Baigsaab's Blog

ہوئے تم دوست جس کے

Posted in Islam, Rants by baigsaab on August 29, 2012

بل  اورائلی کا طریقہ بہت سیدھا ہے۔ جو بھی بات وہ منوانا چاہتا ہے وہ  ڈنکے کی چوٹ پر کہتا ہے اور اس کے لیے صحیح یا غلط کوئی بھی دلائل دیتا ہے۔ اس کے ان دلائل کو جو رد کرتا ہے اس کو موصوف سخت سست سناتے ہیں۔ اورائلی اپنے مخالفین کو جاہل اور بےوقوف ثابت کرنے کی پوری کوشش کرتا  نظر آتا ہے   اور مد مقابل کو دلائل کی بجائے آواز سے زیر کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اگر کہیں اس کو ہزیمت کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو  فوراً پینترا بدل کر مخالف کے کسی نازک پہلو کو نشانہ بناتا ہے اوراس کو زیر کر لیتا ہے۔ ‘احمق اور محب وطن’ نامی کتاب کے مصنف کا فاکس نیوز پر چلنے والا  پروگرام  ‘او رائلی فیکٹر’  ایک اندازہ کے مطابق اس وقت امریکہ کا سب سے زیادہ دیکھا جانے والا پروگرام ہے۔  ایک سروے کے مطابق موصوف امریکہ کے  گیارہویں اور ایک اور سروے کے مطابق دوسرے سب سے با اثر ریڈیو ٹاک شو  میزبان ہیں۔  تو آخر او رائلی کا فیکٹر ہے کیا؟  اس کے سننے اور  دیکھنے والوں پر اس کا کیا  اثر ہوتا ہے؟  ۲۰۰۹ میں ایک اسقاط حمل کے ماہر ڈاکٹر کا قتل ہوگیا جس کو خبروں کے مطابق  ایک ‘اینٹی ابارشن’ جنونی  نے قتل کیا تھا۔  او رائلی نے اس سے پہلے اس ڈاکٹر کے خلاف وقتا   ً فوقتا     ً  کچھ پروگرام کیے تھے اور اس نے اس کا نام ‘ٹلر دی بے بی کلر ‘ رکھا تھا۔ یہ کہنا کہ ڈاکٹر کے قتل میں بل او رائلی  کی باتوں کا اثر تھا ایک  ناقابل تصدیق بات ہے لیکن اس کی باتوں کا اثر بہرحال اس کے سننے والوں پر ہوتا ہے۔ ایسے ہی ایک پروگرام میں  بحیثیت مہمان وہ نیویارک میں مسجد کے قیام کی شدید مخالفت کرتا نظر آتا ہے اور وجہ یہ بیان کرتا ہے کہ ‘مسلمانوں نے ہمیں ۹/۱۱ کو نشانہ بنایا تھا’۔     اس پر  شو کی مشترک میزبان ‘ووپی گولڈبرگ ‘ اور ایک اور خاتون شو سے اٹھ کر چلی گئیں۔ لیکن موصوف اپنی بات پر اڑے رہے۔

 او رائلی جیسے لوگ پوری دنیا کے میڈیا میں ملیں گے۔  ایسے لوگ اپنی بات میں زور پیدا کرنے کے لیے گالیوں اور طنزیہ جملوں کا سہارا لیتے ہیں۔  اپنی بات کو صحیح ثابت کرنے کے لیے جھوٹے  ‘حقائق’  بنا لیتے ہیں ۔ مخالفین کا مذاق اڑاتے ہیں اور گالیاں تک دینے سے دریغ نہیں کرتے۔   ان کا مقصد خود کو صحیح ثابت کرنے سے زیادہ دوسرے کو غلط ثابت کرنا ہوتا ہے۔ ایسے لوگوں کے پروگرام کی ویورشپ ہمیشہ زیادہ ہوتی ہے کیونکہ وہ سنسنی  آمیز اور اسفل  باتیں کرتے ہیں  اور  عوام کی اکثریت  ٹی وی دیکھتی ہی  ان چیزوں کی وجہ سے ہے۔

ہمارے ملک میں ٹاک شوز میں ایسے لوگوں کو ریٹنگز بڑھانے  کے لیے بلایا جاتا ہے۔  لوگ نہ صرف ان کو دیکھتے ہیں بلکہ ان کی باتوں سے لطف اندوز بھی ہوتے ہیں۔ ان  سب میں جن صاحب کے کلام کے حسن پر نثار بہت لوگ ہیں وہ وہ ہیں جن کی پردہ اور عریانیت کے بارے میں کہی گئی آراء آج کل آپ سن ہی رہے ہونگے ۔  یہ اس لیے باقیوں سے ممتاز ہیں کیونکہ  نوجوانوں کا ایک پڑھا لکھا طبقہ ان کی باتوں کو سنتا ہے۔  اسی لیے ان کی کہی ہوئی بات چاہے غلط ہی کیوں نہ ہو اس کا اثر بہت ہوتا ہے۔   چنانچہ  کلیہ عامہ کے برعکس، کہ فرد  معین پر بات کرنے سے کسی کا فائدہ نہیں ہوتا، ہمیں قلم اٹھانا پڑ رہا ہے۔

 حریفوں کو لتاڑنا اور ذلیل کرنا چاہے وہ کوئی بھی ہو یہ ان کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے۔  کسی بھی عزت دار  شخص کو للو پنجو کہہ دینا ان کے لیے مسئلہ ہی نہیں۔ لوگ کہتے ہیں یہ ‘پی’ کر آتے ہیں لیکن میرے خیال سے یہ ایک نا مناسب بات ہے اور کسی پر بے جا تہمت(ویسے بھی ایک نعت گو شاعر  ،جو مدینے میں ننگے پیر پھرتا ہو،سے حرام شے کی   نسبت کرنا  شاید بہتان کے زمرے میں آتا ہو)لیکن گفتگو ان کی کبھی کبھار، بلکہ اکثر،ہذیانی ہی ہوتی ہے۔  موصوف کی یو ٹیوب پر موجود ایک کلپ  میں وہ مسلمانوں کی چودہ سو سالہ تاریخ میں سے چن چن کر آپس کی لڑائیاں نکالتے دکھائے گئے ہیں کہ کس طرح عباسیوں نے امویوں کو رگڑا اور کیسے تیمور نے یلدرم کو رگیدا اور کیسے  لودھی اور تغلق اور مغل اور نہ جانے کون کون مسلمان  تاریخ کے صفحات میں لڑتا ہوا پایا گیا۔  موصوف نے لیکن کہیں  بتانا مناسب نہیں سمجھا کہ  یہ لڑائیاں مذہب کے نام پر نہیں تھیں۔  اگر  ایک مذہب کے ماننے والوں کا آپس میں لڑنا غلط بات ہے تو یورپ کی تو پوری تاریخ ہی کیتھولک اور پروٹسٹنٹ کی  لڑائیوں میں گذری ہے۔     اسی طرح موصوف اکثر اپنے اخباری کالم میں   مغرب کی ترقی کو سراہتے ہوئے پائے گئے ہیں بھلے وہ ترقی ان کی  سماجی بدحالی  پر منتج ہو۔ امریکہ کی در اندازیوں کو  “بڑی طاقتیں ایسے ہی بی ہیو  کرتی ہیں” کہہ کر سند عطا کردیتے  ہیں۔   ایک پروگرام میں انہوں نے بڑی نخوت سے کہا کہ  ‘میں کوئی ایم اے اردو نہیں ہوں ، میں نے اکنامکس میں ماسٹرز کیا ہے’، تو کوئی  ان سے پوچھے بھائی  جب یہ کام کرنا نہیں تھا تو کسی  حقدار  کی سیٹ ضائع کرانا کیا ضرور تھا؟ پڑھے لکھے لوگ ان کی باتیں کیوں سنتے ہیں؟ پتہ نہیں! شاید وہ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ منافقت اور جہالت اور  بے غیرتی جیسے الفاظ ان کے لیے استعما ل نہیں ہو رہے۔  یا  شاید ہماری اکثریت  خود رحمی کی بیماری کا شکار ہے۔  ایک اور وجہ  شاید یہ ہے کہ وہ اپنی باتوں میں مولویوں اور سیاست دانوں دونوں کو رگیدتے ہیں  اور  ہمارا پڑھا لکھا طبقہ   اکثر و بیشتر دونوں سے  بیزار  ہے۔

موصوف کا حا لیہ بیان یہ ہے کہ پردہ عرب کی رسم تھی جس کو اسلام نے باقی رکھا۔  اسی  طرح داڑھی  کا تعلق عرب کی آب و ہوا سے تھا۔  خیر یہ تو کوئی ایسی بات نہیں ۔ صرف پردہ اور داڑھی ہی نہیں۔ اسلام میں اور چیزیں بھی عرب کلچر  سے آئی ہیں۔ مثلا ً  حج۔ مثلاً جہاد۔   مثلا ً نکاح اور دیگر رسومات۔ ہمارا یہ ماننا ہے کہ نبی آخر الزمانﷺ عرب تھے اس لیے عربوں کی  اس زمانے کی ہر چیز سے  جسے ہمارے نبی ؐ نے جاری رکھا ،چاہے وہ آج کے زمانے میں کتنی ہی عجیب کیوں نہ لگے ، محبت ہمارے دین کا حصہ ہے۔ جسے یہ بات سمجھ نہ آئے وہ خود اللہ کے سامنے اپنا جواب تیار کر لے۔  ہم نے تو وہ حدیث سن رکھی  ہے کہ جس کا مفہوم ہے کہ اسلام کا آغاز ایک اجنبی چیز کے طور پر ہوا تھا  اور عنقریب وہ  دوبارہ ایک اجنبی چیز بن جائے گا تو ان کے لیے خوشخبری ہے جو اس کے ساتھ ساتھ خود بھی اجنبی ہو گئے۔

مغرب کی تعریف میں حضرت اس حد تک غلو سے کام لے گئے  کہ فرما گئے کہ وہاں عریانی ستر بن گئی ہے۔  وجہ اس کی بیان کرتے ہیں کہ  نیم برہنہ عورتیں وہاں کھلے عام پھر رہی ہوتی ہیں اور کوئی دیکھتا تک نہیں۔  اب اس کو کوئی ان کی سادہ لوحی ہی کہہ سکتا ہے  ورنہ یہ چیز فطرت کے مطابق نہیں  ہے  کہ مرد کو  عورت میں کشش محسوس  نہ ہو۔  اور حقائق ان کی اس دلیل کے بالکل برعکس چیخ چیخ کر کہہ رہے ہیں کہ دنیا میں ابھی بھی ریپ کے زیادہ واقعات  ان کے اس مغرب میں ہی ہوتے ہیں جہاں ان کے مطابق عریانی ستر ہے۔  ایک اطلاع کے مطابق  ایک ترقی یافتہ مغربی ملک  میں ایک بے روزگار  سافٹ وئیر پروفیشنل خاتون کو بے روزگاری کے زمانے میں ایک نوکری کی پیشکش ہوئی۔ کام ایک جدید قسم کے صاف ستھرے کوٹھے پر تھا۔ انکار کی صورت میں بے روزگاری الاؤنس سے ہاتھ دھونے کی  پریشانی۔ یہ آپ کے پسندیدہ مغرب میں ہو رہا ہے۔    اسی پروگرام میں ایک بڑے غزل گائک کے ہم نام صاحب یہ کہتے ہوئے پائے گئے کہ قرآن میں حکم ہے زینت کو چھپانے کا۔ پھر زینت کا مطلب خود ہی بتاتے ہوئے کہا کہ اس کے مطلب ہیں خوبصورتی۔   اب چہرے سے زیادہ خوبصورتی کہاں ہوتی ہے یہ وہ  حضرت بتا نہیں  رہے۔  خیر یہ تو ایک جملہ معترضہ تھا۔

مسئلہ ان کا اور ان جیسے دوسرے لوگوں کا  شاید یہ ہے کہ  یہ مغرب کے  اس مکمل اور  ہمہ گیر تسلط سے بری طرح مرعوب ہیں۔ ان کے نزدیک  مغرب  کی ترقی   ہم بچشم سر دیکھ رہے ہیں اور  اس   کی تقلید کرنا اس دور میں اسلا م کی سب سے بڑی خدمت ہے۔    اس تقلید کی طرف پیشقدمی میں جو بھی چیز انہیں پا ؤں میں زنجیر  ڈالتی  نظر آتی ہے اس کو یکسر مسترد کردینا  ان کی مجبوری ہے۔

ہم  ان کے لیے اور ان جیسے دوسرے لوگوں کے لیے صرف یہی کہنا چاہتے ہیں کہ  یہ دنیا دارالامتحان ہے۔ یہاں مشکل بھی ایک امتحان ہے اور آسانی بھی۔ غربت بھی ایک امتحان ہے اور امیری بھی۔  اسی طرح  پسماندگی بھی ایک امتحان ہے اور ترقی بھی۔ بلکہ کئی معنی میں عشرت عسرت سے بڑی آزمائش ہے کہ امام احمد ابن حنبل کا واقعہ ہمیں یہی بتاتا ہے کہ شدید مار کو برداشت کر گئے لیکن  جب نئے خلیفہ نے کچھ رقم بھیجی تو رو پڑے  کہ یہ امتحان پہلے سے زیادہ مشکل تھا۔  مغرب کی حالیہ آسائشیں ایک طرف ان کے لیے امتحان ہے کہ وہ اپنے رب کو پہچانتے ہیں کہ نہیں تو دوسری طرف  ہم مسلمانوں کے لیے کہ ہم دنیا کی ترقی کو اہمیت دیتے ہوئے قدم بہ قدم ان کی تقلید کرتے ہیں  اور دیوانہ وار ان کے پیچھے  دوڑتے ہیں یا صرف اس چیز کو لیتے ہیں جو ہماری شریعت سے متصادم نہ ہو۔  پھر دنیاوی کامیابی کسی بھی لحاظ سے اس بات کی ضمانت نہیں ہے کہ  کوئی  اللہ کے پسندیدہ بندوں میں شامل ہو گیا۔  دنیا میں  لگ بھگ ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر آئے ان میں سے   کچھ کے ساتھ شاید ایک بھی امتی نہ ہو۔ کتنے ہی  صحابی تھے جو اسلام کے غلبے سے پہلے اپنے رب سے جا ملے تو کیا وہ ناکام ہو گئے؟    معاذاللہ ہرگز نہیں۔   سلف صالحین کا طریقہ یہ تھا کہ سنت کو دانتوں سے پکڑ لو چاہے کتنے ہی دقیانوسیت کے طعنے کیوں نہ پڑیں اور  اس میں کتنی ہی تکلیف کیوں نہ اٹھانی پڑے۔  کیونکہ  بہرحال دنیا مومن کے لیے قید خانہ ہے اور کافر کے لیے جنت۔

یہ بات اپنی جگہ بجا ہے کہ ہم مسلمان اس خزانے پر جس کا نام قرآن ہے ایک سانپ بن کر بیٹھے ہیں کہ نہ خود عمل کرتے ہیں اور نہ کسی اور تک اس پیغا م کو پہنچانے دیتے ہیں۔ لیکن اس کا یہ مطلب قطعی نہیں ہے کہ  کسی کو  علماء پر لعن طعن کرنے کا لائسنس مل گیا۔ وہ بھی صرف اس لیے کہ انہوں نے ان کے حساب سے دنیاوی تعلیم کی ترویج نہیں کی۔  جو کام علماء اس  پر فتن دور میں کر رہے ہیں وہ ناکافی ہوسکتا ہے لیکن وہ پھر بھی اس طوفان کے آگے بند باندھے ہوئے ہیں کہ جو  اب تک ہماری نظروں کے سامنے روسی، بھارتی اور چینی تہذیبوں کو نگل چکاہے اور اب ہماری پوری اقدار کو گھاس کے تنکوں کی طرح بہا لے جانا چاہتا ہے۔  اگر ہم اپنے مردوں کو سنت کے مطابق دفنا سکتے ہیں تو اس وجہ سے کہ ہم تک دین کی تعلیم پہنچی ہے، اگر بیٹی کی شادی کرنی ہے تو مسنون نکاح مولوی ہی بتاتا ہے۔ہمیں تو لگتا ہے کہ یہ دقیانوسیت کے الزام لگانے والے جو ڈاکٹر عبدالسلام اور  سید احمد خاں کو اپنا محسن کہتے ہیں، کبھی اپنے ڈرائنگ روموں سے نکلے ہی نہیں۔ اگر کسی کے پاس علم کی کمی ہے تو وہ شاید ان کے پاس ہی ہوگی کیونکہ یہ بات ہر شخص جو دین کے علم کے لیے تھوڑی سی محنت کر سکتا ہے وہ جانتا ہے کہ صرف کراچی ہی میں دو ایسی عظیم الشان درسگاہیں ہیں جہاں دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ  جدید سائنسی تعلیم بھی دی جاتی ہے۔  جامعۃ الرشید کا فلکیاتی تحقیق کا ادارہ تو اپنی مثال آپ ہے۔ باقی ملک میں آپ خود دیکھیں۔

لیکن جو اصل مغالطہ ان کو ہے وہ یہ ہے کہ اسلام کی نشاۃ اولیٰ مسلمان سائنسدانوں کی وجہ سے  ہوئی تھی۔ یہ ایک شدید فکری مغالطہ بلکہ حماقت ہے جس کا شکار ہمارے اکثر و بیشتر پڑھے لکھے حضرات ہیں۔  خاص طور سے ہمارے کالم نگاروں اور نامور دانشوروں کی اکثریت یہی بات کرتی نظر آتی ہے۔ اپنے چوہدری صاحب اس دن بڑے تاسف سے  عباسی صاحب سے کہہ رہے تھے کہ آپ نے اسلام کی کیا خدمت کی کیا آپ نے لوٹا بھی ایجاد کیا؟  ان لوگوں کے خیال سے یورپ کو جو تسلط حاصل ہے وہ اس کی سائنسی ایجادات کی وجہ سے ہے۔ یہ مذاق اڑاتے ہیں کہ دنیا   کائنات کی تخلیق کا راز جاننے نکلی ہے، ناسا  کا  ‘کیوریوسٹی’ مریخ پر کامیابی سے قدم رکھ چکا ہے اور ہمیں وہاں سے تصاویر بھیج رہا ہے اور ہمارے ملا کو اس بات  کے جواب دینے سے  ہی فرصت نہیں کہ استنجاء ہو گیا کہ نہیں۔ یا  غسل واجب ہو ایا نہیں؟ یا یہ کہ چاند کے لیے دیکھنا بھی ضروری ہے یا قمری کیلنڈر پر یقین کر لیں؟  پہلا سوال یہ ہے کہ کیا یہ سب سوال غیر اہم ہیں؟ اگر احادیث کے ذخیرے کو دیکھ کر بات کریں تو قطعاً نہیں۔ اور دوسرا سوال جو ہمیں واپس اس فکری حماقت کی طرف لے آتا ہے وہ یہ ہے کہ کیا دنیا میں ترقی کے لیے سائنس لا بد منہ ہے؟

اسلامی حکومت کی حدود  وفات نبوی ﷺ کے محض ۷۵ سال کے  عرصے میں شمالی افریقہ، سندھ اور جزیرہ نما آئیبیریا تک پھیل چکی تھیں۔ دور خلافت راشدہ میں ہی مملکت خداداد کی سرحدیں پورے جزیرہ نمائے عرب کا احاطہ کر چکی تھیں۔ اس پورے عرصے میں نہ کوئی مشہور سائنسدان سامنے آیا نہ کوئی  قابل ذکر غیر جنگی ایجاد۔آ بھی نہیں سکتا تھا کیونکہ عربوں کے پاس سائنس کا علم تھا ہی نہیں۔ وہ تو جب یونانی علوم کو عربی میں ترجمہ کرنا شروع کیا گیا ہے تب کہیں مسلمانوں میں فلسفہ اور ریاضی اور طب کے ماہر پیدا ہونے شروع ہوئے۔ تو اس سے پہلے کے سو سوا سو سال تک ہم کیسے  اتنے بڑے  رقبے  پر اسلامی حکومت  قائم کر پائے؟  وہ کون سی چیز  تھی مسلمانوں کے پاس کہ آدھی دنیا ان کی مطیع بن گئی؟  وہ چیز تھی  جناب رب کا نظام۔ نظام خلافت۔ نظام عدل اجتماعی۔  وہ نظام  جس کا نقشہ  قرآن میں ملتا ہے۔ وہ نظام کہ جو ہمارے آقا ﷺ نے اپنے  خطبہ حجۃ الوداع کے موقع پر  بیان کیا کہ  کسی گورے کو کالے پر اور کالے کو گورے پر فضیلت نہیں۔ نہ عربی کو عجمی پر نہ عجمی کو عربی پر۔ اور جو خلیفہ اول حضرت ابوبکر ؓ نے اپنے پہلے خطبے میں کہا کہ تمہار ا کمزور میرے نزدیک طاقتور ہے اور طاقتور میرے نزدیک کمزور جب تک حقدار کو اس کا حق نہ دلا دوں۔  وہ نظام کہ جس کو  کسریٰ کے دربار میں ہمارے اسلاف نے  یوں بیان کیا تھا کہ ‘ ہم بھیجے گئے ہیں۔۔۔  تاکہ لوگوں کو ملوکیت کے اندھیروں سے نکال کر اسلام کے عدل میں لے آئیں’۔  یہ تھی مسلمانوں کی کامیابی کی کنجی۔ اللہ کی زمین پر اللہ کا نظام۔   اس کے برعکس آپ دیکھیں کہ یہاں بڑے بڑے سائنسدان آنا شروع ہوئے یہاں خلافت کمزور ہونا شروع ہوئی، وجہ یہ نہیں ہو گی لیکن یہ   امر واقعہ ضرور ہے۔ دوسری بنیادی چیز جو اتنی ہی ضروری تھی وہ تھی جہاد۔ وہ جہاد نہیں جو نفس کے خلاف ہوتا ہے بلکہ وہ جہاد جس میں تن من دھن لگایا جاتا ہے۔ جس میں مال کا خطرہ بھی ہوتا ہے اور جان کا بھی۔ جب وہ رخصت ہو گیا، جب موت کے شوق کی جگہ دنیا کی محبت نے لے لی تو ہماری حالت سیلاب کے پانی پر موجود جھاگ جیسی ہوگئی یا با الفاظ حدیث ‘دسترخوان پر چنے ہوئے  کھانے کی طرح’۔  اس کا جیتا جاگتا ثبوت آپ کو افغانستان میں مل رہا ہے جہاں بے سر و سامان مجاہدین کیل کانٹے سے لیس  ایساف کے فوجیوں کو ناکوں چنے چبوا رہے ہیں اور  ان کا بس نہیں چل رہا کہ کیا کریں۔ آپ کے مغرب میں ہی کسی نے کہا تھا۔۔۔

It’s not the gun that fires; it’s the shoulder behind it [that matters]..

ہمارے افغان بھائی آج بھی ثابت کررہے ہیں کہ فضائے بدر پیدا کرنے سے واقعی نصرت آتی ہے، ہم کرنے والے تو بنیں۔

خیر تو بات کہاں سے شروع ہوئی تھی کہاں پہنچ گئی۔ بات یہ تھی  کہ بات کو زور سے، گالی سے، جاہل، بےوقوف، گھامڑ، بدتمیز اور للو پنجو ایسے الفاظ کہہ کر وہ لوگ کرتے ہیں جن کی دلیل میں وزن نہ ہو۔ خالی برتن زیادہ بجتا ہے اسی لیے موصوف کی آواز دور تک جاتی ہے۔  دوسری بات یہ کہ جس کا کام اسی کو ساجھے۔ جس بات کا پتہ نہ ہو اس میں بولنا نہیں چاہیے۔ اب اگر کوئی آپ کے پاس مائک لے کے آ ہی گیا ہے تو بھائی اس کو سیدھے سبھاؤ بتا دو کہ میاں یہ میرا میدان نہیں۔  لیکن ہمارے وطن میں مذہب وہ مظلوم شے ہے کہ جو اس کے حقیقی امین ہیں وہ گوشہ نشین ہیں  اور گویا   ایک حدیث کے مصداق ایسا لگ رہا ہے کہ آخری زمانے کے “روبیضہ”  عام لوگوں کے معاملات میں گفتگو کر رہے ہیں۔ چنانچہ ابھی کچھ عرصے پہلے ایک جید عالم کے پوتے اور جغادری صحافی کے صاحبزادے  ایک موقر روزنامے میں  اپنے کالم میں بینکنگ انٹرسٹ کو جائز قرار دینے کا فتویٰ دے بیٹھے یہ دیکھے بغیر کہ ان کی معلومات اس معاملے میں ہیں بھی کہ نہیں۔  اور یہ تو ٹی وی نہ دیکھنے والوں نے بھی دیکھا کہ رمضان کے مہینے میں ہر چینل پر ایک سے  بڑھ کر ایک  نوٹنکی بیٹھا مذہب پر بول رہا ہے الا ماشاء اللہ۔ خیر تو ہمارے ‘سبجیکٹ’ صاحب سے بھی چپ نہ رہا گیا اور پتہ نہیں کس کیفیت میں وہ کچھ بول گئے کہ  غالباً بعد میں خود بھی بغلیں جھانک رہے ہوں  کہ یہ کیا کہہ  دیا۔ عریانی۔۔ستر؟ اگر کسی نے  مذاق میں بھی کہہ دیا کہ اس نیک کام کی ابتداء  اپنے گھر سے کرنے میں  کیا چیز مانع ہے تو پتہ نہیں موصوف اپنی کون سی والی گالیوں کا پٹارا کھولیں گے۔  حضرت اگر مغرب آپ کو اتنا محبوب ہے تو آپ دعا کیجیے، ہم بھی آمین کہیں گے کہ آپ کا حشر انہی اہل مغرب کے ساتھ ہو۔

  او  رائلی سے کسی نے عراق کی جنگ کے  بعد پوچھا کہ تم نے کہا تھا کہ تم اپنی بات غلط ثابت ہونے پر (کہ عراق میں تباہ کن ہتھیار ہیں) قوم سے معافی مانگو گے تو اس نے بالکل سیدھے سیدھے معافی مانگ لی۔ او رائلی جیسا اڑیل بڈھا یہ کر سکتا ہے تو آپ تو پھر عاشق رسول ؐ ہونے کا دعویٰ رکھتے ہیں۔ اپنے پیچھے چلنے والوں کو گمراہ کرنے پر ان سے معافی مانگ لیں تو یہ ان کے ساتھ بھی بھلائی ہو گی اور اپنے ساتھ تو خیر ہو گی ہی۔ کیونکہ ایک انسان اپنی گمراہی کا بوجھ ہی اٹھا لے تو بڑی بات ہے، ہزاروں لاکھوں کی گمراہی کا بوجھ کوئی کیسے اٹھا سکے گا؟

Advertisements

4 Responses

Subscribe to comments with RSS.

  1. Iftikhar Ajmal Bhopal said, on August 29, 2012 at 11:39

    بڑی پتے کی بات کہہ گئے ہیں آپ ٹی وی شو کا تجزیہ کرتے ۔ بات صرف اتنی ہے کہ اللہ کے ماننے والے بہت ہو گئے ہیں مگر اللہ کی ماننے والے خال خال ہی رہ گئے ہیں ۔ لوگ یہ بھول کر کہ رزق ۔ عزت ۔ صحت ۔ زندگی سب اللہ دیتا ہے طاغوتوں کے پیچھے لگ گئے ہیں جو دولت یا طاقت کی صورت میں سامنے نظر آتے ہیں گو وہ بھی اس وقت تک ہے جب تک اللہ چاہے گا ۔ آپ نے لکھ تو دیا ہے اس دنیا میں ہر چیز امتحان ہے جو کہ اللہ کے فرمان کا ہی خلاصہ ہے

  2. baigsaab said, on August 29, 2012 at 19:40

    بہت شکریہ افتخار صاحب پسندیدگی کا۔ کوشش یہ ہے کہ بات اصلاح پر منتج ہو نہ کہ تنقید برائے تنقید۔ امید ہے کہ یہ لوگ بات کو اسی طرح لیں گے۔

  3. Dr Jawwad Khan said, on August 30, 2012 at 14:55

    بہت عمدہ جناب۔۔۔۔۔
    میڈیا کے رویوں پر غور کیا جائے تو دو چیزیں نہایت واضع نظر آتی ہیں ۔ ایک یہ کہ کسی طرح سے اسلامی تاریخ قریب و بعید کو کسی طرح مسخ کرکے ان سے اپنی تاریخ پر فخر کو چھینا جائے۔
    دوسری یہ کہ مسلمانوں کو دین کے حوالے سے انتہا درجے کا معذرت خواہ بنا دیا جائے۔
    یہ کام کوئی غیر نہیں بلکہ وہ لوگ کر رہے ہیں جو خود کو مسلمان کہتے ہیں اور مسلمان گھرانوں میں پیدا ہوئے ہیں۔
    ضرورت اس امر کی ہے کہ میڈیا کی دجالی چالوں کو زیادہ سے زیادہ بے نقاب کیا جائے۔

    • baigsaab said, on August 30, 2012 at 18:36

      بہت شکریہ ڈاکٹر صاحب۔ اس بات کی ضرورت ایک طویل عرصے سے محسوس کی جا رہی ہے کہ اسلام اور دین کے بنیادی عقائد کی بات نہایت ہی ‘میٹر آف فیکٹ’ انداز میں کہہ لی جائے تو لوگوں کو اس سے تعلق بنانے میں آسانی رہتی ہے۔ لوگ دین کی باتوں کو ‘اساطیر الاولین’ کہہ کر رد کر دیتے ہیں جو کہ مکمل طور پر ان کا قصور بھی نہیں۔ یہ دانشور حضرات اس میں بہت قصوروار ہیں جو مسلمانوں کو اکیسویں صدی میں لے جاتے ہوئے اسلام کو پیچھے چھوڑ جاتے ہیں۔۔۔


Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: