Baigsaab's Blog

لوگ کیوں زندگی میں آتے ہیں!۔

Posted in Personal by baigsaab on October 16, 2014

ہر شخص اس دنیا میں اکیلا آیا ہے اور اکیلا ہی جائے گا۔ کوئی کتنا ہی پیارا ہو جائے اس کے جانے کے باوجود، اس کی کہانی ختم ہونے کے باوجود ہماری کہانی چلتی رہتی ہے۔ ایک دن وہ بھی ختم ہو جائے گی، ہونا ہی ہے، اس دنیا میں آئے کیوں ہیں، واپس جانے کے لیے! تو اگر اکیلا پن ہی حقیقت ہے تو لوگ آتے کیوں ہیں ہماری کہانی میں؟ میرا ماننا ہے کہ اتفاق نام کی کوئی چیز ہوتی ہی نہیں ۔ یہ اتفاق نہں ہے کہ ہم کس گھر میں پیدا ہوئے، کن دو لوگوں کی اولاد ہوئے، کن کے بھائی یا بہن ہوئے، کن کے شریک حیات ہوئے، کن کے دوست ہوئے، کہاں کام کرتے ہیں، کیا کام کرتے ہیں، بلکہ کوئی شخص بالوں کا کیا رنگ لے کر آیا ہے، یہ بھی اتفاق نہیں ہے۔


JoshuaDavisPhotography / Foter / CC BY-SA

تو اگر سب کچھ ہی پہلے سے طے شدہ ہے تو ہمارے کرنے کا کام ہے کیا؟ کیوں ہمیں شعور دیا گیا ہے؟ کیوں اگر کوئی اپنا، کوئی پیارا بچھڑ جائے تو ہمیں دکھ ہوتا ہے؟ کیوں کسی پرانے دوست کی کسی پرانی بات سوچ کر آپ ہی آپ ہونٹوں پر مسکراہٹ بکھر جاتی ہے؟ کیوں لوگ یاد آتے ہیں؟ کیوں ایسا ہوتا ہے کہ ویسے تو مہینوں بیت جاتے ہیں ملے ہوئے مگر جب پتہ چلتا ہے کہ اب تو کبھی اس شخص سے ملاقات نہ ہو پائے گی تو دل سنبھالے نہیں سنبھلتا؟

ایسا لگتا ہے کہ ہماری زندگیوں کو کچھ اس طرح بنایا گیا ہے کہ یہ ‘اتفاقات’ ہمارے سامنے آتے ہیں اور پھر ہمارے سامنے دو آپشنز ہوتے ہیں۔ ایک اچھا اور ایک برا۔ دونوں میں سے کوئی بھی منتخب کرنے سے ہم ‘گیم’ کے اگلے لیول میں آجاتے ہیں۔ وہاں پھر ایک ‘اتفاق’ ہمارا منتظر ہوتا ہے۔ جو ہمارے پچھلے انتخاب کی بنیاد پر زیادہ اچھا یا زیادہ برا ہوتا ہے۔ جیسے ایک لڑکا کالج میں ایڈمشن لیتا ہے تو اس کی کلاس میں ہر طرح کے لڑکے ہوتے ہیں۔ کچھ پڑھنے والے ہوتے ہیں اور کچھ نکھٹو ہوتے ہیں۔ ان میں سے جن کی طرف بھی یہ دوستی کا ہاتھ بڑھائے گا اس ‘انتخاب’ کی بنیاد پر اس کی اگلی زندگی کا، اگلے ‘اتفاقات’ کا دارومدار ہے۔ اچھے نمبروں سے پاس ہونے کا اتفاق، یا بری لت پڑ جانے کا اتفاق!۔۔۔

لیکن کبھی کبھار ہمارے پاس یہ آپشن نہیں ہوتا۔ کیا ہم میں سے کوئی چاہے گا کہ اپنے کسی پیارے کو اپنے سامنے آخری سانسیں لیتے ہوئے دیکھے؟ اپنے سامنے قبر میں اترتا دیکھے؟ لیکن قدرت کا نظام چلنا ہے۔ ہر کسی کی کہانی کا ایک وقت معین ہے۔ یہ دنیا امتحان کی جگہ ہے نا؟ تو جب کسی کا پرچہ ختم ہو جاتا ہے تو اس کو کمرہ امتحان میں نہیں بیٹھنے دیتے کہ دوسروں کا پرچہ متاثر ہوگا۔ ایسے وقت میں لگتا ہے کہ ہمارے پاس کوئی چوائس نہیں۔ جیسے ہمارا کوئی بس نہیں کسی چیز پر۔ لیکن ایسا نہیں ہے۔ ہمارا اختیار اس وقت ہمارے ردعمل پر ہوتا ہے۔ ہم چاہیں تو رو نے پیٹنے کو اپنا دستور بنا لیں۔ اپنی مظلومیت کا، محرومی کا رونا روئیں۔ جانے والے کو یاد کر کر کے اپنا پرچہ خراب کر لیں۔ یا اس کی یاد کو اپنے لیے ایک طاقت بنا لیں۔ اپنے رب سے، یعنی اس ہستی سے جو اس شخص کو ہماری زندگی میں لائی، باتیں کریں، سمجھنے کی کوشش کریں کہ اب کیا کرنا چاہیے۔

اور پھر کچھ لوگ تو ہماری زندگی میں آتے ہی اس وقت ہیں جب ان کا پرچہ ختم ہوچکا ہوتا ہے۔ نشان حیدر پانے والے لوگوں کو کتنے لوگ جانتے تھے؟ ان کی بہادری اور جرات کی داستان تو ان کے جانے کے بعد لوگوں تک پہنچی۔ شاہزیب خان کون تھا جس کی موت نے غالباً پہلی دفعہ ایک مفرور قاتل کو اس کے اثر رسوخ کے باوجود قانون ماننے پر مجبور کر دیا؟ لیسٹر شائر میں لگی آگ میں ایک شخص کا پورا خاندان چلا گیا، کون تھے وہ لوگ؟ کون تھا بوعزیزی جس کی خود کو آگ لگا لینے سے پہلے تیونس اور پھر مصر اور لیبیا میں تحریکیں پھوٹ بہیں؟ محمد الدراء نامی بارہ سال کا وہ بچہ جو گولیوں سے بچنے کی کوشش میں اپنے باپ کی پناہ میں چھپنا چاہتا تھا مگر پھر بھی موت نے اسے آلیا، اس ایک تصویر نے کتنے ہی لوگوں کو انقلابی بننے پر مجبور کر دیا!۔۔۔ مروۃ الشربینی نامی وہ گمنام مسلمہ جس کو بھری عدالت میں ایک سفاک شخص نے قتل کر دیا اور آج جسے دنیا ‘شہیدۃ الحجاب’ کے نام سے جانتی ہے۔ یا اسماء البلتاجی نامی وہ گمنام مصری لڑکی جس کو اس کی فوج نے ہی شہید کر دیا اور اس کے باپ کی عربی میں لکھی نظم ایک غیر عرب اردوغان کو نہ صرف رلا گئی بلکہ ہمیں ‘رابعہ’ کا نشان بھی دے گئی!۔۔۔

کبھی کبھی اسی طرح کسی انجانے شخص کے جانے کی خبر دل کو تڑپا جاتی ہے۔ کسی کی ‘بے وقت’ موت (کیا ایسی کوئی چیز ہوتی ہے؟)، کسی کی طویل تکلیف دہ بیماری، کسی کا ایکسیڈنٹ میں چل بسنا۔ میرا کلاس میٹ اعجاز جو ایک مہینے تک کومہ میں رہ کر ویسے ہی اپنے رب کے پاس چلا گیا مگر آج آٹھ سال بعد بھی یاد ہے۔ یا وہ دو لوگ جو ابھی حال ہی میں انتقال کر گئے اور جن سے کبھی زندگی میں ملاقات بھی نہ ہوئی، مگر جن کا وقت ‘وقت’ سے پہلے ہی پورا ہو گیا۔ انجان لوگوں کی موت پر تکلیف ہونا، یہ سب کیا ہے؟ کیوں ہمیں ایسی تکلیف ہوتی ہے؟

معاملہ یہ ہے کہ اللہ نے موت اور زندگی کو تخلیق کیا ہی اس لیے ہے کہ وہ دیکھے کہ کون بہترین طریقے پر عمل کرتا ہے (الملک) ۔ یہ بات لگتی عجیب ہے مگر ٹوٹا ہوا دل اللہ کی نعمتوں میں سے ہے۔ قدرت کی بہت سی نشانیاں ایسی ہیں جن کی سمجھ ہی اس وقت آتی ہے جب دل ٹوٹتا ہے۔ ٹوٹا ہوا دل بڑا قیمتی ہوتا ہے۔ چاہے وہ کسی بھی وجہ سے ٹوٹا ہو، لیکن دل کی وہ کیفیت ایسی ہوتی ہے جیسے ہل چلائی ہوئی زمین۔ جس میں اب کسان کو صرف بیج ڈالنا ہے اور پانی دینا ہے۔ ایسے وقت میں اللہ کی کتاب ان سب سوالوں کے جواب دے دیتی ہے جو ہمارے دل میں اس وقت ہوتے ہیں۔ اللہ کے نبیؐ کی، ان کے صحابہؓ کی سیرت میں کتنے ہی ایسے واقعات مل جائیں گے۔ کہیں عزیز ترین زوجہ اپنے رب کے پاس لوٹ گئیں تو کہیں ایک کے بعد ایک بیٹیاں اور بیٹے چلے گئے۔ کسی کے سات بیٹے شہید ہو گئے تو کسی کا شوہر، ماموں اور بھائی ایک ہی جنگ میں شہید ہو گئے۔ ایسے واقعات ہمارے دل پر ایک اچھا اثر چھوڑتے ہیں۔ وہ ایک اچھا بیج ہے جس سے انشاءاللہ فصل بھی اچھی ہو گی۔اور اگر ہم ایسے وقت میں جواب کسی غلط چیز مثلاً غلط فلسفوں، غلط تصورات یا ا س سے بھی بڑھ کر منشیات وغیرہ میں ڈھونڈیں گے تو ممکن ہے ہمیں سوالوں سے فرار مل جائے مگر جواب بہرحال نہیں ملے گا۔ اور غلط بیج الگ پڑ جائے گا۔

اور کبھی کبھار ایسے ہی راہ چلتے کچھ لوگ آپ کو زندگی کی کچھ ایسی حقیقتیں بتلا جاتے ہیں کہ کئی کتابیں گھول کے پینے میں بھی نہ مل سکیں۔ کوئی سبزی والا، کوئی جمعدار، کوئی مچھلی والا، کوئی موچی، کوئی چوکیدار، کوئی بھی شخص جو بظاہر ایک عام سا آدمی لگتا ہو مگر اس خاص وقت میں آپ کے دل کی کیفیات کے عین مطابق وہ ایسی بات کر دے کہ آپ اس کی شکل دیکھتے رہ جائیں اور وہ اپنا ٹھیا آگے بڑھا جائے۔ یہ سب ہماری زندگی کی کہانی کو آگے بڑھانے آتے ہیں۔ ان کی باتوں سے ہمیں اپنے فیصلے کرنے میں مدد ملتی ہے۔ وہ فیصلے جن سے ہم ایک نئے ‘اتفاق’ سے ملتے ہیں۔ ‘اتفاق’ جو کوئی چیز ہی نہیں !!!۔۔۔