Baigsaab's Blog

طوفان سے پہلے

Posted in Social revolution by baigsaab on January 11, 2012

معاملہ بہت ہی چھوٹی سی بات سے شروع ہوا تھا۔ اتنی چھوٹی کہ جو کچھ اس کے بعد ہوا یہ یقین کرنا مشکل ہے کہ اس سب کا باعث یہ چھوٹی سی بات ہی تھی۔

یہ نومبر کی ایک شام کی بات ہے۔ اسی نومبر کی۔ شیردل اپنے گھر والوں کو بس میں سوار کرا رہا تھا جو کہ خانپور اپنے گاؤں جا رہے تھے۔ جس جگہ سے یہ بسیں چلتی ہیں وہ کیونکہ عین بازار میں واقع ہےاس لیے بسوں کی روانگی اور آمد کے وقت اچھا خاصا رش ہو جاتا ہے اور کبھی کبھار تھوڑی بہت دھکم پیل بھی ہو جاتی ہے۔ اس وقت بھی یہی کچھ ہو رہا تھا۔ بس کچھ نیمے دروں نیمے بروں انداز میں سڑک پر آرہی تھی۔ جانے والوں کو الوداع کہنے والے جلدی جلدی ان سے آخری باتیں کر رہے تھے اوران کے آس پاس سے راہگیر اور موٹر سائیکل والے بچتے بچاتے نکل رہے تھے۔ شیر دل کا ایک رشتہ دار تنویر رینگتی ہوئی بس کے پائیدان پر چڑھ رہا تھا کہ اس کی ٹانگ ایک موٹر سائیکل سوار کو لگ گئی۔ یہ ایک سولہ سترہ سالہ لڑکا تھا جو دودھ سپلائی پر نکلا ہوا تھا۔ لڑکے نے کچھ نازیبا کلمات کہے تو جواب میں ادھر سے بھی کچھ تلخی کا مظاہرہ ہوا۔ بات کچھ گرم ہو گئی تو یہ حضرت اپنی سواری سے نیچے اترے اور انہوں نے باقاعدہ ہاتھا پائی کی کوشش کی تو اس کو کچھ لوگوں نے پیچھے سے پکڑ لیا۔اس نے اپنے آپ کو ان سے چھڑایا اور سڑک کی دوسری طرف یہ کہتے ہوئے بھاگ گیا کہ “تم نے غلط آدمی کو چھیڑ دیا ہے”۔ ان لوگوں کو پتہ تھا کہ یہ جن لوگوں کا لڑکا ہے وہ علاقے میں کافی لوگوں سے لڑائی جھگڑا کر چکے ہیں لیکن شیر دل کا بہنوئی ان کا بچپن کا دوست تھا اور وہ وہیں موجود تھا، کوئی خاص مسئلے کی بات لگ نہیں رہی تھی۔ ابھی تھوڑی دیر ہی گزری تھی کہ سڑک کی دوسری طرف سے ایک مجمع بھاگتا ہوا ان کی طرف آیا اور اس سے پہلے کہ کوئی بات ہوتی تنویر کے اوپر حملہ کر دیا۔ صورت حال کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے شیردل کا بہنوئی آگے بڑھا اور اس کی مدد کرنے کی کوشش کی، اپنے ان دوستوں سے چھڑانے کے لیے جن کے ساتھ وہ بچپن سے کھیلا تھا۔ لیکن اس کو بھی دھکے دے دئیے گئے۔ اتنا ہنگامہ ہورہا تھا کہ آس پاس میں تماشہ دیکھنے والا مجمع بھی دور ہو گیا اور شیردل اور اس کے دونوں ساتھی ان بیس بائیس لوگوں میں گھر گئے۔ شیر دل کے ہاتھ میں اس کی ۲ سالہ بچی تھی جس کے ساتھ میں وہ اپنے آپ کو بےبس محسوس کر رہا تھا اور وہاں تنویر لہولہان ہو رہا تھا۔ اس نے بڑی مشکل سے اپنی بچی کو کسی جاننے والے کے حوالے کیا اور تنویر کو چھڑانے کے لیے آگے بڑھا تو وہاں سے کسی نے ہتھوڑا چلانا شروع کر دیا۔ یہ دیکھے بغیر کہ یہ ہتھوڑاکسی کے منہ پر لگ رہا ہے، سر پر یا کہاں۔ جب انہوں نے اچھی طرح مار پیٹ کر لی تو وہاں سے چلے گئے۔ ان کے جانے کے بعد ان لوگوں نے اپنے حال کو دیکھا توتنویر کے سر پر گہرے زخم آئے تھے، شیردل کا بہنوئی بھی لہولہان تھا۔ اور خود شیردل کے سر سے بھی خون بہہ رہا تھا۔ ایک چھوٹی سی بات سے اتنا بڑا نقصان ہو گیا۔

********

حسن صاحب نے فون اٹھایا، دوسری طرف شیر دل تھا۔ اپنے بہنوئی اور تنویر کو وہ قریب ہی واقع ان کے گھر چھوڑ کر وہ اپنے گھرآگیا تھا۔ اس نے پوری بات حسن صاحب کو بتائی اور کہا، “سر میں ابھی گھر سے نکل کر واپس وہیں جا رہا ہوں ۔ میں نے وہاں اور لوگ بھی جمع کر لیے ہیں اب میں ان دودھ والوں کو نہیں چھوڑوں گا۔ ایک ایک کو دیکھ لوں گا۔ ” شیر دل حسن صاحب کا شاگرد رہ چکا تھا اور اب ان کے ساتھ ہی ہوتا تھا۔ کوئی بھی قدم اٹھانے سے پہلے وہ حسن صاحب سے مشورہ ضرور کرتا تھا ۔انہوں نے اس کو وہیں ٹھہرنے کو کہا اور خود اس کے گھر کی طرف نکل کھڑے ہوئے۔

********

حسن صاحب شیردل کے گھر پہنچے تو وہ زخمی شیر کی طرح ادھر سے ادھر گھوم رہا تھا۔ صاف لگ رہا تھا کہ اس کو صرف حسن صاحب کی بات نے روکا ہوا ہےورنہ وہ تو اب تک نکل چکا ہوتا۔ اس نے ابھی تک اپنے کپڑے بھی تبدیل نہیں کیے تھے اور اس کے سر کا زخم بھی توجہ مانگ رہا تھا گو زخم گہرا نہیں تھا۔ حسن صاحب کو پتہ تھا کہ معاملہ کو طول دینے کا مطلب سوائے مزید خونریزی کے اور کچھ نہیں لیکن شیر دل غصہ سے بے قابو ہو رہا تھا۔ انہوں نے اس کے جذبات کو دیکھتے ہوئے اس کے ساتھ جانے کا فیصلہ کیا کیونکہ اس وقت اس کو اکیلا چھوڑنا اور خطرناک ہو سکتا تھا ۔ وہ جانتے تھے کہ شیر دل اس وقت صرف انہی کے قابو میں آسکتا ہے۔

********

معاملہ کیونکہ ابھی گرم تھا اس لیے علاقہ میں چہل پہل معمول سے بہت زیادہ تھی۔ حسن صاحب نے شیردل کے کافی دوستوں کو وہاں پایا جو کہ سب اسی معاملہ کو نمٹانے کے لیے جمع ہوئے تھے۔ ان کے عزائم کیا تھے یہ جاننے کے لیے کسی قسم کے اندازے کی ضرورت نہیں تھی کیونکہ وہ مکمل “تیاری “کے ساتھ بیٹھے تھے۔ وہاں پہنچ کر انہیں پتا چلا کہ وہ لڑکے جنہوں نے وہ مار پیٹ کی تھی اب بھاگ چکے ہیں اور دکان پر ان کا باپ بیٹھا تھا۔ حسن صاحب نے شیر دل کی توجہ اس بات کی طرف دلائی اور کہا۔ “دیکھو وہ لڑکے اب یہاں نہیں ہیں، جو بھی تم کر سکو گے ان کے باپ کے ساتھ ہی کرو گے تو کیا ہمیں یہ زیب دیتا ہے کہ ہم ایک شخص کا بدلہ کسی اور سے لیں؟ کیا تم پسند کرو گے کہ تمہارا بدلہ تمہارے ابو سے لیا جائے؟” شیردل بھڑک اٹھا۔ “تو کیا کریں سر؟ بس چوہے بن کر مار کھاتے رہیں؟ میری غیرت یہ برداشت نہیں کر سکتی کہ اس ظلم پر چپ ہو کر بیٹھا جائے۔ ظلم سہنا بھی ظالم کا ساتھ دینا ہی ہے نا؟” حسن صاحب اس کی بات سن رہے تھے اور شیردل اپنا غبار نکالتا جا رہا تھا۔ ” یہ اگر شرمندہ ہوتے تو میں سو دفعہ انہیں معاف کردیتا لیکن یہ شرمندہ نہیں ہوتے ان کا آئے دن کا یہی کام ہے، جب دل چاہتا ہے ڈنڈوں اور ہتھوڑوں سے لوگوں کو مارتے ہیں اور لوگ مار سہتے ہیں۔ نہیں سر مجھے ایسی بے غیرتی گوارا نہیں!”

“تو ہم ان کے خلاف ایف آئی آر درج کرا تے ہیں نا۔ جب ایسے لوگوں سے نمٹنے کے لیے قانون موجود ہے تو ہمیں اپنے ہاتھ خراب کرنے کی کیا ضرورت ہے؟” حسن صاحب نے کہا۔ “میرے تعلقات ہیں نا اوپر تک، ہم دیکھتے ہیں کیسے نہیں ہوتا کچھ؟”

شیردل نے نظریں اٹھا کر حسن صاحب کی طرف دیکھا اور کہا” کون سا قانون کہاں کا قانون سر؟ یہ سب لڑکے یہاں کی سب سے مضبوط پارٹی میں ہیں۔ تھانیدار ان کا “گرائیں” ہے یہاں کوئی نہیں سنے گا ہماری۔۔۔ ” شیردل کے لہجے کی تلخی اس کی مسکراہٹ میں زہر گھول گئی۔

“یار تم میری بات تو مان لو میں ہوں نا میں دیکھ لوں ان سب کو۔” حسن صاحب نے اس کو بالآخر قائل کر لیا۔

********

ڈیوٹی ڈاکٹر نے شیر دل کے زخموں کو دیکھا اور حسن صاحب سے کہا۔ “دیکھو بھئی مسئلہ یہ ہے کہ نہ تو اس کی ہڈی ٹوٹی ہے نہ ہی چھ انچ گہرا زخم لگا ہے۔ تو اس میں میں کیا رپورٹ لکھوں؟” وہ دونوں سرکاری ہسپتال میں بیٹھے تھے جہاں جانے کا مشورہ ان کوتھانے کے محرر نے دیا تھا ۔ حسن صاحب کی سرکاری ملازمت اور ڈی ایس پی سے شناسائی سے یہی ہو سکا کہ محرر نے درشت لہجے میں ہی سہی، ان سے بات کرلی اور ان کو کسی سرکاری ہسپتال سے سرٹیفیکیٹ لانے کو کہا۔ یہ دونوں اب یہاں بیٹھے تھے اور ڈاکٹر شیر دل کے زخموں کو دیکھنے کے ساتھ ساتھ ان کو مفت قانونی داؤ پیچ بتا رہا تھا ۔ “میرے بھائی یہ چھ سات ٹانکے تو آپ کو سیڑھیوں سے گر کر بھی آسکتے ہیں تو کیا آپ سیڑھیوں پر کیس کرو گے؟ اتنی چوٹ پر کچھ بھی نہیں ہوتا، کوئی بڑی چوٹ ہو تو کچھ ہو سکتا ہے۔ آپ بولو تو میں ایسی رپورٹ بنا سکتا ہوں ” ڈاکٹر نے خالص کاروباری دیانت کے ساتھ ان کے ممکنہ راستے ان کے سامنے رکھ دئیے۔ وہ دونوں وہاں سے نکل کر واپس تھانے آگئے۔

تھانے میں ان کے آنے کے بعد دودھ والوں کا ایک نمائندہ بھی آگیا تھا جو کہ محرر کے ساتھ ہی بیٹھ گیا تھا۔ حسن صاحب کو اب تک سمجھ آگیا تھا کہ محرر نے جو ان کو ہسپتال بھیجا تھا تو اس کا مقصد معاملہ کو سنبھالنا تھا نہ کہ کارروائی کو آگے بڑھانا۔اب اس نے ڈاکٹر کی کہی ہوئی بات دہرا دی تو حسن صاحب نے تلخی سے کہا۔ “گویا اگر میں ان میں سے کسی کو ماروں اور نہ ہڈی توڑوں اور نہ چھ انچ گہرا زخم آنے دوں تو آپ میرے خلاف بھی کچھ نہیں کر سکتے” اس پر سامنے بیٹھے اس شخص نے تڑپ کر کاٹ دار لہجے میں کہا “ایسا سوچنا بھی نہیں سمجھے”۔ “اور یہ کیا بیس آدمی بیس آدمی کی رٹ لگائی ہوئی ہے۔ بیس آدمی مل کر مارتے تو تم یہاں بیٹھے ہوتے؟ دو تین لوگ تھے وہ بس!!” اب اس بات میں شک کی گنجائش نہیں تھی کہ یہاں سے صرف ایک ہی فریق کو انصاف مل سکتا ہے۔ حسن صاحب اور شیردل اس جگہ سے واپس آگئے۔

********

اس واقعہ کے تین دن بعد شیر دل حسن صاحب کے ساتھ بیٹھا تھا۔ ان کے کچھ اور ساتھی بھی وہیں تھے جن کے ساتھ وہ مشورہ کیا کرتے تھے۔ شیر دل اپنے دل کی بھڑاس نکال رہا تھا۔ “سر آپ نے دیکھ لیا کہ ان کی پہنچ کہاں کہاں ہے؟ نہ ان کو قانون کا کوئی ڈر ہے نہ کسی اور کا۔ علاقے میں موجود ہر سیاسی پارٹی کے ساتھ وہ بیٹھتےہیں ۔ یہ ان کو چندہ دیتے ہیں اور وہ ان کو پروٹیکشن دیتے ہیں۔ ہر شخص ان سے دب کر رہتا ہے ۔ ان سے نمٹنے کا صرف ایک طریقہ ہے کہ جہاں ان میں سے کوئی ملے اس کو وہیں گرا دو” ۔

حسن صاحب جو اب تک خاموش بیٹھے ہوئے تھے، وہاں موجود سب لوگوں سے مخاطب ہوئے۔ “آپ سب مجھے بہت عرصے سے جانتے ہیں، زندگی کے گرم و سرد ہم نے مل کے دیکھے ہیں۔ ہم میں سے ہر ایک کے پاس باہر نکل جانے کے کئی موقع آئے لیکن میں نے ہمیشہ یہی کہا ہے کہ جب تک مجھے لگتا رہے گا کہ اس معاشرہ میں سدھار کی گنجائش موجود ہے میں کہیں نہیں جاؤں گا۔ لوگ ہمیں بے وقوف کہتے رہے ہیں لیکن قرآن اور حدیث کے مطالعہ سے یہی سامنے آتا ہے کہ گھر بار اگر چھوڑنا ہی ہے تو دین کے لیے نہ کہ دنیا کے لیے۔”

“لیکن اب اس موقع پر میں یہ سوچنے پر مجبور ہو گیا ہوں کہ کیا واقعی ہمیں دین پر عمل کی اجازت ہے؟ قانون ہمیں اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ ہم سڑکوں پر خون کے فیصلے کرتے پھریں لیکن آنکھ کے بدلے آنکھ بھی تو دین نے ہی بتایا ہے۔ ان کو سبق نہ سکھایا گیا تو ایسے اور معاملے ہونگے۔ رپورٹ تک نہیں لکھا سکتے کہ اس کے لیے بھی رشوت دینی ہی پڑے گی۔ یہ لوگ تو کوئی راستہ ہی نہیں چھوڑ رہے سوائے اس کے واقعی وہی کیا جائے کہ جو شیر دل کہہ رہا ہے۔ تو پھر کیا کیا جائے؟ بندوق اٹھا کر ان سب کو مار دیا پھر کیا کریں؟ کیا معاشرہ سے ظلم ختم ہو گیا؟ کیا ایسے سب لوگ ختم ہو گئے؟ معاشرہ میں تو ایسے لوگ لاکھوں نہیں تو ہزاروں کی تعداد میں تو ضرور ہیں تو کیا ہزاروں کو قتل کریں ہم؟ “

ایک ساتھی یوں گویا ہوئے”اگر ہم ان کے دس ماریں گے تو کل کو ہمارا بھی ایک جائے گا۔ ہم سب کو پتا ہے کہ ان معاملات کی شروعات یہی ہوتی ہے اور ان کی انتہا کیا ہوتی ہے۔”

وہاں موجود ایک صاحب نے کہا “یار دیکھا جائے تو یہ ظلم اور زیادتی تو ایام جاہلیت میں بھی تھی۔ لوگ اس وقت بھی بے گناہ قتل ہوتے تھے اور بیٹیاں زندہ دفنائی جاتی تھیں۔ لیکن سنت نبویؐ سے جو ہمیں سبق ملتا ہے وہ یہی ہے کہ بدلنا ہے تو نظام کو بدلو چاہے کچھ بھی ہو جائے”

“یار وہ بھی توہے نا۔ بکریاں لے کر پہاڑ پر چلے جاؤ۔ کمانیں کاٹ دو۔ یہ بھی تو حکم ہے نا بھائی؟ ” ایک اور صاحب نے کہا۔

“خیر دیکھیں اب آگے کیا ہوتا ہے اس معاملہ میں، فی الحال تو شیردل کا معاملہ دیکھنا ہے۔” حسن صاحب نے بات کو سمیٹتے ہوئے کہا۔

********

جس جگہ یہ سارا واقعہ ہوا تھا اس سے ذرا ہی آگے اسی آبادی میں ایک چائے کے ڈھابے پر پنچائت بیٹھی تھی۔ شیر دل کے ماموں کی کوششوں سے یہ پنچائت بلائی گئی تھی کہ معاملہ کو رفع دفع کر دیا جائے۔ انہوں نے بڑی مشکل سے اپنے لڑکوں کو روکا تھا لیکن ان کو پتہ تھا چنگاری ابھی بھی سلگ رہی ہے،ذرا سی ہوا سے آگ بھڑک سکتی تھی اس لیے وہ چاہتے تھے کہ معاملہ جلد از جلد صلح تک پہنچ جائے۔

سرپنچ نے سب سے پہلے تو اس لڑکے کو بلایا اور اس سے سختی سے پوچھا کہ معاملہ ہوا کیا تھا۔ اس نے کچھ بتایا کچھ چھپایا تو وہاں موجود دوسرے لوگوں نے اس کو ٹوک دیا۔ دونوں طرف کے دعوؤں میں تضاد اتنا واضح تھا کہ صاف لگ رہا تھا کہ کوئی ایک پارٹی غلط بیانی سے کام لے رہی ہے۔ دونوں کا کہنا تھا کہ شروعات دوسری طرف سے ہوئی تھی دونوں کہہ رہے تھے زیادتی دوسری طرف سے ہوئی ہے۔ البتہ سختی سے پوچھنے پر لڑکے نے بتایا کہ ہتھوڑے وہی چلا رہا تھا اور اس کا بھائی۔ ان کا باپ وہیں بیٹھا تھا اور اپنے بیٹوں کا دفاع کر رہا تھا۔ بالآخر سر پنچ صاحب نے شیر دل سے کہا ” دیکھ بھئی، یہ تو مان رہا ہے کہ اس نے ایسا کیا لیکن ایسا کوئی بلاوجہ تو نہیں کرے گا، کچھ نہ کچھ تو ہوا ہو گا نا تمہاری طرف سے!!!”

ان کا یہ جملہ سن کر یہی خیال آیا کہ اگر اس اصول کو صحیح مان لیا جائے تو اس کے نتائج کیا ہوں گے؟ ہابیل نے کچھ تو ایسا کیا ہوگا کہ قابیل نے اس کو قتل کر دیا؟ یہود اپنے انبیاء کو قتل کرتے رہے کوئی تو وجہ ہوگی نعوذباللہ۔ مطلب ان کے اصول کے مطابق اس دنیا میں جس پر کوئی زیادتی ہوئی ہے اس میں کوئی نہ کوئی قصور اس کا اپنا بھی ہو گا۔ سرپنچ کے اس تاریخی فیصلے کے ساتھ ہی اذان ہو گئی اور یوں صلح کا اعلان کر دیا گیا۔ دونوں طرف سے ہاتھ ملا لیے گئے اور معافی تلافی ہو گئی۔

********

زبردستی کی اس صلح سے یہ معاملہ تو نمٹ گیا۔ اب شاید یہ لوگ ایک دوسرے کو دیکھ کر منہ دوسری طرف کر کے چلے جائیں۔ شاید شیردل کا بہنوئی ایک دو سال بعد اپنے بچپن کے دوستوں کے ساتھ دوبارہ بیٹھنے لگے۔ شاید تنویر کے سر کے ٹانکوں کے نشان وقت کے ساتھ مندمل ہو جائیں۔ لیکن کیا ایسے واقعات ہونا بند ہو گئے؟ کیا اس بات کی ضمانت مل گئی کہ کل کو کسی اور تنویر کا سر نہیں پھٹے گا؟ وثوق سے کہا جا سکتا ہے کہ اس بات کی کوئی ضمانت نہیں۔ یہ نظام صرف ظلم کی ترویج کر رہا ہے۔ اور مظلوموں کے پاس کوئی ایک بھی ذریعہ نہیں ہے کہ وہ انصاف حاصل کر سکیں۔ نہ ہی ان کو کوئی بچاؤ کا راستہ نظر آتا ہے. ہر کسی کے پاس یہ موقع نہیں ہوتا کہ اگر اس کو کسی جگہ ظلم کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے تو وہ کسی دوسری جگہ ہجرت کر جائے ۔ اسی لیے لاوا اندر ہی اندر پک رہا ہے۔ یہ دیکھنے کے لیے کسی خورد بین کی ضرورت ہے نہ دوربین کی، بس تعصب کی عینک اتارنے کی ضرورت ہے۔ سڑکوں پر ہوتے فیصلے ضروری نہیں ہمیشہ صلح پر منتج ہوں۔ عوام کبھی کبھی اپنی عدالتیں بھی لگا لیتے ہیں اور اس چکی میں گھن کے ساتھ گیہوں بھی پستا ہے۔ عوام کی وحشیانہ عدالتیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ جب لاوا بہت پک جاتا ہے تو وہ پہاڑ کا سر پھاڑ کر باہر آجاتا ہے۔ اگر پریشر ککر میں بھاپ نکلنے کی جگہ نہ ہو تو ہر گھر میں روز دھماکے ہوں۔ یہی اصول سماج کا ہے۔ ظالم معاشرہ مظلوم کےلیے ہر راستہ بند کر کے سمجھتا ہے اس کی بچت ہوگئی جب کہ حقیقتاً وہ اپنے تابوت میں کیل ٹھونک رہا ہوتا ہے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ قانون کو ہاتھ میں لے لیا جائے لیکن اس نظام کی تطیہر اب لازم ہو گئی ہے۔جب تک اس ہتھوڑے برسانے والے کے سر پر بھی ویسے ہی ہتھوڑے نہیں پڑیں گے تب تک وہ بھی باز نہیں آئے گا بلکہ اور نڈر ہو جائے گا۔ جب تک ظلم کرنے والے کو اس بات کا ڈر نہیں ہوگا کہ آنکھ کے بدلے آنکھ اور دانت کے بدلے دانت جا سکتا ہے تب تک ظالم کا ہاتھ نہیں رکے گا۔ یہی قانون قصاص ہے جو ہمیں ہمارے عادل کریم رب نے دیا ہے۔ ” اور اے عقل رکھنے والو تمہارے لیے قصاص میں زندگی (کا سامان) ہے”

وَلَكُمْ فِي الْقِصَاصِ حَيَاةٌ يَا أُولِي الْأَلْبَابِ

Advertisements

2 Responses

Subscribe to comments with RSS.

  1. ڈاکٹر جواد احمد خان said, on January 11, 2012 at 02:55

    بے شک ۔۔۔لاوا کہیں تو نکلے گا۔ ہمیشہ تو پکتا نہیں رہے گا۔
    انسانی معاشرے صرف اور صرف خوف سے قائم رہ سکتے ہیں۔ وہ خوف جو ظالم کو ظلم کرنے کے نتائج پر غورکرنے سے لاحق ہوتا ہے۔
    ریاست تو یہ کام کر نہیں رہی تو پھر کوں کرے گا؟ ایک وقت آئے گا کہ ظلم کے جواب میں بڑا ظلم کیا جائے گا۔ اور شاید نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان انہی موقعوں کے لیے ہے کہ قاتل اور مقتول دونوں جہنمی ہوں گے۔
    قصاص میں زندگی ہے لڑکپن میں یہ بات سمجھ نہیں آتی تھی لیکن جو بھی شخص اس وقت پاکستان کے حالات اور یہاں پہ ہونے والے ظلم کو دیکھ رہا ہے وہ اس بات کی گواہی دے گا کہ اس سے زیادہ آسان اور سادہ بات کوئی اور نہیں۔۔
    ایک شاندار اور دل میں اتر جانے والی تحریر ہے۔

    • baigsaab said, on January 11, 2012 at 02:58

      Jazakallah Dr sahab.


Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: