Baigsaab's Blog

یہ وہ سحر تو نہیں

Posted in Islam, protest, Rants by baigsaab on July 10, 2013

جولائی کے مہینے میں امریکہ ہی نہیں دنیا کے  تیئیس  دیگر ممالک  بھی اپنا  یوم آزادی   مناتے ہیں۔  ارجنٹائن، بیلارس، وینیزویلا اور پیرو  اور خود امریکہ سمیت  ان  میں سے اکثر ممالک نے یہ آزادی بیرونی طاقتوں  کے شکنجے سے حاصل کی تھی۔  امریکہ کے یوم آزادی کی رات تحریر اسکوائر میں لوگوں کو اچھلتے کودتے دیکھ کر  ایسا لگ رہا تھا کہ مصر نے کسی ایسے ہی  ظالمانہ   استعماری  نظام سے نجات حاصل کرلی ہے۔ یہ اس لیے بھی عجیب تھا کیونکہ مصر  نے اگر حسنی مبارک کو تیس سال برداشت کیا تھا اور اس سے پہلے انور السادات اور جمال عبد الناصر اور شاہ فاروق وغیرہ   کو  بھی  برسوں جھیلا تھا تو   اس بار جانے والی حکومت تو نہ فوجی آمریت تھی اور نہ   استبدادی بادشاہت۔ یہ لوگ  تو ایک ایسی حکومت کے خاتمے کی خوشی منا رہے تھے جس  کو ان کے ملک کی  ‘اکثریت’ نے  مرحلہ وار انتخابی عمل کے بعد منتخب کیا تھا۔ محمد مرسی کو  حسنی مبارک سے تشبیہہ دینے والوں نے یہ بھی نہ دیکھا کہ  مرسی نے تو نہ مخالفین سے جیلیں بھرنے کی پالیسی اپنائی،  نہ اپنے مخالفین کے ہجوم پر فائرنگ کروائی ،  نہ  خود پر تنقید کرنے والوں  کو اغواء کروایا،   نہ اپنی ذات کو حرف آخر  اور عقل کل سمجھا(حالانکہ مصر کے نئے منظور شدہ آئین کے بارے میں  پھیلایا گیا  عام تاثر یہی ہے) اور نہ اپنے سے مخالف نظریات کے پرچارکوں کے لیے عرصہ حیات تنگ کیا۔  مرسی پربظاہر الزام ہے تو صرف یہ کہ  وہ دوسرا ‘مبارک’ بننے جا رہا تھا جبکہ درحقیقت ایسا نہیں ہے۔

حقیقت اگر ہے تو  یہ کہ قاہرہ میں خوشیاں مناتے لوگ درحقیقت ایک اسلام پسند حکومت کے خاتمے کی خوشی منا رہے ہیں۔  حقیقت  اگر ہے تو یہ  کہ جب شراب خانوں پر پابندی اور فحاشی پر قدغن لگی تو مصر کے ان  ‘لبرل’ لوگوں  نے  اسی حسنی مبارک کے تیس سالہ دور استبداد کو مرسی کے ایک سالہ دور    استقبال پر ترجیح دی۔  حقیقت اگر ہے تو یہ ہے کہ  مصر، الجزائر، ترکی ، فلسطین اور دنیا بھر میں جہاں بھی اسلام پسند  ‘جمہوری’ حکومتوں کا خاتمہ ہوا ہے   اس کو  مغربی جمہوری ملکوں کی  حمایت  حاصل رہی ہے۔  اور حقیقت اگر ہے تو یہ کہ  بارہ سال  میں پہلی دفعہ کسی حکومت نے اسلام  کو  ریاست کو امور میں مدخل کرنے کے لیے محض چند ہی اقدام کیے تھے   اور اس  کو بھی اسی طرح طاقت کے ساتھ ہٹا دیا گیا جس طرح بارہ سال پہلے طالبان کو ہٹا دیا گیا تھا۔  حقیقت یہ ہے کہ اوبامہ نے اپنی خاص منافقت سے کام لیتے ہوئے جو الفاظ  اپنی تقریر میں رکھے ہیں ان میں ‘تشویش’ اور ‘جمہوری عمل’ کے الفاظ تو ہیں  مگر یہ کہیں نہیں کہا کہ  مصری فوج کا یہ عمل   غلط ہے۔ حقیقت اگر ہے تو یہ کہ اس موقع  پر’ لبرلوں اور سیکولروں ‘ کی منافقت کا پردہ چاک ہو گیا ہے۔  الکُفرُ  مِلّۃٌ  واحدۃٌ   کی ابدی حقیقت سے ہم کو تو  نبی رحمت ؐ  نے  پہلے ہی آگاہ کر دیا تھا، یہ تو ہمارے ہی لوگ تھے جو  دوڑ دوڑ کر ان میں گھسے جاتے تھے۔

لیکن یہ حقیقت بھی اپنی جگہ ہے کہ  الاخوان المسلمون کی حکومت  کے خاتمے میں فیصلہ کن کردار فوج نے نہیں، بلکہ  اسلامی قوتوں نے ادا کیا۔ مصر کیا  پوری دنیا کی تاریخ میں پہلی بار کسی  بڑے ملک میں ایک  اسلامی جمہوری جماعت اس قدر  اکثریت کے ساتھ منتخب بھی  ہوئی اور حکومت قائم بھی کر سکی   مگر  جب وہ گئی تو اس کا ساتھ دینے سے ان کے  اسلامی  اتحادیوں نے نہ صرف انکار کر دیا بلکہ  بالفعل ان کے مخالف کیمپ  میں  جا کھڑے ہوئے۔  جامعۃ الازہر  کے علماء نے ایک  بار  پھر سیکولر  عناصر کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے میں مدد دی  اور اس شخص کے خلاف چلے گئے جس نے کئی دہائیوں میں پہلی بار اقتدار کے ایوانوں میں اللہ کا کلمہ بلند کیا۔ایک بظاہر سیکولر مگر   پیدائشی عیسائی  بلکہ یہودی عدلی المنصور کی حلف برداری میں  غیر مذہبی جنرل الفتاح سیسی کا ہی نہیں ، مذہبی  النور  پارٹی  اور  انتہائی قابل احترام  جامعۃ الازہر   کا بھی بھرپور کردار ہے۔

مصریوں کے بارے میں ایک تاریخی قول  چلا آتا ہے، رِجال ٌ   تَجمعھم الطّبول و ھم مع من غلب ۔ (مصر کے  مرد  ایسے ہیں جن کو ڈھول کی تھاپ اکھٹا کرتی ہے اور وہ اس کے ساتھ ہیں جو غالب آجائے) ۔ یہ کوئی مصر کے ساتھ مخصوص نہیں ہے۔  ہماری عوام بھی مجمع بازی میں کافی خود کفیل ہے۔  بس بازی گر کے پاس ‘مسالہ’ اچھا ہونا چاہیے، لوگ اپنے اصل مسائل بھول کر  نہایت  خلوص کے ساتھ  ان  ڈھولچیوں کے پیچھے چل پڑتے ہیں۔   پاکستان میں عام لوگوں نے مصر کے حالات پر کوئی خاص ردعمل کا مظاہرہ نہیں کیا۔ شاید اس لیے کہ اس کو الیکٹرونک میڈیا پر خاطر خواہ وقت نہیں دیا گیا۔  پرویز رشید صاحب جو حکومت پاکستان کے ترجمان ہیں، انہوں نے  کہا کہ پاکستان کی طرف سے  سرکار ی ردعمل تین سے چار دن میں آئے گا، باوجود اس کے کہ ۱۴ سال پہلے وہ اور ان کے قائد بعینہ اسی عمل سے خود گزر چکے ہیں۔ خلیجی ریاستوں کی طرف سے   تقریباً وہی ردعمل ظاہر کیا گیا ہے جو انہوں نے  اکتوبر  2001  میں افغانستان اور  مارچ 2003 میں  عراق پر امریکی  جارحیت میں  دیا تھا، یعنی  امریکی لائن کی حمایت۔

پاکستان کے   تناظر میں  اگر ہم  مذہبی اور غیر مذہبی   قوتوں کی صورتحال کا جائزہ لیں تو یہ بات سامنے آتی ہے  کہ  لبرل اور سیکولر عناصر  میں اسلامی قوتوں سے زیادہ  ایکا ہے۔  سیکولروں  کی مجبوری یہ ہے کہ  وہ ایک جمہوری حکومت کے خاتمے پر خوشی کا اظہار بھی  نہیں کر  سکتے لہٰذا انہوں نے  اس فوجی بغاوت کی  ذمہ داری الٹا الاخوان پر ڈال دی  ہے کہ اس نے   مصر کی تاریخ میں پہلی بار ایک  جمہوری طور پر منتخب حکومت کی حیثیت سے  اپنی عوام کو  مایوس کیا اور فوج کو  مداخلت کا جواز فراہم کیا۔  ایاز امیر صاحب نے اپنے کالم میں  لکھا کہ مسلم دنیا کی مشکل ہی یہ  ہے کہ یہ  اپنی علاقائی  حدود کی بنیا د پر سوچتے نہیں۔  انہوں نے مرسی  کا تقریباً مذاق اڑاتے ہوئے کہا کہ اپنا گھر سنبھل نہیں رہا تھا اور  وہ  شام کے حالات میں مداخلت کر رہے تھے۔ دوسری جانب  ہمارے مذہبی حلقے   مصر کی تازہ ترین صورتحال میں محض پوائنٹ اسکورنگ کرتے رہ گئے ہیں، الّا ماشا ءاللہ۔  جنہوں نے  اپنی جدوجہد کے لیے انتخابی میدان منتخب کیا تھا وہ  مصر میں  ‘جمہوری’ حکومت کے خاتمے پر مظاہرہ کر رہے  ہیں۔ اور جنہوں نے انتخابی میدان منتخب کرنے کو غلطی قرار دیا وہ  اس فوج کشی کو جمہوری عمل کی ناکامی کا معنی پہنا رہے ہیں۔  واضح رہے کہ جس وقت الاخوان کی حکومت آئی تھی تو  اس وقت  بغلیں بجانے اور  بغلیں جھانکنے کی ترتیب اس کے برعکس تھی۔ سہ ماہی ایقاظ  نے اپنے تازہ مضمون میں  طرفین کے اچھے خاصے لتے لیے ہیں کہ  پہلی بات تو یہ کہ کسی کی ناکامی، ہماری کامیابی کی  ضمانت نہیں۔ اور دوسری بات یہ کہ یہ وقت ایک دوسرے سے لڑنے کا نہیں  ہے۔ بلکہ  اس وقت پہلے سے زیادہ ایک نظر آنے کی ضرورت ہے۔

مصر میں فوجی بغاوت کے بعد مغربی  لکھاریوں کے آنے والے   مضامین اس حقیقت کی غمازی ہی نہیں کر رہے بلکہ ببانگ دہل اس بات  کا اعلان کر رہے  ہیں کہ ان کے نزدیک مسئلہ اسلام ہے، سیاسی یا فوجی اسلام نہیں۔  ڈیوڈ بروکس کے نزدیک   

‘اہم چیز یہ ہے کہ  ایسے لوگوں کو اقتدار سے باہر کر دیا جائے چاہے اس کے لیے  فوجی  بغاوت ہی کا استعمال کیوں نہ کرنا پڑے۔(اصل)   ہدف یہ ہے کہ سیاسی اسلام کو  کمزور کر دیا جائے  چاہے اس کے لیے کچھ بھی کرنا پڑے۔ ‘

مصر میں   لبرلوں کے لیے روشنی کے مینار کی حیثیت رکھنے والے البرادعی  نے  کہا ہے کہ انہیں

اپنے  مغربی دوستوں کو اس بات پر راضی کرنے کے لیے کافی محنت کرنی پڑی  کہ مصر میں جو کچھ فوج نے کیا وہ انتہائی ضروری تھا۔

حاصل وصول ایک  ہی بات ہے،  الجزائر   اور مصر میں  حکومت سیاسی طریقے سے حاصل کی جائے یا اٖ فغانستان  میں   طالبان کے انقلاب کے ذریعے،  اگر حکومت  نے   ذرا بھی  کوشش کی   کہ اسلام کو  ایک جز و کے طور پر ہی سہی لوگوں کی سیاسی زندگی میں داخل کر دیا جائے  تو وہیں اس کے اوپر  ایک ایسی کاری ضرب لگائی جائے گی کہ  ان کی تحریک دس سال پیچھے جا کھڑی ہو گی-  اگر لوگوں کی اکثریت اسلام چاہ رہی ہے اور حکومت نہیں چاہ رہی تو چاہے   مظالم کے پہاڑ ہی  کیوں نہ توڑ دیے جائیں، جیسے شام میں ہو رہا ہے، لبرلوں کے کانوں پر جوں نہیں رینگے گی۔   ترکی میں جو کچھ ابھی ہو رہا ہے   وہ   اگر  آج سے پانچ سال پہلے ہوتا تو  شاید ترکی میں اردگان حکومت کا بھی  خاتمہ ہو چکا ہوتا۔  ان لوگوں کے خیال سے مذہب کی جگہ سیاست نہیں ہے، حکومت نہیں ہے،  معیشت نہیں ہے،  بلکہ معاشرت بھی نہیں ہے، بس مذہب  ایک انفرادی شے ہے ! اب یہ ان کو کون سمجھائے کہ  ؏ جدا ہو دین سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی۔ فرد سے ہی سیاست ہے، فرد سے ہی  حکومت، اسی سے معیشت اور اسی سے معاشرت۔ تو سیدھے سبھاؤ فرد کو ہی کیوں نہیں نکال دیتے  باہر؟

کیا اب بھی کسی کی سمجھ میں نہیں آیا کہ اسلام پسندوں پر عرصہ حیات تنگ کردینے کی آخر وجہ کیا ہے؟ اس چیز کو دیکھنے کے لیے کوئی عقابی نگاہیں نہیں چاہییں کہ مصری فوج نے مرسی سے اقتدار چھیننے سے پہلے ہی  غزہ کی سرنگیں بند کرنے کا کام شروع کر دیا تھا۔  اقتدار میں آنے کے بعد اخوان کے ہمدرد  چار چینل بند کر دیئے گئے۔  الاخوان المسلمون کے دھرنے پر فائرنگ کی گئی جس کے نتیجے میں  تیس سے اوپر لوگ شہید اور سو تک زخمی ہو گئے۔  اس پر نہ کوئی جمہوری روایت  پامال ہوئی نہ انسانی حقوق، کیونکہ  جمہوری روایات کے امین  تو صرف سیکولر ہیں، اور انسانی حقوق کے علمبردار صرف لبرل۔ مصر میں تو خیر براہ راست امریکی ( یعنی صیہونی) مفادات پر  زک پڑ رہی تھی  اس لیے وہاں  تو  انگریزی ترکیب کے مطابق یہ  ‘کب؟’ کا معاملہ تھا ‘اگر’ کا نہیں-  لیکن باقی دنیا میں کیا ہو رہا ہے؟   یورپ میں عورتوں کو  زبردستی بے پردہ کیا جا رہا ہے۔  حجاب پہنی ہوئی عورت کو بھری عدالت میں قتل کر دیا جاتا ہے۔  داڑھی والوں کو ائرپورٹ پر  لائن سے نکال کر تلاشی لی جاتی ہے۔  پکڑا جانے والا اگر فیصل شہزاد ہو ( صحیح یا غلط کی  بات نہیں) تو  وہ تمام مسلمانوں کا  نمائندہ ، اسلام دہشت گردوں کا مذہب اور تمام مسلمانوں کے لیے  شرمندہ نظر آنا لازمی۔  لاکھوں کے قتل کا  متحرک  ہٹلر، ہزاروں کے خون کا ذمہ دار سلوبودان میلاسووچ،  درجنوں کو اپنے  دو ہاتھوں سے مارنے والا اینڈرز بریوک  مگر عیسائیوں  کا  نمائندہ نہیں، یہ ان کا ذاتی فعل ہے جس کی  کسی عیسائی کو صفائی پیش کرنے کی بھی ضرورت نہیں۔ پھر ہمارے اپنے معاشروں میں اسلام پسند جس تضحیک کا نشانہ بنتے ہیں وہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔  جس نے داڑھی رکھ لی وہ منہ چھپا کر پھر رہا ہے اور جو  رات کو  ڈانس پارٹی سے ہو کے آیا ہے اس  کی فیس بک پروفائل پر likes ہی likes ۔  جہاں باپ  نے کسی دینی اجتماع میں جانا شروع کیا بچوں کے منہ لٹکنے شروع ہو گئے۔  انصار عباسی اور اوریا مقبول جان جیسے  کالم نویس   لبرل طبقہ کی ہنسی کا براہ راست نشانہ بنتے ہیں۔

  یہ کیا ہے؟  یہ  دراصل وہ فطری ترتیب  ہے جس پر اللہ نے انسانوں کو پیدا کیا ہے۔  دنیا میں ازل سے ابد تک  درحقیقت صرف دو ہی گروہ ہیں۔  ایک کا نام حزب اللہ، دوسرا حزب الشیاطین۔  فی الوقت  دنیا   چاہے یا  نہ چاہے اپنے آپ کو ان دو  گروہوں  میں تیزی سے تقسیم کر رہی ہے۔   جس کو ہم grey area  کہتے ہیں وہ  اب بہت کم رہ گیا ہے اور اس طرح کے اقدامات کر کے  یہ لادین طبقہ چاہ رہا ہے کہ  یہ تقسیم  بالکل واضح ہو جائے۔  اپنی دانست میں وہ  اپنی دنیا پکی کر رہے ہیں مگر در حقیقت اس سے بڑا خسارے کا سودا  کوئی انسان نہیں کر سکتا۔  و انتم لا تشعرون ! لیکن تم تو  سمجھ ہی نہیں رکھتے! کسی سیکولر سے مگر اور توقع کیا کی جا سکتی ہے، اس کا ایمان دنیا میں ہے وہ اپنے ایمان  کے مطابق کام کر رہا ہے۔  مسئلہ تو ہمارا ہے، ان لوگوں کا جن کا دعوی ٰ تو یہ ہے کہ  ایمان ہمارا اللہ پر ہے، مگر عمل   اس دعوے کی نفی کرتا جا رہا ہے۔ عشق رسولؐ کے مدعی بھی ہیں ، نعت خواں، حافظ بھی ہیں مگر صبح اٹھتے ہی  سب سے پہلے اپنے چہرے سے سنت نبویؐ  کو کھرچ کر  کچھ تو کچرے میں ڈال دیتے ہیں اور کچھ سیدھا گٹر میں بہا دیتے ہیں۔  خواتین صحابیات  مبشرات   ؓ  کی مثالیں  دیتی ہیں مگر انہی کے اصرار پر مرد حرام کماتے ہیں۔  سود پر ہماری معیشت کی بنیاد ہی نہیں ہے، یہ اس  کی جان ہے، ہمارے  نئے نویلے   وزیر خزانہ صاحب نے  تو اس بجٹ میں  انٹرسٹ کا لفظ ہی استعمال نہیں کیا، سیدھا شرح سود کی بات کی۔  تو ہم تو خود اپنے عمل سے ثابت کر رہے ہیں  کہ اسلام فی زمانہ کوئی قابل عمل  چیز نہیں، نہ  انفرادی زندگی میں ، نہ اجتماعی زندگی میں۔ تو   اگر ڈیوڈ بروکس یہ کہہ دیتا ہے کہ  ‘نا اہلی  دراصل بنیاد پرست اسلام  کے   دانشورانہ  DNA  میں  رچی بسی ہوئی ہے’ تو  اس نے  کیا غلط کہہ  دیا ؟

مصر کے حالیہ  واقعات نے  اگر کم از کم بھی یہ کر دیا کہ ہمارے  لوگوں کی  آنکھوں سے   غفلت  کی پٹی کھول دی تو یہ بہت بڑی بات ہو گی۔یہ بات کہ شدت پسندی دراصل اسلام پسند نہیں بلکہ سیکولر اور لبرل طبقہ کرتا ہے، اگر سمجھ آ گئی تو یہ ایک نہایت بڑی بات ہوگی۔ہمارا اشارہ ان لوگوں کی طرف نہیں ہے جو  صرف دینی مزاج کے لوگ نہیں یا جو نماز نہیں پڑھتے یا روزہ نہیں رکھتے۔ ہمارا اشارہ ان لوگوں کی طرف ہے جن کو ان سب کے ساتھ ساتھ   یہ  بھی برا لگتا ہے کہ  ہمارے کھلاڑی ‘ان شاء اللہ ‘ کیوں کہتے ہیں۔  ہمارے لوگ اب اللہ حافظ کیوں کہتے ہیں۔  رمضان کو Ramadan کیوں بولا جا رہا ہے۔   ان میں سے اکثر وہ لوگ ہیں جو اپنے ‘حق’ کو پانے کے لیے جھوٹ کا سہارا لینے میں ذرا عار محسوس نہیں کرتے۔  یہی تو ڈیوڈ بروکس نے کہا ہے، ‘چاہے کسی طریقہ سے بھی بس  سیاسی اسلام کو  ہرا دو’۔ چاہیں تو ایک  جھوٹی ویڈیو چلا کر سوات کے امن  معاہدے کو پارہ پارہ کر دیں۔ چاہیں تو لال مسجد کے خلاف واویلا مچا کر وہاں آپریشن کرا دیں اور پھر ٹسوے بہائیں کہ یہ کیا کر دیا؟  چاہیں تو  صوفی محمد کے خلاف اسمبلی کے فرش پر چلا چلا کر ہاتھ ہلا ہلا کر   تقریریں کریں ۔  چاہیں تو فحاشی کے  بے محابا پھیلاؤ سے صاف مکر جائیں اور اسلام پسندوں پر ثقافتی دیوالیہ پن کی تہمت چسپاں کر دیں۔ یا  جیسے مصر میں ہوا کہ ایک  منتخب  جمہوری حکومت کو  اٹھا کر باہر پھینک دیں اور  اپنے  پیارے البرادعی کو   انتہائی  ‘جمہوری’ طریقے سے نگران حکومت کا حصہ بنوا دیں۔  یقین کریں ، ایسا لگتا ہے کہ یہ دن کو دن  اور رات کو رات بولتے ہیں تو  اس کے پیچھے ان کا مفاد ہوتا ہے۔

اس  سارے  منظر نامہ سے اگر ہم نے اتنا ہی سمجھ لیا تو یہ بھی کوئی معمولی فائدہ نہ ہو گا کہ  ان کی آزادی ہماری آزادی نہیں۔  ان کی شام  ہماری  شام نہیں ، اور ان کی سحر ،ہماری سحر نہیں ۔

 فاعتبرو۱ یا اولی الابصار۔

Advertisements

ہوئے تم دوست جس کے

Posted in Islam, Rants by baigsaab on August 29, 2012

بل  اورائلی کا طریقہ بہت سیدھا ہے۔ جو بھی بات وہ منوانا چاہتا ہے وہ  ڈنکے کی چوٹ پر کہتا ہے اور اس کے لیے صحیح یا غلط کوئی بھی دلائل دیتا ہے۔ اس کے ان دلائل کو جو رد کرتا ہے اس کو موصوف سخت سست سناتے ہیں۔ اورائلی اپنے مخالفین کو جاہل اور بےوقوف ثابت کرنے کی پوری کوشش کرتا  نظر آتا ہے   اور مد مقابل کو دلائل کی بجائے آواز سے زیر کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اگر کہیں اس کو ہزیمت کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو  فوراً پینترا بدل کر مخالف کے کسی نازک پہلو کو نشانہ بناتا ہے اوراس کو زیر کر لیتا ہے۔ ‘احمق اور محب وطن’ نامی کتاب کے مصنف کا فاکس نیوز پر چلنے والا  پروگرام  ‘او رائلی فیکٹر’  ایک اندازہ کے مطابق اس وقت امریکہ کا سب سے زیادہ دیکھا جانے والا پروگرام ہے۔  ایک سروے کے مطابق موصوف امریکہ کے  گیارہویں اور ایک اور سروے کے مطابق دوسرے سب سے با اثر ریڈیو ٹاک شو  میزبان ہیں۔  تو آخر او رائلی کا فیکٹر ہے کیا؟  اس کے سننے اور  دیکھنے والوں پر اس کا کیا  اثر ہوتا ہے؟  ۲۰۰۹ میں ایک اسقاط حمل کے ماہر ڈاکٹر کا قتل ہوگیا جس کو خبروں کے مطابق  ایک ‘اینٹی ابارشن’ جنونی  نے قتل کیا تھا۔  او رائلی نے اس سے پہلے اس ڈاکٹر کے خلاف وقتا   ً فوقتا     ً  کچھ پروگرام کیے تھے اور اس نے اس کا نام ‘ٹلر دی بے بی کلر ‘ رکھا تھا۔ یہ کہنا کہ ڈاکٹر کے قتل میں بل او رائلی  کی باتوں کا اثر تھا ایک  ناقابل تصدیق بات ہے لیکن اس کی باتوں کا اثر بہرحال اس کے سننے والوں پر ہوتا ہے۔ ایسے ہی ایک پروگرام میں  بحیثیت مہمان وہ نیویارک میں مسجد کے قیام کی شدید مخالفت کرتا نظر آتا ہے اور وجہ یہ بیان کرتا ہے کہ ‘مسلمانوں نے ہمیں ۹/۱۱ کو نشانہ بنایا تھا’۔     اس پر  شو کی مشترک میزبان ‘ووپی گولڈبرگ ‘ اور ایک اور خاتون شو سے اٹھ کر چلی گئیں۔ لیکن موصوف اپنی بات پر اڑے رہے۔

 او رائلی جیسے لوگ پوری دنیا کے میڈیا میں ملیں گے۔  ایسے لوگ اپنی بات میں زور پیدا کرنے کے لیے گالیوں اور طنزیہ جملوں کا سہارا لیتے ہیں۔  اپنی بات کو صحیح ثابت کرنے کے لیے جھوٹے  ‘حقائق’  بنا لیتے ہیں ۔ مخالفین کا مذاق اڑاتے ہیں اور گالیاں تک دینے سے دریغ نہیں کرتے۔   ان کا مقصد خود کو صحیح ثابت کرنے سے زیادہ دوسرے کو غلط ثابت کرنا ہوتا ہے۔ ایسے لوگوں کے پروگرام کی ویورشپ ہمیشہ زیادہ ہوتی ہے کیونکہ وہ سنسنی  آمیز اور اسفل  باتیں کرتے ہیں  اور  عوام کی اکثریت  ٹی وی دیکھتی ہی  ان چیزوں کی وجہ سے ہے۔

ہمارے ملک میں ٹاک شوز میں ایسے لوگوں کو ریٹنگز بڑھانے  کے لیے بلایا جاتا ہے۔  لوگ نہ صرف ان کو دیکھتے ہیں بلکہ ان کی باتوں سے لطف اندوز بھی ہوتے ہیں۔ ان  سب میں جن صاحب کے کلام کے حسن پر نثار بہت لوگ ہیں وہ وہ ہیں جن کی پردہ اور عریانیت کے بارے میں کہی گئی آراء آج کل آپ سن ہی رہے ہونگے ۔  یہ اس لیے باقیوں سے ممتاز ہیں کیونکہ  نوجوانوں کا ایک پڑھا لکھا طبقہ ان کی باتوں کو سنتا ہے۔  اسی لیے ان کی کہی ہوئی بات چاہے غلط ہی کیوں نہ ہو اس کا اثر بہت ہوتا ہے۔   چنانچہ  کلیہ عامہ کے برعکس، کہ فرد  معین پر بات کرنے سے کسی کا فائدہ نہیں ہوتا، ہمیں قلم اٹھانا پڑ رہا ہے۔

 حریفوں کو لتاڑنا اور ذلیل کرنا چاہے وہ کوئی بھی ہو یہ ان کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے۔  کسی بھی عزت دار  شخص کو للو پنجو کہہ دینا ان کے لیے مسئلہ ہی نہیں۔ لوگ کہتے ہیں یہ ‘پی’ کر آتے ہیں لیکن میرے خیال سے یہ ایک نا مناسب بات ہے اور کسی پر بے جا تہمت(ویسے بھی ایک نعت گو شاعر  ،جو مدینے میں ننگے پیر پھرتا ہو،سے حرام شے کی   نسبت کرنا  شاید بہتان کے زمرے میں آتا ہو)لیکن گفتگو ان کی کبھی کبھار، بلکہ اکثر،ہذیانی ہی ہوتی ہے۔  موصوف کی یو ٹیوب پر موجود ایک کلپ  میں وہ مسلمانوں کی چودہ سو سالہ تاریخ میں سے چن چن کر آپس کی لڑائیاں نکالتے دکھائے گئے ہیں کہ کس طرح عباسیوں نے امویوں کو رگڑا اور کیسے تیمور نے یلدرم کو رگیدا اور کیسے  لودھی اور تغلق اور مغل اور نہ جانے کون کون مسلمان  تاریخ کے صفحات میں لڑتا ہوا پایا گیا۔  موصوف نے لیکن کہیں  بتانا مناسب نہیں سمجھا کہ  یہ لڑائیاں مذہب کے نام پر نہیں تھیں۔  اگر  ایک مذہب کے ماننے والوں کا آپس میں لڑنا غلط بات ہے تو یورپ کی تو پوری تاریخ ہی کیتھولک اور پروٹسٹنٹ کی  لڑائیوں میں گذری ہے۔     اسی طرح موصوف اکثر اپنے اخباری کالم میں   مغرب کی ترقی کو سراہتے ہوئے پائے گئے ہیں بھلے وہ ترقی ان کی  سماجی بدحالی  پر منتج ہو۔ امریکہ کی در اندازیوں کو  “بڑی طاقتیں ایسے ہی بی ہیو  کرتی ہیں” کہہ کر سند عطا کردیتے  ہیں۔   ایک پروگرام میں انہوں نے بڑی نخوت سے کہا کہ  ‘میں کوئی ایم اے اردو نہیں ہوں ، میں نے اکنامکس میں ماسٹرز کیا ہے’، تو کوئی  ان سے پوچھے بھائی  جب یہ کام کرنا نہیں تھا تو کسی  حقدار  کی سیٹ ضائع کرانا کیا ضرور تھا؟ پڑھے لکھے لوگ ان کی باتیں کیوں سنتے ہیں؟ پتہ نہیں! شاید وہ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ منافقت اور جہالت اور  بے غیرتی جیسے الفاظ ان کے لیے استعما ل نہیں ہو رہے۔  یا  شاید ہماری اکثریت  خود رحمی کی بیماری کا شکار ہے۔  ایک اور وجہ  شاید یہ ہے کہ وہ اپنی باتوں میں مولویوں اور سیاست دانوں دونوں کو رگیدتے ہیں  اور  ہمارا پڑھا لکھا طبقہ   اکثر و بیشتر دونوں سے  بیزار  ہے۔

موصوف کا حا لیہ بیان یہ ہے کہ پردہ عرب کی رسم تھی جس کو اسلام نے باقی رکھا۔  اسی  طرح داڑھی  کا تعلق عرب کی آب و ہوا سے تھا۔  خیر یہ تو کوئی ایسی بات نہیں ۔ صرف پردہ اور داڑھی ہی نہیں۔ اسلام میں اور چیزیں بھی عرب کلچر  سے آئی ہیں۔ مثلا ً  حج۔ مثلاً جہاد۔   مثلا ً نکاح اور دیگر رسومات۔ ہمارا یہ ماننا ہے کہ نبی آخر الزمانﷺ عرب تھے اس لیے عربوں کی  اس زمانے کی ہر چیز سے  جسے ہمارے نبی ؐ نے جاری رکھا ،چاہے وہ آج کے زمانے میں کتنی ہی عجیب کیوں نہ لگے ، محبت ہمارے دین کا حصہ ہے۔ جسے یہ بات سمجھ نہ آئے وہ خود اللہ کے سامنے اپنا جواب تیار کر لے۔  ہم نے تو وہ حدیث سن رکھی  ہے کہ جس کا مفہوم ہے کہ اسلام کا آغاز ایک اجنبی چیز کے طور پر ہوا تھا  اور عنقریب وہ  دوبارہ ایک اجنبی چیز بن جائے گا تو ان کے لیے خوشخبری ہے جو اس کے ساتھ ساتھ خود بھی اجنبی ہو گئے۔

مغرب کی تعریف میں حضرت اس حد تک غلو سے کام لے گئے  کہ فرما گئے کہ وہاں عریانی ستر بن گئی ہے۔  وجہ اس کی بیان کرتے ہیں کہ  نیم برہنہ عورتیں وہاں کھلے عام پھر رہی ہوتی ہیں اور کوئی دیکھتا تک نہیں۔  اب اس کو کوئی ان کی سادہ لوحی ہی کہہ سکتا ہے  ورنہ یہ چیز فطرت کے مطابق نہیں  ہے  کہ مرد کو  عورت میں کشش محسوس  نہ ہو۔  اور حقائق ان کی اس دلیل کے بالکل برعکس چیخ چیخ کر کہہ رہے ہیں کہ دنیا میں ابھی بھی ریپ کے زیادہ واقعات  ان کے اس مغرب میں ہی ہوتے ہیں جہاں ان کے مطابق عریانی ستر ہے۔  ایک اطلاع کے مطابق  ایک ترقی یافتہ مغربی ملک  میں ایک بے روزگار  سافٹ وئیر پروفیشنل خاتون کو بے روزگاری کے زمانے میں ایک نوکری کی پیشکش ہوئی۔ کام ایک جدید قسم کے صاف ستھرے کوٹھے پر تھا۔ انکار کی صورت میں بے روزگاری الاؤنس سے ہاتھ دھونے کی  پریشانی۔ یہ آپ کے پسندیدہ مغرب میں ہو رہا ہے۔    اسی پروگرام میں ایک بڑے غزل گائک کے ہم نام صاحب یہ کہتے ہوئے پائے گئے کہ قرآن میں حکم ہے زینت کو چھپانے کا۔ پھر زینت کا مطلب خود ہی بتاتے ہوئے کہا کہ اس کے مطلب ہیں خوبصورتی۔   اب چہرے سے زیادہ خوبصورتی کہاں ہوتی ہے یہ وہ  حضرت بتا نہیں  رہے۔  خیر یہ تو ایک جملہ معترضہ تھا۔

مسئلہ ان کا اور ان جیسے دوسرے لوگوں کا  شاید یہ ہے کہ  یہ مغرب کے  اس مکمل اور  ہمہ گیر تسلط سے بری طرح مرعوب ہیں۔ ان کے نزدیک  مغرب  کی ترقی   ہم بچشم سر دیکھ رہے ہیں اور  اس   کی تقلید کرنا اس دور میں اسلا م کی سب سے بڑی خدمت ہے۔    اس تقلید کی طرف پیشقدمی میں جو بھی چیز انہیں پا ؤں میں زنجیر  ڈالتی  نظر آتی ہے اس کو یکسر مسترد کردینا  ان کی مجبوری ہے۔

ہم  ان کے لیے اور ان جیسے دوسرے لوگوں کے لیے صرف یہی کہنا چاہتے ہیں کہ  یہ دنیا دارالامتحان ہے۔ یہاں مشکل بھی ایک امتحان ہے اور آسانی بھی۔ غربت بھی ایک امتحان ہے اور امیری بھی۔  اسی طرح  پسماندگی بھی ایک امتحان ہے اور ترقی بھی۔ بلکہ کئی معنی میں عشرت عسرت سے بڑی آزمائش ہے کہ امام احمد ابن حنبل کا واقعہ ہمیں یہی بتاتا ہے کہ شدید مار کو برداشت کر گئے لیکن  جب نئے خلیفہ نے کچھ رقم بھیجی تو رو پڑے  کہ یہ امتحان پہلے سے زیادہ مشکل تھا۔  مغرب کی حالیہ آسائشیں ایک طرف ان کے لیے امتحان ہے کہ وہ اپنے رب کو پہچانتے ہیں کہ نہیں تو دوسری طرف  ہم مسلمانوں کے لیے کہ ہم دنیا کی ترقی کو اہمیت دیتے ہوئے قدم بہ قدم ان کی تقلید کرتے ہیں  اور دیوانہ وار ان کے پیچھے  دوڑتے ہیں یا صرف اس چیز کو لیتے ہیں جو ہماری شریعت سے متصادم نہ ہو۔  پھر دنیاوی کامیابی کسی بھی لحاظ سے اس بات کی ضمانت نہیں ہے کہ  کوئی  اللہ کے پسندیدہ بندوں میں شامل ہو گیا۔  دنیا میں  لگ بھگ ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر آئے ان میں سے   کچھ کے ساتھ شاید ایک بھی امتی نہ ہو۔ کتنے ہی  صحابی تھے جو اسلام کے غلبے سے پہلے اپنے رب سے جا ملے تو کیا وہ ناکام ہو گئے؟    معاذاللہ ہرگز نہیں۔   سلف صالحین کا طریقہ یہ تھا کہ سنت کو دانتوں سے پکڑ لو چاہے کتنے ہی دقیانوسیت کے طعنے کیوں نہ پڑیں اور  اس میں کتنی ہی تکلیف کیوں نہ اٹھانی پڑے۔  کیونکہ  بہرحال دنیا مومن کے لیے قید خانہ ہے اور کافر کے لیے جنت۔

یہ بات اپنی جگہ بجا ہے کہ ہم مسلمان اس خزانے پر جس کا نام قرآن ہے ایک سانپ بن کر بیٹھے ہیں کہ نہ خود عمل کرتے ہیں اور نہ کسی اور تک اس پیغا م کو پہنچانے دیتے ہیں۔ لیکن اس کا یہ مطلب قطعی نہیں ہے کہ  کسی کو  علماء پر لعن طعن کرنے کا لائسنس مل گیا۔ وہ بھی صرف اس لیے کہ انہوں نے ان کے حساب سے دنیاوی تعلیم کی ترویج نہیں کی۔  جو کام علماء اس  پر فتن دور میں کر رہے ہیں وہ ناکافی ہوسکتا ہے لیکن وہ پھر بھی اس طوفان کے آگے بند باندھے ہوئے ہیں کہ جو  اب تک ہماری نظروں کے سامنے روسی، بھارتی اور چینی تہذیبوں کو نگل چکاہے اور اب ہماری پوری اقدار کو گھاس کے تنکوں کی طرح بہا لے جانا چاہتا ہے۔  اگر ہم اپنے مردوں کو سنت کے مطابق دفنا سکتے ہیں تو اس وجہ سے کہ ہم تک دین کی تعلیم پہنچی ہے، اگر بیٹی کی شادی کرنی ہے تو مسنون نکاح مولوی ہی بتاتا ہے۔ہمیں تو لگتا ہے کہ یہ دقیانوسیت کے الزام لگانے والے جو ڈاکٹر عبدالسلام اور  سید احمد خاں کو اپنا محسن کہتے ہیں، کبھی اپنے ڈرائنگ روموں سے نکلے ہی نہیں۔ اگر کسی کے پاس علم کی کمی ہے تو وہ شاید ان کے پاس ہی ہوگی کیونکہ یہ بات ہر شخص جو دین کے علم کے لیے تھوڑی سی محنت کر سکتا ہے وہ جانتا ہے کہ صرف کراچی ہی میں دو ایسی عظیم الشان درسگاہیں ہیں جہاں دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ  جدید سائنسی تعلیم بھی دی جاتی ہے۔  جامعۃ الرشید کا فلکیاتی تحقیق کا ادارہ تو اپنی مثال آپ ہے۔ باقی ملک میں آپ خود دیکھیں۔

لیکن جو اصل مغالطہ ان کو ہے وہ یہ ہے کہ اسلام کی نشاۃ اولیٰ مسلمان سائنسدانوں کی وجہ سے  ہوئی تھی۔ یہ ایک شدید فکری مغالطہ بلکہ حماقت ہے جس کا شکار ہمارے اکثر و بیشتر پڑھے لکھے حضرات ہیں۔  خاص طور سے ہمارے کالم نگاروں اور نامور دانشوروں کی اکثریت یہی بات کرتی نظر آتی ہے۔ اپنے چوہدری صاحب اس دن بڑے تاسف سے  عباسی صاحب سے کہہ رہے تھے کہ آپ نے اسلام کی کیا خدمت کی کیا آپ نے لوٹا بھی ایجاد کیا؟  ان لوگوں کے خیال سے یورپ کو جو تسلط حاصل ہے وہ اس کی سائنسی ایجادات کی وجہ سے ہے۔ یہ مذاق اڑاتے ہیں کہ دنیا   کائنات کی تخلیق کا راز جاننے نکلی ہے، ناسا  کا  ‘کیوریوسٹی’ مریخ پر کامیابی سے قدم رکھ چکا ہے اور ہمیں وہاں سے تصاویر بھیج رہا ہے اور ہمارے ملا کو اس بات  کے جواب دینے سے  ہی فرصت نہیں کہ استنجاء ہو گیا کہ نہیں۔ یا  غسل واجب ہو ایا نہیں؟ یا یہ کہ چاند کے لیے دیکھنا بھی ضروری ہے یا قمری کیلنڈر پر یقین کر لیں؟  پہلا سوال یہ ہے کہ کیا یہ سب سوال غیر اہم ہیں؟ اگر احادیث کے ذخیرے کو دیکھ کر بات کریں تو قطعاً نہیں۔ اور دوسرا سوال جو ہمیں واپس اس فکری حماقت کی طرف لے آتا ہے وہ یہ ہے کہ کیا دنیا میں ترقی کے لیے سائنس لا بد منہ ہے؟

اسلامی حکومت کی حدود  وفات نبوی ﷺ کے محض ۷۵ سال کے  عرصے میں شمالی افریقہ، سندھ اور جزیرہ نما آئیبیریا تک پھیل چکی تھیں۔ دور خلافت راشدہ میں ہی مملکت خداداد کی سرحدیں پورے جزیرہ نمائے عرب کا احاطہ کر چکی تھیں۔ اس پورے عرصے میں نہ کوئی مشہور سائنسدان سامنے آیا نہ کوئی  قابل ذکر غیر جنگی ایجاد۔آ بھی نہیں سکتا تھا کیونکہ عربوں کے پاس سائنس کا علم تھا ہی نہیں۔ وہ تو جب یونانی علوم کو عربی میں ترجمہ کرنا شروع کیا گیا ہے تب کہیں مسلمانوں میں فلسفہ اور ریاضی اور طب کے ماہر پیدا ہونے شروع ہوئے۔ تو اس سے پہلے کے سو سوا سو سال تک ہم کیسے  اتنے بڑے  رقبے  پر اسلامی حکومت  قائم کر پائے؟  وہ کون سی چیز  تھی مسلمانوں کے پاس کہ آدھی دنیا ان کی مطیع بن گئی؟  وہ چیز تھی  جناب رب کا نظام۔ نظام خلافت۔ نظام عدل اجتماعی۔  وہ نظام  جس کا نقشہ  قرآن میں ملتا ہے۔ وہ نظام کہ جو ہمارے آقا ﷺ نے اپنے  خطبہ حجۃ الوداع کے موقع پر  بیان کیا کہ  کسی گورے کو کالے پر اور کالے کو گورے پر فضیلت نہیں۔ نہ عربی کو عجمی پر نہ عجمی کو عربی پر۔ اور جو خلیفہ اول حضرت ابوبکر ؓ نے اپنے پہلے خطبے میں کہا کہ تمہار ا کمزور میرے نزدیک طاقتور ہے اور طاقتور میرے نزدیک کمزور جب تک حقدار کو اس کا حق نہ دلا دوں۔  وہ نظام کہ جس کو  کسریٰ کے دربار میں ہمارے اسلاف نے  یوں بیان کیا تھا کہ ‘ ہم بھیجے گئے ہیں۔۔۔  تاکہ لوگوں کو ملوکیت کے اندھیروں سے نکال کر اسلام کے عدل میں لے آئیں’۔  یہ تھی مسلمانوں کی کامیابی کی کنجی۔ اللہ کی زمین پر اللہ کا نظام۔   اس کے برعکس آپ دیکھیں کہ یہاں بڑے بڑے سائنسدان آنا شروع ہوئے یہاں خلافت کمزور ہونا شروع ہوئی، وجہ یہ نہیں ہو گی لیکن یہ   امر واقعہ ضرور ہے۔ دوسری بنیادی چیز جو اتنی ہی ضروری تھی وہ تھی جہاد۔ وہ جہاد نہیں جو نفس کے خلاف ہوتا ہے بلکہ وہ جہاد جس میں تن من دھن لگایا جاتا ہے۔ جس میں مال کا خطرہ بھی ہوتا ہے اور جان کا بھی۔ جب وہ رخصت ہو گیا، جب موت کے شوق کی جگہ دنیا کی محبت نے لے لی تو ہماری حالت سیلاب کے پانی پر موجود جھاگ جیسی ہوگئی یا با الفاظ حدیث ‘دسترخوان پر چنے ہوئے  کھانے کی طرح’۔  اس کا جیتا جاگتا ثبوت آپ کو افغانستان میں مل رہا ہے جہاں بے سر و سامان مجاہدین کیل کانٹے سے لیس  ایساف کے فوجیوں کو ناکوں چنے چبوا رہے ہیں اور  ان کا بس نہیں چل رہا کہ کیا کریں۔ آپ کے مغرب میں ہی کسی نے کہا تھا۔۔۔

It’s not the gun that fires; it’s the shoulder behind it [that matters]..

ہمارے افغان بھائی آج بھی ثابت کررہے ہیں کہ فضائے بدر پیدا کرنے سے واقعی نصرت آتی ہے، ہم کرنے والے تو بنیں۔

خیر تو بات کہاں سے شروع ہوئی تھی کہاں پہنچ گئی۔ بات یہ تھی  کہ بات کو زور سے، گالی سے، جاہل، بےوقوف، گھامڑ، بدتمیز اور للو پنجو ایسے الفاظ کہہ کر وہ لوگ کرتے ہیں جن کی دلیل میں وزن نہ ہو۔ خالی برتن زیادہ بجتا ہے اسی لیے موصوف کی آواز دور تک جاتی ہے۔  دوسری بات یہ کہ جس کا کام اسی کو ساجھے۔ جس بات کا پتہ نہ ہو اس میں بولنا نہیں چاہیے۔ اب اگر کوئی آپ کے پاس مائک لے کے آ ہی گیا ہے تو بھائی اس کو سیدھے سبھاؤ بتا دو کہ میاں یہ میرا میدان نہیں۔  لیکن ہمارے وطن میں مذہب وہ مظلوم شے ہے کہ جو اس کے حقیقی امین ہیں وہ گوشہ نشین ہیں  اور گویا   ایک حدیث کے مصداق ایسا لگ رہا ہے کہ آخری زمانے کے “روبیضہ”  عام لوگوں کے معاملات میں گفتگو کر رہے ہیں۔ چنانچہ ابھی کچھ عرصے پہلے ایک جید عالم کے پوتے اور جغادری صحافی کے صاحبزادے  ایک موقر روزنامے میں  اپنے کالم میں بینکنگ انٹرسٹ کو جائز قرار دینے کا فتویٰ دے بیٹھے یہ دیکھے بغیر کہ ان کی معلومات اس معاملے میں ہیں بھی کہ نہیں۔  اور یہ تو ٹی وی نہ دیکھنے والوں نے بھی دیکھا کہ رمضان کے مہینے میں ہر چینل پر ایک سے  بڑھ کر ایک  نوٹنکی بیٹھا مذہب پر بول رہا ہے الا ماشاء اللہ۔ خیر تو ہمارے ‘سبجیکٹ’ صاحب سے بھی چپ نہ رہا گیا اور پتہ نہیں کس کیفیت میں وہ کچھ بول گئے کہ  غالباً بعد میں خود بھی بغلیں جھانک رہے ہوں  کہ یہ کیا کہہ  دیا۔ عریانی۔۔ستر؟ اگر کسی نے  مذاق میں بھی کہہ دیا کہ اس نیک کام کی ابتداء  اپنے گھر سے کرنے میں  کیا چیز مانع ہے تو پتہ نہیں موصوف اپنی کون سی والی گالیوں کا پٹارا کھولیں گے۔  حضرت اگر مغرب آپ کو اتنا محبوب ہے تو آپ دعا کیجیے، ہم بھی آمین کہیں گے کہ آپ کا حشر انہی اہل مغرب کے ساتھ ہو۔

  او  رائلی سے کسی نے عراق کی جنگ کے  بعد پوچھا کہ تم نے کہا تھا کہ تم اپنی بات غلط ثابت ہونے پر (کہ عراق میں تباہ کن ہتھیار ہیں) قوم سے معافی مانگو گے تو اس نے بالکل سیدھے سیدھے معافی مانگ لی۔ او رائلی جیسا اڑیل بڈھا یہ کر سکتا ہے تو آپ تو پھر عاشق رسول ؐ ہونے کا دعویٰ رکھتے ہیں۔ اپنے پیچھے چلنے والوں کو گمراہ کرنے پر ان سے معافی مانگ لیں تو یہ ان کے ساتھ بھی بھلائی ہو گی اور اپنے ساتھ تو خیر ہو گی ہی۔ کیونکہ ایک انسان اپنی گمراہی کا بوجھ ہی اٹھا لے تو بڑی بات ہے، ہزاروں لاکھوں کی گمراہی کا بوجھ کوئی کیسے اٹھا سکے گا؟

ڈبے کے قیدی

Posted in Social revolution by baigsaab on November 24, 2011

گستاخی کی معافی چاہتا ہوں لیکن فرض کریں آپ کو کسی جگہ قید کر دیا جاتا ہے. قید خانہ میں آپ کے علاوہ اور بھی بہت سے لوگ ہیں. لیکن اس قیدخانہ کے ضوابط عجیب ہیں. آپ واحد قیدی ہیں جس کو بولنے کی اجازت نہیں ہے، آپ کے علاوہ باقی سب کو بولنے کی اجازت ہے لیکن سننے کی نہیں. آپ دوسرے جس ساتھی کو بولنے کا کہیں گے وہ چپ نہیں رہ سکتا. یہ آپ کے اوپر ہے کہ سب کو ایک ساتھ بولنے دیں یا ایک ایک کر کے یا سب کو چپ کرا دیں.
خیر تو آپ نے ایک ساتھی کو بولنے کی اجازت دی. وہ شروع ہوا. ” یار آج کل ڈینگی بڑا پھیلا ہوا ہے بہت لوگ مر رہے ہیں ، اور تم نے وہ نیا موبائل دیکھا وہ جس میں چار سم ہوتی ہیں لیکن یار اس سے پہلے ایبٹ آباد میں جو ہوا وہ تو سن لو ملکی حدود کی دھجیاں بکھیر دی گئیں. اور وہ جو نئی انڈین فلم ہے نا اس میں ہیرو جو ہے وہ اڑتا ہے(فلم کا گانا گنگناتا ہے) اور لیکن یار کل ایک گھر کی چھت گرنے سے نا دو بچے مر گئے یار. ( یہاں وہ روتا ہے). اور آج فلاں جگہ پر ایک خودکش حملے میں ۳۵ لوگ مر گئے. ان میں سےیار ایک اپنے گھر کا واحد کفیل تھا (افسردہ گانا گانے لگتا ہے)”
اس کی اس بے سرو پا گفتگو سے گھبرا کے آپ نے اس کو چپ کرا دیا. دوسرے کو بولنے کا کہا. وہ شروع ہوا ” شاکر صاحب نے فہیم کو بولا، ‘تمہیں اگر پچیس کروڑ چاہیے تھے تو مجھ سے کہنا تھا اس کے لیے تمہیں تایا جی کے آگے ہاتھ پھیلانے کی کیا ضرورت تھی. یہ لو چیک اور تایا جی کے منہ پہ مار کے آؤ . ایک بریکنگ نیوز ہے کہ خوازہ خیلہ میں تیس دہشت گرد جو ایک شادی کی تقریب میں جا رہے تھے وہ ڈرون حملے میں مارے گئے ہیں، دہشت گردوں میں ۱۴ بچے اور ۶ عورتیں بھی تھیں۔ ( اب یہ دور سے جہاز کی طرح ہاتھ پھیلائے بھاگتا ہوا آتا ہے. اور ایک کونے میں ڈھیر ہو جاتا ہے۔ وہاں سے آواز لگاتاہے ) اب میں کرتا ہوں سستی ترین کال”۔
آپ روئے سخن اس کی طرف سے ایک اور کی طرف کر لیتے ہیں۔ وہ شروع ہوتا ہے۔ ” بھٹی صاحب آپ یہ بتائیں کہ یہ جو آپ پر الزام لگایا ہے ملک صاحب نے اس کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں؟ (آواز بدل کر زور زور سے) جی یہ کیا الزام لگا رہے ہیں میں ان کی بہت عزت کرتا ہوں لیکن میرا منہ نہ کھلوائیں ان کے تو دادا انگریزوں کے گھوڑے نہلاتے تھے۔ اور ان کے ایک چچا انگلستان میں چرس لے جاتے ہوئے پھنس گئے تھے۔ (تیزی سے لہجہ بدل کر) ابھی ابھی خبر آئی ہے کہ مشہور آمر کو مار دیا ہے۔ کسی کی موت پر خوشی منانا اچھی بات نہیں لیکن یہ تو الگ کیس تھا۔ اس کی تو زندگی میں یہ بڑا دلچسپ پہلو تھا۔ اوریہ تو آپ کو پتہ ہی ہو گا کہ افریقہ میں ہاتھی کی نسل میں ایک طرف تو کمی ہو رہی ہے لیکن آج عورتوں کے عالمی دن کے موقع پر عرق النساء بیوٹی پارلر نے تیس عورتوں کا فیشل ۱۵ منٹ میں کر کے عالمی ریکارڈقائم کیا اور پاکستان کا سر فخر سے بلند کر دیا ( گانا گاتا ہے ‘مہندی نی مہندی ای ای مہندی نی مہندی ای ای ای )”

ظاہر ہے ایسی بے سر و پا گفتگو کرنے والے کو آپ پاگل ہی کہیں گے(ہو سکتا ہے یہ سب لکھنے پر آپ کا راقم کے بارے میں بھی یہی گمان ہو) اور ایسی باتیں کرنے والے کے ساتھ ۵ منٹ بیٹھنا بھی آپ کو گوارا نہیں ہوگا کجا یہ کہ قید میں ان کے ساتھ ہوں اور وہ بھی اس طرح کے کئی عدد کے ساتھ۔ لیکن میرا گمان ہے کہ اب تک اکثر قارئین سمجھ گئے ہونگے کہ میں کہنا کیا چاہ رہا ہوں۔ میں صرف یہ عرض کرنا چاہ رہا ہوں کہ ہم میں سے چند خوش نصیبوں کے علاوہ باقی تمام کے تمام لوگ ایسی قید سے روزانہ گزرتے ہیں اور وہ بھی جبری نہیں بالکل بہ رضا و رغبت۔ یہ ٹی وی ہے جس کو ہم نے اتنی آزادی دی ہوئی ہے کہ وہ اتنی انٹ شنٹ بکواسیات کے باوجود ہماری زندگی میں اتنے مرکزی مقام کا مالک ہے کہ ہمیں معلومات چاہییں تو اس سے، تفریح چاہیے تو اس سے ، جب یہ ہنساتا ہے تو ہم ہنستے ہیں ، جب رلاتا ہے رو پڑتے ہیں، جب غصہ دلاتا ہے ہمارے پورے جسم کا خون آنکھوں میں آجاتا ہے، جب چاہتا ہے اسی بات پر آپ کو سکون سے بٹھا دیتا ہے۔ اور تو اور، اچھے برے کی تمیز سکھاتا ہے ۔ غرض اس ۲ بائی ۲ کی مخلوق کو ہم نے بات کرنے کی اتنی آزادی دی ہے کہ یہ ہمارے سامنے ہی سامنے کئی ایسی باتیں کر جاتا ہے کہ جو اگر ہمارے سامنے بڑے بھی کریں تو ان کو ٹوک دیا جائے۔

مسئلہ یہ نہیں ہے کہ میڈیا (اس غلط العوام لفظ کو ہم ٹی وی کے معنی میں ہی لکھ رہے ہیں) کوئی غلط شے ہے۔ کسی بھی آلہ کی طرح یہ بھی نا سمجھ کے ہاتھ میں خطرناک ہے اور کاریگر کے ہاتھ میں با کمال۔ مسئلہ یہ ہے کہ اس “شیطانی مشین” نے ہمیں عملیت پسندی سے دور کردیا ہے۔ دیکھیں ایک مشہور مصنف نے بڑی پیاری کہی کہ TV کہتا ہے کہ دنیا میں اخوت، رواداری اور امن بہت ضروری ہیں لیکن ایسا ٹوتھ پیسٹ زیادہ ضروری ہے جو آپ کو خوش گوار سانس دے۔ کسی بھی طرح کی تفریح کی اہمیت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا لیکن تفریح کے چکر میں زیادہ اہم چیزوں کو نظر انداز کر دینا کیا کوئی عقل مندی ہے؟ دوسری بات ، اور یہ زیادہ خطرناک ہے اور وہ یہ ، کہ جب آپ ٹی وی پر بالکل منحصر ہوجاتے ہیں ایسے کہ وہ آپ کے کان بن جائے اور آپ کی آنکھیں بن جائے تو پھر یہ بہت آسان ہے کہ کچھ ایسے لوگ جن کو آپ جانتے بھی نہیں وہ آپ کو سکھانا شروع کر دیں کہ اچھا کیا ہے اور برا کیا؟ کیا آپ کو پتہ ہے کہ پاکستان کے دیہات میں جو مشہور چوپالیں لگا کرتی تھیں وہ اب نہیں لگتیں؟ لوگ سیانے ہو گئے ہیں۔ پہلے جو مفت میں ایک دوسرے کے گھر کے کام کر دیا کرتے تھے اب نہیں کرتے۔ شام میں جو بیٹھک “ٹیو ول” پر لگا کرتی تھی اب وہ نہیں لگتی کیونکہ لوگ گھروں میں ٹی وی دیکھ رہے ہوتے ہیں۔ گاؤں کا وہ پانی جو اپنی تازگی کی وجہ سے بڑا مشہور ہوتا تھا اب آلودہ ہوتا جا رہا ہے کیونکہ لوگوں نے گھروں میں بیت الخلاء تو بنوا لیے ہیں لیکن نکاسی کا مناسب انتظام نہ ہونے کی وجہ سے پانی وہیں قریب کی زمین میں ہی جذب ہو جاتا ہے۔

زندگی کا ایک پہلو ہے یہ۔ ایسے بیسیوں معاملات ہیں جن میں ہم نے اپنی معصومیت کو محض ۲۰ سال کی مختصر مدت میں کھو دیا ہے ۔ جہاں لوگوں کی آنکھوں میں خلوص ہوتا تھا وہاں اب شک ہے۔ جہاں پیار ہوتا تھا وہاں نفرت ہے، جہاں بھولپن ہوتا تھا وہاں عیاری ہے، جہاں سادگی ہوتی تھی وہاں نمائش ہے، جہاں بے لوثی ہوتی تھی وہاں حرص اور طمع ہے، اور سب سے بڑھ کر، جہاں آخرت تھی وہاں دنیا ہے۔ کیوں؟ صرف اس لیے کہ لوگ اپنے” حقوق ” سے آشنا ہو گئے۔ لوگوں نے مصیبت میں کام آنے کو کار ثواب کی بجائے دھندا بنا لیا ہے کیونکہ ان کو لگتا ہے سامنے والا ان کو بے وقوف بنا رہا ہے۔ میڈیا خود اتنا متخبط ( وہ جسے شیطان نے چھو کر باولا کر دیا ہو) ہے کہ اس کو سمجھ نہیں آرہا کہ کرےکیا؟ اس کو لگتا ہے کہ برائی کو سامنے لے کر آنا نیکی کا کام ہے لیکن ہوتا یہ ہے کہ اس سے برائی برائی نہیں رہتی کیونکہ سب ہی وہ کرنے لگتے ہیں۔ چنانچہ معاشرے میں مزید برائی ہوتی ہے جس کو کوئی اور “نیک” شخص سامنے لاتا ہے۔ تو برائی اور “ختم” ہوتی ہے۔ جی ہاں ہم نے واقعی بڑی محنت سے اپنی روایات کو تباہ کیا ہے اور اس میں تقریباً سب شامل ہیں۔

دوسری طرف جو زیادہ خطرناک بات ہے وہ بھی سمجھ لیں۔ آپ نے کبھی غور کیا کہ کسی بھی خودکش حملے کے بعد نہ صرف یہ کہ ہر چینل کا ایک نمائندہ وہاں موقع پر موجود ہوتا ہے بلکہ ہسپتال میں بھی اور کوئی ایک آدھ وہ اسکوپ بھی لاتا ہے کہ مرنے والوں میں چھوٹی سی ۵ سالہ بچی بھی تھی جس کی ماں غم سے نڈھال ہے ۔ دوسری طرف ڈرون حملے ہیں جو اب تک کی اطلاعات کے مطابق ۲۰۰۴ سے لے کر آج تک ۴۰۰ سے زیادہ ہو چکے ہیں۔ ۴۰۰!!! کیا آج تک کبھی کسی ایک جگہ سے بھی آپ نے لائیو کوریج دیکھی؟ کیا کبھی زخمیوں کی کسی کہانی کے تعاقب میں کوئی مہم جو کسی بچی کی گڑیا کی ٹوٹی ہوئی ٹانگ بھی دکھا سکا؟ ایسا کیوں ہے؟ یہ بات سمجھنے کی ہے نہ کہ سمجھانے کی۔ ویسے تو ہر طرف سے مایوسی کی خبریں ہیں جن سے عوام میں غصہ کی آگ بھڑکائی جاتی ہے۔ پھر فوراً ہی اشتہا ر کا ٹھنڈا پانی ڈال کر سکون میں لے آیا جاتا ہے۔ لیکن جو ہمارے حکمرانوں کے مائی باپ ہیں ان کی کسی بھی کار روائی کی کوئی ایسی خبر کسی بھی ایسے زاویہ سے نہیں دکھائی جاتی کہ جس سے عوام میں کوئی منفی جذبہ بیدار ہو۔ اور آج بالآخر یہ باور کرا دیا گیا ہے کہ خودکش حملے مذہبی انتہا پسند دہشت گرد کرتے ہیں۔ ڈرون حملوں میں مرنے والے سب افراد دہشت گرد ہیں چاہے ان کی عمر تین مہینے ہی کیوں نہ ہو۔میڈیا کو آزادی ضرور ملی ہے لیکن اس آزادی میں بہت سی پراسرار زنجیریں بھی ہیں۔ یہ زنجیریں دیکھنا بہت ضروری ہے۔ سورۃ الحجرات میں اللہ تعالیٰ نے واضح اور غیر مبہم الفاظ میں حکم دے دیا ہے کہ”مومنو! اگر کوئی بدکردار تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے تو خوب تحقیق کرلیا کرو (مبادا) کہ کسی قوم کو نادانی سے نقصان پہنچا دو۔ پھر تم کو اپنے کئے پر نادم ہونا پڑے “

کیونکہ میڈیا اب اکثریت کی آنکھیں اور کان بن گیا ہے اس لیے اس طاقت کا مظاہرہ وقتاً فوقتاً سامنے آتا رہتا ہے۔ میں اپنے ملک کی بات کرنےسے پہلے چاہوں گا کہ آپ کی توجہ امریکی میڈیا کی طرف مبذول کراؤں ۔آپ جانتے ہی ہونگے کہ عراق اور افغانستان پر امریکی حملوں کے لیے ان کے میڈیا نے کتنی طویل مہمات چلائی تھیں۔خاص طور پر عراق پر حملہ کے لیے سازگار فضا بنانے میں دائیں بازو کے روایت پسند میڈیا نے جو کردار ادا کیا ہے وہ شاید بہت کم لوگوں کی نظروں سے اوجھل ہوگا۔ امریکی میڈیا کی یہ طاقت اس سے بہت پہلے پروان چڑھ چکی تھی۔ اگر آپ چاہیں تو “اسپن” نامی دستاویزی فلم آپ کو کافی معلومات دے سکتی ہے۔ لیکن فی الوقت زیر نظر دو موضوعات ہیں۔ ایک تو یہ کہ آپ جانتے ہیں کہ اس وقت امریکہ کے سو سے زیادہ شہروں میں انتہائی منظم احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔ ان کا کوئی لیڈر بھی نہیں لیکن ان کی پکار صرف ایک ہے، عادلانہ معاشی نظام۔ اس تحریک میں ان کے کہنے کے مطابق امریکہ کی ۹۹ فیصد عوام کا مقابلہ ایک فیصد مراعات یافتہ طبقے سے ہے۔ لیکن پھر بھی مین اسٹریم خاص طور پر دائیں بازو کے میڈیا کی طرف سے ان پر شدید تنقید کی جارہی ہے، مذاق اڑایا جا رہا ہے۔ بلکہ اس سے بھی زیادہ تکلیف دہ بات یہ ہے کہ ان کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ اگر ٹوئیٹر ایسے سوشل میڈیا کی سہولت ان کومیسر نہ ہوتی تو ان کو تو شاید ایک دوسرے کے بارے میں پتہ بھی نہ چلتا۔ دوسرا موضوع ہے ڈاکٹر ران پال کا۔ ڈاکٹر پال تیس سال سے امریکی رکن کانگریس ہیں اور امریکہ کی دوسرے ملکوں میں فوجی، مالی اور دیگرمداخلتوں کے خلاف ہیں۔ حکومت کے عام آدمی کی زندگی میں دخل اندازی کو کم کرنا چاہتے ہیں۔ اور تو اور، امریکہ کی اسرائیل کو امداد کے بھی خلاف ہیں۔ اس سب کے باوجود ران پال اس وقت ریپبلکن پارٹی کے ایک مضبوط امیدوار ہیں، نوجوانوں میں خاص طور سے بہت مقبول ہیں اور اس بات کا قوی امکان ہے کہ اگر پارٹی نے ان کو ٹکٹ نہ دیا تو وہ تن تنہا ہی اپنی مہم کا آغاز کر دیں گے۔ لیکن اس کے باوجود میڈیا ان کو نظر انداز کر رہا ہے۔ امریکی صدارتی امیدواروں کی مقبولیت کا ایک بہت اہم پیمانہ یہ بھی ہوتا ہے کہ وہ اپنی مہم کے لیے کتنے پیسے اکٹھے کرسکے ہیں۔ ران پال کے حامیوں نے محض ۳ دن میں ۲ ملین ڈالرز کی رقم جمع کرائی۔ لیکن میڈیا کی بے رخی کا یہ عالم ہے کہ پچھلی ریپبلکن بحث میں ہر امیدوار کو آخر میں اپنی اختتامی کلمات کہنے کا موقع دیا گیا لیکن پال کو نہیں۔ ۱۹۹۲ میں ایک ایسے ہی امیدوار کو اس میڈیا نے اتنا نظر انداز کیا کہ وہ احتجاج کے چکر میں حوالات میں پہنچ گیا۔ اتنی تفصیل بتانے کا مقصد یہ ہے کہ یہ ہے میڈیا ، امریکی میڈیا (جو اصلاً ہمارے میڈیا کا قبلہ ہے) کی طاقت ۔جس طرح امریکی میڈیا خصوصاً فاکس نیوز نیٹ ورک نے عراق میں ڈبلیو۔ایم۔ڈی کی موجودگی کا شور مچایا اور لاکھوں لوگوں کی ہلاکت اور بربادی کے بعد سامنے آیا کہ ایسی کوئی شے عراق کے طول و عرض میں کہیں  موجود نہیں۔ اسی طرح ہمارے میڈیا نے سوات میں کوڑوں کی ویڈیو کو بنیاد بنا کر وہاں آپریشن کی راہ ہموار کی اور ہزاروں لوگوں کی ہلاکت اور لاکھوں کے بے آسرا ہو جانے کے بعد یہ سامنے آیا کہ وہ ویڈیو جعلی تھی۔ ہمارا میڈیا اس وقت اسی نہج پر آگیا ہے کہ جس کو چاہے ہیرو بنا دے، جس کو چاہے زیرو۔ چاہے تو لال مسجد کے معاملے کی پھنسی کو پھوڑا بنا دے ، چاہے تو ڈرون حملوں کے ناسور کو خراش دکھا دے۔ چاہے تو جمہوریت کو ہمارے ہر دکھ کا مداوا بنا دے، چاہے تو خلافت کے نظام کو آج کے دور میں غیر عملی باور کرا دے۔

اگر آپ کو واقعی سمجھ آتا ہے کہ جو میں نے کہا ہے وہ صحیح ہے تو اصلاح احوال کی ابھی سے کوشش کر سکتے ہیں ۔ ٹی وی کو بند کرنا اس کو چلانے سے زیادہ آسان ہے اور ویسے بھی مسئلہ اگر صرف معلومات کا حصول ہے تو اکیسویں صدی میں یہ تو کوئی مسئلہ ہی نہیں۔  لیکن اگر آپ کو میری بات سمجھ نہیں آتی تو پھر بھی ایک چھوٹی سی مشق کرنے میں حرج نہیں۔ آپ ٹی وی دیکھتے ہی ہیں تو دن میں جب آپ مناسب سمجھیں، ۱۰ منٹ کے لیے کاغذ قلم لے کر بیٹھیں، اپنا پسندیدہ چینل لگائیں اور یہ نوٹ کریں کہ آپ کا یہ چینل ان دس منٹ میں کیا دکھاتا ہے۔ اگر میرا اندازہ صحیح ہے تو یہ کچھ ایسا ہی ہونا چاہیے جیسا ہمارے قید خانے کے ان ساتھیوں کی کہانیاں تھیں۔ اب یہ آپ پر ہے کہ آپ اپنے آپ کو اس قید سے چھڑانا چاہتے ہیں یا نہیں۔

Has the moment not yet come!

Posted in Social revolution by baigsaab on January 1, 2011

Has the Moment Not yet come

Blasphemy Law and The Dilemma of the Apologists!

Posted in Islam, protest by baigsaab on December 8, 2010

A few years back there was a huge uproar in the Muslim communities around the world over the Danish cartoon controversy. Protests in some parts such as Pakistan turned violent and angry mobs damaged private property apart from burning effigies of the culprits. This scribe had written a piece- in fact a series of articles– back then urging people to just ignore these insults as, in my opinion back then, that’s the only suitable reply. Apart from that, the series also tried to prove from the Seerah of RasooluLLAH (s.a.w.) and Sahaba (r.a.) that they always dealt with blasphemous behavior in the same way.

Well, I have to confess, I was ignorant of our history and I was foolishly wrong!

I guess now that I’ve read and heard a bit of our history (still not all of it obviously), I can tell you that there’s overwhelming evidence that the only suitable punishment against blasphemy to RasooluLLAH (s.a.w.) and all the prophets of ALLAH (s.w.t.) is death, and a swift one at that! Not only there’re instances that Sahaba (r.a.) killed blasphemers but they did so with the approval, and in some cases orders, of RasooluLLAH (s.a.w.).

Ka’b ibn Ashraf, Abu Rafay, Ibn Khatal and his two slavegirls, a jewish woman in Medina and lots of others are such criminals that were slain by Sahaba (r.a.) and, as is reported in numerous Hadith, with orders or approvals of RasooluLLAH (s.a.w.). Some were set up, some ambushed, some immediately killed, some properly executed.

The fact that such an important part of Seerat un Nabi (s.a.w.) is one of the most obscure ones is a mind-boggling phenomenon. We’ve been taught in our schools and colleges and higher levels that Islam is a religion of tolerance, that RasooluLLAH (s.a.w.) always fought when war was thrust upon Muslims and that RasooluLLAH (s.a.w.) pardoned each and every one of his enemies – even the killers of Hadhrat Hamza (r.a.)- on the day of Fath Makka,.

It turns out that we’ve been told only partial truths!

The history that we have been studying in our course book has been contorted; the Truth has been misconstrued. The roots of the current science-centric education system that we are following in Pakistan, can be traced back to two major movements historically: a) Malthusianism[1] and b) the Ali Garh movement[2]. It was with the efforts of Sir Syed Ahmed Khan that Muslims started studying the sciences and English language and his services can’t be denied. Yet, it was also largely due to his influence that Muslims, early after, adopted the already corrupt and infected education system set by British East India Company.

The advent of this modern education in Muslims became the main cause of promotion of a more docile version of Islam. A docile, rather toothless, version of Islam that practices non-violence to the core and goes to war only when war is thrust upon it. While that’s not entirely untrue, it’s not the whole truth either. There are countless examples when the offensive was taken by Muslims and took the Kuffar by surprise. Ghazwa Badr was well and truly the first proper battle between Muslims and Kuffar but what’s not told to us is that there were as many as eight military expeditions sent or led by RasooluLLAH (s.a.w.) before the battle of Badr. Each of those expeditions paid dividends and a large area in Hijaz which was earlier under allegiance with Quraish either became a Muslim ally or became neutral. Also, there’re a lot of examples of preemptive strikes out of which the famous battle of Khyber and the battle of Bani Al-Mustaliq are famous. Reading our history in this way casts a totally different light altogether to how we should go about our religious duties. But by and large, these incidents have been obscured by our education system and either inadvertently or intentionally created breeds after breeds of apologists whose life’s work is to deny such important elements of our history.

Some glaring examples can be found in response to the recent case of Aasia Maseeh, the woman convicted of blasphemy against RasooluLLAH (s.a.w.). While there are liberal fascist making raucous noises to repeal the blasphemy law altogether, there are also some apologists, senior opinion-makers in the print and electronic media, who are trying to remind us of the tolerance in our religion, that a mother of 5 children – one of which is disabled- should be pardoned, especially after she says she’s sorry. There are also such daft columnists who see Salman Taseer’s hasty visit with his family to the convicted woman in prison and conducting a press conference there as an act out of empathy. It’s beyond words how disgusted the people of Pakistan are with the efforts of the ruling class to have a convict of blasphemy pardoned, that too on the orders of Pope Benedict, while the same ruling elite is tightlipped over the abduction and illegitimate trial of Dr Aafia Siddiqui.

But even if we assume that the government will go the whole nine yards to get Aasia removed to some western country, it seems appropriate at this point to see if pardoning Aasia Maseeh is within the power of the government or not.

Apologists claim that RasooluLLAH (s.a.w.) pardoned everyone who ever said anything foul to him. They give the examples of the women who threw garbage on RasooluLLAH (s.a.w.) daily, whom he (s.a.w.) had visited when she’d fallen ill. They also give the examples of conquest of Makka (Fath Makka) when he (s.a.w.) pardoned everyone in Makka. They also claim Aasia Maseeh said she’s sorry and has hence repented. They also say that Aasia is a non Muslim and Muslim capital punishment is not applicable to her. They say she’s a women and she’s poor so she should be pardoned. That we should pardon her to show goodwill towards west and thus pave the way to Islam’s preaching.

First of all, the amnesty on the day of the Fath Makka was for everyone, except there was a black list. A list of those who were to be slain even if they were found hanging with the curtains of Kabba, the most sacred of sacred places on earth. Ibn Khatal, as it goes, was found exactly in this situation and still was executed. There were two slavegirls of Ibn Khatal who used to sing absurdities against RasooluLLAH (s.a.w.) and they were also in that list. It’s important to note that they were also women like Aasia, they were also non-muslims like her, they probably were also poor, in fact they were slaves and hence had no free will, still they were executed. Ibn Taimiyah says that it shows that blasphemy against RasooluLLAH (s.a.w.) is an even greater crime than murder.

Secondly, even if we agree that RasooluLLAH (s.a.w.) pardoned some when he found it appropriate, it should stand as his prerogative and that’s it. Now we can’t pardon anyone on his behalf. Neither the government, nor the complainant.

Thirdly, even if she’s sorry for what she did doesn’t make her crime any milder. It’s similar if a murderer on the death row says he’s sorry, doesn’t absolve him of his crime. After all we’ve just seen that the crime that was perpetrated here was bigger than murder. It’s the verdict of scholars new and old, that the perpetrator of blasphemy should be killed immediately and not to be given a chance.

Lastly, we shouldn’t pardon her to just show our goodwill towards the west. Just to show how tolerant we are. That’s the most absurd excuse to do something equally absurd. If we had dealt with blasphemers in the way of Sahaba (r.a.) lately, our outlook would be a lot more different from it is today. It’s because of this tolerant behavior that any tom, harry or dick could say or write what he likes about our sacred personalities. If Salman Rushdi had been slain back then in the eighties, or Tasleema Nasreen back in the nineties, or the perpetrators of the European newspapers controversy had been killed back then, we would be a lot better off than we are today. Every time something like this happens, our response has grown weaker. And now it has come down to the point where our government is trying to dodge its public to provide safe passage to a convict of blasphemy. I seek refuge with ALLAH (s.w.t.) from the day when our public would be trying to save such a criminal from punishment.

As an afterthought, we probably should agree with the liberal fascists on one thing. That the blasphemy law should be repealed altogether. As it happens, having a law for a crime makes the punishment predictable. And when something is predictable it’s all the more defendable. If there’s no blasphemy law, then public would do justice on its own. The anticipation of punishment would be all the more painful for the perpetrators as the punishment itself.

There would be a Ghazi Ilm Deen Shaheed on every street, every city! 


[1] Malthusianism refers to the political/economic thought of Reverend and indirect employee of British East India Company Thomas Robert Malthus, whose ideas were first developed during the industrial revolution. It follows his 1798 writings, An Essay on the Principle of Population, which had a great impact on the way British East India Company managed India; it had a great impact on economic\political\education policies of Great Britain.
[2] Aligarh Movement was the movement led by Sir Syed Ahmed Khan, to educate the Muslims of the Indian subcontinent after the defeat of the rebels in the Indian rebellion of 1857.