Baigsaab's Blog

ان سارے جزیروں کو کوئی کاش ملا دے

Posted in Islam, protest, Social revolution by baigsaab on July 15, 2013

کیا وقت ہے یہ بھی! ایسا لگتا ہے پوری دنیا میں اگر کہیں خون بہہ رہا ہے تو وہ مسلمان کا ہے۔ لگتا ہے زمین نے مسلمان خون کے علاوہ کچھ قبول کرنے سے انکار کر دیا ہو۔ وہ برما ہو یا فلسطین۔ شام ہو یا سوڈان۔ افغانستان، پاکستان، بنگلہ دیش ، بھارت، کاشغر، ہر جگہ مرنے والا کلمہ توحید کا ماننے والا۔ کہیں ریاستی جبر ہے تو کہیں بیرونی۔ پھر بھی تمام مسلمان حکومتیں ایک دوسرے کے حالات سے یا تو لا تعلق نظر آتی ہیں جیسے بنگلہ دیش افغانستان کے بارے میں یا پاکستان برما کے بارے میں ۔ یا وہ براہ راست اس ظلم کی مدد کر رہی ہیں، جیسے شام میں ایران اور حزب اللہ ۔ مصر کے حالات پر سعودی اور پاکستانی ہر دو قیادتیں خاموش۔

اس تقسیم کو اور علاقائی پیمانے پر لے آئیں اور محض پاکستان کا ذکر کریں تو یہاں بھی حالات دگرگوں ہیں۔ وزیرستان میں ڈرون حملے، کوئٹہ میں ہزارہ قبائل کی صورتحال، کراچی میں روز گرتی بظاہر بے نام لاشیں، پنجاب کی بند ہوتی صنعتیں، سندھ میں ونی کی گئی لڑکیاں ، بلتستان میں مرتے سیاح۔ پورے ملک میں ہوتے دھماکے۔ یہ بچوں کو کھانا کھلانے سے قاصر ،خودکشیاں کرتے اور ان کا علاج نہ کرا پانے کی خلش کے ساتھ زندہ رہنے والے ماں باپ ۔ قدم قدم پر چھوٹےچھوٹے کاموں کے لیے اہلکاروں کی مٹھی گرم کرنے کی مجبوری۔ ان میں سے ہر مسئلے کا ایک چیمپئن ہے۔ جس نے رشوت ستانی کا مسئلہ دیکھ لیا اس کے لیے قیدی چھڑانے والے کی جدوجہد لا حاصل، اور جو شہروں کے دھماکوں پر سراپا احتجاج ہے وہ ڈرون حملوں پر احتجاج کرنے والوں پر سراپا تنقید۔ جس نے سیاسی جدوجہد کا راستہ دیکھ لیا اس کے لیے دوسرے تمام طریقے بدعت اور جس نے اسلحہ اٹھا لیا اس کے لیے باقی سب طفل مکتب!

اس تفریق کا اور کسی پر اتنا منفی اثر نہیں ہوا جتنا مذہبی طبقہ پر۔ اس کی وجہ کیا ہے یہ ہم آگے دیکھتے ہیں ۔ فی الحال تو یہ دیکھ لیں کہ اوپر گنوائے گئے اور دیگر تمام مسائل کے ساتھ جب الیکشن ہوئے تو لوگوں نے اسلامی جماعتوں کو نہ صرف یہ کہ ان مسائل کے حل کے لیے اپنے اعتماد کے قابل نہیں سمجھا بلکہ ایک صوبے کے علاوہ ان کو اس دفعہ کہیں منہ بھی دکھانے کے قابل نہیں چھوڑا۔ پورے ملک کی ایک ہزار کے قریب صوبائی اور قومی اسمبلیوں کی نشستوں سے اسلامی جماعتوں کے ہاتھ کتنی آئیں؟ پندرہ فیصد؟دس فیصد؟ جی نہیں تین فیصد سے بھی کم یعنی بمشکل تیس سیٹیں۔

بات یہ ہے کہ اسلامی ،خاص طور پر اسلامی غیر سیاسی قوتوں کو واقعی اس بات کا ادراک ہوتا نظر نہیں آتا (یا وہ اظہار نہیں کرتے) کہ لوگوں میں ان کی جڑیں کتنی کمزور ہو چکی ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ مذہبی قائدین نے کسی خاص حکمت عملی کے تحت اپنے آپ کو ان حالات میں الگ تھلگ رکھا ہوا ہے۔ علماء زیادہ بہتر جانتے ہوں گے کہ اس کی وجہ کیا ہے اور اس کے لیے لازماً ان کے پاس دلائل ہوں گے ۔ اس سب کا نتیجہ یہ ہے کہ علماء اب معاشرے کی رہنمائی کے منصب سے دست کش ہو گئے ہیں۔ اس کے باوجود ایسا نہیں ہے کہ ہمارے دینی طبقے سکون میں ہیں۔ یہ آئے دن کی فرقہ وارانہ ہلاکتیں کیا علماء کی نہیں ہیں؟ کیا مولانا اسماعیل عالم نہیں تھے؟ کیا مفتی دین پوری صاحب کوئی غیر اہم شخصیت تھے۔ کیا مولانا اسلم شیخوپوری صاحب کوئی گزارے لائق مولوی تھے؟ پھر کیا گزشتہ رمضان کراچی کے سب سے بڑے دارالعلوم کا محاصرہ نہیں کر لیا گیا تھا؟ کیا گزشتہ رمضان میں ہی معتکفین کو مسجد میں گھس کر نہیں مارا گیا؟ کیا آئے دن مدارس کو زیادہ سے زیادہ حکومتی کنٹرول میں لیے جانے کی باتیں نہیں ہور ہیں؟ اس سب کے بعد جب کراچی کے صف اول کے علماء میں سے ایک عالم ، جن کے اپنے مدرسے کے اساتذہ اور طلبہ حالیہ مہینوں میں شہید کیے جا چکے ہیں، ملک کے نو منتخب وزیر اعظم کو ایک کھلا خط لکھتے ہیں تو یقین جانیے ایک لمحے کو تو دل میں ایک موہوم سی امید یہ آئی تھی کہ شاید یہ بھی مصر کے عزّ بن عبد السلام کی روایت قائم کریں گے۔ شاید یہ بھی بادشاہ وقت کو اس کے مفرد نام سے پکاریں گے اور اس کو کسی معاشرتی برائی کی طرف متوجہ کریں گے۔ شاید انہوں نے سود کے خلاف ایکشن لینے کو کہا ہوگا، شاید ڈرون حملوں کے خلاف بات ہو گی، شاید امریکہ کی جنگ سے نکلنے کا حکم دیا ہو گا، شاید احادیث کی روشنی میں اور قرآن کی آیات کی رو سے کسی کافر کے شانہ بشانہ کھڑے ہو کر کسی مسلمان کے خلاف جنگ کرنے کے خلاف وعیدیں سنائی ہونگی۔ شاید مہنگائی کے خلاف بات کی ہوگی، شاید شیعہ سنی فرقہ واریت ختم کرنے کی بات ہوگی، شاید ناموس رسالت ؐ کی حفاظت کے بارے میں کوئی ہدایات ہونگی، شاید رشوت کے خاتمے اور سفارش کی روک تھام کی بابت تنبیہہ ہو گی اور شاید اور کچھ نہیں تو حاکم وقت سے اللے تللے ختم کرنے کی بات ہوگی۔ مگر حیف صد حیف کہ خط جب پڑھا تو اس کا لب لباب تھا کہ ‘جناب اعلیٰ قبلہ وزیر اعظم صاحب دام اقبالہ سے گزارش ہے کہ جمعے کی ہفتہ وار تعطیل بحال فرما دیں”!! یقین کریں اگر کسی ملک کا سب سے بڑا مسئلہ صرف یہ ہے کہ ہفتہ وار تعطیل کس دن کرنی ہے تو ہماری رائے میں وہ ملک روئے ارضی پر جنت سے کم نہیں۔

بہ صد ادب کہ حضرت کی امامت میں بارہا نمازیں ہم بھی ادا کر چکے ہیں کہ ان کا تدیّن باعث تحسین ہے، میری نا چیز رائے میں ایسے بے سروپا اقدامات کی وجہ صرف اور صرف ایک ہے۔ ایک مرکزی قیادت کی غیر موجودگی۔ اگر ہمارے ان بزرگوں کی کوئی مرکزی قیادت ہوتی تو ان کے اقدامات اتنے افراتفری کا شکار نہ ہوتے۔ قیادت لیکن ایسے ہی پیدا نہیں ہو جاتی اس کے لیے کئی اہل لوگوں کو قربانی دینی پڑتی ہے۔ ہمارے بڑوں میں سے کچھ کا حال تو یہ ہے کہ اپنے مرتبے اور رتبے کا بھی خیال نہیں کرتے اور مخالفین کو ایسے ایسے ناموں سے پکارتے ہیں کہ کوئی دشمن بھی کیا پکارے گا۔ مشرک، بدعتی، جنت کے طوطے، بینکر، مردودی، پراسراری، نجدی، وہابی، دیوگندی، یہ سارے نام کلمہ توحید کے ماننے والوں کے ایک گروہ کے منہ سے دوسرے گروہ کے لیے نکل رہے ہیں۔ ایمان کے بعد برا نام لینا بھی برا ہے، سورۃ الحجرات کیا کہہ رہی ہے کیا ہم بتائیں آپ کو؟ اور انہی گروہوں کے ذرا اپنے بزرگوں کے لیے تراشے ہوئے القابات ملاحظہ کیجیے۔ کسی کو رومی ثانی کہا جا رہا ہے، کسی کو شیخ العرب والعجم، کسی کو مجدد ملت، کسی کو شیخ الاسلام، کسی کو بلبل مدینہ کہا جاتا ہے تو کسی کو عارف باللہ۔ کسی کے نام میں دامت برکاتھم کا لاحقہ لگا ہے اور کسی کے ساتھ حفظہ اللہ اور کسی کے ساتھ نور اللہ مرقدہ اور کہیں پر قدس اللہ سرہ۔ یہ افراط و تفریط ایسے ہی نہیں ہے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ یہ بزرگان دین ان ناموں کے اہل نہیں، ان میں سے چند یقیناً ہونگے بھی۔ لیکن ان سابقوں اور لاحقوں پر مرنے مارنے کو دوڑنے سے پہلے اس ہستیؐ کے نام کی اگر حفاظت کر لی جاتی جس کے طفیل ان بزرگوں کی عزت ہے تو یہ ان کے لیے یقیناً زیادہ باعث افتخار ہوتا۔

توہین ناموس رسالت کے واقعات اگر بڑھ رہے ہیں تو کسی وجہ سے بڑھ رہے ہیں۔ مسلمانوں کا نام ہر جگہ دہشت گردی میں لیا جا رہا تو کسی وجہ سے لیا جا رہا ہے۔ اس کی ایک ہی وجہ ہے، اور وہ ہے ایک مرکزی، متفقہ قیادت کی عدم موجودگی جو مسلمانوں کو بحیثیت مجموعی ایک لائحہ عمل طے کر کے دے۔ OIC یا عرب لیگ نہیں بلکہ ایسی قیادت جو واقعی مسلمانوں کو ایک جسد واحد کی طرح چلائے۔ جس کی ایک خارجہ پالیسی ہو، ایک مالیاتی پالیسی ہو، ایک صنعتی پالیسی ہو۔ چاہے تعلیمی اور داخلی پالیسیاں کچھ مختلف بھی ہوں تو اس بکھری ہوئی بے مہار امت میں پھر سے جان پڑ جائے گی۔ مسلمانوں کی عالمی سطح پر پھر ایک آواز ہوگی۔ اگر تمام مسلمان ممالک اس بات پر اصولی طور پر متفق ہو جائیں تو پھر اس ادارے کو آپ خلافت کا نام دے لیں یا ریاستہائے متحدہ اسلامیہ کا، بات ایک ہی ہے۔ مسلمان ممالک میں مقتدر طبقات کے مفادات اس معاملے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔ اور پھر وہ اپنے ملک کے دینی طبقات میں سے چند لوگوں کو خرید کر اپنا الو سیدھا کرلیتے ہیں۔ محض چند اختلافات کی بناء پر النور پارٹی نے الاخوان کا ساتھ چھوڑ دیا۔ مرسی کو نکال کر جو نگران حکومت بنی ہے ا س میں النور کا بھی کچھ حصہ ہے مگر انتظار کیجیے کہ کب اس کو دودھ میں سے مکھی کی طرح نکال پھینکا جاتا ہے۔ ایسے ہی ہماری دینی جماعتیں ایک دوسرے کی سعی کو ناکام بناتی ہیں، کہیں دانستہ کہیں انجانے میں۔ ایک دوسرے کے پیچھے نماز تو پڑھ لیتے ہیں لیکن ہاتھ میں ہاتھ نہیں دیتے۔ اخلاقی ہمدردی تو کرتے ہیں لیکن عملی ساتھ نہیں۔ لال مسجد کا سانحہ ہوا لیکن پورے ملک کی مذہبی جماعتوں نے سوائے ایک رسمی احتجاج کے اور کچھ نہیں کیا۔ وجہ اس کی یہ تھی کہ ان کو مولانا عبدالرشید کے طریقے سے اختلاف تھا۔ سب نے مانا کہ لال مسجد کے معاملے کو حد سے بڑھانے میں پرویز مشرف کا کتنا گھناؤنا کردار تھا۔ کیسے اس نے ایک پھنسی کو پھوڑا بننے دیا اور پھر اس کو ریاستی طاقت سے ایسا کچلا کہ آج تک اس کے اثرات محسوس کیے جاتے ہیں۔ یہ سب مان کر بھی، اور یہ سب جان کر بھی، محض ‘تشریح’ کے فرق کی بنیاد پر ہمارے دینی طبقے نے اخلاقی ہمدردی کو ہی کافی سمجھا اور اس معاملے کو اس مقام تک جانے دیا کہ جہاں محض بے بسی سے تماشہ ہی دیکھا جا سکتا تھا۔ پرویز مشرف نے ایک ایک کر کے یہی کھیل باقیوں کے ساتھ بھی کھیلا ہے۔ کہتے ہیں جرمنی میں نازیوں نے بھی ایسا ہی کیا تھا۔ اس زمانے کے ایک پادری کا یہ مشہور ٹکڑا تو آپ نے سن ہی رکھا ہوگا ؏

First they came for the communists,
and I didn’t speak out because I wasn’t a communist.

Then they came for the socialists,
and I didn’t speak out because I wasn’t a socialist.

Then they came for the trade unionists,
and I didn’t speak out because I wasn’t a trade unionist.

Then they came for me,
and there was no one left to speak for me.

محض دین کی تشریح کے فرق کا مطلب ہے کہ ہر جماعت نے سنت نبوی ؐ کا مطالعہ کر کے حضورؐ کی حیات طیبہ میں سے جو چیز سب سے زیادہ اہم سمجھی اس کو اپنی جدوجہد کا مرکز بنا لیا۔ کسی نے تبلیغ کو اہم سمجھا، کسی نے جہاد کو، کسی نے سیاست کو اپنا میدان عمل بنایا تو کسی نے خیراتی کاموں کو، کوئی مسجد کی تعمیر کر رہا ہے تو کوئی مدرسہ تعمیر کیے چلا جا رہا ہے، کوئی ذکر و اذکار کے ذریعے سنت پر عمل کر رہا ہے تو کوئی تحریکی کا م کر کے ایک منظم جماعت تشکیل دینے کا خواہش مند ہے۔ حضور نبی کریمﷺ کی حیات طیبہ میں ہمیں ان میں سے اکثر کام کسی نہ کسی وقت میں کسی نہ کسی درجہ میں ملتے ہیں۔ سیرت طیبہ ؐ میں ہم جہاد بھی دیکھتے ہیں اور تبلیغ بھی، جماعت سازی بھی دیکھتے ہیں اور ریاست کے امور پر مکمل گرفت بھی دیکھتے ہیں۔ معجزہ یہ ہے کہ جو کام اللہ کے رسول ؐ نے تن تنہا انجام دیا، آج کئی کئی تنظیمیں مل کر بھی نہیں کر پارہیں۔ اس پر مستزاد یہ کہ ایک دوسرے کے کام سے متفق نہ ہونے کی وجہ سے پہلے بحث پھر اختلاف اور پھر سیدھا سیدھا ضد کا معاملہ ہو جاتا ہے ۔ پھر چونکہ معاشرہ میں دینی جماعتوں سے تعاون کرنے والوں کا ایک وسیع مگر بالآخر محدود طبقہ ہے تو ان کا تعاون انہی جماعتوں میں آپس میں تقسیم ہو جاتاہے ۔ کئی مسجدوں میں ایک سے ڈیڑھ کروڑ روپے کے مینار کی تعمیر ہو جاتی ہے جبکہ وہی پیسے کسی اور جگہ کسی دوسرے ، زیادہ ضروری مقصد میں استعمال ہو سکتے تھے۔ لے دے کے بات وہی ایک مرکزی قیادت کی ہے جو ان سارے اثاثوں کی امین ہو اور نہایت دیانت داری اور خداخوفی کے ساتھ اس مال کو استعمال کرے۔ ایک آواز ہو۔ جو اس سے ہٹ کر چلے وہ صاف نظر آجائے کہ یہ دین کا نمائندہ نہیں۔ پہلے ایک شہر میں ایسا اتحاد بن جائے پھر اس کو ملک تک پھیلا دیں۔ یہ مشکل ضرور ہے، ناممکن نہیں ۔

اگر ایسا اتحاد نہیں ہو پا رہا تو قصور عوام کا بھی ہے لیکن اصل قصور میرے نزدیک ان عقیدتمندوں کا ہے جو علماء کے اردگرد گھیرا ڈال کر رکھتے ہیں۔ آج کے دور میں کسی بڑے عالم سے بات کرنا، اس سے کچھ ذاتی طور پر پوچھ پانا اس قدر مشکل کام ہے کہ جب تک آپ کے پاس کوئی بڑی سفارش نہ ہو آپ علماء سے مل نہیں سکتے۔ اس کی وجہ وہ درمیان کے عقیدتمند ہیں جن کے نزدیک ان کے ‘حضرت’ سے کوئی سوال پوچھنا اگر گناہ کبیرہ نہیں تو مکروہ ضرور ہے۔ ایک عقیدتمند ‘حضرت’ کی ویب سائٹ سنبھال رہے ہوتے ہیں تو دوسرے صاحب کے نزدیک کسی کا ان کے شیخ کو براہ راست فون کر لینا مداخلت فی الدین کے زمرے میں آنا چاہیے۔ اس سے زیادہ آسان تو ٹی وی اور ریڈیو پر آنے والے ان نوسربازوں کو کال کرنا ہوتا ہے جن کے لیے رمضان، ربیع الاول، محرم اور ذی الحجہ مقدس کم اور کمائی کے مہینے زیادہ ہیں۔ عوام ایسے ہی نہیں علماء سے کٹ رہے۔ ایک جمعہ کے اجتماع میں راقم نے امام صاحب کو کہتے سنا کہ ‘عوام کو علماء کی ضرورت ہے، علماء کو عوام کی نہیں’ یہ مقولہ شاید پچیس سال پہلے صحیح تھا مگر آج نہیں۔ Rand Corporation کی سفارشات میں صاف لکھا ہے کہ ایسے علماء جو روایت پسندوں کی صف میں آتے ہیں ان کی جگہ ایسے لوگوں کو میڈیا پر لایا جائے جن کی شہرت ترقی پسندوں کی ہے، جن کو مسجدیں نہیں ملتیں۔ جو شراب کی حرمت کے بارے میں شکوک پیدا کریں، جو بدعات کی ترویج میں ممد ہوں ، جو فحاشی کو نئے معانی پہنائیں۔ اور پچھلے آٹھ دس سالوں میں ان سفارشات پر عمل کے نتیجے میں آپ دیکھ لیں کہ اس وقت سب سے زیادہ دیکھا جانے والا پروگرام ایک ایسے پوشیدہ رافضی کا ہے جو عام محفل میں صحابہ کرامؓ کی شان میں گستاخی کرتا پکڑا گیا اور ابھی بھی تقویٰ کا لبادہ اوڑھے رمضان میں نئے نئے کرتب دکھا رہا ہے۔ یہ ذمہ داری عوام کی بھی ہے کیونکہ ان کو اپنے عمل کا حساب خود دینا ہے۔

لیکن علماء کو بھی تو اپنے نمائندے چننے میں احتیاط کرنی چاہیے۔ گزشتہ شوال میں چاند کی رویت پر جو فساد ہمارے ملک کی سب سے بڑی سیاسی مذہبی شخصیت نے بپا کیا وہ آنے والے دنوں کی ایک جھلک تھا۔ یہ خبر بہت نمایاں نہیں ہوئی ورنہ شوال اکتیس دن کا ہوتا نہیں ہے۔ اس ‘اہل حق کے مینار’ نے ایک صوبے میں اقتدار حاصل کرنے کے لیے وہ وہ پینترے بدلے ہیں کہ اچھے اچھے ماہر کرتب بازوں کو پسینہ آجائے۔ اب تو لگتا ہے کہ آنجناب کا مقصد محض اقتدار کا حصول ہے چاہے اس کے لیے وہ امریکی سفیر کے پاس خود چل کر جائیں۔ دین محمدی ؐکے ماننے والوں کو اگر اقتدار مانگنے کے لیے در در کی بھیک مانگنی پڑے تو ایسے اقتدار سے دوری ہی بھلی۔ علماء کا کام دین کی حفاظت کرنا ہے ، اگر اقتدار حاصل کر کے حفاظت ہوتی ہے تو ٹھیک نہیں تو چار حرف بھیجیے ایسے اقتدار پر جس میں عزت سادات بھی ضائع ہونے کا اندیشہ ہو۔ چار حرف بھیجیے ایسے نمائندوں پر جن کے رہتے نہ مدرسے بچیں نہ اساتذہ۔ نہ طالبعلم بچیں نہ طالبات- جنہوں نے سب سے پہلے نعرہ لگایا کہ ‘طالبان اسلام آباد سے سو کلومیٹر پر رہ گئے ہیں’ اور وہاں سے کوڑوں کی ایک جعلی ویڈیو نکل آئی اور پھر سوات میں لاکھوں لوگ اپنے ہی ملک میں بے گھر ہو گئے۔ سب سے پہلے تو ان نام نہاد نمائندوں سے علمائے دین کو اپنے آپ کو بچانا ہوگا ۔

اس سلسلے میں وہ لوگ جو واقعی کسی عالم کے قریبی حلقے سے تعلق رکھتے ہیں وہ اپنے عالم سے بات کریں۔ ان سے سوال کریں ، کچھ مواقع پر ادب ہلاکت کا باعث ہو جاتا ہے۔ آپ صحابہ کرامؓ سے زیادہ اپنے حضرت کی تعظیم نہیں کر سکتے ۔دین کے معاملے میں صحابہ کرامؓ کبھی نہیں شرماتے تھے، سوال کرتے تھے۔ تو اپنے حضرت سے پوچھیں کہ دوسرے علماء میں برائی کیا ہے۔ اس کو دوسرے عالم سے رابطہ بڑھانے میں مدد کریں۔ ایک دوسرے کے لیے جو ان کے دلوں میں کچھ غلط فہمیاں ہیں وہ ختم کرائیں۔ دوسرے مسالک سے رابطہ بڑھانے میں مدد کریں۔ شدت پسندی اور تمسخر سے نہ دوسرا مسلک ختم ہوگا نہ اس کے ماننے والے۔ یہ سولہویں صدی کا اسپین نہیں ہے جہاں تمام ‘دوسروں’ کو جہازوں میں بٹھا کر افریقہ کے ساحلوں کی طرف روانہ کر دیا جائے۔ تو ہمیں ایک ساتھ ہی رہنا ہے، تو اس ساتھ کو کیوں نہ خوشگوار بنا لیا جائے؟ اگر آج (رمضان۱۴۳۴ ہجری) کی رویت ہلال جیسا ماحول پورے سال رہے تو یہ ملک اور یہ دین بہت جلد امن کا نشان بن جائے گا ان شاء اللہ۔ آج کوئی چھوٹا نہیں ہوا ، بلکہ سب اور بڑے ہو گئے۔ سب صحیح ہوئے اور کوئی غلط بھی نہیں ہوا۔ تو یہ اکثر دوسرے مواقع پر بھی ہو سکتا ہے۔

علماء کے لیے اپنی جگہ مضبوط ہونا ضروری ہے کیونکہ ستون تو مضبوط ہی ہوتا ہے اسے اپنی جگہ سے ہلنا نہیں چاہیے۔ ان کے لیے الگ الگ نظر آنے میں کوئی ایسی برائی نہیں کیو نکہ مہیب سمندر میں جزیرے اور بھی خوبصورت لگتے ہیں۔ بس ہم چاہتے ہیں کہ یہ دینی طبقے کسی ایک قیادت پر متفق ہو جائیں اور پھر للہیت کے ساتھ اس پر صبر کریں۔ ایک چھت جب مل جائے گی تو اس کے سائے میں یہ ستون بھی آئیں گے۔ بس اس کے لیے مجھے، آپ کو، ہر اس شخص کو جو کسی بڑی مذہبی شخصیت کے حلقے تک رسائی رکھتا ہے اس کو ایک پل کا کام کرنا ہے جو کسی طرح ا ن تمام جزیروں کو آپس میں ملا دے۔ اگر ہم نے صرف یہی کوشش کر لی اور اس میں اخلاص کا دامن نہیں چھوڑا تو اللہ سے امید ہے کہ وہ ہم کو روز قیامت رسوا نہیں کرے گا۔ بصورت دیگر، فرقہ بندی کو بھڑکانے میں کہیں ہم بھی حصہ دار نہ بن جائیں!


Photo credit: gnuckx / Foter / CC BY

ہوئے تم دوست جس کے

Posted in Islam, Rants by baigsaab on August 29, 2012

بل  اورائلی کا طریقہ بہت سیدھا ہے۔ جو بھی بات وہ منوانا چاہتا ہے وہ  ڈنکے کی چوٹ پر کہتا ہے اور اس کے لیے صحیح یا غلط کوئی بھی دلائل دیتا ہے۔ اس کے ان دلائل کو جو رد کرتا ہے اس کو موصوف سخت سست سناتے ہیں۔ اورائلی اپنے مخالفین کو جاہل اور بےوقوف ثابت کرنے کی پوری کوشش کرتا  نظر آتا ہے   اور مد مقابل کو دلائل کی بجائے آواز سے زیر کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اگر کہیں اس کو ہزیمت کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو  فوراً پینترا بدل کر مخالف کے کسی نازک پہلو کو نشانہ بناتا ہے اوراس کو زیر کر لیتا ہے۔ ‘احمق اور محب وطن’ نامی کتاب کے مصنف کا فاکس نیوز پر چلنے والا  پروگرام  ‘او رائلی فیکٹر’  ایک اندازہ کے مطابق اس وقت امریکہ کا سب سے زیادہ دیکھا جانے والا پروگرام ہے۔  ایک سروے کے مطابق موصوف امریکہ کے  گیارہویں اور ایک اور سروے کے مطابق دوسرے سب سے با اثر ریڈیو ٹاک شو  میزبان ہیں۔  تو آخر او رائلی کا فیکٹر ہے کیا؟  اس کے سننے اور  دیکھنے والوں پر اس کا کیا  اثر ہوتا ہے؟  ۲۰۰۹ میں ایک اسقاط حمل کے ماہر ڈاکٹر کا قتل ہوگیا جس کو خبروں کے مطابق  ایک ‘اینٹی ابارشن’ جنونی  نے قتل کیا تھا۔  او رائلی نے اس سے پہلے اس ڈاکٹر کے خلاف وقتا   ً فوقتا     ً  کچھ پروگرام کیے تھے اور اس نے اس کا نام ‘ٹلر دی بے بی کلر ‘ رکھا تھا۔ یہ کہنا کہ ڈاکٹر کے قتل میں بل او رائلی  کی باتوں کا اثر تھا ایک  ناقابل تصدیق بات ہے لیکن اس کی باتوں کا اثر بہرحال اس کے سننے والوں پر ہوتا ہے۔ ایسے ہی ایک پروگرام میں  بحیثیت مہمان وہ نیویارک میں مسجد کے قیام کی شدید مخالفت کرتا نظر آتا ہے اور وجہ یہ بیان کرتا ہے کہ ‘مسلمانوں نے ہمیں ۹/۱۱ کو نشانہ بنایا تھا’۔     اس پر  شو کی مشترک میزبان ‘ووپی گولڈبرگ ‘ اور ایک اور خاتون شو سے اٹھ کر چلی گئیں۔ لیکن موصوف اپنی بات پر اڑے رہے۔

 او رائلی جیسے لوگ پوری دنیا کے میڈیا میں ملیں گے۔  ایسے لوگ اپنی بات میں زور پیدا کرنے کے لیے گالیوں اور طنزیہ جملوں کا سہارا لیتے ہیں۔  اپنی بات کو صحیح ثابت کرنے کے لیے جھوٹے  ‘حقائق’  بنا لیتے ہیں ۔ مخالفین کا مذاق اڑاتے ہیں اور گالیاں تک دینے سے دریغ نہیں کرتے۔   ان کا مقصد خود کو صحیح ثابت کرنے سے زیادہ دوسرے کو غلط ثابت کرنا ہوتا ہے۔ ایسے لوگوں کے پروگرام کی ویورشپ ہمیشہ زیادہ ہوتی ہے کیونکہ وہ سنسنی  آمیز اور اسفل  باتیں کرتے ہیں  اور  عوام کی اکثریت  ٹی وی دیکھتی ہی  ان چیزوں کی وجہ سے ہے۔

ہمارے ملک میں ٹاک شوز میں ایسے لوگوں کو ریٹنگز بڑھانے  کے لیے بلایا جاتا ہے۔  لوگ نہ صرف ان کو دیکھتے ہیں بلکہ ان کی باتوں سے لطف اندوز بھی ہوتے ہیں۔ ان  سب میں جن صاحب کے کلام کے حسن پر نثار بہت لوگ ہیں وہ وہ ہیں جن کی پردہ اور عریانیت کے بارے میں کہی گئی آراء آج کل آپ سن ہی رہے ہونگے ۔  یہ اس لیے باقیوں سے ممتاز ہیں کیونکہ  نوجوانوں کا ایک پڑھا لکھا طبقہ ان کی باتوں کو سنتا ہے۔  اسی لیے ان کی کہی ہوئی بات چاہے غلط ہی کیوں نہ ہو اس کا اثر بہت ہوتا ہے۔   چنانچہ  کلیہ عامہ کے برعکس، کہ فرد  معین پر بات کرنے سے کسی کا فائدہ نہیں ہوتا، ہمیں قلم اٹھانا پڑ رہا ہے۔

 حریفوں کو لتاڑنا اور ذلیل کرنا چاہے وہ کوئی بھی ہو یہ ان کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے۔  کسی بھی عزت دار  شخص کو للو پنجو کہہ دینا ان کے لیے مسئلہ ہی نہیں۔ لوگ کہتے ہیں یہ ‘پی’ کر آتے ہیں لیکن میرے خیال سے یہ ایک نا مناسب بات ہے اور کسی پر بے جا تہمت(ویسے بھی ایک نعت گو شاعر  ،جو مدینے میں ننگے پیر پھرتا ہو،سے حرام شے کی   نسبت کرنا  شاید بہتان کے زمرے میں آتا ہو)لیکن گفتگو ان کی کبھی کبھار، بلکہ اکثر،ہذیانی ہی ہوتی ہے۔  موصوف کی یو ٹیوب پر موجود ایک کلپ  میں وہ مسلمانوں کی چودہ سو سالہ تاریخ میں سے چن چن کر آپس کی لڑائیاں نکالتے دکھائے گئے ہیں کہ کس طرح عباسیوں نے امویوں کو رگڑا اور کیسے تیمور نے یلدرم کو رگیدا اور کیسے  لودھی اور تغلق اور مغل اور نہ جانے کون کون مسلمان  تاریخ کے صفحات میں لڑتا ہوا پایا گیا۔  موصوف نے لیکن کہیں  بتانا مناسب نہیں سمجھا کہ  یہ لڑائیاں مذہب کے نام پر نہیں تھیں۔  اگر  ایک مذہب کے ماننے والوں کا آپس میں لڑنا غلط بات ہے تو یورپ کی تو پوری تاریخ ہی کیتھولک اور پروٹسٹنٹ کی  لڑائیوں میں گذری ہے۔     اسی طرح موصوف اکثر اپنے اخباری کالم میں   مغرب کی ترقی کو سراہتے ہوئے پائے گئے ہیں بھلے وہ ترقی ان کی  سماجی بدحالی  پر منتج ہو۔ امریکہ کی در اندازیوں کو  “بڑی طاقتیں ایسے ہی بی ہیو  کرتی ہیں” کہہ کر سند عطا کردیتے  ہیں۔   ایک پروگرام میں انہوں نے بڑی نخوت سے کہا کہ  ‘میں کوئی ایم اے اردو نہیں ہوں ، میں نے اکنامکس میں ماسٹرز کیا ہے’، تو کوئی  ان سے پوچھے بھائی  جب یہ کام کرنا نہیں تھا تو کسی  حقدار  کی سیٹ ضائع کرانا کیا ضرور تھا؟ پڑھے لکھے لوگ ان کی باتیں کیوں سنتے ہیں؟ پتہ نہیں! شاید وہ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ منافقت اور جہالت اور  بے غیرتی جیسے الفاظ ان کے لیے استعما ل نہیں ہو رہے۔  یا  شاید ہماری اکثریت  خود رحمی کی بیماری کا شکار ہے۔  ایک اور وجہ  شاید یہ ہے کہ وہ اپنی باتوں میں مولویوں اور سیاست دانوں دونوں کو رگیدتے ہیں  اور  ہمارا پڑھا لکھا طبقہ   اکثر و بیشتر دونوں سے  بیزار  ہے۔

موصوف کا حا لیہ بیان یہ ہے کہ پردہ عرب کی رسم تھی جس کو اسلام نے باقی رکھا۔  اسی  طرح داڑھی  کا تعلق عرب کی آب و ہوا سے تھا۔  خیر یہ تو کوئی ایسی بات نہیں ۔ صرف پردہ اور داڑھی ہی نہیں۔ اسلام میں اور چیزیں بھی عرب کلچر  سے آئی ہیں۔ مثلا ً  حج۔ مثلاً جہاد۔   مثلا ً نکاح اور دیگر رسومات۔ ہمارا یہ ماننا ہے کہ نبی آخر الزمانﷺ عرب تھے اس لیے عربوں کی  اس زمانے کی ہر چیز سے  جسے ہمارے نبی ؐ نے جاری رکھا ،چاہے وہ آج کے زمانے میں کتنی ہی عجیب کیوں نہ لگے ، محبت ہمارے دین کا حصہ ہے۔ جسے یہ بات سمجھ نہ آئے وہ خود اللہ کے سامنے اپنا جواب تیار کر لے۔  ہم نے تو وہ حدیث سن رکھی  ہے کہ جس کا مفہوم ہے کہ اسلام کا آغاز ایک اجنبی چیز کے طور پر ہوا تھا  اور عنقریب وہ  دوبارہ ایک اجنبی چیز بن جائے گا تو ان کے لیے خوشخبری ہے جو اس کے ساتھ ساتھ خود بھی اجنبی ہو گئے۔

مغرب کی تعریف میں حضرت اس حد تک غلو سے کام لے گئے  کہ فرما گئے کہ وہاں عریانی ستر بن گئی ہے۔  وجہ اس کی بیان کرتے ہیں کہ  نیم برہنہ عورتیں وہاں کھلے عام پھر رہی ہوتی ہیں اور کوئی دیکھتا تک نہیں۔  اب اس کو کوئی ان کی سادہ لوحی ہی کہہ سکتا ہے  ورنہ یہ چیز فطرت کے مطابق نہیں  ہے  کہ مرد کو  عورت میں کشش محسوس  نہ ہو۔  اور حقائق ان کی اس دلیل کے بالکل برعکس چیخ چیخ کر کہہ رہے ہیں کہ دنیا میں ابھی بھی ریپ کے زیادہ واقعات  ان کے اس مغرب میں ہی ہوتے ہیں جہاں ان کے مطابق عریانی ستر ہے۔  ایک اطلاع کے مطابق  ایک ترقی یافتہ مغربی ملک  میں ایک بے روزگار  سافٹ وئیر پروفیشنل خاتون کو بے روزگاری کے زمانے میں ایک نوکری کی پیشکش ہوئی۔ کام ایک جدید قسم کے صاف ستھرے کوٹھے پر تھا۔ انکار کی صورت میں بے روزگاری الاؤنس سے ہاتھ دھونے کی  پریشانی۔ یہ آپ کے پسندیدہ مغرب میں ہو رہا ہے۔    اسی پروگرام میں ایک بڑے غزل گائک کے ہم نام صاحب یہ کہتے ہوئے پائے گئے کہ قرآن میں حکم ہے زینت کو چھپانے کا۔ پھر زینت کا مطلب خود ہی بتاتے ہوئے کہا کہ اس کے مطلب ہیں خوبصورتی۔   اب چہرے سے زیادہ خوبصورتی کہاں ہوتی ہے یہ وہ  حضرت بتا نہیں  رہے۔  خیر یہ تو ایک جملہ معترضہ تھا۔

مسئلہ ان کا اور ان جیسے دوسرے لوگوں کا  شاید یہ ہے کہ  یہ مغرب کے  اس مکمل اور  ہمہ گیر تسلط سے بری طرح مرعوب ہیں۔ ان کے نزدیک  مغرب  کی ترقی   ہم بچشم سر دیکھ رہے ہیں اور  اس   کی تقلید کرنا اس دور میں اسلا م کی سب سے بڑی خدمت ہے۔    اس تقلید کی طرف پیشقدمی میں جو بھی چیز انہیں پا ؤں میں زنجیر  ڈالتی  نظر آتی ہے اس کو یکسر مسترد کردینا  ان کی مجبوری ہے۔

ہم  ان کے لیے اور ان جیسے دوسرے لوگوں کے لیے صرف یہی کہنا چاہتے ہیں کہ  یہ دنیا دارالامتحان ہے۔ یہاں مشکل بھی ایک امتحان ہے اور آسانی بھی۔ غربت بھی ایک امتحان ہے اور امیری بھی۔  اسی طرح  پسماندگی بھی ایک امتحان ہے اور ترقی بھی۔ بلکہ کئی معنی میں عشرت عسرت سے بڑی آزمائش ہے کہ امام احمد ابن حنبل کا واقعہ ہمیں یہی بتاتا ہے کہ شدید مار کو برداشت کر گئے لیکن  جب نئے خلیفہ نے کچھ رقم بھیجی تو رو پڑے  کہ یہ امتحان پہلے سے زیادہ مشکل تھا۔  مغرب کی حالیہ آسائشیں ایک طرف ان کے لیے امتحان ہے کہ وہ اپنے رب کو پہچانتے ہیں کہ نہیں تو دوسری طرف  ہم مسلمانوں کے لیے کہ ہم دنیا کی ترقی کو اہمیت دیتے ہوئے قدم بہ قدم ان کی تقلید کرتے ہیں  اور دیوانہ وار ان کے پیچھے  دوڑتے ہیں یا صرف اس چیز کو لیتے ہیں جو ہماری شریعت سے متصادم نہ ہو۔  پھر دنیاوی کامیابی کسی بھی لحاظ سے اس بات کی ضمانت نہیں ہے کہ  کوئی  اللہ کے پسندیدہ بندوں میں شامل ہو گیا۔  دنیا میں  لگ بھگ ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر آئے ان میں سے   کچھ کے ساتھ شاید ایک بھی امتی نہ ہو۔ کتنے ہی  صحابی تھے جو اسلام کے غلبے سے پہلے اپنے رب سے جا ملے تو کیا وہ ناکام ہو گئے؟    معاذاللہ ہرگز نہیں۔   سلف صالحین کا طریقہ یہ تھا کہ سنت کو دانتوں سے پکڑ لو چاہے کتنے ہی دقیانوسیت کے طعنے کیوں نہ پڑیں اور  اس میں کتنی ہی تکلیف کیوں نہ اٹھانی پڑے۔  کیونکہ  بہرحال دنیا مومن کے لیے قید خانہ ہے اور کافر کے لیے جنت۔

یہ بات اپنی جگہ بجا ہے کہ ہم مسلمان اس خزانے پر جس کا نام قرآن ہے ایک سانپ بن کر بیٹھے ہیں کہ نہ خود عمل کرتے ہیں اور نہ کسی اور تک اس پیغا م کو پہنچانے دیتے ہیں۔ لیکن اس کا یہ مطلب قطعی نہیں ہے کہ  کسی کو  علماء پر لعن طعن کرنے کا لائسنس مل گیا۔ وہ بھی صرف اس لیے کہ انہوں نے ان کے حساب سے دنیاوی تعلیم کی ترویج نہیں کی۔  جو کام علماء اس  پر فتن دور میں کر رہے ہیں وہ ناکافی ہوسکتا ہے لیکن وہ پھر بھی اس طوفان کے آگے بند باندھے ہوئے ہیں کہ جو  اب تک ہماری نظروں کے سامنے روسی، بھارتی اور چینی تہذیبوں کو نگل چکاہے اور اب ہماری پوری اقدار کو گھاس کے تنکوں کی طرح بہا لے جانا چاہتا ہے۔  اگر ہم اپنے مردوں کو سنت کے مطابق دفنا سکتے ہیں تو اس وجہ سے کہ ہم تک دین کی تعلیم پہنچی ہے، اگر بیٹی کی شادی کرنی ہے تو مسنون نکاح مولوی ہی بتاتا ہے۔ہمیں تو لگتا ہے کہ یہ دقیانوسیت کے الزام لگانے والے جو ڈاکٹر عبدالسلام اور  سید احمد خاں کو اپنا محسن کہتے ہیں، کبھی اپنے ڈرائنگ روموں سے نکلے ہی نہیں۔ اگر کسی کے پاس علم کی کمی ہے تو وہ شاید ان کے پاس ہی ہوگی کیونکہ یہ بات ہر شخص جو دین کے علم کے لیے تھوڑی سی محنت کر سکتا ہے وہ جانتا ہے کہ صرف کراچی ہی میں دو ایسی عظیم الشان درسگاہیں ہیں جہاں دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ  جدید سائنسی تعلیم بھی دی جاتی ہے۔  جامعۃ الرشید کا فلکیاتی تحقیق کا ادارہ تو اپنی مثال آپ ہے۔ باقی ملک میں آپ خود دیکھیں۔

لیکن جو اصل مغالطہ ان کو ہے وہ یہ ہے کہ اسلام کی نشاۃ اولیٰ مسلمان سائنسدانوں کی وجہ سے  ہوئی تھی۔ یہ ایک شدید فکری مغالطہ بلکہ حماقت ہے جس کا شکار ہمارے اکثر و بیشتر پڑھے لکھے حضرات ہیں۔  خاص طور سے ہمارے کالم نگاروں اور نامور دانشوروں کی اکثریت یہی بات کرتی نظر آتی ہے۔ اپنے چوہدری صاحب اس دن بڑے تاسف سے  عباسی صاحب سے کہہ رہے تھے کہ آپ نے اسلام کی کیا خدمت کی کیا آپ نے لوٹا بھی ایجاد کیا؟  ان لوگوں کے خیال سے یورپ کو جو تسلط حاصل ہے وہ اس کی سائنسی ایجادات کی وجہ سے ہے۔ یہ مذاق اڑاتے ہیں کہ دنیا   کائنات کی تخلیق کا راز جاننے نکلی ہے، ناسا  کا  ‘کیوریوسٹی’ مریخ پر کامیابی سے قدم رکھ چکا ہے اور ہمیں وہاں سے تصاویر بھیج رہا ہے اور ہمارے ملا کو اس بات  کے جواب دینے سے  ہی فرصت نہیں کہ استنجاء ہو گیا کہ نہیں۔ یا  غسل واجب ہو ایا نہیں؟ یا یہ کہ چاند کے لیے دیکھنا بھی ضروری ہے یا قمری کیلنڈر پر یقین کر لیں؟  پہلا سوال یہ ہے کہ کیا یہ سب سوال غیر اہم ہیں؟ اگر احادیث کے ذخیرے کو دیکھ کر بات کریں تو قطعاً نہیں۔ اور دوسرا سوال جو ہمیں واپس اس فکری حماقت کی طرف لے آتا ہے وہ یہ ہے کہ کیا دنیا میں ترقی کے لیے سائنس لا بد منہ ہے؟

اسلامی حکومت کی حدود  وفات نبوی ﷺ کے محض ۷۵ سال کے  عرصے میں شمالی افریقہ، سندھ اور جزیرہ نما آئیبیریا تک پھیل چکی تھیں۔ دور خلافت راشدہ میں ہی مملکت خداداد کی سرحدیں پورے جزیرہ نمائے عرب کا احاطہ کر چکی تھیں۔ اس پورے عرصے میں نہ کوئی مشہور سائنسدان سامنے آیا نہ کوئی  قابل ذکر غیر جنگی ایجاد۔آ بھی نہیں سکتا تھا کیونکہ عربوں کے پاس سائنس کا علم تھا ہی نہیں۔ وہ تو جب یونانی علوم کو عربی میں ترجمہ کرنا شروع کیا گیا ہے تب کہیں مسلمانوں میں فلسفہ اور ریاضی اور طب کے ماہر پیدا ہونے شروع ہوئے۔ تو اس سے پہلے کے سو سوا سو سال تک ہم کیسے  اتنے بڑے  رقبے  پر اسلامی حکومت  قائم کر پائے؟  وہ کون سی چیز  تھی مسلمانوں کے پاس کہ آدھی دنیا ان کی مطیع بن گئی؟  وہ چیز تھی  جناب رب کا نظام۔ نظام خلافت۔ نظام عدل اجتماعی۔  وہ نظام  جس کا نقشہ  قرآن میں ملتا ہے۔ وہ نظام کہ جو ہمارے آقا ﷺ نے اپنے  خطبہ حجۃ الوداع کے موقع پر  بیان کیا کہ  کسی گورے کو کالے پر اور کالے کو گورے پر فضیلت نہیں۔ نہ عربی کو عجمی پر نہ عجمی کو عربی پر۔ اور جو خلیفہ اول حضرت ابوبکر ؓ نے اپنے پہلے خطبے میں کہا کہ تمہار ا کمزور میرے نزدیک طاقتور ہے اور طاقتور میرے نزدیک کمزور جب تک حقدار کو اس کا حق نہ دلا دوں۔  وہ نظام کہ جس کو  کسریٰ کے دربار میں ہمارے اسلاف نے  یوں بیان کیا تھا کہ ‘ ہم بھیجے گئے ہیں۔۔۔  تاکہ لوگوں کو ملوکیت کے اندھیروں سے نکال کر اسلام کے عدل میں لے آئیں’۔  یہ تھی مسلمانوں کی کامیابی کی کنجی۔ اللہ کی زمین پر اللہ کا نظام۔   اس کے برعکس آپ دیکھیں کہ یہاں بڑے بڑے سائنسدان آنا شروع ہوئے یہاں خلافت کمزور ہونا شروع ہوئی، وجہ یہ نہیں ہو گی لیکن یہ   امر واقعہ ضرور ہے۔ دوسری بنیادی چیز جو اتنی ہی ضروری تھی وہ تھی جہاد۔ وہ جہاد نہیں جو نفس کے خلاف ہوتا ہے بلکہ وہ جہاد جس میں تن من دھن لگایا جاتا ہے۔ جس میں مال کا خطرہ بھی ہوتا ہے اور جان کا بھی۔ جب وہ رخصت ہو گیا، جب موت کے شوق کی جگہ دنیا کی محبت نے لے لی تو ہماری حالت سیلاب کے پانی پر موجود جھاگ جیسی ہوگئی یا با الفاظ حدیث ‘دسترخوان پر چنے ہوئے  کھانے کی طرح’۔  اس کا جیتا جاگتا ثبوت آپ کو افغانستان میں مل رہا ہے جہاں بے سر و سامان مجاہدین کیل کانٹے سے لیس  ایساف کے فوجیوں کو ناکوں چنے چبوا رہے ہیں اور  ان کا بس نہیں چل رہا کہ کیا کریں۔ آپ کے مغرب میں ہی کسی نے کہا تھا۔۔۔

It’s not the gun that fires; it’s the shoulder behind it [that matters]..

ہمارے افغان بھائی آج بھی ثابت کررہے ہیں کہ فضائے بدر پیدا کرنے سے واقعی نصرت آتی ہے، ہم کرنے والے تو بنیں۔

خیر تو بات کہاں سے شروع ہوئی تھی کہاں پہنچ گئی۔ بات یہ تھی  کہ بات کو زور سے، گالی سے، جاہل، بےوقوف، گھامڑ، بدتمیز اور للو پنجو ایسے الفاظ کہہ کر وہ لوگ کرتے ہیں جن کی دلیل میں وزن نہ ہو۔ خالی برتن زیادہ بجتا ہے اسی لیے موصوف کی آواز دور تک جاتی ہے۔  دوسری بات یہ کہ جس کا کام اسی کو ساجھے۔ جس بات کا پتہ نہ ہو اس میں بولنا نہیں چاہیے۔ اب اگر کوئی آپ کے پاس مائک لے کے آ ہی گیا ہے تو بھائی اس کو سیدھے سبھاؤ بتا دو کہ میاں یہ میرا میدان نہیں۔  لیکن ہمارے وطن میں مذہب وہ مظلوم شے ہے کہ جو اس کے حقیقی امین ہیں وہ گوشہ نشین ہیں  اور گویا   ایک حدیث کے مصداق ایسا لگ رہا ہے کہ آخری زمانے کے “روبیضہ”  عام لوگوں کے معاملات میں گفتگو کر رہے ہیں۔ چنانچہ ابھی کچھ عرصے پہلے ایک جید عالم کے پوتے اور جغادری صحافی کے صاحبزادے  ایک موقر روزنامے میں  اپنے کالم میں بینکنگ انٹرسٹ کو جائز قرار دینے کا فتویٰ دے بیٹھے یہ دیکھے بغیر کہ ان کی معلومات اس معاملے میں ہیں بھی کہ نہیں۔  اور یہ تو ٹی وی نہ دیکھنے والوں نے بھی دیکھا کہ رمضان کے مہینے میں ہر چینل پر ایک سے  بڑھ کر ایک  نوٹنکی بیٹھا مذہب پر بول رہا ہے الا ماشاء اللہ۔ خیر تو ہمارے ‘سبجیکٹ’ صاحب سے بھی چپ نہ رہا گیا اور پتہ نہیں کس کیفیت میں وہ کچھ بول گئے کہ  غالباً بعد میں خود بھی بغلیں جھانک رہے ہوں  کہ یہ کیا کہہ  دیا۔ عریانی۔۔ستر؟ اگر کسی نے  مذاق میں بھی کہہ دیا کہ اس نیک کام کی ابتداء  اپنے گھر سے کرنے میں  کیا چیز مانع ہے تو پتہ نہیں موصوف اپنی کون سی والی گالیوں کا پٹارا کھولیں گے۔  حضرت اگر مغرب آپ کو اتنا محبوب ہے تو آپ دعا کیجیے، ہم بھی آمین کہیں گے کہ آپ کا حشر انہی اہل مغرب کے ساتھ ہو۔

  او  رائلی سے کسی نے عراق کی جنگ کے  بعد پوچھا کہ تم نے کہا تھا کہ تم اپنی بات غلط ثابت ہونے پر (کہ عراق میں تباہ کن ہتھیار ہیں) قوم سے معافی مانگو گے تو اس نے بالکل سیدھے سیدھے معافی مانگ لی۔ او رائلی جیسا اڑیل بڈھا یہ کر سکتا ہے تو آپ تو پھر عاشق رسول ؐ ہونے کا دعویٰ رکھتے ہیں۔ اپنے پیچھے چلنے والوں کو گمراہ کرنے پر ان سے معافی مانگ لیں تو یہ ان کے ساتھ بھی بھلائی ہو گی اور اپنے ساتھ تو خیر ہو گی ہی۔ کیونکہ ایک انسان اپنی گمراہی کا بوجھ ہی اٹھا لے تو بڑی بات ہے، ہزاروں لاکھوں کی گمراہی کا بوجھ کوئی کیسے اٹھا سکے گا؟

وقت بیعت کب ہوگا؟

Posted in Islam by baigsaab on April 17, 2012

کسی بھی قوم یا ملک کے لئے دو میں سے کوئی ایک ہی صورت ہوتی ہے . یا تو وہ حالت امن کی  ہوتی ہے یا جنگ کی . اسی طرح  ملکوں کی  جو  قسمیں معروف ہیں وہ  دار الاسلام اور دار الکفر،  اور  دار الحرب اور دار الامن ہیں. ان سب حالتوں اور قسموں کے لئے احکام اور فرائض اور واجبات کی تفصیلات میں فرق ہے اور کسی بھی مسلمان کے لئے یہ جاننا انتہائی ضروری ہے کہ وہ ان میں سے کس قسم کے احکامات کے ذیل میں آتا ہے اور اسی حساب سے اس کو اپنے اعمال کو ترتیب دینا چاہیے. یہ اتنا اہم سوال ہے جس کا جواب حاصل کرنا میرے نزدیک  ہرشخص کے لئے ضروری ہے. اسی لئے اس کے صحیح جواب کے حصول کے لئے میں اس خط کے ذریعے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے علمائےکرام کا دروازہ کھٹکھٹانا چاہتا ہوں، بلا تخصیص فقہ و  مسلک.

جناب والا، جو حالات اس وقت اس سرزمین پر واقع ہورہے  ہیں وہ  کچھ سمجھ سے بالا تر ہیں. ایک طرف تو بازار اور ریستوراں بھرے رہتے ہیں اور دوسری طرف انہی گلیوں میں موت کا رقص ہو رہا ہے.یہ بہت پرانی بات نہیں ہے جب   لوگ اکیلے نہیں غول کے غول  اغواء ہورہے تھے. کراچی کی حالت مرغیوں کے اس ڈربے کی طرح ہو گئی ہے جس میں جب قصاب ہاتھ ڈالتا ہے تو ایک کھلبلی مچ جاتی ہے. اور جب قصاب اس میں سے اپنے مطلب کی مرغی نکال لیتا ہے تو وہ مرغی  تو چیخ چیخ کر  فریاد کرتی رہتی ہے لیکن دوسری مرغیاں اپنے دانے پانی میں مصروف ہو جاتی ہیں. کئی بار ایسا بھی ہوتا ہے کہ اس مرغی کی باقیات دوسری مرغیوں کو کھانے کو دے دی جاتی ہیں!

 ہمارے ملک میں  تقریباً  روز ایک بیرونی حملہ ہوتا ہے لیکن حکومت ایک مریل سے  احتجاجی بیان کے علاوہ کچھ بھی نہیں کرتی.  یہ حالت  امن کی ہےیا  جنگ کی؟ یہ دار الامن ہے یا دار الحرب؟ کیا ہم پر کسی دشمن ملک نے حملہ کیا ہے؟ اگر ہاں تو ہم اس کے لئے کیا کرسکتے ہیں؟ اور اگر نہیں تو کیا امریکا ہمارا دوست ہے؟ اور کیا اسلام میں یہ بات پسندیدہ ہے کہ کوئی بھی کافر فوج مسلمانوں کے علاقے میں  آ کر  مسلمانوں کو مار دے وہ بھی بغیر کسی ثبوت  کے؟ اس بات میں کوئی شک و شبہ کی گنجائش ہی نہیں کہ ڈرون حملوں کو حکومتی حمایت ہی نہیں سرپرستی بھی حاصل ہے.موجودہ حکمران طبقہ باوجود اس کے کہ  ہماری تاریخ کے بعض  بد ترین لوگوں پر مشتمل ہے ، اس کو نہ  عدلیہ کی طرف سے کوئی خطرہ ہے نہ فوج اور نہ ہی اپوزیشن یا حلیف جماعتوں سے. ان سب کو  دارالحکومت میں موجود شاطر دماغ شخص نے اپنی چالوں میں ایسا پھنسایا ہے کہ اب اس حکومت کے خلاف کیا گیا کوئی بھی اقدام صرف اس حکومت کو ہی فائدہ پہنچائے گا اور کسی کو نہیں. اور سچ تو یہ ہے کہ اس نظام میں جو بھی آیا پچھلے والے سے بد تر آیا، تو یہ سوچتے ہوئے بھی ابکائی سی آتی ہے کہ اگر یہ گئے تو ان سے بد تر کیا ہو گا؟

محترمی ، یہ بات تقریبا تمام  فقہا کے نزدیک مسلم ہے کہ مسلمان حکمران کے خلاف خروج جائز نہیں جب تک وہ فرائض اور واجبات کی ادائیگی سے نہیں روک رہا.بلکہ بغاوت کرنے کا ارادہ بھی رکھنے  والے کو قتل کیا جا سکتا ہے.شاید اسی لئے پوری مسلم امہ میں جو کٹھ پتلی حکمران ہیں  انہوں نے نہ صرف یہ کہ عوام کو کبھی فرائض کی ادائیگی سے نہیں روکا بلکہ ان میں مزید بدعات اور رسومات  کی بھی ترویج کی تاکہ لوگوں کو لگے کہ وہ عبادت میں آزاد ہیں. ہمارے ملک میں بھی چاہے جمعہ یا عیدین کے اجتماعات ہوں یا محرّم و میلاد کے، حکومت ہر ممکن کوشش کرتی ہے کہ ان میں کوئی رکاوٹ نہ ہو.

لیکن کیا  فرائض کی ادائیگی کا مطلب یہ ہے کہ صرف نماز ، روزے، حج اور زکوۃ ٰ کی آزادی ہو؟ اسلام کےا ہم ترین فرائض میں سے ایک جہاد فی سبیل اللہ  بھی ہے جس کے  فرض ہو جانے کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ کوئی کافر ملک کسی اسلامی ملک پر حملہ آور ہو جائے. کیا یہ ڈرون حملے (جو آئے دن ہوتے رہتے ہیں ، نیز سلالہ چیک پوسٹ پر حملہ والے واقعے کو بھی ابھی زیادہ دن نہیں گزرے)   ایک کافر ملک کا ایک مسلمان ملک پر حملہ نہیں کہلاتے؟ خصوصا جب کہ مرنے والے ٩۰ فیصد  لوگوں میں عورتیں، بوڑھے اور بچے شامل ہیں اور جو باقی دس فیصد مرتے ہیں ان کے خلاف بھی کوئی ثبوت  دینے کی زحمت وہ کافر ملک نہیں کرتا. کیا ان ڈرون حملوں کا جنگ کے حکم میں آنے کے لئے ضروری ہے کہ یہ حملے کراچی یا لاہور میں ہوں؟ کیا  وزیرستان، وانا اور ڈاما ڈولا میں رہنے والے مسلمان نہیں؟ کیا وہ پاکستان نہیں؟  اس بات سے قطع نظر کے یہ ڈرون ہمارے علاقوں سے اڑتے ہیں اور یہ کہ ان کو حکمران طبقے کی در پردہ پشت پناہی حاصل ہے، اس بات میں شمہ برابر بھی شک نہیں ہے کہ یہ ڈرون امریکی فوج کے ہیں جو اسرائیلی پالیسیوں اور دجالی ایجنڈے کو آگے بڑھانے میں استعمال ہو رہے ہیں. کیا اب بھی جہاد فرض نہیں؟ کیا اب بھی حکومت فرائض ادا کرنے دے رہی ہے؟

جناب والا، یہ بات سچ ہے کہ ماضی میں کئی ایسے واقعات ہیں جن میں  آپ کے ہی بزرگوں نے ایسے ایسےمضبوط موقف اپنائے ہیں کہ حکومت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہونا پڑا. قادیانی فتنہ اس کا بیّن ثبوت ہے. لیکن فی زمانہ علماء کے لئے یہ بہت مشکل ہو گیا ہے کہ وہ حق کے  لیے آواز  بھی اٹھاسکیں چہ جائیکہ اس کے لئے ہتھیار اٹھائیں. مولانا غازی عبد الرشید نے یہ کام کیا تھا لیکن ان کووہیں دبا دیا گیا. لال مسجد کا حشر کر کے جہاں طاغوت نے اس “فتنہ” کا قلع قمع کیا وہیں اس نے یہ بات بھی یقینی بنا لی کہ  اب کوئی بھی  سرفروش امر با لمعروف و نہی عن المنکر  کی “خواہش” دل میں نہ پال سکے. دوران گزشتہ رمضان   پریس کانفرنس اس بات کا ثبوت ہےکہ علماء جو پہلے ہی “گوشہ نشین”  تھے ، اب کم گو  بھی ہو گئے ہیں . ان کو احساس ہے کہ کوئی بھی مہم جوئی ان کو نہ صرف تنہا کر دے گی بلکہ ان کا علمی ورثہ بھی ختم ہو سکتا ہے.  آپ کے سکوت میں یقینا کوئی مصلحت ہوگی لیکن کسی کا دنیاوی انجام ہرگز اس بات کی دلیل نہیں کہ وہ کام کرنے کا نہیں.  لال مسجد  نے جو بھی کیا وہ مکمل طور پر صحیح  نہ سہی، لیکن غلط بھی نہیں. ان کا لائحہ عمل قابل اختلاف ہے لیکن مقصدنہیں.

حضرت، گستاخی کی معافی چاہتا ہوں لیکن آپ حضرات کے صبر کا غلط فائدہ اٹھاتے ہوئے ہمارے اس ملک میں کیا کیا کھیل کھیل دئیے گئے۔ نصاب میں سے جہاد کی آیات نکال دی گئیں۔ ہمارے ملک سے پکڑ پکڑ کر لا تعداد لوگوں کو غیر مسلم قوتوں کے حوالے کیا گیا۔ داڑھی اور جبہ و دستار کو تضحیک کا نشانہ بنایا گیا۔ مخنث  کو ایک الگ جنس  قرار دے دیا گیا ہے جس کی وجہ سے آج اس ملک میں مرد سے مرد کی شادی کا قانونی راستہ نہ صرف کھل گیا ہے بلکہ اس قبیح فعل کا ارتکاب ہو بھی چکا ہے جس کو میڈیا میں کھلم کھلا دکھایا جا رہا ہے۔  آزادی اظہار رائے  اور روشن خیالی کے نام پر  فحش کلامی ، فحاشی اور عریانی کا بازار گرم کر دیا گیا۔ شراب اور دیگر منشیات اس وقت  تقریبا سر عام مل رہی ہیں۔  لوگوں سے بجلی، گیس اور دوسرے بلوں کی مد میں گزشتہ تاریخوں میں پیسے بڑھا کر اگلے مہینوں میں وصول کیے گئے جو کہ احقر کے علم کی حد تک نا جائز اور غیر شرعی ہے۔ ریمنڈ ڈیوس کو رہا کر دیا گیا جس کے لیے دیت کے قانون کا سہارا لیا گیا۔ ہمارے ملک کے حکمرانوں نے غیر مسلم حکمرانوں کو تعاون کے خطوط  لکھے اور پھر بھی مسند اقتدار سے ہلنے کا کوئی ارادہ نہیں۔ یقین کریں کہ عوام صرف اس لئے چپ بیٹھے ہیں کہ علماء چپ بیٹھے ہیں. علماء TV پر آ کر رمضان کے فیوض و برکات پر درس دے دیتے ہیں لیکن حکمرانوں کی منافقت پر جمعہ کے خطبوں میں بھی شاذ  ہی بولا جاتا ہے. بلکہ قنوت نازلہ تک کی صدا کہیں سے نہیں آتی. محض قنوت نازلہ کی ملک گیر تحریک سے ہی کم از کم لوگوں میں بیداری کا جذبہ تو آئے گا. لوگ سوال کریں گے کہ یہ کیا ہے اور کیوں ہوتا ہے؟  کیا عجب لوگ اسی طرح اپنی حالت پر متوجہ ہو  جائیں.

اس وقت  ملک کے پانچوں وفاق المدارس میں لاکھوں طلباء پڑھ رہے ہیں. یہ  طلباء جہادکے موضوعات بھی پڑھ رہے ہیں اور خاص  قتال جیسے موضوعات بھی. جب وہ پڑھتے ہونگے کہ نبی اکرم ﷺ نے یہودیوں کے ایک قبیلے پر محض اس لئے چڑھائی کر دی تھی کہ اس نے ایک مسلمان کو قتل کیا تھا اور وہ مسلمان اس لئے قتل کیے گئے تھے کہ انہوں نے ایک مسلمان بہن کے سر سے دوپٹہ کھینچنے پر ایک یہودی کو قتل کر دیا تھا. وہ پڑھتے ہونگے کہ نبی رحمت ﷺ نے  کئی کئی دن قنوت نازلہ پڑھ کر کافروں کے لئے بد دعائیں کیں.  پھر  یہ طلباء دیکھتے ہیں کہ گاؤں کے گاؤں اور بستیوں کی بستیاں ہیں کہ قتل کی جارہی ہیں لیکن  نہ کہیں کوئی ذمہ دار شخص یہ کہتا ہے کہ یہ بند کرو اور نہ ہی کوئی بزرگ  ہاتھ خاص اس دعا کے لئے اٹھتا نظر آتا ہے.سمجھ نہیں آتا کہ  یہ مدارس اپنے ان بچوں کو کیونکر روک پاتے ہونگے جب ان بچوں کا خون کھولتا ہوگا. اس طاقت کو دجالی طاقتیں  بخوبی سمجھتی ہیں اسی لئے مستقل یہ کوشش جاری ہے کہ مدارس کو حکومتی اثر میں لے آیا جائے. اور وہ وقت آج یا کل میں آنے ہی والا ہے. آپ اپنے مدارس کو بچانے کے لئے افغان کاز  سے پیچھے  ہٹے تھے، جنگ پاکستان میں آگئی . آپ نے شمالی علاقوں سے لا تعلقی کا اعلان کیا، جنگ اب آپ کے شہروں میں  ہے. اور وہ دن دور نہیں جب آپ کو ایک ایک کر کے تنہا کیا جائے گا. پہلے ایک گرے گا پھر دوسرا پھر تیسرا. اور ہر دفعہ باقی سب کو یہ لگ رہا ہو گا کہ ان کے مدرسے کو کچھ نہیں کہا جائے گا کیونکہ وہ تو کچھ کر ہی نہیں رہے. اگر اس میں کوئی شک ہے تو ہمارے سامنے اندلس  کی تاریخ  بہت واضح نشانی ہے۔

یہ بات تو تسلیم شدہ ہے کہ جب جب اللہ اور رسول ﷺ کا نام لیا گیا ہے عوام اور خواص دونوں اپنے اپنے مسلکی اور فقہی اختلافات بھلا کر ان مقدس ناموں کی چھتری تلے جمع ہو گئے ہیں. علماء میں ایسے بزرگ آج بھی ہیں جن سے عوام اور خواص یکساں عقیدت رکھتے ہیں. ایسے بزرگ  اگر آواز دیں گے تو لوگ لازما پلٹیں گے. اور کچھ نہیں تو یہ لاکھوں طلبا جو آپ کے مدارس میں پڑھ رہے ہیں  وہ تو ان شاءاللہ آئیں گے ہی. ان کی رگوں میں دوڑتا اسلاف کا لہو کوئی ایسا بے وقعت بھی نہیں کہ جس میں غیرت ایمانی نہ ہو. اور عوام بھی اگر لوڈشیڈنگ اور مہنگائی کے لئے سڑکوں پر آ سکتے ہیں تو ان میں سے کچھ تو  اللہ رسول ﷺ کے نام پر آئیں گے.

اپنے پہلے سوال پر واپس آتا ہوں۔ صرف اتنا حکم فرما دیجیے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان اس وقت دارالاسلام ہے یا دارالحرب۔ دونوں صورتوں میں  خاص ہمارے ملک کے حساب سے احکامات مستنبط فرما دیں  اور اس کو عام کرنے کی اجازت دے دیں تو  ہم عوام کے لیے بہت سہولت ہو جائے گی۔ دوسری جانب اگر آپ سمجھتے ہیں کہ واقعی جہاد کی پکار لازم ہو چکی ہے تو آواز لگانا آپ پر فرض اور جہاد کے لئے بیعت لینا آپ کے لئے لازمی ہے. اور اگر  یہ سمجھتے ہوئے بھی آواز نہیں اٹھاتے تو  یقیناً بروز جزا اس مالک یوم الدین کو دینے کے لئے آپ کا  جواب تیّار ہو گا ہی.

و ما علینا الا البلاغ

پانچ سو سال پرانا میموگیٹ اسکینڈل

Posted in Social revolution by baigsaab on January 14, 2012

سنتے آئے ہیں کہ تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہے۔ شاید بہت سے لوگوں کے لیے تاریخ میں سوائے بوریت کے اور کچھ نہ ہو لیکن واقعہ یہ ہے کہ تاریخ کا مطالعہ نہ صرف آنے والے خطرات کی پیش بندی کا موقع فرہم کرتا ہے بلکہ وہ موجودہ حالات کو بھی ایک مختلف تناظر میں متعارف کرا سکتا ہے۔ آج کل ہمارے ملک کا سب سے بڑا مسئلہ مہنگائی یا بڑھتی ہوئی خودکشیاں نہیں بلکہ ایک ایسا معاملہ ہے جس میں ہمارے ملک کی اعلیٰ ترین مقتدر شخصیات کا ملک دشمن سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا اندیشہ ہے۔یہ معاملہ ہے میمو گیٹ اسکینڈل کا (نہ چاہتے ہوئے بھی یہ مانگے کی اصطلاح استعمال کرنی پڑ رہی ہے ورنہ صدر نکسن کا قصور اتنا بڑا نہ تھا کہ ایسی شرمناک حرکت اس سے منسوب کر دی جاتی) ۔ کہتے ہیں کہ ہمارے ملک کی اعلیٰ مقتدر ہستیوں نے امریکہ بہادر کے ایک جنرل کو لکھا (یا لکھوایا) کہ حضور آپ کی نظر کرم ہو تو ہم یہاں آپ کی من پسند انتظامیہ کھڑی کر دیں گے۔ اور جو کچھ آپ نے مانگا ہے وہ بلکہ جو آپ نہ بھی مانگیں وہ بھی آپ کی نذر کرتے ہیں بس ہمیں اپنی پسندیدگی کی سند دے دیں۔ یہ وہی مقتدر ہستیاں ہیں جو پہلے یہ کہہ چکی ہیں کہ “کولیٹرل ڈیمیج آپ امریکنوں کو پریشان کرتا ہے ہمیں نہیں” یا “آپ ڈرون برسائے جاؤ ہم منہ دوسری طرف کیے رہیں گے لیکن باہر باہر سے احتجاج بھی کریں گے”۔ مسلمانوں کی صفوں میں غداروں کا ہونا کوئی نئی بات نہیں۔ لیکن مسلمان حکمران اپنے کافر آقا ؤں سے باقاعدہ خط و کتابت کے ساتھ غداری کے عہد و پیمان باندھ لیں اس کی مثال ہماری ذلت کی تاریخ میں بھی بہت ہی کم ہے۔ آج ہم اس میمو کو رو رہے ہیں کہ کس نے لکھا اور کیوں لکھا کس نے اس کو طشت از بام کیا اور کیوں کیا، لیکن مسلمانوں کی تاریخ پچھلے ۵۰۰ سال سے چیخ چیخ کر کہہ رہی ہے کہ تب بھی کسی نے ایک میمو لکھا تھا۔ اور مماثلت بس یہیں ختم نہیں ہو جاتی۔

امیر ابو عبداللہ غرناطہ میں مسلمانوں کا آخری حکمران تھا۔ اندلس میں آٹھ سو سالہ مسلم تاریخ کا آخری باب۔ اپنے باپ مولائے ابوالحسن کی پیٹھ پیچھے اقتدار پر قبضہ کرنے کے بعد اپنے اقتدار کو عوامی حمایت دلانے کے لیے اس نے قسطیلہ (کاسٹائل) کی عیسائی افواج پر یکطرفہ چڑھائی کردی اور بری طرح شکست کھا کر جنگی قیدی بنایا گیا۔ قید سے چھوٹا تو اس شرط کے ساتھ کہ اس کو غرناطہ کا اقتدار واپس دلایا جائے گا تاکہ وہ غرناظہ کی بغیر کسی مزاحمت کے عیسائی حکومت میں شامل ہونے کو یقینی بنائے۔ ابو عبداللہ نے واپس آنے کے بعد اپنے اقتدار کے آخری دن تک ہر روز شاید اسی کوشش میں گزارا کہ وہ کس طرح زیادہ سے زیادہ مال اکٹھا کر لے اس سے پہلے کہ اقتدار چھوڑنا پڑے۔ اس کام میں اس کے معاون اس کے وزرا ء اور امراء بھی تھے اور پورے حکمران طبقہ میں مشکل ہی کوئی ہو جو اس بہتی گنگا میں ہاتھ نہ دھو پایا ہو۔ اس تقریباً سات سال کے عرصے میں لا تعداد دفعہ خط و کتابت ہوئی اور ان میں سے کئی کو محفوظ کر لیا گیا، ڈاکٹر حقی حق نے اپنی کتاب “ہوئے تم دوست جس کے” میں ان کا ذکر کیا ہے اور نسیم حجازی کے “شاہین” سے تو ہماری اکثریت واقف ہی ہے۔ ان “میمو جات” میں کبھی تو امیر ابو عبد اللہ نے لکھا کہ کسی شورش یا ہنگامہ کی صورت میں غرناطہ کی حفاظت کی جائے کیونکہ ہم اپنے دفاع کے لیے آپ کی طرف دیکھتے ہیں۔ تو کبھی جوابی خط میں فرڈینینڈ نے ابو عبد اللہ کو لکھا کہ تمہارے وزیر ہم سے زیادہ کا مطالبہ کر رہے ہیں کیا تمہارے علم میں نہیں؟ کبھی فرڈینینڈ نے ابو عبداللہ سے ایک خط میں “ڈو مور” کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم تمہارے وزراء سے بات کرتے ہوئے تمہارے مفادات کو ترجیح دیتے ہیں۔ لیکن تم پر ہماری عنایات اسی وقت تک ہیں جب تک تم عیسائی حکمرانوں کے مفادات کا خیال رکھو۔ اور سگ ذہنی کا پاتال وہ عبارت بھی موجود ہے جو مسلمان وزراء نے ایک مشترکہ خط میں لکھی کہ اے شان والے بادشاہ، ہم تمہارے حضور حاضر ہو کر تمہارے ہاتھ چومنا چاہتے ہیں اور تمہارے جسم کا ہر وہ حصہ چومنا چاہتے ہیں جس کی کہ اجازت دی جائے تاکہ ان غلاموں کی وارفتگی تم خود دیکھ لو!

لیکن صحیح معنوں میں اس دور کا “میمو” اگر کسی خط کو کہا جا سکتا ہے تو وہ وہ کتابت ہے جو عبداللہ اور اس کے وزیروں نے غرناطہ کو عیسائی حکمرانوں کے حوالے کرنے کے عوض اپنے لیے مراعات کی ضمانت حاصل کرنے کے لیے کی تھی۔ اس خط میں موجود چند شرائط یہ ہیں :

-سقوط غرناطہ کے وقت عبداللہ کو تین لاکھ ماراوید ( کرنسی) کی ادائیگی
-المیریا میں زرخیز زمین
-شاہی خواتین کو زیورات اور بناؤ سنگھار کی چیزیں فروخت کرنے کی اجازت
-عبداللہ اور اس کے امراء کے اموال محفوظ قرار دیا جانا
-الحمراء پر قبضہ کے وقت عبداللہ اور گورنر غرناطہ کو دس دس ہزار سکہ نقد دیے جانا
-جو کسان عبداللہ اور اس کے امراء کے لیے غلہ اگاتے ہیں ان کے تحفظ کی ضمانت

یہ خط ایک کافر بادشاہ کو ایک مسلمان بادشاہ کی طرف سے تھا۔ ایک ایسا مسلمان بادشاہ جس کے سامنے دو میں سے ایک راستہ تھا۔ یا تو عیسائی قوت کے آگے ڈٹ کر کھڑا ہو جائے اور اللہ کی نصرت پر بھروسہ رکھے۔یا اس قوت کے سامنے سے ہٹ جائے اور اپنی اور اپنے خاندان کی بہتری کا خیال کرے۔ بادشاہ نے دوسری راہ اختیار کی اور تاریخ گواہ ہے کہ وہ کوئی بہت زیادہ جیا بھی نہیں اور مرا بھی تو اس حال میں کہ اس کی لاش دریا کے کنارے پڑی تھی اور گھوڑے اسے روند رہے تھے۔ اس خط کے 6 سال بعد غرناطہ پر اسلام کا پرچم غروب ہو گیا۔ اور اس دن سے لے کر آج کا دن ہے، اندلس میں اسلام کبھی واپس نہیں آیا۔ عبداللہ پر شاید اس کی اوقات سے بڑی ذمہ داری آگئی تھی اور اس نے اس ذمہ داری سے ہر ممکن پہلو تہی کرتے ہوئے اپنے تحفظ کو مقدم رکھا۔ اس نے اپنی عوام کو یقیناً یہ باور کرایا ہو گا کہ اس معاہدے میں ہی ہماری بقاء ہے ورنہ ہمارا “تورا بورا” بنا دیا جائے گا۔ یا فرڈینینڈ ہمیں “پتھر کے دور” میں پھینک دے گا۔ اور سقوط کے معاہدے میں بظاہر مسلمانوں کے حقوق کا تحفظ کیا گیا تھا مثلاً انہیں زبردستی عیسائی نہ بنائے جانے کی یقین دہانی اور ان کے جان و مال کا تحفظ لیکن عملاً ایک بار جب عیسائی قابض ہو گئے تو مسلمانوں کے لیے معاہدے کی کسی ایک شق پر بھی عمل کرانا ناممکن تھا۔ مسلمانوں کو زبردستی عیسائی بھی بنایا گیا اور ان کے جان و مال زبردستی چھینے بھی گئے۔ لیکن یہ شاید ان کی غفلت کی قیمت تھی کہ انہوں نے اپنے اس بادشاہ پر بھروسہ کیا تھا جس نے ان کو اقتدار میں آنے سے پہلے ہی بیچ دیا تھا۔

۱۴۹۲ کے اندلس اور آج کے پاکستان میں صرف یہی مماثلت نہیں ہے کہ ان کا بادشاہ بھی جیل سے نکال کر بادشاہ بنایا گیا تھا۔ یا اس کے بادشاہ بنائے جانے میں بھی کسی پاور ڈیل کا دخل تھا۔ یا یہ کہ اس کے وزیر کا نام بھی یوسف تھا۔ یا یہ کہ اس نے بھی اپنی خودغرضی کو وسیع تر قومی مفاد کا نام دیا تھا۔ یا یہ کہ تب بھی ایک میمو لکھا گیا تھا اور آج بھی۔ بلکہ ہمار ے لیے سب سے بڑی مماثلت یہ ہے کہ اس وقت کے عوام بھی اپنے کام دھندوں میں لگے رہے۔ معاملات کی جو تصویر ان کو حکام نے دکھائی وہ دیکھی اور خبردار کرنے والوں کی بات پر کان بھی نہ دھرے۔ حکام شریعت سے روگردانی کرتے رہے ، مملکت کے دفاع کے سودے کرتے رہے اور عوام اپنے کام دھندوں اور کھیل تماشوں میں لگے رہے۔ اس وقت بھی،آنے والے حالات کی سنگینی سے آگاہ کرنے والوں کو “میسینجرز آف ڈوم” یا “تباہی کے قاصد” کہا گیا ہو گا۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہاں غرناطہ میں اسلا م کا پرچم سرنگوں ہوا اور وہاں مسلمانوں کی کم بختی شروع۔ یہ منظر بھی تاریخ کے اوراق میں موجود ہے کہ ایک طویل قطار میں لوگ اپنی باری کا انتظار کر رہے ہیں اور زار و قطار رو رہے ہیں کہ یہ لائن داڑھی کٹانے کے لیے ہے۔ اور یہ بھی کہ مسلمان پردہ دار بیبیوں کو بپتسمہ دیا جا رہا ہے۔ اور یہ بھی کہ مسجدوں میں عیسائی فوجیوں کے گھوڑے بندھے ہیں ۔ اور “انکوئیزشن” کا نام تو غیر مسلم مؤرخین کے سامنے بھی لیں تو وہ بھی کانپ جاتے ہیں۔

پھر لکھتا ہوں، تاریخ پڑھنے سے مستقبل کانقشہ واضح ہوتا ہے۔ یہ سطریں صرف تفنن طبع کے لیے تحریر نہیں کی گئیں بلکہ اس خطرے سے آگاہ کرنے کے لیے ہیں جو ہمارے سروں پر منڈلا رہا ہے۔ اندلس کی تاریخ کے مطالعہ کے وقت ہمیشہ یہی سوچ ذہن میں رہتی تھی کہ کیا اس دور کی عوام اندھی تھی کہ اس کے سامنے اتنا بڑا کھیل ہو گیا اور اسے خبر بھی نہ ہوئی۔ لیکن آج ہمارے ساتھ بھی کچھ ایسے ہی کھیل کھیلے جا رہے ہیں۔ آج ہمارے لیے بجلی، گیس اور دوسری چیزوں کی قلت پیدا کر کے دھیان ان چیزوں میں لگا دیا گیا ہے جیسے یہ دنیا کی سب سے ضروری چیزیں ہوں۔ دوسری طرف ایک سیاسی تماشہ ہے جو کبھی نئےصوبوں کے نام پر اور کبھی انتخابی ہنگامے کے نام پر رچایا جاتا ہے۔ اس سب کے بیچ نیٹو کے سامنے خم ٹھونک کر کھڑے ہونے کی ادا بھی دکھائی گئی ہے جس سے انہیں ہم پر حملہ کرنے کا جواز ملتا نظر آرہا ہے۔ لیکن شاید ان سب سے بھیانک بات یہ ہے کہ گزشتہ کئی سالوں سے دھیرے دھیرے ہمیں اس بات کا عادی بنایا جا رہا ہے کہ ہم کفر کے نیچے رہنے کے لیے راضی ہو جائیں۔ ہمارے ملک میں ہر سال کئی لوگ اصلی اور جعلی طریقے سے بیرون ملک جا رہے ہیں اور وہاں مستقل رہائش اختیا رکر رہے ہیں اور جب وہ لوگ وہاں موجود سہولیات کا ذکر کرتے ہیں تو ہمارے یہاں موجود لوگوں کے دلوں میں بھی ارمان پیدا ہوتا ہے کہ کاش ہمارے یہاں بھی ایسا ہوتا۔ لوگوں کی ایک کثیر تعداد کی نظر میں کامیابی کی معراج امیگریشن ہے۔ اس صورتحال میں ہماری اکثریت کا کسی کافرانہ نظام کو قبول کر لینا بعید از قیاس نہیں۔ لیکن یاد رکھیے، ان طاقتوں کے اصول اپنے لیے کچھ اور ہیں اور ہمارے لیے کچھ اور۔ یہ تجربہ آج سے ۵۰۰ سال پہلے اندلس کے اور پھر افریقہ کے مسلمانوں کو، اس کے بعد ریڈ انڈینز کو اور ماضی قریب میں عراق اور افغانستان کے مسلمانوں کو ہو چکا ہے۔

اس سال ۲ جنوری کو غرناطہ میں اسلام کا پرچم سرنگوں ہوئے ۵۲۰ سال ہو گئے۔ کفر کی چالبازیاں اور مسلم حکمرانوں کی غداریاں اب بھی اس ملت کو لاحق ہیں۔ لیکن ہم سے ہمارے عمل کا ہی سوال کیا جائے گا ان کےنہیں۔ بحیثیت قوم ، ایک با کردار قیادت کی ضرورت جتنی آج ہے اتنی شاید پہلے کبھی بھی نہیں تھی۔ تاریخ کے اوراق ہمیں با آواز بلند متنبہ کر رہے ہیں کہ امت مسلمہ نے جب بھی اپنی قیادت کے لیے شریعت کے علاوہ کوئی اور معیار اختیار کیا تو اسےمنہ کی کھانی پڑی۔ وقت کا تقاضہ ہے کہ ہم قیادت کے بارے میں اپنے نظریات کو تبدیل کریں اور با عمل علماء کو اس بات پر مجبور کریں کہ وہ حالات کی باگ ڈور سیاسی مولویوں کے حوالے کرنے کی بجائے اپنے ہاتھ میں لیں۔ بصورت دیگر حالات اگر اسی طرف چلتے رہے تو وہ دن دور نہیں لگ رہا جب، خاکم بدہن، اسلامی جمہوریہ پاکستان نہ اسلامی رہے نہ پاک بلکہ ایک جمہوری استھان بن کر رہ جائے۔ تب شاید ہمیں ابو عبداللہ کی ما ں کی وہ بات سمجھ میں آئے جو اس نے اپنے بیٹے کو روتے دیکھ کر کہی تھی کہ “جس زمین کی حفاظت تو مردوں کی طرح نہ کر سکا اب اس کے لیے عورتوں کی طرح آنسو کیوں بہاتا ہے”۔

شاید ۵۰۰ سال بعد تاریخ نے ایک ماں کا یہ سوال ہمارے سامنے دوبارہ لا کھڑا کیا ہے، کیا آپ کا جواب تیار ہے؟