Baigsaab's Blog

یہ کیسی عید ہے؟

Posted in Social revolution by baigsaab on August 1, 2014

یہ عید کا دن تھا، اور عید کے دن عصر سے پہلے کا وقت کافی خاموشی کا ہوتا ہے۔ رمضان کے آخری عشرے میں بازاروں میں جو رش ہوتا ہے اس کا اینٹی کلائمکس یہ خاموشی ہے۔ توعید کے دن کوئی چار بجے کا وقت ہو گا کہ جب میں فیڈرل بی ایریا کے ایک پٹرول پمپ پر تھا، ، جتنی دیر میں گاڑی میں ایندھن بھرا جا رہا تھا، میں سڑک سے گزرنے والے لوگوں کو دیکھ رہا تھا۔ کبھی موٹر سائیکل پر کوئی صاحب اپنے چھوٹے سے بچے کو لے کر جاتے، کسی کے ہاتھ میں غبارہ، کسی نے رنگین چشمہ لگایا ہوا، زرق برق لباس اور خوشی دیدنی تھی۔
اور اسی وقت میری نظر ان دو بچوں پر پڑی جن کو دیکھ کر لگ رہا تھا جیسے ان کی زندگی میں عید آئی ہی نہیں۔ اپنے ارد گرد موجود رونق اور زندگی سے بے نیاز وہ اس سائن بورڈ کے نیچے سو رہے تھے۔ کمپنی کے اشتہار میں موجود نوجوان جس پر سینکڑوں دفعہ نظر گئی ہو گی، آج ایسا لگ رہا تھا جیسے معاشرے پر ایک بھرپور طنز کر رہا ہو۔ جیسے کہہ رہا ہو، ‘بہت اعلیٰ کام کر رہے ہیں آپ لوگ ان بچوں کو نظر انداز کر کے’۔
آپ کہیں گے کہ میں نے بھی تو صرف تصویر کھینچنے پر ہی اکتفاء کر لیا۔ میں نے کون سے ان کو نئے کپڑے دلا دیئے۔ یا ان کو کھانا کھلا دیا، یا ان کو پیسے ہی دے دیئے کہ وہ کچھ خرچ کر لیں۔ درست۔ اور میں اس بات میں اپنے آپ کو قصور وار سمجھتا ہوں مگر مجھ میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ میں ان کو نیند سے اٹھا کر پوچھ لوں کہ ‘بیٹا کھانا کھایا ہے کچھ’۔ اور ایک دن کے لیے ان کو کھانا کھلا کر یا کپڑے دلا کر ان کو دوبارہ اس زندگی میں مستقل طور پر چھوڑ دوں۔ اور فی الحال کوئی ایسا بندوبست کرنا ممکن نہیں لگ رہا جس میں ایسے بچوں کا کوئی مستقل سہارا ہو سکے۔
ناچار ایک ایسی حرکت کرنا پڑی جو مجھے خود پسند نہیں۔ تصویر کھینچ کر فیس بک پر لگا دی اور اپنا ‘فرض’ پورا کیا!!!۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

کہتے ہیں عید تو بچوں کی ہی ہوتی ہے۔ اور واقعی بچے ہی اس دن سب سے زیادہ مصروف ہوتے ہیں۔ کبھی دادا کو سلام کر کے عیدی حاصل کی، کبھی نانا سے پیار اور عیدی۔ کبھی چاچا کبھی ماموں، کبھی خالہ تو کبھی پھوپھی۔ غرض ایک متوسط طبقے کے بچے کے پاس عید کے تین دنوں میں اچھی خاصی رقم جمع ہو جاتی ہے میرے اندازے کے مطابق اتنی رقم کہ جو عام دنوں میں ان کے اپنے گھر میں دو سے تین دن کا راشن اور گوشت ، سبزی وغیرہ کا انتظام کر سکے۔ ظاہر ہے بچوں کے اوپر یہ نا روا بوجھ ڈالنے کو میں نہیں کہہ رہا، مگر اتنا  ضرور ذہن میں آتا ہے کہ بچے ان پیسوں کا کرتے کیا ہیں؟ کھانا پینا تو ابا کے پیسوں سے ہی ہوتا ہے۔ دیکھا گیا ہے کہ بچےعموماً ان پیسوں سے کچھ خاص نہیں کرتے، بہت ہو گیا تو بہت سی ‘چیز’ کھا لی اور بس۔ بہت سے ماں باپ وہ پیسے بچوں سے لے کر، اس میں کچھ پیسے جوڑ کر، ان کے لیے کوئی اچھی سی چیز لے لیتے ہیں۔
مگر دیکھنے کی بات تو یہ ہے کہ عید ہوتی کیا ہے؟ عید تو رمضان میں اللہ کے حضور مسلمانوں کے روزوں، نمازوں اور قربانیوں کے معاوضہ کا دن ہے۔ جب اللہ تعالیٰ  اپنے بندوں سے کہتے ہیں کہ جاؤ میں نے بخش دیا تمہیں۔ تو ہم مسلمان خوشی مناتے ہیں۔ مگر اس خوشی میں اگر ہم وہ پورا سبق ہی بھول جائیں جو رمضان میں سوکھتے حلق اور خالی پیٹ میں سیکھا تھا تو یہ ایک بہت بڑا مسئلہ ہے۔
رمضان میں ثواب کئی کئی گنا بڑھ کر ملتا ہے۔ اسی لیے لوگ جوق در جوق، بلکہ زبردستی، لوگوں کا روزہ کھلوانے کے لیے پورے مہینےسڑک پر افطار کراتے ہیں۔ مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ باقی سال اتنا ثواب نہیں دے سکتے۔ اخلاص سے کیئے گئے نیکی کے کام کو اللہ تعالیٰ اپنی طرف سے سات سو گنا تک بڑھا دیتے ہیں۔ اور یہ بھی صرف ہمارے سمجھانے کے لیے ہی ہے۔ تو کیا ہی اچھا ہو کہ وہ لوگ جو  رمضان میں افطاریاں کراتے ہیں، باقی سال بھی اس کام کو کسی نہ کسی طرح جاری رکھیں۔

ناداروں کی دیکھ بھال کی اصل ذمہ دار حکومت وقت ہے۔ حضرت عمر ؓ کا وہ قول تو سب نے ہی سنا ہے کہ اگر فرات کے کنارے کتا بھی بھوکا مرتا ہے تو اس کا جواب دہ امیر المومنین ہے۔ تو ان بچوں کی اصل ذمہ داری تو حکومت پر ہی آتی ہے۔ اور اگر حکومت نہیں کرتی تو یہ لوگوں کی اولین ذمہ داری ہے کہ ہر ممکن طریقے سے حکومت کی توجہ اس جانب مبذول کرائیں۔

لیکن اگر حکومت کے کانوں پر جوں نہیں رینگتی، اور جو کہ واقعی نہیں رینگتی، تو یہ ذمہ داری معاشرے پر منتقل ہوجاتی ہے کہ اس معاشرے کے غریبوں کی مدد کی جائے۔ سب سے پہلا فرض رشتہ داروں اور پڑوسیوں کا ہے کہ وہ دیکھیں کہ ان کے قریب کے لوگوں کا یہ حال کیسے ہے۔  یہی اسلام کے معا شی نظام کی جڑ ہے، دولت  کا معاشرے میں ایسے گھومنا کہ جس میں دولت اہل ثروت میں ہی نہ قید ہو جائے، اور ایسے کہ ہرشخص اپنے قریبی رشتہ داروں اور پڑوسیوں کی خبر گیری کرے۔  اسلام کے معاشی نظام کی جڑ بنیاد میں مقصد معاشرے کی فلاح ہے۔
ایک عرصے سے یہ خیال ذہن میں ہے کہ یہ کام سب سے بہتر طریقے سے مساجد میں ہو سکتا ہے۔ ہماری اکثر مساجد میں اہل ثروت لوگ اپنی جیب سے بڑے بڑے خرچے کرتے ہیں۔ ائیر کنڈیشنر یا بڑے جہازی سائز پنکھے تو اب مساجد میں عام ہیں۔ مساجد میں بڑے بڑے منصوبے پایہ تکمیل کو پہنچ جاتے ہیں مثلاً مینار اور گنبد ۔ مگر انہی مساجد میں نماز کے بعد اگر کوئی مانگنے کھڑا ہو جائے تو اس کو ڈانٹ کر چپ کرا دیا جاتا ہے کہ اس بارے میں حکم یہی ہے اور یہی کرنا چاہئے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ چپ نہ کرایا جائے، میں صرف یہ کہتا ہوں کہ ہم دور صحابہ میں نہیں ہیں جب ایک حقیقی فلاحی ریاست کی بنیاد رکھی جا چکی تھی تو اس سلسلے میں اس شخص کے ساتھ نرمی سے پیش آیا جائے، اس کی تذلیل نہ کی جائے۔ دوسرے یہ کہ مساجد میں ایک مد باقاعدہ اس کام کی ہونی چاہیے۔ جس میں محلے میں جو غریب ہیں ان کے لیے کم از کم راشن  اور دوسری بنیادی چیزوں کا انتظام ہونا چاہیے۔ اگر کوئی مانگنے والا اس مسجد میں آئے تو اس کو امام صاحب سے یا مسجد انتظامیہ کے فرد سے رابطہ کرنے کہا جائے۔ اور بات کیونکہ محلے کی ہی ہے تو ان کے گھر کے حالات سب کے سامنے ہونگے۔ ہر مسجد میں یہ طے ہو کہ اپنے پڑوسی کی ہی مدد کی جائے گی۔ اگر کسی اور علاقے سے کوئی ایسا شخص آتا ہے جو واقعی ضرورت مند ہے تو مسجد کی انتظامیہ اس علاقے کی مسجد سے اس شخص کا رابطہ قائم کروائے۔

بظاہر یہ بہت سادہ بات ہے، مگر حقیقتاً اس میں بہت سی پیچیدگیاں ہیں۔ جن کا ادراک ہر اس شخص کو ہے جس نے مساجد کے معاملات کو تھوڑا بہت دیکھا ہے۔ ان مسائل کا تذکرہ کرنا ایک باقاعدہ الگ مضمون کا متقاضی ہے۔ کہنے کی بات یہ ہے کہ ہم من حیث القوم اگر بے حس ہو گئے ہیں تو رمضان اس بے حسی سے جاگنے کا ایک بہت بڑا موقع ہوتا ہے۔ مسجد اسلامی معاشرے کا ایک بہت اہم ستون ہے۔ اس کو اس مقصد کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہے اور کیا جانا چاہیے۔ تو اگر یہ کام ہو سکتا ہے، اور ظاہر ہے کسی اکیلے شخص کا یہ کام ہے ہی نہیں تو ، یہ کام کرنا ضرور چاہیے۔ جو بچے آج سڑکوں پر ایسے گھوم رہے ہیں۔ کل کو یہی بڑے ہوکر اگر غلط ہاتھوں میں پڑ گئے تو خدا نخواستہ ان سےمعاشرے کو ہی خطرہ لا حق ہو جائے گا، اور ہم ہی میں کچھ لوگ کہیں گے، کہ یہ لوگ کہاں سے آتے ہیں۔ یاد رکھیے، مجرم صرف جرم کو کرتا ہے، اسے جرم تک معاشرہ ہی لے کر جاتا ہے۔
اپنے بچوں میں ایثار اور قربانی کا جذبہ بیدار کرنا ہمارا ہی کام ہے۔ یہ کیسی عید ہوئی جس میں ہمارے بچے تو اتنا ‘کما’ لیں کہ ان کو خود سمجھ نہ آئے کہ کرنا کیا ہے ان پیسوں کا، اور یہ بچے کچھ بھی نہ پائیں جبکہ ان کے گھر میں بھوک ایک بہت بڑی حقیقت کے طور پر روزانہ جواب مانگتی ہو۔ تو اپنے بچوں سے ایسے بچوں کا سامنا کرائیں۔ ان کو پتہ ہونا چاہیئے کہ ان کو کیسی کیسی نعمتیں ملی ہوئی ہیں۔ ان کو پتہ چلنا چاہیئے کہ جن چیزوں کو وہ اپنا حق سمجھتے ہیں، ان میں سے درحقیقت کچھ بھی ان کا حق نہیں۔ اور ان کو پتہ چلے کہ اصل خوشی خود کھانے میں نہیں، بلکہ دوسروں کو کھلانے میں ہے۔ تب شاید ایسی عید آئے جس میں واقعی سب بچے خوش ہوں۔ کوئی بچہ عید کے دن محروم نہ ہو۔
مجھے اس عید کا انتظار ہے!۔

ان سارے جزیروں کو کوئی کاش ملا دے

Posted in Islam, protest, Social revolution by baigsaab on July 15, 2013

کیا وقت ہے یہ بھی! ایسا لگتا ہے پوری دنیا میں اگر کہیں خون بہہ رہا ہے تو وہ مسلمان کا ہے۔ لگتا ہے زمین نے مسلمان خون کے علاوہ کچھ قبول کرنے سے انکار کر دیا ہو۔ وہ برما ہو یا فلسطین۔ شام ہو یا سوڈان۔ افغانستان، پاکستان، بنگلہ دیش ، بھارت، کاشغر، ہر جگہ مرنے والا کلمہ توحید کا ماننے والا۔ کہیں ریاستی جبر ہے تو کہیں بیرونی۔ پھر بھی تمام مسلمان حکومتیں ایک دوسرے کے حالات سے یا تو لا تعلق نظر آتی ہیں جیسے بنگلہ دیش افغانستان کے بارے میں یا پاکستان برما کے بارے میں ۔ یا وہ براہ راست اس ظلم کی مدد کر رہی ہیں، جیسے شام میں ایران اور حزب اللہ ۔ مصر کے حالات پر سعودی اور پاکستانی ہر دو قیادتیں خاموش۔

اس تقسیم کو اور علاقائی پیمانے پر لے آئیں اور محض پاکستان کا ذکر کریں تو یہاں بھی حالات دگرگوں ہیں۔ وزیرستان میں ڈرون حملے، کوئٹہ میں ہزارہ قبائل کی صورتحال، کراچی میں روز گرتی بظاہر بے نام لاشیں، پنجاب کی بند ہوتی صنعتیں، سندھ میں ونی کی گئی لڑکیاں ، بلتستان میں مرتے سیاح۔ پورے ملک میں ہوتے دھماکے۔ یہ بچوں کو کھانا کھلانے سے قاصر ،خودکشیاں کرتے اور ان کا علاج نہ کرا پانے کی خلش کے ساتھ زندہ رہنے والے ماں باپ ۔ قدم قدم پر چھوٹےچھوٹے کاموں کے لیے اہلکاروں کی مٹھی گرم کرنے کی مجبوری۔ ان میں سے ہر مسئلے کا ایک چیمپئن ہے۔ جس نے رشوت ستانی کا مسئلہ دیکھ لیا اس کے لیے قیدی چھڑانے والے کی جدوجہد لا حاصل، اور جو شہروں کے دھماکوں پر سراپا احتجاج ہے وہ ڈرون حملوں پر احتجاج کرنے والوں پر سراپا تنقید۔ جس نے سیاسی جدوجہد کا راستہ دیکھ لیا اس کے لیے دوسرے تمام طریقے بدعت اور جس نے اسلحہ اٹھا لیا اس کے لیے باقی سب طفل مکتب!

اس تفریق کا اور کسی پر اتنا منفی اثر نہیں ہوا جتنا مذہبی طبقہ پر۔ اس کی وجہ کیا ہے یہ ہم آگے دیکھتے ہیں ۔ فی الحال تو یہ دیکھ لیں کہ اوپر گنوائے گئے اور دیگر تمام مسائل کے ساتھ جب الیکشن ہوئے تو لوگوں نے اسلامی جماعتوں کو نہ صرف یہ کہ ان مسائل کے حل کے لیے اپنے اعتماد کے قابل نہیں سمجھا بلکہ ایک صوبے کے علاوہ ان کو اس دفعہ کہیں منہ بھی دکھانے کے قابل نہیں چھوڑا۔ پورے ملک کی ایک ہزار کے قریب صوبائی اور قومی اسمبلیوں کی نشستوں سے اسلامی جماعتوں کے ہاتھ کتنی آئیں؟ پندرہ فیصد؟دس فیصد؟ جی نہیں تین فیصد سے بھی کم یعنی بمشکل تیس سیٹیں۔

بات یہ ہے کہ اسلامی ،خاص طور پر اسلامی غیر سیاسی قوتوں کو واقعی اس بات کا ادراک ہوتا نظر نہیں آتا (یا وہ اظہار نہیں کرتے) کہ لوگوں میں ان کی جڑیں کتنی کمزور ہو چکی ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ مذہبی قائدین نے کسی خاص حکمت عملی کے تحت اپنے آپ کو ان حالات میں الگ تھلگ رکھا ہوا ہے۔ علماء زیادہ بہتر جانتے ہوں گے کہ اس کی وجہ کیا ہے اور اس کے لیے لازماً ان کے پاس دلائل ہوں گے ۔ اس سب کا نتیجہ یہ ہے کہ علماء اب معاشرے کی رہنمائی کے منصب سے دست کش ہو گئے ہیں۔ اس کے باوجود ایسا نہیں ہے کہ ہمارے دینی طبقے سکون میں ہیں۔ یہ آئے دن کی فرقہ وارانہ ہلاکتیں کیا علماء کی نہیں ہیں؟ کیا مولانا اسماعیل عالم نہیں تھے؟ کیا مفتی دین پوری صاحب کوئی غیر اہم شخصیت تھے۔ کیا مولانا اسلم شیخوپوری صاحب کوئی گزارے لائق مولوی تھے؟ پھر کیا گزشتہ رمضان کراچی کے سب سے بڑے دارالعلوم کا محاصرہ نہیں کر لیا گیا تھا؟ کیا گزشتہ رمضان میں ہی معتکفین کو مسجد میں گھس کر نہیں مارا گیا؟ کیا آئے دن مدارس کو زیادہ سے زیادہ حکومتی کنٹرول میں لیے جانے کی باتیں نہیں ہور ہیں؟ اس سب کے بعد جب کراچی کے صف اول کے علماء میں سے ایک عالم ، جن کے اپنے مدرسے کے اساتذہ اور طلبہ حالیہ مہینوں میں شہید کیے جا چکے ہیں، ملک کے نو منتخب وزیر اعظم کو ایک کھلا خط لکھتے ہیں تو یقین جانیے ایک لمحے کو تو دل میں ایک موہوم سی امید یہ آئی تھی کہ شاید یہ بھی مصر کے عزّ بن عبد السلام کی روایت قائم کریں گے۔ شاید یہ بھی بادشاہ وقت کو اس کے مفرد نام سے پکاریں گے اور اس کو کسی معاشرتی برائی کی طرف متوجہ کریں گے۔ شاید انہوں نے سود کے خلاف ایکشن لینے کو کہا ہوگا، شاید ڈرون حملوں کے خلاف بات ہو گی، شاید امریکہ کی جنگ سے نکلنے کا حکم دیا ہو گا، شاید احادیث کی روشنی میں اور قرآن کی آیات کی رو سے کسی کافر کے شانہ بشانہ کھڑے ہو کر کسی مسلمان کے خلاف جنگ کرنے کے خلاف وعیدیں سنائی ہونگی۔ شاید مہنگائی کے خلاف بات کی ہوگی، شاید شیعہ سنی فرقہ واریت ختم کرنے کی بات ہوگی، شاید ناموس رسالت ؐ کی حفاظت کے بارے میں کوئی ہدایات ہونگی، شاید رشوت کے خاتمے اور سفارش کی روک تھام کی بابت تنبیہہ ہو گی اور شاید اور کچھ نہیں تو حاکم وقت سے اللے تللے ختم کرنے کی بات ہوگی۔ مگر حیف صد حیف کہ خط جب پڑھا تو اس کا لب لباب تھا کہ ‘جناب اعلیٰ قبلہ وزیر اعظم صاحب دام اقبالہ سے گزارش ہے کہ جمعے کی ہفتہ وار تعطیل بحال فرما دیں”!! یقین کریں اگر کسی ملک کا سب سے بڑا مسئلہ صرف یہ ہے کہ ہفتہ وار تعطیل کس دن کرنی ہے تو ہماری رائے میں وہ ملک روئے ارضی پر جنت سے کم نہیں۔

بہ صد ادب کہ حضرت کی امامت میں بارہا نمازیں ہم بھی ادا کر چکے ہیں کہ ان کا تدیّن باعث تحسین ہے، میری نا چیز رائے میں ایسے بے سروپا اقدامات کی وجہ صرف اور صرف ایک ہے۔ ایک مرکزی قیادت کی غیر موجودگی۔ اگر ہمارے ان بزرگوں کی کوئی مرکزی قیادت ہوتی تو ان کے اقدامات اتنے افراتفری کا شکار نہ ہوتے۔ قیادت لیکن ایسے ہی پیدا نہیں ہو جاتی اس کے لیے کئی اہل لوگوں کو قربانی دینی پڑتی ہے۔ ہمارے بڑوں میں سے کچھ کا حال تو یہ ہے کہ اپنے مرتبے اور رتبے کا بھی خیال نہیں کرتے اور مخالفین کو ایسے ایسے ناموں سے پکارتے ہیں کہ کوئی دشمن بھی کیا پکارے گا۔ مشرک، بدعتی، جنت کے طوطے، بینکر، مردودی، پراسراری، نجدی، وہابی، دیوگندی، یہ سارے نام کلمہ توحید کے ماننے والوں کے ایک گروہ کے منہ سے دوسرے گروہ کے لیے نکل رہے ہیں۔ ایمان کے بعد برا نام لینا بھی برا ہے، سورۃ الحجرات کیا کہہ رہی ہے کیا ہم بتائیں آپ کو؟ اور انہی گروہوں کے ذرا اپنے بزرگوں کے لیے تراشے ہوئے القابات ملاحظہ کیجیے۔ کسی کو رومی ثانی کہا جا رہا ہے، کسی کو شیخ العرب والعجم، کسی کو مجدد ملت، کسی کو شیخ الاسلام، کسی کو بلبل مدینہ کہا جاتا ہے تو کسی کو عارف باللہ۔ کسی کے نام میں دامت برکاتھم کا لاحقہ لگا ہے اور کسی کے ساتھ حفظہ اللہ اور کسی کے ساتھ نور اللہ مرقدہ اور کہیں پر قدس اللہ سرہ۔ یہ افراط و تفریط ایسے ہی نہیں ہے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ یہ بزرگان دین ان ناموں کے اہل نہیں، ان میں سے چند یقیناً ہونگے بھی۔ لیکن ان سابقوں اور لاحقوں پر مرنے مارنے کو دوڑنے سے پہلے اس ہستیؐ کے نام کی اگر حفاظت کر لی جاتی جس کے طفیل ان بزرگوں کی عزت ہے تو یہ ان کے لیے یقیناً زیادہ باعث افتخار ہوتا۔

توہین ناموس رسالت کے واقعات اگر بڑھ رہے ہیں تو کسی وجہ سے بڑھ رہے ہیں۔ مسلمانوں کا نام ہر جگہ دہشت گردی میں لیا جا رہا تو کسی وجہ سے لیا جا رہا ہے۔ اس کی ایک ہی وجہ ہے، اور وہ ہے ایک مرکزی، متفقہ قیادت کی عدم موجودگی جو مسلمانوں کو بحیثیت مجموعی ایک لائحہ عمل طے کر کے دے۔ OIC یا عرب لیگ نہیں بلکہ ایسی قیادت جو واقعی مسلمانوں کو ایک جسد واحد کی طرح چلائے۔ جس کی ایک خارجہ پالیسی ہو، ایک مالیاتی پالیسی ہو، ایک صنعتی پالیسی ہو۔ چاہے تعلیمی اور داخلی پالیسیاں کچھ مختلف بھی ہوں تو اس بکھری ہوئی بے مہار امت میں پھر سے جان پڑ جائے گی۔ مسلمانوں کی عالمی سطح پر پھر ایک آواز ہوگی۔ اگر تمام مسلمان ممالک اس بات پر اصولی طور پر متفق ہو جائیں تو پھر اس ادارے کو آپ خلافت کا نام دے لیں یا ریاستہائے متحدہ اسلامیہ کا، بات ایک ہی ہے۔ مسلمان ممالک میں مقتدر طبقات کے مفادات اس معاملے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔ اور پھر وہ اپنے ملک کے دینی طبقات میں سے چند لوگوں کو خرید کر اپنا الو سیدھا کرلیتے ہیں۔ محض چند اختلافات کی بناء پر النور پارٹی نے الاخوان کا ساتھ چھوڑ دیا۔ مرسی کو نکال کر جو نگران حکومت بنی ہے ا س میں النور کا بھی کچھ حصہ ہے مگر انتظار کیجیے کہ کب اس کو دودھ میں سے مکھی کی طرح نکال پھینکا جاتا ہے۔ ایسے ہی ہماری دینی جماعتیں ایک دوسرے کی سعی کو ناکام بناتی ہیں، کہیں دانستہ کہیں انجانے میں۔ ایک دوسرے کے پیچھے نماز تو پڑھ لیتے ہیں لیکن ہاتھ میں ہاتھ نہیں دیتے۔ اخلاقی ہمدردی تو کرتے ہیں لیکن عملی ساتھ نہیں۔ لال مسجد کا سانحہ ہوا لیکن پورے ملک کی مذہبی جماعتوں نے سوائے ایک رسمی احتجاج کے اور کچھ نہیں کیا۔ وجہ اس کی یہ تھی کہ ان کو مولانا عبدالرشید کے طریقے سے اختلاف تھا۔ سب نے مانا کہ لال مسجد کے معاملے کو حد سے بڑھانے میں پرویز مشرف کا کتنا گھناؤنا کردار تھا۔ کیسے اس نے ایک پھنسی کو پھوڑا بننے دیا اور پھر اس کو ریاستی طاقت سے ایسا کچلا کہ آج تک اس کے اثرات محسوس کیے جاتے ہیں۔ یہ سب مان کر بھی، اور یہ سب جان کر بھی، محض ‘تشریح’ کے فرق کی بنیاد پر ہمارے دینی طبقے نے اخلاقی ہمدردی کو ہی کافی سمجھا اور اس معاملے کو اس مقام تک جانے دیا کہ جہاں محض بے بسی سے تماشہ ہی دیکھا جا سکتا تھا۔ پرویز مشرف نے ایک ایک کر کے یہی کھیل باقیوں کے ساتھ بھی کھیلا ہے۔ کہتے ہیں جرمنی میں نازیوں نے بھی ایسا ہی کیا تھا۔ اس زمانے کے ایک پادری کا یہ مشہور ٹکڑا تو آپ نے سن ہی رکھا ہوگا ؏

First they came for the communists,
and I didn’t speak out because I wasn’t a communist.

Then they came for the socialists,
and I didn’t speak out because I wasn’t a socialist.

Then they came for the trade unionists,
and I didn’t speak out because I wasn’t a trade unionist.

Then they came for me,
and there was no one left to speak for me.

محض دین کی تشریح کے فرق کا مطلب ہے کہ ہر جماعت نے سنت نبوی ؐ کا مطالعہ کر کے حضورؐ کی حیات طیبہ میں سے جو چیز سب سے زیادہ اہم سمجھی اس کو اپنی جدوجہد کا مرکز بنا لیا۔ کسی نے تبلیغ کو اہم سمجھا، کسی نے جہاد کو، کسی نے سیاست کو اپنا میدان عمل بنایا تو کسی نے خیراتی کاموں کو، کوئی مسجد کی تعمیر کر رہا ہے تو کوئی مدرسہ تعمیر کیے چلا جا رہا ہے، کوئی ذکر و اذکار کے ذریعے سنت پر عمل کر رہا ہے تو کوئی تحریکی کا م کر کے ایک منظم جماعت تشکیل دینے کا خواہش مند ہے۔ حضور نبی کریمﷺ کی حیات طیبہ میں ہمیں ان میں سے اکثر کام کسی نہ کسی وقت میں کسی نہ کسی درجہ میں ملتے ہیں۔ سیرت طیبہ ؐ میں ہم جہاد بھی دیکھتے ہیں اور تبلیغ بھی، جماعت سازی بھی دیکھتے ہیں اور ریاست کے امور پر مکمل گرفت بھی دیکھتے ہیں۔ معجزہ یہ ہے کہ جو کام اللہ کے رسول ؐ نے تن تنہا انجام دیا، آج کئی کئی تنظیمیں مل کر بھی نہیں کر پارہیں۔ اس پر مستزاد یہ کہ ایک دوسرے کے کام سے متفق نہ ہونے کی وجہ سے پہلے بحث پھر اختلاف اور پھر سیدھا سیدھا ضد کا معاملہ ہو جاتا ہے ۔ پھر چونکہ معاشرہ میں دینی جماعتوں سے تعاون کرنے والوں کا ایک وسیع مگر بالآخر محدود طبقہ ہے تو ان کا تعاون انہی جماعتوں میں آپس میں تقسیم ہو جاتاہے ۔ کئی مسجدوں میں ایک سے ڈیڑھ کروڑ روپے کے مینار کی تعمیر ہو جاتی ہے جبکہ وہی پیسے کسی اور جگہ کسی دوسرے ، زیادہ ضروری مقصد میں استعمال ہو سکتے تھے۔ لے دے کے بات وہی ایک مرکزی قیادت کی ہے جو ان سارے اثاثوں کی امین ہو اور نہایت دیانت داری اور خداخوفی کے ساتھ اس مال کو استعمال کرے۔ ایک آواز ہو۔ جو اس سے ہٹ کر چلے وہ صاف نظر آجائے کہ یہ دین کا نمائندہ نہیں۔ پہلے ایک شہر میں ایسا اتحاد بن جائے پھر اس کو ملک تک پھیلا دیں۔ یہ مشکل ضرور ہے، ناممکن نہیں ۔

اگر ایسا اتحاد نہیں ہو پا رہا تو قصور عوام کا بھی ہے لیکن اصل قصور میرے نزدیک ان عقیدتمندوں کا ہے جو علماء کے اردگرد گھیرا ڈال کر رکھتے ہیں۔ آج کے دور میں کسی بڑے عالم سے بات کرنا، اس سے کچھ ذاتی طور پر پوچھ پانا اس قدر مشکل کام ہے کہ جب تک آپ کے پاس کوئی بڑی سفارش نہ ہو آپ علماء سے مل نہیں سکتے۔ اس کی وجہ وہ درمیان کے عقیدتمند ہیں جن کے نزدیک ان کے ‘حضرت’ سے کوئی سوال پوچھنا اگر گناہ کبیرہ نہیں تو مکروہ ضرور ہے۔ ایک عقیدتمند ‘حضرت’ کی ویب سائٹ سنبھال رہے ہوتے ہیں تو دوسرے صاحب کے نزدیک کسی کا ان کے شیخ کو براہ راست فون کر لینا مداخلت فی الدین کے زمرے میں آنا چاہیے۔ اس سے زیادہ آسان تو ٹی وی اور ریڈیو پر آنے والے ان نوسربازوں کو کال کرنا ہوتا ہے جن کے لیے رمضان، ربیع الاول، محرم اور ذی الحجہ مقدس کم اور کمائی کے مہینے زیادہ ہیں۔ عوام ایسے ہی نہیں علماء سے کٹ رہے۔ ایک جمعہ کے اجتماع میں راقم نے امام صاحب کو کہتے سنا کہ ‘عوام کو علماء کی ضرورت ہے، علماء کو عوام کی نہیں’ یہ مقولہ شاید پچیس سال پہلے صحیح تھا مگر آج نہیں۔ Rand Corporation کی سفارشات میں صاف لکھا ہے کہ ایسے علماء جو روایت پسندوں کی صف میں آتے ہیں ان کی جگہ ایسے لوگوں کو میڈیا پر لایا جائے جن کی شہرت ترقی پسندوں کی ہے، جن کو مسجدیں نہیں ملتیں۔ جو شراب کی حرمت کے بارے میں شکوک پیدا کریں، جو بدعات کی ترویج میں ممد ہوں ، جو فحاشی کو نئے معانی پہنائیں۔ اور پچھلے آٹھ دس سالوں میں ان سفارشات پر عمل کے نتیجے میں آپ دیکھ لیں کہ اس وقت سب سے زیادہ دیکھا جانے والا پروگرام ایک ایسے پوشیدہ رافضی کا ہے جو عام محفل میں صحابہ کرامؓ کی شان میں گستاخی کرتا پکڑا گیا اور ابھی بھی تقویٰ کا لبادہ اوڑھے رمضان میں نئے نئے کرتب دکھا رہا ہے۔ یہ ذمہ داری عوام کی بھی ہے کیونکہ ان کو اپنے عمل کا حساب خود دینا ہے۔

لیکن علماء کو بھی تو اپنے نمائندے چننے میں احتیاط کرنی چاہیے۔ گزشتہ شوال میں چاند کی رویت پر جو فساد ہمارے ملک کی سب سے بڑی سیاسی مذہبی شخصیت نے بپا کیا وہ آنے والے دنوں کی ایک جھلک تھا۔ یہ خبر بہت نمایاں نہیں ہوئی ورنہ شوال اکتیس دن کا ہوتا نہیں ہے۔ اس ‘اہل حق کے مینار’ نے ایک صوبے میں اقتدار حاصل کرنے کے لیے وہ وہ پینترے بدلے ہیں کہ اچھے اچھے ماہر کرتب بازوں کو پسینہ آجائے۔ اب تو لگتا ہے کہ آنجناب کا مقصد محض اقتدار کا حصول ہے چاہے اس کے لیے وہ امریکی سفیر کے پاس خود چل کر جائیں۔ دین محمدی ؐکے ماننے والوں کو اگر اقتدار مانگنے کے لیے در در کی بھیک مانگنی پڑے تو ایسے اقتدار سے دوری ہی بھلی۔ علماء کا کام دین کی حفاظت کرنا ہے ، اگر اقتدار حاصل کر کے حفاظت ہوتی ہے تو ٹھیک نہیں تو چار حرف بھیجیے ایسے اقتدار پر جس میں عزت سادات بھی ضائع ہونے کا اندیشہ ہو۔ چار حرف بھیجیے ایسے نمائندوں پر جن کے رہتے نہ مدرسے بچیں نہ اساتذہ۔ نہ طالبعلم بچیں نہ طالبات- جنہوں نے سب سے پہلے نعرہ لگایا کہ ‘طالبان اسلام آباد سے سو کلومیٹر پر رہ گئے ہیں’ اور وہاں سے کوڑوں کی ایک جعلی ویڈیو نکل آئی اور پھر سوات میں لاکھوں لوگ اپنے ہی ملک میں بے گھر ہو گئے۔ سب سے پہلے تو ان نام نہاد نمائندوں سے علمائے دین کو اپنے آپ کو بچانا ہوگا ۔

اس سلسلے میں وہ لوگ جو واقعی کسی عالم کے قریبی حلقے سے تعلق رکھتے ہیں وہ اپنے عالم سے بات کریں۔ ان سے سوال کریں ، کچھ مواقع پر ادب ہلاکت کا باعث ہو جاتا ہے۔ آپ صحابہ کرامؓ سے زیادہ اپنے حضرت کی تعظیم نہیں کر سکتے ۔دین کے معاملے میں صحابہ کرامؓ کبھی نہیں شرماتے تھے، سوال کرتے تھے۔ تو اپنے حضرت سے پوچھیں کہ دوسرے علماء میں برائی کیا ہے۔ اس کو دوسرے عالم سے رابطہ بڑھانے میں مدد کریں۔ ایک دوسرے کے لیے جو ان کے دلوں میں کچھ غلط فہمیاں ہیں وہ ختم کرائیں۔ دوسرے مسالک سے رابطہ بڑھانے میں مدد کریں۔ شدت پسندی اور تمسخر سے نہ دوسرا مسلک ختم ہوگا نہ اس کے ماننے والے۔ یہ سولہویں صدی کا اسپین نہیں ہے جہاں تمام ‘دوسروں’ کو جہازوں میں بٹھا کر افریقہ کے ساحلوں کی طرف روانہ کر دیا جائے۔ تو ہمیں ایک ساتھ ہی رہنا ہے، تو اس ساتھ کو کیوں نہ خوشگوار بنا لیا جائے؟ اگر آج (رمضان۱۴۳۴ ہجری) کی رویت ہلال جیسا ماحول پورے سال رہے تو یہ ملک اور یہ دین بہت جلد امن کا نشان بن جائے گا ان شاء اللہ۔ آج کوئی چھوٹا نہیں ہوا ، بلکہ سب اور بڑے ہو گئے۔ سب صحیح ہوئے اور کوئی غلط بھی نہیں ہوا۔ تو یہ اکثر دوسرے مواقع پر بھی ہو سکتا ہے۔

علماء کے لیے اپنی جگہ مضبوط ہونا ضروری ہے کیونکہ ستون تو مضبوط ہی ہوتا ہے اسے اپنی جگہ سے ہلنا نہیں چاہیے۔ ان کے لیے الگ الگ نظر آنے میں کوئی ایسی برائی نہیں کیو نکہ مہیب سمندر میں جزیرے اور بھی خوبصورت لگتے ہیں۔ بس ہم چاہتے ہیں کہ یہ دینی طبقے کسی ایک قیادت پر متفق ہو جائیں اور پھر للہیت کے ساتھ اس پر صبر کریں۔ ایک چھت جب مل جائے گی تو اس کے سائے میں یہ ستون بھی آئیں گے۔ بس اس کے لیے مجھے، آپ کو، ہر اس شخص کو جو کسی بڑی مذہبی شخصیت کے حلقے تک رسائی رکھتا ہے اس کو ایک پل کا کام کرنا ہے جو کسی طرح ا ن تمام جزیروں کو آپس میں ملا دے۔ اگر ہم نے صرف یہی کوشش کر لی اور اس میں اخلاص کا دامن نہیں چھوڑا تو اللہ سے امید ہے کہ وہ ہم کو روز قیامت رسوا نہیں کرے گا۔ بصورت دیگر، فرقہ بندی کو بھڑکانے میں کہیں ہم بھی حصہ دار نہ بن جائیں!


Photo credit: gnuckx / Foter / CC BY

ہوئے تم دوست جس کے

Posted in Islam, Rants by baigsaab on August 29, 2012

بل  اورائلی کا طریقہ بہت سیدھا ہے۔ جو بھی بات وہ منوانا چاہتا ہے وہ  ڈنکے کی چوٹ پر کہتا ہے اور اس کے لیے صحیح یا غلط کوئی بھی دلائل دیتا ہے۔ اس کے ان دلائل کو جو رد کرتا ہے اس کو موصوف سخت سست سناتے ہیں۔ اورائلی اپنے مخالفین کو جاہل اور بےوقوف ثابت کرنے کی پوری کوشش کرتا  نظر آتا ہے   اور مد مقابل کو دلائل کی بجائے آواز سے زیر کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اگر کہیں اس کو ہزیمت کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو  فوراً پینترا بدل کر مخالف کے کسی نازک پہلو کو نشانہ بناتا ہے اوراس کو زیر کر لیتا ہے۔ ‘احمق اور محب وطن’ نامی کتاب کے مصنف کا فاکس نیوز پر چلنے والا  پروگرام  ‘او رائلی فیکٹر’  ایک اندازہ کے مطابق اس وقت امریکہ کا سب سے زیادہ دیکھا جانے والا پروگرام ہے۔  ایک سروے کے مطابق موصوف امریکہ کے  گیارہویں اور ایک اور سروے کے مطابق دوسرے سب سے با اثر ریڈیو ٹاک شو  میزبان ہیں۔  تو آخر او رائلی کا فیکٹر ہے کیا؟  اس کے سننے اور  دیکھنے والوں پر اس کا کیا  اثر ہوتا ہے؟  ۲۰۰۹ میں ایک اسقاط حمل کے ماہر ڈاکٹر کا قتل ہوگیا جس کو خبروں کے مطابق  ایک ‘اینٹی ابارشن’ جنونی  نے قتل کیا تھا۔  او رائلی نے اس سے پہلے اس ڈاکٹر کے خلاف وقتا   ً فوقتا     ً  کچھ پروگرام کیے تھے اور اس نے اس کا نام ‘ٹلر دی بے بی کلر ‘ رکھا تھا۔ یہ کہنا کہ ڈاکٹر کے قتل میں بل او رائلی  کی باتوں کا اثر تھا ایک  ناقابل تصدیق بات ہے لیکن اس کی باتوں کا اثر بہرحال اس کے سننے والوں پر ہوتا ہے۔ ایسے ہی ایک پروگرام میں  بحیثیت مہمان وہ نیویارک میں مسجد کے قیام کی شدید مخالفت کرتا نظر آتا ہے اور وجہ یہ بیان کرتا ہے کہ ‘مسلمانوں نے ہمیں ۹/۱۱ کو نشانہ بنایا تھا’۔     اس پر  شو کی مشترک میزبان ‘ووپی گولڈبرگ ‘ اور ایک اور خاتون شو سے اٹھ کر چلی گئیں۔ لیکن موصوف اپنی بات پر اڑے رہے۔

 او رائلی جیسے لوگ پوری دنیا کے میڈیا میں ملیں گے۔  ایسے لوگ اپنی بات میں زور پیدا کرنے کے لیے گالیوں اور طنزیہ جملوں کا سہارا لیتے ہیں۔  اپنی بات کو صحیح ثابت کرنے کے لیے جھوٹے  ‘حقائق’  بنا لیتے ہیں ۔ مخالفین کا مذاق اڑاتے ہیں اور گالیاں تک دینے سے دریغ نہیں کرتے۔   ان کا مقصد خود کو صحیح ثابت کرنے سے زیادہ دوسرے کو غلط ثابت کرنا ہوتا ہے۔ ایسے لوگوں کے پروگرام کی ویورشپ ہمیشہ زیادہ ہوتی ہے کیونکہ وہ سنسنی  آمیز اور اسفل  باتیں کرتے ہیں  اور  عوام کی اکثریت  ٹی وی دیکھتی ہی  ان چیزوں کی وجہ سے ہے۔

ہمارے ملک میں ٹاک شوز میں ایسے لوگوں کو ریٹنگز بڑھانے  کے لیے بلایا جاتا ہے۔  لوگ نہ صرف ان کو دیکھتے ہیں بلکہ ان کی باتوں سے لطف اندوز بھی ہوتے ہیں۔ ان  سب میں جن صاحب کے کلام کے حسن پر نثار بہت لوگ ہیں وہ وہ ہیں جن کی پردہ اور عریانیت کے بارے میں کہی گئی آراء آج کل آپ سن ہی رہے ہونگے ۔  یہ اس لیے باقیوں سے ممتاز ہیں کیونکہ  نوجوانوں کا ایک پڑھا لکھا طبقہ ان کی باتوں کو سنتا ہے۔  اسی لیے ان کی کہی ہوئی بات چاہے غلط ہی کیوں نہ ہو اس کا اثر بہت ہوتا ہے۔   چنانچہ  کلیہ عامہ کے برعکس، کہ فرد  معین پر بات کرنے سے کسی کا فائدہ نہیں ہوتا، ہمیں قلم اٹھانا پڑ رہا ہے۔

 حریفوں کو لتاڑنا اور ذلیل کرنا چاہے وہ کوئی بھی ہو یہ ان کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے۔  کسی بھی عزت دار  شخص کو للو پنجو کہہ دینا ان کے لیے مسئلہ ہی نہیں۔ لوگ کہتے ہیں یہ ‘پی’ کر آتے ہیں لیکن میرے خیال سے یہ ایک نا مناسب بات ہے اور کسی پر بے جا تہمت(ویسے بھی ایک نعت گو شاعر  ،جو مدینے میں ننگے پیر پھرتا ہو،سے حرام شے کی   نسبت کرنا  شاید بہتان کے زمرے میں آتا ہو)لیکن گفتگو ان کی کبھی کبھار، بلکہ اکثر،ہذیانی ہی ہوتی ہے۔  موصوف کی یو ٹیوب پر موجود ایک کلپ  میں وہ مسلمانوں کی چودہ سو سالہ تاریخ میں سے چن چن کر آپس کی لڑائیاں نکالتے دکھائے گئے ہیں کہ کس طرح عباسیوں نے امویوں کو رگڑا اور کیسے تیمور نے یلدرم کو رگیدا اور کیسے  لودھی اور تغلق اور مغل اور نہ جانے کون کون مسلمان  تاریخ کے صفحات میں لڑتا ہوا پایا گیا۔  موصوف نے لیکن کہیں  بتانا مناسب نہیں سمجھا کہ  یہ لڑائیاں مذہب کے نام پر نہیں تھیں۔  اگر  ایک مذہب کے ماننے والوں کا آپس میں لڑنا غلط بات ہے تو یورپ کی تو پوری تاریخ ہی کیتھولک اور پروٹسٹنٹ کی  لڑائیوں میں گذری ہے۔     اسی طرح موصوف اکثر اپنے اخباری کالم میں   مغرب کی ترقی کو سراہتے ہوئے پائے گئے ہیں بھلے وہ ترقی ان کی  سماجی بدحالی  پر منتج ہو۔ امریکہ کی در اندازیوں کو  “بڑی طاقتیں ایسے ہی بی ہیو  کرتی ہیں” کہہ کر سند عطا کردیتے  ہیں۔   ایک پروگرام میں انہوں نے بڑی نخوت سے کہا کہ  ‘میں کوئی ایم اے اردو نہیں ہوں ، میں نے اکنامکس میں ماسٹرز کیا ہے’، تو کوئی  ان سے پوچھے بھائی  جب یہ کام کرنا نہیں تھا تو کسی  حقدار  کی سیٹ ضائع کرانا کیا ضرور تھا؟ پڑھے لکھے لوگ ان کی باتیں کیوں سنتے ہیں؟ پتہ نہیں! شاید وہ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ منافقت اور جہالت اور  بے غیرتی جیسے الفاظ ان کے لیے استعما ل نہیں ہو رہے۔  یا  شاید ہماری اکثریت  خود رحمی کی بیماری کا شکار ہے۔  ایک اور وجہ  شاید یہ ہے کہ وہ اپنی باتوں میں مولویوں اور سیاست دانوں دونوں کو رگیدتے ہیں  اور  ہمارا پڑھا لکھا طبقہ   اکثر و بیشتر دونوں سے  بیزار  ہے۔

موصوف کا حا لیہ بیان یہ ہے کہ پردہ عرب کی رسم تھی جس کو اسلام نے باقی رکھا۔  اسی  طرح داڑھی  کا تعلق عرب کی آب و ہوا سے تھا۔  خیر یہ تو کوئی ایسی بات نہیں ۔ صرف پردہ اور داڑھی ہی نہیں۔ اسلام میں اور چیزیں بھی عرب کلچر  سے آئی ہیں۔ مثلا ً  حج۔ مثلاً جہاد۔   مثلا ً نکاح اور دیگر رسومات۔ ہمارا یہ ماننا ہے کہ نبی آخر الزمانﷺ عرب تھے اس لیے عربوں کی  اس زمانے کی ہر چیز سے  جسے ہمارے نبی ؐ نے جاری رکھا ،چاہے وہ آج کے زمانے میں کتنی ہی عجیب کیوں نہ لگے ، محبت ہمارے دین کا حصہ ہے۔ جسے یہ بات سمجھ نہ آئے وہ خود اللہ کے سامنے اپنا جواب تیار کر لے۔  ہم نے تو وہ حدیث سن رکھی  ہے کہ جس کا مفہوم ہے کہ اسلام کا آغاز ایک اجنبی چیز کے طور پر ہوا تھا  اور عنقریب وہ  دوبارہ ایک اجنبی چیز بن جائے گا تو ان کے لیے خوشخبری ہے جو اس کے ساتھ ساتھ خود بھی اجنبی ہو گئے۔

مغرب کی تعریف میں حضرت اس حد تک غلو سے کام لے گئے  کہ فرما گئے کہ وہاں عریانی ستر بن گئی ہے۔  وجہ اس کی بیان کرتے ہیں کہ  نیم برہنہ عورتیں وہاں کھلے عام پھر رہی ہوتی ہیں اور کوئی دیکھتا تک نہیں۔  اب اس کو کوئی ان کی سادہ لوحی ہی کہہ سکتا ہے  ورنہ یہ چیز فطرت کے مطابق نہیں  ہے  کہ مرد کو  عورت میں کشش محسوس  نہ ہو۔  اور حقائق ان کی اس دلیل کے بالکل برعکس چیخ چیخ کر کہہ رہے ہیں کہ دنیا میں ابھی بھی ریپ کے زیادہ واقعات  ان کے اس مغرب میں ہی ہوتے ہیں جہاں ان کے مطابق عریانی ستر ہے۔  ایک اطلاع کے مطابق  ایک ترقی یافتہ مغربی ملک  میں ایک بے روزگار  سافٹ وئیر پروفیشنل خاتون کو بے روزگاری کے زمانے میں ایک نوکری کی پیشکش ہوئی۔ کام ایک جدید قسم کے صاف ستھرے کوٹھے پر تھا۔ انکار کی صورت میں بے روزگاری الاؤنس سے ہاتھ دھونے کی  پریشانی۔ یہ آپ کے پسندیدہ مغرب میں ہو رہا ہے۔    اسی پروگرام میں ایک بڑے غزل گائک کے ہم نام صاحب یہ کہتے ہوئے پائے گئے کہ قرآن میں حکم ہے زینت کو چھپانے کا۔ پھر زینت کا مطلب خود ہی بتاتے ہوئے کہا کہ اس کے مطلب ہیں خوبصورتی۔   اب چہرے سے زیادہ خوبصورتی کہاں ہوتی ہے یہ وہ  حضرت بتا نہیں  رہے۔  خیر یہ تو ایک جملہ معترضہ تھا۔

مسئلہ ان کا اور ان جیسے دوسرے لوگوں کا  شاید یہ ہے کہ  یہ مغرب کے  اس مکمل اور  ہمہ گیر تسلط سے بری طرح مرعوب ہیں۔ ان کے نزدیک  مغرب  کی ترقی   ہم بچشم سر دیکھ رہے ہیں اور  اس   کی تقلید کرنا اس دور میں اسلا م کی سب سے بڑی خدمت ہے۔    اس تقلید کی طرف پیشقدمی میں جو بھی چیز انہیں پا ؤں میں زنجیر  ڈالتی  نظر آتی ہے اس کو یکسر مسترد کردینا  ان کی مجبوری ہے۔

ہم  ان کے لیے اور ان جیسے دوسرے لوگوں کے لیے صرف یہی کہنا چاہتے ہیں کہ  یہ دنیا دارالامتحان ہے۔ یہاں مشکل بھی ایک امتحان ہے اور آسانی بھی۔ غربت بھی ایک امتحان ہے اور امیری بھی۔  اسی طرح  پسماندگی بھی ایک امتحان ہے اور ترقی بھی۔ بلکہ کئی معنی میں عشرت عسرت سے بڑی آزمائش ہے کہ امام احمد ابن حنبل کا واقعہ ہمیں یہی بتاتا ہے کہ شدید مار کو برداشت کر گئے لیکن  جب نئے خلیفہ نے کچھ رقم بھیجی تو رو پڑے  کہ یہ امتحان پہلے سے زیادہ مشکل تھا۔  مغرب کی حالیہ آسائشیں ایک طرف ان کے لیے امتحان ہے کہ وہ اپنے رب کو پہچانتے ہیں کہ نہیں تو دوسری طرف  ہم مسلمانوں کے لیے کہ ہم دنیا کی ترقی کو اہمیت دیتے ہوئے قدم بہ قدم ان کی تقلید کرتے ہیں  اور دیوانہ وار ان کے پیچھے  دوڑتے ہیں یا صرف اس چیز کو لیتے ہیں جو ہماری شریعت سے متصادم نہ ہو۔  پھر دنیاوی کامیابی کسی بھی لحاظ سے اس بات کی ضمانت نہیں ہے کہ  کوئی  اللہ کے پسندیدہ بندوں میں شامل ہو گیا۔  دنیا میں  لگ بھگ ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر آئے ان میں سے   کچھ کے ساتھ شاید ایک بھی امتی نہ ہو۔ کتنے ہی  صحابی تھے جو اسلام کے غلبے سے پہلے اپنے رب سے جا ملے تو کیا وہ ناکام ہو گئے؟    معاذاللہ ہرگز نہیں۔   سلف صالحین کا طریقہ یہ تھا کہ سنت کو دانتوں سے پکڑ لو چاہے کتنے ہی دقیانوسیت کے طعنے کیوں نہ پڑیں اور  اس میں کتنی ہی تکلیف کیوں نہ اٹھانی پڑے۔  کیونکہ  بہرحال دنیا مومن کے لیے قید خانہ ہے اور کافر کے لیے جنت۔

یہ بات اپنی جگہ بجا ہے کہ ہم مسلمان اس خزانے پر جس کا نام قرآن ہے ایک سانپ بن کر بیٹھے ہیں کہ نہ خود عمل کرتے ہیں اور نہ کسی اور تک اس پیغا م کو پہنچانے دیتے ہیں۔ لیکن اس کا یہ مطلب قطعی نہیں ہے کہ  کسی کو  علماء پر لعن طعن کرنے کا لائسنس مل گیا۔ وہ بھی صرف اس لیے کہ انہوں نے ان کے حساب سے دنیاوی تعلیم کی ترویج نہیں کی۔  جو کام علماء اس  پر فتن دور میں کر رہے ہیں وہ ناکافی ہوسکتا ہے لیکن وہ پھر بھی اس طوفان کے آگے بند باندھے ہوئے ہیں کہ جو  اب تک ہماری نظروں کے سامنے روسی، بھارتی اور چینی تہذیبوں کو نگل چکاہے اور اب ہماری پوری اقدار کو گھاس کے تنکوں کی طرح بہا لے جانا چاہتا ہے۔  اگر ہم اپنے مردوں کو سنت کے مطابق دفنا سکتے ہیں تو اس وجہ سے کہ ہم تک دین کی تعلیم پہنچی ہے، اگر بیٹی کی شادی کرنی ہے تو مسنون نکاح مولوی ہی بتاتا ہے۔ہمیں تو لگتا ہے کہ یہ دقیانوسیت کے الزام لگانے والے جو ڈاکٹر عبدالسلام اور  سید احمد خاں کو اپنا محسن کہتے ہیں، کبھی اپنے ڈرائنگ روموں سے نکلے ہی نہیں۔ اگر کسی کے پاس علم کی کمی ہے تو وہ شاید ان کے پاس ہی ہوگی کیونکہ یہ بات ہر شخص جو دین کے علم کے لیے تھوڑی سی محنت کر سکتا ہے وہ جانتا ہے کہ صرف کراچی ہی میں دو ایسی عظیم الشان درسگاہیں ہیں جہاں دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ  جدید سائنسی تعلیم بھی دی جاتی ہے۔  جامعۃ الرشید کا فلکیاتی تحقیق کا ادارہ تو اپنی مثال آپ ہے۔ باقی ملک میں آپ خود دیکھیں۔

لیکن جو اصل مغالطہ ان کو ہے وہ یہ ہے کہ اسلام کی نشاۃ اولیٰ مسلمان سائنسدانوں کی وجہ سے  ہوئی تھی۔ یہ ایک شدید فکری مغالطہ بلکہ حماقت ہے جس کا شکار ہمارے اکثر و بیشتر پڑھے لکھے حضرات ہیں۔  خاص طور سے ہمارے کالم نگاروں اور نامور دانشوروں کی اکثریت یہی بات کرتی نظر آتی ہے۔ اپنے چوہدری صاحب اس دن بڑے تاسف سے  عباسی صاحب سے کہہ رہے تھے کہ آپ نے اسلام کی کیا خدمت کی کیا آپ نے لوٹا بھی ایجاد کیا؟  ان لوگوں کے خیال سے یورپ کو جو تسلط حاصل ہے وہ اس کی سائنسی ایجادات کی وجہ سے ہے۔ یہ مذاق اڑاتے ہیں کہ دنیا   کائنات کی تخلیق کا راز جاننے نکلی ہے، ناسا  کا  ‘کیوریوسٹی’ مریخ پر کامیابی سے قدم رکھ چکا ہے اور ہمیں وہاں سے تصاویر بھیج رہا ہے اور ہمارے ملا کو اس بات  کے جواب دینے سے  ہی فرصت نہیں کہ استنجاء ہو گیا کہ نہیں۔ یا  غسل واجب ہو ایا نہیں؟ یا یہ کہ چاند کے لیے دیکھنا بھی ضروری ہے یا قمری کیلنڈر پر یقین کر لیں؟  پہلا سوال یہ ہے کہ کیا یہ سب سوال غیر اہم ہیں؟ اگر احادیث کے ذخیرے کو دیکھ کر بات کریں تو قطعاً نہیں۔ اور دوسرا سوال جو ہمیں واپس اس فکری حماقت کی طرف لے آتا ہے وہ یہ ہے کہ کیا دنیا میں ترقی کے لیے سائنس لا بد منہ ہے؟

اسلامی حکومت کی حدود  وفات نبوی ﷺ کے محض ۷۵ سال کے  عرصے میں شمالی افریقہ، سندھ اور جزیرہ نما آئیبیریا تک پھیل چکی تھیں۔ دور خلافت راشدہ میں ہی مملکت خداداد کی سرحدیں پورے جزیرہ نمائے عرب کا احاطہ کر چکی تھیں۔ اس پورے عرصے میں نہ کوئی مشہور سائنسدان سامنے آیا نہ کوئی  قابل ذکر غیر جنگی ایجاد۔آ بھی نہیں سکتا تھا کیونکہ عربوں کے پاس سائنس کا علم تھا ہی نہیں۔ وہ تو جب یونانی علوم کو عربی میں ترجمہ کرنا شروع کیا گیا ہے تب کہیں مسلمانوں میں فلسفہ اور ریاضی اور طب کے ماہر پیدا ہونے شروع ہوئے۔ تو اس سے پہلے کے سو سوا سو سال تک ہم کیسے  اتنے بڑے  رقبے  پر اسلامی حکومت  قائم کر پائے؟  وہ کون سی چیز  تھی مسلمانوں کے پاس کہ آدھی دنیا ان کی مطیع بن گئی؟  وہ چیز تھی  جناب رب کا نظام۔ نظام خلافت۔ نظام عدل اجتماعی۔  وہ نظام  جس کا نقشہ  قرآن میں ملتا ہے۔ وہ نظام کہ جو ہمارے آقا ﷺ نے اپنے  خطبہ حجۃ الوداع کے موقع پر  بیان کیا کہ  کسی گورے کو کالے پر اور کالے کو گورے پر فضیلت نہیں۔ نہ عربی کو عجمی پر نہ عجمی کو عربی پر۔ اور جو خلیفہ اول حضرت ابوبکر ؓ نے اپنے پہلے خطبے میں کہا کہ تمہار ا کمزور میرے نزدیک طاقتور ہے اور طاقتور میرے نزدیک کمزور جب تک حقدار کو اس کا حق نہ دلا دوں۔  وہ نظام کہ جس کو  کسریٰ کے دربار میں ہمارے اسلاف نے  یوں بیان کیا تھا کہ ‘ ہم بھیجے گئے ہیں۔۔۔  تاکہ لوگوں کو ملوکیت کے اندھیروں سے نکال کر اسلام کے عدل میں لے آئیں’۔  یہ تھی مسلمانوں کی کامیابی کی کنجی۔ اللہ کی زمین پر اللہ کا نظام۔   اس کے برعکس آپ دیکھیں کہ یہاں بڑے بڑے سائنسدان آنا شروع ہوئے یہاں خلافت کمزور ہونا شروع ہوئی، وجہ یہ نہیں ہو گی لیکن یہ   امر واقعہ ضرور ہے۔ دوسری بنیادی چیز جو اتنی ہی ضروری تھی وہ تھی جہاد۔ وہ جہاد نہیں جو نفس کے خلاف ہوتا ہے بلکہ وہ جہاد جس میں تن من دھن لگایا جاتا ہے۔ جس میں مال کا خطرہ بھی ہوتا ہے اور جان کا بھی۔ جب وہ رخصت ہو گیا، جب موت کے شوق کی جگہ دنیا کی محبت نے لے لی تو ہماری حالت سیلاب کے پانی پر موجود جھاگ جیسی ہوگئی یا با الفاظ حدیث ‘دسترخوان پر چنے ہوئے  کھانے کی طرح’۔  اس کا جیتا جاگتا ثبوت آپ کو افغانستان میں مل رہا ہے جہاں بے سر و سامان مجاہدین کیل کانٹے سے لیس  ایساف کے فوجیوں کو ناکوں چنے چبوا رہے ہیں اور  ان کا بس نہیں چل رہا کہ کیا کریں۔ آپ کے مغرب میں ہی کسی نے کہا تھا۔۔۔

It’s not the gun that fires; it’s the shoulder behind it [that matters]..

ہمارے افغان بھائی آج بھی ثابت کررہے ہیں کہ فضائے بدر پیدا کرنے سے واقعی نصرت آتی ہے، ہم کرنے والے تو بنیں۔

خیر تو بات کہاں سے شروع ہوئی تھی کہاں پہنچ گئی۔ بات یہ تھی  کہ بات کو زور سے، گالی سے، جاہل، بےوقوف، گھامڑ، بدتمیز اور للو پنجو ایسے الفاظ کہہ کر وہ لوگ کرتے ہیں جن کی دلیل میں وزن نہ ہو۔ خالی برتن زیادہ بجتا ہے اسی لیے موصوف کی آواز دور تک جاتی ہے۔  دوسری بات یہ کہ جس کا کام اسی کو ساجھے۔ جس بات کا پتہ نہ ہو اس میں بولنا نہیں چاہیے۔ اب اگر کوئی آپ کے پاس مائک لے کے آ ہی گیا ہے تو بھائی اس کو سیدھے سبھاؤ بتا دو کہ میاں یہ میرا میدان نہیں۔  لیکن ہمارے وطن میں مذہب وہ مظلوم شے ہے کہ جو اس کے حقیقی امین ہیں وہ گوشہ نشین ہیں  اور گویا   ایک حدیث کے مصداق ایسا لگ رہا ہے کہ آخری زمانے کے “روبیضہ”  عام لوگوں کے معاملات میں گفتگو کر رہے ہیں۔ چنانچہ ابھی کچھ عرصے پہلے ایک جید عالم کے پوتے اور جغادری صحافی کے صاحبزادے  ایک موقر روزنامے میں  اپنے کالم میں بینکنگ انٹرسٹ کو جائز قرار دینے کا فتویٰ دے بیٹھے یہ دیکھے بغیر کہ ان کی معلومات اس معاملے میں ہیں بھی کہ نہیں۔  اور یہ تو ٹی وی نہ دیکھنے والوں نے بھی دیکھا کہ رمضان کے مہینے میں ہر چینل پر ایک سے  بڑھ کر ایک  نوٹنکی بیٹھا مذہب پر بول رہا ہے الا ماشاء اللہ۔ خیر تو ہمارے ‘سبجیکٹ’ صاحب سے بھی چپ نہ رہا گیا اور پتہ نہیں کس کیفیت میں وہ کچھ بول گئے کہ  غالباً بعد میں خود بھی بغلیں جھانک رہے ہوں  کہ یہ کیا کہہ  دیا۔ عریانی۔۔ستر؟ اگر کسی نے  مذاق میں بھی کہہ دیا کہ اس نیک کام کی ابتداء  اپنے گھر سے کرنے میں  کیا چیز مانع ہے تو پتہ نہیں موصوف اپنی کون سی والی گالیوں کا پٹارا کھولیں گے۔  حضرت اگر مغرب آپ کو اتنا محبوب ہے تو آپ دعا کیجیے، ہم بھی آمین کہیں گے کہ آپ کا حشر انہی اہل مغرب کے ساتھ ہو۔

  او  رائلی سے کسی نے عراق کی جنگ کے  بعد پوچھا کہ تم نے کہا تھا کہ تم اپنی بات غلط ثابت ہونے پر (کہ عراق میں تباہ کن ہتھیار ہیں) قوم سے معافی مانگو گے تو اس نے بالکل سیدھے سیدھے معافی مانگ لی۔ او رائلی جیسا اڑیل بڈھا یہ کر سکتا ہے تو آپ تو پھر عاشق رسول ؐ ہونے کا دعویٰ رکھتے ہیں۔ اپنے پیچھے چلنے والوں کو گمراہ کرنے پر ان سے معافی مانگ لیں تو یہ ان کے ساتھ بھی بھلائی ہو گی اور اپنے ساتھ تو خیر ہو گی ہی۔ کیونکہ ایک انسان اپنی گمراہی کا بوجھ ہی اٹھا لے تو بڑی بات ہے، ہزاروں لاکھوں کی گمراہی کا بوجھ کوئی کیسے اٹھا سکے گا؟

Ustad e Muhtaram ki Yaad main

Posted in Islam by baigsaab on April 22, 2010

Ustad e Muhtaram ki Yaad main

You happy now Ma’m!!!

Posted in Rants by baigsaab on April 12, 2010

I confess- proclaim my ignorance in this forum- that I had not heard the name Samar MinaLLAH before this Monday. My general knowledge is quite week especially about people. Anyway, the name was mentioned by Kashif bhai in a message citing a probable connection between this person and the Swat Flogging video. I googled the name expecting a “brother” of the lawyer MinaLLAH, but it turned out to be the sister. By the way, this preamble is just to show my ignorance and in no way meant to disrespect the lady.

In her recent rebuttal of news of the video being fake, Ms MinaLLAH doesn’t speak clearly how she got hold of the video. All I could gather was that she found it on the web or through a cell phone. She’s furious nonetheless, that despite the Taliban accepting the responsibility of the incident, people still believe the video was fake. I say, for the sake of argument, let’s suppose the video was indeed genuine. Let’s suppose this punishment was carried out under the aegis of the Taliban and that too after the peace deal was signed.

My simple question is… SO WHAT???

That was a very crucial time for the very fragile peace deal. Both sides were courting each other with extreme suspicion. The Taliban weren’t sure if the government was willing to implement the peace deal, the government was facing immense criticism from the west and the secular parties for signing the peace deal. It was such fragile time, such critical. Just as a day old baby in an incubator. And then this video got leaked.

What followed is useless to tell. Operation by the army, displacement of millions within their own country (originating the pathetically hypocritical euphemism: IDPs), death of hundreds on both side and thousands of civilians (another euphemism: Collateral damage)… I just wish if someone could say: look what you’ve done, silly girl!!!

Ms MinaLLAH vows she’ll continue to work for women’s rights in the country, which is a bad bad sign! I seek refuge with ALLAH (swt) for any calamity that brings.

At this point, let’s see what the Quran says in cases like this.

مومنو! اگر کوئی بدکردار تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے تو خوب تحقیق کرلیا کرو (مبادا) کہ کسی قوم کو نادانی سے نقصان پہنچا دو۔ پھر تم کو اپنے کئے پر نادم ہونا پڑے

O ye who believe! If an evil-liver bring you tidings, verify it, lest ye smite some folk in ignorance and afterward repent of what ye did. (Alhujurat:6)

Here of course, the gauge for a person’s character is Islam and not some arbitrary measure set by any Tom, Dick or Harry. It categorically says, “verify”, and just doesn’t stop there, mentions what may happen if it’s not verified.

Then, what if a person has a big, or in commercial terms, breaking news!

اور جب ان کے پاس امن یا خوف کی کوئی خبر پہنچتی ہے تو اس کو مشہور کردیتے ہیں اور اگر اس کو پیغمبر اور اپنے سرداروں کے پاس پہنچاتے تو تحقیق کرنے والے اس کی تحقیق کر لیتے اور اگر تم پر خدا کا فضل اور اس کی مہربانی نہ ہوتی تو چند اشخاص کے سوا سب شیطان کے پیرو ہوجاتے

And if any tidings, whether of safety or fear, come unto them, they noise it abroad, whereas if they had referred it to the messenger and to such of them as are in authority, those among them who are able to think out the matter would have known it. If it had not been for the grace of Allah upon you and His mercy ye would have followed Satan, save a few (of you). (AnNisa: 83)

Such seemingly simple words, such profound implications! If only we look into The Book. If only we turn to The Guidance. We’d have no problems.

Part of a responsible person’s responsibilities is to know when to “not” act. When wait and watch is better than jumping the gun. I just can’t stop wondering how these western values have corrupted everything good in us. Western culture tells every person his or her rights thinking it’s good they’re aware, but it creates chaos. On the contrary, if every person is told his or her duty, society is generally at peace. We can only wonder what could have happened if only the CEO of Ethnomedia had stayed quite, or at best handed over the proof to the authorities. On the contrary it was on the wire even before it could reach the authorities, who could only react to immense pressure from the media, NGOs and the American masters. What could have happened if the peace deal was successful! Sanity may have prevailed, may be, just may be. It was one case when benefit of doubt should have gone to the Talibans. Must have! Look what’s happened now, we’re into war with ourselves, you happy now Ma’m?

They claim Swat is at peace now. May be it is, but to many, it’s as much at peace as a graveyard is!

Inqilab!

Posted in Islam, Social revolution by baigsaab on February 6, 2010