر گیا تھا کیا؟ ہلکا ہو جا بھائی”۔ جنید نے بات کو آئی گئی کرنے کی کوشش کی۔

“ابے نہیں یار۔ بس میں نے سوچ لیا ہے۔ جاب چھوڑوں گا ۔ میرا سائڈ کا کام ویسے ہی اچھا چل رہا ہے۔ یہ روز کی جھک جھک سے بھی جان چھوٹ جائے گی۔ اور گریچویٹی کے پیسے بھی کافی ملیں گے۔ بچے بھی باجی والی برانچ میں جارہے ہیں وہ جس میں تیرے اس پیشکار کو شوق ہورہا ہے اپنے بچے کو بھیجنے کا۔”

“سائڈ کا کا م کون سا وہ انٹیریر ڈیکوریشن والا؟” اظفر نے سر ہلا دیا۔

“اچھا تو بیٹھ میں آتا ہوں۔ ” جنید نے اظفر کو وہیں بیٹھنے کا اشارہ کیا اور خود نکل گیا۔


“بڑی دیر کر دی یار تو نے۔” اظفر نے جنید کو دیکھتے ہی کہا۔

“ہاں کام تھوڑا لمبا ہوگیا تھا۔ مگر شکر ہے ہوگیا کام۔ چل چلتے ہیں۔ ” جنید نے سامان سمیٹتے ہوئے کہا۔

دونوں چلتے ہوئے پارکنگ کی طرف آرہے تھے کہ اظفر کی نظر روڈ کے دوسری طرف گئی۔ وہی بوڑھی اماں بس کے انتظار میں کھڑی تھیں۔ مگر ان کے ساتھ میں ایک لڑکا بھی تھا۔ عمر کوئی اٹھارہ بیس سال۔ اظفر نے جنید کی طرف دیکھا ۔ جنید نے نظریں چرا لیں۔

“بات سن۔ تو اس کام کے لیے گیا تھا؟ ” اظفر نے جنید سے پوچھا۔

“کس کام کے لیئے؟” جنید نے جواباً سوال داغ دیا۔

“ہوشیاری نہیں۔ تو نے اماں کے بیٹے کی ضمانت کرادی ؟” اظفر نے دوبارہ پوچھا۔

“لے بھئی اب اس پر کیا اعتراض ہے؟” جنید نے مسکراتے ہوئے کہا۔

“نہیں اعتراض نہیں۔ یہ کیا کیسے تو نے اتنی جلدی۔” اظفر نے حیرت زدہ ہوکر پوچھا۔

“کچھ نہیں یار۔ ابا کی پنشن کے اکاؤنٹ میں پیسے تھے۔ امی سے بات کی فون پر۔ سامنے والےنیشنل سیونگز سے سرٹیفیکیٹ لیے ۔ اپنے وکیل صاحب کو بچے کا وکیل بنایا اور ڈال دی ضمانت۔ ابا کی روح کے لیے ایصال ثواب کے لیے۔ اماں تو دعائیں دیتے نہیں تھک رہی تھی۔ رو روکے میرا بھی برا حال کردیا۔ بچہ بھی اچھا ہے یار کافی تمیزدار ۔تو اپنے پاس رکھ لینا ۔ بی کام میں ہے اور کہہ رہا ہےکوئی ڈپلومہ وغیرہ کی۔۔۔۔” جنید اپنی دھن میں بولے جارہا تھا کہ اظفر نے اسکو روک کے گلے لگالیا۔

“یار آج صحیح معنوں میں تجھے اپنا دوست کہتے ہوئے خوشی ہورہی ہے۔ جیتا رہ میرے بھائی” ۔اظفر نے نمناک آنکھوں سے کہا

“یار تیری وجہ سے تو یہ ہوا ہے۔ میں ہی سوچتا رہ جاتا تھا کہ یار بندہ کس کس کی مدد کرے۔ کروڑوں لوگ ہیں اس ملک میں۔ ہر کسی کے ہزاروں سوال بندہ کس کس کا جواب دے”۔ جنید نے اپنی آستین سے اپنے آنسو صاف کرتے ہوئے کہا۔

“آج شاید ہمارے ذمے اس بوڑھی اماں کے ان ایک سے چوالیس سوالوں کا جواب ہی تھا۔ چل یار کچھ کھلاتا ہوں تجھے۔ کیا کھائے گا؟” اظفر نے گاڑی میں بیٹھتے ہوئے کہا۔

“عزت کی روٹی کے بارے میں کیا خیال ہے؟” جنید نے شرارتی مسکراہٹ سے کہا اور دونوں کھلکھلا کر ہنس دئیے۔

Advertisements

یہ وہ سحر تو نہیں

Posted in Islam, protest, Rants by baigsaab on July 10, 2013

جولائی کے مہینے میں امریکہ ہی نہیں دنیا کے  تیئیس  دیگر ممالک  بھی اپنا  یوم آزادی   مناتے ہیں۔  ارجنٹائن، بیلارس، وینیزویلا اور پیرو  اور خود امریکہ سمیت  ان  میں سے اکثر ممالک نے یہ آزادی بیرونی طاقتوں  کے شکنجے سے حاصل کی تھی۔  امریکہ کے یوم آزادی کی رات تحریر اسکوائر میں لوگوں کو اچھلتے کودتے دیکھ کر  ایسا لگ رہا تھا کہ مصر نے کسی ایسے ہی  ظالمانہ   استعماری  نظام سے نجات حاصل کرلی ہے۔ یہ اس لیے بھی عجیب تھا کیونکہ مصر  نے اگر حسنی مبارک کو تیس سال برداشت کیا تھا اور اس سے پہلے انور السادات اور جمال عبد الناصر اور شاہ فاروق وغیرہ   کو  بھی  برسوں جھیلا تھا تو   اس بار جانے والی حکومت تو نہ فوجی آمریت تھی اور نہ   استبدادی بادشاہت۔ یہ لوگ  تو ایک ایسی حکومت کے خاتمے کی خوشی منا رہے تھے جس  کو ان کے ملک کی  ‘اکثریت’ نے  مرحلہ وار انتخابی عمل کے بعد منتخب کیا تھا۔ محمد مرسی کو  حسنی مبارک سے تشبیہہ دینے والوں نے یہ بھی نہ دیکھا کہ  مرسی نے تو نہ مخالفین سے جیلیں بھرنے کی پالیسی اپنائی،  نہ اپنے مخالفین کے ہجوم پر فائرنگ کروائی ،  نہ  خود پر تنقید کرنے والوں  کو اغواء کروایا،   نہ اپنی ذات کو حرف آخر  اور عقل کل سمجھا(حالانکہ مصر کے نئے منظور شدہ آئین کے بارے میں  پھیلایا گیا  عام تاثر یہی ہے) اور نہ اپنے سے مخالف نظریات کے پرچارکوں کے لیے عرصہ حیات تنگ کیا۔  مرسی پربظاہر الزام ہے تو صرف یہ کہ  وہ دوسرا ‘مبارک’ بننے جا رہا تھا جبکہ درحقیقت ایسا نہیں ہے۔

حقیقت اگر ہے تو  یہ کہ قاہرہ میں خوشیاں مناتے لوگ درحقیقت ایک اسلام پسند حکومت کے خاتمے کی خوشی منا رہے ہیں۔  حقیقت  اگر ہے تو یہ  کہ جب شراب خانوں پر پابندی اور فحاشی پر قدغن لگی تو مصر کے ان  ‘لبرل’ لوگوں  نے  اسی حسنی مبارک کے تیس سالہ دور استبداد کو مرسی کے ایک سالہ دور    استقبال پر ترجیح دی۔  حقیقت اگر ہے تو یہ ہے کہ  مصر، الجزائر، ترکی ، فلسطین اور دنیا بھر میں جہاں بھی اسلام پسند  ‘جمہوری’ حکومتوں کا خاتمہ ہوا ہے   اس کو  مغربی جمہوری ملکوں کی  حمایت  حاصل رہی ہے۔  اور حقیقت اگر ہے تو یہ کہ  بارہ سال  میں پہلی دفعہ کسی حکومت نے اسلام  کو  ریاست کو امور میں مدخل کرنے کے لیے محض چند ہی اقدام کیے تھے   اور اس  کو بھی اسی طرح طاقت کے ساتھ ہٹا دیا گیا جس طرح بارہ سال پہلے طالبان کو ہٹا دیا گیا تھا۔  حقیقت یہ ہے کہ اوبامہ نے اپنی خاص منافقت سے کام لیتے ہوئے جو الفاظ  اپنی تقریر میں رکھے ہیں ان میں ‘تشویش’ اور ‘جمہوری عمل’ کے الفاظ تو ہیں  مگر یہ کہیں نہیں کہا کہ  مصری فوج کا یہ عمل   غلط ہے۔ حقیقت اگر ہے تو یہ کہ اس موقع  پر’ لبرلوں اور سیکولروں ‘ کی منافقت کا پردہ چاک ہو گیا ہے۔  الکُفرُ  مِلّۃٌ  واحدۃٌ   کی ابدی حقیقت سے ہم کو تو  نبی رحمت ؐ  نے  پہلے ہی آگاہ کر دیا تھا، یہ تو ہمارے ہی لوگ تھے جو  دوڑ دوڑ کر ان میں گھسے جاتے تھے۔

لیکن یہ حقیقت بھی اپنی جگہ ہے کہ  الاخوان المسلمون کی حکومت  کے خاتمے میں فیصلہ کن کردار فوج نے نہیں، بلکہ  اسلامی قوتوں نے ادا کیا۔ مصر کیا  پوری دنیا کی تاریخ میں پہلی بار کسی  بڑے ملک میں ایک  اسلامی جمہوری جماعت اس قدر  اکثریت کے ساتھ منتخب بھی  ہوئی اور حکومت قائم بھی کر سکی   مگر  جب وہ گئی تو اس کا ساتھ دینے سے ان کے  اسلامی  اتحادیوں نے نہ صرف انکار کر دیا بلکہ  بالفعل ان کے مخالف کیمپ  میں  جا کھڑے ہوئے۔  جامعۃ الازہر  کے علماء نے ایک  بار  پھر سیکولر  عناصر کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے میں مدد دی  اور اس شخص کے خلاف چلے گئے جس نے کئی دہائیوں میں پہلی بار اقتدار کے ایوانوں میں اللہ کا کلمہ بلند کیا۔ایک بظاہر سیکولر مگر   پیدائشی عیسائی  بلکہ یہودی عدلی المنصور کی حلف برداری میں  غیر مذہبی جنرل الفتاح سیسی کا ہی نہیں ، مذہبی  النور  پارٹی  اور  انتہائی قابل احترام  جامعۃ الازہر   کا بھی بھرپور کردار ہے۔

مصریوں کے بارے میں ایک تاریخی قول  چلا آتا ہے، رِجال ٌ   تَجمعھم الطّبول و ھم مع من غلب ۔ (مصر کے  مرد  ایسے ہیں جن کو ڈھول کی تھاپ اکھٹا کرتی ہے اور وہ اس کے ساتھ ہیں جو غالب آجائے) ۔ یہ کوئی مصر کے ساتھ مخصوص نہیں ہے۔  ہماری عوام بھی مجمع بازی میں کافی خود کفیل ہے۔  بس بازی گر کے پاس ‘مسالہ’ اچھا ہونا چاہیے، لوگ اپنے اصل مسائل بھول کر  نہایت  خلوص کے ساتھ  ان  ڈھولچیوں کے پیچھے چل پڑتے ہیں۔   پاکستان میں عام لوگوں نے مصر کے حالات پر کوئی خاص ردعمل کا مظاہرہ نہیں کیا۔ شاید اس لیے کہ اس کو الیکٹرونک میڈیا پر خاطر خواہ وقت نہیں دیا گیا۔  پرویز رشید صاحب جو حکومت پاکستان کے ترجمان ہیں، انہوں نے  کہا کہ پاکستان کی طرف سے  سرکار ی ردعمل تین سے چار دن میں آئے گا، باوجود اس کے کہ ۱۴ سال پہلے وہ اور ان کے قائد بعینہ اسی عمل سے خود گزر چکے ہیں۔ خلیجی ریاستوں کی طرف سے   تقریباً وہی ردعمل ظاہر کیا گیا ہے جو انہوں نے  اکتوبر  2001  میں افغانستان اور  مارچ 2003 میں  عراق پر امریکی  جارحیت میں  دیا تھا، یعنی  امریکی لائن کی حمایت۔

پاکستان کے   تناظر میں  اگر ہم  مذہبی اور غیر مذہبی   قوتوں کی صورتحال کا جائزہ لیں تو یہ بات سامنے آتی ہے  کہ  لبرل اور سیکولر عناصر  میں اسلامی قوتوں سے زیادہ  ایکا ہے۔  سیکولروں  کی مجبوری یہ ہے کہ  وہ ایک جمہوری حکومت کے خاتمے پر خوشی کا اظہار بھی  نہیں کر  سکتے لہٰذا انہوں نے  اس فوجی بغاوت کی  ذمہ داری الٹا الاخوان پر ڈال دی  ہے کہ اس نے   مصر کی تاریخ میں پہلی بار ایک  جمہوری طور پر منتخب حکومت کی حیثیت سے  اپنی عوام کو  مایوس کیا اور فوج کو  مداخلت کا جواز فراہم کیا۔  ایاز امیر صاحب نے اپنے کالم میں  لکھا کہ مسلم دنیا کی مشکل ہی یہ  ہے کہ یہ  اپنی علاقائی  حدود کی بنیا د پر سوچتے نہیں۔  انہوں نے مرسی  کا تقریباً مذاق اڑاتے ہوئے کہا کہ اپنا گھر سنبھل نہیں رہا تھا اور  وہ  شام کے حالات میں مداخلت کر رہے تھے۔ دوسری جانب  ہمارے مذہبی حلقے   مصر کی تازہ ترین صورتحال میں محض پوائنٹ اسکورنگ کرتے رہ گئے ہیں، الّا ماشا ءاللہ۔  جنہوں نے  اپنی جدوجہد کے لیے انتخابی میدان منتخب کیا تھا وہ  مصر میں  ‘جمہوری’ حکومت کے خاتمے پر مظاہرہ کر رہے  ہیں۔ اور جنہوں نے انتخابی میدان منتخب کرنے کو غلطی قرار دیا وہ  اس فوج کشی کو جمہوری عمل کی ناکامی کا معنی پہنا رہے ہیں۔  واضح رہے کہ جس وقت الاخوان کی حکومت آئی تھی تو  اس وقت  بغلیں بجانے اور  بغلیں جھانکنے کی ترتیب اس کے برعکس تھی۔ سہ ماہی ایقاظ  نے اپنے تازہ مضمون میں  طرفین کے اچھے خاصے لتے لیے ہیں کہ  پہلی بات تو یہ کہ کسی کی ناکامی، ہماری کامیابی کی  ضمانت نہیں۔ اور دوسری بات یہ کہ یہ وقت ایک دوسرے سے لڑنے کا نہیں  ہے۔ بلکہ  اس وقت پہلے سے زیادہ ایک نظر آنے کی ضرورت ہے۔

مصر میں فوجی بغاوت کے بعد مغربی  لکھاریوں کے آنے والے   مضامین اس حقیقت کی غمازی ہی نہیں کر رہے بلکہ ببانگ دہل اس بات  کا اعلان کر رہے  ہیں کہ ان کے نزدیک مسئلہ اسلام ہے، سیاسی یا فوجی اسلام نہیں۔  ڈیوڈ بروکس کے نزدیک   

‘اہم چیز یہ ہے کہ  ایسے لوگوں کو اقتدار سے باہر کر دیا جائے چاہے اس کے لیے  فوجی  بغاوت ہی کا استعمال کیوں نہ کرنا پڑے۔(اصل)   ہدف یہ ہے کہ سیاسی اسلام کو  کمزور کر دیا جائے  چاہے اس کے لیے کچھ بھی کرنا پڑے۔ ‘

مصر میں   لبرلوں کے لیے روشنی کے مینار کی حیثیت رکھنے والے البرادعی  نے  کہا ہے کہ انہیں

اپنے  مغربی دوستوں کو اس بات پر راضی کرنے کے لیے کافی محنت کرنی پڑی  کہ مصر میں جو کچھ فوج نے کیا وہ انتہائی ضروری تھا۔

حاصل وصول ایک  ہی بات ہے،  الجزائر   اور مصر میں  حکومت سیاسی طریقے سے حاصل کی جائے یا اٖ فغانستان  میں   طالبان کے انقلاب کے ذریعے،  اگر حکومت  نے   ذرا بھی  کوشش کی   کہ اسلام کو  ایک جز و کے طور پر ہی سہی لوگوں کی سیاسی زندگی میں داخل کر دیا جائے  تو وہیں اس کے اوپر  ایک ایسی کاری ضرب لگائی جائے گی کہ  ان کی تحریک دس سال پیچھے جا کھڑی ہو گی-  اگر لوگوں کی اکثریت اسلام چاہ رہی ہے اور حکومت نہیں چاہ رہی تو چاہے   مظالم کے پہاڑ ہی  کیوں نہ توڑ دیے جائیں، جیسے شام میں ہو رہا ہے، لبرلوں کے کانوں پر جوں نہیں رینگے گی۔   ترکی میں جو کچھ ابھی ہو رہا ہے   وہ   اگر  آج سے پانچ سال پہلے ہوتا تو  شاید ترکی میں اردگان حکومت کا بھی  خاتمہ ہو چکا ہوتا۔  ان لوگوں کے خیال سے مذہب کی جگہ سیاست نہیں ہے، حکومت نہیں ہے،  معیشت نہیں ہے،  بلکہ معاشرت بھی نہیں ہے، بس مذہب  ایک انفرادی شے ہے ! اب یہ ان کو کون سمجھائے کہ  ؏ جدا ہو دین سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی۔ فرد سے ہی سیاست ہے، فرد سے ہی  حکومت، اسی سے معیشت اور اسی سے معاشرت۔ تو سیدھے سبھاؤ فرد کو ہی کیوں نہیں نکال دیتے  باہر؟

کیا اب بھی کسی کی سمجھ میں نہیں آیا کہ اسلام پسندوں پر عرصہ حیات تنگ کردینے کی آخر وجہ کیا ہے؟ اس چیز کو دیکھنے کے لیے کوئی عقابی نگاہیں نہیں چاہییں کہ مصری فوج نے مرسی سے اقتدار چھیننے سے پہلے ہی  غزہ کی سرنگیں بند کرنے کا کام شروع کر دیا تھا۔  اقتدار میں آنے کے بعد اخوان کے ہمدرد  چار چینل بند کر دیئے گئے۔  الاخوان المسلمون کے دھرنے پر فائرنگ کی گئی جس کے نتیجے میں  تیس سے اوپر لوگ شہید اور سو تک زخمی ہو گئے۔  اس پر نہ کوئی جمہوری روایت  پامال ہوئی نہ انسانی حقوق، کیونکہ  جمہوری روایات کے امین  تو صرف سیکولر ہیں، اور انسانی حقوق کے علمبردار صرف لبرل۔ مصر میں تو خیر براہ راست امریکی ( یعنی صیہونی) مفادات پر  زک پڑ رہی تھی  اس لیے وہاں  تو  انگریزی ترکیب کے مطابق یہ  ‘کب؟’ کا معاملہ تھا ‘اگر’ کا نہیں-  لیکن باقی دنیا میں کیا ہو رہا ہے؟   یورپ میں عورتوں کو  زبردستی بے پردہ کیا جا رہا ہے۔  حجاب پہنی ہوئی عورت کو بھری عدالت میں قتل کر دیا جاتا ہے۔  داڑھی والوں کو ائرپورٹ پر  لائن سے نکال کر تلاشی لی جاتی ہے۔  پکڑا جانے والا اگر فیصل شہزاد ہو ( صحیح یا غلط کی  بات نہیں) تو  وہ تمام مسلمانوں کا  نمائندہ ، اسلام دہشت گردوں کا مذہب اور تمام مسلمانوں کے لیے  شرمندہ نظر آنا لازمی۔  لاکھوں کے قتل کا  متحرک  ہٹلر، ہزاروں کے خون کا ذمہ دار سلوبودان میلاسووچ،  درجنوں کو اپنے  دو ہاتھوں سے مارنے والا اینڈرز بریوک  مگر عیسائیوں  کا  نمائندہ نہیں، یہ ان کا ذاتی فعل ہے جس کی  کسی عیسائی کو صفائی پیش کرنے کی بھی ضرورت نہیں۔ پھر ہمارے اپنے معاشروں میں اسلام پسند جس تضحیک کا نشانہ بنتے ہیں وہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔  جس نے داڑھی رکھ لی وہ منہ چھپا کر پھر رہا ہے اور جو  رات کو  ڈانس پارٹی سے ہو کے آیا ہے اس  کی فیس بک پروفائل پر likes ہی likes ۔  جہاں باپ  نے کسی دینی اجتماع میں جانا شروع کیا بچوں کے منہ لٹکنے شروع ہو گئے۔  انصار عباسی اور اوریا مقبول جان جیسے  کالم نویس   لبرل طبقہ کی ہنسی کا براہ راست نشانہ بنتے ہیں۔

  یہ کیا ہے؟  یہ  دراصل وہ فطری ترتیب  ہے جس پر اللہ نے انسانوں کو پیدا کیا ہے۔  دنیا میں ازل سے ابد تک  درحقیقت صرف دو ہی گروہ ہیں۔  ایک کا نام حزب اللہ، دوسرا حزب الشیاطین۔  فی الوقت  دنیا   چاہے یا  نہ چاہے اپنے آپ کو ان دو  گروہوں  میں تیزی سے تقسیم کر رہی ہے۔   جس کو ہم grey area  کہتے ہیں وہ  اب بہت کم رہ گیا ہے اور اس طرح کے اقدامات کر کے  یہ لادین طبقہ چاہ رہا ہے کہ  یہ تقسیم  بالکل واضح ہو جائے۔  اپنی دانست میں وہ  اپنی دنیا پکی کر رہے ہیں مگر در حقیقت اس سے بڑا خسارے کا سودا  کوئی انسان نہیں کر سکتا۔  و انتم لا تشعرون ! لیکن تم تو  سمجھ ہی نہیں رکھتے! کسی سیکولر سے مگر اور توقع کیا کی جا سکتی ہے، اس کا ایمان دنیا میں ہے وہ اپنے ایمان  کے مطابق کام کر رہا ہے۔  مسئلہ تو ہمارا ہے، ان لوگوں کا جن کا دعوی ٰ تو یہ ہے کہ  ایمان ہمارا اللہ پر ہے، مگر عمل   اس دعوے کی نفی کرتا جا رہا ہے۔ عشق رسولؐ کے مدعی بھی ہیں ، نعت خواں، حافظ بھی ہیں مگر صبح اٹھتے ہی  سب سے پہلے اپنے چہرے سے سنت نبویؐ  کو کھرچ کر  کچھ تو کچرے میں ڈال دیتے ہیں اور کچھ سیدھا گٹر میں بہا دیتے ہیں۔  خواتین صحابیات  مبشرات   ؓ  کی مثالیں  دیتی ہیں مگر انہی کے اصرار پر مرد حرام کماتے ہیں۔  سود پر ہماری معیشت کی بنیاد ہی نہیں ہے، یہ اس  کی جان ہے، ہمارے  نئے نویلے   وزیر خزانہ صاحب نے  تو اس بجٹ میں  انٹرسٹ کا لفظ ہی استعمال نہیں کیا، سیدھا شرح سود کی بات کی۔  تو ہم تو خود اپنے عمل سے ثابت کر رہے ہیں  کہ اسلام فی زمانہ کوئی قابل عمل  چیز نہیں، نہ  انفرادی زندگی میں ، نہ اجتماعی زندگی میں۔ تو   اگر ڈیوڈ بروکس یہ کہہ دیتا ہے کہ  ‘نا اہلی  دراصل بنیاد پرست اسلام  کے   دانشورانہ  DNA  میں  رچی بسی ہوئی ہے’ تو  اس نے  کیا غلط کہہ  دیا ؟

مصر کے حالیہ  واقعات نے  اگر کم از کم بھی یہ کر دیا کہ ہمارے  لوگوں کی  آنکھوں سے   غفلت  کی پٹی کھول دی تو یہ بہت بڑی بات ہو گی۔یہ بات کہ شدت پسندی دراصل اسلام پسند نہیں بلکہ سیکولر اور لبرل طبقہ کرتا ہے، اگر سمجھ آ گئی تو یہ ایک نہایت بڑی بات ہوگی۔ہمارا اشارہ ان لوگوں کی طرف نہیں ہے جو  صرف دینی مزاج کے لوگ نہیں یا جو نماز نہیں پڑھتے یا روزہ نہیں رکھتے۔ ہمارا اشارہ ان لوگوں کی طرف ہے جن کو ان سب کے ساتھ ساتھ   یہ  بھی برا لگتا ہے کہ  ہمارے کھلاڑی ‘ان شاء اللہ ‘ کیوں کہتے ہیں۔  ہمارے لوگ اب اللہ حافظ کیوں کہتے ہیں۔  رمضان کو Ramadan کیوں بولا جا رہا ہے۔   ان میں سے اکثر وہ لوگ ہیں جو اپنے ‘حق’ کو پانے کے لیے جھوٹ کا سہارا لینے میں ذرا عار محسوس نہیں کرتے۔  یہی تو ڈیوڈ بروکس نے کہا ہے، ‘چاہے کسی طریقہ سے بھی بس  سیاسی اسلام کو  ہرا دو’۔ چاہیں تو ایک  جھوٹی ویڈیو چلا کر سوات کے امن  معاہدے کو پارہ پارہ کر دیں۔ چاہیں تو لال مسجد کے خلاف واویلا مچا کر وہاں آپریشن کرا دیں اور پھر ٹسوے بہائیں کہ یہ کیا کر دیا؟  چاہیں تو  صوفی محمد کے خلاف اسمبلی کے فرش پر چلا چلا کر ہاتھ ہلا ہلا کر   تقریریں کریں ۔  چاہیں تو فحاشی کے  بے محابا پھیلاؤ سے صاف مکر جائیں اور اسلام پسندوں پر ثقافتی دیوالیہ پن کی تہمت چسپاں کر دیں۔ یا  جیسے مصر میں ہوا کہ ایک  منتخب  جمہوری حکومت کو  اٹھا کر باہر پھینک دیں اور  اپنے  پیارے البرادعی کو   انتہائی  ‘جمہوری’ طریقے سے نگران حکومت کا حصہ بنوا دیں۔  یقین کریں ، ایسا لگتا ہے کہ یہ دن کو دن  اور رات کو رات بولتے ہیں تو  اس کے پیچھے ان کا مفاد ہوتا ہے۔

اس  سارے  منظر نامہ سے اگر ہم نے اتنا ہی سمجھ لیا تو یہ بھی کوئی معمولی فائدہ نہ ہو گا کہ  ان کی آزادی ہماری آزادی نہیں۔  ان کی شام  ہماری  شام نہیں ، اور ان کی سحر ،ہماری سحر نہیں ۔

 فاعتبرو۱ یا اولی الابصار۔

ڈبے کے قیدی

Posted in Social revolution by baigsaab on November 24, 2011

گستاخی کی معافی چاہتا ہوں لیکن فرض کریں آپ کو کسی جگہ قید کر دیا جاتا ہے. قید خانہ میں آپ کے علاوہ اور بھی بہت سے لوگ ہیں. لیکن اس قیدخانہ کے ضوابط عجیب ہیں. آپ واحد قیدی ہیں جس کو بولنے کی اجازت نہیں ہے، آپ کے علاوہ باقی سب کو بولنے کی اجازت ہے لیکن سننے کی نہیں. آپ دوسرے جس ساتھی کو بولنے کا کہیں گے وہ چپ نہیں رہ سکتا. یہ آپ کے اوپر ہے کہ سب کو ایک ساتھ بولنے دیں یا ایک ایک کر کے یا سب کو چپ کرا دیں.
خیر تو آپ نے ایک ساتھی کو بولنے کی اجازت دی. وہ شروع ہوا. ” یار آج کل ڈینگی بڑا پھیلا ہوا ہے بہت لوگ مر رہے ہیں ، اور تم نے وہ نیا موبائل دیکھا وہ جس میں چار سم ہوتی ہیں لیکن یار اس سے پہلے ایبٹ آباد میں جو ہوا وہ تو سن لو ملکی حدود کی دھجیاں بکھیر دی گئیں. اور وہ جو نئی انڈین فلم ہے نا اس میں ہیرو جو ہے وہ اڑتا ہے(فلم کا گانا گنگناتا ہے) اور لیکن یار کل ایک گھر کی چھت گرنے سے نا دو بچے مر گئے یار. ( یہاں وہ روتا ہے). اور آج فلاں جگہ پر ایک خودکش حملے میں ۳۵ لوگ مر گئے. ان میں سےیار ایک اپنے گھر کا واحد کفیل تھا (افسردہ گانا گانے لگتا ہے)”
اس کی اس بے سرو پا گفتگو سے گھبرا کے آپ نے اس کو چپ کرا دیا. دوسرے کو بولنے کا کہا. وہ شروع ہوا ” شاکر صاحب نے فہیم کو بولا، ‘تمہیں اگر پچیس کروڑ چاہیے تھے تو مجھ سے کہنا تھا اس کے لیے تمہیں تایا جی کے آگے ہاتھ پھیلانے کی کیا ضرورت تھی. یہ لو چیک اور تایا جی کے منہ پہ مار کے آؤ . ایک بریکنگ نیوز ہے کہ خوازہ خیلہ میں تیس دہشت گرد جو ایک شادی کی تقریب میں جا رہے تھے وہ ڈرون حملے میں مارے گئے ہیں، دہشت گردوں میں ۱۴ بچے اور ۶ عورتیں بھی تھیں۔ ( اب یہ دور سے جہاز کی طرح ہاتھ پھیلائے بھاگتا ہوا آتا ہے. اور ایک کونے میں ڈھیر ہو جاتا ہے۔ وہاں سے آواز لگاتاہے ) اب میں کرتا ہوں سستی ترین کال”۔
آپ روئے سخن اس کی طرف سے ایک اور کی طرف کر لیتے ہیں۔ وہ شروع ہوتا ہے۔ ” بھٹی صاحب آپ یہ بتائیں کہ یہ جو آپ پر الزام لگایا ہے ملک صاحب نے اس کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں؟ (آواز بدل کر زور زور سے) جی یہ کیا الزام لگا رہے ہیں میں ان کی بہت عزت کرتا ہوں لیکن میرا منہ نہ کھلوائیں ان کے تو دادا انگریزوں کے گھوڑے نہلاتے تھے۔ اور ان کے ایک چچا انگلستان میں چرس لے جاتے ہوئے پھنس گئے تھے۔ (تیزی سے لہجہ بدل کر) ابھی ابھی خبر آئی ہے کہ مشہور آمر کو مار دیا ہے۔ کسی کی موت پر خوشی منانا اچھی بات نہیں لیکن یہ تو الگ کیس تھا۔ اس کی تو زندگی میں یہ بڑا دلچسپ پہلو تھا۔ اوریہ تو آپ کو پتہ ہی ہو گا کہ افریقہ میں ہاتھی کی نسل میں ایک طرف تو کمی ہو رہی ہے لیکن آج عورتوں کے عالمی دن کے موقع پر عرق النساء بیوٹی پارلر نے تیس عورتوں کا فیشل ۱۵ منٹ میں کر کے عالمی ریکارڈقائم کیا اور پاکستان کا سر فخر سے بلند کر دیا ( گانا گاتا ہے ‘مہندی نی مہندی ای ای مہندی نی مہندی ای ای ای )”

ظاہر ہے ایسی بے سر و پا گفتگو کرنے والے کو آپ پاگل ہی کہیں گے(ہو سکتا ہے یہ سب لکھنے پر آپ کا راقم کے بارے میں بھی یہی گمان ہو) اور ایسی باتیں کرنے والے کے ساتھ ۵ منٹ بیٹھنا بھی آپ کو گوارا نہیں ہوگا کجا یہ کہ قید میں ان کے ساتھ ہوں اور وہ بھی اس طرح کے کئی عدد کے ساتھ۔ لیکن میرا گمان ہے کہ اب تک اکثر قارئین سمجھ گئے ہونگے کہ میں کہنا کیا چاہ رہا ہوں۔ میں صرف یہ عرض کرنا چاہ رہا ہوں کہ ہم میں سے چند خوش نصیبوں کے علاوہ باقی تمام کے تمام لوگ ایسی قید سے روزانہ گزرتے ہیں اور وہ بھی جبری نہیں بالکل بہ رضا و رغبت۔ یہ ٹی وی ہے جس کو ہم نے اتنی آزادی دی ہوئی ہے کہ وہ اتنی انٹ شنٹ بکواسیات کے باوجود ہماری زندگی میں اتنے مرکزی مقام کا مالک ہے کہ ہمیں معلومات چاہییں تو اس سے، تفریح چاہیے تو اس سے ، جب یہ ہنساتا ہے تو ہم ہنستے ہیں ، جب رلاتا ہے رو پڑتے ہیں، جب غصہ دلاتا ہے ہمارے پورے جسم کا خون آنکھوں میں آجاتا ہے، جب چاہتا ہے اسی بات پر آپ کو سکون سے بٹھا دیتا ہے۔ اور تو اور، اچھے برے کی تمیز سکھاتا ہے ۔ غرض اس ۲ بائی ۲ کی مخلوق کو ہم نے بات کرنے کی اتنی آزادی دی ہے کہ یہ ہمارے سامنے ہی سامنے کئی ایسی باتیں کر جاتا ہے کہ جو اگر ہمارے سامنے بڑے بھی کریں تو ان کو ٹوک دیا جائے۔

مسئلہ یہ نہیں ہے کہ میڈیا (اس غلط العوام لفظ کو ہم ٹی وی کے معنی میں ہی لکھ رہے ہیں) کوئی غلط شے ہے۔ کسی بھی آلہ کی طرح یہ بھی نا سمجھ کے ہاتھ میں خطرناک ہے اور کاریگر کے ہاتھ میں با کمال۔ مسئلہ یہ ہے کہ اس “شیطانی مشین” نے ہمیں عملیت پسندی سے دور کردیا ہے۔ دیکھیں ایک مشہور مصنف نے بڑی پیاری کہی کہ TV کہتا ہے کہ دنیا میں اخوت، رواداری اور امن بہت ضروری ہیں لیکن ایسا ٹوتھ پیسٹ زیادہ ضروری ہے جو آپ کو خوش گوار سانس دے۔ کسی بھی طرح کی تفریح کی اہمیت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا لیکن تفریح کے چکر میں زیادہ اہم چیزوں کو نظر انداز کر دینا کیا کوئی عقل مندی ہے؟ دوسری بات ، اور یہ زیادہ خطرناک ہے اور وہ یہ ، کہ جب آپ ٹی وی پر بالکل منحصر ہوجاتے ہیں ایسے کہ وہ آپ کے کان بن جائے اور آپ کی آنکھیں بن جائے تو پھر یہ بہت آسان ہے کہ کچھ ایسے لوگ جن کو آپ جانتے بھی نہیں وہ آپ کو سکھانا شروع کر دیں کہ اچھا کیا ہے اور برا کیا؟ کیا آپ کو پتہ ہے کہ پاکستان کے دیہات میں جو مشہور چوپالیں لگا کرتی تھیں وہ اب نہیں لگتیں؟ لوگ سیانے ہو گئے ہیں۔ پہلے جو مفت میں ایک دوسرے کے گھر کے کام کر دیا کرتے تھے اب نہیں کرتے۔ شام میں جو بیٹھک “ٹیو ول” پر لگا کرتی تھی اب وہ نہیں لگتی کیونکہ لوگ گھروں میں ٹی وی دیکھ رہے ہوتے ہیں۔ گاؤں کا وہ پانی جو اپنی تازگی کی وجہ سے بڑا مشہور ہوتا تھا اب آلودہ ہوتا جا رہا ہے کیونکہ لوگوں نے گھروں میں بیت الخلاء تو بنوا لیے ہیں لیکن نکاسی کا مناسب انتظام نہ ہونے کی وجہ سے پانی وہیں قریب کی زمین میں ہی جذب ہو جاتا ہے۔

زندگی کا ایک پہلو ہے یہ۔ ایسے بیسیوں معاملات ہیں جن میں ہم نے اپنی معصومیت کو محض ۲۰ سال کی مختصر مدت میں کھو دیا ہے ۔ جہاں لوگوں کی آنکھوں میں خلوص ہوتا تھا وہاں اب شک ہے۔ جہاں پیار ہوتا تھا وہاں نفرت ہے، جہاں بھولپن ہوتا تھا وہاں عیاری ہے، جہاں سادگی ہوتی تھی وہاں نمائش ہے، جہاں بے لوثی ہوتی تھی وہاں حرص اور طمع ہے، اور سب سے بڑھ کر، جہاں آخرت تھی وہاں دنیا ہے۔ کیوں؟ صرف اس لیے کہ لوگ اپنے” حقوق ” سے آشنا ہو گئے۔ لوگوں نے مصیبت میں کام آنے کو کار ثواب کی بجائے دھندا بنا لیا ہے کیونکہ ان کو لگتا ہے سامنے والا ان کو بے وقوف بنا رہا ہے۔ میڈیا خود اتنا متخبط ( وہ جسے شیطان نے چھو کر باولا کر دیا ہو) ہے کہ اس کو سمجھ نہیں آرہا کہ کرےکیا؟ اس کو لگتا ہے کہ برائی کو سامنے لے کر آنا نیکی کا کام ہے لیکن ہوتا یہ ہے کہ اس سے برائی برائی نہیں رہتی کیونکہ سب ہی وہ کرنے لگتے ہیں۔ چنانچہ معاشرے میں مزید برائی ہوتی ہے جس کو کوئی اور “نیک” شخص سامنے لاتا ہے۔ تو برائی اور “ختم” ہوتی ہے۔ جی ہاں ہم نے واقعی بڑی محنت سے اپنی روایات کو تباہ کیا ہے اور اس میں تقریباً سب شامل ہیں۔

دوسری طرف جو زیادہ خطرناک بات ہے وہ بھی سمجھ لیں۔ آپ نے کبھی غور کیا کہ کسی بھی خودکش حملے کے بعد نہ صرف یہ کہ ہر چینل کا ایک نمائندہ وہاں موقع پر موجود ہوتا ہے بلکہ ہسپتال میں بھی اور کوئی ایک آدھ وہ اسکوپ بھی لاتا ہے کہ مرنے والوں میں چھوٹی سی ۵ سالہ بچی بھی تھی جس کی ماں غم سے نڈھال ہے ۔ دوسری طرف ڈرون حملے ہیں جو اب تک کی اطلاعات کے مطابق ۲۰۰۴ سے لے کر آج تک ۴۰۰ سے زیادہ ہو چکے ہیں۔ ۴۰۰!!! کیا آج تک کبھی کسی ایک جگہ سے بھی آپ نے لائیو کوریج دیکھی؟ کیا کبھی زخمیوں کی کسی کہانی کے تعاقب میں کوئی مہم جو کسی بچی کی گڑیا کی ٹوٹی ہوئی ٹانگ بھی دکھا سکا؟ ایسا کیوں ہے؟ یہ بات سمجھنے کی ہے نہ کہ سمجھانے کی۔ ویسے تو ہر طرف سے مایوسی کی خبریں ہیں جن سے عوام میں غصہ کی آگ بھڑکائی جاتی ہے۔ پھر فوراً ہی اشتہا ر کا ٹھنڈا پانی ڈال کر سکون میں لے آیا جاتا ہے۔ لیکن جو ہمارے حکمرانوں کے مائی باپ ہیں ان کی کسی بھی کار روائی کی کوئی ایسی خبر کسی بھی ایسے زاویہ سے نہیں دکھائی جاتی کہ جس سے عوام میں کوئی منفی جذبہ بیدار ہو۔ اور آج بالآخر یہ باور کرا دیا گیا ہے کہ خودکش حملے مذہبی انتہا پسند دہشت گرد کرتے ہیں۔ ڈرون حملوں میں مرنے والے سب افراد دہشت گرد ہیں چاہے ان کی عمر تین مہینے ہی کیوں نہ ہو۔میڈیا کو آزادی ضرور ملی ہے لیکن اس آزادی میں بہت سی پراسرار زنجیریں بھی ہیں۔ یہ زنجیریں دیکھنا بہت ضروری ہے۔ سورۃ الحجرات میں اللہ تعالیٰ نے واضح اور غیر مبہم الفاظ میں حکم دے دیا ہے کہ”مومنو! اگر کوئی بدکردار تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے تو خوب تحقیق کرلیا کرو (مبادا) کہ کسی قوم کو نادانی سے نقصان پہنچا دو۔ پھر تم کو اپنے کئے پر نادم ہونا پڑے “

کیونکہ میڈیا اب اکثریت کی آنکھیں اور کان بن گیا ہے اس لیے اس طاقت کا مظاہرہ وقتاً فوقتاً سامنے آتا رہتا ہے۔ میں اپنے ملک کی بات کرنےسے پہلے چاہوں گا کہ آپ کی توجہ امریکی میڈیا کی طرف مبذول کراؤں ۔آپ جانتے ہی ہونگے کہ عراق اور افغانستان پر امریکی حملوں کے لیے ان کے میڈیا نے کتنی طویل مہمات چلائی تھیں۔خاص طور پر عراق پر حملہ کے لیے سازگار فضا بنانے میں دائیں بازو کے روایت پسند میڈیا نے جو کردار ادا کیا ہے وہ شاید بہت کم لوگوں کی نظروں سے اوجھل ہوگا۔ امریکی میڈیا کی یہ طاقت اس سے بہت پہلے پروان چڑھ چکی تھی۔ اگر آپ چاہیں تو “اسپن” نامی دستاویزی فلم آپ کو کافی معلومات دے سکتی ہے۔ لیکن فی الوقت زیر نظر دو موضوعات ہیں۔ ایک تو یہ کہ آپ جانتے ہیں کہ اس وقت امریکہ کے سو سے زیادہ شہروں میں انتہائی منظم احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔ ان کا کوئی لیڈر بھی نہیں لیکن ان کی پکار صرف ایک ہے، عادلانہ معاشی نظام۔ اس تحریک میں ان کے کہنے کے مطابق امریکہ کی ۹۹ فیصد عوام کا مقابلہ ایک فیصد مراعات یافتہ طبقے سے ہے۔ لیکن پھر بھی مین اسٹریم خاص طور پر دائیں بازو کے میڈیا کی طرف سے ان پر شدید تنقید کی جارہی ہے، مذاق اڑایا جا رہا ہے۔ بلکہ اس سے بھی زیادہ تکلیف دہ بات یہ ہے کہ ان کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ اگر ٹوئیٹر ایسے سوشل میڈیا کی سہولت ان کومیسر نہ ہوتی تو ان کو تو شاید ایک دوسرے کے بارے میں پتہ بھی نہ چلتا۔ دوسرا موضوع ہے ڈاکٹر ران پال کا۔ ڈاکٹر پال تیس سال سے امریکی رکن کانگریس ہیں اور امریکہ کی دوسرے ملکوں میں فوجی، مالی اور دیگرمداخلتوں کے خلاف ہیں۔ حکومت کے عام آدمی کی زندگی میں دخل اندازی کو کم کرنا چاہتے ہیں۔ اور تو اور، امریکہ کی اسرائیل کو امداد کے بھی خلاف ہیں۔ اس سب کے باوجود ران پال اس وقت ریپبلکن پارٹی کے ایک مضبوط امیدوار ہیں، نوجوانوں میں خاص طور سے بہت مقبول ہیں اور اس بات کا قوی امکان ہے کہ اگر پارٹی نے ان کو ٹکٹ نہ دیا تو وہ تن تنہا ہی اپنی مہم کا آغاز کر دیں گے۔ لیکن اس کے باوجود میڈیا ان کو نظر انداز کر رہا ہے۔ امریکی صدارتی امیدواروں کی مقبولیت کا ایک بہت اہم پیمانہ یہ بھی ہوتا ہے کہ وہ اپنی مہم کے لیے کتنے پیسے اکٹھے کرسکے ہیں۔ ران پال کے حامیوں نے محض ۳ دن میں ۲ ملین ڈالرز کی رقم جمع کرائی۔ لیکن میڈیا کی بے رخی کا یہ عالم ہے کہ پچھلی ریپبلکن بحث میں ہر امیدوار کو آخر میں اپنی اختتامی کلمات کہنے کا موقع دیا گیا لیکن پال کو نہیں۔ ۱۹۹۲ میں ایک ایسے ہی امیدوار کو اس میڈیا نے اتنا نظر انداز کیا کہ وہ احتجاج کے چکر میں حوالات میں پہنچ گیا۔ اتنی تفصیل بتانے کا مقصد یہ ہے کہ یہ ہے میڈیا ، امریکی میڈیا (جو اصلاً ہمارے میڈیا کا قبلہ ہے) کی طاقت ۔جس طرح امریکی میڈیا خصوصاً فاکس نیوز نیٹ ورک نے عراق میں ڈبلیو۔ایم۔ڈی کی موجودگی کا شور مچایا اور لاکھوں لوگوں کی ہلاکت اور بربادی کے بعد سامنے آیا کہ ایسی کوئی شے عراق کے طول و عرض میں کہیں  موجود نہیں۔ اسی طرح ہمارے میڈیا نے سوات میں کوڑوں کی ویڈیو کو بنیاد بنا کر وہاں آپریشن کی راہ ہموار کی اور ہزاروں لوگوں کی ہلاکت اور لاکھوں کے بے آسرا ہو جانے کے بعد یہ سامنے آیا کہ وہ ویڈیو جعلی تھی۔ ہمارا میڈیا اس وقت اسی نہج پر آگیا ہے کہ جس کو چاہے ہیرو بنا دے، جس کو چاہے زیرو۔ چاہے تو لال مسجد کے معاملے کی پھنسی کو پھوڑا بنا دے ، چاہے تو ڈرون حملوں کے ناسور کو خراش دکھا دے۔ چاہے تو جمہوریت کو ہمارے ہر دکھ کا مداوا بنا دے، چاہے تو خلافت کے نظام کو آج کے دور میں غیر عملی باور کرا دے۔

اگر آپ کو واقعی سمجھ آتا ہے کہ جو میں نے کہا ہے وہ صحیح ہے تو اصلاح احوال کی ابھی سے کوشش کر سکتے ہیں ۔ ٹی وی کو بند کرنا اس کو چلانے سے زیادہ آسان ہے اور ویسے بھی مسئلہ اگر صرف معلومات کا حصول ہے تو اکیسویں صدی میں یہ تو کوئی مسئلہ ہی نہیں۔  لیکن اگر آپ کو میری بات سمجھ نہیں آتی تو پھر بھی ایک چھوٹی سی مشق کرنے میں حرج نہیں۔ آپ ٹی وی دیکھتے ہی ہیں تو دن میں جب آپ مناسب سمجھیں، ۱۰ منٹ کے لیے کاغذ قلم لے کر بیٹھیں، اپنا پسندیدہ چینل لگائیں اور یہ نوٹ کریں کہ آپ کا یہ چینل ان دس منٹ میں کیا دکھاتا ہے۔ اگر میرا اندازہ صحیح ہے تو یہ کچھ ایسا ہی ہونا چاہیے جیسا ہمارے قید خانے کے ان ساتھیوں کی کہانیاں تھیں۔ اب یہ آپ پر ہے کہ آپ اپنے آپ کو اس قید سے چھڑانا چاہتے ہیں یا نہیں۔

کنویں کے عوام

Posted in Islam, Rants, Social revolution by baigsaab on November 23, 2011

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک کنویں میں کچھ مینڈک رہتے تھے. ویسے تو ان کی زندگی میں کوئی مسئله نہیں تھا لیکن ان کا کوئی بادشاہ نہیں تھا.اسی پریشانی میں ان کے دن رات بسر ہو رہے تھے کہ ایک دن کہیں سے لکڑی کا ایک بڑا سا شہتیر آن گرا. زور کا چھپاکہ ہوا اور کنویں میں، جو ظاہر ہے ان کی پوری دنیا تھی، بھونچال آگیا. سب مینڈک ادھر ادھر چھپ گئے. آنکھوں آنکھوں میں ایک دوسرے کو اشارے کیے گئے. ” یہ تو کوئی بہت ہی طاقتور مخلوق لگتی ہے!” “ہاں ہاں اس کو اپنا بادشاہ بنا لیتے ہیں” چنانچہ سب کے سب دست بستہ اس لکڑی کے تختے کے آگے آئے اور عرض کی “مہاراج، آپ کی بہت مہربانی کہ آپ ہماری دنیا میں تشریف لائے.ہم آپ کو اپنا بادشاہ بنانا چاہتے ہیں.” لکڑی کی خاموشی کو رضامندی سمجھ کر انہوں نے اس کو اپنا بادشاہ بنا لیا. روز اس کے سامنے پیش ہوتے اور اپنے فیصلے کراتے.دن گزرتے گئے اور بادشاہ کی خاموشی سے مینڈک بور ہونے لگے. ان کو لگتا تھا کہ بادشاہ کو ذرا دبنگ ہونا چاہیے. اور پھر ایک دن ایک گستاخ مینڈک بادشاہ کے اوپر بیٹھ گیا. پہلے تو سب نے بہت شور مچایا اور اس گستاخ کو سنگین نتائج کی دھمکی دی لیکن بادشاہ کی خاموشی نے ا وروں کو بھی شہہ دی. ایک ایک کر کے سب لکڑی کے اس تختے پر چڑھ گئے اور بالآخر بادشاہ کو “معزول” کر دیا گیا. ابھی اسی ادھیڑ بن میں تھے کہ اگلا بادشاہ کہاں سے لائیں کہ ٹھیک اسی طرح ایک بڑا سا اژدہا نہ جانے کہاں سےکنویں میں آن گرا. پھر وہی زور کا چھپاکہ اور مینڈکوں کی پہلے روپوشی، پھرآنکھوں آنکھوں میں بادشاہ کا انتخاب اورپھر برآمدگی . اب جو مینڈک “تاج پوشی” کے لئے باہر آئے تو بادشاہ سلامت نے آؤ دیکھا نہ تاؤ، جھٹ اپنی رعایا کی طرف لپکے اور پوری عوام کو ایک منٹ میں اپنے پیٹ میں پہنچا دیا. پیٹ میں پہنچ کر مینڈکوں کا کیا رد عمل تھا، اس بارے میں راوی خاموش ہے.

سمجھ نہیں آتا کہ اس کو اپنی قوم کی بدقسمتی کہوں یا انشاء جی کی تحریر کی شگفتگی کہ ۴۰ سال گذرنے کے باوجودان کی اس حکایت کو اپنے عوام پہ مکمل طور پر پورا ہوتے دیکھ سکتے ہیں.کسی سے پوچھ لیں بھائی قیادت کو کیسا ہونا چاہیئے. جواب ملے گا کہ بھائی مخلص ، با صلاحیت اور دیانت دار. پوچھو کہ مسلمان حکمرانوں میں پسند کون ہے، جواب حضرت عمرؓ . پوچھئے یہاں کے حالات کیسے صحیح ہونگے تو جواب اسلام. انگریزی محاورہ ہے کہ اگر خواہش گھوڑا بن سکتی تو ہر فقیر شاہ سوار ہوتا. ذرا ایمان داری سے سوچئے کہ ہمارے کتنے فیصد عوام اپنی دعاؤں میں یہ مانگتے ہونگے کہ اللہ ہمارے صدر وزیر اعظم کو سچا پکا مسلمان بنا دے. کس نے کبھی اپنے ملک کے صدر ، یا گورنر یا علاقے کے ناظم کے پیچھے نماز پڑھنے کی خواہش کی ہوگی جبکہ خلفائے راشدین اور ان کے عمال (گورنر) اپنے لوگوں کو خود نماز پڑھاتے تھے.

گنتی کے چند لوگوں کو چھوڑ کر ہمارے نصیب میں آئے تو ایسے کہ جو یا تو میر جعفر کی اولادوں میں سے تھے (جی ہاں، پاکستان کے ایک صدر صاحب میر جعفر کی اولادوں میں سے تھے!!!) یا جن کو اپنا اتنا ہوش بھی نہیں تھا کہ قضائے حاجت کے لئے کسی بین الاقوامی کانفرنس کے لان کا انتخاب مناسب نہیں . یا وہ جنہوں نے روشن خیالی کا مطلب یہ لیا کہ بغل میں دو کتے دبائے اور تصویر کھنچوا لی یا وہ جن کو اتنا بھاری مینڈیٹ ملا کہ اس کے نیچے آکر وہ ملک کو سود سے پاک کرنے کا نادر موقع گنوا بیٹھے. یا وہ جن کی ایک نہیں دو نہیں تیسری نسل اقتدار کے مزے لوٹ رہی ہے اور لوٹتی چلی جا رہی ہے. ایسا کیوں ہے؟ ہماری پوری تاریخ میں بابائے قوم کے بعد شاید ملک معراج خالد ایک ایسے شخص تھے کہ جو واقعی عام لوگوں کی طرح رہتے تھے . نگران ہی صحیح لیکن وزیر اعظم تو تھے. عام لوگوں کی طرح اکنومی کلاس میں سفر کرتے تھے. اپنے گھر کو وزیر اعظم ہاؤس کا درجہ دیا نہ کہ خود اپنے تام توبڑے سمیت سرکاری محل میں جا بیٹھتے. لیکن کیا ہوا؟ آج کیا کسی کو یاد بھی ہے کہ ہمارے ملک میں محض ١٥ سال پہلے ایسا دور بھی آچکا ہے کہ جب وزیر اعظم عام لوگوں کی طرح رہتا اور گھومتا پھرتا تھا؟

اگر خدا لگتی بات کریں تو اس وقت عوام کا سیاست دانوں پر سے اعتبار مکمل طور پر اٹھ چکا ہے. وہ سیاست جو بنی اسرائیل میں انبیاءجیسی پاکیزہ ہستیاں کیا کرتی تھیں ، آج ایسا لفظ بن گیا ہے جس کے مطلب جھوٹ، دھوکہ ، بد عہدی اور بہتان طرازی ہو کر رہ گیا ہے.یہ وہ لوگ ہیں جو کبھی تو ایک دوسرے کو غلیظ القابات سے نوازتے ہیں، پھر “ملک کے عظیم تر مفاد” میں ان سے اکٹھ بناتے ہیں، اور پھرانہی سے ہاتھا پائی بھی کر بیٹھتے ہیں. پھر مل جائیں گے، پھر روٹھ جائیں گے. غرض جو بھی کرتے ہیں، لگتا یہ کہ عوام کو اس سے کوئی سرو کار ہی نہیں ہے کہ یہ کیا کر رہے ہیں؟ دیکھا یہ گیا ہے کہ ہر کوئی روزانہ TV اس امید پر کھولتا ہے کہ شاید کوئی نیا تماشا دکھ جائے. اور مایوسی نہیں ہوتی. کہیں کوئی قرآن سر پر اٹھا کر اپنے آپ کو معصوم اور دوسرے کو قاتل قرار دے رہا ہے تو کہیں ایسا جواب دیا جا رہا ہے کہ لوگ سوچتے ہی رہ گئے کہ کہا کیا؟ لگتا ایسا ہے کہ ان تمام جماعتوں اور لیڈروں کو پتہ ہے کہ عوام کے چاہنے نہ چاہنے سے کچھ نہیں ہوتا، طاقت کے مراکز کہیں اور ہیں اور ان کو خوش رکھنےمیں ہی اقتدار ملتا ہے. اور یہ جو جملہ ہوتا ہے نا کہ “یار یہ سب ملے ہوئے ہیں” یہ کسی ایک قومیت کے لوگوں میں محدود نہیں ہے. تو ایک دفعہ جی کڑا کر کہ یہ تسلیم کر کیوں نہیں لیتے کہ ہاں بھائی ہماری پسند اور ہے اور ترجیح اور.یہ کہ وہ جو ہم چاہتے ہیں کہ ہم پسند کریں وہ اور چیز ہے اور وہ جو ہمیں واقعی پسند ہے وہ اور. اس سے اور کچھ ہو نہ ہو کم از کم اس دو عملی سے تو جان چھوٹ جائے گی جس میں قوم آج مبتلا ہے.

ویسے قائدین کے اس قحط الرجال کی ذمے داری ایک حد تک علماء پر بھی آتی ہے. انہوں نے خانقاہوں تک اپنے آپ کو محدود کر کے سمجھا کہ حکومت کرنا کسی اور کا کام ہے. ظاہر ہے کہ نظام کوئی خلاء نہیں ہوتا اگر اچھی قوتیں اقتدار پر قبضہ نہیں کرتیں تو بری قوتیں تو آئیں گی ہی. اسلام میں عہدے کی خواہش کرنا اور اس کے لئے تگ و دو کرنا کوئی پسندیدہ بات نہیں ہے لیکن جیسا کہ ہمیں حضرت یوسفؑ کی سیرت میں ملتا ہے کہ اگر متبادل قیادت میں کوئی دیانت دار شخص نہ ہو تو عہدے کو لے لینا غلط بھی نہیں. علماء نے بہرحال احتیاط کو ترجیح دی او رحکمرانوں کو مشوره دینے اور بعض صورتوں میں سرزنش کی حد تک اپنے آپ کو محدود رکھا. اور اگر اسلاف میں تابعین اور تبع تابعین کا طرز عمل دیکھیں تو انہوں نے بھی یہی کیا. لیکن اس وقت میں اور اس وقت میں چند بنیادی فرق ہیں . اور وہ یہ کہ ایک تو اس وقت شریعت کا نظام نافذ تھا. جو بھی برائیاں تھیں وہ بادشاہ یا طبقہ امراء کی حد تک تھیں. دوسرے یہ کہ عوام کا تعلّق علماء کے ساتھ بہت مضبوط تھا. اکثریت کی نظر میں معروف معروف تھا اور منکر منکر.جبکہ آج آوے کا آوا بگڑا ہوا ہے. غرض آج کے اس دور میں جبکہ عوام کی سطح پر شریعت پر عمل تقریبا مفقود ہو گیا ہے،جیّد علماء کے لئے کلمہ حق کو بلند کرنا اور بھی ضروری ہو گیا ہے.

جاتے جاتے اس بات پر غور کر لیں کہ جیسا دودھ ہوتا ہے ویسی ہی بالائی ہوتی ہے. تو جیسی دوغلی قوم ہے ویسے ہی اس کے حکمران. ہمارے نزدیک قائد کو ذرا بھرم باز ہونا چاہیے. جس سے سب ڈرتے ہوں اور جس کے قول و فعل میں بھلے تضاد ہو تو ہو لیکن بات کرے تو سب کو چپ کرا دے. نماز بھلے نہ پڑھے لیکن قرآن کے معنی سمجھا دے بھلے غلط ہوں. اور لیڈر کی شرعی داڑھی کا مطلب تو یہ کہ وہ قیادت کے لائق ہی نہیں.غرض ہم لوگوں کے نزدیک شریف آدمی بیوقوف ہوتا ہے اور تیز آدمی کارآمد. کیا کروں کہ بات اسی کنویں کے مینڈکوں تک واپس آگئی کہ جو شاید”بھولے بادشاہ” پر صبر کر جاتے تو خوش رہتے. اژدہے کے پیٹ میں نہ جانے کیا سوچتے ہونگے. لیکن کیا کریں کہ راوی ایسے بے وقوفوں کے بارے میں چپ ہے!

Homeschooling: Why and How!

Posted in Social revolution by baigsaab on March 1, 2011

Has the moment not yet come!

Posted in Social revolution by baigsaab on January 1, 2011

Has the Moment Not yet come

Ustad e Muhtaram ki Yaad main

Posted in Islam by baigsaab on April 22, 2010

Ustad e Muhtaram ki Yaad main

Protest against Gillette’s collective shaving event!

Posted in Uncategorized by baigsaab on April 1, 2010

One of the biggest signs of a society’s bankruptcy is the demise of its social values. Social values are benchmarks of good and bad, acceptable and rejected, desired and detested and so on. So when society derives these values indigenously from within itself, it’s a living society, on the contrary if it depends on external sources for its values, it’s stagnant! What we’re experiencing today in our society is the latter behavior. We’ve slowly and gradually approached a point where we look towards the west for our benchmarks of good, bad, success and failure, while abandoning those given to us by our Creator, ALLAH (swt). It’s evident in our individual behavior and ubiquitous in our society. It’s a direct result of our society’s submission to the western culture and our ignorance towards our cultural asset.

However, saying so doesn’t mean that our individual has gone so bankrupt that he doesn’t love religion. It’s one thing to ignore something and quite another to not love it. That’s exactly why that despite our lack of application of religion in our personal lives, we’re always in unison against any attempt towards disgracing our religious symbols. Protests against blasphemy are a case in point. The west and its agents try it time and again and keep testing the level of “Ghairat” left in Muslims. They’re relentless in their approach therefore we’re experiencing these incidents more and more.

One such incident was Tuesday’s collective shaving event held by Gillette. The company has been holding such events in other countries and brought this campaign to Pakistan for the first time. As reported from various sources, the event was to break the world record set by India where a few more than 1800 people shaved their faces simultaneously. The idea was to gather 2500 men who’ll do the same at the signal and shave their beards to “bring glory to Pakistan”. Apparently someone from Guinness was also present to verify the validity of the claim. The event was to be held at 6 pm in an ongoing festival of some sort at Karachi Expo center.

This seemingly innocuous event, whose sole aim was manifested to revive patriotism in our youth, was actually an attempt to make a mockery of the sunnah of our beloved prophet RasooluLLAH (saw). Keeping beard is not only the sunnah of RasooluLLAH (saw) and his Sahaba (ra) but also his order to us. Every Muslim child knows this and every adult understands it. But the magic of these multinationals is so profound that they successfully deceived hundreds of young men to scrap this important sunnah from their faces collectively with the stroke of their blades. But were they successful? What followed is a case study of the power of word of mouth and more importantly, the strength of connection of Muslims with one another. An eyewitness account is narrated below verbatim.


At around 2 in the afternoon, I got an sms from a close friend of mine mentioning this event. I quickly asked him to confirm it to me as, with no disrespect to him, I couldn’t believe such an event could be held in broad daylight in the heart of the country which achieved its independence in the name of Islam. I asked a few other sources within some religious circles but they expressed their ignorance. Anyway, it wasn’t before 3 when I could log on to my pc and find the event’s specifics online. Truly speaking, I was still not sure if the organizers had the courage to actually hold this event, but there was only one way to confirm. I didn’t know what I would do if I’d confirm it but I just managed to convince myself to go to Expo center. I got at the University road gate of Expo center by 4 and it was, to my bewilderment, deserted as if no event was being held! I moved further and as I turned round the corner, saw some hustle and bustle in front of Sir Shah Suleiman road gate.

There was a mob of around 150 mostly bearded men gathered in front of the gate, there were banners mounted on the building’s fence denouncing the event and the organizers. As I grew nearer, it became evident that a lot had happened already. Although there was a mob gathered there, who seemed to belong mostly from religious schools, but also included individuals who didn’t belong to any religious outfit, there were absolutely no signs of riot or chaos. The mob wasn’t effectively following a leader but it was extremely peaceful. They were chanting slogans demanding stern action against the organizers and that the event be cancelled. As I was approaching the mob, it suddenly began to disperse. On inquiring a gentleman, I was told that the event has been cancelled and the organizers have guaranteed that this promise wouldn’t be broken. On asking which party he belonged to I was told simply that it didn’t matter as all of the people there had gathered purely for the love of the Sunnah of RasooluLLAH (saw), I was literally humbled by this response. Soon after a middle aged cleric addressed without any loudspeaker and lambasted the organizers for their compliance with the Zionist Multinational companies. He also criticized Gillette for their provocative attempt and demanded that their trade license in Pakistan be cancelled. He later demanded the Supreme Court to take notice of the event and punish the culprits. There was another short speech by another young man and then the cleric spoke again. The religious students boarded their bus in the meanwhile and the mob dispersed soon after…

Listening to this account and watching the video of the protest has revived my confidence in this Ummah, I’m sure you’d share the sentiment. If each individual just decides to do whatever is in his capacity, without thinking whether or not it will make a difference, ALLAH would make it easy for him. These were only 100-150 people, ALLAH knows how many would gather if more time was at hand.

But it must be remembered that no enemy raises his eyes towards any nation who guards its ideological borders. We’ve allowed too much influence by the western and Indian media and it’s hurting us badly.If committing a sin collectively is a sin then we’re all guilty of committing the sin of not struggling for establishment of Islam in this country, which ironically was built in the name of Islam. Failure to do so I’m afraid, will result in even greater threats and those may be too much for our weak nation to handle.

May ALLAH save us from such a fate, ameen.

Questions to Mothers and Sisters!

Posted in Islam, Social revolution by baigsaab on February 5, 2010

Faith and Belief!

Posted in Rants by baigsaab on February 3, 2010

Pakistan’s water resources are under threat of being dried out soon!

Pakistan’s water problems are only a part of its already full plate. Internal and external terrorism, power outages, fuel shortages, unemployment and chaos are also part of our troubles. On the water front, India is reportedly building scores of new dams on rivers flowing into Pakistan, 90 to be precise! If these dams do see the light of day- the first dam is expected somewhere around 2014- Pakistan’s mainland is going to be hit with a severe water shortage. Crops are forecasted to yield a shocking 30% less in that situation, so we’ll be in shortage of food and water at the same time. River water is also essential for livestock which will also be hit with lower production and possibly higher mortality rate. It would be a bleak picture. A very bleak one must admit.

Still, I have hope. Hope that ALLAH (swt) will help us. Who knows, with ALLAH’s mercy, we may see an altogether new and larger river springing out of Pakistan itself. We may see a totally radical solution to power supply that makes us the leaders in world’s power production. Terrorism is, as most of us agree, an issue that can be resolved with political acumen and statesmanship, if that kind of leadership is made available to us. If the world’s poorest country can make the super power to beg for negotiations after 8 long years, then nothing is a far cry. Nothing!

All we need to do is to repent collectively on all that we did in the last 60 years. Pakistan, the gift of ALLAH(swt) to the Muslims of the world, has been left by us to the scavengers who have been taking turns on each other to finish this country off. We, the citizens of Pakistan, have let ourselves down for too long. Now is the time to repent.

O you who believe! If you help (in the cause of) Allâh, He will help you, and make your foothold firm. (Al Quran-47:7)

Let’s seek forgiveness from our Lord. I have every reason to believe that even if a handful of living souls decided to try and please ALLAH (swt), this country, and this world, will be much better places to live! It’s about time we choose the right side.

Remember, when the time comes, it’s belief that is the difference between the bystander and the last man standing!