Baigsaab's Blog

ایک سو چوالیس سوال

Posted in Social revolution by baigsaab on April 23, 2018

ایم اے جناح روڈ پر ایک کے بعد ایک تاریخی عمارت واقع ہے۔ ہر عمارت انگریز کی یادگار ۔ مگر ایک عمارت ایسی ہے جو خود تو انگریز کی یادگار ہے ہی۔ اس کا پورا انتظام اور نظم و نسق ابھی انگریز کے دور کی ہی ایک یادگار ہے۔ وہ دونوں اس وقت اسی یادگار یعنی سٹی کورٹ کےاحاطہ میں بیٹھے اپنے وکیل کا انتظار کر رہے تھے۔ صبح کے آٹھ بجے کا وقت دے کر اس بندہ خدا نے دس بجا دئیے تھے اور بدستور دیدار کی کوئی نوید نہیں تھی۔ احاطہ کے چاروں طرف لوہے کا جنگلہ تھا جس کے دوسری طرف ٹریفک رواں دواں تھا اور پرانے رکشوں کی طرح، چل کم رہا تھا اور دھواں زیادہ دے رہا تھا۔

جنید نے حسرت سے ایک آہ بھری اور خاموشی کو توڑا ” یار اچھی بھلی نارمل زندگی گزار رہے تھے۔ پتہ نہیں کیا سمائی ہے بھائی کے دل میں بھی کہ گھر بیچ دیتے ہیں” ۔

اظفر اپنے موبائل سے نظریں ہٹائے بغیر گویا ہوا ۔”تو ایسا غلط بھی نہیں کہہ رہے تمہارے بھائی ۔ تیس سال پرانا مکان ہے۔ اب بات مرمت سے آگے نکل گئی ہے۔ توڑ کر نیاہی بنانا پڑے گا۔ خود پیسے کہاں سے لائیں؟ ویسے یہ نارمل زندگی کی کیا تعریف ہے جناب؟ “

“لو بھلا۔ بھائی نارمل زندگی مطلب جس میں بندے کو کورٹ کچہری، ہسپتال اور تھانے کا چکر نہ لگانا پڑے۔”

“مطلب ان جگہوں پر کام کرنے والے لوگ نارمل زندگی نہیں گزار تے؟ “ اظفر نے موبائل سے سراٹھا کر دیکھ ہی لیا۔

“ویسے میرا یہ مطلب تھا نہیں مگر بات ایسی غلط بھی نہیں ہے۔ سوچ یار پورا دن ایک کے بعدایک بندہ ایک سے بڑھ کر ایک مصیبت لے کر ان لوگو ں کے پاس آتا ہے اور ان کے ذہن میں صرف ایک سوال ہوتا ہے۔ اس سے مال کتنا ملے گا”

“ہوں” اظفر نے بات کو جانے دیا۔

“وہ پچھلی عدالت والا پیشکار تو تم کو یاد ہوگا نا؟ ابے وہی جس کے بچے کا ایکس باکس انلاک کرایا تھا۔ کیا کہا تھا اس نے۔ بھائی آپ کو کروڑوں کا فائدہ ہونے والا ہے کچھ ہمارے لیے کرو گے تو ہم بھی کچھ کریں گے۔ اور کیا کیا؟ اپنی عدالت سے اس عدالت میں کیس بھیج دیا کہ یہ والے جج صاحب وراثت والے کیس جلدی نمٹا دیتے ہیں۔ پچھلے ہفتے میں اکیلا آیا تھا تو پتہ ہے یہ والا پیشکار کیا کہہ رہا تھا؟ وہ آپ کے دوست نہیں آئے اسکول والے؟ بچے کا ایڈمیشن کرانا تھا !”

اب اظفر نے موبائل بند ہی کر دیا۔ “لے بھئی۔ چل خیر ہے۔ ابھی ویسے ہی سال کا بیچ ہے۔ اب یہ وکیل حرامخور جلدی کام کرادے تو سال ختم ہونے سے پہلے ہی اس پیشکار سے جان چھوٹ جائے گی۔ لو نام لیا اور آگیا!”

وکیل صاحب نے آتے ہی پان کی ایک پچکاری سے پاس رکھے گملے میں کتھے اور چونے کی کھاد مہیا کی اور لمبا سا “آسالامالیکم ” کیا ۔ پھر اپنے پاس موجود کاغذات دیکھتے ہوئے یوں گویا ہوئے۔

“یار جنید بھائی۔ آپ لوگوں کا کام تو سمجھ لیں ہو ہی گیا ہے۔ بس اسی ہفتے ہوجائے گا۔ آپ کی باجی کب آرہی ہیں۔”

“یار میں نے آپ سے پوچھا تو تھا کہ کب کا ٹکٹ کرانا ہے؟ آپ نے کہا تھا کہ میں وقت سے پہلے بتادوں گا۔ “

“تو بھیا بتا تو دیا وقت سے پہلے ۔ چار دن ہیں ہفتہ ختم ہونے میں۔ باجی کو بولو آج ہی جہاز میں بیٹھ جائیں۔ “

“یار آپ عجیب بات کر رہے ہو۔ کوئی مذاق تھوڑی ہے ٹکٹ کرانا۔ پندرہ بیس ہزار کا فرق آجاتا ہے کینیڈا کے ٹکٹ میں۔”

“تو بھیا فائدہ بھی تو کروڑوں کا ہے۔ کچھ پانے کے لئیے کچھ کھونا پڑتا ہے۔ اچھا یہ بتاؤ فیس کے کچھ پیسے ملیں گے؟ “

“وہ ابھی دیکھتے ہیں۔ آپ نے صبح آٹھ بجے بلایا تھا ۔ خیریت؟ “

“ہاں جی بھائی ویسے تو خیریت ہی تھی۔ اصل میں آپ سے کیا چھپانا۔۔۔” وکیل صاحب کا موبائل بج اٹھا اور ان کی بات ادھوری رہ گئی ۔

اظفر نے بیزاری سے وکیل صاحب کو دیکھا جو فون پر کسی سے کچھ تیز آواز میں گفتگو فرمارہےتھے اور آہستہ سے جنید کے کان میں کہا۔ “دیکھ میں نے کہا تھا نا کہ اس نے فضول میں بلایا ہےآج ۔ اس کو پیسے چاہیئے تھے اور کچھ نہیں۔ یہ کمبخت وکیل ، مکینک، ڈاکٹر سب ایسے ہی ہوتےہیں۔ ان کے پاس پیسے ہیں تو کام آگے نہیں بڑھنا۔ ان کو پیسے چاہیے ہوں تو پھرتیاں دیکھا کرو۔ابھی خبردار جو تو نے ایک پیسہ بھی دیا اسے آج۔ میں دیکھتا ہوں”۔

وکیل صاحب نے موبائل بند کر کے دوبارہ اپنی توجہ ان دونوں کی جانب مبذول کی تو اظفر نےبات چھیڑ دی۔

“خیر تو ہے وکیل صاحب۔ آپ کچھ غصے میں تھے۔ “

“ارے کیا خیر یار اظفر بھائی۔ صبح صبح ضمانت کا کام پڑگیا تھا موکل کا۔ صاحبزادے نے گاڑی مار کر بندے کو ہسپتال پہنچا دیا تھا۔ تھانے والوں نے بڑی کوشش کی کہ کچھ لے دے کر معاملہ طے ہوجائے مگر صاحب ٹھہرے فضول کے اصول پسند آدمی۔ نتیجۃً پرچہ کٹ گیا اور بچہ اندر۔آج ضمانت کے لیے بچے کو لائے تھے تو پورے تین لاکھ کیش لے آئے۔ اب بھلا بتاؤ نظارت والےکیش کیسے لیں۔ میں نے بھی بہت سنائی کہ یار بندے کو کچھ خود بھی عقل ہوتی ہے میں کیاکیا بتاؤں۔ اب جاؤ آپ اور اس کے سیونگ سرٹیفیکٹ لے کر آؤ ورنہ بچہ دو ہفتے کے ریمانڈ پر اندرجائے گا۔ انہی کا فون تھا۔ کر لیے ہیں سرٹیفیکٹ۔ میں نے کہا آپ جج کے کمرہ پر پہنچو میں آتاہوں۔ ہاں تو جنید بھائی کچھ فیس کا کردیں ذرا”۔ وکیل صاحب وعظ کے آخر میں مطلب کی بات پر آگئے۔

اظفر نے کہا ” یار وکیل صاحب صبح آٹھ بجے سے یہیں بیٹھے ہیں۔ اے ٹی ایم کیسے جاتے۔ آپ ایسا کریں یہ ضمانت والا کیس دیکھ آئیں۔ ہم جب تک پیسے بھی لے آتے ہیں اور کچھ چائے وائےبھی پی لیتے ہیں۔ “

وکیل صاحب نے بیزاری سے “ٹھیک ہے” کہا اور منہ میں پان جماتے ہوئے سیشن کورٹ کی طرف نکل گئے۔


 

“یار تو نے اس بوڑھی اماں کو دیکھا ہے؟ وہ جو پیڑ کے نیچے بیٹھی ہے رومال میں ٹفن لے کر” اظفر نے آنکھ کے اشارے سے جنید کو بتایا۔

جنید نے اماں کو دیکھا اور کہا۔ “ہاں میرے خیال میں ان کا بیٹا کسی کیس میں اندر ہے۔ اسی کےلیے آتی ہیں۔ “

“کس کیس میں۔ ابے بھائی ڈبل سواری کا کیس ہے دفعہ ایک سو چوالیس کا۔ انیس سال کالڑکا ہے۔ بائیک پر نکلا تھا دوستوں کے ساتھ۔ باقی تو سب دے دلا کر نکل گئے۔ یہ غریب پھنس گیا۔ یہ اماں پتہ نہیں کہاں اورنگی ٹاؤن سے آتی ہے روزانہ۔”

“تجھے یہ سب کیسے پتہ چلا بھائی” جنید نے چائے میں چمچ چلاتے ہوئے پوچھا۔

“پتہ کیسے چلنا تھا۔ سنتری نے لائیٹر مانگ لیا۔ میں نے بات چھیڑ دی۔ ابے تجھے پتہ ہے یہ لوگ ہتھکڑی کیسے لگانی ہے اس کے بھی ریٹ رکھتے ہیں۔ مطلب اگر تکلیف والی نہیں لگانی تو اسکے پیسے۔ تالا نہیں لگانا تو اس کے پیسے۔ زنجیر میں اس کو آخر میں رکھنا ہے تو پیسے۔ صحیح بتارہا ہوں دل تو چاہ رہا تھا حرامخور کی سگریٹ کی بجائے اسی کو آگ لگا دوں۔ یار انسانیت نہیں ہے ان میں۔” اظفر بول رہا تھا اور جنید چپ چاپ بسکٹ کا پیکٹ کھولنے کی کوشش کر رہا تھا۔

“یار کوئی حد ہے۔ ڈبل سواری گویا قتل سے بڑھ کر ہے۔ اس کو دیکھو نوابزادے کو۔ گاڑی مار دی مگر ضمانت مل گئی کیونکہ باپ کے پاس پیسہ تھا۔ یہاں ان بیچاروں کے پاس کھانے کو روٹی مشکل سے ملتی ہے۔ اچانک حکومت میں کسی کو سمجھ آیا ایک سو چوالیس لگا دو ڈبل سواری بند کردو۔ تو نے دیکھا تھا نا ڈبل سواری پر پابندی کے اگلے روز کتنے لوگ تھے یہاں؟ ایک زنجیر سے بیس بیس بندہ بندھا تھا۔ ظلم ہے یار۔ کوئی پوچھنے والا نہیں ہے یہاں”۔ اظفر چپ ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا۔

“یار میں تو کہہ رہا تھا تجھے تو کر لے باہر کا۔ اپن دونوں بھائی چلتے ہیں۔ ” جنیدنے چائے میں بسکٹ ڈباتے ہوئے کہا۔

“ابے نہیں یار۔ ابا کو کون دیکھے گا پھر؟ چل مان لیا دونوں چھوٹے دیکھ لیں گے۔ مگر تجھے پتہ ہے ان کی طبیعت خراب رہتی ہے۔ تجھے یاد ہے نا تمہاری پھوپھی کے انتقال پر تینوں بیٹے باہرتھے۔ چار دن بعد تدفین ہوئی تھی۔ رو رہے تھے فون پر کہ یار ہمارے بغیر مت دفنانا۔ بھائی اتنی محبت تھی تو گیا کیوں تھا؟ “

“ابے خیر تو ہے آج تو سب کو لپیٹ رہا ہے سب صحیح تو ہے نا۔” جنید نے مزے سے چائے کاگھونٹ بھرتے ہوئے پوچھا ۔

“صحیح ہے یار سب۔ جاب چھوڑ رہا ہوں میں۔ ” اظفر نے خلاؤں میں دیکھتے ہوئے کہا۔

“ہیں!! اوے غیوں؟ ” جنید کے منہ میں چائے اور الفاظ گڈ مڈ ہوگئے۔

“کیوں کیا۔ ابے یہ باس لوگ بھی نا ۔ فضول کی بے عزتی۔ کل کہہ رہا ہے۔ اگر آپ کو اپنی عزت کی اتنی فکر ہے تو نوکری چھوڑ دیں آپ۔ میں نے بھی جواب دے دیا اگر آپ کو عزت کی فکرنہیں تو نوکری کرتے رہیں آپ ۔ ابے بھائی نوکری کی ہے کوئی غلام تھوڑی ہیں۔ ساڑھے چھ بجےبندہ آفس سے نکل رہا ہو اور یہ کہہ رہا ہے۔ کیا ہو گیا آج جلدی جا رہے ہو؟ اپنی پوری فیملی کوباہر بھیج دیا۔ خود ایک ٹانگ یہاں ایک نیوزی لینڈ۔ اور چاہتا ہے ہم بھی اس کی طرح ذہنی ہوجائیں” اظفر اب باقاعدہ پھٹ پڑا تھا۔

“لے بھئی تو تو بالکل ہی پٹڑی سے اتر گیا ہے۔ تیری چائے میں کچھ گر گیا تھا کیا؟ ہلکا ہو جا بھائی”۔ جنید نے بات کو آئی گئی کرنے کی کوشش کی۔

“ابے نہیں یار۔ بس میں نے سوچ لیا ہے۔ جاب چھوڑوں گا ۔ میرا سائڈ کا کام ویسے ہی اچھا چل رہا ہے۔ یہ روز کی جھک جھک سے بھی جان چھوٹ جائے گی۔ اور گریچویٹی کے پیسے بھی کافی ملیں گے۔ بچے بھی باجی والی برانچ میں جارہے ہیں وہ جس میں تیرے اس پیشکار کو شوق ہورہا ہے اپنے بچے کو بھیجنے کا۔”

“سائڈ کا کا م کون سا وہ انٹیریر ڈیکوریشن والا؟” اظفر نے سر ہلا دیا۔

“اچھا تو بیٹھ میں آتا ہوں۔ ” جنید نے اظفر کو وہیں بیٹھنے کا اشارہ کیا اور خود نکل گیا۔


“بڑی دیر کر دی یار تو نے۔” اظفر نے جنید کو دیکھتے ہی کہا۔

“ہاں کام تھوڑا لمبا ہوگیا تھا۔ مگر شکر ہے ہوگیا کام۔ چل چلتے ہیں۔ ” جنید نے سامان سمیٹتے ہوئے کہا۔

دونوں چلتے ہوئے پارکنگ کی طرف آرہے تھے کہ اظفر کی نظر روڈ کے دوسری طرف گئی۔ وہی بوڑھی اماں بس کے انتظار میں کھڑی تھیں۔ مگر ان کے ساتھ میں ایک لڑکا بھی تھا۔ عمر کوئی اٹھارہ بیس سال۔ اظفر نے جنید کی طرف دیکھا ۔ جنید نے نظریں چرا لیں۔

“بات سن۔ تو اس کام کے لیے گیا تھا؟ ” اظفر نے جنید سے پوچھا۔

“کس کام کے لیئے؟” جنید نے جواباً سوال داغ دیا۔

“ہوشیاری نہیں۔ تو نے اماں کے بیٹے کی ضمانت کرادی ؟” اظفر نے دوبارہ پوچھا۔

“لے بھئی اب اس پر کیا اعتراض ہے؟” جنید نے مسکراتے ہوئے کہا۔

“نہیں اعتراض نہیں۔ یہ کیا کیسے تو نے اتنی جلدی۔” اظفر نے حیرت زدہ ہوکر پوچھا۔

“کچھ نہیں یار۔ ابا کی پنشن کے اکاؤنٹ میں پیسے تھے۔ امی سے بات کی فون پر۔ سامنے والےنیشنل سیونگز سے سرٹیفیکیٹ لیے ۔ اپنے وکیل صاحب کو بچے کا وکیل بنایا اور ڈال دی ضمانت۔ ابا کی روح کے لیے ایصال ثواب کے لیے۔ اماں تو دعائیں دیتے نہیں تھک رہی تھی۔ رو روکے میرا بھی برا حال کردیا۔ بچہ بھی اچھا ہے یار کافی تمیزدار ۔تو اپنے پاس رکھ لینا ۔ بی کام میں ہے اور کہہ رہا ہےکوئی ڈپلومہ وغیرہ کی۔۔۔۔” جنید اپنی دھن میں بولے جارہا تھا کہ اظفر نے اسکو روک کے گلے لگالیا۔

“یار آج صحیح معنوں میں تجھے اپنا دوست کہتے ہوئے خوشی ہورہی ہے۔ جیتا رہ میرے بھائی” ۔اظفر نے نمناک آنکھوں سے کہا

“یار تیری وجہ سے تو یہ ہوا ہے۔ میں ہی سوچتا رہ جاتا تھا کہ یار بندہ کس کس کی مدد کرے۔ کروڑوں لوگ ہیں اس ملک میں۔ ہر کسی کے ہزاروں سوال بندہ کس کس کا جواب دے”۔ جنید نے اپنی آستین سے اپنے آنسو صاف کرتے ہوئے کہا۔

“آج شاید ہمارے ذمے اس بوڑھی اماں کے ان ایک سے چوالیس سوالوں کا جواب ہی تھا۔ چل یار کچھ کھلاتا ہوں تجھے۔ کیا کھائے گا؟” اظفر نے گاڑی میں بیٹھتے ہوئے کہا۔

“عزت کی روٹی کے بارے میں کیا خیال ہے؟” جنید نے شرارتی مسکراہٹ سے کہا اور دونوں کھلکھلا کر ہنس دئیے۔

Advertisements

لوگ کیوں زندگی میں آتے ہیں!۔

Posted in Personal by baigsaab on October 16, 2014

ہر شخص اس دنیا میں اکیلا آیا ہے اور اکیلا ہی جائے گا۔ کوئی کتنا ہی پیارا ہو جائے اس کے جانے کے باوجود، اس کی کہانی ختم ہونے کے باوجود ہماری کہانی چلتی رہتی ہے۔ ایک دن وہ بھی ختم ہو جائے گی، ہونا ہی ہے، اس دنیا میں آئے کیوں ہیں، واپس جانے کے لیے! تو اگر اکیلا پن ہی حقیقت ہے تو لوگ آتے کیوں ہیں ہماری کہانی میں؟ میرا ماننا ہے کہ اتفاق نام کی کوئی چیز ہوتی ہی نہیں ۔ یہ اتفاق نہں ہے کہ ہم کس گھر میں پیدا ہوئے، کن دو لوگوں کی اولاد ہوئے، کن کے بھائی یا بہن ہوئے، کن کے شریک حیات ہوئے، کن کے دوست ہوئے، کہاں کام کرتے ہیں، کیا کام کرتے ہیں، بلکہ کوئی شخص بالوں کا کیا رنگ لے کر آیا ہے، یہ بھی اتفاق نہیں ہے۔


JoshuaDavisPhotography / Foter / CC BY-SA

تو اگر سب کچھ ہی پہلے سے طے شدہ ہے تو ہمارے کرنے کا کام ہے کیا؟ کیوں ہمیں شعور دیا گیا ہے؟ کیوں اگر کوئی اپنا، کوئی پیارا بچھڑ جائے تو ہمیں دکھ ہوتا ہے؟ کیوں کسی پرانے دوست کی کسی پرانی بات سوچ کر آپ ہی آپ ہونٹوں پر مسکراہٹ بکھر جاتی ہے؟ کیوں لوگ یاد آتے ہیں؟ کیوں ایسا ہوتا ہے کہ ویسے تو مہینوں بیت جاتے ہیں ملے ہوئے مگر جب پتہ چلتا ہے کہ اب تو کبھی اس شخص سے ملاقات نہ ہو پائے گی تو دل سنبھالے نہیں سنبھلتا؟

ایسا لگتا ہے کہ ہماری زندگیوں کو کچھ اس طرح بنایا گیا ہے کہ یہ ‘اتفاقات’ ہمارے سامنے آتے ہیں اور پھر ہمارے سامنے دو آپشنز ہوتے ہیں۔ ایک اچھا اور ایک برا۔ دونوں میں سے کوئی بھی منتخب کرنے سے ہم ‘گیم’ کے اگلے لیول میں آجاتے ہیں۔ وہاں پھر ایک ‘اتفاق’ ہمارا منتظر ہوتا ہے۔ جو ہمارے پچھلے انتخاب کی بنیاد پر زیادہ اچھا یا زیادہ برا ہوتا ہے۔ جیسے ایک لڑکا کالج میں ایڈمشن لیتا ہے تو اس کی کلاس میں ہر طرح کے لڑکے ہوتے ہیں۔ کچھ پڑھنے والے ہوتے ہیں اور کچھ نکھٹو ہوتے ہیں۔ ان میں سے جن کی طرف بھی یہ دوستی کا ہاتھ بڑھائے گا اس ‘انتخاب’ کی بنیاد پر اس کی اگلی زندگی کا، اگلے ‘اتفاقات’ کا دارومدار ہے۔ اچھے نمبروں سے پاس ہونے کا اتفاق، یا بری لت پڑ جانے کا اتفاق!۔۔۔

لیکن کبھی کبھار ہمارے پاس یہ آپشن نہیں ہوتا۔ کیا ہم میں سے کوئی چاہے گا کہ اپنے کسی پیارے کو اپنے سامنے آخری سانسیں لیتے ہوئے دیکھے؟ اپنے سامنے قبر میں اترتا دیکھے؟ لیکن قدرت کا نظام چلنا ہے۔ ہر کسی کی کہانی کا ایک وقت معین ہے۔ یہ دنیا امتحان کی جگہ ہے نا؟ تو جب کسی کا پرچہ ختم ہو جاتا ہے تو اس کو کمرہ امتحان میں نہیں بیٹھنے دیتے کہ دوسروں کا پرچہ متاثر ہوگا۔ ایسے وقت میں لگتا ہے کہ ہمارے پاس کوئی چوائس نہیں۔ جیسے ہمارا کوئی بس نہیں کسی چیز پر۔ لیکن ایسا نہیں ہے۔ ہمارا اختیار اس وقت ہمارے ردعمل پر ہوتا ہے۔ ہم چاہیں تو رو نے پیٹنے کو اپنا دستور بنا لیں۔ اپنی مظلومیت کا، محرومی کا رونا روئیں۔ جانے والے کو یاد کر کر کے اپنا پرچہ خراب کر لیں۔ یا اس کی یاد کو اپنے لیے ایک طاقت بنا لیں۔ اپنے رب سے، یعنی اس ہستی سے جو اس شخص کو ہماری زندگی میں لائی، باتیں کریں، سمجھنے کی کوشش کریں کہ اب کیا کرنا چاہیے۔

اور پھر کچھ لوگ تو ہماری زندگی میں آتے ہی اس وقت ہیں جب ان کا پرچہ ختم ہوچکا ہوتا ہے۔ نشان حیدر پانے والے لوگوں کو کتنے لوگ جانتے تھے؟ ان کی بہادری اور جرات کی داستان تو ان کے جانے کے بعد لوگوں تک پہنچی۔ شاہزیب خان کون تھا جس کی موت نے غالباً پہلی دفعہ ایک مفرور قاتل کو اس کے اثر رسوخ کے باوجود قانون ماننے پر مجبور کر دیا؟ لیسٹر شائر میں لگی آگ میں ایک شخص کا پورا خاندان چلا گیا، کون تھے وہ لوگ؟ کون تھا بوعزیزی جس کی خود کو آگ لگا لینے سے پہلے تیونس اور پھر مصر اور لیبیا میں تحریکیں پھوٹ بہیں؟ محمد الدراء نامی بارہ سال کا وہ بچہ جو گولیوں سے بچنے کی کوشش میں اپنے باپ کی پناہ میں چھپنا چاہتا تھا مگر پھر بھی موت نے اسے آلیا، اس ایک تصویر نے کتنے ہی لوگوں کو انقلابی بننے پر مجبور کر دیا!۔۔۔ مروۃ الشربینی نامی وہ گمنام مسلمہ جس کو بھری عدالت میں ایک سفاک شخص نے قتل کر دیا اور آج جسے دنیا ‘شہیدۃ الحجاب’ کے نام سے جانتی ہے۔ یا اسماء البلتاجی نامی وہ گمنام مصری لڑکی جس کو اس کی فوج نے ہی شہید کر دیا اور اس کے باپ کی عربی میں لکھی نظم ایک غیر عرب اردوغان کو نہ صرف رلا گئی بلکہ ہمیں ‘رابعہ’ کا نشان بھی دے گئی!۔۔۔

کبھی کبھی اسی طرح کسی انجانے شخص کے جانے کی خبر دل کو تڑپا جاتی ہے۔ کسی کی ‘بے وقت’ موت (کیا ایسی کوئی چیز ہوتی ہے؟)، کسی کی طویل تکلیف دہ بیماری، کسی کا ایکسیڈنٹ میں چل بسنا۔ میرا کلاس میٹ اعجاز جو ایک مہینے تک کومہ میں رہ کر ویسے ہی اپنے رب کے پاس چلا گیا مگر آج آٹھ سال بعد بھی یاد ہے۔ یا وہ دو لوگ جو ابھی حال ہی میں انتقال کر گئے اور جن سے کبھی زندگی میں ملاقات بھی نہ ہوئی، مگر جن کا وقت ‘وقت’ سے پہلے ہی پورا ہو گیا۔ انجان لوگوں کی موت پر تکلیف ہونا، یہ سب کیا ہے؟ کیوں ہمیں ایسی تکلیف ہوتی ہے؟

معاملہ یہ ہے کہ اللہ نے موت اور زندگی کو تخلیق کیا ہی اس لیے ہے کہ وہ دیکھے کہ کون بہترین طریقے پر عمل کرتا ہے (الملک) ۔ یہ بات لگتی عجیب ہے مگر ٹوٹا ہوا دل اللہ کی نعمتوں میں سے ہے۔ قدرت کی بہت سی نشانیاں ایسی ہیں جن کی سمجھ ہی اس وقت آتی ہے جب دل ٹوٹتا ہے۔ ٹوٹا ہوا دل بڑا قیمتی ہوتا ہے۔ چاہے وہ کسی بھی وجہ سے ٹوٹا ہو، لیکن دل کی وہ کیفیت ایسی ہوتی ہے جیسے ہل چلائی ہوئی زمین۔ جس میں اب کسان کو صرف بیج ڈالنا ہے اور پانی دینا ہے۔ ایسے وقت میں اللہ کی کتاب ان سب سوالوں کے جواب دے دیتی ہے جو ہمارے دل میں اس وقت ہوتے ہیں۔ اللہ کے نبیؐ کی، ان کے صحابہؓ کی سیرت میں کتنے ہی ایسے واقعات مل جائیں گے۔ کہیں عزیز ترین زوجہ اپنے رب کے پاس لوٹ گئیں تو کہیں ایک کے بعد ایک بیٹیاں اور بیٹے چلے گئے۔ کسی کے سات بیٹے شہید ہو گئے تو کسی کا شوہر، ماموں اور بھائی ایک ہی جنگ میں شہید ہو گئے۔ ایسے واقعات ہمارے دل پر ایک اچھا اثر چھوڑتے ہیں۔ وہ ایک اچھا بیج ہے جس سے انشاءاللہ فصل بھی اچھی ہو گی۔اور اگر ہم ایسے وقت میں جواب کسی غلط چیز مثلاً غلط فلسفوں، غلط تصورات یا ا س سے بھی بڑھ کر منشیات وغیرہ میں ڈھونڈیں گے تو ممکن ہے ہمیں سوالوں سے فرار مل جائے مگر جواب بہرحال نہیں ملے گا۔ اور غلط بیج الگ پڑ جائے گا۔

اور کبھی کبھار ایسے ہی راہ چلتے کچھ لوگ آپ کو زندگی کی کچھ ایسی حقیقتیں بتلا جاتے ہیں کہ کئی کتابیں گھول کے پینے میں بھی نہ مل سکیں۔ کوئی سبزی والا، کوئی جمعدار، کوئی مچھلی والا، کوئی موچی، کوئی چوکیدار، کوئی بھی شخص جو بظاہر ایک عام سا آدمی لگتا ہو مگر اس خاص وقت میں آپ کے دل کی کیفیات کے عین مطابق وہ ایسی بات کر دے کہ آپ اس کی شکل دیکھتے رہ جائیں اور وہ اپنا ٹھیا آگے بڑھا جائے۔ یہ سب ہماری زندگی کی کہانی کو آگے بڑھانے آتے ہیں۔ ان کی باتوں سے ہمیں اپنے فیصلے کرنے میں مدد ملتی ہے۔ وہ فیصلے جن سے ہم ایک نئے ‘اتفاق’ سے ملتے ہیں۔ ‘اتفاق’ جو کوئی چیز ہی نہیں !!!۔۔۔