Baigsaab's Blog

چالیس سال کی سزا اور پاکستان زندہ باد!۔

Posted in Islam by baigsaab on August 14, 2014

بنی اسرائیل اللہ کی پسندیدہ قوم تھی۔ جب فرعون نے ان کو ظلم کا نشانہ بنایا ہوا تھا تو اس وقت اللہ نے ان کی مدد کے لیے حضرت موسیٰ ؑ جیسے پیغمبر کو بھیجا۔حضرت موسیٰ ؑ سے اللہ کو کتنی محبت ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ انؑ کا ذکر قرآن میں سب سے زیادہ ہے۔ ہر تین چار صفحہ بعد حضرت موسیٰ ؑ کا ذکر۔ اس قوم کو اللہ نے کیا کیا نہیں دیا۔ جتنی بھی مصیبتیں تھیں، اس کے بعد اللہ نے ان کے سامنے ان کے دشمن کو دریا میں غرق کر دیا۔ کیسا موقع ہو گا وہ بھی۔ جن کے بچوں کو فرعون نے مارا ہو گا وہ بھی دیکھ رہے ہونگے اسے ڈوبتے، فریاد کرتے، غرق ہوتے!!!۔

مگر جب اسی قوم کو اللہ کے نبیؑ نے کہا کہ ارض مقدس کو اللہ نے تمہیں عطا کر دیا ہے بس داخل ہو جاؤ اندر تو انہوں نے جواب دیا ‘جاؤ تم اور تمہارا رب اور قتال کرو ہم تو یہیں بیٹھے ہیں’۔۔۔ تو اللہ نے اسی قوم کو، جس کے بارے میں فرمایا کہ ‘تمہیں تمام جہان والوں پر فضیلت دی تھی’، چالیس سال کے لیے صحرا میں بھٹکنے کو چھوڑ دیا۔ چالیس سال تک یہ بھٹکتے رہے صحرا میں اور بالآخر ان کوحضرت طالوت کی سربراہی میں حضرت داؤدؑ کے ذریعے فتح ملی۔

استاد محترم ڈاکٹر اسرار احمد مرحوم کہتے تھے کہ پاکستان بننے کے چالیس سال بعد انہیں یہ احساس ہوا کہ شاید ہمیں بھی اسی طرح کا کوئی موقع مل جائے۔ اس وقت انہوں نے اس معاملے میں کافی کام بھی کیا تھا۔جن میں ایک دو کتابوں کے علاوہ کچھ تحریکی کام بھی تھا۔

جب سے میں نے اس بارے میں سنا تھا تب سے یہی چیز میرے ذہن میں تھی کہ ہم نے تو دراصل ‘وہ’ والا کام کیا ہے 1971 میں۔ جب اسلام کے نام پر ملے ہوئے ملک کو ہم نے قومیت کے نام پر توڑ دیا۔ تب سے آج تک ذلت کا ایک دور ختم نہیں ہوتا کہ دوسرا آتا ہے۔

جو لوگ کہتے ہیں کہ پاکستان ایک سیکولر ملک ہونا چاہئے اور نظریہ پاکستان نام کی کوئی چیز نہیں کیاان کو اتنی سی بات سمجھ نہیں آتی کہ ایک سیکولر ملک ہندوؤں کا اور ایک سیکولر ملک مسلمانوں کا دراصل سیکولر نہیں ہوسکتے۔ یہ بات یا تو ان کی کم عقلی ہے یا بد دیانتی، کوئی اور لفظ سمجھ نہیں آتا۔
پاکستان کے وجود میں آنے کی کوئی وجہ نہیں تھی۔ اس زمین میں اس نام کا کوئی ملک نہیں تھا کبھی۔ ہماری زبان ایک نہیں تھی۔ ہماری نسلیں، بولیاں جدا تھیں۔ کون سی چیز تھی جو ہمیں جوڑتی تھی؟ اگر پاکستان اسلام کے نام پر نہیں بنا تھا تو کیوں ایسا ہوا کہ وہاں سے صرف مسلمان گھرانوں نے ہجرت کی اور یہاں سے صرف ہندوؤں اور سکھوں نے؟؟؟ کیا کسی نے آج تک کسی ہندو کو دیکھا جو تقسیم کے وقت ہجرت کر کے پاکستان آیا ہو؟ یا کسی مسلمان کو دیکھا جو پاکستان میں شامل شدہ علاقوں سے بھارت گیا ہو؟
آزادی کے 67 سال بعد بھی ہمیں ایک دوسرے کو یہ بتانا پڑ رہا ہے کہ ہم جس زمین میں رہتے ہیں اس کے رہنے کا صرف ایک سبب ہے اور وہ اسلام ہے۔ اسلام نکال دیں اس میں سے تو اس کی روح نکل جائے گی اور جب روح نکل جاتی ہے تو اس جسم کو جلد از جلد دفنا دیا جاتا ہے۔ ورنہ جسم سڑنا شروع ہو جاتا ہے۔

پاکستان زندہ باد کہہ دینے سے پاکستان زندہ نہیں ہو جائے گا۔ اس میں اس کی روح واپس پھونکنی پڑے گی۔ اس کی روح سوائے اسلام کے اور کچھ نہیں۔

تین کام کر لیں اور اس ملک کو واپس زندہ کر لیں۔
-ایک اس کو سود سے آزاد کرا لیں۔ اور اللہ اور رسول سے اس جنگ کو ختم کریں
-دو، عدالتی نظام میں اسلامی قوانین کو اولیت دے دیں۔ شریعت کورٹ کو ہی اصل کورٹ قرار دے دیں۔
-تین، معاشرہ میں اخلاقیات کو دوبارہ زندہ کریں۔ سماجی اخلاقیات بھی، معاشی بھی اور حکومتی بھی۔

یہ کام نہ کریں۔ اور ان کی تبلیغ کرنے والوں کا مذاق اڑا لیں تو کبھی کسی کے مذاق اڑانے سے تبلیغ کرنے والوں کا کوئی نقصان ہوا ہے؟
اور یہ کام کر لیں۔ تو ہو سکتا ہے کہ ہماری یہ سزا ختم ہو جائ جو اب چالیس سال سے زائد ہو چکی ہے!۔

اللہ پاکستان کی حفاظت کرے آمین!

یہ گاڑی یوں نہیں چلنے کی

Posted in Rants by baigsaab on June 29, 2013

کہتے ہیں  جب برا وقت آتا ہے تو اونٹ پر بیٹھے شخص کو بھی کتا کاٹ لیتا ہے ، ہماری شامت اعمال ہمیں کیوں اور کس طرح پاکستانی ٹرین میں سفر پر جبراً  آمادہ کر گئی یہ ایک داستان کا محتاج ہے۔ ہوا کچھ یوں کہ ہم سب دوستوں نے  ہفتہ وار تعطیل پر اجتماعی طور پر اپنے ایک دوست کے گاؤں  جانے کا فیصلہ کیا۔  سفر بمعہ اہل و عیال ہونا تھا، چنانچہ سب کے حصہ میں کچھ نہ کچھ کام آئے ، ہمارے متھے پڑا ٹرین کے ٹکٹوں کا حصول۔   ٹرین کے اسفار کے اپنے سابقہ تلخ  تجربات کی بنیاد پر ہم  مطمئن تو نہ تھے مگر اس کے سوا اور کوئی دوسری صورت بن نہیں پا رہی تھی کہ سب ساتھ جا پائیں۔ سفر کی تیاریوں کے آغاز میں ہی ایسے شواہد ملنا شروع ہو گئے تھے کہ آگے گڑبڑ ہو سکتی ہے ۔ مثلاً   جب ہم معلومات کے حصول کے لیے اسٹیشن گئے تو ہمارے آگے موجود صاحب نے اندر موجود خاتون سے کچھ سوالات ایک دو دفعہ دوبارہ پوچھ لیے۔  ایک دو مرتبہ تو خاتون نے جواب دیا مگر اس کے بعد شاید ان کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا۔   اس شخص کو مخاطب کر کے ایک کراری آواز میں فرمایا “ارے تمہارا دماغ تو ٹھیک ہے سمجھ میں نہیں آتی بات؟” اس شخص نے پلٹ کر جواب دیا تو   ان کے صبر کا وہ ننھا سا پیمانہ پانی کی اس ٹنکی کی طرح بہنے لگا جس کو بھرنے والی موٹر چلا کر لوگ  گرمی کی چھٹیاں منانے چلے جائیں۔ ہم نے اپنی طبیعت کے برخلاف اس موقع پر کچھ فہمائش کرنے کی کوشش کی تو ہمیں بھی آڑے ہاتھوں لے لیا جس کا فدوی نے تو یہی مطلب لیا کہ ان کی کھڑکی سے ذلت و رسوائی تو مل سکتی ہے، معلومات نہیں۔ ان کے ممکنہ متعلقین حضرات سے دلی ہمدردی رکھتے  ہوئی ہم نے برابر والی کھڑکی سے رجوع کیا۔

  وہاں سے واپسی پر ہم نے مزید معلومات کے لیے  ریلوے انکوائری فون کیا ، وہاں موجود صاحب نے ہمیں معلومات کے ساتھ اپنا ذاتی نمبر بھی دیا   (جس پر وہ ہماری فون کال کے دوران ہمیں ہولڈ کا کہہ کر اپنی مادری زبان میں  اپنے کسی واقف سے گفتگو بھی کرتے رہے) اور کہا کہ ٹکٹ کا کوئی بھی مسئلہ ہو وہ نہایت  آسانی سے حل فرما دیں گے۔   ظاہر ہے ہمارا رابطہ کسی نہ کسی صورت میں مختلف اداروں کی  کسٹمر سروس سے پڑتا ہی رہتا ہے،  یاد مگر نہیں پڑتا کہ کبھی کسی نے اپنے ادارے کی جڑیں ایسے کاٹی ہوں۔ صاف نظر آرہا تھا کہ یہاں لوگوں کو دو چیزوں کا ڈر بالکل نہیں۔ ایک محاسبہ کا  اور دوسرا برخاستگی کا، سیاسی بھرتیوں کے کمالات ہمارے سامنے  جلوہ نما تھے اور آنے والے وقت کے آئینہ دار۔ مگر یہ سوچ کر کہ اب تو اوکھلی میں سر دے ہی دیا ہے، ہم نے کافی تگ و دو کے بعد پرائیویٹ ٹرین کے ٹکٹ کروا لیے۔ یہ سوچ کر کہ پرائیویٹ ہے تو بہت ممکن ہے بہتر بھی ہو۔

سفر کی ابتداء بلاشبہ اچھی تھی۔ ٹرین کی وہ تمام برائیاں جو  ہمیں یاد تھیں وہ اس مرتبہ نہ تھیں مثلاً جائے ضرور کی حالت ایسی  ناگفتہ بہ نہ تھی، وقت کی پابندی ہو رہی تھی یعنی ہر اسٹیشن پر  اس کے شیڈول کے مطابق آمد اور روانگی۔ سب کچھ ٹھیک چل رہا تھا  یہاں تک کہ  روہڑی اسٹیشن آگیا۔  گاڑی  وہاں خلاف توقع کچھ زیادہ رک گئی۔ تھوڑی دیر میں آوازیں بلند ہوئیں کہ جس ڈبے میں ہم موجود تھے اس میں کچھ خرابی  ہو گئی ہے جس کی وجہ سے اس کو گاڑی سے الگ کرنا پڑے گا۔ جلدی جلدی سارا سامان  اور افراد کو اتارا  اور ٹرین ہمیں چھوڑ کر برابر کے ٹریک پر چلی گئی۔ اتنی دیر میں شور بلند ہوا کہ ہمارے ڈبے کے مسافروں کو اب لوئر اے سی میں جگہ دی جائے گی۔ اپنے پورے سامان اور بچوں کے ساتھ ٹرین کے دوسرے حصہ تک جب ہم پہنچے تو وہاں موجود ٹرین کے سپروائزر صاحب نے اس افواہ کی نہ صرف تردید کی بلکہ یہ انکشاف بھی کیا  کہ کوئی نیا ڈبہ نہیں لگے گا ساتھ ہی ہمیں یہ بھی بتایا کہ ہماری  بائیس برتھوں کے  عوض اب ہمیں محض چھ برتھیں ملیں گی۔میرے خیال میں اس سوال کو کہ بائیس افراد چھ برتھوں میں کیسے سمائیں گے اگر میٹرک کے ریاضی کے، یا ایم بی اے کے ہیومن ریسورس کے امتحان میں رکھا جاتا تو تمام طلبہ  بری طرح فیل ہوجاتے۔ بہرحال ٹرین کے عملے نے ہماری مدد کرتے ہوئے سامان ہمارے ساتھ اٹھوا کر واپس ٹرین کے اگلے حصہ کی  طرف سفر کیا۔ اور ہمیں انجن کے پچھلے ڈبے میں باقی مسافروں کے ساتھ ٹھونس دیا۔ باقی مسافروں نے  ہمارے ساتھ کافی تعاون کیا  جو کہ  نشستوں میں مدد کے ساتھ ساتھ ریلوے کے منتطمین کے غیر مرئی بخیے ادھیڑنے میں بھی شامل تھا۔   ڈیڑھ گھنٹے کی تاخیر کے بعد  ہم  دوبارہ روانہ ہوئے اور اس کے دو گھنٹے  بعد اپنی منزل مقصود تک پہنچے۔اس سارے واقعے کے باوجود ہمارا دل اس پرائیویٹ ٹرین سے کافی حد تک صاف رہا۔  وجہ اس کی یہ تھی کہ جو کچھ ان کے  ہاتھ میں تھا وہ انہوں نے کیا اور قدرے وقت پر  ہمیں پہنچا دیا۔

واپسی کے ہمارے ٹکٹ اسی ٹرین کی واپسی کی گاڑی کے تھے ۔ وقت مقررہ سے کافی پہلے ہم اسٹیشن پر پہنچے تو پتہ چلا کہ ٹرین کی آمد میں دو گھنٹے کی تاخیر ہے۔ خیر کسی نہ کسی طرح وہ دو گھنٹے گذارے جو یقیناً اس سے بہت دیر میں گذرے جتنی ہم کو یہ سطر لکھنے میں لگی۔ دو گھنٹے بعد ہم واپس جب  معلومات کے لیے انہی صاحب سے ملے تو ان کا  کہنا تھا کہ  ٹرین کے انجن میں کوئی خرابی ہوئی تھی  جس کی وجہ سے روہڑی اسٹیشن سے دوسر اانجن بھیجا گیا۔ مگر اس میں بھی کوئی خرابی ہو گئی جس کی وجہ سے  اب  ملتان سے ایک اور انجن بھیجا جا رہا ہے۔ اس سارے عمل میں ان کے مطابق ڈیڑھ سے دو گھنٹے مزید لگنے تھے۔ ان سے مزید استفسار کرنے پر پتہ یہ چلا کہ وہ دو گھنٹے بھی ان کی اپنی سمجھ کے مطابق ہے ورنہ اس سے زیادہ وقت لگ سکتا ہے۔ اس کے بعد یقیناً ہم لوگوں نے وہی کیا جو ہم کو پہلے ہی کر لینا چاہیے تھا۔ یعنی ٹکٹ کینسل کروا کر بس سے روانگی۔ بس کا سفر بھی کیا سفر تھا ۔ ویڈیو اسکرین پر آغاز میں نعتیں لگی تھیں ۔ تھوڑی دیر میں نعتیں قوالیوں میں تبدیل ہو گئیں اور اگلا شہر آتے آتے قوالیاں انڈین گانوں میں تبدیل ہو گئیں۔ گویا مستحب یا مباح سے لے کر بدعت تک اور بدعت سے لے کر حرام مطلق تک کا سفر ہماری آنکھوں کے سامنے طے ہو گیا۔ واضح رہے کہ بالکل یہی طریقہ ہمارے ریڈیو اور ٹی وی چینل بھی اپناتے ہیں۔ جب اس خرافات پر ہمارے ساتھی نے کنڈکٹر کو ٹوکا تو اس نے نہایت خشمگیں نگاہوں سے اسے دیکھا گویا کہہ رہا ہو کہ میاں اس ویڈیو کے چکر میں تو لوگ چڑھتے ہیں ہماری بس میں۔ گانے بہرحال  بند ہو گئے۔ آٹھ گھنٹے کی تاخیر سے جب ہم واپس کراچی پہنچے تو صبح کے آٹھ بج رہے تھے۔ ہمارے بعض ساتھیوں کو دفتر  بھی جانا پڑا  ، آپ خود اندازہ کر لیجیے کہ اس دن کام کا معیار کیا رہا ہو گا۔

کیا ہمارے ٹرین کے نظام کی خرابیاں کوئی حالیہ امر ہے؟ کیا یہ  تمام مسائل حل کرنا بہت مشکل ہے؟ نہیں ، یقیناً نہیں! یہ پچھلے 5 سال کی بات نہیں ہے جس  میں ہمارے سابق وزیر صاحب ریلوے میں اربوں روپے کے ‘مبینہ ‘غبن کے مرتکب ہوئے ہیں اورلوگ ریلوے کی زمینیں، انجن حتی     ٰ کہ پٹریاں تک ‘مبینہ طور پر’بیچ گئے۔ جب سے ہوش سنبھالا ہے ہم نے تو ٹرین کے سفر میں تاخیر ہی دیکھی ہے۔ پاکستانی ریلوے کا نظام  دنیا کے ناقص ترین نظاموں میں سے ہے اور  اس کے لیے کسی سروے کی ضرورت نہیں ہے۔ ریلوے اسٹیشن شہر کے بد ترین مقامات میں سے ایک ہوتا ہے جہاں ایک سے ایک اٹھائی گیرا اپنے فن کے مظاہرے کے لیے موجود ہوتا ہے۔ اور ریلوے اسٹیشن کے بیت الخلاء کے بارے میں کیا کہیں، بس یہی کہیں گے ان کے خیال سے ہی بندہ قبض کی دعا کرتا رہتا ہے۔

  ٹرینوں کی تاخیر کی عموماً ایک ہی وجہ ہوتی ہے، فنی خرابی۔ پرانی پھٹیچر گاڑیوں سے ان کی استطاعت سے بڑھ کر کام لیا جا رہا ہے۔ سرکاری گاڑیوں کا وہ حال ہے جو گنے سے رس نکالنے کے بعد اس کے پھوک کا ہو جاتا ہے۔ پرائیویٹ گاڑیوں کو انجن اور انتظامی سہولیات پاکستان ریلوے دیتی ہے جس کی وجہ سے ان کی کارکردگی  بھی غیر تسلی بخش ہے۔ ہماری اطلاع کے مطابق اکثر گاڑیوں میں مرمت کا کام اتنا بڑا نہیں ہے مگر کوئی پرسان حال تو ہو۔ ہمارے اکثر اداروں کی طرح ریلوے کا مسئلہ بھی قیادت کا فقدان ہے۔ لٹیروں ، چوروں  اور اٹھائی گیروں کے ہاتھ میں مملکت کا اتنا اہم اثاثہ دے دیں گے تو وہ اس کا وہی حال کریں گے جو گاؤں کے کتے اجنبی آدمی کا کرتے ہیں۔ یہ بھی بات کہی جاتی ہے  ٹرین کی ناقص کارکردگی کے پیچھے یہ   ٹرانسپورٹ مافیا ہی ہے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ضرورت سے زیادہ بھرتیاں اور نا اہل لوگوں کو محض ان کی زبان یا پارٹی وابستگی کی بنیاد پر ملازمت دی  گئی ہے۔اور کہا تو یہ بھی جاتا ہے کہ ایک بہت بڑے سیاسی لیڈر اور سابق وزیر اعظم جن کو پھانسی کی سزا دی گئی تھی وہ ابھی بھی زندہ ہیں!

  ٹرین سے سفر کرنے والے اکثر لوگوں کے پاس ہمیشہ وہ وسائل نہیں ہوتےجو الحمدللہ ہمیں میسر تھے، سفر میں تو ویسے بھی اچھے اچھے لوگ مجبور ہو جاتے ہیں۔ اکثر لوگ ٹکٹ خرید کر کسی نہ کسی وجہ سے مجبور ہو تے ہیں کہ اب اسی ٹرین سے سفر کریں جس کا ٹکٹ لیا ہے۔ ہم جب ٹکٹ کینسل کروا رہے تھے تو ان صاحب نے کئی دفعہ یہ  بات کہی کہ آپ تھوڑا سا انتظار کر لیں ٹرین آئے گی ضرور۔ اب اس احمقانہ بات کا بھلا کیا جواب دیا جائے؟ لیکن جواب دے کر کریں بھی کیا، کوئی سننے والا تو ہو۔ بہرحال یہ بات تو طے ہے کہ اب ہماری  توبہ کہ پاکستانی ٹرین سے اس کی موجودہ حالت میں دوبارہ سفر کریں چاہے کوئی کتنا ہی مجبور کر لے کیونکہ یہ گاڑی اب اس طرح چلنے والی نہیں ہے!

پانچ سو سال پرانا میموگیٹ اسکینڈل

Posted in Social revolution by baigsaab on January 14, 2012

سنتے آئے ہیں کہ تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہے۔ شاید بہت سے لوگوں کے لیے تاریخ میں سوائے بوریت کے اور کچھ نہ ہو لیکن واقعہ یہ ہے کہ تاریخ کا مطالعہ نہ صرف آنے والے خطرات کی پیش بندی کا موقع فرہم کرتا ہے بلکہ وہ موجودہ حالات کو بھی ایک مختلف تناظر میں متعارف کرا سکتا ہے۔ آج کل ہمارے ملک کا سب سے بڑا مسئلہ مہنگائی یا بڑھتی ہوئی خودکشیاں نہیں بلکہ ایک ایسا معاملہ ہے جس میں ہمارے ملک کی اعلیٰ ترین مقتدر شخصیات کا ملک دشمن سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا اندیشہ ہے۔یہ معاملہ ہے میمو گیٹ اسکینڈل کا (نہ چاہتے ہوئے بھی یہ مانگے کی اصطلاح استعمال کرنی پڑ رہی ہے ورنہ صدر نکسن کا قصور اتنا بڑا نہ تھا کہ ایسی شرمناک حرکت اس سے منسوب کر دی جاتی) ۔ کہتے ہیں کہ ہمارے ملک کی اعلیٰ مقتدر ہستیوں نے امریکہ بہادر کے ایک جنرل کو لکھا (یا لکھوایا) کہ حضور آپ کی نظر کرم ہو تو ہم یہاں آپ کی من پسند انتظامیہ کھڑی کر دیں گے۔ اور جو کچھ آپ نے مانگا ہے وہ بلکہ جو آپ نہ بھی مانگیں وہ بھی آپ کی نذر کرتے ہیں بس ہمیں اپنی پسندیدگی کی سند دے دیں۔ یہ وہی مقتدر ہستیاں ہیں جو پہلے یہ کہہ چکی ہیں کہ “کولیٹرل ڈیمیج آپ امریکنوں کو پریشان کرتا ہے ہمیں نہیں” یا “آپ ڈرون برسائے جاؤ ہم منہ دوسری طرف کیے رہیں گے لیکن باہر باہر سے احتجاج بھی کریں گے”۔ مسلمانوں کی صفوں میں غداروں کا ہونا کوئی نئی بات نہیں۔ لیکن مسلمان حکمران اپنے کافر آقا ؤں سے باقاعدہ خط و کتابت کے ساتھ غداری کے عہد و پیمان باندھ لیں اس کی مثال ہماری ذلت کی تاریخ میں بھی بہت ہی کم ہے۔ آج ہم اس میمو کو رو رہے ہیں کہ کس نے لکھا اور کیوں لکھا کس نے اس کو طشت از بام کیا اور کیوں کیا، لیکن مسلمانوں کی تاریخ پچھلے ۵۰۰ سال سے چیخ چیخ کر کہہ رہی ہے کہ تب بھی کسی نے ایک میمو لکھا تھا۔ اور مماثلت بس یہیں ختم نہیں ہو جاتی۔

امیر ابو عبداللہ غرناطہ میں مسلمانوں کا آخری حکمران تھا۔ اندلس میں آٹھ سو سالہ مسلم تاریخ کا آخری باب۔ اپنے باپ مولائے ابوالحسن کی پیٹھ پیچھے اقتدار پر قبضہ کرنے کے بعد اپنے اقتدار کو عوامی حمایت دلانے کے لیے اس نے قسطیلہ (کاسٹائل) کی عیسائی افواج پر یکطرفہ چڑھائی کردی اور بری طرح شکست کھا کر جنگی قیدی بنایا گیا۔ قید سے چھوٹا تو اس شرط کے ساتھ کہ اس کو غرناطہ کا اقتدار واپس دلایا جائے گا تاکہ وہ غرناظہ کی بغیر کسی مزاحمت کے عیسائی حکومت میں شامل ہونے کو یقینی بنائے۔ ابو عبداللہ نے واپس آنے کے بعد اپنے اقتدار کے آخری دن تک ہر روز شاید اسی کوشش میں گزارا کہ وہ کس طرح زیادہ سے زیادہ مال اکٹھا کر لے اس سے پہلے کہ اقتدار چھوڑنا پڑے۔ اس کام میں اس کے معاون اس کے وزرا ء اور امراء بھی تھے اور پورے حکمران طبقہ میں مشکل ہی کوئی ہو جو اس بہتی گنگا میں ہاتھ نہ دھو پایا ہو۔ اس تقریباً سات سال کے عرصے میں لا تعداد دفعہ خط و کتابت ہوئی اور ان میں سے کئی کو محفوظ کر لیا گیا، ڈاکٹر حقی حق نے اپنی کتاب “ہوئے تم دوست جس کے” میں ان کا ذکر کیا ہے اور نسیم حجازی کے “شاہین” سے تو ہماری اکثریت واقف ہی ہے۔ ان “میمو جات” میں کبھی تو امیر ابو عبد اللہ نے لکھا کہ کسی شورش یا ہنگامہ کی صورت میں غرناطہ کی حفاظت کی جائے کیونکہ ہم اپنے دفاع کے لیے آپ کی طرف دیکھتے ہیں۔ تو کبھی جوابی خط میں فرڈینینڈ نے ابو عبد اللہ کو لکھا کہ تمہارے وزیر ہم سے زیادہ کا مطالبہ کر رہے ہیں کیا تمہارے علم میں نہیں؟ کبھی فرڈینینڈ نے ابو عبداللہ سے ایک خط میں “ڈو مور” کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم تمہارے وزراء سے بات کرتے ہوئے تمہارے مفادات کو ترجیح دیتے ہیں۔ لیکن تم پر ہماری عنایات اسی وقت تک ہیں جب تک تم عیسائی حکمرانوں کے مفادات کا خیال رکھو۔ اور سگ ذہنی کا پاتال وہ عبارت بھی موجود ہے جو مسلمان وزراء نے ایک مشترکہ خط میں لکھی کہ اے شان والے بادشاہ، ہم تمہارے حضور حاضر ہو کر تمہارے ہاتھ چومنا چاہتے ہیں اور تمہارے جسم کا ہر وہ حصہ چومنا چاہتے ہیں جس کی کہ اجازت دی جائے تاکہ ان غلاموں کی وارفتگی تم خود دیکھ لو!

لیکن صحیح معنوں میں اس دور کا “میمو” اگر کسی خط کو کہا جا سکتا ہے تو وہ وہ کتابت ہے جو عبداللہ اور اس کے وزیروں نے غرناطہ کو عیسائی حکمرانوں کے حوالے کرنے کے عوض اپنے لیے مراعات کی ضمانت حاصل کرنے کے لیے کی تھی۔ اس خط میں موجود چند شرائط یہ ہیں :

-سقوط غرناطہ کے وقت عبداللہ کو تین لاکھ ماراوید ( کرنسی) کی ادائیگی
-المیریا میں زرخیز زمین
-شاہی خواتین کو زیورات اور بناؤ سنگھار کی چیزیں فروخت کرنے کی اجازت
-عبداللہ اور اس کے امراء کے اموال محفوظ قرار دیا جانا
-الحمراء پر قبضہ کے وقت عبداللہ اور گورنر غرناطہ کو دس دس ہزار سکہ نقد دیے جانا
-جو کسان عبداللہ اور اس کے امراء کے لیے غلہ اگاتے ہیں ان کے تحفظ کی ضمانت

یہ خط ایک کافر بادشاہ کو ایک مسلمان بادشاہ کی طرف سے تھا۔ ایک ایسا مسلمان بادشاہ جس کے سامنے دو میں سے ایک راستہ تھا۔ یا تو عیسائی قوت کے آگے ڈٹ کر کھڑا ہو جائے اور اللہ کی نصرت پر بھروسہ رکھے۔یا اس قوت کے سامنے سے ہٹ جائے اور اپنی اور اپنے خاندان کی بہتری کا خیال کرے۔ بادشاہ نے دوسری راہ اختیار کی اور تاریخ گواہ ہے کہ وہ کوئی بہت زیادہ جیا بھی نہیں اور مرا بھی تو اس حال میں کہ اس کی لاش دریا کے کنارے پڑی تھی اور گھوڑے اسے روند رہے تھے۔ اس خط کے 6 سال بعد غرناطہ پر اسلام کا پرچم غروب ہو گیا۔ اور اس دن سے لے کر آج کا دن ہے، اندلس میں اسلام کبھی واپس نہیں آیا۔ عبداللہ پر شاید اس کی اوقات سے بڑی ذمہ داری آگئی تھی اور اس نے اس ذمہ داری سے ہر ممکن پہلو تہی کرتے ہوئے اپنے تحفظ کو مقدم رکھا۔ اس نے اپنی عوام کو یقیناً یہ باور کرایا ہو گا کہ اس معاہدے میں ہی ہماری بقاء ہے ورنہ ہمارا “تورا بورا” بنا دیا جائے گا۔ یا فرڈینینڈ ہمیں “پتھر کے دور” میں پھینک دے گا۔ اور سقوط کے معاہدے میں بظاہر مسلمانوں کے حقوق کا تحفظ کیا گیا تھا مثلاً انہیں زبردستی عیسائی نہ بنائے جانے کی یقین دہانی اور ان کے جان و مال کا تحفظ لیکن عملاً ایک بار جب عیسائی قابض ہو گئے تو مسلمانوں کے لیے معاہدے کی کسی ایک شق پر بھی عمل کرانا ناممکن تھا۔ مسلمانوں کو زبردستی عیسائی بھی بنایا گیا اور ان کے جان و مال زبردستی چھینے بھی گئے۔ لیکن یہ شاید ان کی غفلت کی قیمت تھی کہ انہوں نے اپنے اس بادشاہ پر بھروسہ کیا تھا جس نے ان کو اقتدار میں آنے سے پہلے ہی بیچ دیا تھا۔

۱۴۹۲ کے اندلس اور آج کے پاکستان میں صرف یہی مماثلت نہیں ہے کہ ان کا بادشاہ بھی جیل سے نکال کر بادشاہ بنایا گیا تھا۔ یا اس کے بادشاہ بنائے جانے میں بھی کسی پاور ڈیل کا دخل تھا۔ یا یہ کہ اس کے وزیر کا نام بھی یوسف تھا۔ یا یہ کہ اس نے بھی اپنی خودغرضی کو وسیع تر قومی مفاد کا نام دیا تھا۔ یا یہ کہ تب بھی ایک میمو لکھا گیا تھا اور آج بھی۔ بلکہ ہمار ے لیے سب سے بڑی مماثلت یہ ہے کہ اس وقت کے عوام بھی اپنے کام دھندوں میں لگے رہے۔ معاملات کی جو تصویر ان کو حکام نے دکھائی وہ دیکھی اور خبردار کرنے والوں کی بات پر کان بھی نہ دھرے۔ حکام شریعت سے روگردانی کرتے رہے ، مملکت کے دفاع کے سودے کرتے رہے اور عوام اپنے کام دھندوں اور کھیل تماشوں میں لگے رہے۔ اس وقت بھی،آنے والے حالات کی سنگینی سے آگاہ کرنے والوں کو “میسینجرز آف ڈوم” یا “تباہی کے قاصد” کہا گیا ہو گا۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہاں غرناطہ میں اسلا م کا پرچم سرنگوں ہوا اور وہاں مسلمانوں کی کم بختی شروع۔ یہ منظر بھی تاریخ کے اوراق میں موجود ہے کہ ایک طویل قطار میں لوگ اپنی باری کا انتظار کر رہے ہیں اور زار و قطار رو رہے ہیں کہ یہ لائن داڑھی کٹانے کے لیے ہے۔ اور یہ بھی کہ مسلمان پردہ دار بیبیوں کو بپتسمہ دیا جا رہا ہے۔ اور یہ بھی کہ مسجدوں میں عیسائی فوجیوں کے گھوڑے بندھے ہیں ۔ اور “انکوئیزشن” کا نام تو غیر مسلم مؤرخین کے سامنے بھی لیں تو وہ بھی کانپ جاتے ہیں۔

پھر لکھتا ہوں، تاریخ پڑھنے سے مستقبل کانقشہ واضح ہوتا ہے۔ یہ سطریں صرف تفنن طبع کے لیے تحریر نہیں کی گئیں بلکہ اس خطرے سے آگاہ کرنے کے لیے ہیں جو ہمارے سروں پر منڈلا رہا ہے۔ اندلس کی تاریخ کے مطالعہ کے وقت ہمیشہ یہی سوچ ذہن میں رہتی تھی کہ کیا اس دور کی عوام اندھی تھی کہ اس کے سامنے اتنا بڑا کھیل ہو گیا اور اسے خبر بھی نہ ہوئی۔ لیکن آج ہمارے ساتھ بھی کچھ ایسے ہی کھیل کھیلے جا رہے ہیں۔ آج ہمارے لیے بجلی، گیس اور دوسری چیزوں کی قلت پیدا کر کے دھیان ان چیزوں میں لگا دیا گیا ہے جیسے یہ دنیا کی سب سے ضروری چیزیں ہوں۔ دوسری طرف ایک سیاسی تماشہ ہے جو کبھی نئےصوبوں کے نام پر اور کبھی انتخابی ہنگامے کے نام پر رچایا جاتا ہے۔ اس سب کے بیچ نیٹو کے سامنے خم ٹھونک کر کھڑے ہونے کی ادا بھی دکھائی گئی ہے جس سے انہیں ہم پر حملہ کرنے کا جواز ملتا نظر آرہا ہے۔ لیکن شاید ان سب سے بھیانک بات یہ ہے کہ گزشتہ کئی سالوں سے دھیرے دھیرے ہمیں اس بات کا عادی بنایا جا رہا ہے کہ ہم کفر کے نیچے رہنے کے لیے راضی ہو جائیں۔ ہمارے ملک میں ہر سال کئی لوگ اصلی اور جعلی طریقے سے بیرون ملک جا رہے ہیں اور وہاں مستقل رہائش اختیا رکر رہے ہیں اور جب وہ لوگ وہاں موجود سہولیات کا ذکر کرتے ہیں تو ہمارے یہاں موجود لوگوں کے دلوں میں بھی ارمان پیدا ہوتا ہے کہ کاش ہمارے یہاں بھی ایسا ہوتا۔ لوگوں کی ایک کثیر تعداد کی نظر میں کامیابی کی معراج امیگریشن ہے۔ اس صورتحال میں ہماری اکثریت کا کسی کافرانہ نظام کو قبول کر لینا بعید از قیاس نہیں۔ لیکن یاد رکھیے، ان طاقتوں کے اصول اپنے لیے کچھ اور ہیں اور ہمارے لیے کچھ اور۔ یہ تجربہ آج سے ۵۰۰ سال پہلے اندلس کے اور پھر افریقہ کے مسلمانوں کو، اس کے بعد ریڈ انڈینز کو اور ماضی قریب میں عراق اور افغانستان کے مسلمانوں کو ہو چکا ہے۔

اس سال ۲ جنوری کو غرناطہ میں اسلام کا پرچم سرنگوں ہوئے ۵۲۰ سال ہو گئے۔ کفر کی چالبازیاں اور مسلم حکمرانوں کی غداریاں اب بھی اس ملت کو لاحق ہیں۔ لیکن ہم سے ہمارے عمل کا ہی سوال کیا جائے گا ان کےنہیں۔ بحیثیت قوم ، ایک با کردار قیادت کی ضرورت جتنی آج ہے اتنی شاید پہلے کبھی بھی نہیں تھی۔ تاریخ کے اوراق ہمیں با آواز بلند متنبہ کر رہے ہیں کہ امت مسلمہ نے جب بھی اپنی قیادت کے لیے شریعت کے علاوہ کوئی اور معیار اختیار کیا تو اسےمنہ کی کھانی پڑی۔ وقت کا تقاضہ ہے کہ ہم قیادت کے بارے میں اپنے نظریات کو تبدیل کریں اور با عمل علماء کو اس بات پر مجبور کریں کہ وہ حالات کی باگ ڈور سیاسی مولویوں کے حوالے کرنے کی بجائے اپنے ہاتھ میں لیں۔ بصورت دیگر حالات اگر اسی طرف چلتے رہے تو وہ دن دور نہیں لگ رہا جب، خاکم بدہن، اسلامی جمہوریہ پاکستان نہ اسلامی رہے نہ پاک بلکہ ایک جمہوری استھان بن کر رہ جائے۔ تب شاید ہمیں ابو عبداللہ کی ما ں کی وہ بات سمجھ میں آئے جو اس نے اپنے بیٹے کو روتے دیکھ کر کہی تھی کہ “جس زمین کی حفاظت تو مردوں کی طرح نہ کر سکا اب اس کے لیے عورتوں کی طرح آنسو کیوں بہاتا ہے”۔

شاید ۵۰۰ سال بعد تاریخ نے ایک ماں کا یہ سوال ہمارے سامنے دوبارہ لا کھڑا کیا ہے، کیا آپ کا جواب تیار ہے؟

کنویں کے عوام

Posted in Islam, Rants, Social revolution by baigsaab on November 23, 2011

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک کنویں میں کچھ مینڈک رہتے تھے. ویسے تو ان کی زندگی میں کوئی مسئله نہیں تھا لیکن ان کا کوئی بادشاہ نہیں تھا.اسی پریشانی میں ان کے دن رات بسر ہو رہے تھے کہ ایک دن کہیں سے لکڑی کا ایک بڑا سا شہتیر آن گرا. زور کا چھپاکہ ہوا اور کنویں میں، جو ظاہر ہے ان کی پوری دنیا تھی، بھونچال آگیا. سب مینڈک ادھر ادھر چھپ گئے. آنکھوں آنکھوں میں ایک دوسرے کو اشارے کیے گئے. ” یہ تو کوئی بہت ہی طاقتور مخلوق لگتی ہے!” “ہاں ہاں اس کو اپنا بادشاہ بنا لیتے ہیں” چنانچہ سب کے سب دست بستہ اس لکڑی کے تختے کے آگے آئے اور عرض کی “مہاراج، آپ کی بہت مہربانی کہ آپ ہماری دنیا میں تشریف لائے.ہم آپ کو اپنا بادشاہ بنانا چاہتے ہیں.” لکڑی کی خاموشی کو رضامندی سمجھ کر انہوں نے اس کو اپنا بادشاہ بنا لیا. روز اس کے سامنے پیش ہوتے اور اپنے فیصلے کراتے.دن گزرتے گئے اور بادشاہ کی خاموشی سے مینڈک بور ہونے لگے. ان کو لگتا تھا کہ بادشاہ کو ذرا دبنگ ہونا چاہیے. اور پھر ایک دن ایک گستاخ مینڈک بادشاہ کے اوپر بیٹھ گیا. پہلے تو سب نے بہت شور مچایا اور اس گستاخ کو سنگین نتائج کی دھمکی دی لیکن بادشاہ کی خاموشی نے ا وروں کو بھی شہہ دی. ایک ایک کر کے سب لکڑی کے اس تختے پر چڑھ گئے اور بالآخر بادشاہ کو “معزول” کر دیا گیا. ابھی اسی ادھیڑ بن میں تھے کہ اگلا بادشاہ کہاں سے لائیں کہ ٹھیک اسی طرح ایک بڑا سا اژدہا نہ جانے کہاں سےکنویں میں آن گرا. پھر وہی زور کا چھپاکہ اور مینڈکوں کی پہلے روپوشی، پھرآنکھوں آنکھوں میں بادشاہ کا انتخاب اورپھر برآمدگی . اب جو مینڈک “تاج پوشی” کے لئے باہر آئے تو بادشاہ سلامت نے آؤ دیکھا نہ تاؤ، جھٹ اپنی رعایا کی طرف لپکے اور پوری عوام کو ایک منٹ میں اپنے پیٹ میں پہنچا دیا. پیٹ میں پہنچ کر مینڈکوں کا کیا رد عمل تھا، اس بارے میں راوی خاموش ہے.

سمجھ نہیں آتا کہ اس کو اپنی قوم کی بدقسمتی کہوں یا انشاء جی کی تحریر کی شگفتگی کہ ۴۰ سال گذرنے کے باوجودان کی اس حکایت کو اپنے عوام پہ مکمل طور پر پورا ہوتے دیکھ سکتے ہیں.کسی سے پوچھ لیں بھائی قیادت کو کیسا ہونا چاہیئے. جواب ملے گا کہ بھائی مخلص ، با صلاحیت اور دیانت دار. پوچھو کہ مسلمان حکمرانوں میں پسند کون ہے، جواب حضرت عمرؓ . پوچھئے یہاں کے حالات کیسے صحیح ہونگے تو جواب اسلام. انگریزی محاورہ ہے کہ اگر خواہش گھوڑا بن سکتی تو ہر فقیر شاہ سوار ہوتا. ذرا ایمان داری سے سوچئے کہ ہمارے کتنے فیصد عوام اپنی دعاؤں میں یہ مانگتے ہونگے کہ اللہ ہمارے صدر وزیر اعظم کو سچا پکا مسلمان بنا دے. کس نے کبھی اپنے ملک کے صدر ، یا گورنر یا علاقے کے ناظم کے پیچھے نماز پڑھنے کی خواہش کی ہوگی جبکہ خلفائے راشدین اور ان کے عمال (گورنر) اپنے لوگوں کو خود نماز پڑھاتے تھے.

گنتی کے چند لوگوں کو چھوڑ کر ہمارے نصیب میں آئے تو ایسے کہ جو یا تو میر جعفر کی اولادوں میں سے تھے (جی ہاں، پاکستان کے ایک صدر صاحب میر جعفر کی اولادوں میں سے تھے!!!) یا جن کو اپنا اتنا ہوش بھی نہیں تھا کہ قضائے حاجت کے لئے کسی بین الاقوامی کانفرنس کے لان کا انتخاب مناسب نہیں . یا وہ جنہوں نے روشن خیالی کا مطلب یہ لیا کہ بغل میں دو کتے دبائے اور تصویر کھنچوا لی یا وہ جن کو اتنا بھاری مینڈیٹ ملا کہ اس کے نیچے آکر وہ ملک کو سود سے پاک کرنے کا نادر موقع گنوا بیٹھے. یا وہ جن کی ایک نہیں دو نہیں تیسری نسل اقتدار کے مزے لوٹ رہی ہے اور لوٹتی چلی جا رہی ہے. ایسا کیوں ہے؟ ہماری پوری تاریخ میں بابائے قوم کے بعد شاید ملک معراج خالد ایک ایسے شخص تھے کہ جو واقعی عام لوگوں کی طرح رہتے تھے . نگران ہی صحیح لیکن وزیر اعظم تو تھے. عام لوگوں کی طرح اکنومی کلاس میں سفر کرتے تھے. اپنے گھر کو وزیر اعظم ہاؤس کا درجہ دیا نہ کہ خود اپنے تام توبڑے سمیت سرکاری محل میں جا بیٹھتے. لیکن کیا ہوا؟ آج کیا کسی کو یاد بھی ہے کہ ہمارے ملک میں محض ١٥ سال پہلے ایسا دور بھی آچکا ہے کہ جب وزیر اعظم عام لوگوں کی طرح رہتا اور گھومتا پھرتا تھا؟

اگر خدا لگتی بات کریں تو اس وقت عوام کا سیاست دانوں پر سے اعتبار مکمل طور پر اٹھ چکا ہے. وہ سیاست جو بنی اسرائیل میں انبیاءجیسی پاکیزہ ہستیاں کیا کرتی تھیں ، آج ایسا لفظ بن گیا ہے جس کے مطلب جھوٹ، دھوکہ ، بد عہدی اور بہتان طرازی ہو کر رہ گیا ہے.یہ وہ لوگ ہیں جو کبھی تو ایک دوسرے کو غلیظ القابات سے نوازتے ہیں، پھر “ملک کے عظیم تر مفاد” میں ان سے اکٹھ بناتے ہیں، اور پھرانہی سے ہاتھا پائی بھی کر بیٹھتے ہیں. پھر مل جائیں گے، پھر روٹھ جائیں گے. غرض جو بھی کرتے ہیں، لگتا یہ کہ عوام کو اس سے کوئی سرو کار ہی نہیں ہے کہ یہ کیا کر رہے ہیں؟ دیکھا یہ گیا ہے کہ ہر کوئی روزانہ TV اس امید پر کھولتا ہے کہ شاید کوئی نیا تماشا دکھ جائے. اور مایوسی نہیں ہوتی. کہیں کوئی قرآن سر پر اٹھا کر اپنے آپ کو معصوم اور دوسرے کو قاتل قرار دے رہا ہے تو کہیں ایسا جواب دیا جا رہا ہے کہ لوگ سوچتے ہی رہ گئے کہ کہا کیا؟ لگتا ایسا ہے کہ ان تمام جماعتوں اور لیڈروں کو پتہ ہے کہ عوام کے چاہنے نہ چاہنے سے کچھ نہیں ہوتا، طاقت کے مراکز کہیں اور ہیں اور ان کو خوش رکھنےمیں ہی اقتدار ملتا ہے. اور یہ جو جملہ ہوتا ہے نا کہ “یار یہ سب ملے ہوئے ہیں” یہ کسی ایک قومیت کے لوگوں میں محدود نہیں ہے. تو ایک دفعہ جی کڑا کر کہ یہ تسلیم کر کیوں نہیں لیتے کہ ہاں بھائی ہماری پسند اور ہے اور ترجیح اور.یہ کہ وہ جو ہم چاہتے ہیں کہ ہم پسند کریں وہ اور چیز ہے اور وہ جو ہمیں واقعی پسند ہے وہ اور. اس سے اور کچھ ہو نہ ہو کم از کم اس دو عملی سے تو جان چھوٹ جائے گی جس میں قوم آج مبتلا ہے.

ویسے قائدین کے اس قحط الرجال کی ذمے داری ایک حد تک علماء پر بھی آتی ہے. انہوں نے خانقاہوں تک اپنے آپ کو محدود کر کے سمجھا کہ حکومت کرنا کسی اور کا کام ہے. ظاہر ہے کہ نظام کوئی خلاء نہیں ہوتا اگر اچھی قوتیں اقتدار پر قبضہ نہیں کرتیں تو بری قوتیں تو آئیں گی ہی. اسلام میں عہدے کی خواہش کرنا اور اس کے لئے تگ و دو کرنا کوئی پسندیدہ بات نہیں ہے لیکن جیسا کہ ہمیں حضرت یوسفؑ کی سیرت میں ملتا ہے کہ اگر متبادل قیادت میں کوئی دیانت دار شخص نہ ہو تو عہدے کو لے لینا غلط بھی نہیں. علماء نے بہرحال احتیاط کو ترجیح دی او رحکمرانوں کو مشوره دینے اور بعض صورتوں میں سرزنش کی حد تک اپنے آپ کو محدود رکھا. اور اگر اسلاف میں تابعین اور تبع تابعین کا طرز عمل دیکھیں تو انہوں نے بھی یہی کیا. لیکن اس وقت میں اور اس وقت میں چند بنیادی فرق ہیں . اور وہ یہ کہ ایک تو اس وقت شریعت کا نظام نافذ تھا. جو بھی برائیاں تھیں وہ بادشاہ یا طبقہ امراء کی حد تک تھیں. دوسرے یہ کہ عوام کا تعلّق علماء کے ساتھ بہت مضبوط تھا. اکثریت کی نظر میں معروف معروف تھا اور منکر منکر.جبکہ آج آوے کا آوا بگڑا ہوا ہے. غرض آج کے اس دور میں جبکہ عوام کی سطح پر شریعت پر عمل تقریبا مفقود ہو گیا ہے،جیّد علماء کے لئے کلمہ حق کو بلند کرنا اور بھی ضروری ہو گیا ہے.

جاتے جاتے اس بات پر غور کر لیں کہ جیسا دودھ ہوتا ہے ویسی ہی بالائی ہوتی ہے. تو جیسی دوغلی قوم ہے ویسے ہی اس کے حکمران. ہمارے نزدیک قائد کو ذرا بھرم باز ہونا چاہیے. جس سے سب ڈرتے ہوں اور جس کے قول و فعل میں بھلے تضاد ہو تو ہو لیکن بات کرے تو سب کو چپ کرا دے. نماز بھلے نہ پڑھے لیکن قرآن کے معنی سمجھا دے بھلے غلط ہوں. اور لیڈر کی شرعی داڑھی کا مطلب تو یہ کہ وہ قیادت کے لائق ہی نہیں.غرض ہم لوگوں کے نزدیک شریف آدمی بیوقوف ہوتا ہے اور تیز آدمی کارآمد. کیا کروں کہ بات اسی کنویں کے مینڈکوں تک واپس آگئی کہ جو شاید”بھولے بادشاہ” پر صبر کر جاتے تو خوش رہتے. اژدہے کے پیٹ میں نہ جانے کیا سوچتے ہونگے. لیکن کیا کریں کہ راوی ایسے بے وقوفوں کے بارے میں چپ ہے!

Blasphemy Law and The Dilemma of the Apologists!

Posted in Islam, protest by baigsaab on December 8, 2010

A few years back there was a huge uproar in the Muslim communities around the world over the Danish cartoon controversy. Protests in some parts such as Pakistan turned violent and angry mobs damaged private property apart from burning effigies of the culprits. This scribe had written a piece- in fact a series of articles– back then urging people to just ignore these insults as, in my opinion back then, that’s the only suitable reply. Apart from that, the series also tried to prove from the Seerah of RasooluLLAH (s.a.w.) and Sahaba (r.a.) that they always dealt with blasphemous behavior in the same way.

Well, I have to confess, I was ignorant of our history and I was foolishly wrong!

I guess now that I’ve read and heard a bit of our history (still not all of it obviously), I can tell you that there’s overwhelming evidence that the only suitable punishment against blasphemy to RasooluLLAH (s.a.w.) and all the prophets of ALLAH (s.w.t.) is death, and a swift one at that! Not only there’re instances that Sahaba (r.a.) killed blasphemers but they did so with the approval, and in some cases orders, of RasooluLLAH (s.a.w.).

Ka’b ibn Ashraf, Abu Rafay, Ibn Khatal and his two slavegirls, a jewish woman in Medina and lots of others are such criminals that were slain by Sahaba (r.a.) and, as is reported in numerous Hadith, with orders or approvals of RasooluLLAH (s.a.w.). Some were set up, some ambushed, some immediately killed, some properly executed.

The fact that such an important part of Seerat un Nabi (s.a.w.) is one of the most obscure ones is a mind-boggling phenomenon. We’ve been taught in our schools and colleges and higher levels that Islam is a religion of tolerance, that RasooluLLAH (s.a.w.) always fought when war was thrust upon Muslims and that RasooluLLAH (s.a.w.) pardoned each and every one of his enemies – even the killers of Hadhrat Hamza (r.a.)- on the day of Fath Makka,.

It turns out that we’ve been told only partial truths!

The history that we have been studying in our course book has been contorted; the Truth has been misconstrued. The roots of the current science-centric education system that we are following in Pakistan, can be traced back to two major movements historically: a) Malthusianism[1] and b) the Ali Garh movement[2]. It was with the efforts of Sir Syed Ahmed Khan that Muslims started studying the sciences and English language and his services can’t be denied. Yet, it was also largely due to his influence that Muslims, early after, adopted the already corrupt and infected education system set by British East India Company.

The advent of this modern education in Muslims became the main cause of promotion of a more docile version of Islam. A docile, rather toothless, version of Islam that practices non-violence to the core and goes to war only when war is thrust upon it. While that’s not entirely untrue, it’s not the whole truth either. There are countless examples when the offensive was taken by Muslims and took the Kuffar by surprise. Ghazwa Badr was well and truly the first proper battle between Muslims and Kuffar but what’s not told to us is that there were as many as eight military expeditions sent or led by RasooluLLAH (s.a.w.) before the battle of Badr. Each of those expeditions paid dividends and a large area in Hijaz which was earlier under allegiance with Quraish either became a Muslim ally or became neutral. Also, there’re a lot of examples of preemptive strikes out of which the famous battle of Khyber and the battle of Bani Al-Mustaliq are famous. Reading our history in this way casts a totally different light altogether to how we should go about our religious duties. But by and large, these incidents have been obscured by our education system and either inadvertently or intentionally created breeds after breeds of apologists whose life’s work is to deny such important elements of our history.

Some glaring examples can be found in response to the recent case of Aasia Maseeh, the woman convicted of blasphemy against RasooluLLAH (s.a.w.). While there are liberal fascist making raucous noises to repeal the blasphemy law altogether, there are also some apologists, senior opinion-makers in the print and electronic media, who are trying to remind us of the tolerance in our religion, that a mother of 5 children – one of which is disabled- should be pardoned, especially after she says she’s sorry. There are also such daft columnists who see Salman Taseer’s hasty visit with his family to the convicted woman in prison and conducting a press conference there as an act out of empathy. It’s beyond words how disgusted the people of Pakistan are with the efforts of the ruling class to have a convict of blasphemy pardoned, that too on the orders of Pope Benedict, while the same ruling elite is tightlipped over the abduction and illegitimate trial of Dr Aafia Siddiqui.

But even if we assume that the government will go the whole nine yards to get Aasia removed to some western country, it seems appropriate at this point to see if pardoning Aasia Maseeh is within the power of the government or not.

Apologists claim that RasooluLLAH (s.a.w.) pardoned everyone who ever said anything foul to him. They give the examples of the women who threw garbage on RasooluLLAH (s.a.w.) daily, whom he (s.a.w.) had visited when she’d fallen ill. They also give the examples of conquest of Makka (Fath Makka) when he (s.a.w.) pardoned everyone in Makka. They also claim Aasia Maseeh said she’s sorry and has hence repented. They also say that Aasia is a non Muslim and Muslim capital punishment is not applicable to her. They say she’s a women and she’s poor so she should be pardoned. That we should pardon her to show goodwill towards west and thus pave the way to Islam’s preaching.

First of all, the amnesty on the day of the Fath Makka was for everyone, except there was a black list. A list of those who were to be slain even if they were found hanging with the curtains of Kabba, the most sacred of sacred places on earth. Ibn Khatal, as it goes, was found exactly in this situation and still was executed. There were two slavegirls of Ibn Khatal who used to sing absurdities against RasooluLLAH (s.a.w.) and they were also in that list. It’s important to note that they were also women like Aasia, they were also non-muslims like her, they probably were also poor, in fact they were slaves and hence had no free will, still they were executed. Ibn Taimiyah says that it shows that blasphemy against RasooluLLAH (s.a.w.) is an even greater crime than murder.

Secondly, even if we agree that RasooluLLAH (s.a.w.) pardoned some when he found it appropriate, it should stand as his prerogative and that’s it. Now we can’t pardon anyone on his behalf. Neither the government, nor the complainant.

Thirdly, even if she’s sorry for what she did doesn’t make her crime any milder. It’s similar if a murderer on the death row says he’s sorry, doesn’t absolve him of his crime. After all we’ve just seen that the crime that was perpetrated here was bigger than murder. It’s the verdict of scholars new and old, that the perpetrator of blasphemy should be killed immediately and not to be given a chance.

Lastly, we shouldn’t pardon her to just show our goodwill towards the west. Just to show how tolerant we are. That’s the most absurd excuse to do something equally absurd. If we had dealt with blasphemers in the way of Sahaba (r.a.) lately, our outlook would be a lot more different from it is today. It’s because of this tolerant behavior that any tom, harry or dick could say or write what he likes about our sacred personalities. If Salman Rushdi had been slain back then in the eighties, or Tasleema Nasreen back in the nineties, or the perpetrators of the European newspapers controversy had been killed back then, we would be a lot better off than we are today. Every time something like this happens, our response has grown weaker. And now it has come down to the point where our government is trying to dodge its public to provide safe passage to a convict of blasphemy. I seek refuge with ALLAH (s.w.t.) from the day when our public would be trying to save such a criminal from punishment.

As an afterthought, we probably should agree with the liberal fascists on one thing. That the blasphemy law should be repealed altogether. As it happens, having a law for a crime makes the punishment predictable. And when something is predictable it’s all the more defendable. If there’s no blasphemy law, then public would do justice on its own. The anticipation of punishment would be all the more painful for the perpetrators as the punishment itself.

There would be a Ghazi Ilm Deen Shaheed on every street, every city! 


[1] Malthusianism refers to the political/economic thought of Reverend and indirect employee of British East India Company Thomas Robert Malthus, whose ideas were first developed during the industrial revolution. It follows his 1798 writings, An Essay on the Principle of Population, which had a great impact on the way British East India Company managed India; it had a great impact on economic\political\education policies of Great Britain.
[2] Aligarh Movement was the movement led by Sir Syed Ahmed Khan, to educate the Muslims of the Indian subcontinent after the defeat of the rebels in the Indian rebellion of 1857.

Pakistani ExPats are ashamed but not for reasons they should be!

Posted in Social revolution by baigsaab on May 14, 2010

“Think of the press as a great keyboard on which the government can play.”, so said the same Joseph Goebbels who’s linked to the famous quote “If you tell a lie big enough and keep repeating it, people will eventually come to believe it”.

Despite West’s claim of despising the Nazis, they’ve fondly adopted the standards set by Hitler’s propaganda machine, and they’ve improved it to near perfection. Over the course of the last decade, the western media have trumpeted with untiring consistency a claim that has now taken its root in the minds of not only the general public in the west, but also the victims of that claim!

The claim? “Muslims are terrorists”… Ok not all Muslims are terrorists, but those that we call are definitely them, so say the west. This lie has been repeated with such focused concentration and in so many different formats and versions – through movies, news, novels, social media- that it is now accepted as fact. So much so that whenever a new terrorism incident takes place, Muslims, especially Pakistanis, are the first to condemn it and after finding out the accused was indeed a Muslim brother or sister, start alienating him from the global Muslim brotherhood. In essence, before the trial is even begun, the accused is convicted by his own people and actual case proceedings remain only a formality!

This behavior is most evident in the recent case of Faisal Shahzad, the Time Square bombing “suspect”. Ever since it was reported that he could be the major hand in plotting probably the biggest car bomb in recent history, internet was exploded with apologies from Pakistanis across the globe. Pakistan’s most watched channel was angry that this person has brought shame to the entire Pakistani nation and his own family. Most of the blogs and their commenters rued the fact that he threw away his carefully built “American Dream” just like that. Pakistani ex-patriots feared even more strict vigilance over them, while believing this “fanatic should be jailed for life”. All in all, their verdict is, guilty as charged!

However, one felt there’s something missing from this whole story, the other side of course! Even though Faisal Shahzad can now boast a wikipedia page , that’s probably not for reasons he’d have liked himself. That page is full of stories mentioning different facets of the case- some claiming he dumped his documents in the home he had abandoned quite a while ago- but they didn’t, even for a single line, give a piece of what Faisal Shahzad says. It’s totally one sided. And to put it mildly, that stinks! But somehow this fact is missed by all involved. There has been absolutely no access to him by our government or by other Pakistani coummunity members, at least not publicly available.

The report that his documents were found from his “abandoned” house is so ridiculous that it shouldn’t have made it to the press in the first place. What would a person, allegedly looking to bomb his way into FBI’s most wanted list, be doing in his old house is beyond logic and beats a level headed reader. Other claims are that he had gone to his birthplace Peshawar on his recent visit ; started wearing all blacks and remaining serious while stealthily walking across his backyard, that’s neighbor’s reports, he was seen posing on Times Square was also a claim. That his documents had cards from someone wishing him well were also pertinent for some reports. Huffington post even attempted to sneak into his Facebook profile only to put the blame on another Faisal Shahzad. Such is the state of electronic media and citizen blogs. Whatever happened in Pakistan is another matter.

When I asked a few Ex-Patriots, their opinion was that it’s an open and shut case – he plotted a crime, failed, got arrested, gave up his rights and admitted! I was amazed, appalled really to see how much faith they have in “their” media and government is saying, otherwise any Pakistani knows how people can be made to confess under duress. Besides, in most laws, confessions under custody weigh nothing unless they’re given in front of legal authority. If an accused declines to testify on his confession it may be called a mistrial.

I invite you to put yourself in Faisal’s shoes. You’re an average Pakistani living in the US trying to consolidate your career there. You’re very apprehensive of any indication of extremism from any of your acquaintances. You try to live by the sidelines. You’re boarding a flight to Pakistan; suddenly you get arrested, finding you’re on TV across the world. Authorities give you two choices, confess the crimes handed to you and face some years in Guantanamo Bay Prison or get ready for trial find yourself guilty as charged and still go to Gitmo facing life sentence. You’ve heard of water boarding, you’ve heard of electric shocks, you’ve heard of stories of blood hounds in Abu ghuraib jail. You’re an innocuous, in fact scared, person. You’re left with no choice but to admit the crimes which you didn’t hear before that day. Under duress, any scared person would do what he did.

For most people my theory would seem laughable but Dr Shirin Mazari also smells a rat in this whole story. I don’t trust American justice system and for good reason. It’s discriminatory! It has been discriminating on grounds of race, religion and color. This is not a matter of today, it’s been happening since the first day an Italian set foot on this soil. America bombs more Pakistani civilians daily in drone attacks then it has lost soldiers in Afghanistan. Pakistani blood, Muslim blood is so cheap that even thousand Muslims don’t equate an American life. Is that justice? My apologies to US lovers but any country who had laws legalizing lynching only 50 years ago and has killed more people than Hitler and Halaku combined has to do a lot more than just lip service to gain Muslim’s confidence.

Lastly, Pakistanis living in America shouldn’t be ashamed of Faisal. They should be ashamed of themselves. Their brothers and sisters, fellow compatriots are facing one-sided trials in front of their own eyes. Faisal Shahzad and Dr Afia are only two of hundreds detained in Gitmo without proper trials. Still, Pakistanis in general are happy to live their lives with the convenience of their families, fearing any voice against these cases might land them into trouble. What’s shameful is this behavior, not getting framed by corrupt authorities. It’s their pathetic submission to this unjust system that has led the Americans to believe that all Pakistanis would give up their rights if paid enough. They’re feeling shame alright, but one feels it’s for all the wrong reasons!

Inqilab!

Posted in Islam, Social revolution by baigsaab on February 6, 2010

Questions to Mothers and Sisters!

Posted in Islam, Social revolution by baigsaab on February 5, 2010

Irony in Multan

Posted in protest by baigsaab on April 19, 2008

Policies in Pakistan are invariably a joke!

Just on Tuesday, angry mob ransacked the MEPCO office. Dozens of cars were burnt, property losses are still being recorded. Protests went into the second day with around 40 men arrested under the anti-terrorist law. We saw officials retaliating strongly against the protesters. All of this havoc due to a commodity called “electricity”, which is rare in Pakistan.

The irony of the situation is, in the same city, probably across a few blocks, two teams were playing an international cricket match, under lights. And to add insult to injury of those protesters, there was no power outage like the one in Lahore.

Ok, I concede that the stadium may be running those lights on generators, which is quite the standard these days. But the laymen don’t understand that do they? For them the math is simple, light runs on electricity, and that comes from WAPDA.

Wouldn’t it be nice on part of PCB to arrange day-only matches for a low-profile series such as this? I wonder!

Tagged with: , , , ,